Ayah 24:12لَوْلَآ اِذْ سَمِعْتُمُوْهُ ظَنَّ الْمُؤ ْمِنُوْنَ وَالْمُؤ ْمِنٰتُ بِاَنْفُسِهِمْ خَيْرً آ وَّقَالُوْا ھٰذَآ اِفْكٌ مُّبِيْنٌ، یعنی ایسا کیوں نہ ہوا کہ جب تم نے اس تہمت کی خبر سنی تھی تو مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں اپنے بارے میں یعنی اپنے مسلمان بھائی بہن کے بارے میں نیک گمان کرتے اور کہہ دیتے کہ یہ کھلا جھوٹ ہے۔ اس آیت میں کئی چیزیں قابل غور ہیں اول یہ کہ بِاَنْفُسِهِمْ کے لفظ سے قرآن کریم نے یہ اشارہ کیا کہ جو مسلمان کسی دوسرے مسلمان کو بدنام و رسوا کرتا ہے وہ درحقیقت اپنے آپ ہی کو رسوا کرتا ہے کیونکہ اسلام کے رشتہ نے سب کو ایک بنادیا ہے۔ قرآن کریم نے ایسے تمام مواقع میں یہ اشارہ استعمال فرمایا ہے جیسا ایک جگہ فرمایا وَلَا تَلْمِزُوْٓا اَنْفُسَكُمْ یعنی عیب نہ لگاؤ اپنے آپ کو۔ مراد اس سے یہ ہے کہ کسی بھائی مسلمان مرد یا عورت کو۔ دوسری جگہ فرمایا وَلَا تَقْتُلُوْٓا اَنْفُسَكُمْ ، اپنے آپ کو قتل نہ کرو۔ مراد وہی ہے کہ کسی بھائی مسلمان کو قتل نہ کرو۔ تیسری جگہ فرمایا وَلَا تُخْرِجُوْنَ اَنْفُسَكُمْ مِّنْ دِيَارِكُمْ ، یعنی نہ نکالو اپنے آپ کو اپنے گھروں سے۔ یہاں بھی کسی مسلمان بھائی کو اس کے گھر سے نکالنا مراد ہے۔ چوتھی جگہ فرمایا فَسَلِّمُوْا عَلٰٓي اَنْفُسِكُمْ ، یعنی اپنے آپ کو سلام کرو۔ مراد وہی بھائی مسلمان کو سلام کرنا ہے۔ یہ سب آیات قرآن یہ ضمنی ہدایت دیتی ہیں کہ ایک مسلمان جو دوسرے کسی بھی مسلمان پر عیب لگاتا یا اس کو ایذا و نقصان پہنچاتا ہے حقیقت کے اعتبار سے خود اپنے کو عیب دار کرتا ہے اور خود نقصان و تکلیف اٹھاتا ہے کیونکہ اس کا انجام پوری قوم کی رسوائی اور بدنامی ہوتی ہے بقول سعدی
چو از قومے یکے بےدانشی کرد
نہ کہ را منزلت ماند نہ مہ را
قرآن کی اسی تعلیم کا اثر تھا کہ جب مسلمان ابھرے تو پوری قوم کے ساتھ ابھرے، ان کا ہر فرد ابھرا۔ اور اسی کے چھوڑنے کا نتیجہ آج آنکھوں سے دیکھا جا رہا ہے کہ سب گرے اور ہر فرد گرا۔ دوسری بات اس آیت میں یہ قابل نظر ہے کہ مقام کا تقاضا یہ تھا کہ لَوْلَآ اِذْ سَمِعْتُمُوْهُ ظَنَتُم بِاَنفُسِکُم خَیراً بصیغہ خطاب کہا جاتا جیسا کہ شروع میں سَمِعْتُمُوْهُ بصیغہ خطاب آیا ہے مگر قرآن کریم نے اس مختصر جملے کو چھوڑ کر اس جگہ طرز بدلا کہ صیغہ خطاب یعنی ظَنَنتُم کے بجائے ظَنَّ الْمُؤ ْمِنُوْنَ فرمایا۔ اس میں ہلکا سا اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ یہ فعل جن لوگوں سے سرزد ہوا وہ اس فعل کی حد تک مومنون کہلانے کے مستحق نہیں کیونکہ ایمان کا تقاضا یہ تھا کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان سے حسن ظن قائم رکھتا۔
تیسری بات یہ قابل نظر ہے کہ اس آیت کے آخری جملے وّقَالُوْا ھٰذَآ اِفْكٌ مُّبِيْنٌ میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ تقاضا ایمان کا یہ تھا کہ مسلمان اس خبر کو سنتے ہی کہہ دیتے کہ یہ کھلا جھوٹ ہے اس سے ثابت ہوا کہ کسی مسلمان کے بارے میں جب تک کسی گناہ یا عیب کا علم کسی دلیل شرعی سے نہ ہوجائے اس وقت تک اس کے ساتھ نیک گمان رکھنا اور بلا کسی دلیل کے عیب و گناہ کی بات اس کی طرف منسوب کرنے کو جھوٹ قرار دینا عین تقاضائے ایمان ہے۔
مسئلہ
اس سے ثابت ہوا کہ ہر مسلمان مرد و عورت کے ساتھ اچھا گمان رکھنا واجب ہے جب تک کسی دلیل شرعی سے اس کے خلاف ثابت نہ ہوجائے اور جو شخص بلا دلیل شرعی کے اس پر الزام لگاتا ہے اس کی بات کو رد کرنا اور جھوٹا قرار دینا بھی واجب ہے کیونکہ وہ محض ایک غیبت اور مسلمان کو بلا وجہ رسوا کرنا ہے۔ (مظہری)
Ayah 24:13لَوْلَا جَاۗءُوْ عَلَيْهِ بِاَرْبَعَةِ شُهَدَاۗءَ ۚ فَاِذْ لَمْ يَاْتُوْا بالشُّهَدَاۗءِ فَاُولٰۗىِٕكَ عِنْدَ اللّٰهِ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ ، اس آیت کے پہلے جملہ میں تو اس کی تلقین ہے کہ ایسی خبر مشہور کرنے والوں کے بارے میں مسلمانوں کو چاہئے تھا کہ ان کی بات کو چلتا کرنے کے بجائے ان سے مطالبہ دلیل کا کرتے اور چونکہ تہمت زنا کے معاملے میں دلیل شرعی چار گواہوں کے بغیر قائم نہیں ہوتی اس لئے ان سے مطالبہ یہ کرنا چاہئے کہ تم جو کچھ کہہ رہے ہو اس پر چار گواہ پیش کرو یا زبان بند کرو۔ دوسرے جملے میں فرمایا کہ جب وہ چار گواہ نہیں لا سکے تو اللہ کے نزدیک یہی لوگ جھوٹ ہیں۔
یہاں یہ بات غور طلب ہے کہ ایسا ہونا کچھ بعید نہیں کہ ایک شخص نے اپنی آنکھ سے ایک واقعہ دیکھا مگر اس کو اس پر دوسرے گواہ نہیں ملے تو اگر یہ شخص اپنے چشم دید واقعہ کو بیان کرتا ہے تو اس کو جھوٹا کیسے کہا جاسکتا ہے خصوصاً اللہ کے نزدیک جھوٹا کہنا تو کسی طرح سمجھ ہی میں نہیں آتا کیونکہ اللہ تعالیٰ کو تو سب واقعات کے حقائق معلوم ہیں اور یہ واقعہ وجود میں آنا بھی معلوم ہے تو وہ عند اللہ جھوٹ بولنے والا کیسے قرار پایا۔ اس کے دو جواب ہیں اول یہ کہ یہاں عنداللہ سے مراد حکم اللہ اور قانون الٰہی ہے یعنی یہ شخص قانون الہی اور حکم خداوندی کی رو سے جھوٹا قرار دیا جائے گا اور اس پر حد قذف جاری کی جائے گی کیونکہ حکم ربانی یہ تھا کہ جب چار گواہ نہ ہوں تو واقعہ دیکھنے کے باوجود اس کو بیان نہ کرو اور جو بغیر چار گواہوں کے بیان کرے گا وہ قانوناً اور حکماً جھوٹا قرار پا کر سزا پائے گا۔
دوسرا جواب یہ ہے کہ مسلمان کی شان یہ ہے کہ کوئی کام فضول نہ کرے جس کا کوئی فائدہ نتیجہ نہ ہو خصوصاً ایسا کام جس میں دوسرے مسلمان پر کوئی الزام عائد ہوتا ہو تو مسلمان کسی دوسرے مسلمان کے خلاف کسی عیب و گناہ کی شہادت صرف اس نیت سے دے سکتا ہے کہ جرم و گناہ کا انسداد مقصود ہو کسی کو رسوا کرنا یا ایذا دینا مقصود نہ ہو تو جس شخص نے چار گواہوں کے بغیر اس قسم کی شہادت زبان سے نکالی گویا اس کا دعویٰ یہ ہے کہ میں یہ کلام اصلاح خلق اور معاشرہ کو برائی سے بچانے اور انسداد جرائم کی نیت سے کر رہا ہوں۔ مگر جب شریعت کا قانون اس کو معلوم ہے کہ بغیر چار گواہوں کے ایسی شہادت دینے سے نہ اس شخص پر کوئی حد و سزا جاری ہوگی اور نہ ثبوت بہم پہنچے گا بلکہ الٹی جھوٹ بولنے کی سزا کا میں مستحق ہوجاؤں گا تو اس وقت وہ عند اللہ اپنی اس نیت کے دعویٰ میں جھوٹا ہے کہ میں اصلاح خلق اور انسداد جرائم کی نیت سے یہ شہادت دے رہا ہوں کیونکہ شرعی ضابطہ کے مطابق شہادت نہ ہونے کی صورت میں یہ نیت ہو ہی نہیں سکتی۔ (مظہری)
ایک اہم اور ضروری تنبیہ
مذکورہ دونوں آیتوں میں ہر مسلمان کو دوسرے مسلمانوں سے حسن ظن رکھنے کی ہدایت اور اس کے خلاف بےدلیل باتوں کی تردید کو واجب قرار دیا ہے اس پر کسی کو یہ شبہ نہ ہونا چاہئے کہ پھر رسول اللہ ﷺ نے پہلے ہی سے اس خبر کے غلط ہونے پر یقین کیوں نہ فرمایا اور اس خبر کی تردید کیوں نہ کردی اور ایک مہینہ تک تردد کی حالت میں کیوں رہے یہاں تک کہ حضرت صدیقہ عائشہ سے فرمایا کہ اگر تم سے کوئی لغزش ہوگئی ہو تو توبہ کرلینا چاہئے۔ (کما رواہ البخاری)
وجہ یہ ہے کہ یہاں ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان پر حسن ظن رکھنے کا جو حکم ہے وہ اس تردد کے منافی نہیں جو آنحضرت ﷺ کو پیش آیا۔ کیونکہ آپ نے اس خبر کی نہ تصدیق فرمائی اور نہ اس کے مقتضی پر کوئی عمل فرمایا نہ اس کا چرچا کرنا پسند فرمایا بلکہ صحابہ کرام کے مجمع میں یہی فرمایا کہ ما علمت علی اھلی الاخیرا رواہ البخاری یعنی میں اپنی اہلیہ کے بارے میں بھلائی اور نیکی کے سوا کچھ نہیں جانتا۔ یہ سب انہیں آیات مذکورہ کے مقتضی پر عمل اور حسن ظن رکھنے کے شواہد ہیں۔ البتہ قطعی اور یقینی علم جس سے طبعی تردد بھی رفع ہوجاوے وہ اس وقت ہوا جب آیات برات نازل ہوگئیں۔
خلاصہ یہ ہے کہ دل میں کوئی شک و تردد پیدا ہوجانا اور احتیاطی تدابیر استعمال کرنا جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا حسن ظن بالمومنین کے منافی نہیں تھا جبکہ اس کے مقتضی پر کوئی عمل نہ کیا گیا ہو۔ جن مسلمانوں پر اس معاملے میں حد قذف کی سزا جاری کی گئی اور ان دو آیتوں میں ان پر عتاب کیا گیا انہوں نے اس خبر کے مقتضیٰ پر عمل کیا تھا کہ اس کا چرچا کیا اور پھیلایا وہ نزول آیات سے پہلے بھی ناجائز و موجب سزا تھا۔
Ayah 24:14وَلَوْلَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهٗ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ لَمَسَّكُمْ فِيْ مَآ اَفَضْتُمْ فِيْهِ عَذَابٌ عَظِيْمٌ، یہ آیت ان مومنین کے بارے میں نازل ہوئی جو غلطی سے اس تہمت میں کسی قسم کی شرکت کر بیٹھے تھے پھر توبہ کرلی اور بعض پر سزا بھی جاری ہوئی۔ ان سب کو اس آیت نے یہ بھی بتلا دیا کہ جو جرم تم سے سرزد ہوا وہ بہت بڑا جرم تھا اس پر دنیا میں بھی عذاب آسکتا تھا جیسے پچھلی قوموں کے مجرموں پر آیا ہے اور آخرت میں بھی اس پر عذاب شدید ہوتا مگر اللہ تعالیٰ کا معاملہ تم مومنین کے ساتھ فضل و رحمت کا ہے، دنیا میں بھی، آخرت میں بھی۔ اس لئے یہ عذاب تم سے ٹل گیا۔ دنیا میں اللہ کے فضل و رحمت کے مظاہر یہ ہوئے کہ اول اسلام و ایمان کی توفیق بخشی پھر رسول اللہ ﷺ کی صحبت کا شرف عطا فرمایا جو کہ نزول عذاب سے مانع ہے اور پھر جو گناہ ہوگیا تھا اس سے سچی توبہ کی توفیق بخشی پھر اس توبہ کو قبول فرما لیا اور آخرت میں اللہ کے فضل و رحمت کا اثر یہ ہے کہ تم سے عفو و درگزر اور مغفرت کا وعدہ فرما لیا۔
Ayah 24:15اِذْ تَلَقَّوْنَهٗ بِاَلْسِنَتِكُمْ ، تلقی کا مفہوم یہ ہے کہ ایک دوسرے سے بات پوچھ اور نقل کرے، یہاں بات کو سن کر بےدلیل اور بلا تحقیق آگے چلتی کردینا مراد ہے۔
وَّتَحْسَبُوْنَهٗ هَيِّنًا ڰ وَّهُوَ عِنْدَ اللّٰهِ عَظِيْمٌ یعنی تم تو اس کو معمولی بات خیال کرتے تھے کہ ہم نے جیسا سنا ویسا دوسرے سے نقل کردیا مگر وہ اللہ کے نزدیک بہت بڑا گناہ تھا کہ بےدلیل اور بےتحقیق ایسی بات کو چلتا کردیا جس سے دوسرے مسلمان کو سخت ایذا ہو، اس کی رسوائی ہو اور اس کے لئے زندگی دو بھر ہوجائے۔
Ayahs 24:16–18وَلَوْلَآ اِذْ سَمِعْتُمُوْهُ قُلْتُمْ مَّا يَكُوْنُ لَنَآ اَنْ نَّتَكَلَّمَ بِھٰذَا ڰ سُبْحٰنَكَ ھٰذَا بُهْتَانٌ عَظِيْمٌ، یعی ایسا کیوں نہ ہوا کہ جب تم نے یہ افواہ سنی تھی تو یوں کہہ دیتے کہ ہمارے لئے ایسی بات زبان سے نکالنا جائز نہیں۔ پاک ہے اللہ، یہ تو بڑا بہتان ہے۔ اس آیت میں مکرر وہی ہدایت ہے جو اس سے پہلی ایک آیت میں آ چکی ہے اس میں یہ مزید وضاحت ہے کہ مسلمانوں کو ایسی خبر سننے کے وقت کیا عمل کرنا چاہئے وہ یہ کہ صاف کہہ دیں کہ ایسی بات بلا کسی دلیل کے زبان سے نکالنا بھی ہمارے لئے جائز نہیں یہ تو بہتان عظیم ہے۔
ایک شبہ اور جواب
اگر کسی کو یہ شبہ ہو کہ جیسے کسی واقعہ کا صدق بغیر دلیل کے معلوم نہیں ہوتا اس لئے اس کا زبان سے نکالنا اور چرچا کرنا ناجائز قرار پایا اسی طرح کسی کلام کا کاذب ہونا بھی تو بغیر دلیل کے ثابت نہیں ہوتا کہ اس کو بہتان عظیم کہہ دیا جائے۔ جواب یہ ہے کہ ہر مسلمان کو گناہوں سے پاک صاف سمجھنا اصل شرعی ہے جو دلیل سے ثابت ہے اس کے خلاف جو بات بغیر دلیل کے کہی جائے اس کو جھوٹا سمجھنے کے لئے کسی اور دلیل کی ضرورت نہیں۔ صرف اتنا کافی ہے کہ ایک مومن مسلمان پر بغیر کسی دلیل شرعی کے الزام لگایا گیا ہے لہٰذا یہ بہتان ہے۔
Ayahs 24:19–21اِنَّ الَّذِيْنَ يُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِيْعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ ۙ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ ، اس آیت میں پھر ان لوگوں کی مذمت اور ان پر دنیا و آخرت کے عذاب کی وعید ہے۔ جنہوں نے اس تہمت میں کسی طرح کا حصہ لیا۔ اس آیت میں یہ بات زیادہ ہے کہ جو الگ ایسی خبریں مشہور کرتے ہیں گویا وہ یہ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں میں بدکاری اور فواحش پھیل جائیں۔
انسداد فواحش کا قرآنی نظام اور ایک اہم تدبیر جس کے نظر انداز کرنے کا نتیجہ آج کل فواحش کی کثرت ہے
قرآن حکیم نے فواحش کے انسداد کا یہ خاص نظام بنایا ہے کہ اول تو اس قسم کی خبر کہیں مشہور نہ ہونے پاوے اور شہرت ہو تو ثبوت شرعی کے ساتھ ہو تاکہ اس شہرت کے ساتھ ہی مجمع عام میں حد زنا اس پر جاری کر کے اس شہرت ہی کو سبب انسداد بنادیا جائے اور جہاں ثبوت شرعی نہ ہو وہاں اس طرح کی بےحیائی کی خبروں کو چلتا کردینا اور شہرت دینا جبکہ اس کے ساتھ کوئی سزا نہیں طبعی طور پر لوگوں کے دلوں سے بےحیائی اور فواحش کی نفرت کم کردینے اور جرائم پر اقدام کرنے اور شائع کرنے کا موجب ہوتی ہے جس کا مشاہدہ آج کل کے اخبارات میں روزانہ ہوتا ہے کہ اس طرح کی خبریں ہر روز ہر اخبار میں نشتر ہوتی رہتی ہیں۔ نوجوان مرد اور عورتیں ان کو دیکھتے رہتے ہیں روزانہ ایسی خبروں کے سامنے آنے اور اس پر کسی خاص سزا کے مرتب نہ ہونے کا لازمی اور طبعی اثر یہ ہوتا ہے کہ دیکھتے دیکھتے وہ فعل خبیث نظروں میں ہلکا نظر آنے لگتا ہے اور پھر نفس میں ہیجان پیدا کرنے کا موجب ہوتا ہے۔ اسی لئے قرآن حکیم نے ایسی خبروں کی تشہیر کی اجازت صرف اس صورت میں دی ہے جبکہ وہ ثبوت شرعی کے ساتھ ہو اس کے نتیجہ میں خبر کے ساتھ ہی اس بےحیائی کی ہولناک پاداش بھی دیکھنے سننے والوں کے سامنے آجائے اور جہاں ثبوت اور سزا نہ ہو تو ایسی خبروں کی اشاعت کو قرآن نے مسلمانوں میں فواحش پھیلانے کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ کاش مسلمان اس پر غور کریں۔ اس آیت میں ایسی خبریں بلا ثبوت مشہور کرنے والوں پر دنیا و آخرت دونوں میں عذاب الیم ہونے کا ذکر ہے۔ آخرت کا عذاب تو ظاہر ہے کہ قیامت کے بعد ہوگا جس کا یہاں مشاہدہ نہیں ہوسکتا مگر دنیا کا عذاب تو مشاہدہ میں آنا چاہئے سو جن لوگوں پر حد قذف (تہمت کی سزا) جاری کردی گئی ان پر تو دنیا کا عذاب آ ہی گیا اور اگر کوئی شخص شرائط اجراء حد موجود نہ ہونے کی وجہ سے حد قذف سے بچ نکلا تو وہ دنیا میں بھی فی الجملہ مستحق عذاب تو ٹھہرا آیت کے مصداق کے لئے یہ بھی کافی ہے۔
Ayah 24:22وَلَا يَاْتَلِ اُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَةِ اَنْ يُّؤ ْتُوْٓا اُولِي الْقُرْبٰى وَالْمَسٰكِيْنَ وَالْمُهٰجِرِيْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَلْيَعْفُوْا وَلْيَصْفَحُوْا ۭ اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ يَّغْفِرَ اللّٰهُ لَكُمْ ۭ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ
صحابہ کرام کو اعلی اخلاق کی تعلیم
وَلَا يَاْتَلِ ، ائتلاء کے معنے قسم کھانے کے ہیں۔ حضرت صدیقہ پر تہمت کے واقعہ میں مسملانوں میں سے مسطح اور حسان مبتلا ہوگئے تھے جن پر رسول اللہ ﷺ نے نزول آیات برات کے بعد حد قذف جاری فرمائی۔ مسطح اور حسان دونوں ہی جلیل القدر صحابی غزوہ بدر کے شرکاء میں سے ہیں مگر ایک لغزش ہوگئی جس سے توبہ صادقہ نصیب ہوئی اور حق تعالیٰ نے جس طرح حضرت صدیقہ کی برات نازل فرما دی اسی طرح ان مومنین کی توبہ قبول کرنے اور معاف کرنے کا بھی اعلان فرما دیا۔
مسطح حضرت صدیق اکبر کے عزیز بھی تھے اور مفلس بھی۔ حضرت صدیق اکبر ان کی مالی مدد فرمایا کرتے تھے۔ جب واقعہ افک میں ان کی گونہ شرکت ثابت ہوئی تو صدیقہ کے والد کی شفقت پدری اور بیٹی کو ایسا سخت صدمہ پہنچانے کی وجہ سے طبعی طور پر مسطح سے رنج پیدا ہوگیا اور قسم کھا بیٹھے کہ آئندہ ان کی کوئی مالی مدد نہیں کریں گے۔ یہ ظاہر ہے کہ کسی خاص فقیر کی مالی مدد کرنا کسی خاص مسلمان پر علی التعیین واجب نہیں اور جس کی مالی مدد کوئی کرتا ہے اگر وہ اس کو روک لے تو گناہ کی کوئی وجہ نہیں مگر صحابہ کرام کی جماعت کو حق تعالیٰ دنیا کے لئے ایک مثالی معاشرہ بنانے والے تھے اس لئے ایک طرف جن لوگوں سے لغزش ہوئی ان کو سچی توبہ اور آئندہ اصلاح حال کی نعمت سے نوازا۔ دوسری طرف جن بزرگوں نے طبعی رنج و ملال کے سبب ایسے غریب فقیر کی مدد ترک کرنے کی قسم کھالی ان کو اعلی اخلاق کی تعلیم اس آیت میں دی گئی کہ ان کو یہ قسم توڑ دینا اور اس کا کفارہ ادا کردینا چاہئے۔ ان کی مالی امداد سے دستکش ہوجانا ان کے مقام بلند کے مناسب نہیں۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کو معاف کردیا ان کو بھی عفو و درگزر سے کام لینا چاہئے۔
چونکہ حضرت مسطح کی مالی امداد کرنا کوئی شرعی واجب حضرت صدیق کے ذمہ نہیں تھا اس لئے قرآن کریم نے عنون یہ اختیار فرمایا کہ اہل علم و فضل جن کو اللہ نے دینی کمالات عطا فرمائے ہیں اور جن کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی وسعت و گنجائش بھی ہے ان کو ایسی قسم نہیں کھانی چاہئے۔ آیت میں دو لفظ اولوا الْفَضْلِ اور والسَّعَةِ اسی معنے کے لئے آئے ہیں۔
اس آیت کے آخری جملے میں جو ارشاد ہوا کہ اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ يَّغْفِرَ اللّٰهُ لَكُمْ ، یعنی کیا تم یہ پسند نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے گناہ معاف فرما دے تو صدیق اکبر نے فوراً کہا واللہ انی احب ان یغفر اللہ لی (رواہ الشیخان) یعنی بخدا میں ضرور چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ میری مغفرت فرما دے اور فوراً حضرت مسطح کی مالی امداد جاری فرما دی اور یہ بھی فرمایا اب کبھی یہ امداد بند نہ ہوگی۔ (بخاری و مسلم)
یہ وہ مکارم اخلاق ہیں جن سے صحابہ کرام کی تربیت کی گئی ہے۔ صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
لیس الواصل بالمکافی والکن الواصل الذی اذا قطعت رحمہ و صلھا۔ (از مظہری)
یعنی صلہ رحمی کرنے والا وہ نہیں جو رشتہ داروں کے صرف احسان کا بدلہ کر دے بلکہ اصل صلہ رحمی کرنے والا وہ ہے کہ رشتہ داروں کے قطع تعلق کرنے کے باوجود یہ تعلق قائم رکھے۔
Ayah 24:23اِنَّ الَّذِيْنَ يَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ الْغٰفِلٰتِ الْمُؤ ْمِنٰتِ لُعِنُوْا فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ ۠ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌ۔ اس آیت میں بظاہر مکرر وہ مضمون بیان ہوا ہے جس اس سے پہلے آیات قذف میں آچکا ہے، وَالَّذِيْنَ يَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ ثُمَّ لَمْ يَاْتُوْا بِاَرْبَعَةِ شُهَدَاۗءَ فَاجْلِدُوْهُمْ ثَمٰنِيْنَ جَلْدَةً وَّلَا تَــقْبَلُوْا لَهُمْ شَهَادَةً اَبَدً آ وَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ ، اِلَّا الَّذِيْنَ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ وَاَصْلَحُوْا ۚ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ، لیکن درحقیقت ان دونوں میں ایک بڑا فرق ہے کیونکہ آیات حد قذف کے آخر میں توبہ کرنے والوں کا استثناء، اور ان کے لئے مغفرت کا وعدہ ہے۔ اس آیت میں ایسا نہیں بلکہ دنیا و آخرت کی لعنت اور عذاب عظیم بلا استثناء مذکور ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت کا تعلق ان لوگوں سے ہے جنہوں نے حضرت صدیقہ عائشہ پر تہمت لگائی اور پھر اس سے توبہ نہیں کی، یہاں تک کہ قرآن میں ان کی برات نازل ہونے کے بعد بھی وہ اپنے اس افتراء پر قائم اور تہمت کا چرچا کرنے میں مشغول رہے۔ ظاہر ہے کہ یہ کام کسی مسلمان سے ممکن نہیں اور جو مسلمان بھی نصوص قرآن کا ایسا خلاف کرے وہ مسلمان نہیں رہ سکتا اس لئے یہ مضمون ان منافقین کے بارے میں آیا ہے جنہوں نے آیات برات صدیقہ نازل ہونے کے بعد بھی اس مشغلہ تہمت کو نہیں چھوڑا ان کے کافر منافق ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں تائبین کے لئے اللہ تعالیٰ نے فضل اللہ و رحمتہ، فرما کر مرحوم دارین قرار دیا اور جنہوں نے توبہ نہیں کی ان کو اس آیت میں ملعون دنیا و آخرت فرمایا۔ تائبین کو عذاب سے نجات کی بشارت دی اور غیر تائبین کے لئے عذاب عظیم کی وعید فرمائی۔ تائبین کو اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ فرما کر مغفرت کی بشارت دی اور غیر تائبین کو اگلی آیت يّوْمَ تَشْهَدُ عَلَيْهِمْ میں معانی نہ ہونے کی وعید فرمائی (کذا ذکرہ سیدی فی بیان القرآن)
ایک اہم تنبیہ
حضرت صدیقہ عائشہ پر تہمت کے قضیہ میں جو بعض مسلمان بھی شریک ہوگئے تھے یہ قضیہ اس وقت کا تھا جب تک آیات برات قرآن میں نازل نہیں ہوئی تھیں۔ آیات برات نازل ہونے کے بعد جو شخص حضرت صدیقہ عائشہ پر تہمت لگائے وہ بلاشبہ کافر منکر قرآن ہے جیسا کہ شیعوں کے بعض فرقے اور بعض افراد اس میں مبتلا پائے جاتے ہیں ان کے کافر ہونے میں کوئی شک و شبہ کرنے کی بھی گنجائش نہیں وہ باجماع امت کافر ہیں۔
Ayahs 24:24–25يَّوْمَ تَشْهَدُ عَلَيْهِمْ اَلْسِنَتُهُمْ وَاَيْدِيْهِمْ وَاَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ ، یعنی اس روز جبکہ ان کے خلاف خود ان کی زبانیں اور ہاتھ اور پاؤں بولیں گے اور ان کے جرائم کی شہادت دیں گے جیسا کہ روایات حدیث میں ہے کہ قیامت کے روز جو گنہگار اپنے گناہ کا اعتراف کرلے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو معاف فرما دیں گے اور محشر کے مجمع عام کی نظروں سے اس کے گناہ کو چھپا دیں گے اور جو وہاں بھی انکار کرے گا کہ میں نے تو یہ کام نہیں کیا، نگراں فرشتوں نے غلط میرے نامہ اعمال میں لکھ دیا ہے۔ تو اس وقت ان کے منہ بند کردیئے جاویں گے اور ہاتھ پاؤں سے گواہی لی جاوے گی وہ بولیں گے اور شہادت دیں گے اَلْيَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰٓي اَفْوَاهِهِمْ میں اسی کا بیان ہے۔ اس آیت میں یہ فرمایا کہ ان کے مونہوں پر مہر لگا دی جاوے گی مگر آیت مذکورہ میں یہ ہے کہ خود ان کی زبانیں شہادت دیں گی۔ ان دونوں میں کوئی تعارض اس لئے نہیں کہ وہ اپنی زبان کو اپنے اختیار سے استعمال نہ کرسکیں گے کہ اس وقت جو چاہیں جھوٹی یا سچی بات کہہ دیں جیسے دنیا میں اس کا اختیار ہے بلکہ ان کی زبان ان کا ارادہ اور قصد کے خلاف حق بات کا اعتراف کرے گی اور یہ بھی ممکن ہے کہ ایک وقت میں منہ اور زبان بالکل بند کردی جاویں پھر خود زبان کو بھی حکم ہو کہ سچی بات بولے۔ واللہ اعلم
Ayah 24:26اَلْخَبِيْثٰتُ لِلْخَبِيْثِيْنَ وَالْخَبِيْثُوْنَ لِلْخَبِيْثٰتِ ۚ وَالطَّيِّبٰتُ للطَّيِّبِيْنَ وَالطَّيِّبُوْنَ للطَّيِّبٰتِ ۚ اُولٰۗىِٕكَ مُبَرَّءُوْنَ مِمَّا يَقُوْلُوْنَ ۭ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّرِزْقٌ كَرِيْمٌ، یعنی گندی عورتیں گندے مردوں کے لائق ہوتی ہیں اور گندے مرد گندی عورتوں کے لائق ہوتے ہیں اور پاک صاف عورتیں پاک صاف مردوں کے لائق ہوتی ہیں اور پاک صاف مرد پاک صاف عورتوں کے لائق ہوتے ہیں۔
اس آخری آیت میں اول تو عام ضابطہ یہ بتلا دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے طبائع میں طبعی طور پر جوڑ رکھا ہے۔ گندی اور بدکار عورتیں بدکار مردوں کی طرف اور گندے بدکار مرد گندی بدکار عورتوں کی طرف رغبت کیا کرتے ہیں۔ اسی طرح پاک صاف عورتوں کی رغبت پاک صاف مردوں کی طرف ہوتی ہے اور پاک صاف مردوں کی رغبت پاک صاف عورتوں کی طرف ہوا کرتی ہے اور ہر ایک اپنی اپنی رغبت کے مطابق اپنا جوڑ تلاش کرتا ہے اور قدرة اس کو وہی مل جاتا ہے۔
اس عام عادت کلیہ اور ضابطہ سے واضح ہوگیا کہ انبیاء (علیہم السلام) جو دنیا میں پاکی اور صفائی ظاہری و باطنی میں مثالی شخصیت ہوتے ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ ان کو ازواج بھی ان کے مناسب عطا فرماتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ جو تمام انبیاء کے سردار ہیں ان کو ازواج مطہرات بھی اللہ تعالیٰ نے پاکی اور صفائی ظاہری اور اخلاقی برتری میں آپ ہی کی مناسب شان عطا فرمائی ہیں اور صدیقہ عائشہ ان سب میں ممتاز ہیں۔ ان کے بارے میں شک و شبہ وہی کرسکتا ہے جس کو خود رسول اللہ ﷺ پر ایمان نہ ہو اور حضرت نوح حضرت لوط (علیہما السلام) کی بیبیوں کے بارے میں جو قرآن کریم میں ان کا کافر ہونا مذکور ہے تو ان کے متعلق بھی یہ ثابت ہے کہ کافر ہونے کے باوجود فسق و فجور میں مبتلا نہیں تھیں۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا ما بغت امراة نبی قط، یعنی کسی نبی کی عورت نے کبھی زنا نہیں کیا (ذکر فی الدرا المنثور) اس سے معلوم ہوا کہ کسی نبی کی بیوی کافر ہوجائے اس کا تو امکان ہے مگر بدکار فاحشہ ہوجائے یہ ممکن نہیں۔ کیونکہ بدکاری طبعی طور پر موجب نفرت عوام ہے کفر طبعی نفرت کا موجب نہیں (بیان القرآن)
Ayah 24:27خلاصہ تفسیر
حکم پنجم استیذان اور آداب ملاقات باہمی کسی کے گھر میں داخل ہونے سے پہلے اجازت حاصل کرنا
سورة نور کے شروع ہی سے فواحش اور بےحیائی کی روک تھام کے لئے ان سے متعلقہ جرائم کی سزاؤں کا ذکر اور بےدلیل کسی پر تہمت لگانے کی مذمت کا بیان تھا آگے انہی فواحش کے انسداد اور عفت و عصمت کے تحفظ کے لئے ایسے احکام دیئے گئے ہیں جن سے ایسے حالات ہی پیدا نہ ہوں جہاں سے بےحیائی کو راستہ ملے انہی احکام میں سے استیذان کے مسائل و احکام ہیں کہ کسی شخص کے مکان میں بغیر اس کی اجازت کے داخل ہونا یا اندر جھانکنا ممنوع کردیا گیا جس میں ایک حکمت یہ بھی ہے کہ غیر محرم عورتوں پر نظر نہ پڑے۔ آیات مذکورہ میں مختلف قسم کے مکانات کے مختلف احکام بیان کئے گئے ہیں۔
مکانات کی چار قسمیں ہیں۔ ایک خاص اپنے رہنے کا مکان، جس میں کسی دوسرے کے آنے کا احتمال نہیں۔ دوسرے وہ مکان جس میں کوئی اور بھی رہتا ہو خواہ وہ اپنے محارم ہی کیوں نہ ہوں یا کسی اور کے اس میں آجانے کا احتمال ہو۔ تیسری قسم وہ مکان جس میں کسی کا بالفعل رہنا یا نہ رہنا دونوں کا احتمال ہو۔ چوتھی قسم وہ مکان جو کسی خاص شخص کی رہائش کے لئے مخصوص نہ ہو جیسے مسجد مدرسہ، خانقاہ وغیرہ عام لوگوں کے انتفاع اور آمد و رفت کی جگہیں۔ ان میں قسم اول کا حکم تو ظاہر تھا کہ اس میں جانے کے لئے کسی سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں اس لئے اس کا ذکر ان آیات میں صراحتہ نہیں کیا گیا باقی تین قسموں کے مکانات کے احکام اگلی آیتوں میں بیان فرماتے ہیں کہ اے ایمان والو تم اپنے (خاص رہنے کے) گھروں کے سوا دوسرے گھروں میں (جن میں دوسرے لوگ رہتے ہوں خواہ وہ ان کی ملک ہو یا کسی سے عاریتہ رہنے کو لے لئے ہوں یا کرایہ پر لئے ہوں) داخل مت ہو جب تک اجازت حاصل نہ کرلو (اور اجازت لینے سے پہلے) ان کے رہنے والوں کو سلام نہ کرلو (یعنی اول باہر سے سلام کر کے پھر ان سے پوچھو کہ کیا ہمیں اندر آنے کی اجازت ہے اور بغیر اجازت لئے ویسے ہی مت گھس جاؤ۔ اور اگرچہ بعض لوگ اجازت لینے کو اپنی شان کے خلاف سمجھیں لیکن واقع میں) یہ ہی تمہارے لئے بہتر ہے (کہ اجازت لینے کو اپنی شان کے خلاف سمجھیں لیکن واقع میں) یہ ہی تمہارے لئے بہتر ہے (کہ اجازت لے کر جاؤ اور یہ بات تم کو اس لئے بتائی) تاکہ تم خیال رکھو (اور اس پر عمل کرو کہ اس میں بڑی حکمتیں ہیں۔ یہ حکم ہوا مکانات کی قسم دوم کا) پھر اگر ان گھروں میں تم کو کوئی آدمی معلوم نہ ہو (خواہ واقع میں وہاں کوئی ہو یا نہ ہو) تو (بھی) ان گھروں میں نہ جاؤ جب تک تم کو اجازت نہ دی جائے (کیونکہ اول تو یہ احتمال ہے کہ اس پر کوئی آدمی موجود ہو اگرچہ تمہیں معلوم نہیں اور واقع میں کوئی موجود نہ ہو تو دوسرے کے خالی مکان میں بھی بلا اجازت گھس جانا، دوسرے کی ملک میں اس کی اجازت کے بغیر تصرف کرنا ہے جو ناجائز ہے۔ یہ حکم ہوا قسم سوم کا) اور اگر (اجازت طلب کرے کے وقت) تم سے یہ کہہ دیا جاوے کہ (اس وقت) لوٹ جاؤ تو تم لوٹ آیا کرو یہی بات تمہارے لئے بہتر ہے (اس بات سے کہ وہیں جم جاؤ کہ کبھی تو باہر نکلیں گے کیونکہ اس میں اپنی ذلت اور دوسرے پر بلا وجہ دباؤ ڈال کر تکلیف پہنچانا ہے اور کسی مسلمان کو ایذاء دینا حرام ہے) اور اللہ تعالیٰ کو تمہارے سب اعمال کی خبر ہی (اگر خلاف حکم کرو گے سزا پاؤ گے اور یہی حکم اس صورت کا ہے کہ گھر والوں نے اگرچہ لوٹ جانے کو کہا نہیں مگر کوئی بولا بھی نہیں۔ ایسی حالت میں تین مرتبہ استیذان اس احتیاط پر کرلیا جاوے کہ شاید سنا نہ ہو۔ تین مرتبہ تک جب کوئی جواب نہ آوے تو لوٹ آنا چاہئے جیسا کہ حدیث میں اس کی تصریح موجود ہے) اور تم کو ایسے مکانات میں (بغیر خاص اجازت کے) چلے جانے میں گناہ نہ ہوگا جن میں (گھر کے طور پر) کوئی نہ رہتا ہو (اور) ان میں تمہاری برت ہو (یعنی ان مکانات کے برتنے اور استعمال کرنے کا تمہیں حق ہو، یہ حکم ہے قسم چہارم کا جو رفاہ عام کے مکانات ہیں اور جن سے عام لوگوں کے منافع متعلق ہیں۔ تو وہاں جانے کے عادة عام اجازت ہوتی ہے) اور تم جو کچھ علانیہ کرتے ہو یا پوشیدہ کرتے ہو اللہ تعالیٰ سب جانتا ہے۔ (اس لئے ہر حال میں تقوی اور خوف خدا لازم ہے۔)
معارف و مسائل
قرآنی آداب معاشرت کا ایک اہم باب کسی کی ملاقات کو جاؤ تو پہلے اجازت لو بغیر اجازت کسی کے گھر میں داخل نہ ہو
افسوس ہے کہ شریعت اسلام نے جس قدر اس معاملے کا اہتمام فرمایا کہ قرآن حکیم میں اس کے مفصل احکام نازل ہوئے اور رسول اللہ ﷺ نے اپنے قول و عمل سے اس کی بڑی تاکید فرمائی، اتنا ہی آج کل مسلمان اس سے غافل ہوگئے۔ لکھے پڑھے نیک لوگ بھی نہ اس کو کوئی گناہ سمجھتے ہیں نہ اس پر عمل کرنے کی فکر کرتے ہیں۔ دنیا کی دوسری مہذب قوموں نے اس کو اختیار کر کے اپنے معاشرہ کو درست کرلیا مگر مسلمان ہی اس میں سب سے پیچھے نظر آتے ہیں۔ اسلامی احکام میں سب سے پہلے سستی اسی حکم میں شروع ہوئی بہرحال استیذان قرآن کریم کا وہ واجب التعمیل حکم ہے کہ اس میں ذرا سی سستی اور تبدیلی کو بھی حضرت ابن عباس انکار آیت قرآن کے شدید الفاظ سے تعبیر فرما رہے ہیں اور اب تو لوگوں نے واقعی ان احکام کو ایسا نظر انداز کردیا ہے کہ گویا ان کے نزدیک یہ قرآن کے احکام ہی نہیں۔ انا اللہ وانا الیہ راجعون
استیذان کی حکمتیں اور مصالح مہمہ
حق تعالیٰ جل شانہ نے ہر انسان کو جو اس کے رہنے کی جگہ عطا فرمائی خواہ مالکانہ ہو یا کرایہ غیرہ پر بہرحال اس کا گھر اس کا مسکن ہے اور مسکن کی اصل غرض سکون و راحت ہے قرآن عزیز نے جہاں اپنی اس نعمت گرانمایہ کا ذکر فرمایا ہے اس میں بھی اس طرف اشارہ ہے فرمایا جَعَلَ لَكُمْ مِّنْۢ بُيُوْتِكُمْ سَكَنًا، یعنی اللہ نے تمہارے گھروں سے تمہارے لئے سکون و راحت کا سامان دیا اور یہ سکون و راحت جبھی باقی رہ سکتا ہے کہ انسان دوسرے کسی شخص کی مداخلت کے بغیر اپنے گھر میں اپنی ضرورت کے مطابق آزادی سے کام اور آرام کرسکے۔ اس کی آزادی میں خلل ڈالنا گھر کی اصل مصلحت کو فوت کرنا ہے جو بڑی ایذاء و تکلیف ہے۔ اسلام نے کسی کو بھی ناحق تکلیف پہنچانا حرام قرار دیا ہے۔ استیذان کے احکام میں ایک بڑی مصلحت لوگوں کی آزادی میں خلل ڈالنے اور ان کی ایذا رسانی سے بچنا ہے جو ہر شریف انسان کا عقلی فریضہ بھی ہے۔ دوسری مصلحت خود اس شخص کی ہے جو کسی ملاقات کے لئے اس کے پاس گیا ہے کہ جب وہ اجازت لے کر شائستہ انسان کی طرح ملے گا تو مخاطب بھی اس کی بات قدر و منزلت سے سنے گا اور اگر اس کی کوئی حاجت ہے تو اس کے پورا کرنے کا داعیہ اس کے دل میں پیدا ہوگا۔ بخلاف اس کے کہ وحشیانہ طرز سے کسی شخص پر بغیر اس کی اجازت کے مسلط ہوگیا تو مخاطب اس کو ایک بلائے ناگہانی سمجھ کر دفع الوقتی سے کام لے گا خیر خواہی کا داعیہ اگر ہوا بھی تو مضحمل ہوجائے گا اور اس کو ایذاء مسلم کا گناہ الگ ہوگا۔
تیسری مصلحت فواحش اور بےحیائی کا انسداد ہے کہ بلا اجازت کسی کے مکان میں داخل ہوجانے سے یہ بھی احتمال ہے کہ غیر محرم عورتوں پر نظر پڑے اور شیطان دل میں کوئی مرض پیدا کر دے اور اسی مصلحت سے احکام استیذان کو قرآن کریم میں حد زنا، حد قذف وغیرہ احکام کے متصل لایا گیا ہے۔
چوتھی مصلحت یہ ہے کہ انسان بعض اوقات اپنے گھر کی تنہائی میں کوئی ایسا کام کر رہا ہوتا ہے جس پر دوسروں کو اطلاع کرنا مناسب نہیں سمجھتا۔ اگر کوئی شخص بغیر اجازت کے گھر میں آجائے تو وہ جس چیز کو دوسروں سے پوشیدہ رکھنا چاہتا تھا اس پر مطلع ہوجائے گا۔ کسی کے پوشیدہ راز کو زبردستی معلوم کرنے کی فکر بھی گناہ اور دوسروں کے لئے موجب ایذا ہے۔ استیذان کے کچھ مسائل تو خود آیات مذکورہ میں آگئے ہیں پہلے ان کی تفصیل و تشریح دیکھئے باقی متفرق مسائل بعد میں لکھے جاویں گے۔
مسئلہان آیات میں يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا سے خطاب کیا گیا جو مردوں کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ مگر عورتیں بھی اس حکم میں داخل ہیں جیسا کہ عام احکام قرآنیہ اسی طرح مردوں کو مخاطب کر کے آتے ہیں عورتیں بھی اس میں شامل ہوتی ہیں بجز مخصوص مسائل کے جن کی خصوصیت مردوں کے ساتھ بیان کردی جاتی ہے۔ چناچہ نساء صحابہ کا بھی یہی معمول تھا کہ کسی کے گھر جاویں تو پہلے ان سے استیذان کریں۔ حضرت ام ایاس فرماتی ہیں کہ ہم چار عورتیں اکثر حضرت صدیقہ عائشہ کے پاس جایا کرتی تھیں اور گھر میں جانے سے پہلے ان سے استیذان کرتی تھیں جب وہ اجازت دیتی تو اندر جاتی تھیں (ابن کثیر بحوالہ ابن ابی حاتم)
مسئلہ۔ اسی آیت کے عموم سے معلوم ہوا کہ کسی دوسرے شخص کے گھر میں جانے سے پہلے استیذان کا حکم عام ہے مرد عورت محرم غیر محرم سب کو شامل ہے۔ عورت کسی عورت کے پاس جائے یا مرد مرد کے پاس، سب کو استیذان کرنا واجب ہے اسی طرح ایک شخص اگر اپنی ماں اور بہن یا دوسری محرم عورتوں کے پاس جائے تو بھی استیذان کرنا چاہئے۔ امام مالک نے موطاء میں مرسلاً عطاء بن یسار سے روایت کیا ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ کیا میں اپنی والدہ کے پاس جاتے وقت بھی استیذان کروں آپ نے فرمایا ہاں استیذان کرو۔ اس شخص نے کہا یا رسول اللہ ! میں تو اپنی والدہ ہی کے ساتھ گھر میں رہتا ہوں۔ آپ نے فرمایا پھر بھی اجازت لئے بغیر گھر میں نہ جاؤ اس نے پھر عرض کیا یا رسول اللہ میں تو ہر وقت ان کی خدمت میں رہتا ہوں آپ نے فرمایا پھر بھی اجازت لئے بغیر گھر میں نہ جاؤ کیا تمہیں یہ بات پسند ہے کہ اپنی والدہ کو ننگی دیکھو اس نے کہا کہ نہیں۔ فرمایا اسی لئے استیذان کرنا چاہئے کیونکہ یہ احتمال ہے کہ وہ گھر میں کسی ضرورت سے ستر کھولے ہوئے ہوں۔ (مظہری)
اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ آیت قرآن میں غَيْرَ بُيُوْتِكُمْ آیا ہی اس میں بُيُوْتِكُمْ سے مراد وہ بیوت اور گھر ہیں جن میں انسان تنہا خود ہی رہتا ہو۔ والدین، بہن بھائی وغیرہ اس میں نہ ہوں۔
مسئلہ۔ جس گھر میں صرف اپنی بیوی رہتی ہو اس میں داخل ہونے کے لئے اگرچہ استیذان واجب نہیں مگر مستحب اور طریق سنت یہ ہے کہ وہاں بھی اچانک بغیر کسی اطلاع کے اندر نہ جائے بلکہ داخل ہونے سے پہلے اپنے پاؤں کی آہٹ سے یا کھنکار سے کسی طرح پہلے باخبر کر دے پھر داخل ہو۔ حضرت عبداللہ بن مسعود کی زوجہ محترمہ فرماتی ہیں کہ عبداللہ جب کبھی باہر سے گھر میں آتے تھے تو دروازہ میں کھنکار کر پہلے اپنے آنے سے باخبر کردیتے تھے تاکہ وہ ہمیں کسی ایسی حالت میں نہ دیکھیں جو ان کو پسند نہ ہو (ابن کثیر بحوالہ ابن جریر وقال اسنادہ صحیح) اور اس صورت میں استیذان کا واجب نہ ہونا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابن جریج نے حضرت عطاء سے دریافت کیا کہ کیا ایک شخص کو اپنی بیوی کے پاس جانے کے وقت بھی استیذان ضروری ہے انہوں نے فرمایا کہ نہیں۔ ابن کثیر نے اس روایت کو نقل کر کے فرمایا ہے کہ اس سے مراد یہی ہے کہ واجب نہیں لیکن مستحب اور اولی وہاں بھی ہے۔
استیذان کا مسنون طریقہ۔ آیت میں جو طریقہ بتلایا گیا ہے وہ حَتّٰى تَسْتَاْنِسُوْا وَتُسَلِّمُوْا عَلٰٓي اَهْلِهَا یعنی کسی کے گھر میں اس وقت تک داخل نہ ہو جب تک دو کام نہ کرلو، اول استیناس، اس کے لفظی معنی طلب انس کے ہیں۔ مراد اس سے جمہور مفسرین کے نزدیک استیذان یعنی اجازت حاصل کرنا ہے استیذان کو بلفظ استیناس ذکر کرنے میں اشارہ اس طرف ہے کہ داخل ہونے سے پہلے اجازت حاصل کرنے میں مخاطب مانوس ہوتا ہے اس کو وحشت نہیں ہوتی۔ دوسرا کام یہ ہے کہ گھر والوں کو سلام کرو۔ اس کا مفہوم بعض حضرات مفسرین نے تو یہ لیا کہ پہلے اجازت حاصل کرو اور جب گھر میں جاؤ تو سلام کرو۔ قرطبی نے اسی کو اختیار کیا ہے کہ اس مفہوم کے اعتبار سے آیت میں کوئی تقدیم تاخیر نہیں پہلے استیذان کیا جائے جب اجازت مل جائے اور گھر میں جائیں تو سلام کریں اور اسی کو حضرت ابو ایوب انصاری کی حدیث کا مقتضی قرار دیا ہے اور ماوردی نے اس میں یہ تفصیل کی ہے کہ اگر اجازت لینے سے پہلے گھر کے کسی آدمی پر نظر پڑجائے تو پہلے سلام کرے پھر اجازت طلب کرے ورنہ پہلے اجازت لے اور جب گھر میں جائے تو سلام کرے مگر عام روایات حدیث سے جو طریقہ مسنون معلوم ہوتا ہے وہ یہی ہے کہ پہلے باہر سے سلام کرے السلام علیکم اس کے بعد اپنا نام لے کر کہے کہ فلاں شخص ملنا چاہتا ہے۔
امام بخاری نے الادب المفرد میں حضرت ابوہریرہ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ جو شخص سلام سے پہلے استیذان کرے اس کو اجازت نہ دو (کیونکہ اس نے مسنون طریقہ کو چھوڑ دیا) (روح المعانی) اور ابوداؤد کی حدیث میں ہے کہ بنی عامر کے ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح استیذان کیا کہ باہر سے کہا أ الج کیا میں گھس جاؤں۔ آپ نے اپنے خادم سے فرمایا کہ یہ شخص استیذان کا طریقہ نہیں جانتا باہر جا کر اس کو طریقہ سکھلاؤ کہ یوں کہے السلام علیکم أ ادخل یعنی کیا میں داخل ہوسکتا ہوں۔ ابھی یہ خادم باہر نہیں گیا تھا کہ اس نے خود حضور کے کلمات سن لئے اور اس طرح کہا السلام علیکم أ ادخل۔ تو آپ نے اندر آنے کی اجازت دے دی (ابن کثیر) اور بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت جابر سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لا تاذنوا لمن لم بیدا بالسلام یعنی جو شخص پہلے سلام نہ کرے اس کو اندر آنے کی اجازت نہ دو (مظہری) اس واقعہ میں رسول اللہ ﷺ نے دو اصلاحیں فرمائیں۔ ایک یہ کہ پہلے سلام کرنا چاہئے۔ دوسرے یہ کہ اس نے ادخل کے بجائے الج کا لفظ استعمال کیا تھا۔ یہ نامناسب تھا کیونکہ الج ولوج سے مشتق ہے جس کے معنے کسی تنگ جگہ میں گھسنے کے ہیں یہ تہذیب الفاظ کے خلاف تھا۔ بہرحال ان روایات سے یہ معلوم ہوا کہ آیت قرآن میں جو سلام کرنے کا ارشاد ہے یہ سلام استیذان ہے جو اجازت حاصل کرنے کے لئے باہر سے کیا جاتا ہے تاکہ اندر جو شخص ہے وہ متوجہ ہوجائے اور جو الفاظ اجازت طلب کرنے کے لئے کہے گا وہ سن لے۔ گھر میں داخل ہونے کے وقت حسب معمول دوبارہ سلام کرے۔
مسئلہ۔ پہلے سلام اور پھر داخل ہونے کی اجازت لینے کا جو بیان اوپر احادیث سے ثابت ہوا اس میں بہتر یہ ہے کہ اجازت لینے والا خود اپنا نام لے کر اجازت طلب کرے جیسا کہ حضرت فاروق اعظم کا عمل تھا کہ انہوں نے آنحضرت ﷺ کے دروازہ پر آ کر یہ الفاظ کہے۔ السلام علی رسول اللہ السلام علیکم ایدخل عمر یعنی سلام کے بعد کہا کہ کیا عمر داخل ہوسکتا ہے (رواہ قاسم بن اصبغ و ابن عبدالبر فی التمہید عن ابن عباس عن عمر۔ ابن کثیر) اور صحیح مسلم میں ہے کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری حضرت عمر کے پاس گئے تو استیذان کے لئے یہ الفاظ فرمائے۔ السلام علیکم ھذا ابو موسیٰ السلام علیکم ھذا الاشعری (قرطبی) اس میں بھی پہلے اپنا نام ابو موسیٰ بتلایا پھر مزید وضاحت کے لئے اشعری کا ذکر کیا اور یہ اس لئے کہ جب تک آدمی اجازت لینے والے کو پہچانے نہیں تو جواب دینے میں تشویش ہوگی۔ اس تشویش سے بھی مخاطب کو بچانا چاہئے۔
مسئلہ۔ اور اس معاملہ میں سب سے برا وہ طریقہ ہے جو بعض لوگ کرتے ہیں کہ باہر سے اندر داخل ہونے کی اجازت مانگی اپنا نام ظاہر نہیں کیا۔ اندر سے مخاطب نے پوچھا کون صاحب ہیں۔ تو جواب میں یہ کہہ دیا کہ میں ہوں، کیونکہ یہ مخاطب کی بات کا جواب نہیں، جس نے اول آواز سے نہیں پہچانا وہ میں کے لفظ سے کیا پہچانے گا۔
خطیب بغدادی نے اپنے جامع میں علی بن عاصم واسطی سے نقل کیا ہے کہ وہ بصرہ گئے تو حضرت مغیرہ بن شعبہ کی ملاقات کو حاضر ہوئے۔ دروازہ پر دستک دی۔ حضرت مغیرہ نے اندر سے پوچھا کون ہے تو جواب دیا انا (یعنی میں ہوں) تو حضرت مغیرہ نے فرمایا کہ میرے دوستوں میں تو کوئی بھی ایسا نہیں جس کا نام انا ہو پھر باہر تشریف لائے اور ان کو حدیث سنائی کہ ایک روز حضرت جابر بن عبداللہ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اجازت لینے کے لئے دروازہ پر دستک دی۔ آنحضرت ﷺ نے اندر سے پوچھا کون صاحب ہیں ؟ تو جابر نے یہی لفظ کہہ دیا انا یعنی میں ہوں آپ نے بطور زجرو تنبیہ کے فرمایا انا انا یعنی انا انا کہنے سے کیا حاصل ہے اس سے کوئی پہچانا نہیں جاتا۔
مسئلہ۔ اس سے بھی زیادہ برا یہ طریقہ ہے جو آج کل بہت سے لکھے پڑھے لوگ بھی استعمال کرتے ہیں کہ دروازہ پر دستک دی جب اندر سے پوچھا گیا کہ کون صاحب ہیں تو خاموش کھڑے ہیں کوئی جواب ہی نہیں دیتے۔ یہ مخاطب کو تشویش میں ڈالنے اور ایذا پہنچانے کا بدترین طریقہ ہے جس سے استیذان کی مصلحت ہی فوت ہوجاتی ہے۔
مسئلہ۔ روایات مذکورہ سے یہ بھی ثابت ہوا کہ استیذان کا یہ طریقہ بھی جائز ہے کہ دروازہ پر دستک دے دیجائے بشرطیکہ ساتھ ہی اپنا نام بھی ظاہر کر کے بتلا دیا جائے کہ فلاں شخص ملنا چاہتا ہے۔
مسئلہ۔ لیکن اگر دستک ہو تو اتنی زور سے نہ دے کہ جس سے سننے والا گھبرا اٹھے بلکہ متوسط انداز سے دے جس سے اندر تک آواز تو چلی جائے لیکن کوئی سختی ظاہر نہ ہو۔ جو لوگ رسول اللہ ﷺ کے درازہ پر دستک دیتے تھے تو ان کی عادت یہ تھی کہ ناخنوں سے دروازہ پر دستک دیتے تاکہ حضور ﷺ کو تکلیف نہ ہو (رواہ الخطیب فی جامعہ۔ قرطبی) جو شخص استیذان کے مقصد کو سمجھ لے کہ اصل اس سے اتیناس ہے یعنی مخاطب کو مانوس کر کے اجازت حاصل کرنا وہ خود بخود ان سب چیزوں کی رعایت کو ضروری سمجھے گا جن چیزوں سے مخاطب کو تکلیف ہو اس سے بچے گا۔ اپنا نام ظاہر کرے اور دستک دے تو متوسط انداز سے دے یہ سب چیزیں اس میں شامل ہیں۔
تنبیہ ضرورویآج کل اکثر لوگوں کو تو استیذان کی طرف کوئی توجہ ہی باقی نہیں رہی جو صریح ترک واجب کا گناہ ہے اور جو لوگ استیذان کرنا چاہیں اور مسنون طریقہ کے مطابق باہر سے پہلے سلام کریں پھر اپنا نام بتلا کر اجازت لیں۔ ان کے لئے اس زمانے میں بعض دشواریاں یوں بھی پیش آتی ہیں کہ عموماً مخاطب جس سے اجازت لیتا ہے وہ دروازہ سے دور ہے۔ وہاں تک سلام کی آواز اور اجازت لینے کے الفاظ پہنچنا مشکل ہیں اس لئے یہ سمجھ لینا چاہئے کہ اصل واجب یہ بات ہے کہ بغیر اجازت کے گھر میں داخل نہ ہو۔ اجازت لینے کے طریقے ہر زمانے اور ہر ملک میں مختلف ہو سکتے ہیں۔ ان میں سے ایک طریقہ درواز پر دستک دینے کا تو خود روایات حدیث سے ثابت ہے اسی طرح جو لوگ اپنے دروازوں پر گھنٹی لگا لیتے ہیں اس گھنٹی کا بجا دینا بھی واجب استیذان کی ادائیگی کے لئے کافی ہے۔ بشرطیکہ گھنٹی کے بعد اپنا نام بھی ایسی آواز سے ظاہر کر دے جس کو مخاطب سن لے۔ اس کے علاوہ اور کوئی طریقہ جو کسی جگہ رائج ہو اس کا استعمال کرلینا بھی جائز ہے آج کل جو شناختی کارڈ کا رواج یورپ سے چلا ہے یہ رسم اگرچہ اہل یورپ نے جاری کی مگر مقصد استیذان اس میں بہت اچھی طرح پورا ہوجاتا ہے کہ اجازت دینے والے کو اجازت چاہنے والے کا پورا نام و پتہ اپنی جگہ بیٹھے ہوئے بغیر کسی تکلیف کے معلوم ہوجاتا ہے اس لئے اس کو اختیار کرلینے میں کوئی مضائقہ نہیں۔
Ayah 24:28مسئلہ۔ اگر کسی شخص نے کسی شخص سے استیذان کیا اور اس نے جواب میں کہہ دیا کہ اس وقت ملاقات نہیں ہو سکتی لوٹ جایئے تو اس سے برا نہ ماننا چاہئے کیونکہ ہر شخص کے حالات اور اس کے مقتضیات مختلف ہوتے ہیں بعض وقت وہ مجبور ہوتا ہے باہر نہیں آسکتا نہ آپ کو اندر بلا سکتا ہے تو ایسی حالت میں اس کے عذر کو قبول کرنا چاہئے۔ آیت مذکورہ میں یہی ہدایت ہے وَاِنْ قِيْلَ لَكُمُ ارْجِعُوْا فَارْجِعُوْا هُوَ اَزْكٰى لَكُمْ یعنی جب آپ سے کہا جائے کہ اس وقت لوٹ جائیں تو آپ کو خوشدلی سے لوٹ آنا چاہئے اس سے برا ماننا یا وہیں جم کر بیٹھ جانا دونوں چیزیں درست نہیں بعض حضرات سلف سے منقول ہے کہ وہ فرماتے تھے کہ میں عمر بھر اس تمنا میں رہا کہ کسی کے پاس جا کر استیذان کروں اور وہ مجھے یہ جواب دے کر لوٹ جاؤ تو میں اس حکم قرآن کی تعمیل کا ثواب حاصل کروں مگر عجیب اتفاق ہے کہ مجھے کبھی یہ نعمت نصیب نہ ہوئی۔
مسئلہ۔ شریعت اسلام نے حسن معاشرت کے آداب سکھانے اور سب کو ایذاء و تکلیف سے بچانے کا دو طرفہ معتدل نظام قائم فرمایا ہے اس آیت میں جس طرح آنے والے کو یہ ہدایت دی گئی ہے کہ اگر استیذان کرنے پر آپ کو اجازت نہ ملے اور کہا جائے کہ اس وقت لوٹ جاؤ تو کہنے والے کو معذور سمجھو اور خوشدلی کے ساتھ واپس لوٹ جاؤ برا نہ مانو اسی طرح ایک حدیث میں اس کا دوسرا رخ اس طرح آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ان لزورک علیک حقا یعنی جو شخص آپ سے ملاقات کے لئے آئے اس کا بھی آپ پر حق ہے یعنی اس کا یہ حق ہے کہ اس کو اپنے پاس بلاؤ یا باہر آ کر اس سے ملو، اس کا اکرام کرو، بات سنو بلا کسی شدید مجبوری اور عذر کے ملاقات سے انکار نہ کرو۔
مسئلہ۔ اگر کسی کے دروازے پر جا کر استیذان کیا اور اندر سے کوئی جواب نہ آیا تو سنت یہ ہے کہ دوبارہ پھر استیذان کرے اور پھر بھی جواب نہ آوے تو تیسری مرتبہ کرے۔ اگر تیسری مرتبہ بھی جواب نہ آوے تو اس کا حکم وہی ہے جو ارجعوا کا ہے۔ یعنی لوٹ جانا چاہئے کیونکہ تین مرتبہ کہنے سے تقریباً یہ تو معتین ہوجاتا ہے کہ آواز سن لی مگر یا تو وہ شخص ایسی حالت میں ہے کہ جواب نہیں دے سکتا مثلاً نماز پڑھ رہا ہے یا بیت الخلاء میں ہے یا غسل کر رہا ہے اور یا پھر اس کو اس وقت ملنا منظور نہیں دونوں حالتوں میں وہیں جمے رہنا اور مسلسل دستک وغیر دیتے رہنا بھی موجب ایذا ہے جس سے بچنا واجب ہے اور استیذان کا اصل مقصد ہی ایذا سے بچنا ہے۔
حضرت ابو موسیٰ اشعری سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اذا استاذن احدکم ثلاثاً فلم یوذن لہ فلیرجع یعنی جب کوئی آدمی تین مرتبہ استیذان کرے اور کوئی جواب نہ آوے تو اس کو لوٹ جانا چاہئے (ابن کثیر بحوالہ صحیح بخاری) اور مسند احمد میں حضرت انس سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ حضرت سعد بن عبادہ کے مکان پر تشریف لے گئے اور سنت کے مطابق باہر سے استیذان کے لئے سلام کیا السلام علیکم حضرت سعد بن عبادہ نے سلام کا جواب تو دیا مگر آہستہ کہ حضور نہ سنیں، آپ نے دوبارہ پھر سہ بارہ سلام کیا۔ حضرت سعد سنتے اور آہستہ جواب دیتے رہے تین مرتبہ ایسا کرنے کے بعد آپ لوٹ گئے جب سعد نے دیکھا کہ اب آواز نہیں آ رہی تو گھر سے نکل کر پیچھے دوڑے اور یہ عذر پیش کیا کہ یا رسول اللہ میں نے ہر مرتبہ آپ کی آواز سنی اور جواب بھی دیا مگر آہستہ دیا تاکہ زبان مبارک سے زیادہ سے زیادہ سلام کے الفاظ میرے بارے میں نکلیں وہ میرے لئے موجب برکت ہوگا (آپ نے ان کو طریقہ سنت بتلا دیا کہ تین مرتبہ جواب نہ آنے پر لوٹ جانا چاہئے) اس کے بعد حضرت سعد آنحضرت ﷺ کو اپنے گھر ساتھ لے گئے انہوں نے کچھ مہمانی کی آپ نے اس کو قبول فرمایا۔
حضرت سعد کا یہ عمل غلبہ عشق و محبت کا اثر تھا کہ اس وقت ذہن اس طرف نہ گیا کہ سردار دو عالم دروازے پر تشریف فرما ہیں مجھے فوراً جا کر ان کے قدم چوم لینے چاہئیں بلکہ ذہن اس طرف متوجہ ہوگیا کہ آپ کی زبان مبارک سے السلام علیکم جتنی مرتبہ زیادہ نکلے گا میرے لئے زیادہ مفید ہوگا۔ بہرحال اس سے یہ مسئلہ ثابت ہوگیا کہ تین مرتبہ استیذان کے بعد جواب نہ آوے تو سنت یہ ہے کہ لوٹ جائے وہیں جم کر بیٹھ جانا خلاف سنت اور مخاطب کے لئے موجب ایذا ہے کہ اس کو دباؤ ڈال کر نکلنے پر مجبور کرنا ہے۔
مسئلہ۔ یہ حکم اس وقت ہے جبکہ سلام یا دستک وغیرہ کے ذریعہ اجازت حاصل کرنے کی کوشش تین متربہ کرلی ہو کہ اب وہاں جم کر بیٹھ جانا موجب ایذا ہے لیکن اگر کوئی کسی عالم یا بزرگ کے دروازہ پر بغیر استیذان کئے ہوئے اور بغیر ان کو اطلاع دیئے ہوئے انتظار میں بیٹھ رہے کہ جب اپنی فرصت کے مطابق باہر تشریف لاویں گے تو ملاقات ہوجائے گی یہ اس میں داخل نہیں بلکہ عین ادب ہے خود قرآن کریم نے لوگوں کو یہ ہدایت دی ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب گھر میں ہوں تو ان کو آواز دے کر بلانا ادب کے خلاف ہے بلکہ لوگوں کو چاہئے کہ انتظار کریں جس وقت آپ اپنی ضرورت کے مطابق باہر تشریف لاویں اس وقت ملاقات کریں۔ آیت یہ ہے وَلَوْ اَنَّهُمْ صَبَرُوْا حَتّٰى تَخْرُجَ اِلَيْهِمْ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ اور حضرت ابن عباس فرماتے ہیں میں بعض اوقات کسی انصاری صحابی کے دروازہ پر پورے دوپہر انتظار کرتا رہتا ہوں کہ جب وہ باہر تشریف لاویں تو ان سے کسی حد کی تحقیق کروں اور اگر میں ان سے ملنے کے لئے اجازت مانگتا تو وہ ضرور مجھے اجازت دیدیتے مگر میں اس کو خلاف ادب سمجھتا تھا اس لئے انتظار کی مشقت گوارا کرتا تھا۔ (صحیح بخاری)