5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayah 5:81

وَ لَوْ كَانُوْا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ النَّبِیِّ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مَا اتَّخَذُوْهُمْ اَوْلِیَآءَ وَ لٰكِنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 5:81 in the Quran reader

اور اگر وہ خدا پر اور پیغمبر پر اور جو کتاب ان پر نازل ہوئی تھی اس پر یقین رکھتے تو ان لوگوں کو دوست نہ بناتے لیکن ان میں اکثر بدکردار ہیں۔

(81) اور اگر یہ منافقین اللہ تعالیٰ اور رسول اکرم ﷺ اور قرآن حکیم پر ایمان رکھتے اور یہود کو اپنا مددگار اور دوست نہ بناتے مگر یہ اہل کتاب منافق ہیں یا یہ کہ اگر یہ یہودی توحید خداوندی اور رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان لاتے اور ابوسفیان اور اس کے ساتھیوں کو دوست نہ بناتے مگر ان اہل کتاب میں زیادہ کافر ہیں۔
Ayah 5:82

لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا الْیَهُوْدَ وَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا١ۚ وَ لَتَجِدَنَّ اَقْرَبَهُمْ مَّوَدَّةً لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّا نَصٰرٰى١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّ مِنْهُمْ قِسِّیْسِیْنَ وَ رُهْبَانًا وَّ اَنَّهُمْ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 5:82 in the Quran reader

(اے پیغمبر !) تم دیکھو گے کہ مومنوں کے ساتھ سب سے زیادہ دشمنی کرنیوالے یہودی اور مشرک ہیں۔ اور دوستی کے لحاظ سے مومنوں سے قریب تر ان لوگوں کو پاؤ گے جو کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں۔ یہ اس لیے کہ ان میں عالم بھی ہیں مشائخ بھی۔ اور وہ تکبّر نہیں کرتے۔

(82) اس کے ساتھ ساتھ ان کو رسول اکرم ﷺ اور صحابہ کرام ؓ سے جو دشمنی ہے اللہ تعالیٰ اس کو بیان فرماتا ہے کہ محمد ﷺ ان لوگوں میں سب سے زیادہ آپ ﷺ سے اور صحابہ کرام ؓ سے دشمنی رکھنے والے آپ بنی قریظہ، بنی نضیر، فدک، خیبر اور مشرکین مکہ کو پائیں گے جو کفر وشرک میں بہت پختہ ہیں۔ اور آپ کے ساتھ اور صحابہ کرام ؓ کے ساتھ دوستی رکھنے کے قریب آپ حضرت نجاشی اور ان کے ساتھیوں کو پائیں گے جن کی تعداد بتیس ہے یا چالیس ہے جن میں سے بتیس تو حبشہ کے ہیں اور آٹھ شام کے ہیں، بحیرا راہب اور اس کے ساتھی اور ابرہی، اشرف، ادریس، تمیم، تمام، درید، ایمن اور یہ دوستی اس بنا پر ہے کہ بہت سے ان میں سے تارک الدنیا عابد ہیں، جنہوں نے اپنے سروں کو خاص علامت کے طور پر درمیان میں سے منڈوا رکھا ہے۔ اور بہت سے علم دوست عالم ہیں اور یہ لوگ رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان لانے میں متکبر نہیں۔ شان نزول : (آیت) ”ولتجدن اقربہم“۔ (الخ) ابن ابی حاتم ؒ نے سعید بن مسیب، ابوبکر بن عبدالرحمن اور عروۃ بن زبیر ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عمرو بن امیہ ضمری کو روانہ کیا اور ان کے ساتھ حضرت نجاشی کے پاس ایک خط بھیجا چناچہ وہ نجاشی کے پاس آئے، نجاشی نے رسول اکرم ﷺ کا نامہ مبارک پڑھا اور حضرت جعفر بن ابی طالب اور ان کے ساتھ دوسرے مہاجرین کو بلایا اور علماء وتارک الدنیا راہبوں کو حکم دیا وہ آئے پھر حضرت جعفر ؓ کو حکم دیا، انہوں نے سب کے سامنے سورة مریم کی آیات تلاوت کیں، چناچہ قرآن کریم پر ایمان لے آئے اور سب کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے، ان ہی حضرات کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے (آیت) ”ولتجدنھم“۔ سے ”۔ فاکتبنا مع الشاھدین“۔ تک یہ آیات نازل فرمائیں۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayah 5:83

وَ اِذَا سَمِعُوْا مَاۤ اُنْزِلَ اِلَى الرَّسُوْلِ تَرٰۤى اَعْیُنَهُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوْا مِنَ الْحَقِّ١ۚ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشّٰهِدِیْنَ Open ayah 5:83 in the Quran reader

اور جب اس کتاب کو سنتے ہیں جو (سب سے پچھلے) پیغمبر (محمد ﷺ پر نازل ہوئی تو تم دیکھتے ہو کہ انکی آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے ہیں اس لئے کہ انہوں نے حق بات پہچان لی۔ اور وہ (خدا کی جناب میں) عرض کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہم ایمان لے آئے تو ہم کو ماننے والوں میں لکھ لے۔

(83) اور جب وہ حضرات جعفر ؓ بن ابی طالب سے اس کلام کو سنتے ہیں جو کہ ان کے رسول ﷺ پر نازل کیا گیا ہے، کیوں کہ انہوں نے حق کو پہچان لیا اور رسول اکرم ﷺ کی نعت وصفت سے اچھی طرح واقف ہیں تو ان کی آنکھوں سے بےساختہ آنسو جاری ہوجاتے ہیں اور عرض کرتے ہیں اے ہمارے پروردگار ! ہم تجھ پر اور تیری کتاب پر اور تیرے رسول محمد ﷺ پر ایمان لے آئے لہٰذا رسول اکرم ﷺ کی امت میں جو مومن حضرات ہیں ہمیں ان کے ساتھ شامل فرمالیجیے۔ شان نزول : (آیت) ”واذا سمعوا“۔ (الخ) ابن ابی حاتم ؒ نے سعید بن جبیر ؒ سے روایت کیا ہے کہ حضرت نجاشی ؓ نے اپنے ساتھیوں میں سے تیس پسندیدہ حضرات کو رسول اکرم ﷺ کی خدمت اقدس میں بھیجا، آپ ﷺ نے ان کے سامنے سورة یسین کی تلاوت فرمائی وہ سب حضرات رونے لگے تو ان کے بارے میں یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی ہے۔ اور امام نسائی ؒ نے عبداللہ بن زبیر ؓ سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت حضرت نجاشی ؓ اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی اور امام طبرانی ؒ نے ابن عباس ؓ سے اسی طرح اس سے مفصل روایت نقل کی ہے۔
Ayah 5:84

وَ مَا لَنَا لَا نُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ مَا جَآءَنَا مِنَ الْحَقِّ١ۙ وَ نَطْمَعُ اَنْ یُّدْخِلَنَا رَبُّنَا مَعَ الْقَوْمِ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 5:84 in the Quran reader

اور ہمیں کیا ہوا ہے کہ خدا پر اور حق بات پر جو ہمارے پاس آئی ہے ایمان نہ لائیں۔ اور ہم امید رکھتے ہیں کہ پروردگار ہم کو نیک بندوں کے ساتھ (بہشت میں) داخل کرے گا۔

(84) اس پر انکی قوم نے انھیں ملامت کی تو انہوں نے فرمایا کہ ہمارے پاس کوئی سا عذر ہے کہ جو حق ہمارے پاس آیا ہے یعنی قرآن کریم اور رسول اکرم ﷺ ہم اس پر ایمان نہ لائیں اور آخرت میں امت محمدیہ ﷺ کے پرہیزگاروں کے ساتھ جنت میں داخل نہ ہوں۔
Ayah 5:85

فَاَثَابَهُمُ اللّٰهُ بِمَا قَالُوْا جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزَآءُ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 5:85 in the Quran reader

تو خدا نے ان کو اس کہنے کے عوض (بہشت کے) باغ عطا فرمائے جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں وہ ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ اور نیکوکاروں کا یہی صلہ ہے۔

(85) نتیجہ یہ ہوا کہ ان حضرات کا بخوشی توحید خداوندی کے قائل ہونے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انکو ایسے باغات دیے ہیں جن کے نیچے سے دودھ، شہد، پانی اور شراب کی نہریں جاری ہیں یہ حضرات جنت میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے نہ ان کو وہاں موت آئے گی اور نہ ہی یہ اس سے نکالے جائیں گے، یہ موحدین یا ان حضرات کا جو قول وعمل کے اعتبار سے صاحب احسان ہوں نعم البدل ہے۔
Ayah 5:86

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ۠ Open ayah 5:86 in the Quran reader

اور جن لوگوں کے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہ جہنمی ہیں۔

(86) اور اللہ تعالیٰ اور رسول اکرم ﷺ اور قرآن حکیم کا انکار کرنے والے جہنمی ہیں۔
Ayahs 5:87–88

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحَرِّمُوْا طَیِّبٰتِ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكُمْ وَ لَا تَعْتَدُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ Open ayah 5:87 in the Quran reader

مومنو ! جو پاکیزہ چیزیں خدا نے تمہارے لئے حلال کی ہیں ان کو حرام نہ کرو اور حد سے نہ بڑھو کہ خدا حد سے بڑھنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔

وَ كُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَیِّبًا١۪ وَّ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اَنْتُمْ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ Open ayah 5:88 in the Quran reader

اور جو حلال طیب روزی خدا نے تم کو دی ہے اسے کھاؤ اور خدا سے جس پر ایمان رکھتے ہو ڈرتے رہو۔

(87۔ 88) یہ آیت کریمہ اصحاب رسول اکرم ﷺ میں سے دس حضرات یعنی حضرت ابوبکر صدیق ؓ ، حضرت عمرفاروق ؓ ، حضرت ؑ عثمان بن مظعون، ؓ حضرت علی، حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ ، حضرت مقدادرضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت سالم مولی ابی حذیفہ ؓ حضرت سلمان فارسی ؓ ، حضرت ابوذر ؓ ، حضرت عمار بن یاسر ؓ کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ ان سب حضرات نے حضرت عثمان ؓ بن مظعون کے گھر میں اس بات پر اتفاق کیا بقدر ضرور کھائیں گے اور پیں گے اور نہ بیبیوں کے پاس جائیں گے اور نہ گوشت کا کھائیں گے اور نہ چربی کھائیں گے اللہ کی رضا کے لیے صرف راہبانہ زندگی بسر کریں گے، اللہ تعالیٰ نے ان حضرات کو اس چیز سے منع فرمایا کہ کھانے پینے اور صحبت وغیرہ کو حرام مت کرو اور حدود شرعیہ میں حلال و حرام کی جو حدیں مقرر ہیں ان سے تجاوز مت کرو، اور حلال چیزیں کھاؤ اور پیو اور ان حلال چیزوں کو اپنے اوپر حرام مت کرو۔ شان نزول : (آیت) ”یایھا الذین امنوا ”(الخ) امام ترمذی ؒ وغیرہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ ایک شخص رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میں جس وقت گوشت کھاتا ہوں تو عورتوں کے لیے ہیجان ہوجاتا ہے اور شہوت کا غلبہ ہوجاتا ہے، اس لیے میں نے اپنے اوپر گوشت کو حرام کرلیا ہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ جو شخص اس نے تمہارے لیے حلال کی ہیں ان میں سے لذیذ چیزیں اپنے اوپر حرام مت کرو۔ اور ابن جریر ؒ نے عوفی کے واسطہ سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ صحابہ کرام ؓ میں سے کچھ حضرات نے جن میں عثمان بن مظعون بھی تھے، گوشت اور عورتوں کے اپنے حرام کرلیا تھا اور اپنے عضو تنا سل کے کاٹے کا ارادہ کرلیا تھا تاکہ شہوت بالکل ختم ہوجائے اور عبادت خداوندی کے لیے کامل طور پر فارغ ہوجائیں، تب یہ آیت نازل ہوئی ، نیز اسی طرح عکرمہ ؓ ، ابوقلابہ، مجاہد، ابومالک نخعی اور سدی وغیرہ کی مرسل روایتیں نقل کی ہیں جن میں سدی کی روایت میں ہے کہ وہ دس حضرات تھے جن میں ابن مظعون ؓ اور علی ابن ابی طالب ؓ بھی تھے۔ اور عکرمہ کی روایت میں ابن مضعون، حضرت علی، ابن مسعود، مقداد بن اسود اور سالم مولی ابوحذیفہ ؓ کا ذکر ہے اور مجاہد کی روایت میں ابن مظعون ؓ اور عبداللہ بن عمر ؓ کا ذکر ہے۔ اور ابن عساکر ؒ نے اپنی تاریخ میں بواسطہ سدی صغیر، کلبی، ابوصالح، ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت صحابہ کرام کی ایک جماعت کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ جن میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ ، حضرت عمر ؓ ، حضرت علی ؓ ، حضرت ابن مسعود ؓ ، حضرت عثمان بن مظعون ؓ ، مقداد بن اسود ؓ اور سالم مولی ابی حذیفہ ؓ تھے یہ سب اس پر متفق ہوئے کہ اللہ کی طرف کامل توجہ اور محض اس کی عبادت کے لیے سب اپنے عضوتناسل کاٹ ڈالیں اور عورتوں سے علیحدہ رہیں اور گوشت وچربی نہ کھائیں، اور ٹاٹ پہنیں اور بقدر ضرورت کھائیں، اور زمین میں راہبوں کی طرح پھریں ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ اور ابن ابی حاتم ؒ نے زید بن سلم سے روایت کیا ہے کہ عبداللہ بن رواحہ ؓ کے رشتہ داروں میں سے ایک مہمان آیا اور عبداللہ بن رواحہ ؓ رسول اکرم ﷺ کے پاس تھے جب اپنے گھر آئے تو دیکھا کہ مہمان نے ان کے انتظار میں ابھی تک کھانا نہیں کھایا، تو اپنی بیوی سے کہا کہ میری وجہ سے ابھی تک میرے مہمان کو بٹھائے رکھا یہ کھانا مجھ پر حرام ہے ان کی بیوی بولیں کہ میرے اوپر بھی حرام ہے، مہمان نے کہا تو پھر مجھ پر بھی حرام ہے۔ حضرت عبداللہ بن رواحہ ؓ نے جب یہ دیکھا تو کھانے پر ہاتھ رکھا اور فرمایا چلو بسم اللہ پڑھ کر کھالو ،۔ اس کے بعد رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں تشریف لے گئے اور آپ ﷺ سے سارا واقعہ بیان کیا تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
Ayah 5:89

لَا یُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغْوِ فِیْۤ اَیْمَانِكُمْ وَ لٰكِنْ یُّؤَاخِذُكُمْ بِمَا عَقَّدْتُّمُ الْاَیْمَانَ١ۚ فَكَفَّارَتُهٗۤ اِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسٰكِیْنَ مِنْ اَوْسَطِ مَا تُطْعِمُوْنَ اَهْلِیْكُمْ اَوْ كِسْوَتُهُمْ اَوْ تَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ١ؕ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلٰثَةِ اَیَّامٍ١ؕ ذٰلِكَ كَفَّارَةُ اَیْمَانِكُمْ اِذَا حَلَفْتُمْ١ؕ وَ احْفَظُوْۤا اَیْمَانَكُمْ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 5:89 in the Quran reader

خدا تمہاری بےارادہ قسموں پر تم سے مواخذہ نہ کریگا۔ لیکن پختہ قسموں پر (جنکے خلاف کرو گے) مواخذہ کرے گا۔ تو اسکا کفارہ دس محتاجوں کو اوسط درجے کا کھانا کھلانا ہے جو تم اپنے اہل و عیال کو کھلاتے ہو۔ یا ان کو کپڑے دینا یا ایک غلام آزاد کرنا۔ اور جس کو یہ میسر نہ ہو وہ تین روزے رکھے۔ یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے۔ جب تم قسم کھالو (اور اسے توڑ دو) اور (تم کو) چاہئے کہ اپنی قسموں کی حفاظت کرو۔ اس طرح خدا تمہارے (سمجھانے کے) لئے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم شکر کرو۔

(89) تمہاری قسموں میں لغو قسم پر کوئی کفارہ نہیں کیوں کہ لغو قسم کے علاوہ اس قسم پر کفارہ ہے کہ جن کو تم اپنے دلوں کے ساتھ پختہ کر دو (یعنی منعقدہ) تو اس مستحکم قسم کا کفارہ یہ ہے کہ صبح وشام دس مسکینوں کو اوسط درجہ کا کھانا کھلاؤ یا دس مسکینوں کو اوسط درجہ کا کپڑا دو ، ہر ایک مسکین کو ایک چادر، ایک کرتہ، ایک تہ بند، ایک غلام یا لونڈی آزاد کرو۔ اور جس کو ان تینوں میں سے ایک کی بھی طاقت نہ ہو تو وہ لگا تار تین روزے رکھے یہ جو کچھ ہم نے بیان کیا، یہ قسم توڑ دینے کے بعد اس کا کفارہ ہے لہٰذا اپنی قسموں اور ان کے کفارہ کا خیال رکھا کرو، جیسا کہ قسم کا کفارہ بیان کیا ہے، اسی طرح وہ رب ذوالجلال اوامرو نواہی بیان کرتا ہے تاکہ تم اس پر اس کا شکر کرو ،
Ayah 5:90

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَ الْمَیْسِرُ وَ الْاَنْصَابُ وَ الْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 5:90 in the Quran reader

اے ایمان والو ! شراب اور جوا اور بت اور پا سے (یہ سب) ناپاک کام اعمال شیطان سے ہیں۔ سو ان سے بچتے رہنا تاکہ نجات پاؤ۔

(90) شراب اور جوئے کی تمام اقسام اور بت وغیرہ اور قرعہ کے تیریہ سب حرام ہیں، یہ شیطانی کام اور اس کے وسوسے ہیں تم ان سب چیزوں کا بالکل چھوڑ دو تاکہ اللہ تعالیٰ کے غصہ اور اس کی ناراضگی سے بچو اور آخرت میں تمہیں اطمینان حاصل ہو۔
Ayah 5:91

اِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّوْقِعَ بَیْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ فِی الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ وَ یَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ عَنِ الصَّلٰوةِ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَهُوْنَ Open ayah 5:91 in the Quran reader

شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جُوئے کے سبب تمہارے آپس میں دشمنی اور رنجش ڈلوا دے اور تمہیں خدا کی یاد سے اور نماز سے روک دے تو تم کو (ان کاموں سے) باز رہنا چاہئے۔

(91) شیطان تو شراب اور جوئے سے تمہاری عقل اور مال دولت کو برباد کرنا اور اطاعت خداوندی اور پانچوں نمازوں کی ادائیگی سے روکنا اور ان سے دور کرنا چاہتا ہے تو کیا تم اللہ کے اس فرمان کے بعد اب بھی باز نہیں آؤ گے۔ شان نزول : (آیت) ”یایھا الذین امنوا انما الخمر والمیسر (الخ) امام احمد ؒ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو لوگ شراب پیتے تھے اور جوئے کا مال کھاتے تھے تو لوگوں نے رسول اکرم ﷺ سے ان دونوں چیزوں کے بارے میں دریافت کیا، اس وقت یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ”یسئلونک عن الخمر والمیسر“۔ (الخ) تو لوگوں نے کہا کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ہم پر ان چیزوں کو حرام نہیں، بلکہ بڑے گناہ کو بیان کیا، چناچہ حسب سابق سب لوگ شراب پیتے رہے، اسی دوران ایک دن مہاجرین میں سے ایک شخص نے اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھائی تو قرأت میں گڑبڑ کی تو اس وقت اللہ تعالیٰ نے اس سخت حکم نازل فرمایا کہ (آیت) ”یا ایھا الذین امنوا انما الخمر والمیسر“۔ تا منتھون“۔ اس آیت کے نزول پر صحابہ کرام ؓ بولے، اے ہمارے پروردگار ہم باز آگئے، اس کے بعد کچھ لوگوں نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ اس حرمت پہلے بہت حضرات شہید ہوگئے اور اپنے بستروں پر انتقال فرما گئے اور وہ شراب بھی پیتے تھے اور جوئے کا مال بھی کھاتے تھے اور اب اس کو اللہ تعالیٰ نے گندی باتیں شیطانی کام فرما دیا ہے۔ (تو اس کا معاملہ کیا ہوگا)
Ayah 5:92

وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ احْذَرُوْا١ۚ فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّمَا عَلٰى رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 5:92 in the Quran reader

اور خدا کی فرمانبرداری اور رسول خدا کی اطاعت کرتے رہو اور ڈرتے رہو۔ اگر منہ پھیرو گے تو جان رکھو کہ ہمارے پیغمبر ﷺ کے ذمے تو صرف پیغام کا کھول کر پہنچا دینا ہے۔

(92) اس شراب کے پینے اور اس کو حلال سمجھنے سے بچو اور اگر اس شراب کی حرمت کے بارے میں تم اللہ کی اطاعت نہیں کرو گے تو رسول اکرم ﷺ کی ذمہ داری تو صرف اس زبان میں جسے تم سمجھتے ہو محض احکام خداوندی کا پہنچا دینا ہے۔
Ayah 5:93

لَیْسَ عَلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جُنَاحٌ فِیْمَا طَعِمُوْۤا اِذَا مَا اتَّقَوْا وَّ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ثُمَّ اتَّقَوْا وَّ اٰمَنُوْا ثُمَّ اتَّقَوْا وَّ اَحْسَنُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ۠ Open ayah 5:93 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان پر ان چیزوں کا کچھ گناہ نہیں جو وہ کھاچکے۔ جبکہ انہوں نے پرہیز کیا اور ایمان لائے اور نیک کام کئے پھر پرہیز کیا اور ایمان لائے پھر پرہیز کیا اور نیکوکاری کی۔ اور خدا نیکوکاروں کو دوست رکھتا ہے۔

(93) مہاجرین وانصار میں سے کچھ حضرات نے رسول اکرم ؓ سے عرض کیا کہ ہم میں سے کچھ حضرات شراب کی حرمت نازل ہونے سے پہلے انتقال کرگئے اور انہوں نے شراب پی ہے تو ان کا کیا ہوگا، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ ان مومنین پر جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم بجا آوری کی، شراب کی حرمت سے قبل شراب پینے میں خواہ وہ زندہ وہوں یا انتقال فرما چکے ہوں کوئی گناہ نہیں، جب کہ وہ کفر وشرک اور فواحش سے بچتے اور ایمان اور حقوق اللہ کے پابند تھے اور پھر جو زندہ حضرات موجود ہیں، وہ شراب کی حرمت کے بعد اس سے بچتے ہوں اور انہوں نے اس کا پینا بالکل چھوڑ دیا ہو تو اللہ تعالیٰ اطاعت شعار لوگوں کو پسند فرماتے ہیں۔ شان نزول : (آیت) ”لیس علی الذین امنوا وعملوالصلحت جناح“۔ (الخ) امام نسائی ؒ اور بیہقی ؒ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ شراب کی حرمت دو انصاری قبیلوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ انھوں نے شراب پی، نشہ چڑھنے پر بعض نے کچھ حرکات وغیرہ کیں، جب نشہ اتر گیا، تو ہر ایک نے اپنے چہرے سر اور داڑھی میں دیکھا تو وہ کہنے لگا کہ میرے ساتھ میرے فلاں بھائی نے یہ کیا ہے، حالانکہ کہ وہ سب بھائی تھے، ان کے دلوں میں کسی قسم کا کوئی کینہ اور دشمنی نہیں تھی، چناچہ اس نے کہا کہ اگر وہ میرا اوپر مہربان ہوتا تو ایسی بدتمیزی نہ کرتا، غرض کہ اس بنا پر ان کے دلوں میں بدگمانی پیدا ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی تو اس کے بعد کچھ حضرات بولے کہ یہ تو گندگی ہے اور فلاں کے پیٹ میں داخل ہوچکی ہے، اور وہ غزوہ احد میں شہید ہوگئے ہیں، اب کیا ہوگا، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی، (آیت) ”لیس علی الذین امنووعملوالصلحت جناح (الخ)
Ayah 5:94

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَیَبْلُوَنَّكُمُ اللّٰهُ بِشَیْءٍ مِّنَ الصَّیْدِ تَنَالُهٗۤ اَیْدِیْكُمْ وَ رِمَاحُكُمْ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ مَنْ یَّخَافُهٗ بِالْغَیْبِ١ۚ فَمَنِ اعْتَدٰى بَعْدَ ذٰلِكَ فَلَهٗ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 5:94 in the Quran reader

مومنو ! کسی قدر شکار سے جن کو تم ہاتھوں اور نیزوں سے پکڑ سکو خدا تمہاری آزمائش کرے گا (یعنی حالت احرام میں شکار کی ممانعت سے) تاکہ معلوم کرے کہ اس سے غائبانہ کون ڈرتا ہے تو جو اس کے بعد زیادتی کرے اس کے لئے دکھ دینے والا عذاب (تیار) ہے۔

(94) حدیبیہ کے سال احرام کی حالت میں شکار کی ممانعت کے بارے میں یہ آیات نازل ہوئیں۔ یعنی حدیبیہ کے سال خشکی کے وحشی شکاروں کے بارے میں تمہارا امتحان لیں گے جب کہ ان کے انڈوں اور بچوں تک تمہارے ہاتھ اور نیزے پہنچے رہے ہوں گے تاکہ اللہ تعالیٰ ظاہری طور پر بھی دیکھ لیں کے حالت احرام میں کون شکار سے باز رہتا ہے۔ سو جو اس کی حرمت اور اس کی جزاء کے بیان ہوجانے کے بعد بھی حدود شرعیہ سے نکلے گا تو اس کی پشت اور پیٹ پر سخت سزا قائم کی جائے گی۔
Ayah 5:95

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْتُلُوا الصَّیْدَ وَ اَنْتُمْ حُرُمٌ١ؕ وَ مَنْ قَتَلَهٗ مِنْكُمْ مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآءٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ یَحْكُمُ بِهٖ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْكُمْ هَدْیًۢا بٰلِغَ الْكَعْبَةِ اَوْ كَفَّارَةٌ طَعَامُ مَسٰكِیْنَ اَوْ عَدْلُ ذٰلِكَ صِیَامًا لِّیَذُوْقَ وَ بَالَ اَمْرِهٖ١ؕ عَفَا اللّٰهُ عَمَّا سَلَفَ١ؕ وَ مَنْ عَادَ فَیَنْتَقِمُ اللّٰهُ مِنْهُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ ذُو انْتِقَامٍ Open ayah 5:95 in the Quran reader

مومنو ! جب تم احرام کی حالت میں ہو تو شکار نہ مارنا اور جو تم میں سے جان بوجھ کر اسے مارے تو (یا تو اس کا) بدلا (دے اور وہ یہ ہے کہ) اس طرح کا چارپایہ جسے تم میں سے دو معتبر شخص مقرر کردیں قربانی (کردے اور یہ قربانی) کعبے پہنچائی جائے یا کفارہ (دے اور وہ) مسکینوں کو کھانا کھلانا (ہے) یا اس کے برابر روزے رکھے تاکہ اپنے کام کی سزا (کامزہ) چکھے (اور) جو پہلے ہوچکا وہ خدا نے معاف کردیا اور جو پھر (ایسا کام) کرے گا تو خدا اس سے انتقام لے گا۔ اور خدا غالب اور انتقام لینے والا ہے۔

(95) ابوالیسر بن عمرو کو احرام یاد نہیں رہا اور انہوں نے جان کر شکار کو قتل کردیا تو اسکے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس پر اس شکار کی (سزا) ہوگی، جس کی قیمت کا تخمینہ تم میں سے دو آدمی کریں گے، اب اسے اختیار ہے کہ اس قیمت کا کوئی جانور خرید کر بیت اللہ روانہ کردے یا ان روپوں کے بقدر غلہ خرید کر مساکین مکہ مکرمہ پر خیرات کرے اور اگر اس غلہ وغیرہ خیرات کرنے کی اس میں طاقت نہ ہو تو فی حصہ ایک مسکین ایک روزہ یعنی نصف صاع (234 تولے کا ایک وزن) کے عوض ایک روزہ رکھ لے (جیسا کہ صدقہ فطر کی شرائط ہیں) یہ اس کے فعل کی سزا اور جو شخص اس حکم اور اس سزا کے بعد پھر ایسا کرے گا تو اسے چھوڑ دیا جائے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس جزا مذکور کے علاوہ خود اس سے انتقام لے۔
Ayah 5:96

اُحِلَّ لَكُمْ صَیْدُ الْبَحْرِ وَ طَعَامُهٗ مَتَاعًا لَّكُمْ وَ لِلسَّیَّارَةِ١ۚ وَ حُرِّمَ عَلَیْكُمْ صَیْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 5:96 in the Quran reader

تمہارے لئے دریا (کی چیزوں) کا شکار اور ان کو کھانا حلال کردیا گیا ہے (یعنی) تمہارے اور مسافروں کے فائدے کے لئے اور جنگل (کی چیزوں) کا شکار جب تک تم احرام کی حالت میں ہو تم پر حرام ہے۔ اور خدا سے جس کے پاس تم (سب) جمع کئے جاؤ گے ڈرتے رہو۔

(96) قوم بنی مدلج دریائی شکار کرتی تھی، انہوں نے دریائی شکار کے بارے میں اور اس کے بارے میں جو دریا پھینک دے رسول اکرم ﷺ سے دریافت کیا، اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی کہ تمہارے لیے دریائی شکار اور وہ شکار جس کو پانی اوپر پھینک دے، سب حلال کردیا گیا ہے (احرام کی حالت میں) تمہارے اور راہ گزروں کے فائدہ کے لیے البتہ خشکی کا شکار حالت حدود احرام میں اور حرم میں تمہارے اوپر حرام کیا گیا ہے ان باتوں میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔
Ayah 5:97

جَعَلَ اللّٰهُ الْكَعْبَةَ الْبَیْتَ الْحَرَامَ قِیٰمًا لِّلنَّاسِ وَ الشَّهْرَ الْحَرَامَ وَ الْهَدْیَ وَ الْقَلَآئِدَ١ؕ ذٰلِكَ لِتَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ اَنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 5:97 in the Quran reader

خدا نے عزت کے گھر (یعنی) کعبے کے لوگوں کے لئے موجب امن مقرر فرمایا ہے۔ اور عزت کے مہینوں کو اور قربانی کو اور ان جانوروں کو جن کے گلے میں پٹے بندھے ہوں۔ یہ اس لئے کہ تم جان لو کہ جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے خدا سب کو جانتا ہے اور یہ کہ خدا کو ہر چیز کا علم ہے۔

(97) کعبہ کو عبادت خداوندی میں امن اور لوگوں کی مصلحتوں کے قائم رہنے کا سبب قرار دیا ہے اور اسی طرح عزت والے مہینے کو اور اسی طرح حرم میں قربانی ہونے والے جانور کو اسی طرح ان جانوروں کو جن کے گلوں میں حرم کے درختوں کے پٹے پڑے ہوئے ہوں، ان ساتھیوں کے لیے جو کہ اس میں ہوتے ہیں، باعث امت قرار دیا ہے، یہ تمام احکام اس لیے بیان کیے ہیں تاکہ تمہیں معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ زمین و آسمان اور ان کے رہنے والوں کی اصلاح سے بخوبی واقف ہے۔
Ayah 5:98

اِعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ وَ اَنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌؕ Open ayah 5:98 in the Quran reader

جان رکھو کہ خدا سخت عذاب دینے والا ہے۔ اور یہ کہ (خدا بخشنے والا مہربان بھی ہے۔

(98) جن باتوں کو تم ظاہر کرتے ہو اور جن کو ایک دوسرے سے چھپاتے ہو جیسا کہ شریح کا مال لینا تو ان کو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے۔
Ayahs 5:99–100

مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا تَكْتُمُوْنَ Open ayah 5:99 in the Quran reader

پیغمبر کے ذمے تو صرف (پیغام خدا کا) پہنچا دینا ہے۔ اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اور جو کچھ مخفی کرتے ہو خدا کو سب معلوم ہے۔

قُلْ لَّا یَسْتَوِی الْخَبِیْثُ وَ الطَّیِّبُ وَ لَوْ اَعْجَبَكَ كَثْرَةُ الْخَبِیْثِ١ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ یٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۠ Open ayah 5:100 in the Quran reader

کہہ دو کہ ناپاک چیزیں اور پاک چیزیں برابر نہیں ہوتیں گو ناپاک چیزوں کی کثرت تمہیں خوش ہی لگے۔ تو عقل والو خدا سے ڈرتے رہو تاکہ رستگاری حاصل کرو

(99۔ 100) اے محمد ﷺ آپ ان لوگوں سے فرما دیجیے، جنھوں نے شریح کے مال پر جو کہ وہ لے کر آئے تھے، دست درازی کی تھی کہ شریح کا مال حرام اور وہ حلال مال جو وہ لے کر آئے تھے برابر نہیں ہوسکتے، لہٰذا عقل والو حرام مال لینے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو تاکہ اس کے غصہ اور عذاب سے بچ سکو۔ شان نزول : (آیت) ”قل لا یستوی الخبیث“۔ (الخ) واحدی ؒ اور اصبہانی ؒ نے ترغیب میں جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے شراب کی حرمت بیان کی تو یہ سن کر ایک اعرابی کھڑا ہوا اور کہنے لگا کہ میری یہی تجارت تھی اور میں نے اس کام میں کافی مال حاصل کیا ہے اگر میں اس مال کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں خرچ کروں تو کیا وہ مال مجھ کو فائدہ دے گا ؟ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ پاکیزہ چیز کے علاوہ اور کسی چیز کو قبول نہیں کرتا تو اللہ تعالیٰ نے رسول اکرم ﷺ کی تصدیق کے لیے یہ آیت نازل فرما دی کہ آپ فرما دیجیے کہ ناپاک اور پاک برابر نہیں۔
Ayahs 5:101–102

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَسْئَلُوْا عَنْ اَشْیَآءَ اِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ١ۚ وَ اِنْ تَسْئَلُوْا عَنْهَا حِیْنَ یُنَزَّلُ الْقُرْاٰنُ تُبْدَ لَكُمْ١ؕ عَفَا اللّٰهُ عَنْهَا١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ Open ayah 5:101 in the Quran reader

مومنو ایسی چیزوں کے بارے میں مت سوال کرو کہ اگر (ان کی حقیقتں) تم پر ظاہر کردی جائیں تو تمہیں بری لگیں۔ اور اگر قرآن نازل ہونے کے زمانے میں ایسی باتیں پوچھو گے تو تم پر ظاہر کردی جائیں گی۔ (اب تو) خدا نے ایسی باتوں (کے پوچھنے) سے درگزر فرمایا ہے اور خدا بخشنے والا بردبار ہے۔

قَدْ سَاَلَهَا قَوْمٌ مِّنْ قَبْلِكُمْ ثُمَّ اَصْبَحُوْا بِهَا كٰفِرِیْنَ Open ayah 5:102 in the Quran reader

اسی طرح کی باتیں تم سے پہلے لوگوں نے بھی پوچھی تھیں (مگر جب بتائی گئیں تو) پھر ان سے منکر ہوگئے۔

(101۔ 102) یہ آیت حارث بن یزید کے بارے میں نازل ہوئی کیوں کہ جس وقت یہ آیت نازل ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے لوگوں پر بیت اللہ کے حج کو فرض کردیا ہے تو انہوں نے رسول اکرم ﷺ سے دریافت کیا کہ کیا ہر ایک سال حج کرنا فرض ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی ممانعت فرما دی کہ ایسی باتیں مت دریافت کرو جن کو اللہ تعالیٰ نے از راہ شفقت معاف کردیا ہے کیوں کہ اگر ان باتوں کا تمہیں حکم دے دیا جائے تو تمہیں ناگوار گزرے اور جن باتوں کو تم سے معاف کردیا گیا ہے اگر تم زمانہ نزول وحی میں ان باتوں کو دریافت کرو تو تم پر فرض کردی جائیں اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کے لیے غفور اور فضول باتوں کے سوال پر حلیم ہیں۔ ایسی باتیں دیگر امتوں نے بھی اپنے انبیاء کرام سے پوچھی تھیں، جب ان کے انبیاء کرام نے ان باتوں کو ظاہر کردیا تو لوگ ان کا حق نہ بجا لاسکے۔ شان نزول : (آیت) ”یایھا الذین امنوالاتسئلوا عن اشیآء“۔ (الخ) امام بخاری ؒ نے انس بن مالک ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے خطبہ دیا تو ایک شخص نے دریافت کیا کہ میرا باپ کون ہے ؟ آپ نے ارشاد فرمایا کہ فلاں ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی یعنی اے ایمان والو ایسی باتیں مت پوچھو (الخ) نیز ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ کچھ لوگ رسول اکرم ﷺ سے بیہودہ سوالات کیا کرتے تھے کوئی پوچھتا کہ میرا باپ کون ہے اور کسی کو اونٹنی گم ہوجاتی تو وہ دریافت کرتا کہ میری اونٹنی کہاں ہے، اس پر ان لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ اور ابن جریر ؒ بھی ابوہریرہ ؓ سے اسی طرح روایت نقل کی ہے اور امام احمد، ترمذی اور حاکم نے حضرت علی ؓ سے روایت نقل کیا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ لوگوں پر بیت اللہ کا حج کرنا فرض ہے تو صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا ہر ایک سال حج کرنا فرض ہے، آپ خاموش رہے، پھر عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ہر ایک سال ہے تو آپ نے ارشاد فرمایا نہیں اور اگر میں ہاں کہہ دیتا تو ہر ایک سال حج کرنا فرض ہوجاتا ہے، اس پر اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کی تائید میں یہ آیت نازل فرمائی کہ اے ایمان والو ایسی باتیں مت دریافت کرو کہ اگر وہ ظاہر کردی جائیں تو اس پر فرمایا نہیں اور اگر میں ہاں کہہ دیتا تو ہر سال حج کرنا فرض ہوجاتا، اس پر اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی تائید میں یہ آیت نازل فرمائی کہ اے ایمان والوں ایسی باتیں مت دریافت کرو کہ اگر وہ ظاہر کردیں جائے تو ان کی تکمیل ناگوار گزرے اور ابن جریر ؒ نے ابوامامہ ؓ اور ابوہریرہ ؓ اور ابن عباس ؓ سے اسی طرح روایت نقل کی ہے، حافظ بن حجر عسقلانی ؒ فرماتے ہیں کہ اس چیز میں کوئی اشکال نہیں کہ یہ آیت دونوں باتوں کے بارے میں نازل ہوئی ہو مگر حضرت ابن عباس ؓ کی حدیث سند کے اعتبار سے سب سے زیادہ صحیح ہے۔
Ayah 5:103

مَا جَعَلَ اللّٰهُ مِنْۢ بَحِیْرَةٍ وَّ لَا سَآئِبَةٍ وَّ لَا وَصِیْلَةٍ وَّ لَا حَامٍ١ۙ وَّ لٰكِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ١ؕ وَ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 5:103 in the Quran reader

خدا نے نہ تو بحیرہ کچھ چیز بنایا اور نہ سائبہ اور نہ وصیلہ اور نہ حام بلکہ کافر خدا پر جھوٹ افتراء کرتے ہیں۔ اور یہ اکثر عقل نہیں رکھتے۔

(103) اور اللہ تعالیٰ نے نہ بحیرہ کو شرع کے موافق کیا ہے اور نہ سائبہ کو اور نہ وصیلہ کو اور نہ حام کو۔ بحیرہ اونٹوں سے ہوتی تھا کہ جس وقت اونٹنی بچے جن دیتی تو پانچویں بچہ کو دیکھتے اگر وہ نر ہوتا تو اس کو ذبح کردیتے تھے اور مرد و عورت مل کر سب اس کا گوشت کھاتے اور اگر وہ پانچواں بچہ مادہ ہوتی تو اس کا کان چاک کردیتے اور اسے بحیرہ بولتے تھے اور اس کے منافع اور دودھ صرف مردوں کے لیے ہوتے تاوقتیکہ یہ مرتی اور جب یہ مرجاتی تو مرد و عورت سب مل کر اس کا گوشت کھاتے۔ سائبہ، آدمی اپنے مال میں سے جو چاہتا بتوں کے نام کردیتا اور اسے لے جا کر بتوں کی دیکھ بھال کرنیوالے کے سپرد کردیتا تو اگر وہ مال حیوان ہوتا تو یہ منتظمین اسے لوگوں کے سپرد کردیتے، جسے مسافر مرد کھا سکتے تھے اور عورتوں کے لیے اس کا کھانا ممنوع تھا اور اگر وہ جانور ذبح کیے بغیر خود بخود مرجاتا تو اسے عورت اور مرد دونوں کھا سکتے تھے۔ وصیلہ۔ جب بکری سات بچے جن دیتی تو ساتواں بچہ اگر نرہوتا تو اسے ذبح کردیتے اور مرد و عورت سب مل کر کھالیتے تھے اور اگر مادہ ہوتی تو اس کے مرنے تک عورتیں اس سے کسی قسم کا فائدہ حاصل نہیں کرسکتی تھیں جب وہ مرجاتی تو مرد و عورت سب مل کر اسے کھالیتے تھے اور اگر بکری ایک ساتھ نر و مادہ دونوں جنتی تھی تو دونوں کو زندہ رہنے دیتے اور ذبح نہیں کرتے اور کہتے کہ ہم نے بھائی بہن کو ملا دیا ہے اور ان کے مرنے تک ان کا نفع صرف مردوں کے ہوتا اور جس وقت یہ مرجاتے تو ان کے کھانے میں مرد و عورت دونوں شریک ہوجاتے۔ حام۔ جس وقت اونٹ اپنی پوتی پر سوار ہوتا تو کہتے کہ اس کی پشت محفوظ ہوگئی ہے تو اسے ویسے ہی چھوڑ دیتے نہ اس پر سواری کرتے اور نہ کچھ بوجھ لادتے تھے اور اسے پانی پینے اور چرنے سے نہیں روکتے تھے اور جو بھی اونٹ اس کے پاس آتا تو اسے بھگا دیتے تھے، پھر جس وقتو وہ بوڑھا ہوجاتا یا مرجاتا تو اس کے کھانے میں مرد و عورت سب شریک ہوجاتے تھے، اسی کو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس نے ان میں سے کسی چیز کو حرام نہیں کیا ہے مگر عمرو بن لحی (مکہ کا ایک بڑا مشرک تھا) اور اس کے ساتھی ان کو اپنے اوپر حرام کرنے میں اللہ تعالیٰ پر افتراء پردازی کرتے ہیں اور یہ سب احکام خداوندی اور حلال و حرام سے ناواقف ہیں۔
Ayah 5:104

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا اِلٰى مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ اِلَى الرَّسُوْلِ قَالُوْا حَسْبُنَا مَا وَجَدْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا١ؕ اَوَ لَوْ كَانَ اٰبَآؤُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ شَیْئًا وَّ لَا یَهْتَدُوْنَ Open ayah 5:104 in the Quran reader

اور جب ان لوگوں سے کہا جاتا ہے جو (کتاب) خدا نے نازل فرمائی ہے اس کی اور رسول اللہ ﷺ کی طرف رجوع کرو تو کہتے ہیں جس طریق ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے وہی ہمیں کافی ہے۔ بھلا ان کے باپ دادا نہ تو کچھ جانتے ہوں اور نہ سیدھے راستے پر ہوں (تب بھی ؟)

(104) اور جس وقت رسول اکرم ﷺ ان مشرکین مکہ سے کہتے ہیں، کہ جن چیزوں کی حلت (جائز ہوتا) اللہ تعالیٰ قرآن حکیم میں بیان کی ہے اور جن کی حلت رسول اکرم ﷺ نے تم سے بیان کی، اس کی طرف رجوع کرو تو جوابا اپنے بڑوں کی حرمت کا ثبوت دیتے ہیں، اور جب کہ ان کے آباؤ اجداد دین کی کسی چیز سے واقف نہیں تھے اور نہ کسی نبی کی سنت پر عمل کرتے تھے تو پھر کیسے یہ لوگ ان کو اپنا رہنما تسلیم کرتے ہیں۔
Ayah 5:105

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلَیْكُمْ اَنْفُسَكُمْ١ۚ لَا یَضُرُّكُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اهْتَدَیْتُمْ١ؕ اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِیْعًا فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 5:105 in the Quran reader

اے ایمان والوں ! اپنی جانوں کی حفاظت کرو۔ جب تم ہدایت پر ہو تو کوئی گمراہ تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ تم سب کو خدا کی طرف لوٹ جانا ہے اس وقت وہ تم کو تمہارے سب کاموں سے جو (دنیا) (میں) کئے تھے آگاہ کریگا اور ان کا بدلہ دے گا

(105) اپنے نفسوں کی فکر کرو کیوں کہ جب تم ایمان پر قائم ہوگے تو کسی گمراہ کی گمراہی جب تم ان سے اس گمراہی کو بیان کر دو گے تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچائے گی، مرنے کے بعد وہ رب کریم تمہاری نیکیاں اور سب تمہیں جتلا دیں گے، یہ آیت مشرکین مکہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے، جس وقت اہل کتاب نے جزیہ دینا قبول کرلیا تھا اور ان لوگوں نے نہیں قبول کیا تھا۔
Ayah 5:106

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا شَهَادَةُ بَیْنِكُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ حِیْنَ الْوَصِیَّةِ اثْنٰنِ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْكُمْ اَوْ اٰخَرٰنِ مِنْ غَیْرِكُمْ اِنْ اَنْتُمْ ضَرَبْتُمْ فِی الْاَرْضِ فَاَصَابَتْكُمْ مُّصِیْبَةُ الْمَوْتِ١ؕ تَحْبِسُوْنَهُمَا مِنْۢ بَعْدِ الصَّلٰوةِ فَیُقْسِمٰنِ بِاللّٰهِ اِنِ ارْتَبْتُمْ لَا نَشْتَرِیْ بِهٖ ثَمَنًا وَّ لَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى١ۙ وَ لَا نَكْتُمُ شَهَادَةَ١ۙ اللّٰهِ اِنَّاۤ اِذًا لَّمِنَ الْاٰثِمِیْنَ Open ayah 5:106 in the Quran reader

مومنو جب تم میں سے کسی کی موت آموجود ہو تو شہادت (کا نصاب) یہ ہے کہ وصیت کے وقت (تم مسلمانوں میں) سے دو مرد عادل (یعنی صاحب اعتبار) گواہ ہوں یا اگر مسلمان نہ ملیں اور جب تم سفر کر رہے ہو اور اس وقت تم پر موت کی مصیبت واقع ہو تو کسی دوسرے مذہب کے دو شخصوں کو گواہ کرلو اگر تم کو ان گواہوں کی نسبت کچھ شک ہو تو ان کو عصر کی نماز کے بعد کھڑا کرو اور دونوں خدا کی قسمیں کھائیں کہ ہم شہادت کا کچھ بھی عوض نہ لیں گے گوہ ہمارا رشتہ دار ہی ہو اور نہ ہم اللہ کی شہادت کو چھپائیں گے اور اگر ایسا کرینگے تو گناہ گار ہونگے

(106) حضر ہو یا سفر مرنے والے کی وصیت کے وقت تم میں سے دو آدمیوں کا وصی ہونا جو کہ آزاد ہوں اور تمہاری قوم میں سے ہوں یا غیر دین یا تمہاری قوم کے علاوہ ہوں یا مقیم نہ ہوں، بلکہ کہیں سفر میں ہوں۔ یہ آیت تین اشخاص کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو شام کی طرف سامان تجارت لے کر جارہے تھے ان میں سے ایک بدیل بن ابی ماریہ مولی عمرو بن العاص مسلمان تھے، ان کا انتقال ہوگیا، انہوں نے اپنے ساتھیوں عدی بن بداء اور تمیم بن اوس جو کہ نصرانی تھے، اپنے انتقال کے وقت وصیت کی، مگر ان دونوں نے وصیت میں خیانت کی تو اللہ تعالیٰ میت کے وارثوں سے فرماتے ہیں کہ ان دونوں نصرانیوں کو عصر کی نماز کے بعد روک لو اور ان سے قسم لو، اگر تمہیں اس بات میں شک ہو کہ جتنا میت کا مال انہوں نے پہنچایا ہے مال اس سے زیادہ تھا۔ اور وہ دونوں یہ کہیں کہ ہم اس قسم کے عوض کوئی دنیاوی نفع نہیں لینا چاہتے، اگرچہ مرنے والا ہمارا قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوتا، اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے جس بات کی باز پرس پر گواہی دینے کا ہمیں حکم ہوا ہے ہم اس کو پوشیدہ رکھیں گے تو ہم گناہگار ہوں گے۔ شان نزول : (آیت) ”یایہا الذین امنو ا شہادۃ“۔ (الخ) امام ترمذی ؒ وغیرہ نے بواسطہ ابن عباس ؓ تمیم داری سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے، میرے علاوہ اور عدی بن بداء کے علاوہ سب نے اس سے جرأت ظاہر کی، یہ دونوں نصرانی تھے، اسلام سے پہلے ملک شام جایا کرتے تھے ، چناچہ اپنی تجارت کے لیے یہ شام گئے اور ان کے پاس بدیل بن ابی مریم مولی بنی سہم بھی آگئے اور ان کے ساتھ ایک چاندی کا جام تھا وہ بیمار ہوئے تو انہوں نے ان دونوں کو وصیت کی اور حکم دیا کہ ان کا ترکہ ان کے وارثوں تک پہنچا دینا تمیم بیان کرتے ہیں کہ ان کے انتقال کے بعد ہم نے اس جام کو لے لیا اور ایک ہزار درہم میں فروخت کرکے وہ قیمت میں نے اور عدی بن بداء نے آپس میں بانٹ لی۔ چناچہ جب ہم ان کے گھروالوں کے پاس آئے تو جو کچھ ان کا سامان ہمارے پاس تھا وہ ہم نے انکودے دیا تو انہوں نے اس جام کو دیکھ کر اس کے بارے میں ہم سے دریافت کیا، ہم نے کہا کہ اس کے علاوہ انہوں نے اور کوئی مال نہیں چھوڑا اور نہ ہمیں دیا ہے، جب میں مشرف باسلام ہوگیا تو مجھے اس کا خوف ہوا، چناچہ میں ان کے گھر والوں کے پاس گیا اور انھیں پورا واقعہ سنا کر پانچ سو درہم ان کو دے دیے اور ان کو بتادیا کہ اتنی اور رقم میرے ساتھی کے پاس بھی موجود ہے، چناچہ وہ رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ ﷺ نے ان سے گواہوں کا مطالبہ کیا، وہ گواہ نہ پیش کرسکے، آپ نے انھیں قسم کھانے کا حکم دیا، چناچہ وہ اس کے لیے تیار ہوگئے اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اے ایمان والو تمہارے آپس میں دو شخص وصی ہونا مناسب ہے۔ (الخ)۔ چناچہ حضرت عمر و بن العاص اور ایک شخص نے کھڑے ہو کر قسم کھالی اور پانچ سو بقیہ درہم عدی بن بداء سے نکلوائے۔ فائدہ : حافظ ذہبی نے اس چیز پر اعتماد کیا ہے کہ جس تمیم کا اس روایت میں ذکر ہے وہ تمیم داری نہیں ہیں اور اس چیز کو انہوں مقاتل بن جان کی طرف منسوب کیا ہے اور حافظ ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں کہ اس روایت میں داری کی تصریح کرنا اچھا نہیں۔
Ayah 5:107

فَاِنْ عُثِرَ عَلٰۤى اَنَّهُمَا اسْتَحَقَّاۤ اِثْمًا فَاٰخَرٰنِ یَقُوْمٰنِ مَقَامَهُمَا مِنَ الَّذِیْنَ اسْتَحَقَّ عَلَیْهِمُ الْاَوْلَیٰنِ فَیُقْسِمٰنِ بِاللّٰهِ لَشَهَادَتُنَاۤ اَحَقُّ مِنْ شَهَادَتِهِمَا وَ مَا اعْتَدَیْنَاۤ١ۖ٘ اِنَّاۤ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 5:107 in the Quran reader

پھر اگر معلوم ہوجائے کہ ان دونوں نے جھوٹ بول کر گناہ حاصل کیا ہے تو جن لوگوں کا انہوں نے حق مارنا چاہا تھا ان میں ان کی جگہ دو گواہ کھڑے ہوں جو میت سے قرابت قریبہ رکھتے ہوں پھر وہ خدا کی قسم کھائیں کہ ہماری شہادت ان کی شہادت سے بہت سچی ہے۔ اور ہم نے کوئی زیادتی نہیں کی ایسا کیا ہو تو ہم بےانصاف ہیں۔

(107) چناچہ قسموں کے بعد ان دونوں کی خیانت اولیاء مقتول پر ظاہر ہوگئی، چناچہ اب مقدمہ کا رخ تبدیل ہوگیا، تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جب ان دونوں نصرانیوں کی خیانت واضح ہوگئی تو ان نصرانیوں کی جگہ جن پر خیانت ثابت ہوئی تھی اولیاء میت میں سے دو میت کے قریب ترین وارث یعنی حضرت عمرو بن العاص ؓ اور مطلب بن ابی دواعتہ کھڑے ہوں اور جنہوں نے اولیاء میت سے مال چھپا لیا تھا ان کے خلاف اللہ کی قسم کھائیں کہ جو مال میت کا انہوں نے پہنچایا ہے، مال اس سے زیادہ تھا، ہمیں مسلمانوں کی شہادت ان نصرانیوں کی شہادت سے زیادہ سچی ہے، کیونکہ ہم نے اپنے دعوے میں ذرا بھی تجاوز نہیں کیا کیوں کہ اگر ہم ایسا کریں تو ہم سخت ظالم ہوں گے۔
Ayah 5:108

ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ یَّاْتُوْا بِالشَّهَادَةِ عَلٰى وَجْهِهَاۤ اَوْ یَخَافُوْۤا اَنْ تُرَدَّ اَیْمَانٌۢ بَعْدَ اَیْمَانِهِمْ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اسْمَعُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 5:108 in the Quran reader

اس طریق سے بہت قریب ہے کہ یہ لوگ صحیح صحیح گواہی دیں یا اس بات سے خوف کریں کہ ہماری قسمیں اب کی قسموں کے بعد رد کردی جائیں گی اور خدا سے ڈرو اور اس کی حکموں کو گوش وہوش سے سنو اور خدا نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا

(108) یہ قانون ان نصرانیوں کے مثلا واقعہ کو اس کی نوعیت کے ساتھ ظاہر کرنے کے لیے بہت ہی مناسب ذریعہ ہے یا وہ نصرانی اس بات سے ڈر کر قسمیں کھانے سے رک جائیں کہ ہم سے قسمیں لینے کے بعد پھر مسلمان ورثہ سے قسمیں لی جائیں گے تو ہمیں شرمندہ ہونا پڑے گا، لہٰذا امانت کی ادائیگی میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور جن باتوں کا اللہ کی جانب سے حکم دیا گیا ہے ان میں پورے طریقہ سے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرو کیوں کہ اللہ تعالیٰ گناہگار جھوٹوں اور کافروں کو اپنے دین کی طرف رہنمائی نہیں کرتے۔
Ayah 5:109

یَوْمَ یَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ فَیَقُوْلُ مَا ذَاۤ اُجِبْتُمْ١ؕ قَالُوْا لَا عِلْمَ لَنَا١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ Open ayah 5:109 in the Quran reader

(وہ دن یاد رکھنے کے لائق ہے) جس دن خدا پیغمبروں کو جمع کرے گا اور ان سے پوچھے گا کہ تمہیں کیا جواب ملا تھا ؟ وہ عرض کریں گے کہ ہمیں کچھ معلوم نہیں۔ تو ہی غیب کی باتوں سے واقف ہے۔

(109) قیامت کے دن اللہ تعالیٰ دہشت کے بعض مواقع پر دریافت کرے گا کہ تمہاری قوم نے تمہیں کیا جواب دیا تو اس وقت اس پریشانی کی بنا پر کوئی جواب نہ دیں گے، پھر بعد میں جواب دیں گے اور احوال امم پر شہادت دیں گے۔
Ayah 5:110

اِذْ قَالَ اللّٰهُ یٰعِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ اذْكُرْ نِعْمَتِیْ عَلَیْكَ وَ عَلٰى وَ الِدَتِكَ١ۘ اِذْ اَیَّدْتُّكَ بِرُوْحِ الْقُدُسِ١۫ تُكَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَهْدِ وَ كَهْلًا١ۚ وَ اِذْ عَلَّمْتُكَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَ١ۚ وَ اِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطِّیْنِ كَهَیْئَةِ الطَّیْرِ بِاِذْنِیْ فَتَنْفُخُ فِیْهَا فَتَكُوْنُ طَیْرًۢا بِاِذْنِیْ وَ تُبْرِئُ الْاَكْمَهَ وَ الْاَبْرَصَ بِاِذْنِیْ١ۚ وَ اِذْ تُخْرِجُ الْمَوْتٰى بِاِذْنِیْ١ۚ وَ اِذْ كَفَفْتُ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ عَنْكَ اِذْ جِئْتَهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَقَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 5:110 in the Quran reader

جب خدا عیسیٰ سے فرمائے گا اے عیسیٰ بن مریم ! میرے ان احسانوں کو یاد کروں جو میں نے تم پر اور تمہاری والدہ پر کئے۔ جب میں روح القدس (جبرائیل) سے تمہاری مدد کی۔ تم جھولے میں اور جوان ہو کر (ایک ہی طریق پر) لوگوں سے گفتگو کرتے تھے اور جب میں نے تم کو کتاب اور دانائی اور تورات اور انجیل سکھائی۔ اور جب تم میرے حکم سے مٹی کا جانور بنا کر اس میں پھونک مار دیتے تھے تو وہ میرے حکم سے اڑنے لگتا تھا۔ اور مادر زاد اندھے اور سفید داغ والے کو میرے حکم سے چنگا کردیتے تھے اور مردے کو (زندہ کرکے قبر سے) نکال کھڑا کرتے تھے۔ اور جب میں نے بنی اسرائیل (کے ہاتھوں) کو تم سے روک دیا۔ جب انکے پاس کھلے ہوئے نشان لیکر آئے تو جو ان میں سے کافر تھے کہنے لگے کہ یہ تو صریح جادو ہے۔

(110) اور اسی روز اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ ؑ سے فرمائے گا کہ میرا انعام جو نبوت اسلام اور عبادت کی صورت میں ہوا، اس کو یاد کرو اور جب کہ جبریل مطہر کے ساتھ تمہیں تائید دی اور لوگوں سے کلام کرنے میں تقویت ملی کہ آپ پنگھوڑے میں کہہ رہے تھے، کہ میں اللہ تعالیٰ کا بندہ ہوں اور تیس سال کے بعد تمہیں تقویت دی کہ تم نے اپنے رسول ہونے کا اعلان کیا اور جب کہ آپ کو تمام آسمانی کتب یا یہ کہ بولنا اور حکماء کی حکمت یا حلال و حرام کی تعلیم دی اور توریت کی جب کہ آپ اپنی ماں کے پیٹ میں تھے اور انجیل کی وہاں سے نکلنے کے بعد تعلیم دی اور جب کہ تم مٹی کے پرندہ جیسی تصویر بناتے تھے اور پھر میرے حکم سے اس میں پھونک مار دیتے تھے تو وہ آسمان اور زمین کے درمیان پرندہ بن کر میرے حکم اور ارادہ سے اڑنا شروع کردیتا تھا اور میرے حکم و ارادہ اور میری قدرت سے تم مادر زاد اندھے کو اچھا کردیتے تھے۔ اور جب کہ تم بنی اسرائیل کے پاس اوامرو نواہی لے کر آئے اور انھیں معجزات دکھائے اور انہوں نے تمہارے قتل کا ارادہ کیا تو میں نے ان کو تمہارے قتل سے باز رکھا اور بنی اسرائیل ان معجزات کے دیکھنے پر کہنے لگے کہ یہ تو واضح جادو ہے یا یہ کہ حضرت عیسیٰ ؑ جادوگر ہیں۔
Ayah 5:111

وَ اِذْ اَوْحَیْتُ اِلَى الْحَوَارِیّٖنَ اَنْ اٰمِنُوْا بِیْ وَ بِرَسُوْلِیْ١ۚ قَالُوْۤا اٰمَنَّا وَ اشْهَدْ بِاَنَّنَا مُسْلِمُوْنَ Open ayah 5:111 in the Quran reader

اور جب میں نے حواریوں کی طرف حکم بھیجا کہ مجھ پر اور میرے پیغمبر پر ایمان لاؤ وہ کہنے لگے کہ (پروردگار) ہم ایمان لائے تو شاہد رہیو کہ ہم فرمانبردار ہیں

(111) اور جس وقت میں نے حواریین کو جن کو تعداد بارہ تھی، ایمان لانے کا حکم دیا کہ ہم پر اور حضرت عیسیٰ ؑ پر ایمان لے آؤ اور آپ اے عیسیٰ ؑ اس پر گواہ رہیے اور ان میں سے بھی ایک نے ایک پر شہادت دی کہ ہم کامل مومن اور فرما نبردار ہیں۔
Ayah 5:112

اِذْ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ یٰعِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ هَلْ یَسْتَطِیْعُ رَبُّكَ اَنْ یُّنَزِّلَ عَلَیْنَا مَآئِدَةً مِّنَ السَّمَآءِ١ؕ قَالَ اتَّقُوا اللّٰهَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 5:112 in the Quran reader

(وہ قصہ بھی یاد کرو) جب حواریوں نے کہا کہ اے عیسیٰ بن مریم ! کیا تمہارا پروردگار ایسا کرسکتا ہے کہ ہم پر آسمان سے (طعام کا) خوان نازل کرے ؟ انہوں نے کہا کہ اگر ایمان رکھتے ہو تو خدا سے ڈرو۔

(112) اور حواریوں نے یعنی شمعون نے کہا کہ آپ کی قوم کہتی ہے کہ کیا آپ پروردگار سے اس چیز کے بارے میں دعا کرسکتے ہیں کہ آسمان سے کچھ کھانا نازل ہوجایا کرے، حضرت عیسیٰ ؑ نے یہ سن کر شمعون سے فرمایا کہ ان سے کہہ دو کہ اللہ تعالیٰ سے ڈریں اگر اللہ پر یقین رکھتے ہیں کیونکہ تم اس نعمت کی شکر گزاری نہیں کرو گے۔
Ayah 5:113

قَالُوْا نُرِیْدُ اَنْ نَّاْكُلَ مِنْهَا وَ تَطْمَئِنَّ قُلُوْبُنَا وَ نَعْلَمَ اَنْ قَدْ صَدَقْتَنَا وَ نَكُوْنَ عَلَیْهَا مِنَ الشّٰهِدِیْنَ Open ayah 5:113 in the Quran reader

وہ بولے کہ ہماری خواہش ہے کہ تم اس میں سے کھائیں اور ہمارے دل تسلّی پائیں۔ اور ہم جان لیں کہ تم نے ہم سے (سچ کہا ہے اور ہم اس (خوان کے نزول) پر گواہ رہیں۔

(113) جس کی بنا پر عذاب میں گرفتار ہوجاؤ گے۔ شمعون نے ان سے یہ کہہ دیا وہ بولے ہم چاہتے ہیں کہ اس طرح جو معجزات آپ دکھا رہے ہیں اس پر ہمارا یقین اور بڑھ جائے گا اور جب ہم اپنی قوم کے پاس لوٹین تو گواہی دینے والوں میں سے ہوجائیں۔
Ayah 5:114

قَالَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ اللّٰهُمَّ رَبَّنَاۤ اَنْزِلْ عَلَیْنَا مَآئِدَةً مِّنَ السَّمَآءِ تَكُوْنُ لَنَا عِیْدًا لِّاَوَّلِنَا وَ اٰخِرِنَا وَ اٰیَةً مِّنْكَ١ۚ وَ ارْزُقْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ Open ayah 5:114 in the Quran reader

تب عیسیٰ بن مریم نے دعا کی کہ اے ہمارے پروردگار ! ہم پر آسمان سے خوان نازل فرما کہ ہمارے لئے (وہ دن) عید قرار پائے یعنی ہمارے اگلوں اور پچھلوں (سب) کیلئے۔ اور وہ تیری طرف سے نشانی ہو اور ہمیں رزق دے تو بہتر رزق دینے والا ہے۔

(114) چناچہ حضرت عیسیٰ ؑ نے آسمان سے کھانا نازل ہونے کی دعا کی یا یہ کہ کھانے کی برکت کی دعا کی کہ ہم میں جو موجودہ زمانہ میں ہیں اور جو بعد میں آنے والے ہیں، ان کے لیے ایک خوشی کی چیز ہوجائے تاکہ ہم آپ کی عبادت کریں اور یہ اتوار کا دن تھا اور یہ ایک معجزاتی نشانی ہوجائے، مومنین کے لیے باعث اطمینان قلب اور کفار پر حجت لازم ہونے کے لیے پروردگار ہر نعمت ہمیں عطا کیجیے، آپ سب عطا کرنے والوں سے اچھے ہیں۔
Ayah 5:115

قَالَ اللّٰهُ اِنِّیْ مُنَزِّلُهَا عَلَیْكُمْ١ۚ فَمَنْ یَّكْفُرْ بَعْدُ مِنْكُمْ فَاِنِّیْۤ اُعَذِّبُهٗ عَذَابًا لَّاۤ اُعَذِّبُهٗۤ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 5:115 in the Quran reader

خدا نے فرمایا میں تم پر ضرور خوان نازل فرماؤں گا لیکن جو اس کے بعد تم میں سے کفر کرے گا اسے ایسا عذاب دوں گا کہ اہل عالم میں کسی کو ایسا عذاب نہ دوں گا۔

(115) اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ ؑ سے فرمایا کہ اپنی قوم سے کہہ دو کہ تیری درخواست پوری کرتا ہوں مگر جس نے اس کے نزول اور اس میں سے کھانے کے بعد میرا حق نہ پہچانا تو انہیں ایسی سزا دوں گا، کہ ویسی سزا دنیا جہاں والوں میں سے کسی کو نہ دوں گا یعنی سور بنا دوں گا۔
Ayah 5:116

وَ اِذْ قَالَ اللّٰهُ یٰعِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ ءَاَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوْنِیْ وَ اُمِّیَ اِلٰهَیْنِ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قَالَ سُبْحٰنَكَ مَا یَكُوْنُ لِیْۤ اَنْ اَقُوْلَ مَا لَیْسَ لِیْ١ۗ بِحَقٍّ١ؐؕ اِنْ كُنْتُ قُلْتُهٗ فَقَدْ عَلِمْتَهٗ١ؕ تَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِیْ وَ لَاۤ اَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِكَ١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ Open ayah 5:116 in the Quran reader

اور (اس وقت کو بھی یاد رکھو) جب خدا فرمائے گا کہ اے عیسیٰ بن مریم ! کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ خدا کے سوا مجھے اور میری والدہ کو معبود مقرر کرو ؟ وہ کہیں گے کہ تو پاک ہے مجھے کب شایاں تھا کہ میں ایسی بات کہتا جس کا مجھے کچھ حق نہیں۔ اگر میں نے ایسا کہا ہوگا تو تجھ کو معلوم ہوگا۔ (کیونکہ) جو بات میرے دل میں ہے تو اسے جانتا ہے اور جو تیرے ضمیر میں ہے اسے میں نہیں جانتا بیشک تو علامّ الغیوب ہے۔

(116) قیامت کے دن اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ ؑ سے کفار نصاری کو سنانے کے لیے یہ فرمائیں گے کہ اے عیسیٰ ؑ کیا تو نے ان لوگوں سے کہا تھا کہ مجھ کو اور میری ماں کو بھی اللہ کے علاوہ معبود بنا لو تو حضرت عیسیٰ ؑ بارگاہ الہی میں عرض کریں گے کہ میں تو شرک سے اپنے آپ کو پاک سمجھتا ہوں میرے لیے تو کسی بھی صورت میں یہ مناسب نہیں تھا کہ میں شرک کی ایسی بات کہتا۔
Ayah 5:117

مَا قُلْتُ لَهُمْ اِلَّا مَاۤ اَمَرْتَنِیْ بِهٖۤ اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبَّكُمْ١ۚ وَ كُنْتُ عَلَیْهِمْ شَهِیْدًا مَّا دُمْتُ فِیْهِمْ١ۚ فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ اَنْتَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ Open ayah 5:117 in the Quran reader

میں نے ان سے کچھ نہیں کہا بجز اس کے جس کا تو نے مجھے حکم دیا وہ یہ کہ تم خدا کی عبادت اور جو میرے تمہارا سب کا پروردگار ہے۔ اور جب تک میں ان میں رہا ان (کے حالات) کی خبر رکھتا رہا۔ جب تو نے مجھے دنیا سے اٹھا لیا تو تو ان کا نگران تھا۔ اور تو ہر چیز سے خبردار ہے۔

(117) میں نے جو کچھ اوامرو نہی ان کو کہے ہیں آپ اسے بخوبی جانتے ہیں اور جو کچھ ان لوگوں کے حق میں رسوائی اور توفیق ہے میں تو اس کو نہیں جانتا، میں نے ان سے دنیا میں صرف یہی کہا کہ اس ذات کی عبادت اور اطاعت کرو جو میرا بھی اللہ ہے اور تمہارا بھی اور جب تک ان میں موجود رہا تیرے احکام کے پہنچانے پر باخبر رہا اور جب ان کے درمیان سے آپ نے مجھے اٹھالیا تو آپ ہی ان کے احوال سے باخبر رہے، آپ تو میری باتوں اور ان کی باتوں سب ہی کو جاننے والے ہیں۔
Ayah 5:118

اِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَاِنَّهُمْ عِبَادُكَ١ۚ وَ اِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَاِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 5:118 in the Quran reader

اگر تو انکو عذاب دے تو یہ تیرے بندے ہیں۔ اور اگر بخش دے تو (تیری مہربانی ہے) بیشک تو غالب (اور) حکمت والا ہے۔

(118) چناچہ جب اس مائدہ کا نزول ہوگیا اور اس میں سے کھانا شروع کیا تو یہ یہودی اب اس کو جھوٹ اور جادو بتانے لگے حضرت عیسیٰ ؑ نے عرض کیا پروردگار ان کی ان باتوں پر جس کی وجہ سے یہ ہلاک کردینے کے مستحق ہیں، تو ان کو سزا دے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر ان کو معاف فرما دے تو آپ عزیز اور حکیم ہیں۔
Ayah 5:119

قَالَ اللّٰهُ هٰذَا یَوْمُ یَنْفَعُ الصّٰدِقِیْنَ صِدْقُهُمْ١ؕ لَهُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 5:119 in the Quran reader

خدا فرمائے گا کہ آج وہ دن ہے کہ راست بازوں کو ان کی سچّائی ہی فائدہ دے گی۔ ان کے لئے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں ابد الآ باد ان میں بستے رہیں گے۔ خدا ان سے خوش ہے اور وہ خدا سے خوش ہیں۔ یہ بڑی کامیابی ہے۔

(119) اور اللہ تعالیٰ فرمائیں گے یہ وہ دن ہے کہ مومنوں کا ان کا ایمان اور مبلغوں کو ان کی تبلیغ اور وعدوں میں سچے رہنے والوں کو ان کی سچائی کام آئے گی، ان حضرات کے لیے ایسے باغات ہوں گے جہاں درختوں اور محلات کے نیچے سے دودھ، شہد پانی اور پاکیزہ شراب کی نہریں بہتی ہوں گی، وہ جنت میں ہمیشہ رہیں گے، نہ وہاں ان کو موت آئے گی اور نہ وہ اس سے نکالے جائیں گے، وہ اللہ تعالیٰ سے خوش ہیں اور یہ اس قدر ثواب و انعامات اس بات کی علامت ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے خوش ہیں۔ یہ خلود فی الجنت (جنت میں ہمیشہ ہمیشہ رہنا) اور رضوان بہت بڑی کامیابی ہے کہ جنت مل گئی اور دوزخ کے عذاب سے محفوظ ہوگئے ،
Ayah 5:120

لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا فِیْهِنَّ١ؕ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 5:120 in the Quran reader

آسمان اور زمین اور جو کچھ ان (دونوں) میں ہے سب پر خدا ہی کی بادشاہی ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

(120) آسمان و زمین کے تمام خزانے مثلا بارش اور ہر قسم کے پھل اور تمام مخلوقات اور عجائب اللہ تعالیٰ ہی کی ملکیت میں داخل ہیں اور رب ذوالجلال کو آسمان و زمین کے پیدا کرنے اور ثواب و عذاب دینے پر پوری قدرت حاصل ہے، لہٰذا اسی ذات کی تعریف بیان کرو جو کہ آسمان و زمین کا خالق ہے۔