56. Surah Al-Waaqia

الواقعةThe Inevitable · 96 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 56:41

وَ اَصْحٰبُ الشِّمَالِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الشِّمَالِؕ Open ayah 56:41 in the Quran reader

اور بائیں والے سو وہ بائیں والے کیسی حالت میں ہیں۔

(41) اور بائیں ہاتھ والے سو وہ بائیں ہاتھ والے کیسی بری حالت میں ہیں۔ یعنی جن کے نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں دیئے گئے یا ان کو بائیں جانب کھڑا کیا گیا۔
Ayah 56:42

فِیْ سَمُوْمٍ وَّ حَمِیْمٍۙ Open ayah 56:42 in the Quran reader

وہ لوگ آگ میں اور کھولتے ہوئے گرم پانی میں۔

(42) وہ لوگ آگ میں اور کھولتے ہوئے گرم پانی میں۔
Ayah 56:43

وَّ ظِلٍّ مِّنْ یَّحْمُوْمٍۙ Open ayah 56:43 in the Quran reader

اور سیاہ دھوئیں کے سایہ تلے ہوں گے۔

(43) اور سیاہ دھوئیں کے سائے کے نیچے ہوں گے۔
Ayah 56:44

لَّا بَارِدٍ وَّ لَا كَرِیْمٍ Open ayah 56:44 in the Quran reader

وہ سایہ نہ ٹھنڈا ہوگا اور نہ نفع بخش ہوگا۔

(44) وہ سایہ نہ ٹھنڈا ہوگا نہ وہ باعزت اور فرحت بخش ہوگا یعنی اہل شقاوت مختلف اور گونا گوں عذابوں میں مبتلا ہوں گے۔ اسی کی یہ تفصیل ہے سموم گرم بھاپ جو آگ کی طرح تیز ہوا اور آگ کا کام کریاسی لئے کسی نے آگ کا ترجمہ کیا اور کسی نے لو اور گرم ہوا ترجمہ کیا اور گرم پانی پینے کو یا گرم کھولتا ہوا پانی سروں پر ڈالا جائے گا۔ سیاہ دھوئیں کے سائے تلے یعنی سروں پر سیاہ دھوئیں کے بادل چھائے ہوئے ہوں گے یعنی نہ اس سائے تلے سائے کی سی ٹھنڈک نہ کو ب آبرو مندانہ فرحت ومنفعت اور نہ وہ سایہ نفع بخش۔
Ayah 56:45

اِنَّهُمْ كَانُوْا قَبْلَ ذٰلِكَ مُتْرَفِیْنَۚۖ Open ayah 56:45 in the Quran reader

یہ لوگ اس سے پہلے بڑے خوش عیش وناز پر ور وہ تھے۔

(45) یہ لوگ اس سے پہلے بڑے خوش عیش آسودہ اور ناز پروردہ تھے۔ یعنی دنیا میں آسودہ حالی کی زندگی بسر کرتے تھے۔
Ayah 56:46

وَ كَانُوْا یُصِرُّوْنَ عَلَى الْحِنْثِ الْعَظِیْمِۚ Open ayah 56:46 in the Quran reader

اور یہ بڑے بھاری گناہ یعنی شرک پر اصرار کیا کرتے تھے۔

(46) اور یہ بڑے بھاری گناہ پر اڑتے اور اصرار کرتے تھے۔ یعنی شرک پر مداومت اور ضد کرتے تھے۔
Ayah 56:47

وَ كَانُوْا یَقُوْلُوْنَ١ۙ۬ اَئِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَۙ Open ayah 56:47 in the Quran reader

اور یہ یوں کہا کرتے تھے کہ جب ہم مرگئے اور مٹی اور ہڈیاں ہوگئے تو کیا ہم دوبارہ زندہ کرکے اٹھائے جائیں گے۔

(47) اور یوں کہا کرتے تھے کہ جب ہم مرگئے اور مٹی اور ہڈیاں ہوگئے تو کیا ہم دوبارہ زندہ کرکے اٹھائے جائیں گے۔
Ayah 56:48

اَوَ اٰبَآؤُنَا الْاَوَّلُوْنَ Open ayah 56:48 in the Quran reader

اور کیا ہمارے اگلے باپ دادا بھی اٹھائے جائیں گے۔

(48) اور کیا ہمارے اگلے باپ دادا بھی اٹھائے جائیں گے۔
Ayah 56:49

قُلْ اِنَّ الْاَوَّلِیْنَ وَ الْاٰخِرِیْنَۙ Open ayah 56:49 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے کہ سب اگلے اور پچھلے ۔

(49) اے پیغمبر آپ فرمادیجئے کہ سب اگلے اور پچھلے۔
Ayah 56:50

لَمَجْمُوْعُوْنَ١ۙ۬ اِلٰى مِیْقَاتِ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ Open ayah 56:50 in the Quran reader

ایک مقررہ دن میں جب اس کا وقت آئے گا ضرور جمع کیے جائیں گے۔

(50) ایک مقررہ دن میں جب اس کا وقت آئے گا ضرور جمع کئے جائیں گے۔ ظاہر ہے کہ وہ بعث بعدالموت کے منکر تھے اس لئے ان کو جہنم میں وہ بات یاد دلائی جائیگی اور یہاں ان کو نبی کریم ﷺ کی زبان مبارک سے جواب بھی دلوایا گیا یعنی یہ امر کوئی مستبعد نہیں اس دن کا جو وقت مقرر ہے جب وہ وقت آئے گا تو سب اگلے پچھلے جمع کئے جائیں گے۔
Ayah 56:51

ثُمَّ اِنَّكُمْ اَیُّهَا الضَّآلُّوْنَ الْمُكَذِّبُوْنَۙ Open ayah 56:51 in the Quran reader

پھر اے گمراہو تکذیب کرنے والو۔

(51) پھر اے گمراہو اور دین حق کی تکذیب کرنے والو۔
Ayah 56:52

لَاٰكِلُوْنَ مِنْ شَجَرٍ مِّنْ زَقُّوْمٍۙ Open ayah 56:52 in the Quran reader

تم کو زقوم کے درخت سے کھانا ہوگا۔

(52) تم کو زقوم کے درخت سے کھانا ہوگا۔ زقوم کی تفصیل والصفت میں گزر چکی ہے۔
Ayah 56:53

فَمَالِئُوْنَ مِنْهَا الْبُطُوْنَۚ Open ayah 56:53 in the Quran reader

پھر اسی سے اپنے پیٹوں کو بھرنا ہوگا۔

(53) پھر اسی سے پیٹوں کو بھرنا ہوگا۔
Ayah 56:54

فَشٰرِبُوْنَ عَلَیْهِ مِنَ الْحَمِیْمِۚ Open ayah 56:54 in the Quran reader

پھر اس زقوم کے اوپر سے کھولتا ہوا گرم پانی پینا ہوگا۔

(54) پھر اس زقوم کے اوپر سے گرم کھولتا ہوا پانی پینا ہوگا۔
Ayah 56:55

فَشٰرِبُوْنَ شُرْبَ الْهِیْمِؕ Open ayah 56:55 in the Quran reader

پھر اس کو اس طرح پیو گے جیسے ان پیاسے اونٹوں کا پینا جو استسقاء کی بیماری میں مبتلا ہوں۔

(55) پھر اس پانی کو اس طرح پیو گے جیسے ان پیاسے اونٹوں کا پینا جو استسقاء کی بیماری میں مبتلا ہوں۔
Ayah 56:56

هٰذَا نُزُلُهُمْ یَوْمَ الدِّیْنِؕ Open ayah 56:56 in the Quran reader

قیامت کے دن یہ ان لوگوں کی مہمانی کا سامان ہوگا۔

(56) قیامت کی دن یہ ان لوگوں کی مہمانی کا سامان ہوگا۔ یعنی زقوم جیسا بدمزہ بدبودار درخت تمہاری خوراک ہوگا اس سے کھانے والے ہوگے اور اسی سے پیٹ بھرنے والے ہوگے پھر اس تکلیف دہ خوراک کے اوپر سے ایسا گرم کھولتا ہوا پانی پیو گے اور پیو گے بھی اس طرح جیسے تو نس کے مارے اونٹ پانی پیا کرتے ہیں۔ ھیم الجمل الذی بہ الھیام۔ ہیام کوئی بیماری ہے جو استسقاء کے مشابہ ہوتی ہے اس میں پیاس بہت لگتی ہے اور کتنا ہی پانی پئے پیاس نہیں بجھتی ۔ یا تین دن کے پیاسے اونٹ، جیسا کہ بعض نے کہا ہے مطلب یہ ہے کہ جس طرح پیاسے اونٹ پانی پر گرتے ہیں اسی طرح تم بھی پانی پر گروگے مگر پانی ایسا تیز گرم ہوگا کہ انتڑیاں کٹ کر باہر آپڑیں گی ، یو م الدین یعنی قیامت کے دن اور روز جزا کو یہ ان کی مہمانی ہوگی۔ یہ تمام اس عذاب کی تفصیل بیان فرمائی جو پناہ بخدا جہنم میں پیش آنے والا ہے اب آگے دلائل قدرت کیساتھ بعث بعدالموت کا ذکر فرماتے ہیں۔
Ayah 56:57

نَحْنُ خَلَقْنٰكُمْ فَلَوْ لَا تُصَدِّقُوْنَ Open ayah 56:57 in the Quran reader

ہم ہی نے تم کو پیدا کیا ہے پھر تم یقین کیوں نہیں کرتے۔

(57) ہم ہی نے تم کو پیدا کیا ہے پھر تم یقین کیوں نہیں کرتے۔ یعنی دوبارہ زندہ ہونے کا یقین کیوں نہیں کرتے اور یہ کیوں نہیں سمجھتے کہ جس نے پہلی مرتبہ بنایا ہے وہ دوبارہ بھی بنا سکتا ہے اور زندہ کرسکتا ہے۔
Ayah 56:58

اَفَرَءَیْتُمْ مَّا تُمْنُوْنَؕ Open ayah 56:58 in the Quran reader

اچھا یہ تو بتائو کہ جو منی تم عورتوں کے رحم میں پہنچاتے ہو۔

(58) بھلا دیکھو تو جو مٹی تم ٹپکاتے اور پہنچاتے ہو۔ یعنی عورتوں کے رحم میں۔
Ayah 56:59

ءَاَنْتُمْ تَخْلُقُوْنَهٗۤ اَمْ نَحْنُ الْخٰلِقُوْنَ Open ayah 56:59 in the Quran reader

کیا تم اس کو انسان بناتے ہو یا ہم اس کو بنانے والے ہیں۔

(59) کیا تم اس کو انسان بناتے ہو یا ہم اس کے بنانے والے ہیں۔ یعنی مادہ منویہ کا ڈال دینا اور منی کا رحم میں پہنچانا بظاہر تمہارا کام ہے۔ لیکن نطفے کے رحم میں پہنچنے کے بعد اس کو بنانا اور رحم مادر میں اس کی تخلیق یہ کس کا کام ہے اور اندھیری کوٹھری میں کس کا دست صنعت اپنی کاریگری کے جوہر دکھاتا ہے اور وہ کس کی کلک قدرت ہے جو پانی کی بوند کو جیتا جاگتا خوش نما انسان بنانکالتا ہے۔
Ayah 56:60

نَحْنُ قَدَّرْنَا بَیْنَكُمُ الْمَوْتَ وَ مَا نَحْنُ بِمَسْبُوْقِیْنَۙ Open ayah 56:60 in the Quran reader

ہم ہی نے تم میں موت کو مقرر کررکھا ہے اور ہم اس بات سے عاجز نہیں ہیں۔

(60) ہم ہی نے تم میں مرنے کا ایک وقت معین کررکھا ہے اور موت کو تم میں اور تمہارے درمیان ٹھہرارکھا ہے اور ہم اس بات سے عاجز نہیں ہیں۔
Ayah 56:61

عَلٰۤى اَنْ نُّبَدِّلَ اَمْثَالَكُمْ وَ نُنْشِئَكُمْ فِیْ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 56:61 in the Quran reader

کہ تمہاری جگہ تم ہی جیسی کوئی اور قوم لے آئیں اور تم کو وہاں اٹھا کھڑا کریں۔ جہاں تم نہیں جانتے

(61) کہ تمہاری جگہ تم ہی جیسی کوئی اور قوم لے آئیں اور تم کو وہاں اٹھا کر کھڑا کریں جہاں تم نہیں جانتے - یعنی موت کو تمہارے مابین ٹھہرا رکھا ہے اور ایک اندازہ مقرر کررکھا ہے جس طرح رزق تقسیم شدہ ہے اور ایک اندازے سے بٹتا ہے اسی طرح موت بھی تقسیم شدہ ہے اور مقررہ وقت پر پہنچتی ہے اور جب موت اور زندگی پر ہمارا قبضہ اور کنٹرول ہے توہ ہم اس بات سے عاجز نہیں ہیں کہ تم کو مار کر ختم کردیں ار تم کو موت بھیج کر ماردیں اور تمہاری جگہ تم ہی جیسی شکل وشباہت کی کوئی اور قوم لے آئیں جیسا کہ انقلاب ارضی میں یہ عام طور پر ہوتا رہا ہے بلکہ ہزار ہا تاریخی شواہد موجود ہیں کہ ایک قوم کو ختم کیا دوسری قوم کو لے آئے اور اگر لفظ موت نہ ہوتا تو شاید تبادلہ آبادی بھی آیت شامل ہوجاتی۔ الایہ کہ یوں کہا جائے کہ موت حقیقی ہو یا مجازی یعنی تمکو مار کر کسی دوسری قوم کو تم سے بدل دیں یا تم کو ایک حصہ ارضی سے بالکل نکال دیں اور تمہاری جگہ دوسری قوم کو لاکر آباد کردیں۔ جیسا کہ فرمایا ان یشایذھبکم ایھا الناس ویات باخرین والمحصنات۔ وہاں تبادلہ آبادی کا استدلال بلا تکلیف موجود ہے لیکن یہاں تکلف وتعسف سے خالی نہیں ہے اس لئے ہم نے اس کو ترک کردیا اور آزاد منش لوگوں کی طرح تفسیر نہیں کی۔ بہرحال ہم اس بات سے عاجز نہیں کہ تم کو موت دے کر مٹا دیں اور تم ہی جیسی کوئی اور قوم یعنی انسانوں کی قوم کو لابسائیں اور تم کو کہیں اور لے جائیں جس کو تم نہ جانتے ہو یعنی تمہاری شکل و صورت کو مسخ کردیں بندر اور سور بنادیں جیسا کہ صاحب جلالین نے فرمایا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی تم کو اور جہاں میں لے جاویں تمہاری جگہ یہاں اور خلقت بسا دیں۔ خلاصہ : یہ کہ صورت شکل بدل دیں یا اس عالم میں لے جائیں جس کو تم نہیں جانتے اور اس عالم کا انکار کرتے ہو یعنی عالم برزخ اور عالم آخرت۔
Ayah 56:62

وَ لَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشْاَةَ الْاُوْلٰى فَلَوْ لَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 56:62 in the Quran reader

اور بلاشبہ تم پہلی مرتبہ پیدا کرنے کو تو جان ہی چکے ہو پھر تم کیوں نہیں سمجھتے۔

(62) اور بلا شبہ تم ابتدائی پیدائش اور پہلی مرتبہ کے پیدا کرنے کو تو جان ہی چکے پھر تم دوبارہ پیدا ہونے کو کیوں نہیں سمجھتے۔ یعنی پہلی مرتبہ کا پیدا ہونا تو تمہاری نگاہوں کے سامنے ہے اور تم کو اس کا علم ہے پھر دوبارہ اعاد سے اور دوبارہ پھر پیدا کرنے کی بات کیوں نہیں سمجھتے اس میں کیا دشواری ہوگئی جو بعث پر ایمان نہیں لاتے۔
Ayah 56:63

اَفَرَءَیْتُمْ مَّا تَحْرُثُوْنَؕ Open ayah 56:63 in the Quran reader

اچھا پھر یہ تو بتائو کہ جو بیج تم ڈالتے ہو۔

(63) بھلا دیکھو تو جو بیج اور تخم بوتے اور زمین میں ڈالتے ہو۔
Ayah 56:64

ءَاَنْتُمْ تَزْرَعُوْنَهٗۤ اَمْ نَحْنُ الزّٰرِعُوْنَ Open ayah 56:64 in the Quran reader

اس کو تم اگاتے ہو یا ہم اس کے اگانے والے ہیں۔

(64) اس کو تم اگاتے ہو یا ہم اس کے اگانے والے ہیں۔ یعنی زمین میں جو تخم ریزی کرتے ہو پھر بتائو کہ اس کو اگاتا کون ہے اور نباتات کا نمو کون کرتا ہے تم یا ہم۔
Ayah 56:65

لَوْ نَشَآءُ لَجَعَلْنٰهُ حُطَامًا فَظَلْتُمْ تَفَكَّهُوْنَ Open ayah 56:65 in the Quran reader

اگر ہم چاہیں تو اس پیداوار کو سوکھا ہوا چورا کروں پھر تم متعجب ونادم ہو کر رہ جائو۔

(65) اگر ہم چاہیں تو اس پیداوار کو سوکھا ہوا چورا کردیں پھر تم متعجب اور نادم ہوکر رہ جائو اور سارے دن باتیں بناتے رہو۔
Ayah 56:66

اِنَّا لَمُغْرَمُوْنَۙ Open ayah 56:66 in the Quran reader

کہ ہم پر تو مفت کا تاوان ہی پڑا۔

(66) کہ ہم پر تو مفت کا تاوان اور چٹی ہی پڑی۔
Ayah 56:67

بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ Open ayah 56:67 in the Quran reader

بلکہ ہم تو بالکل ہی محروم رہ گئے یعنی کچھ بھی پلے نہ پڑا۔

(67) بلکہ ہم تو بالکل ہی محروم اور بےنصیب رہ گئے۔ یعنی کچھ بھی پلے نہ پڑا اور نقصان ہی نقصان میں رہ گئے۔
Ayah 56:68

اَفَرَءَیْتُمُ الْمَآءَ الَّذِیْ تَشْرَبُوْنَؕ Open ayah 56:68 in the Quran reader

اچھا بھلا یہ تو بتائو کہ جو پانی تم پیتے ہو۔

(68) بھلا دیکھو تو جو پانی تم پیتے ہو۔
Ayah 56:69

ءَاَنْتُمْ اَنْزَلْتُمُوْهُ مِنَ الْمُزْنِ اَمْ نَحْنُ الْمُنْزِلُوْنَ Open ayah 56:69 in the Quran reader

تم اس کو بادل سے برساتے ہو یا ہم برسانے والے ہیں۔

(69) اس کو بادل سے تم برساتے ہو یا ہم برسانے والے ہیں۔
Ayah 56:70

لَوْ نَشَآءُ جَعَلْنٰهُ اُجَاجًا فَلَوْ لَا تَشْكُرُوْنَ Open ayah 56:70 in the Quran reader

اگر ہم چاہیں تو اس بارش کے پانی کو کھاری کردیں پھر تم شکر کیوں نہیں بجا لاتے۔

(70) اگر ہم چاہیں تو اس بارش کے پانی کو کھاری کردیں پھر تم شکر کیوں نہیں بجا لاتے۔
Ayah 56:71

اَفَرَءَیْتُمُ النَّارَ الَّتِیْ تُوْرُوْنَؕ Open ayah 56:71 in the Quran reader

اچھا پھر یہ تو بتائو کہ جس آگ کو تم سلگایا کرتے ہو۔

(71) بھلا دیکھو تو جس آگ کو تم سلگایا کرتے ہو۔
Ayah 56:72

ءَاَنْتُمْ اَنْشَاْتُمْ شَجَرَتَهَاۤ اَمْ نَحْنُ الْمُنْشِئُوْنَ Open ayah 56:72 in the Quran reader

تو کیا اس آگ کیدرخت کو تم نے پیدا کیا ہے یا ہم پیدا کرنے والے ہیں۔

(72) تو کیا اس آگ کے درخت کو تم نے پیدا کیا ہے یا ہم پیدا کرنے والے ہیں۔
Ayah 56:73

نَحْنُ جَعَلْنٰهَا تَذْكِرَةً وَّ مَتَاعًا لِّلْمُقْوِیْنَۚ Open ayah 56:73 in the Quran reader

ہم اس آگ کو موجب نصیحت اور مسافروں کے لئے بڑے فائدے کی چیز بنایا ہے۔

(73) ہم نے اس آگ کو موجب نصیحت اور مسافروں کے لئے بڑے فائدے کی چیز بنایا ہے۔
Ayah 56:74

فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِیْمِ۠ Open ayah 56:74 in the Quran reader

سو اے نبی آپ اپنے عظیم الشان پروردگار کے نام کی پاکی بیان کیجئے۔

(74) سو اے پیغمبر آپ اپنے عظیم الشان پروردگار کے نام کی پاکی بیان کیجئے۔ حضرت حق جل مجدہ نے اپنی قدرت کا مہ کو کیا خوب ترتیب سے بیان فرمایا ہے پہلے انسانی پیدائش اور عطائے وجود کا ذکر فرمایا اور یہ بات بتائی کہ انسان کی پیدائش اور اس کی ساخت میں ہماری ہی قدرت کا ظہور ہے گو بظاہر تم کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ تمہاری مشقت کو دخل ہے لیکن حقیقتاً سب جگہ ہماری ہی فرماں روائی کو دخل ہے۔ مثلاً چند قطروں کا رحم میں ڈال دینا یہ تمہارا کام ہے لیکن رحم مادر میں ان قطروں کو انسانی شکل میں بنانا یہ کس کا کام ہے زمین میں تخم پاشی بظاہر تم کرتے ہو ہل چلاتے ہو بیج ڈالتے ہو لیکن اناج کا اگانا اور کھیتی کو پروان چڑھانا یہ کس کا کام ہے اگر ہم چاہیں تو اس کھیتی کو خشک کردیں اور چورا کردیں جیسا کہ سوروہ یونس اور سو رہ کہف میں گزر چکا ہے پھر سوائے اس کے کہ تم نقصان اور خسارا پکارتے پھرو اس کے سوا اور کیا کرسکتے ہو چونکہ پیدا ہونے کے بعد کھانے پینے کی ضرورت اور کھانے کے لئے آگ کی ضرورت ہوتی ہے اسی ترتیب سے حضرت حق نے اپنی نعمتوں کا اظہار فرمایا۔ فظلتم تفکھون کے کئی طرح ترجمے کئے گئے ہیں ہم نے سب کو تیسیر میں جمع کردیا ہے۔ مغرم، کے معنی تاوان اور مقروض کئے گئے ہیں تاوان کو شاہ صاحب (رح) نے کہیں کہیں چٹی بھی لکھا ہے۔ شاید سرکاری محصول زمین کا خراج یا بیج کا نقصان مراد ہو بادلوں سے پانی کا برسنا اور اترنا یہ بھی علاوہ ضروری ہونے کے قدرت کاملہ کی ایک بہت بڑی نشانی ہے جو ہر سال دیکھنے میں آتی ہے اور چونکہ اس پانی کے برسنے میں کسی کو مجازاً بھی دخل نہیں نہ کوئی ایک قطرہ بادلوں سے گراسکتا ہے اور نہ برستے ہوئے بادلوں کو روک سکتا ہے اس لئے فرمایا کہ اگر ہم چاہیں تو میٹھے پانی کی بجائے اس کو کڑوا اور کھاری کردیں۔ بہرحال تم شکر کیوں نہیں کرتے اور افراد شکر میں سے بڑا فرد توحید الٰہی ہے اس کے قائل کیوں نہیں ہوتے آخر میں آگ کی طرف اشارہ فرمایا چونکہ انسانی زندگی میں آگ کو بڑا دخل ہے حرارت سے غذاپکتی ہے ۔ تاپتے ہیں روشنی حاصل کرتے ہیں پانی گرم کرتے ہیں لوہا پگھلاتے ہیں غرض ہزار ہاکام آگ سے وابستہ ہیں۔ اس کو فرماتے ہیں کہ ہرے درخت سے آگ کو کون نکالتا ہے۔ مرخ اور عقار کی رگڑ سے آگ نکلتی ہے یہ کس کی قدرت ہے۔ تورون آگ سلگاتے ہو یا آگ درخت کی شاخ سے نکالتے ہو ہم نے اس حصول آگ کے طریقے اور آگ کو موجب نصیحت بنایا یعنی اس آگ کو استعمال کرنے اور کام میں لانے کے بعد اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کی الوہیت پر ایمان لائو یا دوزخ کی آگ کو یاد کرکے ڈرو۔ بہرحال آگ کا وجود بھی نصیحت ہے ۔ مقوین مسافروں کے لئے بڑے فائدے کی چیز اور نفع بخش ہے ورنہ جنگل میں آگ کا حاصل ہونا سخت دشوار ہے یا مقیم اور مسافروں دونوں مراد ہیں۔ جیسا کہ اہل لغت نے کہا ہے کہ یہ اضداد میں سے ہے تو مطلب یہ ہوگا کہ مسافر اور مقیم دونوں کے فائدے کے لئے اس آگ کو بنایا ہے اور چونکہ تمام مخلوق کا انتفاع آگ کے ساتھ وابستہ ہے اور وہ انتفاع موقوف علی القدرۃ ہے تو سب مخلوق محتاج ہوئی قدرت کی اور یہی حق تعالیٰ کی قدرت استحاق الوہیت و عبادت کی دلیل ہے آگ حاصل کرنے کے طریقے بھی کئی ہیں بانس کی رگڑ سے چقماق وغیرہ سے چونکہ اہل عرب خاص طور سے مرخ اور عقائد سے آگ نکالا کرتے تھے اس لئے اس درخت کا ذکر فرمایا ۔ آخر میں اپنے پیغمبر کو ارشاد فرمایا کہ اے پیغمبر آپ اپنے پروردگار کے ناک کی پاکی بیان کیجئے وہ آپ کا پروردگار بڑی عظمت والا ہے یعنی سبحان ربی العظیم کہیے۔ حدیث میں آتا ہے کہ جب یہ آیت اتری تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا اجعلوھا فی رکوعکم یعنی اس تسبیح کو اپنے رکوع میں داخل کرلو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کئی درخت ہیں سبز جن کو رگڑنے سے آگ نکلتی ہے آگے سورة یاسین میں اس کا ذکر ہوچکا ہے۔ اور فرماتے ہیں یا دیہ کہ اس آگ سے دوزخ کی آگ یاد آوے اور جنگل والوں کو آگ سے بہت کام ہیں اور کام سبھی کا چلتا ہے اس سے۔ خلاصہ : یہ کہ حق تعالیٰ نے جو امور ان آیتوں میں فرمائے اور جن نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے وہ توحید کے لئے بھی سبب ہیں اور قدرۃ علی البعث کے ئے بھی موجب ہیں لہٰذا ان دونوں باتوں پر ایمان لانا چاہیے۔
Ayah 56:75

فَلَاۤ اُقْسِمُ بِمَوٰقِعِ النُّجُوْمِۙ Open ayah 56:75 in the Quran reader

پس میں ستاروں کے چھپنے کی قسم کھاتا ہوں۔

(75) پس میں قسم کھاتا ہوں ستاروں کے غروب ہونے اور چھپنے کی۔
Ayah 56:76

وَ اِنَّهٗ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُوْنَ عَظِیْمٌۙ Open ayah 56:76 in the Quran reader

اور اگر تم سمجھو تو یہ قسم بہت بڑی قسم ہے۔

(76) اور اگر تم سمجھو تو یہ قسم بہت بڑی قسم ہے - حضرت حق جل مجدہ کی قسم واقعی بہت عظیم اور بڑی عظمت والی ہے تاروں کا ڈوبنا یعنی رات کا پچھلا حصہ جو تاروں کے غروب ہونے کا وقت اور تہجد گزاروں کی نماز کا وقت ہے اور رحمت الٰہی اور رضائے الٰہی کے نزول کا وقت ہے چونکہ اوپر قیامت اور اللہ تعالیٰ کی توحید کے لئے عقلی دلائل مذکور تھے اب نقلی دلائل کے سلسلے میں قرآن کا ذکر فرماتے ہیں کہ قرآن جیسی باعظمت اور مکرم کتاب بھی اس امور کا وقوع یقینی بتاتی ہے اور چونکہ یہ ایک مکرم اور آسمانی کتاب ہے اس لئے جو چیز دلائل عقلیہ سے ثابت تھی وہ نقلی دلائل سے بھی ثابت ہے۔ لہٰذا تم کو بھی توحید اور بعث بعدالموت پر ایمان لانا چاہیے بعض لوگوں نے کہا تاروں کے ٹوٹنے کی قسم اور بعض نے کہا کہ قرآن کے اترنے اور پیغمبر کے قلب پر نازل ہونے کی قسم ہے۔ بہرحال آگے قسم کا جواب ہے اور جس پر قسم کھائی ہے وہ آگے مذکور ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ایک معنی یہ ہے کہ آیتیں اترنے کی پیغمبر کے دل میں۔ خلاصہ : یہ کہ نجوم سے مراد قرآن کی آیتیں ہیں جو پیغمبر کے دل میں اترتی ہیں۔
Ayah 56:77

اِنَّهٗ لَقُرْاٰنٌ كَرِیْمٌۙ Open ayah 56:77 in the Quran reader

قسم اس پر کھاتا ہوں کہ یہ کتاب ایک گرامی قدر قرآن ہے۔

(77) قسم اس بات پر کھاتا ہوں کہ یہ کتاب جو اس نبی پر نازل ہوئی ایک گرامی قدر قرآن ہے۔
Ayah 56:78

فِیْ كِتٰبٍ مَّكْنُوْنٍۙ Open ayah 56:78 in the Quran reader

جو لوح محفوظ میں درج ہے۔

(78) کتاب مکنون یعنی لوح محفوظ میں درج اور لکھا ہوا ہے۔
Ayah 56:79

لَّا یَمَسُّهٗۤ اِلَّا الْمُطَهَّرُوْنَؕ Open ayah 56:79 in the Quran reader

اس لوح محفوظ کو بجز پاک فرشتوں کے اور کوئی مس نہیں کرسکتا۔

(79) اس لوح محفوظ کو سووائے مقدس اور پاکیزہ فرشتوں کے کوئی چھو نہیں سکتا اور ہاتھ نہیں لگا سکتا۔
Ayah 56:80

تَنْزِیْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 56:80 in the Quran reader

یہ قرآن رب العالمین کی جانب سے بھیجا گیا ہے۔

(80) یہ قرآن تمام عالموں کے پروردگار کی جانب سے نازل کیا گیا ہے اور بھیجا گیا ہے - قرآن کو کریم فرمایا اس لئے کہ اس میں دونوں عالم کی زندگی اور مکرم ہونے کا سامان موجود ہے یعنی اس کی تعلیم پر عمل کرنے سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک بندہ مکرم ہوجاتا ہے اور اس میں خیر کثیر ہے اس لئے اس کو قرآن کریم فرمایا۔ کتاب مکنون چھپی کتاب سے مراد لو ح محفوظ ہے جس کو سوائے فرشتوں کے اور کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا ہے۔ پاکیزہ فرمایا فرشتوں کو وہ روحانی مخلوق ہر قسم کی مادی آلائشوں سے پاک اور منزہ ہے ، پروردگار عالموں کی جانب سے نازل ہوا ہے چونکہ یہ کتاب جملہ اقوام عالم کے لئے نازل ہوئی ہے اسی لئے فرمایا کہ جملہ اقوام عالم کے مالک کی نازل کردہ ہے۔ بعض حضرات نے لا یحسہ سے قرآن مراد لیا ہے اور نفی سے نہی مراد لی ہے یعنی اس قرآن کو حدیث اور جنابت سے پاک لوگ ہاتھ لگائیں یعنی اگر وضو نہ ہو تو وضو کرکے اور اگر کوئی ناپک ہو تو غسل کرکے ہاتھ لگائے یہ مسائل کتب فقہ میں دیکھے جائیں۔