Ayah 56:81(81) تو کیا تم اس کلام کے بارے میں مداہنت اور کاہلی برتتے ہو۔ مداہنت کے معنی ہیں کسی کام میں نرمی برتنا اور سستی اور کاہلی سے بےپروائی برتنا اردو میں یہ لفظ بولا جاتا ہے کہ حق اور سچی بات نہیں کہتے مداہنت برتتے ہو کسی امر میں ڈھیلی بات کہنی لا یتصلب بہ تھاونا بہ مطلب یہ کہ قرآن کے بارے میں مداہنت کرتے ہو اور اس کو قبول کرنے میں تھاون اور سستی ظاہر کرتے ہو اور اس کو ایک سرسری اور معمولی بات سمجھتے ہو۔
Ayah 56:82(82) اور کیا تم نے اپنا یہ وظیفہ مقرر کرلیا ہے کہ ہر نعمت کی تکذیب کرتے ہو۔ یعنی تم نے تکذیب اپنی غذا بنا لیا ہے کہ جس طرح کھانا ضروری ہے اسی طرح کلام کی تکذیب کرنا ضروری ہے یہ ایک محاورہ اردو میں بولا کرتے ……ہیں فلاں شخص نے تو میری مخالفت کو روٹی رزق بنا لیا ہے یہاں مطلب یہ ہے کہ قرآن اور قیامت اور پیغمبر کی تکذیب کو غذا اور رزق بنارکھا ہے۔
مطلب کا خلاصہ یہ ہے کہ اس قرآن کو سرسری سمجھتے ہو اور اس سے بڑھ کر یہ کہ ہر نعمت کی تکذیب کو اپنا شیوہ اور روٹی رزق بنا لیا ہے بجائے اس کے کہ نعمت کا شکر بجا لائو تکذیب کرتے ہو اور اسی وجہ سے توحید اور وقوع قیامت کا انکار کرتے ہو اور جھٹلاتے ہو ، آگے تنبیہہ ہے۔
Ayah 56:83(83) پس جب کسی کی روح گلے تک پہنچ جاتی ہے۔
Ayah 56:84(84) اور تم اس وقت مرنے والے کو دیکھا کرتے ہو۔
Ayah 56:85(85) اور ہم اس مرنے والے کے تم سے زیادہ قریب ہوتے ہیں لیکن تم ہمارے قرب علمی کو سمجھ نہیں سکتے اور تم ہم کو نہیں دیکھتے۔ یعنی جب کسی کی جان سمٹ کر اس کے حلق اور ٹنیٹو میں آجاتی ہے اور ٹینٹو میں پہنچ جاتی ہے اور تم اس وقت دیکھا کرتے ہو اور ہم بھی اپنے قرب علمی کی بنا پر تم سے زیادہ اس مرنے والے کے قریب ہوتے ہیں لیکن نہ تم ہم کو دیکھتے ہو اور ن تم ہمارے قرب علمی کو اپنے جہل کی وجہ سے سمجھ سکتے ہو ہم تم سے زیادہ مرنے والے کے حال کو جانتے ہیں۔
Ayah 56:86(86) پھر اگر تم کسی کے زیر فرمان نہیں ہو اور تمہارا حساب کتاب ہونے والا نہیں ہے۔
Ayah 56:87(87) اور تم خود مختاری کے دعوے میں سچے ہو تو اس روح کو گلے میں آئے پیچھے بدن میں لوٹا کیوں نہیں دیتے - یعنی اگر تم کسی کے حکم میں نہیں ہو اور کسی کے زیر فرمان اور زیر اختیار نہیں ہو اور تمہارا حساب کتاب ہونا ہے نہ تم کو خدا کے حضور میں پیش ہونا ہے بلکہ تم خود مختار ہو اور تم اپنے ا س دعوے میں سچے ہو تو اس جان کو جو حلقوم میں پہنچ گئی ہے اس کو پھر واپس جسم میں کیوں نہیں پھیر لاتے اور واپس کیوں نہیں کردیتے یعنی وقوع قیامت اور بعث لعدالموت حق ہے جیسا کہ قرآن ناطق ہے اور دلائل عقل ونقلی سے ثابت ہے لیکن تم نہیں مانتے اور انکار کئے جاتے ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ روح پر اپنا قابو مانتے ہو یا تمہارے سے انکار کو یہ مستلزم ہے کہ روح تمہارے پس میں ہے اور خالق الارواح کے بس میں نہیں ہے۔
تو اچھا بعث کے عوقت تو روح اجسام میں داخل کی جائیگی اور اب نکالی جارہی ہے اور تمہارے آنکھوں کے روبرو یہ ہورہا ہے اور تم غمگین پریشان بھی ہو تو اچھا اس روح کو واپس لے آئو تاکہ ہم تمہاری طاقت اور زور آزمائی کا حال معلوم کرلیں اگر تم اس دعوے میں سچے ہو اور خود مختار ہو تو جان کو واپس کرلو تاکہ یہ ثابت ہوجائے کہ نہ کوئی جان نکال سکتا ہے اور نہ جان کو کوئی تمہاری منشاء کے خلاف جسم میں داخل کرسکتا ہے اور تم واپس کر نہیں سکتے لہٰذا معلوم ہوا تم کو جان پر کوئی دسترس نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ جب چاہے اس کو جسم سے نکال دے اور جب چاہے داخل کردے۔
وھوالمطوب کیونکہ یہی خلاصہ ہے بعث بعدالموت کا ۔ آگے مرنے والوں کی تقسیم ہے جو بات ابتدائے سورت میں تفصیل کے ساتھ بیان کی گئی ہے اسی کو سورت کے ختم پر اجمالاً بیان کرتے ہوئے سورت کو ختم کرتے ہیں۔
Ayah 56:88(88) پھر اگر وہ مرنے والا مقربین بارگاہ میں سے ہوگا۔
Ayah 56:89(89) تو اس کو راحت ہے اور روزی ہے اور آرام و آسائش کا باغ۔ یعنی اگر سابقین میں سے ہے اور بھلائیوں میں آگے بڑھنے والا ہے تو اس کے لئے راحت ورزق اور آسائش و آرام کی بہشت کا کیا کہنا ہے بعض حضرات نے ریحان کا ترجمہ خوشبودار پھول کیا ہے بہرحال حضرت حق کی جانب سے نعمتوں کی فراوانی ہوگی۔
Ayah 56:90(90) اور بہرحال اگر وہ داہنے والوں میں سے ہوگا۔
Ayah 56:91(91) تو اس کو کہا جائے گا تیرے لئے سلامتی اور امن وامان ہے کہ تو اصحاب یمین سے ہے۔ یعنی اگر اہل سعادت سے ہے تو اس کو امن و سلامتی کا پیغام ہے کہ تو اصحاب یمین اور اہل سعادت سے ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی خاطر جمع رکھ ان کی طرف سے۔ یعنی اصحاب یمین کی جانب سے کوئی تشویس نہ ہونی چاہیے ہم نے اصحاب یمین کو ہی مخاطب کیا ہے اور شاہ صاحب (رح) کا خطاب عام ہے جیسا کہ ان کے منہیہ سے معلوم ہوتا ہے۔
بعض نے خطاب نبی کریم ﷺ کے لئے بیان کیا ہے یعنی اصحاب یمین کی جانب سے حضور ﷺ کو اطمینان دلایا ہے کہ ان کو سلامتی ہے آپ ان کا فکر نہ کریں بہرحال ہمارے ترجمے کا مطلب یہ ہے کہ مرنے والے سے کہا جائے گا تو اصحاب یمین سے ہے تیرے لئے سلامتی ہے یہ پیغام یا تو ابتداء ہی میں دیا جائے گا اگر وہ جنت میں ابتداء ً داخل ہونے کا مستحق ہے یا خطائیں اور تقصیرات کی بخشش کے بعد کہا جائے گا ۔
Ayah 56:92(92) اور بہرحال اگر وہ شخص جھٹلانے والے گمراہوں میں سے ہوگا۔
Ayah 56:93(93) تو کھولتے ہوئے گرم پانی سے اس کی مہمانی ہوگی۔ یعنی گرم پانی پلایا جائے گا یا سر پر ڈالا جائے گا۔
Ayah 56:94(94) اور اس کو جہنم میں داخل کرنا اور آگ میں بٹھانا ہوگا۔
Ayah 56:95(95) بلا شبہ یہ حالات جو باین ہوئے یہ سراسر حق اور یقینی ہیں بیشک یہ بات یہی ہے لائق یقین کے۔ یعنی تینوں فرقوں کے جو حالات مذکور ہو ہے یہ بالکل یقینی بات ہے سابقین اصحاب یمین یعنی عامہ مومنین جس میں اہل کبائر بھی داخل ہیں کیونکہ وہ مکذبین نہیں ہیں اگرچہ گنہگار ہوں۔ اور تیسرے گمراہ اور تکذیب کرنے والے سو ان کے لئے گونا گوں عذاب بیان ہوا۔
غرض یہ جو کچھ مذکور ہوا ۔ یہ حق الیقین ہے اور ایسا ہی ہوگا پس جو پروردگار اس قسم کے تصرفات پر قادر ہے اور اس قدر عظیم الشان اس کا اقتدار اور اختیار ہے تو اس کی پاکی بیان کرنی چاہیے جیسا کہ آگے ذکر ہے۔
Ayah 56:96(96) سوائے پیغمبر آپ اپنے عظیم الشان پروردگار کے نام کی پاکی بیان کیجئے۔
حدیث میں ہے فرمایا رسول خدا ﷺ نے جو شخص ہر رات میں سورة واقعہ پڑھ لیا کرے گا اس کو فاقے کی تکلیف کبھی نہیں ہوگی۔
حدیث میں ہے دو کلمے ہیں جو زبان پر ہلکے میزان میں بھاری اور رحمان کو محبوب ہیں وہ دونوں کلمے سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم ہیں
تم تفسیر سورة الواقعۃ