24. Surah An-Noor

النورThe Light · 64 ayahsمعارف القرآن

Ayah 24:29

لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَدْخُلُوْا بُیُوْتًا غَیْرَ مَسْكُوْنَةٍ فِیْهَا مَتَاعٌ لَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا تَكْتُمُوْنَ Open ayah 24:29 in the Quran reader

نہیں گناہ تم پر اس میں کہ جاؤ ان گھروں میں جہاں کوئی نہیں بستا، اس میں کچھ چیز ہو تمہاری اور اللہ کو معلوم ہے جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو چھپاتے ہو۔

لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَدْخُلُوْا بُيُوْتًا غَيْرَ مَسْكُوْنَةٍ فِيْهَا مَتَاعٌ لَّكُمْ ، لفظ متاع کے لغوی معنی کسی چیز کے برتنے استعمال کرنے اور اس سے فائدہ اٹھانے کے ہیں اور جس چیز سے فائدہ اٹھایا جائے اس کو بھی متاع کہا جاتا ہے اس آیت میں متاع کے لغوی معنی ہی مراد ہیں جس کا ترجمہ برت سے کیا گیا ہے یعنی برتنے کا استحقاق، حضرت صدیق اکبر سے روایت ہے کہ جب استیذان کی آیات مذکورہ نازل ہوئیں جن میں بغیر اجازت کے کسی مکان میں داخل ہونے کی ممانعت ہے تو صدیق اکبر نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ اس ممانعت کے بعد قریش کے تجارت پیشہ لوگ کیا کریں گے کیونکہ مکہ اور مدینہ سے ملک شام تک ان کے تجارتی سفر ہوتے ہیں اور اس راستہ میں جا بجا ان کے مسافر خانے بنے ہوتے ہیں جن میں دوران سفر وہ لوگ قیام کرتے ہیں ان میں کوئی مستقل رہنے والا نہیں ہوتا تو وہاں استیذان کی کیا صورت ہوگی اجازت کس سے حاصل کی جائے گی۔ اس پر آیت مذکورہ نازل ہوئی (رواہ ابن ابی حاتم، مظہری) اس شان نزول کے واقعہ سے معلوم ہوا کہ آیت میں بیوت غیر مسکونہ سے مراد وہ مکانات اور مقامات ہیں جو کسی خاص فرد یا قوم کے لئے خصوصی طور پر رہائش گاہ نہیں بلکہ افراد قوم کو عام اجازت وہاں جانے ٹھہرنے اور استعمال کرنے کی ہے جیسے وہ مسافر خانے جو شہروں اور جنگلوں میں اسی غرض کے لئے بنائے گئے ہوں اور باشتراک علت عام مسجدیں، خانقاہیں، دینی مدارس، ہسپتال، ڈاکخانہ، ریلوے اسٹیشن، ہوائی جہازوں کے مستقر اور قومی تفریحات کے لئے جو مکانات بنائے گئے ہوں غرض رفاہ عام کے سب ادارے اسی حکم میں ہیں کہ وہاں ہر شخص بلا اجازت جاسکتا ہے۔ مسئلہ۔ رفاہ عام کے اداروں میں جس مقام پر اس کے مالکان یا متولیان کی طرف سے داخلہ کے لئے کچھ شرائط اور پابندیاں ہوں اس کی پابندی شرعاً واجب ہے مثلاً ریلوے اسٹیشن پر اگر بغیر پلیٹ فارم کے جانے کی اجازت نہیں ہے تو پلیٹ فارم ٹکٹ حاصل کرنا ضروری ہے اس کی خلاف ورزی ناجائز ہے ایروڈرم (ہوائی اڈے) کے جس حصہ میں جانے کی محکمہ کی طرف سے اجازت نہ ہو وہاں بغیر اجازت کے جانا شرعاً جائز نہیں۔ مسئلہ۔ اسی طرح مساجد، مدارس، خانقاہوں، ہسپتالوں وغیرہ میں جو کمرے وہاں کے منتظمین یا دوسرے لوگوں کی رہائش کے لئے مخصوص ہوں جیسے مساجد، مدارس اور خانقاہوں کے خاص حجرے یا ریلوے، ایروڈروم اور ہسپتالوں کے دفاتر اور مخصوص کمرے جو مریضوں یا دوسروں لوگوں کی رہائش گاہ ہیں وہ بیوت غیر مسکونہ کے حکم میں نہیں، بلکہ مسکونہ کے حکم میں ہیں ان میں بغیر اجازت جانا شرعاً ممنوع اور گناہ ہے۔ استیذان سے متعلق چند دوسرے مسائل جبکہ یہ معلوم ہوچکا کہ استیذان کے احکام شرعیہ کا اصل مقصد لوگوں کی ایذا رسانی سے بچنا اور حسن معاشرت کے آداب سکھانا ہے تو اشتراک علت سے مسائل ذیل کا حکم بھی معلوم ہوگیا۔ ٹیلیفون سے متعلق بعض مسائل مسئلہ۔ کسی شخص کو ایسے وقت ٹیلیفون پر مخاطب کرنا جو عادة اس کے سونے یا دوسری ضروریات میں یا نماز میں مشغول ہونے کا وقت ہو بلا ضرورت شدیدہ جائز نہیں کیونکہ اس میں بھی وہی ایذا رسانی ہے جو کسی کے گھر میں بغیر اجازت داخل ہونے اور اس کی آزادی میں خلل ڈالنے سے ہوتی ہے۔ مسئلہ۔ جس شخص سے ٹیلیفون پر بات چیت اکثر کرنا ہو تو مناسب یہ ہے کہ اس سے دریافت کرلیا جائے کہ آپ کو ٹیلیفون پر بات کرنے میں کس وقت سہولت ہوتی ہے پھر اس کی پابندی کرے۔ مسئلہ۔ ٹیلیفون پر اگر کوئی طویل بات کرنا ہو تو پہلے مخاطب سے دریافت کرلیا جائے کہ آپ کو ذرا سی فرصت ہو تو میں اپنی بات عرض کروں کیونکہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ٹیلیفون کی گھنٹی آنے پر آدمی طبعاً مجبور ہوتا ہے کہ فوراً معلوم کرے کہ کون کیا کہنا چاہتا ہے اور اس ضرورت سے وہ کسی بھی حال میں اور اپنے ضروری کام میں ہو تو اس کو چھوڑ کر ٹییفون اٹھاتا ہے۔ کوئی بےرحم آدمی اس وقت لمبی بات کرنے لگے تو سخت تکلیف محسوس ہوتی ہے۔ مسئلہ۔ بعض لوگ ٹیلیفون کی گھنٹی بجتی رہتی ہے اور کوئی پروا نہیں کرتے نہ پوچھتے ہیں کہ کون ہے کیا کہنا چاہتا ہے یہ اسلامی اخلاق کے خلاف اور بات کرنے والے کی حق تلفی ہے جیسے حدیث میں آیا ہے ان لزورک علیک حقا یعنی جو شخص آپ کی ملاقات کو آئے اس کا تم پر حق ہے کہ اس سے بات کرو اور بلاضرورت ملاقات سے انکار نہ کرو اسی طرح جو آدمی ٹیلیفون پر آپ سے بات کرنا چاہتا ہے اس کا حق ہے کہ آپ اس کو جواب دیں۔ مسئلہ۔ کسی کے مکان پر ملاقات کے لئے جاؤ اور اجازت حاصل کرنے کے لئے کھڑے ہو تو گھر کے اندر نہ جھانکو کیونکہ استیذان کی مصلحت تو یہی ہے کہ دوسرا آدمی جو چیز آپ پر ظاہر نہیں کرنا چاہتا آپ کو اس کی اطلاع نہ ہونی چاہئے اگر پہلے ہی گھر میں جھانک کر دیکھ لیا تو یہ مصلحت فوت ہوجاوے گی حدیث میں اس کی سخت ممانعت آئی ہے (رواہ البخاری و مسلم عن سہل بن سعد الساعدی) رسول اللہ ﷺ کی عادت شریف یہ تھی کہ کسی کے پاس جاتے اور اجازت حاصل کرنے کے لئے کھڑے ہوتے تو دروازے کے بالمقابل کھڑے ہونے کے بجائے دائیں یا بائیں کھڑے ہو کر استیذان فرماتے تھے دروازہ کے بالمقابل کھڑے ہونے سے اس لئے اجتناب فرماتے کہ اول تو اس زمانے میں دروازے پر پردے بہت کم تھے اور پردہ بھی ہو تو ہوا سے کھل جانے کا احتمال بہرحال ہے۔ (مظہری) مسئلہ۔ جن مکانوں میں داخل ہونا آیات مذکورہ میں بغیر اجازت کے ممنوع قرار دیا ہے یہ عام حالات میں ہے اگر اتفاقاً کوئی حادثہ آگ لگنے یا مکان منہدم ہونے کا پیش آجائے تو اجازت لئے بغیر اس میں جاسکتے ہیں اور امداد کے لئے جانا چاہئے۔ (مظہری) مسئلہ۔ جس شخص کو کسی نے بلا کر بھیجا ہے اگر وہ اس کے قاصد کے ساتھ ہی آ گیا تو اب اس کو اجازت لینے کی ضرورت نہیں قاصد کا آنا ہی اجازت ہے۔ ہاں اگر اس وقت نہ آیا کچھ دیر کے بعد پہنچا تو اجازت لینا ضروری ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اذا دعی احدکم فجاء مع الرسول فان ذلک لہ اذن، یعنی جو آدمی بلایا جائے اور وہ قاصد کے ساتھ ہی آ جاوے تو یہی اس کے لئے اندر آنے کی اجازت ہے۔ (رواہ ابوداؤد مظہری)
Ayah 24:30

قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَ یَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْ١ؕ ذٰلِكَ اَزْكٰى لَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 24:30 in the Quran reader

کہہ دے ایمان والوں کو نیچی رکھیں ذرا اپنی آنکھیں اور تھامتے رہیں اپنے ستر کو اس میں خوب ستھرائی ہے ان کے لئے، بیشک اللہ کو خبر ہے جو کچھ کرتے ہیں

خلاصہ تفسیر حکم ششم عورتوں کے پردہ کے احکام آپ مسلمان مردوں سے کہہ دیجئے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں (یعنی جس عضو کی طرف مطلقاً دیکھنا ناجائز ہے اس کو بالکل نہ دیکھیں اور جس کو فی نفسہ دیکھنا جائز ہے مگر شہوت سے جائز نہیں اس کو شہوت سے نہ دیکھیں) اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں (یعنی ناجائز محل میں شہوت رانی نہ کریں جس میں زنا اور لواطت سب داخل ہے) یہ ان کے لئے زیادہ صفائی کی بات ہے (اور اس کے خلاف میں آلودگی ہے زنا یا مقدمہ زنا میں) بیشک اللہ تعالیٰ کو سب خبر ہے جو کچھ لوگ کیا کرتے ہیں (پس خلاف کرنے والے سزا یابی کے مستحق ہوں گے) اور (اسی طرح) مسلمان عورتوں سے کہہ دیجئے کہ (وہ بھی) اپنی نگاہیں نیچی رکھیں (یعنی جس عضو کی طرف مطلقاً دیکھنا ناجائز ہے اس کو بالکل نہ دیکھیں اور سج کو فی نفسہ دیکھنا جائز ہے مگر شہوت سے جائز نہیں اس کو شہوت سے نہ دیکھیں) اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں (یعنی ناجائز محل میں شہوت رانی نہ کریں جس میں زنا و سحاق سب داخل ہے) اور اپنی زینت (کے مواقع) کو ظاہر نہ کریں (زینت سے مراد زیور جیسے کنگن، چوڑی، خلخال، بازو بند طوق، جھومر، پٹی، بالیاں وغیرہ اور ان کے مواقع سے مراد ہاتھ پنڈلی، بازو، گردن، سر، سینہ کان، یعنی ان سب مواقع کو سب سے چھپائے رکھیں بلحاظ دو استثناؤں کے جو آگے آتے ہیں اور جب ان مواقع کو اجانب سے پوشیدہ رکھنا واجب ہے جن کا ظاہر کرنا محارم کی روبرو جائز ہے جیسا آگے آتا ہے تو اور مواقع و اعضاء جو بدن کے رہ گئے جیسے پشت و شکم وغیرہ جن کا کھولنا محارم کے روبرو بھی جائز نہیں ان کا پوشیدہ رکھنا بدلالۃ النص واجب ہوگیا۔ حاصل یہ ہوا کہ سر سے پاؤں تک تمام بدن اپنا پوشیدہ رکھیں۔ دو استثناء جن کا ذکر اوپر آیا ہے ان میں سے پہلا استثناء مواقع ضرورت کے لحاظ سے ہے کہ روز مرہ کے کام کاج میں جن اعضاء کے کھولنے کی ضرورت ہوتی ہے ان کو مستثنیٰ قرار دیا گیا اس کی تفصیل یہ ہے) مگر جو اس (موقع زینت) میں سے (غالباً) کھلا (ہی) رہتا ہے (جس کے چھپانے میں ہر وقت حرج ہے مراد اس موقع زینت سے چہرہ اور ہاتھ کی ہتھیلیاں اور اصح قول کے مطابق دونوں قدم بھی، کیونکہ چہرہ تو قدرتی طور پر مجمع زینت ہے اور بعض زینتیں قصداً بھی اس میں کی جاتی ہیں مثل سرمہ وغیرہ اور ہتھیلیاں اور انگلیاں انگوٹھی چھلے مہندی کا موقع ہے اور قدمین بھی چھلوں اور مہندی کا موقع ہے پس ان مواقع کو اس ضرورت سے مستثنیٰ فرمایا ہے کہ ان کو کھولے بغیر کام کاج نہیں ہوسکتا اور مَا ظَهَرَ کی تفسیر وجہ اور کفین کے ساتھ حدیث میں آئی ہے اور قدمین کو فقہاء نے اس پر قیاس کر کے اس حکم میں شامل قرار دیا ہے) اور (خصوصاً سر اور سینہ ڈھکنے کا بہت اہتمام کریں اور) اپنے دوپٹے (جو سر ڈھانکنے کے لئے ہیں) اپنے سینوں پر ڈالے رہا کریں (گو سینہ قمیض سے ڈھک جاتا ہے لیکن اکثر قمیض میں سامنے سے گریبان کھلا رہتا ہے اور سینہ کی ہئیت قمیض کے باوجود ظاہر ہوتی ہے اس لئے اہمتام کی ضرورت ہوئی آگے دوسرا استثناء بیان کیا جاتا ہے جن میں محرم مردوں وغیرہ کو پردہ کے حکم مذکور سے مستثنی کیا گیا ہے) اور اپنی زینت (کے مواقع مذکورہ) کو (کسی پر) ظاہر نہ ہونے دیں مگر اپنے شوہروں پر یا (اپنے محارم پر یعنی) اپنے باپ پر یا اپنے شوہر کے باپ پر یا اپنے بیٹیوں پر یا اپنے شوہر کے بیٹوں پر اپنے (حقیقی و علاتی و اخیافی) بھائیوں پر (نہ کہ چچا زاد ماموں زاد وغیرہ بھائیوں پر) یا اپنے (مذکورہ) بھائیوں کے بیٹوں پر اپنی (حقیقی و علاتی و اخیافی) بہنوں کے بیٹوں پر (نہ کہ چچا زاد خالہ زاد بہنوں کی اولاد پر) یا اپنی (یعنی دین کی شریک) عورتوں پر (مطلب یہ کہ مسلمان عورتوں پر کیونکہ کافر عورتوں کا حکم مثل اجنبی مرد کے ہے رواہ فی الدر عن طاؤس و مجاہد وعطاء و سعید بن المسیب و ابراہیم) یا اپنی لونڈیوں پر (مطلقاً گو وہ کافر ہی ہوں کیونکہ مرد غلام کا حکم ابوحنیفہ کے نزدیک مثل اجنبی مرد کے ہے اس سے بھی پردہ واجب ہے رواہ فی الدر عن طاؤس و مجاہد وعطاء و سعید بن المسیب و ابراہیم) یا ان مردوں پر جو (محض کھانے پینے کے واسطے) طفیلی (کے طور پر رہتے) ہوں اور ان کو (بوجہ حواس درست نہ ہونے کے عورتوں کی طرف) ذرا توجہ نہ ہو (تابعین کی تخصیص اس لئے ہے کہ اس وقت ایسے ہی لوگ موجود تھے کذا فی الدر عن ابن عباس اور اسی حکم میں ہے ہر مسلوب العقل پس مدار حکم کا سلب حواس پر ہے نہ کہ تابع اور طفیلی ہونے پر مگر اس وقت وہ تابع ایسے ہی تھے اس لئے تابع کا ذکر کردیا گیا لقول ابن عباس، فی الدر مغفل فی عقلہ احمق لا بکترث للنساء اور جو سمجھ رکھتا ہو تو وہ بہرحال اجنبی مرد ہے گو بوڑھا یا خصی یا محبوب ہی کیوں نہ ہو اس سے پردہ واجب ہے) یا ایسے لڑکوں پر جو عورتوں کے پردہ کی باتوں سے ابھی واقف نہیں ہوئے (مراد وہ بچے ہیں جو ابھی بلوغ کے قریب نہیں پہنچے اور انہیں شہوت کی کچھ خبر نہیں پس ان سب کے سامنے وجہ و کفین و قدمین کے علاوہ زینت کے مواقع مذکورہ کا ظاہر کرنا بھی جائز ہے یعنی سر اور سینہ اور شوہر کے روبر کسی جگہ کا بھی اخفاء واجب نہیں گو خاص بدن کو دیکھنا خلاف اولی ہے قالت سیدتنا ام المومنین عائشہ ما محصلہ لم ار منہ ولم یرمنی ذلک الموضع اور دہ فی المشکوة وروی بقی بن مخلد و ابن عدی عن ابن عباس مرفوعا اذا جامع احدکم زوجتہ او جاریتہ فلا ینظر الی فرجھا فان ذلک یورث العمی قال ابن صلاح جید الاسناد کذا فی الجامع الصغیر) اور (پردے کا یہاں تک اہتمام رکھیں کہ چلنے میں) اپنے پاؤں زور سے نہ رکھیں کہ ان کا مخفی زیور معلوم ہوجائے (یعنی زیور کی آواز غیر محرموں کے کان تک پہنچے) اور مسلمانو (تم سے جو ان احکام میں کوتاہی ہوگئی ہو تو) تم سب اللہ تعالیٰ کے سامنے توبہ کرو تاکہ تم فلاح پاؤ (ورنہ معصیت مانع فلاح کامل ہوجاتی ہے۔) معارف و مسائل انسداد فواحش اور حفاظت عصمت کا ایک اہم باب پردہ نسواں عورتوں کے لئے حجاب اور پردہ کے احکام کی پہلی آیات وہ ہیں جو سورة احزاب میں ام المومنین حضرت زینب بنت جحش کے نبی کریم ﷺ کے عقد نکاح میں آنے کے وقت نازل ہوئیں جس کی تاریخ بعض حضرات نے 03 ہجری اور بعض نے 5 ھجری بتلائی ہے تفسیر ابن کثیر اور نیل الاوطار میں 5 ہجری کو ترجیح دی ہے اور روح المعانی میں حضرت انس سے روایت نقل کی ہے کہ ذی قعدہ 5 ہجری میں یہ عقد ہوا ہے اور اس پر سب کا اتفاق ہے کہ پہلی آیت حجاب اسی موقع پر نازل ہوئی اور سورة نور کی یہ آیات قصہ افک کے ساتھ نازل ہوئی ہیں جو غزوہ بن المصطلق یا مریسیع سے واپسی میں پیش آیا یہ غزوہ 6 ہجری میں ہوا ہے اس سے معلوم ہوا کہ سورة نور کی آیات پردہ و حجاب نزول کے اعتبار سے بعد میں آئی ہیں سورة احزاب کی چار آیتیں متعلقہ حجاب نزول کے اعتبار سے مقدم ہیں اور شرعی پردہ کے احکام اسی وقت سے شروع ہوئے جبکہ سورة احزاب کی آیات نازل ہوئیں، اس لئے حجاب اور پردہ کی پوری بحث تو انشاء اللہ تعالیٰ سورة احزاب میں آوے گی یہاں صرف ان آیات کی تفسیر لکھی جاتی ہے جو سورة نور میں آئی ہیں۔ قُلْ لِّلْمُؤ ْمِنِيْنَ يَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْ ۭ ذٰلِكَ اَزْكٰى لَهُمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ خَبِيْرٌۢ بِمَا يَصْنَعُوْنَ ، یغضوا، غض سے مشتق ہے جس کے معنی کم کرنے اور پست کرنے کے ہیں (راغب) نگاہ پست اور نیچی رکھنے سے مراد نگاہ کو ان چیزوں سے پھیرلینا ہے جن کی طرف دیکھنا شرعاً ممنوع و ناجائز ہے۔ ابن کثیر ابن حبان نے یہی تفسیر فرمائی ہے اس میں غیر محرم عورت کی طرف بری نیت سے دیکھنا تحریماً اور بغیر کسی نیت کے دیکھنا کر اہتہ داخل ہے اور کسی عورت یا مرد کے ستر شرعی پر نظر ڈالنا بھی اس میں داخل ہے (مواضع ضرورت جیسے علاج معالجہ وغیرہ اس سے مستثنی ہیں) کسی کا راز معلوم کرنے کے لئے اس کے گھر میں جھانکنا اور تمام وہ کام جن میں نگاہ کے استعمال کرنے کو شریعت نے ممنوع قرار دیا ہے اس میں داخل ہیں۔ وَيَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْ ، شرمگاہوں کی حفاظت سے مراد یہ ہے کہ نفس کی خواہش پورا کرنے کی جتنی ناجائز صورتیں ہیں ان سب سے اپنی شرمگاہوں کو محفوظ رکھیں۔ اس میں زنا، لواطت اور دو عورتوں کا باہمی سحاق جس سے شہوت پوری ہوجائے، ہاتھ سے شہوت پوری کرنا یہ سب ناجائز و حرام چیزیں داخل ہیں۔ مراد اس آیت کی ناجائز حرام شہوت رانی اور اس کے تمام مقدمات کو ممنوع کرنا ہے جن میں سے ابتدا اور انتہا کو تصریحاً بیان فرما دیا باقی درمیانی مقدمات سب اس میں داخل ہوگئے۔ فتنہ شہوت کا سب سے پہلا سبب اور مقدمہ نگاہ ڈالنا اور دیکھنا ہے اور آخری نتیجہ زنا ہے ان دونوں کو صراحة ذکر کر کے حرام کردیا گیا ان کے درمیانی حرام مقدمات مثلاً باتیں سننا، ہاتھ لگانا وغیرہ یہ سب ضمناً آگئے۔ ابن کثیر نے حضرت عبیدہ سے نقل کیا ہے کہ کل ما عصی اللہ بہ فھو کبیرة وقد ذکر الطرفین۔ یعنی جس چیز سے بھی اللہ کے حکم کی مخالفت ہوتی ہو سب کبیرہ ہی ہیں لیکن آیت میں ان کے دو طرف ابتداء و انتہاء کو ذکر کردیا گیا۔ ابتداء نظر اٹھا کر دیکھنا اور انتہا زنا ہے۔ طبرانی نے حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ النظر سھم من سھام ابلیس مسموم من ترکھا مخافتی ابدلتہ ایمانا یجدہ حلاوتہ فی قلبہ (از ابن کثیر) نظر ایک زہریلا تیر شیطان کے تیروں میں سے ہے جو شخص باوجود دل کے تقاضے کے اپنی نظر پھیر لے تو میں اس کے بدلے اس کو ایسا پختہ ایمان دوں گا جس کی لذت وہ اپنے قلب میں محسوس کرے گا۔ اور صحیح مسلم میں حضرت جریر بن عبداللہ بجلی سے روایت ہے کہ انہوں نے آنحضرت ﷺ سے روایت کیا اگر بلا ارادہ اچانک کسی غیر محرم عورت پر نظر پڑجائے تو کیا کرنا چاہئے۔ آنحضرت ﷺ نے حکم دیا کہ اپنی نظر اس طرف سے پھیر لو (ابن کثیر) حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی حدیث میں جو یہ آیا ہے کہ پہلی نظر تو معاف ہے دوسری گناہ ہے، اس کا مطلب بھی یہی ہے کہ پہلی نظر جو بلا ارادہ اچانک پڑجائے وہ غیر اختیاری ہونے کے سبب معاف ہے ورنہ بالقصد پہلی نظر بھی معاف نہیں۔ بے ریش لڑکوں کی طرف قصداً نظر کرنا بھی اسی حکم میں ہے ابن کثیر نے لکھا ہے کہ بہت سے اسلاف امت کسی امرو (بےریش) لڑکے کی طرف دیکھتے رہنے سے بڑی سختی کے ساتھ منع فرماتے تھے اور بہت سے علماء نے اس کو حرام قرار دیا ہے (غالباً یہ اس صورت میں ہے جبکہ بری نیت اور نفس کی خواہش کے ساتھ نظر کی جائے واللہ اعلم۔ ش)
Ayah 24:31

وَ قُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ وَ یَحْفَظْنَ فُرُوْجَهُنَّ وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ لْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰى جُیُوْبِهِنَّ١۪ وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا لِبُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اٰبَآئِهِنَّ اَوْ اٰبَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اَبْنَآئِهِنَّ اَوْ اَبْنَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِیْۤ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِیْۤ اَخَوٰتِهِنَّ اَوْ نِسَآئِهِنَّ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُنَّ اَوِ التّٰبِعِیْنَ غَیْرِ اُولِی الْاِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ اَوِ الطِّفْلِ الَّذِیْنَ لَمْ یَظْهَرُوْا عَلٰى عَوْرٰتِ النِّسَآءِ١۪ وَ لَا یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِهِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِهِنَّ١ؕ وَ تُوْبُوْۤا اِلَى اللّٰهِ جَمِیْعًا اَیُّهَ الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 24:31 in the Quran reader

اور کہہ دے ایمان والیوں کو نیچی رکھیں ذرا اپنی آنکھیں اور تھامتی رہیں اپنے ستر کو اور نہ دکھلائیں اپنا سنگار مگر جو کھلی چیز ہے اس میں سے اور ڈال لیں اپنی اوڑھنی اپنے گریبان پر اور نہ کھولیں اپنا سنگار مگر اپنے خاوند کے آگے یا اپنے باپ کے یا اپنے خاوند کے باپ کے یا اپنے بیٹے کے یا اپنے خاوند کے بیٹے کے یا اپنے بھائی کے یا اپنے بھتیجوں کے یا اپنے بھانجوں کے یا اپنی عورتوں کے یا اپنے ہاتھ کے مال کے یا کاروبار کرنے والوں کے جو مرد کہ کچھ غرض نہیں رکھتے یا لڑکوں کے جنہوں نے ابھی نہیں پہچانا عورتوں کے بھید کو اور نہ ماریں زمین پر اپنے پاؤں کو کہ جانا جائے جو چھپاتی ہیں اپنے سنگار اور توبہ کرو اللہ کے آگے سب ملکر اے ایمان والو ! تاکہ تم بھلائی پاؤ۔

غیر محرم کی طرف نظر کرنا حرام ہے اس کی تفصیل وَقُلْ لِّلْمُؤ ْمِنٰتِ يَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ الایة اس طویل آیت کے ابتدائی حصہ میں تو وہی حکم ہے جو اس سے پہلی آیت میں مردوں کو دیا گیا ہے کہ اپنی نظریں پست رکھیں یعنی نگاہ پھیر لیں۔ مردوں کے حکم میں عورتیں بھی داخل تھیں مگر ان کا ذکر علیحدہ تاکید کے لئے کیا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ عورتوں کو اپنے محارم کے سوا کسی مرد کو دیکھنا حرام ہے بہت سے علماء کا قول یہ ہے کہ غیر محرم مرد کو دیکھنا عورت کے لئے مطلقاً حرام ہے خواہ شہوت اور بری نیت سے دیکھے یا بغیر کسی نیت و شہوت کے، دونوں صورتیں حرام ہیں اور اس پر حضرات ام سلمہ کی حدیث سے استدلال کیا ہے جس میں مذکور ہے کہ ایک روز ام سلمہ اور میمونہ دونوں آنحضرت ﷺ کے ساتھ تھیں اچانک عبداللہ ابن ام مکتوم نابینا صحابی آگئے اور یہ واقعہ احکام حجاب نازل ہونے کے بعد پیش آیا تھا تو رسول اللہ ﷺ نے ہم دونوں کو حکم دیا کہ ان سے پردہ کرو۔ ام مسلمہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ، وہ تو نابینا ہیں نہ ہمیں دیکھ سکتے ہیں نہ ہمیں پہچانتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم تو نابینا نہیں ہو، تم تو ان کو دیکھ رہی ہو (رواہ ابو داؤد والترمذی وقال الترمذی حدیث حسن صحیح) اور دوسرے بعض فقہاء نے کہا کہ بغیر شہوت کے غیر مرد کو دیکھنے میں عورت کے لئے مضائقہ نہیں۔ ان کا استدلال صدیقہ عائشہ کی اس حدیث سے ہے جس میں مذکور ہے کہ مسجد نبوی کے احاطہ میں کچھ حبشی نوجوان عید کے روز اپنا سپاہیانہ کھیل دکھا رہے تھے۔ رسول اللہ ﷺ اس کو دیکھنے لگے اور صدیقہ عائشہ نے آپ کی آڑ میں کھڑے ہو کر ان کا کھیل دیکھا اور اس وقت تک دیکھتی رہیں جب تک کہ خود ہی اس سے اکتا گئیں۔ رسول اللہ ﷺ نے اس سے نہیں روکا اور اس پر سب کا اتفاق ہے کہ نظر شہوت تو حرام ہے اور بلا شہوت نظر کرنا بھی خلاف اولی ہے اور ایک عورت کو دوسری عورت کے مواضع ستر کو دیکھنا بغیر خاص ضرورتوں کے یہ بھی اسی آیت کے الفاظ سے حرام ہے کیونکہ جیسا اوپر بیان ہوچکا ہے کہ موضع ستر یعنی مردوں کا ناف سے گھٹنوں تک اور عورتوں کا کل بدن بجز چہرہ اور ہتھیلیوں کے، یہ مواضع ستر ہیں ان کا چھپانا سب سے فرض ہے نہ کوئی مرد دوسرے مرد کا ستر دیکھ سکتا ہے نہ کوئی عورت دوسری عورت کا ستر دیکھ سکتی ہے اور مرد کسی عورت کا یا عورت کسی مرد کا ستر دیکھے یہ بدرجہ اولی حرام ہے اور آیت مذکورہ کے حکم غض بصر کے خلاف ہے کیونکہ آیت کا مطلب جو اوپر بیان ہوچکا ہے اس میں ہر ایسی چیز سے نظر پست رکھنا اور ہٹا لینا مراد ہے جس کی طرف دیکھنے کو شرع میں ممنوع کیا گیا ہے اس میں عورت کے لئے عورت کا ستر دیکھنا بھی داخل ہے۔ وَلَا يُبْدِيْنَ زِيْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰي جُيُوْبِهِنَّ ۠ وَلَا يُبْدِيْنَ زِيْنَتَهُنَّ اِلَّا لِبُعُوْلَتِهِنَّ الایة، زینت لغوی معنے کے اعتبار سے اس چیز کو کہا جاتا ہے جس سے انسان اپنے آپ کو مزین اور خوش منظر بنائے۔ وہ عمدہ کپڑے بھی ہو سکتے ہیں، زیور بھی۔ یہ چیزیں جبکہ کسی عورت کے بدن پر نہ ہوں علیحد ہوں تو باتفاق امت ان کا دیکھنا مردوں کے لئے حلال ہے جیسے بازار میں بکنے والے زنانہ کپڑے اور زیور کہ ان کے دیکھنے میں کوئی مضائضہ نہیں اس لئے جمہور مفسرین نے اس آیت میں زینت سے مراد محل زینت یعنی وہ اعضاء جن میں زینت کی چیزیں زیور وغیرہ پہنی جاتی ہیں وہ مراد لئے ہیں اور معنی آیت کے یہ ہیں کہ عورتوں پر واجب ہے کہ وہ اپنی زینت یعنی مواقع زینت کو ظاہر نہ کرے (کذا فی الروح) اس آیت میں جو عورت کے لئے اظہار زینت کو حرام قرار دیا ہے آگے اس حکم سے دو اسثناء بیان فرمائے گئے۔ ایک منظور کے اعتبار سے ہے یعنی جس کی طرف دیکھا جائے دوسرا ناظر یعنی دیکھنے والوں کے اعتبار سے۔ احکام پردہ سے استثناء پہلا استثناء مَا ظَهَرَ مِنْهَا کا ہے یعنی عورت کے لئے اپنی زینت کی کسی چیز کو مردوں کے سامنے ظاہر کرنا جائز نہیں بجز ان چیزوں کے جو خود بخود ظاہر ہو ہی جاتی ہیں یعنی کام کاج اور نقل و حرکت کے وقت جو چیزیں عادةً کھل ہی جاتی ہیں اور عادةً ان کا چھپانا مشکل ہے وہ مستثنیٰ ہیں ان کے اظہار میں کوئی گناہ نہیں (ابن کثیر) مراد اس سے کیا ہے اس میں حضرت عبداللہ بن مسعود اور عبداللہ بن عباس کی تفسیریں مختف ہیں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود نے فرمایا کہ مَا ظَهَرَ مِنْهَا میں جس چیز کو مستثنی کیا گیا ہے وہ اوپر کے کپڑے ہیں جیسے برقع یا لمبی چادر جو برقع کے قائم مقام ہوتی ہے۔ یہ کپڑے زینت کے کپڑوں کو چھپانے کے لئے اسعتمال کئے جاتے ہیں تو مراد آیت کی یہ ہوگئی کہ زینت کی کسی چیز کو ظاہر کرنا جائز نہیں بجز ان اوپر کے کپڑوں کے جن کا چھپانا بضرورت باہر نکلنے کے وقت ممکن نہیں جیسے برقع وغیرہ اور حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ اس سے مراد چہرہ اور ہتھیلیاں ہیں کیونکہ جب عورت کسی ضرورت سے باہر نکلنے پر مجبور ہو تو نقل و حرکت اور لین دین کے وقت چہرے اور ہتھیلیوں کو چھپانا مشکل ہے۔ اس لئے حضرت عبداللہ بن مسعود کی تفسیر کے مطابق تو غیر محرم مردوں کے سامنے عورت کو چہرہ اور ہاتھ کھولنا بھی جائز نہیں صرف اوپر کے کپڑے برقع وغیرہ کا اظہار بضرورت مستثنی ہے اور حضرت ابن عباس کی تفسیر کے مطابق چہرہ اور ہاتھوں کی ہتھیلیاں بھی غیر محرموں کے سامنے کھولنا جائز ہے اس لئے فقہاء امت میں بھی اس مسئلہ میں اختلاف ہے کہ چہرہ اور ہتھیلیاں پردے سے مستثنیٰ اور ان کا غیر محرموں کے سامنے کھولنا جائز ہے یا نہیں ؟ مگر اس پر سب کا اتفاق ہے کہ اگر چہرہ اور ہتھیلیوں پر نظر ڈالنے سے فتنہ کا اندیشہ ہو تو ان کا دیکھنا بھی جائز نہیں اور عورت کو ان کا کھولنا بھی جائز نہیں اسی طرح اس پر بھی سب کا اتفاق ہے کہ ستر عورت جو نماز میں اجماعاً اور خارج نماز علی الاصح فرض ہے اس سے چہرہ اور ہتھیلیاں مستثنیٰ ہیں اگر ان کو کھول کر نماز پڑھی تو نماز باتفاق صحیح و درست ہوجائے گی۔ قاضی بیضاوی اور خازن نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ مقتضا آیت کا یہ معلوم ہوتا ہے کہ عورت کے لئے اصل حکم یہ ہے کہ وہ اپنی زینت کی کسی چیز کو بھی ظاہر نہ ہونے دے بجز اس کے جو نقل و حرکت اور کام کاج کرنے میں عادةً کھل ہی جاتی ہیں ان میں برقع اور چادر بھی داخل ہیں اور چہرہ اور ہتھیلیاں بھی کہ جب عورت کسی مجبوری اور ضرورت سے باہر نکلتی ہے تو برقع چادر وغیرہ کا ظاہر ہونا تو معتین ہی ہے لیکن دین کی ضرورت میں بعض اوقات چہرہ اور ہاتھ کی ہتھیلیاں بھی کھل جاتی ہیں تو وہ بھی معاف ہیں گناہ نہیں۔ لیکن اس آیت سے یہ کہیں ثابت نہیں کہ مردوں کو چہرہ اور ہتھیلیاں دیکھنا بھی بلا ضرورت جائز ہے بلکہ مردوں کا تو وہی حکم ہے کہ نگاہ پست رکھیں اگر عورت کہیں چہرہ اور ہاتھ کھولنے پر مجبور ہوجائے تو مردوں کو لازم ہے کہ بلا عذر شرعی اور بلا ضرورت کے اس کی طرف نہ دیکھیں اس توجیہ میں دونوں روایتیں اور تفسیریں جمع ہوجاتی ہیں۔ امام مالک کا مشہور مذہب بھی یہی ہے کہ غیر محرم عورت کے چہرہ اور ہتھیلیوں پر نظر کرنا بھی غیر ضرروت مبیحہ کے جائز نہیں اور زواجر میں ابن حجر مکی شافعی نے امام شافعی کا بھی یہی مذہب نقل کیا ہے کہ اگرچہ عورت کا چہرہ اور ہتھیلیاں ستر عورت کے فرض میں داخل نہیں ان کو کھول کر بھی نماز ہوجاتی ہے مگر غیر محرم مردوں کو ان کا دیکھنا بلا ضرورت شرعیہ جائز نہیں اور یہ اوپر معلوم ہوچکا ہے کہ جن فقہاء نے چہرہ اور ہتھیلیوں کو دیکھنا جائز قرار دیا ہے وہ بھی اس پر متفق ہیں کہ اگر فتنہ کا اندیشہ ہو تو چہرہ وغیرہ دیکھنا بھی ناجائز اور یہ ظاہر ہے کہ حسن اور زینت کا اصل مرکز انسان کا چہرہ ہے اور زمانہ فتنہ و فساد اور غلبہ ہوٰی اور غفلت کا ہے اس لئے بجز مخصوص ضرورتوں کے مثلاً علاج معالجہ یا کوئی خطرہ شدیدہ وغیرہ عورت کو غیر محارم کے سامنے قصداً چہرہ کھولنا بھی ممنوع ہے اور مردوں کو اس کی طرف قصداً نظر کرنا بھی غیر ضرورت شرعیہ کے جائز نہیں۔ آیت مذکورہ میں زینت ظاہرہ کے استثناء کے بعد ارشاد ہے وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰي جُيُوْبِهِنَّ یعنی آنچل مار لیا کریں اپنے دوپٹوں کا اپنے سینوں پر خُمُر، خمار کی جمع ہے اس کپڑے کو کہتے ہیں جو عورت سر پر استعمال کرے اور اس سے گلا اور سینہ بھی چھپ جائے۔ جیوب جیب کی جمع ہے جس کے معنی ہیں گریبان۔ چونکہ زمانہ قدیم سے گریبان سینہ ہی پر ہونے کا معمول ہے اس لئے عیوب کے چھپانے سے مراد سینہ کا چھپانا ہے شروع آیت میں اظہار زینت کی ممانعت تھی اس جملہ میں اخفاء زینت کی تاکید اور اس کی ایک صورت کا بیان ہے جس کی اصل وجہ ایک رسم جاہلیت کا مٹانا ہے زمانہ جاہلیت میں عورتیں دوپٹہ سر پر ڈال کر اس کے دونوں کنارے پشت پر چھوڑ دیتی تھیں جس سے گریبان اور گلا اور سینہ اور کان کھلے رہتے تھے اس لئے مسلمان عورتوں کو حکم دیا گیا کہ وہ ایسا نہ کریں بلکہ دوپٹے کے دونوں پلے ایک دوسرے پر الٹ لیں تاکہ یہ سب اعضاء چھپ جائیں (رواہ ابن ابی حاتم عن ابی جبیر روح) آگے دوسرا استثناء ان مردوں کا بیان کیا گیا ہے جن سے شرعاً پردہ نہیں جس کے دو سبب ہیں اول تو جن مردوں کو مستثنی کیا گیا ہے ان سے کسی فتنہ کا خطرہ نہیں وہ محارم ہیں جن کی طبائع کو حق تعالیٰ نے خلقۃً ایسا بنایا ہے کہ وہ ان عورتوں کی عصمت کے محافظ ہوتے ہیں ان سے خود کوئی فتنہ کا احتمال نہیں۔ دوسرے ہر وقت ایک جگہ رہنے سہنے کی ضرورت بھی سہولت پیدا کرنے کی مقتضی ہے۔ یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ شوہر کے سوا دوسرے محارم کو جو مستثنی کیا گیا ہے وہ احکام حجاب و پردہ سے استثناء ہے، ستر عورت سے استثناء نہیں عورت کا جو بدن ستر میں داخل ہے جس کا کھولنا نماز میں جائز نہیں اس کا دیکھنا محارم کے لئے بھی جائز نہیں۔ اس آیت میں آٹھ قسم کے محرم مردوں کا اور چار دوسری اقسام کا پردہ سے استثناء کیا گیا ہے اور سورة احزاب کی آیت جو نزول میں اس سے مقدم ہے اس میں صرف سات اقسام کا ذکر ہے پانچ کا اضافہ سورة نور کی آیت میں کیا گیا ہے جو اس کے بعد نازل ہوئی ہے۔ تنبیہ یاد رہے کہ اس جگہ لفظ محرم عام معنی میں استعمال ہوا ہے جو شوہر پر بھی مشتمل ہے فقہاء کی اصطلاح میں محرم کی جو خاص تفسیر ہے کہ جس سے کبھی نکاح جائز نہ ہو وہ یہاں مراد نہیں۔ تفصیل ان بارہ متشنیات کی جو سورة نور کی مذکورہ آیت میں ہے یہ ہے۔ سب سے پہلے شوہر ہے جس سے بیوی کے کسی عضو کا پردہ نہیں اگرچہ اعضاء مخصوصہ کو بلاضرروت دیکھنا خلاف اولی ہے حضرت صدیقہ عائشہ نے فرمایا ما رای منی ولا رایت منہ یعنی نہ آپ نے میرے خاص عضو کو دیکھا نہ میں نے آپ کے۔ دوسرے اپنے باپ ہیں، جس میں دادا، پردادا سب داخل ہیں۔ تیسرے شوہر کا باپ ہے اس میں بھی دادا، پردادا سب داخل ہیں۔ چوتھے اپنے لڑکے جو اپنی اولاد میں ہیں۔ پانچویں شوہر کے لڑکے جو کسی دوسری بیوی سے ہوں چھٹے اپنے بھائی، اس میں حقیقی بھی داخل ہیں اور باپ شریک یعنی علاتی اور ماں شریک یعنی اخیافی بھی لیکن ماموں، خالہ یا چچا، تایا اور پھوپھی کے لڑکے جن کو عام عرف میں بھائی کہا جاتا ہے وہ اس میں داخل نہیں وہ غیر محرم ہیں۔ ساتویں بھائیوں کے لڑکے یہاں بھی صرف حقیقی یا علاتی یا اخیافی بھائی کے لڑکے مراد ہیں دوسرے عرفی بھائیوں کے لڑکے شامل نہیں۔ آٹھویں بہنوں کے لڑکے۔ اس میں بھی بہنوں سے حقیقی اور علاتی اخیافی بہنیں مراد ہیں۔ ماموں زاد چچا زاد بہنیں داخل نہیں یہ آٹھ قسمیں تو محارم کی ہیں۔ نویں قسم اَوْ نِسَاۗىِٕهِنَّ یعنی اپنی عورتیں جس سے مراد مسلمان عورتیں ہیں کہ ان کے سامنے بھی وہ تمام اعضاء کھولنا جائز ہے جو اپنے باپ بیٹوں کے سامنے کھولے جاسکتے ہیں اور یہ اوپر لکھا جا چکا ہے کہ یہ استثناء احکام حجاب و پردہ سے ہے۔ احکام ستر سے نہیں۔ اس لئے جو اعضاء ایک عورت اپنے محرم مردوں کے سامنے نہیں کھول سکتی ان کا کھولنا کسی مسلمان عورت کے سامنے بھی جائز نہیں۔ علاج معالجہ وغیرہ کی ضرورتیں مستثنیٰ ہیں۔ نِسَاۗىِٕهِنَّ مسلمان عورتوں کی قید سے یہ معلوم ہوا کہ کافر مشرک عورتوں سے بھی پردہ واجب ہے وہ غیر محرم مردوں کے حکم میں ہیں۔ ابن کثیر نے حضرت مجاہد سے اس آیت کی تفسیر میں نقل کیا ہے کہ اس سے معلوم ہوا کہ مسلمان عورت کے لئے جائز نہیں کہ کسی کافر عورت کے سامنے اپنے اعضاء کھولے لیکن احادیث صحیحہ میں ایسی روایات موجود ہیں جن میں کافر عورتوں کا ازواج مطہرات کے پاس جانا ثابت ہے اس لئے اس مسئلہ میں ائمہ مجتہدین کا اختلاف ہے بعض نے کافر عورتوں کو مثل غیر محرم مردوں کے قرار دیا ہے بعض نے اس معاملہ میں مسلمان اور کافر دونوں قسم کی عورتوں کا ایک ہی حکم رکھا ہے کہ ان سے پردہ نہیں۔ امام رازی نے فرمایا کہ اصل بات یہ ہے کہ لفظ نِسَاۗىِٕهِنَّ میں تو سبھی عورتیں مسلم اور کافر داخل ہیں اور سلف صالحین سے جو کافر عورتوں سے پردہ کرنے کی روایات منقول ہیں وہ استحباب پر مبنی ہیں۔ روح المعانی میں مفتی بغداد علامہ آلوسی نے اسی قول کو اختیار فرما کر کہا ہے۔ ھذا القول اوفق بالناس الیوم فانہ لا یکاد یمکن احتجاب المسلمات عن الذمیات (روح المعانی) یہی قول آج کل لوگوں کے مناسب حال ہے کیونکہ اس زمانے میں مسلمان عورتوں کا کافر عورتوں سے پردہ تقریباً ناممکن ہوگیا ہے۔ دسویں قسم اَوْ مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُهُنَّ ہے یعنی وہ جو ان عورتوں کے مملوک ہوں۔ ان الفاظ کے عموم میں تو غلام اور لونڈیاں دونوں داخل ہیں لیکن اکثر ائمہ فقہاء کے نزدیک اس سے مراد صرف لونڈیاں ہیں، غلام مرد اس میں داخل نہیں۔ ان سے عام محارم کی طرح پردہ واجب ہے۔ حضرت سعید بن مسیب نے اپنے آخری قول میں فرمایا لا یغرنکم ایة النور فانہ فی لاناث دون الذکور یعنی تم لوگ کہیں سورة نور کی اس آیت سے مغالطہ میں نہ پڑجاؤ کہ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُهُنَّ کے الفاظ عام ہیں۔ مرد غلاموں کو بھی شامل ہیں لیکن واقعہ ایسا نہیں یہ آیت صرف عورتوں یعنی کنیزوں کے حق میں ہے مرد غلام اس میں داخل نہیں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود، حسن بصری، ابن سیرین نے فرمایا کہ غلام مرد کے لئے اپنی آقا عورت کے بال دیکھنا جائز نہیں (روح المعانی) باقی رہا یہ سوال کہ جب لفظ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُهُنَّ سے صرف عورتیں لونڈیاں ہی مراد ہیں تو وہ اس سے پہلے لفظ نسائھن میں یہ داخل ہیں ان کو علیحدہ بیان کرنے کی ضرورت کیا تھی اس کا جواب جصاص نے یہ دیا ہے کہ لفظ نسائھن اپنے ظاہر کے اعتبار سے صرف مسلمان عورتوں کے لئے ہے۔ اور مملوکہ باندیوں میں اگر کافی بھی ہوں تو ان کو مستثنی کرنے کے لئے یہ لفظ علیحدہ لایا گیا ہے۔ گیارہویں قسم اَوِ التّٰبِعِيْنَ غَيْرِ اُولِي الْاِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ ہے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ اس سے مراد وہ مغفل اور بد حواس قسم کے لوگ ہیں جن کو عورتوں کی طرف کوئی رغبت و دلچسپی ہی نہ ہو (ابن کثیر) اور یہی مضمون ابن جریر نے ابوعبداللہ، ابن مجبیر، ابن عطیہ وغیرہ سے نقل کیا ہے اس لئے اس سے مراد وہ مرد ہیں جو عورتوں کی طرف نہ کوئی رغبت و شہوت رکھتے ہوں، نہ ان کے اوصاف حسن اور حالات سے کوئی دلچسپی رکھتے ہوں کہ دوسرے لوگوں سے بیان کردیں۔ بخلاف مخنث قسم کے لوگوں کے جو عورتوں کے اوصاف خاص سے تعلق رکھتے ہوں ان سے بھی پردہ واجب ہے جیسا کہ صدیقہ عائشہ کی حدیث میں ہے کہ ایک مخنث ازواج مطہرات کے پاس آیا کرتا تھا اور امہات المومنین اس کو غَيْرِ اُولِي الْاِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ جو اس آیت میں مذکور ہے داخل سمجھ کر اس کے سامنے آجاتی تھیں۔ رسول اللہ ﷺ نے جب اس کو دیکھا اور اس کی باتیں سنیں تو گھروں میں داخل ہونے سے اس کو روک دیا۔ (روح المعانی) اسی لئے ابن حجر مکی نے شرح منہاج میں فرمایا ہے کہ مرد اگرچہ عنین (نامرد) یا مجبوب (مقطوع العضو) یا بہت بوڑھا ہو وہ اس غیر اولی الاربة کے لفظ میں داخل نہیں ان سب سے پردہ واجب ہے۔ اس میں غَيْرِ اُولِي الْاِرْبَةِ کے لفظ کے ساتھ جو التّٰبِعِيْنَ کا لفظ مذکور ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ ایسے مغفل بدحواس لوگ جو طفیلی بن کر کھانے پینے کے لئے گھروں میں چلے جائیں وہ مستثنی ہیں۔ اس کا ذکر صرف اس لئے کیا گیا کہ اس وقت ایسے مغفل قسم کے کچھ مرد ایسے ہی تھے جو طفیلی بن کر کھانے پینے کے لئے گھروں میں جاتے تھے اصل مدار حکم کا ان کے مغفل بدحواس ہونے پر ہے تابع اور طفیلی ہونے پر نہیں۔ واللہ اعلم بارہویں قسم اَوِ الطِّفْلِ الَّذِيْنَ ہے۔ اس سے مراد وہ نابالغ بچے ہیں جو ابھی بلوغ کے قریب بھی نہیں پہنچے اور عورتوں کے مخصوص حالات وصفات اور حرکات و سکنات سے بالکل بیخبر ہوں اور جو لڑکا ان امور سے دلچسپی لیتا ہو وہ مراہق یعنی قریب البلوغ ہے اس سے پردہ واجب ہے (ابن کثیر) امام جصاص نے فرمایا کہ یہاں طفل سے مراد وہ بچے ہیں جو مخصوص معاملات کے لحاظ سے عورتوں اور مردوں میں کوئی امتیاز نہ کرتے ہوں (ذکرہ عن المجاہد) پردہ سے مسثنیات کا بیان ختم ہوا۔ وَلَا يَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِيْنَ مِنْ زِيْنَتِهِنَّ یعنی عورتوں پر لازم ہے کہ اپنے پاؤں اتنی زور سے نہ رکھیں جس سے زیور کی آواز نکلے اور ان کی مخفی زینت مردوں پر ظاہر ہو۔ زیور کی آواز غیر محرموں کو سنانا جائز نہیں شروع آیت میں عورتوں کو اپنی زینت غیر مردوں پر ظاہر کرنے سے منع فرمایا تھا، آخر میں اس کی مزید تاکید ہے کہ مواضع زینت سر اور سینہ وغیرہ کا چھپانا تو واجب تھا ہی۔ اپنے مخفی زینت کا اظہار خواہ کسی ذریعہ سے ہو وہ بھی جائز نہیں۔ زیور کے اندر خود کوئی چیز ایسی ڈالی جائے جس سے وہ بچنے لگے یا ایک زیور دوسرے زیور سے ٹکرا کر بجے یا پاؤں زمین پر اس طرح مارے جس سے زیور کی آواز نکلے اور غیر محرم مرد سنیں یہ سب چیزیں اس آیت کی رو سے ناجائز ہیں اور اسی وجہ سے بہت سے فقہاء نے فرمایا کہ جب زیور کی آواز غیر محرموں کو سنانا اس آیت سے ناجائز ثابت ہوا تو خود عورت کی آواز کا سنانا اس سے بھی زیادہ سخت اور بدرجہ اولی ناجائز ہوگا اس لئے عورت کی آواز کو بھی ان حضرات نے ستر میں داخل قرار دیا ہے اور اسی بناء پر نوازل میں فرمایا کہ عورتوں کو جہاں تک ممکن ہو قرآن کی تعیلم بھی عورتوں ہی سے لینا چاہئے۔ مردوں سے تعیلم لینا بدرجہ مجبوری جائز ہے۔ صحیح بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ نماز میں اگر کوئی سامنے سے گزرنے لگے تو مرد کو چاہئے کہ بلند آواز سے سبحان اللہ کہہ کر گزرنے والے کو متنبہ کر دے مگر عورت آواز نہ نکالے بلکہ اپنی ایک ہتھیلی کی پشت پر دوسرا ہاتھ مار کر اس کو متنبہ کرے۔ عورت کی آواز کا مسئلہ کیا عورت کی آواز فی نفسہ ستر میں داخل ہے اور غیر محرم کو آواز سنانا جائز ہے ؟ اس معاملے میں حضرات ائمہ کا اختلاف ہے۔ امام شافعی کی کتب میں عورت کی آواز کو ستر میں داخل نہیں کیا گیا۔ حنفیہ کے نزدیک بھی مختلف اقوال ہیں۔ ابن ہمام نے نوازل کی روایت کی بناء پر ستر میں داخل قرار دیا ہے۔ اسی لئے حنفیہ کے نزدیک عورت کی اذان مکروہ ہے لیکن حدیث سے ثابت ہے کہ ازواج مطہرات نزول حجاب کے بعد بھی پس پردہ غیر محارم سے بات کرتی تھیں اس مجموعہ سے راجح اور صحیح بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ جس موقع اور جس محل میں عورت کی آواز سے فتنہ پیدا ہونے کا خطرہ ہو وہاں ممنوع ہے جہاں یہ نہ ہو جائز ہے (جصاص) اور احتیاط اسی میں ہے کہ بلا ضروت عورتیں پس پردہ بھی غیر محرموں سے گفتگو نہ کریں۔ واللہ اعلم خوشبو لگا کر باہر نکلنا اسی حکم میں یہ بھی داخل ہے کہ عورت جب بضرورت گھر سے باہر نکلے تو خوشبو لگا کر نہ نکلے کیونکہ وہ بھی اس کی مخفی زینت ہے غیر محرم تک یہ خوشبو پہنچے تو ناجائز ہے ترمذی میں حضرت ابو موسیٰ اشعری کی حدیث ہے جس میں خوشبو لگا کر باہر جانے والی عورت کو برا کہا گیا ہے۔ مزین برقع پہن کر نکلنا بھی ناجائز ہے امام جصاص نے فرمایا کہ جب زیور کی آواز کو قرآن نے اظہار زینت میں داخل قرار دے کر ممنوع کیا ہے تو مزین رنگوں کے کا مدار برقعے پہن کر نکلنا بدرجہ اولی ممنوع ہوگا اور اسی سے یہ بھی معلمو ہوا کہ عورت کا چہرہ اگرچہ ستر میں داخل نہیں مگر وہ زینت کا سب سے بڑا مرکز ہے اس لئے اس کا بھی غیر محرموں سے چھپانا واجب ہے الا بضرورت (جصاص) وَتُوْبُوْٓا اِلَى اللّٰهِ جَمِيْعًا اَيُّهَ الْمُؤ ْمِنُوْنَ ، یعنی توبہ کرو اللہ سے تم سب کے سب اے مومن بندو۔ اس آیت میں اول مردوں کو نظریں پست رکھنے کا حکم پھر عورتوں کو ایسا ہی حکم پھر عورتوں کو غیر محرموں سے پر دوہ کرنے کا حکم الگ الگ دینے کے بعد اس جملے میں سب مرد و عورت کو شامل کر کے ہدایت کی گئی ہے کہ شہوت نفسانی کا معاملہ دقیق ہے دوسروں کو اس پر اطلاع ہونا مشکل ہے مگر اللہ تعالیٰ پر ہر ہر چھپا ہوا اور کھلا ہوا یکساں ظاہر ہے اس لئے اگر کسی سے احکام مذکورہ میں کسی وقت کوئی کوتاہی ہوگئی ہو تو اس پر لازم ہے کہ اس سے توبہ کرے گزشتہ پر ندامت کے ساتھ اللہ سے مغفرت مانگے اور آئندہ اس کے پاس نہ جانے کا عزم مصمم کرے۔
Ayah 24:32

وَ اَنْكِحُوا الْاَیَامٰى مِنْكُمْ وَ الصّٰلِحِیْنَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَ اِمَآئِكُمْ١ؕ اِنْ یَّكُوْنُوْا فُقَرَآءَ یُغْنِهِمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 24:32 in the Quran reader

اور نکاح کردو رانڈوں کا اپنے اندر اور جو نیک ہوں تمہارے غلام اور لونڈیاں اگر وہ ہوں گے مفلس اللہ ان کو غنی کر دے گا اپنے فضل سے اور اللہ کشائش والا ہے سب کچھ جانتا ہے ،

خلاصہ تفسیر (احرار میں سے) جو بےنکاح ہوں (خواہ مرد ہوں یا عورتیں) اور بےنکاح ہونا بھی عام ہے خواہ ابھی تک نکاح ہوا ہی نہ ہو یا ہونے کے بعد بیوی کی موت یا طلاق کے سبب بےنکاح رہ گئے) تم ان کا نکاح کردیا کرو اور (اسی طرح) تمہارے غلام اور لونڈیوں میں جو اس (نکاح) کے لائق ہوں (یعنی حقوق نکاح ادا کرسکتے ہوں) ان کا بھی (نکاح کردیا کرو محض اپنی مصلحت سے ان کی خواہش نکاح کی مصلحت کو فوت نہ کیا کرو اور احرار کے نکاح پیغام دینے والے کے فقر و افلاس پر نظر کر کے انکار نہ کردیا کرو جبکہ اس میں کسب معاش کی صلاحیت موجود ہو کیونکہ) اگر وہ لوگ مفلس ہوں گے تو اللہ تعالیٰ (اگر چاہے گا) ان کو اپنے فضل سے غنی کر دے گا (خلاصہ یہ ہے کہ نہ تو مالدار نہ ہونے کی وجہ سے نکاح سے انکار کرو اور نہ یہ خیال کرو کہ نکاح ہوگیا تو خرچ بڑھ جائے گا جو موجودہ حالت میں غنی و مالدار ہے وہ بھی نکاح کرنے سے محتاج و مفلس ہوجائے گا کیونکہ رزق کا مدار اصل میں اللہ تعالیٰ کی مشیت پر ہے وہ کسی مالدار کو بغیر نکاح کے بھی فقیر و محتاج کرسکتا ہے اور کسی غریب نکاح والے کو نکاح کے باوجود فقر و افلاس سے نکال سکتا ہے) اور اللہ تعالیٰ وسعت والا ہے (جس کو چاہے مالدار کر دے اور سب کا حال) خوب جاننے والا ہے (جس کو غنی کرنا مقتضائے حکمت و مصلحت ہوگا اس کو غنی کردیا جاوے گا اور جس کے محتاج و فقیر رہنے ہی میں اس کی مصلحت ہے اس کو فقیر رکھا جائے گا) اور (اگر کسی کو اپنے فقر و افلاس کی وجہ سے نکاح کا سامان میسر نہ ہو تو) ایسے لوگوں کو کہ جن کو نکاح کا مقدور نہیں ان کو چاہئے کہ (اپنے نفس کو) قابو میں رکھیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ (اگر چاہے تو) ان کو اپنے فضل سے غنی کر دے (اس وقت نکاح کرلیں۔) معارف و مسائل بعض احکام نکاح پہلے بیان ہوچکا ہے کہ سورة نور میں زیادہ تر وہ احکام ہیں جن کا تعلق عفت و عصمت کی حفاظت اور فواحش و بےحیائی کی روک تھام سے ہے۔ اس سلسلہ میں زنا اور اس کے متعلقات کی شدید سزاؤں کا ذکر کیا گیا پھر استیذان کا، پھر عورتوں کے پردے کا۔ شریعت اسلام چونکہ ایک معتدل شریعت ہے اس کے احکام سب ہی اعتدال پر اور انسان کے فطری جذبات و خواہشات کی رعایت کے ساتھ تعدی اور حد سے نکلنے کی ممانعت کے اصول پر دائر ہیں۔ اس لئے جب ایک طرف انسان کو ناجائز شہوت رانی سے سختی کے ساتھ روکا گیا تو ضرروی تھا کہ فطری جذبات و خواہشات کی رعایت سے اس کا کوئی جائز اور صحیح طریقہ بھی بتلایا جائے۔ اس کے علاوہ بقاء نسل کا عقلی اور شرعی تقاضا بھی یہی ہے کہ کچھ حدود کے اندر رہ کر مرد و عورت کے اختلاط کی کوئی صورت تجویز کی جائے۔ اسی کا نام قرآن و سنت کی اصطلاح میں نکاح ہے۔ آیت مذکورہ میں اس کے متعلق حرہ عورتوں کے اولیاء اور کنیزوں غلاموں کے آقاؤں کو حکم دیا ہے کہ وہ ان کا نکاح کردیا کریں۔ وَاَنْكِحُوا الْاَيَامٰى مِنْكُمْ الایة اَيَامٰى، ایم کی جمع ہے جو ہر اس مرد عورت کے لئے استعمال کیا جاتا ہے جس کا نکاح موجود نہ ہو۔ خواہ اول ہی سے نکاح نہ کیا ہو یا زوجین میں سے کسی ایک کی موت سے یا طلاق سے نکاح ختم ہوچکا ہو۔ ایسے مردوں و عورتوں کے نکاح کے لئے ان کے اولیاء کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ ان کے نکاح کا انتظام کریں۔ آیت مذکورہ کے طرز خطاب سے اتنی بات تو باتفاق ائمہ فقہاء ثابت ہے کہ نکاح کا مسنون اور بہتر طریقہ یہی ہے کہ خود اپنا نکاح کرنے کے لئے کوئی مرد یا عورت بلا واسطہ اقدام کے بجائے اپنے اولیاء کے واسطے سے یہ کام انجام دے۔ اس میں دین و دنیا کے بہت سے مصالح اور فوائد ہیں۔ خصوصاً لڑکیوں کے معاملہ میں کہ لڑکیاں اپنے نکاح کا معاملہ خود طے کریں، یہ ایک قسم کی بےحیائی بھی ہے اور اس میں فواحش کے راستے کھل جانے کا خطرہ بھی۔ اسی لئے بعض روایات حدیث میں عورتوں کو خود اپنا نکاح بلا واسطہ ولی کرنے سے روکا بھی گیا ہے۔ امام اعظم ابوحنیفہ اور بعض دوسرے ائمہ کے نزدیک یہ حکم ایک خاص سنت اور شرعی ہدایت کی حیثیت میں ہے اگر کوئی بالغ لڑکی اپنا نکاح بغیر اجازت ولی کے اپنے کفو میں کرے تو نکاح صحیح ہوجائے گا اگرچہ خلاف سنت کرنے کی وجہ سے وہ موجب ملامت ہوگی جبکہ اس نے کسی مجبوری سے اس پر اقدام نہ کیا ہو۔ امام شافعی اور بعض دوسرے ائمہ کے نزدیک اس کا نکاح ہی باطل کالعدم ہوگا جب تک ولی کے واسطہ سے نہ ہو۔ یہ جگہ اختلافی مسائل کی مکمل تحقیق اور دونوں فقہاء کے دلائل بیان کرنے کی نہیں لیکن اتنی بات ظاہر ہے کہ مذکورہ آیت سے زیادہ سے زیادہ یہی ثابت ہوتا ہے کہ نکاح میں اولیاء کا واسطہ ہونا چاہئے باقی یہ صورت کہ کوئی بلا واسطہ اولیاء نکاح کرے تو اس کا کیا حکم ہوگا یہ آیت قرآن اس سے ساکت ہے۔ خصوصاً اس وجہ سے بھی کہ لفظ اَيَامٰى میں بالغان مرد و عورت دونوں داخل ہیں اور بالغ لڑکوں کا نکاح بلا واسطہ ولی سب کے نزدیک صحیح ہوجاتا ہے اس کو کوئی باطل نہیں کہتا۔ اسی طرح ظاہر یہ ہے کہ لڑکی بالغ اگر اپنا نکاح خود کرے تو وہ بھی صحیح اور منعقد ہوجائے۔ ہاں خلاف سنت کام کرنے پر ملامت دونوں کی کی جائے گی۔ نکاح واجب ہے یا سنت یا مختلف حالات میں حکم مختلف ہے اس پر ائمہ مجتہدین تقریباً سبھی متفق ہیں کہ جس شخص کو نکاح نہ کرنے کی صورت میں غالب گمان یہ ہو کہ وہ حدود شریعت پر قائم نہیں رہ سکے گا گناہ میں مبتلا ہوجائے گا اور نکاح کرنے پر اس کی قدرت بھی ہو کہ اس کے وسائل موجود ہوں تو ایسے شخص پر نکاح کرنا فرض یا واجب ہے جب تک نکاح نہ کرے گا گنہگار رہے گا۔ ہاں اگر نکاح کے وسائل موجود نہیں کہ کوئی مناسب عورت میسر نہیں یا اس کے لئے مہر معجل وغیرہ کی حد تک ضروری خرچ اس کے پاس نہیں تو اس کا حکم اگلی آیت میں یہ آیا ہے کہ اس کو چاہئے کہ وسائل کی فراہمی کی کوشش کرتا رہے اور جب تک وہ میسر نہ ہوں اپنے نفس کو قابو میں رکھنے اور صبر کرنے کی کوشش کرے۔ رسول اللہ ﷺ نے ایسے شخص کے لئے ارشاد فرمایا ہے کہ وہ مسلسل روزے رکھے۔ اس سے غلبہ شہوت کو سکون ہوجاتا ہے۔ مسند احمد میں روایت ہے کہ حضرت عکاف سے رسول اللہ ﷺ نے پوچھا کہ کیا تمہاری زوجہ ہے انہوں نے عرض کیا نہیں۔ پھر پوچھا کوئی شرعی لونڈی ہے کہا کہ نہیں پھر آپ نے دریافت کیا کہ تم صاحب وسعت ہو یا نہیں۔ انہوں نے عرض کیا کہ صاحب وسعت ہوں۔ مراد یہ تھی کہ کیا تم نکاح کے لئے ضروری نفقات کا انتظام کرسکتے ہو جس کے جواب میں انہوں نے اقرار کیا۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ پھر تو تم شیطان کے بھائی ہو اور فرمایا کہ ہماری سنت نکاح کرنا ہے۔ تم میں بدترین آدمی وہ ہیں جو بےنکاح ہوں اور تہمارے مردوں میں سب سے رذیل وہ ہیں جو بےنکاح مر گئے۔ (مظہری) اس روایت کو بھی جمہور فقہاء نے اسی حالت پر محمول فرمایا ہے جبکہ نکاح نہ کرنے کی صورت میں گناہ کا خطرہ غالب ہو۔ عکاف کا حال رسول اللہ ﷺ کو معلوم ہوگا کہ وہ صبر نہیں کرسکتے۔ اسی طرح مسند احمد میں حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نکاح کرنے کا حکم دیا اور تبتُّل یعنی بےنکاح رہنے سے سختی کے ساتھ منع فرمایا (مظہری) اسی طرح کی اور بھی روایات حدیث ہیں۔ ان سب کا محمل جمہور فقہاء کے نزدیک وہی صورت ہے کہ نکاح نہ کرنے میں ابتلاء معصیت کا خطرہ غالب ہو۔ اسی طرح اس پر بھی تقریباً سبھی فقہاء کا اتفاق ہے کہ جس شخص کو بظن غالب یہ معلوم ہو کہ وہ نکاح کرنے کی وجہ سے گناہ میں مبتلا ہوجائے گا مثلاً بیوی کے حقوق زوجیت ادا کرنے پر قدرت نہیں اس پر ظلم کا مرتکب ہوگا یا اس کے لئے نکاح کرنے کی صورت میں کوئی دوسرا گناہ یقینی طور پر لازم آجائے گا ایسے شخص کو نکاح کرنا حرام یا مکروہ ہے۔ اب اس شخص کا حکم باقی رہا جو حالت اعتدال میں ہے کہ نہ تو ترک نکاح سے گناہ کا خطرہ قوی ہے اور نہ نکاح کی صورت میں کسی گناہ کا اندیشہ غالب ہے۔ ایسے شخص کے بارے میں فقہاء کے اقوال مختلف ہیں کہ اس کو نکاح کرنا افضل ہے یا ترک نکاح کر کے نفلی عبادات میں مشغول ہونا افضل ہے۔ امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک نفلی عبادات میں لگنے سے افضل نکاح کرنا ہے اور امام شافعی کے نزدیک اشتغال عبادت افضل ہے۔ وجہ اس اختلاف کی اصل میں یہ ہے کہ نکاح اپنی ذات کے اعتبار سے تو ایک مباح ہے جیسے کھانا پینا سونا وغیرہ ضروریات زندگی سب مباح ہیں اس میں عبادت کا پہلو اس نیت سے آجاتا ہے کہ اس کے ذریعہ آدمی اپنے آپ کو گناہ سے بچا سکے گا اور اولاد صالح پیدا ہوگی تو اس کا بھی ثواب ملے گا اور ایسی نیک نیت سے جو مباح کام بھی انسان کرتا ہے وہ اس کے لئے بالواسطہ عبادت بن جاتی ہے کھانا پینا اور سونا بھی اسی نیت سے عبادت ہوجاتا ہے اور اشتغال بالعبادت اپنی ذات میں عبادت ہے اس لئے امام شافعی عبادت کے لئے خلوت گزینی کو نکاح سے افضل قرار دیتے ہیں اور امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک نکاح میں عبادت کا پہلو بہ نسبت دوسرے مباحات کے غالب ہے احادیث صحیحہ میں اس کو سنت المرسلین اور اپنی سنت قرار دے کر تاکیدات بکثرت آئی ہیں۔ ان روایات حدیث کے مجموعہ سے اتنا واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ نکاح عام مباحات کی طرح مباح نہیں بلکہ سنت انبیاء ہے جس کی تاکیدات بھی حدیث میں آئی ہیں صرف نیت کی وجہ سے عبادت کی حیثیت اس میں نہیں بلکہ سنت انبیاء ہونے کی حیثیت سے بھی ہے۔ اگر کوئی کہے کہ اس طرح تو کھانا پینا سونا بھی سنت انبیاء ہے کہ سب نے ایسا کیا ہے مگر جواب واضح ہے کہ ان چیزوں پر سب انبیاء کا علم ہونے کے باوجود یہ کسی نے نہیں کہا نہ کسی حدیث میں آیا کہ کھانا پینا اور سونا سنت انبیاء ہے بلکہ اس کو عام انسانی عادت کے تابع انبیاء کا عمل قرار دیا ہے بخلاف نکاح کے اس کو صراحة سنت المرسلین اور اپنی سنت فرمایا ہے۔ تفسیر مظہری میں اس موقع پر ایک معتدل بات یہ کہی ہے کہ جو شخص حالت اعتدال میں ہو کہ نہ غلبہ شہوت سے مجبور و مغلوب ہو اور نہ نکاح کرنے سے کسی گناہ میں پڑنے کا اندیشہ رکھتا ہو۔ یہ شخص اگر یہ محسوس کرے کہ نکاح کرنے کے باوجود نکاح اور اہل و عیال کی مشغولیت میرے لئے کثرت ذکر اللہ اور توجہ الی اللہ سے مانع نہیں ہوگی تو اس کے لئے نکاح افضل ہے اور انبیاء (علیہم السلام) اور صلحاء امت کا عام حال یہی تھا، اور اگر اس کا اندازہ یہ ہے کہ نکاح اور اہل و عیال کے مشاغل اس کو دینی ترقی، کثرت ذکر وغیرہ سے روک دیں گے تو بحالت اعتدال اس کے لئے عبادت کے لئے خلوت گزینی اور ترک نکاح افضل ہے۔ قرآن کریم کی بہت سی آیات اس کی تطبیق پر شاہد ہیں ان میں ایک یہ ہے يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُلْهِكُمْ اَمْوَالُكُمْ وَلَآ اَوْلَادُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ اس میں یہی ہدایت ہے کہ انسان کے مال و اولاد اس کو اللہ تعالیٰ کے ذکر سے غافل کردینے کا سبب نہ بننے چاہئیں۔ واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔ وَالصّٰلِحِيْنَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَاِمَاۗىِٕكُمْ ، یعنی اپنے غلاموں اور کنیزوں میں جو صالح ہوں ان کے نکاح کرا دیا کرو۔ یہ خطاب ان کے آقاؤں اور مالکوں کو ہے اس جگہ صالحین کا لفظ اپنے لغوی معنے میں آیا ہے یعنی ان میں جو شخص نکاح کی صلاحیت و استطاعت رکھتا ہو اس کا نکاح کرا دینے کا حکم ان کے آقاؤں کو دیا گیا ہے مراد اس صالحیت سے وہی ہے کہ بیوی کے حقوق زوجیت اور نفقہ و مہر معجل ادا کرنے کے قابل ہوں اور اگر صالحین کو معروف یعنی نیک لوگوں کے معنے میں لیا جائے تو پھر ان کی تخصیص بالذکر اس وجہ سے ہوگی کہ نکاح کا اصل مقصد حرام سے بچنے کا وہ صالحین ہی میں ہوسکتا ہے۔ بہرحال اپنے غلاموں اور کنیزوں میں جو صلاحیت نکاح کی رکھنے والے ہوں ان کے نکاح کا حکم ان کے آقاؤں کو دیا گیا ہے اور مراد اس سے یہ ہے کہ اگر وہ اپنی نکاح کی ضرورت ظاہر کریں اور خواہش کریں کہ ان کا نکاح کردیا جائے تو آقاؤں پر بعض فقہاء کے نزدیک واجب ہوگا کہ ان کے نکاح کردیں اور جمہور فقہاء کے نزدیک ان پر لازم ہے کہ ان کے نکاح میں رکاوٹ نہ ڈالیں بلکہ اجازت دیدیں کیونکہ مملوک غلاموں اور کنیزوں کا نکاح بغیر مالکوں کی اجازت کے نہیں ہوسکتا تو یہ حکم ایسا ہی ہوگا جیسا کہ قرآن کریم کی ایک آیت میں ہے فَلَا تَعْضُلُوْھُنَّ اَنْ يَّنْكِحْنَ اَزْوَاجَهُنَّ یعنی عورتوں کے اولیاء پر لازم ہے کہ اپنی زیر ولایت عورتوں کو نکاح سے نہ روکیں اور جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب تمہارے پاس کوئی ایسا شخص منگنی لے کر آوے اور اخلاق آپ کو پسند ہوں تو ضرور نکاح کردو اگر ایسا نہیں کرو گے تو زمین میں فتنہ اور وسیع پیمانے کا فساد پیدا ہوجائے گا۔ (رواہ الترمذی) خلاصہ یہ ہے کہ یہ حکم آقاؤں کو اس لئے دیا گیا کہ وہ اجازت نکاح دینے میں کوتاہی نہ کریں۔ خود نکاح کرانا ان کے ذمہ واجب ہو یہ ضروری نہیں۔ واللہ اعلم اِنْ يَّكُوْنُوْا فُقَرَاۗءَ يُغْنِهِمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ اس میں ان غریب فقیر مسلمانوں کے لئے بشارت ہے جو اپنے دین کی حفاظت کے لئے نکاح کرنا چاہتے ہیں مگر وسائل مالیہ ان کے پاس نہیں کہ جب وہ اپنے دین کی حفاظت اور سنت رسول اللہ ﷺ پر عمل کرنے کی نیت صالحہ سے نکاح کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو مالی غنا بھی عطا فرما دیں گے اور اس میں ان لوگوں کو بھی ہدایت ہے جن کے پاس ایسے غریب لوگ منگنی لے کر جائیں کہ وہ محض ان کے فی الحال غریب فقیر ہونے کی وجہ سے رشتہ سے انکار نہ کردیں۔ مال آنے جانے والی چیز ہے اصل چیز صلاحیت عمل ہے اگر وہ ان میں موجود ہے تو ان کے نکاح سے انکار نہ کریں۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ اس آیت میں حق تعالیٰ نے سب مسلمانوں کو نکاح کرنے کی ترغیب دی ہے اس میں آزاد اور غلام سب کو داخل فرمایا ہے اور نکاح کرنے پر ان سے غنا کا وعدہ فرمایا ہے۔ (ابن کثیر) اور ابن ابی حاتم نے حضرت صدیق اکبر سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے مسلمانوں کو خطاب کر کے فرمایا کہ تم نکاح کرنے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرو تو اللہ تعالیٰ نے جو وعدہ غناء عطا فرمانے کا کیا ہے وہ پورا فرما دیں گے پھر یہ آیت پڑھی۔ اِنْ يَّكُوْنُوْا فُقَرَاۗءَ يُغْنِهِمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ اور حضرت عبداللہ بن مسعود نے فرمایا کہ تم غنی ہونا چاہتے ہو تو نکاح کرلو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اِنْ يَّكُوْنُوْا فُقَرَاۗءَ يُغْنِهِمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ (رواہ ابن جریرو ذکر البغوی عن عمر نحواہ۔ کثیر) تنبیہ تفسیر مظہری میں ہے کہ مگر یہ یاد رہے کہ نکاح کرنے والے کو غنی اور مال عطا فرمانے کا وعدہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسی حال میں ہے جبکہ نکاح کرنے والے کی نیت اپنی عفت کی حفاظت اور سنت پر عمل ہو اور پھر اللہ تعالیٰ پر توکل و اعتماد ہو اس کی دلیل اگلی آیت کے یہ الفاظ ہیں۔