24. Surah An-Noor

النورThe Light · 64 ayahsمعارف القرآن

Ayah 24:33

وَ لْیَسْتَعْفِفِ الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ نِكَاحًا حَتّٰى یُغْنِیَهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَبْتَغُوْنَ الْكِتٰبَ مِمَّا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ فَكَاتِبُوْهُمْ اِنْ عَلِمْتُمْ فِیْهِمْ خَیْرًا١ۖۗ وَّ اٰتُوْهُمْ مِّنْ مَّالِ اللّٰهِ الَّذِیْۤ اٰتٰىكُمْ١ؕ وَ لَا تُكْرِهُوْا فَتَیٰتِكُمْ عَلَى الْبِغَآءِ اِنْ اَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِّتَبْتَغُوْا عَرَضَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ مَنْ یُّكْرِهْهُّنَّ فَاِنَّ اللّٰهَ مِنْۢ بَعْدِ اِكْرَاهِهِنَّ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 24:33 in the Quran reader

اور اپنے آپ کو تھامتے رہیں جن کو نہیں ملتا سامان نکاح کا جب تک کہ مقدور دے ان کو اللہ اپنے فضل سے اور جو لوگ چاہیں لکھت آزادی کی مال دے کر ان میں سے کہ جو تمہارے ہاتھ کے مال ہیں تو ان کو لکھ کر دے دو اگر سمجھو ان میں کچھ نیکی اور دو ان کو اللہ کے مال سے جو اس نے تم کو دیا ہے اور نہ زبردستی کرو اپنی چھوکریوں پر بدکاری کے واسطے اگر وہ چاہیں قید سے رہنا کہ تم کمانا چاہو اسباب دنیا کی زندگانی کا اور جو کوئی ان پر زبردستی کرے گا تو اللہ ان کی بےبسی کے پیچھے بخشنے والا مہربان ہے۔

وَلْيَسْتَعْفِفِ الَّذِيْنَ لَا يَجِدُوْنَ نِكَاحًا حَتّٰى يُغْنِيَهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ یعنی جو لوگ مال و اسباب کے لحاظ سے نکاح پر قدرت نہیں رکھتے اور نکاح کرنے میں یہ خطرہ ہے کہ بیوی کے حقوق ادا نہ کرنے کی وجہ سے گنہگار ہوجائیں گے ان کو چاہئے کہ عفت اور صبر کے ساتھ اس کا انتظار کریں کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ان کو غنی کر دے اور اس صبر کے لئے ایک تدبیر بھی حدیث میں یہ بتلا دی گئی ہے کہ کثرت سے روزے رکھا کریں۔ اگر وہ ایسا کریں گے تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ان کو اتنے مالی وسائل عطا فرمائیں گے جن سے نکاح پر قدرت ہوجائے۔ خلاصہ تفسیر اور تمہارے مملوکوں میں سے (غلام ہوں یا لونڈیاں) جو مکاتب ہونے کے خواہاں ہوں تو (بہتر ہے کہ) ان کو مکاتب بنادیا کرو اگر ان میں بہتری (کے آثار) پاؤ اور اللہ کے (دیئے ہوئے) اس مال میں سے ان کو بھی دو جو اللہ نے تم کو دے رکھا ہے (تاکہ جلدی آزاد ہو سکیں) اور اپنی (مملوکہ) لونڈیوں کو زنا کرنے پر مجبور نہ کرو (بالخصوص) جب وہ پاکدامن رہنا چاہیں (اور تمہاری یہ ذلیل حرکت) محض اس لئے کہ دنیوی زندگی کا کچھ فائدہ (یعنی مال) تم کو حاصل ہوجائے اور جو شخص ان کو مجبور کرے گا (اور وہ بچنا چاہیں گی) تو اللہ تعالیٰ ان کے مجبور کئے جانے کے بعد (ان کے لئے) بخشنے والا مہربان ہے۔ معارف و مسائل پچھلی آیت میں مملوک غلاموں اور لونڈیوں کو اگر نکاح کرنے کی ضرورت ہو تو آقاؤں کو ہدایت کی گئی تھی کہ ان کو نکاح کی اجازت دیدینا چاہئے اپنی مصلحت کے لئے ان کے طبعی مصالح کو مؤ خر نہ کریں یہ ان کے لئے فاضل اور بہتر ہے۔ خلاصہ اس ہدایت کا اپنے مملوک غلاموں لونڈیوں کے ساتھ حسن معاملہ اور ان کو تکلیف سے بچانا ہے اس کی مناسبت سے آیت مذکورہ میں ایک دوسری ہدایت ان کے آقاؤں کے لئے یہ دی گئی ہے کہ اگر یہ مملوک غلام یا لونڈی آقاؤں سے معاملہ مکاتبت کا کرنا چاہیں تو ان کی اس خواہش کو پورا کردینا بھی آقاؤں کے لئے افضل اور مستحب موجب ثواب ہے۔ صاحب ہدایہ اور عامہ فقہاء نے اس حکم کو حکم استحباب ہی قرار دیا ہے یعنی آقا کے ذمہ واجب تو نہیں کہ اپنے مملوک کو مکاتب بنا دے لیکن مستحب اور افضل ہے اور معاملہ مکاتبت کی صورت یہ ہے کہ کوئی مملوک اپنے آقا سے کہے کہ آپ مجھ پر کچھ رقم مقرر کردیں کہ وہ رقم میں اپنی محنت و کسب سے حاصل کر کے آپ کو ادا کر دوں تو میں آزاد ہوجاؤں اور آقا اس کو قبول کرے، یا معاملہ برعکس ہو کہ آقا چاہے کہ اس کا غلام کچھ معینہ رقم اس کو دیدے تو آزاد ہوجائے اور غلام اس کو قبول کرے۔ اگر آقا اور مملوک کے درمیان ایجاب و قبول کے ذریعہ یہ معاملہ مکاتبت کا طے ہوجاتا ہے تو وہ شرعاً لازم ہوجاتا ہے آقا کو اس کے فسخ کرنے کا اختیار نہیں رہتا جس وقت بھی غلام معینہ رقم کما کر اس کو دیدے گا خود بخود آزاد ہوجائے گا۔ یہ رقم جو بدل کتابت کہلاتی ہیں شریعت نے اس کی کوئی حد مقرر نہیں فرمائی خواہ غلام کی قیمت کے برابر ہو یا اس سے کم یا زیادہ جس پر فریقین میں بات طے ہوجائے وہ بدل کتابت ٹھہرے گا۔ اپنے مملوک غلام یا لونڈی کو مکاتب بنا دینے کی ہدایت اور اس کو مستحب اور افضل قرار دینا شریعت اسلام کے ان ہی احکام میں سے ہے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ شریعت اسلام کا مقتضی یہ ہے کہ جو لوگ شرعی حیثیت سے غلام ہیں ان کی آزادی کے زیادہ سے زیادہ راستے کھولے جائیں۔ تمام کفارات میں ان کے آزاد کرنے کے احکام دیئے گئے ہیں۔ ویسے بھی غلام آزاد کرنے میں بہت بڑے ثواب کا وعدہ ہے مکاتبت کا معاملہ بھی اسی کا ایک راستہ ہے اس لئے اس کی ترغیب دی گئی ہے۔ البتہ اس کے ساتھ شرط یہ لگائی گئی کہ اِنْ عَلِمْتُمْ فِيْهِمْ خَيْرًا یعنی مکاتب بنانا جب درست ہوگا جبکہ تم ان میں بہتری کے آثار دیکھو۔ حضرت عبداللہ بن عمر اور اکثر حضرات ائمہ نے اس بہتری سے مراد قوت کسب بتلائی ہے یعنی جس شخص میں یہ دیکھو کہ اگر اس کو مکاتب بنادیا تو کما کر معینہ رقم جمع کرلے گا اس کو مکاتب بناؤ ورنہ جو اس قابل نہ ہو اس کو مکاتب بنا دینے سے غلام کی محنت بھی ضائع ہوگی آقا کا نقصان بھی ہوگا اور صاحب ہدایہ نے فرمایا کہ خیر اور بہتری سے مراد اس جگہ یہ ہے کہ اس کے آزاد ہونے سے مسلمانوں کو کسی نقصان کے پہنچنے کا خطرہ نہ ہو مثلاً یہ کہ وہ کافر ہو اور اپنے کافر بھائیوں کی مدد کرتا ہو اور صحیح بات یہ ہے کہ لفظ خیر اس جگہ دونوں چیزوں پر حاوی ہے کہ غلام میں قوت کسب بھی ہو اور اس کی آزادی سے مسلمانوں کو کوئی خطرہ بھی نہ ہو۔ (مظہری) وَّاٰتُوْهُمْ مِّنْ مَّال اللّٰهِ الَّذِيْٓ اٰتٰىكُمْ ، یعنی بخشش کرو ان پر اس مال میں سے جو اللہ نے تمہیں دیا ہے۔ یہ خطاب مسلمانوں کو عموماً اور آقاؤں کو خصوصاً کیا گیا ہے کہ جب اس غلام کی آزادی ایک معینہ رقم جمع کر کے آقا کو دینے پر موقوف ہے تو مسلمانوں کو چاہئے کہ اس میں اس کی مدد کریں زکوة کا مال بھی ان کو دے سکتے ہیں اور آقاؤں کو اس کی ترغیب ہے کہ خود بھی ان کی مالی امداد کریں یا بدل کتابت میں سے کچھ کردیں۔ صحابہ کرام کا معمول اسی لئے یہ رہا ہے کہ بدل کتابت میں جو رقم اس پر لگائی جاتی تھی اس میں سے تہائی چوتھائی یا اس سے کم حسب استطاعت کم کردیا کرتے تھے۔ (مظہری) فن معاشیات کا ایک اہم مسئلہ اور اس میں قرآنی فیصلہ آج کل دنیا میں مادہ پرستی کا دور دورہ ہے۔ ساری دنیا معاد و آخرت کو بھلا کر صرف معاش کے جال میں پھنس گئی ہے ان کی علمی تحقیقات اور غور و فکر کا دائرہ صرف معاشیات ہی تک محدود ہو کر رہ گیا ہے اور اس میں بحث و تحقیق کے زور نے ایک ایک معمولی مسئلہ کو ایک مستقل فن بنادیا ہے۔ ان فنون میں سب سے بڑا فن معاشیات کا ہے۔ اس معاملہ میں آج کل عقلاء دنیا کے دو نظریئے زیادہ معروف و مشہور ہیں اور دونوں ہی باہم متصادم ہیں ان کے تصادم نے اقوام دنیا میں تصادم اور جنگ وجدال کے ایسے دروازے کھول دیئے ہیں کہ ساری دنیا امن و اطمینان سے محروم ہوگئی۔ ایک نظام سرمایہ دارانہ نظام ہے جس کو اصطلاح میں کیپٹل ازم کہا جاتا ہے۔ دوسرا نظام اشتراکیت کا ہے جس کو کمیونزم یا سوشل ازم کہا جاتا ہے۔ اتنی بات تو مشاہدہ کی ہے جس کا دونوں نظاموں میں سے کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا کہ اس دنیا میں انسان اپنی محنت اور کوشش سے جو کچھ کماتا اور پیدا کرتا ہے اس سب کی اصل بنیاد قدرتی وسائل پیداوار زمین، پانی اور معاون میں پیدا ہونے والی قدرتی اشیاء پر ہے۔ انسان اپنے غور و فکر اور محنت و مشقت کے ذریعہ انہیں وسائل پیداوار میں جوڑ توڑ اور تحلیل و ترکیب کے ذریعہ اپنی ضرورت کی لاکھوں اشیاء پیدا کرتا اور بناتا ہے۔ عقل کا تقاضا تو یہ تھا کہ یہ دونوں نظام پہلے یہ سوچتے کہ یہ قدرتی وسائل خود تو پیدا نہیں ہوگئے ان کا کوئی پیدا کرنے والا ہے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ ان کا اصل مالک بھی وہی ہوگا جو ان کا پیدا کرنے والا ہے۔ ہم ان وسائل پر قبضہ کرنے اور ان کے مالک بننے یا اسعتمال کرنے میں آزاد نہیں بلکہ اصل مالک و خالق نے اگر کچھ ہدایات دی ہیں تو ان کے تابع چلنا ہمارا فرض ہے۔ مگر مادہ پرستی کے جنون نے ان سبھی کو اصل خالق ومالک کے تصور ہی سے غافل کردیا۔ ان کے نزدیک اب بحث صرف یہ رہ گئی کہ وسائل پیداوار پر قبضہ کر کے ان سے ضروریات زندگی پیدا کرنے والا ان سب چیزوں کا خود بخود آزاد مالک و مختار ہوجاتا ہے، یا یہ سب چیزیں وقف عام اور مشترک ہیں ہر ایک کو ان سے نفع اٹھانے کا یکساں حق حاصل ہے ؟ پہلا نظریہ سرمایہ دارانہ نظام کا ہے جو انسان کو ان چیزوں پر آزاد ملکیت کا حق دیتا ہے کہ جس طرح چاہے اس کو حاصل کرے اور جہاں چاہے اس کو خرچ کرے اس میں اس پر کوئی روک ٹوک برداشت نہیں۔ یہی نظریہ قدیم زمانے کے مشرکین و کفار کا تھا جنہوں نے حضرت شعیب ؑ پر یہ اعتراض کیا تھا کہ یہ مال ہمارے ہیں ہم ان کے مالک ہیں آپ کو کیا حق ہے کہ ہم پر پابندی لگائیں کہ فلاں کام میں خرچ کرنا جائز اور فلاں میں حرام ہے۔ آیت قرآن اَوْ اَنْ نَّفْعَلَ فِيْٓ اَمْوَالِنَا مَا نَشٰۗؤ ُ ا کا یہی مطلب ہے۔ اور دوسرا نظریہ اشتراکیت کا ہے جو کسی کو کسی چیز پر ملکیت کا حق نہیں دیتا بلکہ ہر چیز کو تمام انسانوں میں مشترک اور سب کو اس سے فائدہ اٹھانے کا یکساں حقدار قرار دیتا ہے اور اصل نظریہ اشتراکیت کی بنیاد یہی ہے۔ مگر پھر جب دیکھا کہ یہ ناقابل عمل تصور ہے اس پر کوئی نظام نہیں چلایا جاسکتا تو پھر کچھ اشیاء کو ملکیت کے لئے مستثنی بھی کردیا ہے۔ قرآن کریم نے ان دونوں بیہودہ نظریوں پر رد کر کے اصول یہ بنایا کہ کائنات کی ہر چیز دراصل اللہ تعالیٰ کی ملک ہے جو ان کا خالق ہے۔ پھر اس نے اپنے فضل و کرم سے انسان کو ایک خاص قانون کے تحت ملکیت عطا فرمائی ہے جن چیزوں کا اس قانون کی رو سے وہ مالک بنادیا گیا ہے اس میں دوسروں کے تصرف کو بغیر اس کی اجازت کے حرام قرار دیا مگر مالک بننے کے بعد بھی اس کو آزاد ملکیت نہیں دی کہ جس طرح چاہے کمائے اور جس طرح چاہے خرچ کرے بلکہ دونوں طرف ایک عادلانہ اور حکیمانہ قانون رکھا ہے کہ فلاں طریقہ کمانے کا حلال ہے فلاں حرام اور فلاں جگہ خرچ کرنا حلال ہے اور فلاں حرام اور یہ کہ جو چیز اس کی ملکیت میں دی ہے اس میں کچھ اور لوگوں کے حقوق بھی لگا دیئے ہیں جن کو ادا کرنا اس کی ذمہ داری ہے۔ آیت مذکورہ اگرچہ ایک اور مضمون کے لئے آئی ہے مگر اس کے ضمن میں اسی اہم معاشی مسئلہ کے چند اصول بھی آگئے ہیں، الفاظ آیت پر نظر کیجئے وَّاٰتُوْهُمْ مِّنْ مَّال اللّٰهِ الَّذِيْٓ اٰتٰىكُمْ یعنی دو ان حاجتمند لوگوں کو اللہ کے اس مال میں سے جو اللہ نے تمہیں دے دیا ہے اس میں تین باتیں ثابت ہوئیں۔ اول یہ کہ اصل مالک مال اور ہر چیز کا اللہ تعالیٰ ہے دوسرے یہ کہ اسی نے اپنے فضل سے اس کے ایک حصہ کا تمہیں مالک بنادیا ہے تیسرے یہ کہ جس چیز کا تم کو مالک بنایا ہے اس پر کچھ پابندیاں بھی اس نے لگائی ہیں بعض چیزوں میں خرچ کرنے کو ممنوع قرار دیا اور بعض چیزوں میں خرچ کرنے کو لازم و واجب اور بعض میں مستحب اور افضل قرار دیا ہے۔ واللہ اعلم دوسرا حکم اس آیت میں ایک جاہلیت کی رسم مٹانے اور زنا و فواحش کے انسداد کے لئے یہ دیا گیا ہے وَلَا تُكْرِهُوْا فَتَيٰتِكُمْ عَلَي الْبِغَاۗءِ یعنی اپنی لونڈیوں کو اس پر مجبور نہ کرو کہ وہ زنا کاری کے ذریعہ مال کما کر تمہیں دیا کریں۔ جاہلیت میں بہت سے لوگ لونڈیوں کو اسی کام کے لئے استعمال کرتے تھے۔ اسلام نے جب زنا پر سخت سزائیں جاری کیں، آزاد اور غلام سب کو اس کا پابند کیا تو ضروری تھا کہ جاہلیت کی اس رسم کو مٹانے کے لئے خاص احکام دے۔ اِنْ اَرَدْنَ تَحَصُّنًا، یعنی جبکہ وہ لونڈیاں زنا سے بچنے اور پاکدامن رہنے کا ارادہ کریں تو تمہارا ان کو مجبور کرنا بڑی بےحیائی اور بےغیرتی کی بات ہے۔ یہ الفاظ اگرچہ بصورت شرط آئے ہیں مگر باجماع امت درحقیقت مراد ان سے شرط نہیں کہ لونڈیاں زنا سے بچنا چاہیں تو ان کو زنا پر مجبور نہ کیا جائے ورنہ مجبور کرنا جائز ہے بلکہ بتلانا یہ ہے کہ عام عرف و عادت کے اعتبار سے لونڈیوں میں حیا اور پاکدامنی زمانہ جاہلیت میں نابود تھی۔ اسلام کے احکام کے بعد انہوں نے توبہ کی۔ ان کے آقاؤں نے مجبور کرنا چاہا تو اس پر یہ احکام آئے کہ جب وہ زنا سے بچنا چاہتی ہیں تو تم مجبور نہ کرو۔ اس میں ان کے آقاؤں کو زجر و تنبیہ اور تشنیع کرنا ہے کہ بڑی بےغیرتی اور بےحیائی کی بات ہے کہ لونڈیاں تو پاک رہنے کا ارادہ کریں اور تم انہیں زنا پر مجبور کرو۔ فَاِنَّ اللّٰهَ مِنْۢ بَعْدِ اِكْرَاهِهِنَّ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ، اس جملہ کا حاصل یہ ہے کہ لونڈیوں کو زنا پر مجبور کرنا حرام ہے۔ اگر کسی نے ایسا کیا اور وہ آقا کے جبر واکراہ سے مغلوب ہو کر زنا میں مبتلا ہوگئی تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہ کو معاف فرما دیں گے اور اس کا سارا گناہ مجبور کرنے والے پر ہوگا۔ (مظہری) واللہ اعلم
Ayah 24:34

وَ لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ اٰیٰتٍ مُّبَیِّنٰتٍ وَّ مَثَلًا مِّنَ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ وَ مَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِیْنَ۠ Open ayah 24:34 in the Quran reader

اور ہم نے اتاریں تمہاری طرف آیتیں کھلی ہوئی اور کچھ حال ان کا جو ہوچکے تم سے پہلے اور نصیحت ڈرنے والوں کو

خلاصہ تفسیر اور ہم نے (تم لوگوں کی ہدایت کے واسطے اس سورت میں یا قرآن میں رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ سے) تمہارے پاس کھلے کھلے احکام (علمیہ و عملیہ) بھیجے ہیں اور جو لوگ تم سے پہلے گزرے ہیں ان کی (یا ان جیسے لوگوں کی) بعض حکایات اور (خدا سے) ڈرنے والوں کے لئے نصیحت کی باتیں (بھیجی ہیں) اللہ تعالیٰ نور (ہدایت) دینے والا ہے آسمانوں (میں رہنے والوں) کا اور زمین (میں رہنے والوں) کا (یعنی اہل آسمان و زمین میں جن کو ہدایت ہوئی ہے ان سب کو اللہ ہی نے ہدایت دی ہے اور مراد آسمان و زمین سے کل عالم ہے پس جو مخلوقات آسمان و زمین سے باہر ہے وہ بھی داخل ہوگئی جیسے حاملان عرش) اس کے نور (ہدایت) کی حالت عجیبہ ایسی ہے جیسے (فرض کرو) ایک طاق ہے (اور) اس میں ایک چراغ (رکھا) ہے (اور) وہ چراغ (خود طاق میں نہیں رکھا بلکہ) ایک قندیل میں ہے (اور قندیل طاق میں رکھا ہے اور) وہ قندیل ایسا (صاف شفاف ہے جیسا کہ ایک چمکدار ستارہ ہو (اور) وہ چراغ ایک نہایت مفید درخت (کے تیل) سے روشن کیا جاتا ہے جو زیتون (کا درخت) ہے جو (کسی آڑ کے) نہ پورب رخ ہے اور نہ (کسی آڑ کے) پچھم رخ ہے۔ (یعنی نہ اس کی جانب مشرقی میں کسی درخت یا پہاڑ کی آڑ ہے کہ شروع دن میں اس پر دھوپ نہ پڑے اور نہ اس کی جانب غربی میں کوئی آڑ پہاڑ ہے کہ آخر دن میں اس پر دھوپ نہ پڑے بلکہ کھلے میدان میں ہے جہاں تمام دن دھوپ رہتی ہے ایسے درخت کا روغن بہت لطیف اور صاف اور روشن ہوتا ہے اور) اس کا تیل (اس قدر صاف اور سلگنے والا ہے کہ) اگر اس کو آگ بھی نہ چھوئے تاہم ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خود بخود جل اٹھے گا (اور جب آگ بھی لگ گئی تب تو) نُوْرٌ عَلٰي نُوْرٍ ہے (یعنی ایک تو اس میں خود قابلیت نور کی اعلی درجہ کی تھی پھر اوپر سے فاعل یعنی آگ کے ساتھ اجتماع ہوگیا اور پھر اجتماع بھی ان کیفیات کے ساتھ کہ چراغ قندیل میں رکھا ہو جس سے بالمشاہدہ چمک بڑھ جاتی ہے اور پھر وہ ایسے طاق میں رکھا ہو جو ایک طرف سے بند ہو ایسے موقع پر شعاعیں ایک جگہ سمٹ کر بہت تیز روشنی ہوتی ہے اور پھر تیل بھی زیتون کا جو صاف روشنی اور دھواں کم ہونے میں مشہور ہے تو اس قدر تیز روشنی ہوگی جیسے بہت سی روشنیاں جمع ہوگئی ہوں اس کو نُوْرٌ عَلٰي نُوْرٍ فرمایا۔ یہاں مثال ختم ہوگئی پس اسی طرح مومن کے قلب میں اللہ تعالیٰ جب نور ہدایت ڈالتا ہے تو روز بروز اسی کا انشراح قبول حق کے لئے بڑھتا چلا جاتا ہے اور ہر وقت احکام پر عمل کرنے کے لئے تیار رہتا ہے۔ گو بالفعل بعض احکام کا علم بھی نہ ہوا ہو کیونکہ علم تدریجاً حاصل ہوتا ہے جیسے وہ روغن زیتون آگ لگنے سے پہلے ہی روشنی کے لئے مستعد تھا، مومن بھی علم احکام سے پہلے ہی ان پر عمل کے لئے مستعد ہوتا ہے اور جب اس کو علم حاصل ہوتا ہے تو نور عمل یعنی عمل کے پختہ ارادہ کے ساتھ نور علم بھی مل جاتا ہے جس سے وہ فوراً ہی قبول کرلیتا ہے پس عمل و علم جمع ہو کر نُوْرٌ عَلٰي نُوْرٍ صادق آجاتا ہے اور یہ نہیں ہوتا کہ علم احکام کے بعد اس کو کچھ تامل و تردد ہو کہ اگر موافق نفس کے پایا تو قبول کرلیا ورنہ رد کردیا۔ اسی انشراح اور نور کو دوسری آیت میں اس طرح بیان فرمایا ہے۔ اَفَمَنْ شَرَحَ اللّٰهُ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ فَهُوَ عَلٰي نُوْرٍ مِّنْ رَّبِّهٖ یعنی جس شخص کا سینہ اللہ نے اسلام کے لئے کھول دیا تو وہ اپنے رب کی طرف سے ایک نور پر ہوتا ہے اور ایک جگہ فرمایا فَمَنْ يُّرِدِ اللّٰهُ اَنْ يَّهدِيَهٗ يَشْرَحْ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ۔ غرض نور ہدایت الہیہ کی یہ مثال ہے اور) اللہ تعالیٰ اپنے (اس) نور (ہدایت) تک جس کو چاہتا ہے راہ دیتا ہے (اور پہنچا دیتا ہے) اور (ہدایت کی جو یہ مثال دی گئی اسی طرح قرآن میں بہت سی مثالیں بیان کی گئی ہیں تو اس سے بھی لوگوں کی ہدایت ہی مقصود ہے اس لئے) اللہ تعالیٰ لوگوں (کی ہدایت) کے لئے (یہ مثالیں بیان فرماتا ہے (تاکہ مضامین عقلیہ محسوس چیزوں کی طرح قریب الی الفہم ہوجاویں) اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے (اس لئے جو مثال افادہ مقصود کے لئے کافی ہو اور جس میں اغراض مثال کے پورے مرعی ہوں اسی کو اختیار کرتا ہے۔ مطلب یہ کہ اللہ تعالیٰ مثالیں بیان کرتا ہے اور وہ مثال نہایت مناسب ہوتی ہے تاکہ خوب ہدایت ہو۔ آگے اہل ہدایت کا حال بیان فرماتے ہیں کہ) وہ ایسے گھروں میں (جاکر عبادت کرتے) ہیں جن کی نسبت اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ ان کا ادب کیا جاوے اور ان میں اللہ کا نام لیا جاوے (مراد ان گھروں سے مسجدیں ہیں اور ان کا ادب یہ کہ ان میں جنب و حائض داخل نہ ہوں اور ان میں کوئی نجس چیز داخل نہ کی جاوے۔ وہاں غل نہ مچایا جاوے۔ دنیا کے کام اور باتیں کرنے کے لئے وہاں نہ بیٹھیں۔ بدبو کی چیز کھا کر ان میں نہ جاویں وغیرہ ذلک، غرض) ان (مسجدوں) میں ایسے لوگ صبح و شام اللہ کی پاکی (نمازوں میں) بیان کرتے ہیں جن کو اللہ کی یاد (یعنی بجا آوری احکام) سے (جس وقت کے متعلق جو حکم ہو) اور (بالخصوص) نماز پڑھنے سے اور زکوة دینے سے (کہ یہ احکام فرعیہ میں سب سے اہم ہیں) نہ خرید غفلت میں ڈالنے پاتی ہے اور نہ فروخت (اور باوجود اطاعت و عبادت کے ان کی خشیت کا یہ حال ہے کہ) وہ ایسے دن (کی دارو گیر) سے ڈرتے رہتے ہیں جس میں بہت سے دل اور آنکھیں الٹ جاویں گی (جیسا دوسری آیت میں ہے يُؤ ْتُوْنَ مَآ اٰتَوْا وَّقُلُوْبُهُمْ وَجِلَةٌ اَنَّهُمْ اِلٰى رَبِّهِمْ رٰجِعُوْنَ یعنی یہ لوگ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اور اس کے باوجود ان کے دل قیامت کی باز پرس سے ڈرتے رہتے ہیں اور مقصود اس سے اہل نور ہدایت کے اوصاف و اعمال کا بیان فرمانا ہے اور آگے ان کے انجام کا ذکر ہے کہ) انجام (ان لوگوں کا) یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ ان کو ان کے اعمال کا بہت ہی اچھا بدلہ دے گا (یعنی جنت) اور (علاوہ جزا کے) ان کو اپنے فضل سے اور بھی زیادہ دے گا (جزا وہ جس کا وعد مفصل مذکور ہے اور زیادہ وہ جس کا مفصل وعدہ نہیں گو مجمل عنوانوں سے ہوا ہو۔) اور اللہ تعالیٰ جس کو چاہے بیشمار (یعنی بہت کثرت سے) دے دیتا ہے (پس ان لوگوں کو جنت میں اسی طرح بیشمار دے گا۔ یہاں تک تو ہدایت اور اہل ہدایت کا بیان تھا آگے ضلالت اور اہل ضلالت کا ذکر ہے یعنی) اور جو لوگ کافر (اور اہل ضلال اور نور ہدایت سے دور) ہیں ان کے اعمال (بوجہ کافروں کی دو قسمیں ہونے کے دو مثالوں کے مشابہ ہیں کیونکہ ایک قسم تو وہ کفار ہیں جو آخرت اور قیامت کے قائل ہیں اور اپنے بعض اعمال پر یعنی جو ان کے گمان کے مطابق کار ثواب اور حسنات ہیں توقع جزائے آخرت کی رکھتے ہیں اور دوسری قسم وہ کفار ہیں جو آخرت اور قیامت کے منکر ہیں۔ قسم اول کفار کے اعمال تو) ایسے ہیں جیسے ایک چٹیل میدان میں چمکتا ہوا ریت کہ پیاسا (آدمی) اس کو (دور سے) پانی خیال کرتا ہے (اور اس کی طرف دڑوتا ہے) یہاں تک کہ جب اس کے پاس آیا تو اس کو (جو سمجھ رکھا تھا) کچھ بھی نہ پایا اور (غایت پیاس، پھر نہایت یاس سے جو جسمانی اور روحانی صدمہ پہنچا اور اس سے تڑپ تڑپ کر مرگیا تو یوں کہنا چاہئے کہ بجائے پانی کے) قضاء الٰہی یعنی موت کو پایا سو اللہ تعالیٰ نے اس (کی عمر) کا حساب اس کو برابر سرابر چکا دیا (اور بیباق کردیا یعنی عمر کا خاتمہ کردیا) اور اللہ تعالیٰ (جس چیز کی میعاد آجاتی ہے اس کا) دم بھر میں حساب (فیصل) کردیتا ہے (اس کو کچھ بکھیڑا نہیں کرنا پڑتا کہ دیر لگے اور میعاد سے کچھ بھی توقف ہوجاوے بس یہ مضمون ایسا ہے جیسا دوسری جگہ ارشاد ہے اِنَّ اَجَلَ اللّٰهِ اِذَا جَاۗءَ لَا يُؤ َخَّرُ وقولہ وَلَنْ يُّؤ َخِّرَ اللّٰهُ نَفْسًا اِذَا جَاۗءَ اَجَلُهَا حاصل اس مثال کا یہ ہوا کہ جیسے پیاسا ریت کو ظاہری چمک سے پانی سمجھا اسی طرح یہ کافر اپنے اعمال کو ظاہری صورت سے مقبول اور مثمر نافع آخرت سمجھا اور جیسا وہ پانی نہیں اسی طرح یہ اعمال شرط قبول یعنی ایمان نہ ہونے کے سبب مقبول اور نافع نہیں ہیں اور جب وہاں جا کر اس پیاسے کو حقیقت معلوم ہوئی اسی طرح اس کو آخرت میں پہنچ کر حقیقت معلوم ہوگی اور جس طرح یہ پیاسا اپنی توقع کے غلط ہونے سے حسرت و افسوس میں خائب ہو کر مر گیا اسی طرح یہ کافر بھی اپنی توقع کے غلط ہونے پر اس وقت حسرت میں اور ہلاکت ابدی یعنی عقاب جہنم میں مبتلا ہوگا۔ ایک قسم کی مثال تو یہ ہوئی۔ آگے دوسری قسم کے کافروں کے اعمال کی مثال ہے یعنی) یا وہ (اعمال باعتبار خصوصیت منکرین قیامت کے) ایسے ہیں جیسے بڑے گہرے سمندر کے اندرونی اندھیرے (جن کا ایک سبب دریا کی گہرائی ہے اور پھر یہ) کہ اس (سمندر کے اصلی سطح) کو ایک بڑی موج نے ڈھانک لیا ہو (پھر وہ موج بھی اکیلی نہیں بلکہ) اس (موج) کے اوپر دوسری موج (ہو پھر) اس کے اوپر بادل (ہو جس سے ستارہ وغیرہ کی روشنی بھی نہ پہنچتی ہو غرض) اوپر تلے بہت سے اندھیرے (ہی اندھیرے) ہیں کہ اگر (ایسی حالت میں کوئی آدمی دریا کی تہہ میں) اپنا ہاتھ نکالے (اور اس کو دیکھنا چاہے) تو (دیکھنا تو درکنار) دیکھنے کا احتمال بھی نہیں (اس مثال کا حاصل یہ ہے کہ ایسے کافر جو آخرت اور قیامت کے اور اس میں جزاء و سزا ہی کے منکر ہیں ان کے پاس وہمی نور بھی نہیں جیسے قسم اول کے کافروں کے پاس ایک وہمی اور خیالی نور تھا کیونکہ انہوں نے بعض نیک اعمال کو اپنی آخرت کا سامان سمجھا تھا مگر وہ شرط ایمان نہ ہونے کے سبب حقیقی نور نہ تھا ایک وہمی نور تھا۔ یہ لوگ جو منکر آخرت ہیں انہوں نے اپنے اعتقاد و خیال کے مطابق بھی کوئی کام آخرت کے لئے کیا ہی نہیں جس کے نور کا ان کو وہم و خیال ہو۔ غرض ان کے پاس ظملت ہی ظلمت ہے نور کا وہم و خیال بھی نہیں ہوسکتا جیسا کہ تہہ دریا کی مثال میں ہے اور نظر نہ آنے میں ہاتھ کی تخصیص شاید اس لئے کہ انسانی اعضاء وجوارح میں ہاتھ نزدیک تر ہے پھر اس کو جتنا نزدیک کرنا چاہو نزدیک آجاتا ہے اور جب ہاتھ ہی نظر نہ آیا تو دوسرے اعضاء کا معاملہ ظاہر ہے) اور (آگے ان کفار کے اندھیرے میں ہونے کی وجہ یہ بیان فرمائی ہے کہ) جس کو اللہ ہی نور (ہدایت) نہ دے اس کو (کہیں سے بھی) نور نہیں (میسر آسکتا)
Ayah 24:35

اَللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ مَثَلُ نُوْرِهٖ كَمِشْكٰوةٍ فِیْهَا مِصْبَاحٌ١ؕ اَلْمِصْبَاحُ فِیْ زُجَاجَةٍ١ؕ اَلزُّجَاجَةُ كَاَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّیٌّ یُّوْقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُّبٰرَكَةٍ زَیْتُوْنَةٍ لَّا شَرْقِیَّةٍ وَّ لَا غَرْبِیَّةٍ١ۙ یَّكَادُ زَیْتُهَا یُضِیْٓءُ وَ لَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ١ؕ نُوْرٌ عَلٰى نُوْرٍ١ؕ یَهْدِی اللّٰهُ لِنُوْرِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌۙ Open ayah 24:35 in the Quran reader

اللہ روشنی ہے آسمانوں کی اور زمین کی مثال اس کی روشنی کی جیسے ایک طاق اس میں ہو ایک چراغ وہ چراغ دھرا ہو ایک شیشہ میں وہ شیشہ ہے جیسے ایک تارہ چمکتا ہوا تیل جلتا ہے اس میں ایک برکت کے درخت کا وہ زیتون ہے نہ مشرق کی طرف ہے اور نہ مغرب کی طرف، قریب ہے اس کا تیل کہ روشن ہوجائے، اگرچہ نہ لگی ہو اس میں آگ روشنی پر روشنی اللہ راہ دکھلا دیتا ہے اپنی روشنی کی جس کو چاہے، اور بیان کرتا ہے اللہ مثالیں لوگوں کے واسطے اور اللہ سب چیز کو جانتا ہے

معارف و مسائل آیت مذکورہ کو اہل علم آیت نور لکھتے ہیں کیونکہ اس میں نور ایمان اور ظلمت کفر کو بڑی تفصیلی مثال سے سمجھایا گیا۔ نور کی تعریف امام غزالی نے یہ فرمائی الظاہر بنفسہ والمظھر لغیرہ، یعنی خود اپنی ذات سے ظاہر اور روشن ہو اور دوسری چیزوں کو ظاہر و روشن کرنے والا ہو۔ اور تفسیر مظہری میں ہے کہ نور دراصل اس کی کیفیت کا نام ہے جس کو انسان کی قوت باصرہ پہلے ادراک کرتی ہے اور پھر اس کے ذریعہ ان تمام چیزوں کا ادراک کرتی ہے جو آنکھ سے دیکھی جاتی ہیں جیسے آفتاب اور چاند کی شعاعیں ان کے مقابل اجسام کثیفہ پر پڑ کر اول اس چیز کو روشن کردیتی ہیں پھر اس سے شعاعیں منعکس ہو کر دوسری چیزوں کو روشن کرتی ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ لفظ نور کا اپنے لغوی اور عرفی معنے کے اعتبار سے حق تعالیٰ جل شانہ کی ذات پر اطلاق نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ جسم اور جسمانیات سب سے بری اور وراء الوری ہے اس لئے آیت مذکورہ میں جو حق تعالیٰ کے لئے لفظ نور کا اطلاق ہوا ہے اس کے معنے باتفاق ائمہ تفسیر منور یعنی روشن کرنے والے کے ہیں یا پھر صیغہ مبالغہ کی طرح صاحب نور کو نور سے تعبیر کردیا گیا جیسے صاحب کرم کو کرم اور صاحب عدل کو عدل کہہ دیا جاتا ہے۔ اور معنے آیت کے وہ ہیں جو خلاصہ تفسیر میں آپ پڑھ چکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نور بخشنے والے ہیں آسمان و زمین کو اور اس میں بسنے والی سب مخلوق کو اور مراد اس نور سے نور ہدایت ہے۔ ابن کثیر نے حضرت ابن عباس سے اس کی تفسیر میں نقل کیا ہے۔ اللہ ھادی اھل السموات والارض۔ نور مومن مَثَلُ نُوْرِهٖ كَمِشْكٰوةٍ الایتہ اللہ تعالیٰ کا نور ہدایت جو مومن کے قلب میں آتا ہے۔ یہ اس کی ایک عجیب مثال ہے جیسا کہ ابن جریر نے حضرت ابی بن کعب سے اس کی تفسیر میں نقل کیا ہے ھو المومن الذی جعل اللہ الایمان والقران فی صدرہ فضرب اللہ مثلہ فقال اللہ نور السموت والارض فبداء بنور نفسہ ثم ذکر نور للمومن فقال مثل نور من اٰمن بہ فکان ابی بن کعب یقراءھا مثل نور من امن بہ (ابن کثیر) یعنی یہ مثال اس مومن کی ہے جس کے دل میں اللہ تعالیٰ نے ایمان اور قرآن کا نور ہدایت ڈال دیا ہے اس آیت میں پہلے تو اللہ تعالیٰ نے خود اپنے نور کا ذکر فرمایا اللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ پھر قلب مومن کے نور کا ذکر فرمایا مَثَلُ نُوْرِهٖ اور اس آیت کی قرات بھی حضرت ابی ابن کعب کی مثل نورہ کے بجائے مثل نور من امن بہ کی ہے اور سعید بن جبیر نے یہی قراءت اور آیت کا یہی مفہوم حضرت ابن عباس سے بھی روایت کیا ہے ابن کثیر نے یہ روایات نقل کرنے کے بعد لکھا ہے کہ مثل نورہ کی ضمیر کے متعلق ائمہ تفسیر کے دو قول ہیں ایک یہ کہ یہ ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف راجع ہے اور معنی آیت کے یہ ہیں کہ اللہ کا نور ہدایت جو مومن کے قلب میں فطرة رکھا گیا ہے اس کی مثال یہ ہے كَمِشْكٰوةٍ الخ یہ قول حضرت ابن عباس کا ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ ضمیر ہی مومن کی طرف راجع ہو جس پر سیاق کلام دلالت کر رہا ہے۔ اس لئے حاصل اس مثال کا یہ ہے کہ مومن کا سینہ ایک طاق کی مثال ہے اس میں اس کا دل ایک قندیل کی مثال ہے اس میں نہایت شفاف روغن زیتون فطری نور ہدایت کی مثال ہے جو مومن کی فطرت میں ودیعت رکھا گیا ہے۔ جس کا خاصہ خود بخود بھی قبول حق کا ہے پھر جس طرح روغن زیتون آگ کے شعلہ سے روشن ہو کر دوسروں کو روشن کرنے لگتا ہے اسی طرح فطری نور ہدایت جو قلب مومن میں رکھا گیا ہے جب وحی الٰہی اور علم الٰہی کے ساتھ اس کا اتصال ہوجاتا ہے تو روشن ہو کر عالم کو روشن کرنے لگتا ہے اور حضرات صحابہ و تابعیین نے جو اس مثال کو قلب مومن کے ساتھ مخصوص فرمایا وہ بھی غالباً اس لئے ہے کہ فائدہ اس نور کا صرف مومن ہی اٹھاتا ہے۔ ورنہ وہ فطری نور ہدایت جو ابتداء تخلیق کے وقت انسان کے قلب میں رکھا جاتا ہے وہ مومن کے ساتھ ہی مخصوص نہیں بلکہ ہر انسان کی فطرت اور جبلت میں وہ نور ہدایت رکھا جائے اسی کا یہ اثر دنیا کی ہر قوم ہر خطہ ہر مذہب و مشرب کے لوگوں میں مشاہدہ کیا جاتا ہے کہ وہ خدا کے وجود کو اور اس کی عظیم قدرت کو فطرة مانتا ہے اس کی طرف رجوع کرتا ہے اس کے تصور اور تعبیر میں خواہ کیسی ہی غلطیاں کرتا ہو مگر اللہ تعالیٰ کے نفس و وجود کا ہر انسان فطرة قائل ہوتا ہے بجز چند مادہ پرست افراد کے جن کی فطرت مسخ ہوگئی ہے کہ وہ خدا ہی کے وجود کے منکر ہیں۔ ایک صحیح حدیث سے اس عموم کی تائید ہوتی ہے جس میں یہ ارشاد ہے کل مولود یولد علی الفطرة یعنی ہر پیدا ہونے والا بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ اس کو فطرت کے تقاضوں سے ہٹا کر غلط راستوں پر ڈال دیتے ہیں۔ اس فطرت سے مراد ہدایت ایمان ہے۔ یہ ہدایت ایمان اور اس کا نور ہر انسان کی پیدائش کے وقت اس میں رکھا جاتا ہے اور اسی نور ہدایت کی وجہ سے اس میں قبول حق کی صلاحیت ہوتی ہے۔ جب انبیاء اور ان کے نائبوں کے ذریعے وحی الٰہی کا علم ان کو پہنچتا ہے تو وہ اس کو بسہولت قبول کرلیتے ہیں بجز ان ممسوخ الفطرت لوگوں کے جنہوں نے اس فطری نور کو اپنی حرکتوں سے مٹا ہی ڈالا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اس آیت کے شروع میں تو عطاء نور کو عام بیان فرمایا ہے جو تمام آسمان والوں اور زمین والوں کو شامل ہے مومن کافر کی بھی کوئی تخصیص نہیں اور آخر آیت میں یہ فرمایا يَهْدِي اللّٰهُ لِنُوْرِهٖ مَنْ يَّشَاۗءُ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے نور کی طرف جس کو چاہتا ہے ہدایت کردیتا ہے یہاں مشیت الہی کی قید اس نور فطرت کے لئے نہیں جو ہر انسان میں رکھا ہے بلکہ نور قرآن کے لئے جو ہر شخص کو حاصل نہیں ہوتا بجز اس خوش نصیب کے جس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے توفیق نصیب ہو۔ ورنہ انسان کی کوشش بھی بلا توفیق الہی بیکار بلکہ بعض اوقات مضر بھی پڑجاتی ہے۔ اذالم یکن عون من اللہ للفتی فاول مایجنی علیہ اجتھادہ یعنی اگر اللہ کی طرف سے بندہ کی مدد نہ ہو تو اس کی کوشش ہی اس کو الٹا نقصان پہنچا دیتی ہے۔ نور نبی کریم ﷺ اور امام بغوی نے ایک روایت نقل کی ہے کہ حضرت ابن عباس نے کعب احبار سے پوچھا کہ اس آیت کی تفسیر میں آپ کیا کہتے ہیں مَثَلُ نُوْرِهٖ كَمِشْكٰوةٍ الآیتہ کعب احبار جو تورات و انجیل کے بڑے عالم مسلمان تھے انہوں نے فرمایا کہ یہ مثال رسول اللہ ﷺ کے قلب مبارک کی بیان کی گئی ہے۔ مشکوة آپ کا سینہ اور زجاجہ (قندیل) آپ کا قلب مبارک، اور مصباح (چراغ) نبوت ہے اور اس نور نبوت کا خاصہ یہ ہے کہ نبوت کے اظہار و اعلان سے پہلے ہی اس میں لوگوں کے لئے روشنی کا سامان ہے پھر وحی الہی اور اس کے اعلان کا اس کے ساتھ اتصال ہوجاتا ہے تو یہ ایسا نور ہوتا ہے کہ سارے عالم کو روشن کرنے لگتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کے اظہار نبوت و بعثت بلکہ آپ کی پیدائش سے بھی پہلے جو بہت سے عجیب و غریب واقعات عالم میں ایسے پیش آئے جو آپ کی نبوت کی بشارت دینے والے تھے جن کو اصطلاح محدثین میں ارہاصات کہا جاتا ہے کیونکہ معجزات کا لفظ تو اس قسم کے ان واقعات کے لئے مخصوص ہے جو دعوائی نبوت کی تصدیق کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی پیغمبر کے ہاتھ پر جاری کئے جاتے ہیں۔ اور دعوائی نبوت سے پہلے جو اس قسم کے واقعات دنیا میں ظاہر ہوں ان کو ارہاصات کا نام دیا جاتا ہے۔ اس طرح کے بہت سے واقعات عجیبیہ صحیح روایات سے ثابت ہیں جن کو شیخ جلال الدین سیوطی رحمتہ اللہ نے خصائص کبری میں اور ابو نعیم نے دلائل النبوة میں اور دوسرے علماء نے بھی اپنی مستقل کتابوں میں جمع کردیا ہے۔ اس کا ایک کافی حصہ اس جگہ تفسیر مظہری میں بھی نقل کردیا ہے۔ روغن زیتون کی برکات شَجَرَةٍ مُّبٰرَكَةٍ زَيْتُوْنَةٍ اس سے زیتون اور اس کے درخت کا مبارک اور نافع و مفید ہونا ثابت ہوتا ہے۔ علماء نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس میں بیشمار منافع اور فوائد رکھے ہیں اس کو چراغوں میں روشنی کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے اور اس کی روشنی ہر تیل کی روشنی سے زیادہ صاف شفاف ہوتی ہے اس کو روٹی کے ساتھ سالن کی جگہ بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے پھل کو بطور تفکہ کے کھایا بھی جاتا ہے اور یہ ایسا تیل ہے جس کے نکالنے کے لئے کسی مشین یا چرخی وغیرہ کی ضرورت نہیں خود بخود اس کے پھل سے نکل آتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ روغن زیتون کو کھاؤ بھی اور بدن پر مالش بھی کرو کیونکہ یہ شجرہ مبارکہ ہے۔ (رواہ البغوی والترمذی عن عمر مرفوعاً مظہری)
Ayah 24:36

فِیْ بُیُوْتٍ اَذِنَ اللّٰهُ اَنْ تُرْفَعَ وَ یُذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ١ۙ یُسَبِّحُ لَهٗ فِیْهَا بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِۙ Open ayah 24:36 in the Quran reader

ان گھروں میں کہ اللہ نے حکم دیا ان کو بلند کرنے کا اور وہاں اس کا نام پڑھنے کا یاد کرتے ہیں اس کی وہاں صبح اور شام

فِيْ بُيُوْتٍ اَذِنَ اللّٰهُ اَنْ تُرْفَعَ وَيُذْكَرَ فِيْهَا اسْمُهٗ ۙ يُسَبِّحُ لَهٗ فِيْهَا بالْغُدُوِّ وَالْاٰصَال الآیة سابقہ آیت میں حق تعالیٰ نے قلب مومن میں اپنا نور ہدایت ڈال دینے کی ایک خاص مثال بیان فرمائی تھی اور آخر میں یہ فرمایا تھا کہ اس نور سے فائدہ وہ ہی لوگ اٹھاتے ہیں جن کو اللہ چاہتا اور توفیق دیتا ہے۔ اس آیت میں ایسے مومنین کا مستقر اور محل بیان فرمایا گیا کہ ایسے مومنین کا اصل مقام و مستقر جہاں وہ اکثر اوقات خصوصاً پانچ نمازوں کے اوقات میں دیکھے جاتے ہیں وہ بیوت یعنی مکانات ہیں جن کے لئے اللہ تعالیٰ کا حکم یہ ہے کہ ان کو بلند وبالا رکھا جائے اور ان میں اللہ کا نام ذکر کیا جائے اور ان بیوت و مکانات کی شان یہ ہے کہ ان میں اللہ کے نام کی تسبیح و تقدیس صبح شام یعنی تمام اوقات میں ایسے لوگ کرتے رہتے ہیں جن کی خاص صفات کا بیان آگے آتا ہے۔ اس تقریر کی بناء اس پر ہے کہ نحوی ترکیب میں فِيْ بُيُوْتٍ کا تعلق آیت کے جملہ يَهْدِي اللّٰهُ لِنُوْرِهٖ کے ساتھ ہو (کما یستفاد من ابن کثیر وغیرہ من المفسرین) بعض حضرات نے اس کا تعلق لفظ یسبح محذوف کے ساتھ کیا ہے جس پر آگے آنے والا لفظ یسبح دلالت کرتا ہے مگر پہلا احتمال نسق کلام کے اعتبار سے بہتر معلوم ہوتا ہے اور مطلب آیت کا یہ ہوگا کہ مثال سابق میں اللہ تعالیٰ کے جس نور ہدایت کا ذکر ہوا ہے اس کے ملنے کی جگہ وہ بیوت و مکانات ہیں جہاں صبح شام اللہ کا نام لیا جاتا ہے۔ جمہور مفسرین کے نزدیک ان بیوت سے مراد مساجد ہیں۔ مساجد اللہ کے گھر ہیں ان کی تعظیم واجب ہے قرطبی نے اسی کو ترجیح دی اور استدلال میں حضرت انس کی یہ حدیث پیش کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ من احب اللہ عزوجل فلیحبنی ومن احبنی فلیحب اصحابی ومن احب اصحابی فلیحب القران ومن احب القران فلیحب المساجد فانھا افنیۃ اللہ اذن اللہ فی رفعھا وبارک فیھا میمونۃ میمون اھلھا محفوظۃ محفوظ اھلھاھم فی صلاتھم واللہ عزوجل فی حوائجھم ھم فی المساجد واللہ من ورائھم (قرطبی) جو شخص اللہ تعالیٰ سے محبت رکھنا چاہتا ہے اس کو چاہئے کہ مجھ سے محبت کرے اور جو مجھ سے محبت رکھنا چاہے اس کو چاہئے کہ میرے صحابہ سے محبت کرے اور جو صحابہ سے محبت رکھنا چاہے اس کو چاہئے کہ قرآن سے محبت کرے اور جو قرآن سے محبت رکھنا چاہے اس کو چاہئے کہ مسجدوں سے محبت کرے کیونکہ وہ اللہ کے گھر ہیں، اللہ نے ان کی تعظیم کا حکم دیا ہے اور ان میں برکت رکھی ہے وہ بھی بابرکت ہیں اور ان کے رہنے والے بھی بابرکت۔ وہ بھی اللہ کی حفاظت میں ہیں اور ان کے رہنے والے بھی حفاظت میں۔ وہ لوگ اپنی نمازوں میں مشغول ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے کام بناتے اور حاجتیں پوری کرتے ہیں وہ مسجدوں میں ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کے پیچھے ان کی چیزوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ (قرطبی) رفع مساجد کے معنے اَذِنَ اللّٰهُ اَنْ تُرْفَعَ ، اَذِنَ اذن سے مشتق ہے جس کے معنی اجازت دینے کے ہیں اور ترفع، رفع سے مشتق ہے جس کے معنے بلند کرنے اور تعظیم کرنے کے ہیں۔ معنی آیت کے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اجازت دی ہے مسجدوں کو بلند کرنے کی۔ اجازت دینے سے مراد اس کا حکم کرنا ہے اور بلند کرنے سے مراد ان کی تعظیم کرنا۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ بلند کرنے کے حکم میں اللہ تعالیٰ نے مسجدوں میں لغو کام کرنے اور لغو کلام کرنے سے منع فرمایا ہے۔ (ابن کثیر) عکرمہ و مجاہد امام تفسیر نے فرمایا کہ رفع سے مراد مسجد کا بنانا ہے جسے بناء کعبہ کے متعلق قرآن میں آیا ہے وَاِذْ يَرْفَعُ اِبْرٰھٖمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ کہ اس میں رفع قواعد سے مراد بناء قواعد ہے، اور حضرت حسن بصری نے فرمایا کہ رفع مساجد سے مراد مساجد کی تعظیم و احترام اور ان کو نجاستوں اور گندی چیزوں سے پاک رکھنا ہے جیسا کہ حدیث میں آیا ہے کہ مسجد میں جب کوئی نجاست لائی جاوے تو مسجد اس سے اس طرح سمٹتی ہے جیسے انسان کی کھال آگ سے۔ حضرت ابوسعید خدری فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص نے مسجد میں سے ناپاکی اور گندگی اور ایذا کی چیز کو نکال دیا اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں گھر بنادیں گے رواہ ابن ماجہ۔ اور حضرت صدیقہ عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اپنے گھروں میں (بھی) مسجدیں (یعنی نماز پڑھنے کی مخصوص جگہیں) بنائیں اور ان کو پاک صاف رکھنے کا اہتمام کریں۔ (قرطبی) اور اصل بات یہ ہے کہ لفظ ترفع میں مسجدوں کا بنانا بھی داخل ہے اور ان کی تعظیم و تکریم اور پاک صاف رکھنا بھی۔ پاک صاف رکھنے میں یہ بھی داخل ہے کہ ہر نجاست اور گندگی سے پاک رکھیں اور یہ بھی داخل ہے کہ ان کو ہر بدبو کی چیز سے پاک رکھیں۔ اسی لئے رسول اللہ ﷺ نے لہسن یا پیاز کھا کر بغیر منہ صاف کئے ہوئے مسجد میں آنے سے منع فرمایا ہے جو عام کتب حدیث میں معروف ہے۔ سگرٹ، حقہ، پان کا تمباکو کھا کر مسجد میں جانا بھی اسی حکم میں ہے۔ مسجد میں مٹی کا تیل جلانا جس میں بدبو ہوتی ہے وہ بھی اسی حکم میں ہے۔ صحیح مسلم میں حضرت فاروق اعظم سے روایت ہے فرمایا کہ میں نے دیکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ جس شخص کے منہ سے لہسن یا پیاز کی بدبو محسوس فرماتے تھے اس کو مسجد سے نکال کر بقیع میں بھیج دیتے تھے اور فرماتے تھے کہ جس کو لہسن پیاز کھانا ہی ہو تو اس کو خوب اچھی طرح پکا کر کھائے کہ ان کی بدبو ماری جائے حضرات فقہاء نے اس حدیث سے استدلال کر کے فرمایا کہ جس شخص کو کوئی ایسی بیماری ہو کہ اس کے پاس کھڑے ہونے والوں کو اس سے تکلیف پہنچے اس کو بھی مسجد سے ہٹایا جاسکتا ہے اس کو خود چاہئے کہ جب تک ایسی بیماری میں ہے نماز گھر میں پڑھے۔ رفع مساجدکا مفہوم جمہور صحابہ وتابعین کے نزدیک یہی ہے کہ مسجدیں بنائی جائیں اور ان کو ہر بری چیز سے پاک صاف رکھا جائے۔ بعض حضرات نے اس میں مسجدوں کی ظاہری شان و شوکت اور تعمیری بلندی کو بھی داخل قرار دیا ہے اور استدلال کیا ہے کہ حضرت عثمان غنی نے مسجد نبوی کی تعمیر سال کی لکڑی سے شاندار بنائی تھی اور حضرت عمر بن عبد العزیز نے مسجد نبوی میں نقش ونگار اور تعمیری خوبصورتی کا کافی اہتمام فرمایا تھا اور یہ زمانہ اجلہ صحابہ کا تھا کسی نے ان کے اس فعل پر انکار نہیں کیا اور بعد کے بادشاہوں نے تو مسجدوں کی تعمیرات میں بڑے اموال خرچ کئے ہیں۔ ولید بن عبدالملک نے اپنے زمانہ خلافت میں دمشق کی جامع مسجد کی تعمیر و تزئین پر پورے ملک شام کی سالانہ آمدنی سے تین گنا زیادہ مال خرچ کیا تھا ان کی بنائی ہوئی یہ مسجد آج تک قائم ہے۔ امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک اگر نام و نمود اور شہرت کے لئے نہ ہو اللہ کے نام اور اللہ کے گھر کی تعظیم کی نیت سے کوئی شخص مسجد کی تعمیر شاندار بلندو مستحکم خوبصورت بنائے تو کوئی ممانعت نہیں بلکہ امید ثواب کی ہے۔ بعض فضائل مساجد ابو داؤد نے حضرت ابوامامہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اپنے گھر سے وضو کر کے فرض نماز کے لئے مسجد کی طرف نکلا اس کا ثواب اس شخص جیسا ہے جو احرام باندھ کر گھر سے حج کے لئے نکلا ہو اور جو شخص نماز اشراق کے لئے اپنے گھر سے وضو کر کے مسجد کی طرف چلا تو اس کا ثواب عمرہ کرنے والے جیسا ہے اور ایک نماز کے بعد دوسری بشرطیکہ ان دونوں کے درمیان کوئی کام یا کلام نہ کرے، علیین میں لکھی جاتی ہے۔ اور حضرت بریدہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو لوگ اندھیرے میں مساجد کو جاتے ہیں ان کو قیامت کے روز مکمل نور کی بشارت سنا دیجئے۔ (رواہ مسلم) اور صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مرد کی نماز جماعت کے ساتھ ادا کرنا، گھر میں یا دکان میں نماز پڑھنے کی نسبت بیس سے زائد درجہ افضل ہے اور یہ اس لئے کہ جب کوئی شخص وضو کرے اور اچھی طرح (سنت کے مطابق) وضو کرے پھر مسجد کو صرف نماز کی نیت سے چلے اور کوئی غرض نہ ہو تو ہر قدم پر اس کا مرتبہ ایک درجہ بلند ہوجاتا ہے اور ایک گناہ معاف ہوجاتا ہے یہاں تک کہ وہ مسجد میں پہنچ جائے۔ پھر جب تک جماعت کے انتظار میں بیٹھا رہے گا اس کو نماز ہی کا ثواب ملتا رہے گا اور فرشتے اس کے لئے یہ دعا کرتے رہیں گے کہ یا اللہ، اس پر رحمت نازل فرما اور اس کی مغفرت فرما، جب تک کہ وہ کسی کو ایذا نہ پہنچائے اور اس کا وضو نہ ٹوٹے اور حضرت حکم بن عمیر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ دنیا میں مہمانوں کی طرح رہو اور مسجدوں کو اپنا گھر بناؤ اور اپنے دلوں کو رقت کی عادت ڈالو (یعنی رقیق القلب نرم دل بنو) اور (للہ کی نعمتوں میں) کثرت سے تفکر و غور کیا کرو اور بکثرت (اللہ کے خوف سے) رویا کرو۔ ایسا نہ ہو کہ خواشہات دنیا تمہیں اس حال سے مختلف کردیں کہ تم گھروں کی فضول تعمیرات میں لگ جاؤ جن میں رہنا بھی نہ ہو اور ضرورت سے زیادہ مال جمع کرنے کی فکر میں لگ جاؤ اور مستقبل کے لئے ایسی فضول تمناؤں میں مبتلا ہوجاؤ جو پا نہ سکو۔ اور حضرت ابوالدرداء نے اپنے بیٹے کو نصیحت فرمائی کہ تمہارا گھر مسجد ہونا چاہئے کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ مساجد متقی لوگوں کے گھر ہیں جس شخص نے مساجد کو (کثرت ذکر کے ذریعہ) اپنا گھر بنا لیا، اللہ تعالیٰ اس کے لئے راحت و سکون اور پل صراط پر آسانی سے گزرنے کا ضامن ہوگیا، اور ابو صادق ازدی نے شعیب بن الحجاب کو خط لکھا کہ مسجدوں کو لازم پکڑو کیونکہ مجھے یہ روایت پہنچی ہے کہ مساجد ہی انبیاء کی مجالس تھیں۔ اور ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ آخر زمانے میں ایسے لوگ ہوں گے جو مسجدوں میں آ کر جگہ جگہ حلقے بنا کر بیٹھ جاویں گے اور وہاں دنیا ہی کی اور اس کی محبت کی باتیں کریں گے تم ایسے لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھو کیونکہ اللہ تعالیٰ کو ایسے مسجد میں آنے والوں کی ضرورت نہیں۔ اور حضرت سعید بن مسیب نے فرمایا کہ جو شخص مسجد میں بیٹھا گویا وہ اپنے رب کی مجلس میں بیٹھا ہے اس لئے اس کے ذمہ ہے کہ زبان سے سوائے کلمہ خیر کے اور کوئی کلمہ نہ نکالے۔ (قرطبی) مساجد کے پندرہ آداب علماء نے آداب مساجد میں پندرہ چیزوں کا ذکر فرمایا ہے۔ اول یہ کہ مسجد میں پہنچنے پر اگر کچھ لوگوں کو بیٹھا دیکھے تو ان کو سلام کرے اور کوئی نہ ہو تو السلام علینا و علی عباد اللہ الصالحین کہے (لیکن یہ اس صورت میں ہے جبکہ مسجد کے حاضرین نفلی نماز یا تلاوت و تسیح وغیرہ میں مشغول نہ ہوں ورنہ اس کو سلام کرنا درست نہیں۔) دوسرے یہ کہ مسجد میں داخل ہو کر بیٹھنے سے پہلے دو رکعت تحیتہ المسجد کی پڑھے (یہ بھی جب ہے کہ اس وقت نماز پڑھنا مکروہ نہ ہو، مثلاً عین آفتاب کے طلوع یا غروب یا استواء نصف النہار کا وقت نہ ہو۔ 12 ش) تیسرے یہ کہ مسجد میں خریدو فروخت نہ کرے۔ چوتھے یہ کہ وہاں تیر تلوار نہ نکالے۔ پانچویں یہ کہ مسجد میں اپنی گم شدہ چیز تلاش کرنے کا اعلان نہ کرے۔ چھٹے یہ کہ مسجد میں آواز بلند نہ کرے۔ نویں یہ کہ جہاں صف میں پوری جگہ نہ ہو وہاں گھس کر لوگوں پر تنگی پیدا نہ کرے۔ دسویں یہ کہ کسی نماز پڑھنے والے کے آگے سے نہ گزرے۔ گیارہویں یہ کہ مسجد میں تھوکنے ناک صاف کرنے سے پرہیز کرے۔ بارہویں اپنی انگلیاں نہ چٹخائے۔ تیرہویں یہ کہ اپنے بدن کے کسی حصہ سے کھیل نہ کرے۔ چودھویں نجاسات سے پاک صاف رہے اور کسی چھوٹے بچے یا مجنون کو ساتھ نہ لے جائے۔ پندرہویں یہ کہ وہاں کثرت سے ذکر اللہ میں مشغول رہے۔ قرطبی نے یہ پندرہ آداب لکھنے کے بعد فرمایا ہے کہ جس نے یہ کام کر لئے اس نے مسجد کا حق ادا کردیا اور مسجد اس کے لئے حرز وامان کی جگہ بن گئی۔ احقر نے مساجد کے آداب و احکام ایک مستقل رسالہ بنام آداب المساجد میں جمع کردیئے ہیں جن کو ضرورت ہو اس کا مطالعہ فرمائیں۔ جو مکانات، ذکر اللہ، تعلیم قرآن، تعلیم دین کے لئے مخصوص ہوں وہ بھی مساجد کے حکم میں ہیں تفسیر بحر محیط میں ابوحیان نے فرمایا کہ فی بیوت کا لفظ قرآن میں عام ہے جس طرح مساجد اس میں داخل ہیں اسی طرح وہ مکانات جو خاص تعلیم قرآن تعلیم دین یا وعظ و نصیحت یا ذکر و شغل کے لئے بنائے گئے ہوں جیسے مدارس اور خانقاہیں، وہ بھی اس حکم میں داخل ہیں ان کا بھی ادب و احترام لازم ہے۔ اَذِنَ اللّٰهُ اَنْ تُرْفَعَ میں لفظ اذن کی خاص حکمت علماء تفسیر کا اتفاق ہے کہ اس جگہ اذن بمعنی امر و حکم ہے مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر لفظ اذن کے اس جگہ لانے میں کیا مصلحت ہے روح المعانی میں ایک لطیف مصلحت یہ بیان کی ہے کہ اس میں مومنین صالحین کو اس ادب کی تعلیم و ترغیب دینا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی مرضی حاصل کرنے کے ہر کام کے لئے ایسے مستعد اور تیار ہونے چاہئیں کہ حکم کی ضرورت نہ پڑے صرف اس کے منتظر ہوں کہ کب ہمیں اس کام کی اجازت ملے تو ہم یہ سعادت حاصل کریں۔ يُذْكَرَ فِيْهَا اسْمُهٗ یہاں اللہ کا نام ذکر کرنے میں ہر قسم کا ذکر شامل ہے تسبیح وتحمید وغیرہ بھی نفلی، نماز بھی) تلاوت قرآن وعظ و نصیحت تعلیم علم دین، اور علوم دینیہ کے سب مشاغل اس میں داخل ہیں۔
Ayah 24:37

رِجَالٌ١ۙ لَّا تُلْهِیْهِمْ تِجَارَةٌ وَّ لَا بَیْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ اِقَامِ الصَّلٰوةِ وَ اِیْتَآءِ الزَّكٰوةِ١۪ۙ یَخَافُوْنَ یَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِیْهِ الْقُلُوْبُ وَ الْاَبْصَارُۗۙ Open ayah 24:37 in the Quran reader

وہ مرد کہ نہیں غافل ہوتے سودا کرنے میں اور نہ بیچنے میں اللہ کی یاد سے اور نماز قائم رکھنے سے اور زکوٰة دینے سے ڈرتے رہتے ہیں اس دن سے جس میں الٹ جائیں گے دل اور آنکھیں

رِجَالٌ لَّا تُلْهِيْهِمْ تِجَارَةٌ وَّلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ ، اس میں ان مومنین کی خاص صفات بیان کی گئی ہیں جو اللہ تعالیٰ کے نور ہدایت کے خاص مورد اور مسجدوں کو آباد رکھنے والے ہیں اس میں لفظ رجال کی تعبیر میں اس طرف اشارہ ہے کہ مساجد کی حاضری دراصل مردوں کے لئے ہے عورتوں کی نماز ان کے گھروں میں افضل ہے۔ مسند احمد اور بیہقی میں حضرت ام سلمہ کی حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے خیر مساجد النساء قعر بیوتھن، یعنی عورتوں کی بہترین مساجد ان کے گھروں تک تنگ و تاریک گوشے ہیں۔ اس آیت میں مومنین صالحین کی یہ صفت بیان کی ہے کہ ان کو تجارت اور بیع کا مشغلہ اللہ کی یاد سے غافل نہیں کرتا۔ لفظ تجارت میں چونکہ بیع بھی داخل ہے اس لئے بعض مفسرین نے مقابلہ کی وجہ سے اس جگہ تجارت سے مراد خریداری اور بیع سے مراد فروخت کرنا لیا ہے اور بعض نے تجارت کو اپنے مفہوم عام میں رکھا ہے یعنی لین دین خریدو فروخت کے معاملات، پھر بیع کو الگ کر کے بیان کرنے کی حکمت یہ بتلائی ہے کہ معاملات تجارت تو ایک وسیع مفہوم ہے جس کے فوائد و منافع کبھی مدتوں میں وصول ہوتے ہیں اور کسی چیز کو فروخت کردینے اور قیمت مع نفع کے نقد وصول کرلینے کا فائدہ فوری اور نقد ہے اس کو خصوصیت سے اس لئے ذکر فرمایا کہ اللہ کے ذکر اور نماز کے مقابلہ میں وہ کسی بڑے سے بڑے دنیوی فائدہ کا بھی خیال نہیں کرتے۔ حضرت عبداللہ بن عمر نے فرمایا کہ یہ آیت بازار والوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور ان کے صاحبزادے حضرت سالم فرماتے ہیں کہ ایک روز حضرت عبداللہ بن عمر بازار سے گزرے تو نماز کا وقت ہوگیا تھا لوگوں کو دیکھا کہ دکانیں بند کر کے مسجد کی طرف جا رہے ہیں تو فرمایا کہ انہی لوگوں کے بارے میں قرآن کا یہ ارشاد ہے رِجَالٌ لَّا تُلْهِيْهِمْ تِجَارَةٌ وَّلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ اور عہد رسالت میں دو صحابی تھے ایک تجارت کرتے تھے دوسرے صنعت و حرفت یعنی لوہار کا کام کرتے اور تلواریں بنا کر بیچتے تھے۔ پہلے صحابی کی تجارت کا حال یہ تھا کہ اگر سودا تولنے کے وقت اذان کی آواز کان میں پڑجاتی تو وہیں ترازو کو پٹک کر نماز کے لئے کھڑے ہوجاتے تھے۔ دوسرے بزرگ کا یہ عالم تھا کہ اگر گرم لوہے پر ہتھوڑے کی ضرب لگا رہے ہیں اور کان میں آواز اذان کی آگئی تو اگر ہتھوڑا مونڈھے پر اٹھائے ہوئے ہیں تو وہیں مونڈھے کے پیچھے ہتھوڑا ڈال کر نماز کو چل دیتے تھے اٹھائے ہوئے ہتھوڑے کی ضرب سے کام لینا بھی گوارا نہ تھا ان کی مدح میں یہ آیت نازل ہوئی۔ (قرطبی) صحابہ کرام اکثر تجارت پیشہ تھے اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ صحابہ کرام زیادہ تر تجارت پیشہ یا صنعت پیشہ تھے جو کام کہ بازاروں سے متعلق ہیں کیونکہ تجارت و بیع کا مانع از یاد خدا نہ ہونا انہی لوگوں کا وصف ہوسکتا ہے جن کا مشغلہ تجارت و بیع کا ہو ورنہ یہ کہنا فضول ہوگا (رواہ الطبرانی عن ابن عباس۔ روح) يَخَافُوْنَ يَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِيْهِ الْقُلُوْبُ وَالْاَبْصَارُ ، یہ مومنین جن کا ذکر اوپر آیت میں آیا ہے ان کا آخری وصف ہے جس میں بتلایا ہے کہ یہ حضرات ہر وقت ذکر اللہ اور طاعات و عبادات میں مشغول ہونے کے باوجود بےفکر اور بےڈر بھی نہیں ہوجاتے بلکہ قیامت کے حساب کا خوف ان پر مسلط رہتا ہے اور یہ اس نور ہدایت کا کمال ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو عطا ہوا ہے جس کا ذکر اوپر آیت میں يَهْدِي اللّٰهُ لِنُوْرِهٖ مَنْ يَّشَاۗءُ میں فرمایا۔ آخر میں ایسے حضرات کی جزاء کا ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو ان کے عمل کی بہترین جزاء عطا فرما ویں گے۔
Ayahs 24:38–39

لِیَجْزِیَهُمُ اللّٰهُ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَ یَزِیْدَهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 24:38 in the Quran reader

تاکہ بدلہ دے ان کو اللہ ان کے بہتر سے بہتر کاموں کا اور زیادتی دے ان کو اپنے فضل سے اور اللہ روزی دیتا ہے جس کو چاہے بیشمار

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَعْمَالُهُمْ كَسَرَابٍۭ بِقِیْعَةٍ یَّحْسَبُهُ الظَّمْاٰنُ مَآءً١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَهٗ لَمْ یَجِدْهُ شَیْئًا وَّ وَجَدَ اللّٰهَ عِنْدَهٗ فَوَفّٰىهُ حِسَابَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ سَرِیْعُ الْحِسَابِۙ Open ayah 24:39 in the Quran reader

اور جو لوگ منکر ہیں ان کے کام جیسے ریت جنگل میں پیاسا جانے اس کو پانی یہاں تک کہ جب پہنچا اس پر اس کو کچھ نہ پایا، اور اللہ کو پایا اپنے پاس پھر اس کو پورا پہنچا دیا اس کا لکھا، اور اللہ جلد لینے والا ہے حساب

اور پھر فرمایا وَيَزِيْدَهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ یعنی صرف جزاء عمل دینے پر اکتفا نہیں ہوگا بلکہ اپنی طرف سے مزید انعامات بھی ان کو ملیں گے واللّٰهُ يَرْزُقُ مَنْ يَّشَاۗءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ ، یعنی اللہ تعالیٰ نہ کسی قانون کا پابند ہے نہ اس کے خزانے میں کبھی کمی آتی ہے وہ جس کو چاہے بےحساب رزق دیدیتا ہے۔ یہاں تک مومنین صالحین جن کے سینے نور ہدایت کے مشکوة ہوتے ہیں اور جو نور ہدایت کو خاص طور سے قبول کرتے ہیں ان کا ذکر تھا۔ آگے ان کفار کا ذکر ہے جن کی فطرت میں تو اللہ تعالیٰ نے نور ہدایت کا مادہ رکھا تھا مگر جب اس مادہ کو روشن کرنے والی وحی الہی ان کو پہنچی تو اس سے روگردانی اور انکار کر کے نور سے محروم ہوگئے اور اندھیرے ہی اندھیرے میں رہ گئے اور ان میں چونکہ کافر و منکر دو قسم کے تھے اس لئے ان کی دو مثالیں بیان کی گئیں جن کی تفصیل خلاصہ تفسیر میں آ چکی ہے۔
Ayah 24:40

اَوْ كَظُلُمٰتٍ فِیْ بَحْرٍ لُّجِّیٍّ یَّغْشٰىهُ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ سَحَابٌ١ؕ ظُلُمٰتٌۢ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ١ؕ اِذَاۤ اَخْرَجَ یَدَهٗ لَمْ یَكَدْ یَرٰىهَا١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَجْعَلِ اللّٰهُ لَهٗ نُوْرًا فَمَا لَهٗ مِنْ نُّوْرٍ۠ Open ayah 24:40 in the Quran reader

یا جیسے اندھیرے گہرے دریا میں چڑھی آتی ہے اس پر ایک لہر اس پر ایک اور لہر اس کے اوپر بادل اندھیرے ہیں ایک پر ایک جب نکالے اپنا ہاتھ لگتا نہیں کہ اس کو وہ سوجھے اور جس کو اللہ نے نہ دی روشنی اس کے واسطے کہیں نہیں روشنی۔

دونوں مثالیں بیان فرمانے کے بعد ارشاد فرمایا وَمَنْ لَّمْ يَجْعَلِ اللّٰهُ لَهٗ نُوْرًا فَمَا لَهٗ مِنْ نُّوْرٍ ، یہ جملہ کفار کے بارے میں ایسا ہی ہے جیسا مومنین کے بارے میں یہ ارشاد ہوا تھا يَهْدِي اللّٰهُ لِنُوْرِهٖ مَنْ يَّشَاۗءُ کفار کے لئے اس جملہ میں نور ہدایت سے محرومی کا ذکر ہے کہ انہوں نے احکام الہیہ سے انحراف کر کے اپنا فطری نور بھی فنا کرلیا اب جبکہ اللہ کے نور ہدایت سے محروم ہوگئے تو نور کہاں سے آئے۔ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کوئی شخص محض اسباب علم و بصیرت جمع ہونے سے عالم مبصر نہیں ہوتا بلکہ وہ صرف اللہ تعالیٰ کی عطا سے ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے آدمی جو دنیا کے کاموں میں بالکل ناواقف بیخبر سمجھے جاتے ہیں آخرت کے معاملہ میں وہ بڑے مبصر عقلمند ثابت ہوتے ہیں۔ اسی طرح اس کے برعکس بہت سے آدمی جو دنیا کے کاموں میں بڑے ماہر اور مبصر محقق مانے جاتے ہیں مگر آخرت کے معاملہ میں بڑے بیوقوف جاہل ثابت ہوتے ہیں۔ (مظہری)