5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayah 5:41

یٰۤاَیُّهَا الرَّسُوْلُ لَا یَحْزُنْكَ الَّذِیْنَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْكُفْرِ مِنَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِاَفْوَاهِهِمْ وَ لَمْ تُؤْمِنْ قُلُوْبُهُمْ١ۛۚ وَ مِنَ الَّذِیْنَ هَادُوْا١ۛۚ سَمّٰعُوْنَ لِلْكَذِبِ سَمّٰعُوْنَ لِقَوْمٍ اٰخَرِیْنَ١ۙ لَمْ یَاْتُوْكَ١ؕ یُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ مِنْۢ بَعْدِ مَوَاضِعِهٖ١ۚ یَقُوْلُوْنَ اِنْ اُوْتِیْتُمْ هٰذَا فَخُذُوْهُ وَ اِنْ لَّمْ تُؤْتَوْهُ فَاحْذَرُوْا١ؕ وَ مَنْ یُّرِدِ اللّٰهُ فِتْنَتَهٗ فَلَنْ تَمْلِكَ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَمْ یُرِدِ اللّٰهُ اَنْ یُّطَهِّرَ قُلُوْبَهُمْ١ؕ لَهُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ١ۖۚ وَّ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 5:41 in the Quran reader

اے پیغمبر جو لوگ کفر میں جلدی کرتے ہیں (کچھ تو) ان میں سے (ہیں) جو منہ سے کہتے ہیں کہ ہم مومن ہیں لیکن ان کے دل مومن نہیں ہیں۔ اور (کچھ) ان میں سے یہودی ہیں۔ ان کی وجہ سے غمناک نہ ہونا۔ یہ غلط باتیں بنانے کیلئے جاسوسی کرتے پھرتے ہیں۔ اور ایسے لوگوں (کے بہکانے) کیلئے جاسوس بنے ہیں جو ابھی تمہارے پاس نہیں آئے (صحیح) باتوں کو ان کے مقامات (میں ثابت ہونے کے بعد) بدل دیتے ہیں اور (لوگوں سے) کہتے ہیں اگر تمہیں یہ حکم ملے تو اس کو لے لینا اگر نہ ملے تو اس سے احتراز کرنا اگر خدا کسی کو گمراہ کرنا چاہے تو اس کے لئے تم کچھ بھی خدا سے (ہدایت کا) اختیار نہیں رکھتے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو خدا نے پاک کرنا نہیں چاہا۔ ان کے لیے دنیا میں بھی ذلّت ہے اور آخرت میں بھی بڑا عذاب ہے

(41) اے محمد ﷺ جو لوگ کفار کے ساتھ دنیوی اور اخروی معاملات میں دوستی کے لیے پہل کرتے ہیں، آپ ان کی وجہ سے دکھی مت ہوں وہ صرف اپنی زبانوں سے کہتے ہیں کہ ہم نے دل سے تصدیق کی مگر ان منافق یعنی عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں کے دلوں نے تصدیق نہیں کی اور خواہ وہ بنو قریظہ کے یہودی کعب اور اس کے ساتھی ہوں وہ سب اہل خیبر کی وجہ سے یہ باتیں سنتے ہیں اور اہل خیبر سے جن باتوں کا ظہور ہوا بنوقریظہ نے ان کے متعلق آپ ﷺ سے دریافت کیا تھا۔ انھوں نے رسول اللہ ﷺ کی نعت وصفت اور رجم کے حکم میں باوجود اس کے کہ توریت میں اس کا ذکر ہے، تبدیلی کی ہے اور ان کے سردار کمزوروں سے یا یہ کہ عبداللہ بن ابی منافق اور اس کے ساتھی دوسروں سے کہتے ہیں اگر رسول اللہ ﷺ تمہیں زانی کو کوڑے لگانے کا حکم دیں تو اسے قبول کرلو اور اس پر عمل کرو اور اگر سنگسار کرنے کا حکم دیں یعنی اگر تمہاری خواہشات کے مطابق حکم نہ ہو تو اس سے احتراز کرو اور اسے قبول مت کرو اور جس کا کفر وشرک اور ذلت ورسوائی خدا ہی کو منظور ہو تو اسے عذاب الہی سے کون نجات دے سکتا ہے۔ یہ یہود اور منافقین ایسے ہیں کہ مکرو خیانت اور کفر پر اصرار کی وجہ سے اللہ کو ان کی پاکیزگی ہی منظور نہیں، ان کو قتل اور جلاوطن کرنے کا عذاب دیا جائے گا اور آخرت کا عذاب اس دنیاوی عذاب کی نسبت بہت سخت ہوگا۔ شان نزول : (آیت) ”یایھا الرسول لا یحزنک الذین“۔ (الخ) امام احمد ؒ اور ابوداؤد ؒ نے ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کی دو جماعتوں کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی ہے جن میں سے ایک جماعت دوسری جماعت پر زمانہ جاہلیت میں غالب آگئی تھی یہاں تک کہ دونوں کا میل جول ہوگیا پھر دونوں نے مل کر یہ طے کرلیا کہ جس مغلوب آدمی کو کوئی معزز یعنی غالب آدمی قتل کردے تو اس کی دیت پچاس وسق ہے۔ اور جس معزز آدمی کو کوئی مغلوب مار ڈالے تو اس کی دیت سو وسق ہے تو یہ لوگ اسی چیز پر قائم رہے یہاں تک کہ رسول اکرم ﷺ تشریف لے آئے تو ایک مغلوب نے ایک معزز کو مار ڈالا، اس معزز کے خاندان والوں نے قاصد بھیجا کہ سو وسق دیت کے دو تو مغلوب نے کہا کہ یہ چیز دو قبیلوں میں کیسے ہوسکتی ہے، جب کہ دونوں کا دین ایک، دونوں کی نسبت ایک اور دونوں کا شہر ایک اور پھر بعض دیت آدھی، ہم تم لوگوں سے ڈر کر خوف کی وجہ سے پوری دیت دے دیا کرتے تھے، اب جب کہ رسول اکرم ﷺ تشریف لے آئے تو اب ہم تمہیں اس طرح سابقہ طریقہ سے دیت نہیں دیں گے، امکان تھا کہ ان دو قبیلوں میں جنگ ہوجاتی مگر یہ دونوں قبیلے اس بات پر رضا مند ہوگئے کہ رسول اللہ ﷺ کو اپنے درمیان منصف بنالیں، چناچہ منافقین میں سے کچھ لوگ آپ کے پاس پہنچے تاکہ آپ کی رائے معلوم کریں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی یعنی اے رسول ﷺ جو لوگ کفر میں دوڑ دوڑ کر گرتے ہیں الخ۔ اور امام احمد و امام مسلم نے براء عازب ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس سے کچھ یہودی گزرے، جن کی صورتیں سیاہ اور ان کے کوڑے لگے ہوئے تھے، آپ نے پوچھا کہ کیا تمہاری کتاب میں زانی کی یہی سزا ہے بولے ہاں۔ آپ نے ان کے عالموں میں سے ایک شخص کو بلایا اور فرمایا کہ میں تجھے اس ذات کی قسم دے کر دریافت کرتا ہوں جس نے توریت حضرت موسیٰ پر نازل فرمائی، کیا تمہاری کتاب میں زانی کی یہی سزا ہے، وہ بولا نہیں اور اگر آپ اس طریقہ سے مجھے قسم نہ دیتے تو میں آپ کو نہ بتاتا ہماری کتاب میں زانی کی سزا سنگسار کردینا ہے، مگر ہمارے معزز لوگوں میں یہ بکثرت ہوگیا ہے، لہذا ہم میں سے جب کوئی معزز زنا کرتا ہے تو ہم اسے چھوڑ دیتے ہیں اور جس وقت کوئی کمزور زنا کرتا ہے تو اس پر حد نافذ کرتے ہیں۔ اس کے بعد ہم یہودیوں نے آپس میں کہا کہ آؤ کوئی ایسی سزا مقرر کرلیں، جو معزز اور کمزور دونوں پر نافذ کردیا کریں ، تو منہ کالا کرنے اور کوڑے لگادینے پر ہمارا اتفاق ہوگیا، تب رسول اکرم ﷺ نے فرمایا الہ العالمین میں وہ پہلا شخص ہوں کہ جس نے تیرے حکم کو زندہ کیا جب کہ لوگ اس کو ختم کرچکے تھے۔ چناچہ آپ ﷺ نے زانی کے بارے میں تورات کے مطابق حکم دیا، اسے سنگسار کیا گیا، تب اللہ تعالیٰ نے فخذوہ تک یہ آیت نازل فرمائی۔ یہودی کہتے تھے کہ محمد ﷺ کے پاس جاؤ اگر وہ منہ کالا کرنے اور کوڑے لگانے کا حکم دیں تو حکم مان لو اگر سنگسار کرنے کا حکم دیں تو اس سے بچو، یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی۔ یہودی کہتے تھے کہ محمد ﷺ کے پاس جاؤ اگر وہ منہ کالا کرنے اور کوڑے لگانے کا حکم دیں تو حکم مان لو اگر سنگسار کرنے حکم دیں تو اس سے بچو، یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی کہ جو شخص اللہ کے نازل کیے ہوئے حکم کے موافق فیصلہ نہ کرے تو ایسے لوگ بالکل ستم ڈھا رہے ہیں۔ اور حمیدی نے اپنی سند میں حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ فدک والوں میں سے ایک شخص نے زنا کیا تو فدک والوں نے مدینہ منورہ کے کچھ یہودیوں کے پاس لکھا کہ اس کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے دریافت کرو، اگر آپ کوڑے لگانے کا حکم دیں تو یہ آپ سے لے لو اور اگر سنگسار کرنے کے باے میں فرمائیں تو اس سے بچو، چناچہ یہودیوں نے آپ ﷺ سے دریافت کیا آپ ﷺ نے سنگسار کرنے کا حکم دیا، اس پر آیت کا یہ حصہ نازل ہوا، (آیت) ”فان جاؤک فاحکم (الخ) اور بیہقی نے دلائل میں بوہریرہ ؓ سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayah 5:42

سَمّٰعُوْنَ لِلْكَذِبِ اَكّٰلُوْنَ لِلسُّحْتِ١ؕ فَاِنْ جَآءُوْكَ فَاحْكُمْ بَیْنَهُمْ اَوْ اَعْرِضْ عَنْهُمْ١ۚ وَ اِنْ تُعْرِضْ عَنْهُمْ فَلَنْ یَّضُرُّوْكَ شَیْئًا١ؕ وَ اِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ Open ayah 5:42 in the Quran reader

(یہ) جھوٹی باتیں بنانے کے لئے جاسوسی کرنے والے اور (رشوت کا) حرام مال کھانیوالے ہیں۔ اگر یہ تمہارے پاس (کوئی مقدمہ فیصل کرانے کو) آئیں تو تم ان میں فیصلہ کردینا یا اعراض کرنا اگر تم ان سے اعراض کرو گے تو وہ تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا اگر فیصلہ کرنا چاہو تو انصاف کا فیصلہ کرنا کہ خدا انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔

(42) احکام خداوندی میں تبدیلی کرکے یہ لوگ رشوت اور حرام کھانے والے ہیں، اے محمد ﷺ آپ کے پاس بنوقریظہ، اور نضیر یا خیبر والے آئیں اگر آپ ﷺ چاہیں تو ان کے درمیان سنگسار کرنے کا فیصلہ فرما دیجیے یا اعراض کیجیے یہ آپ ﷺ کو کوئی ضرر نہیں پہنچا سکتے۔ اور اگر آپ ﷺ فیصلہ فرمائیں تو رجم کا فیصلہ فرمائیں کیوں کہ اللہ تعالیٰ عدل کرنے والوں اور کتاب اللہ (تورات) کے حکم رجم پر عمل کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔
Ayah 5:43

وَ كَیْفَ یُحَكِّمُوْنَكَ وَ عِنْدَهُمُ التَّوْرٰىةُ فِیْهَا حُكْمُ اللّٰهِ ثُمَّ یَتَوَلَّوْنَ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ١ؕ وَ مَاۤ اُولٰٓئِكَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 5:43 in the Quran reader

اور یہ تم سے (اپنے مقدمات) کیونکر فیصل کرائیں گے جبکہ خود ان کے پاس تورات (موجود) ہے جس میں خدا کا حکم (لکھا ہوا) ہے (یہ اسے جانتے ہیں) پھر اس کے بعد اس سے پھرجاتے ہیں اور یہ لوگ ایمان ہی نہیں رکھتے۔

(43) اور حیرت ہے کہ یہ آپ سے کیوں فیصلہ کراتے ہیں، جب کہ توریت میں رجم کا حکم موجود ہے، اور پھر توریت اور قرآن کریم کے حکم سے پھرجاتے ہیں۔
Ayah 5:44

اِنَّاۤ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰىةَ فِیْهَا هُدًى وَّ نُوْرٌ١ۚ یَحْكُمُ بِهَا النَّبِیُّوْنَ الَّذِیْنَ اَسْلَمُوْا لِلَّذِیْنَ هَادُوْا وَ الرَّبّٰنِیُّوْنَ وَ الْاَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُوْا مِنْ كِتٰبِ اللّٰهِ وَ كَانُوْا عَلَیْهِ شُهَدَآءَ١ۚ فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَ اخْشَوْنِ وَ لَا تَشْتَرُوْا بِاٰیٰتِیْ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 5:44 in the Quran reader

بیشک ہم نے تورات نازل فرمائی جس میں ہدایت اور روشنی ہے۔ اسی کے مطابق انبیاء جو (خدا کے) فرمانبردار تھے یہودیوں کو حکم دیتے رہے ہیں اور مشائخ اور علماء بھی۔ کیونکہ وہ کتاب خدا کے نگہبان مقرر کئے گئے تھے اور اس پر گواہ تھے (یعنی حکم الہٰی کا یقین رکھتے تھے) تو تم لوگوں سے مت ڈرنا اور مجھی سے ڈرتے رہنا اور میری آیتوں کے بدلے تھوڑی سی قیمت نہ لینا۔ اور جو خدا کے نازل فرمائے ہوئے احکام کے مطابق حکم نہ دے تو ایسے ہی لوگ کافر ہیں

(44) ہم نے حضرت موسیٰ ؑ پر توریت نازل کی تھی، جس میں رجم کا بیان تھا، حضرت موسیٰ ؑ کے زمانہ سے لے کر حضرت عیسیٰ ؑ کے زمانہ تک اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار انبیاء کرام اسی کے مطابق حکم دیا کرتے تھے۔ اور وہ تقریبا ایک ہزار نبی آئے ہیں، اسی طرح اہل اللہ بھی اور علماء بھی توریت کے مطابق حکم دیا کرتے تھے اور وہ پارسا بھی جو گرجاؤں میں رہتے تھے، کیونکہ اس کتاب اللہ پر عمل کرنے اور اس کے مطابق فیصلہ کرنے کا حکم دیا گیا تھا، لہذا آیت رجم اور رسول اکرم ﷺ کی نعت وصفت چھپانے میں مجھ سے ڈریں، اور آپ کی نعت وصفت اور آیت رجم کو چھپا کر کھانے کی معمولی چیز مت لو اور توریت میں حضور کی نعت وصفت اور آیت رجم کرو جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے اسے جو بیان نہیں کرتے، وہ اللہ تعالیٰ اور اس کی کتاب اور اس کے رسول کے منکر ہیں۔
Ayah 5:45

وَ كَتَبْنَا عَلَیْهِمْ فِیْهَاۤ اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ١ۙ وَ الْعَیْنَ بِالْعَیْنِ وَ الْاَنْفَ بِالْاَنْفِ وَ الْاُذُنَ بِالْاُذُنِ وَ السِّنَّ بِالسِّنِّ١ۙ وَ الْجُرُوْحَ قِصَاصٌ١ؕ فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهٖ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَّهٗ١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 5:45 in the Quran reader

اور ہم نے ان لوگوں کے لیے تورات میں یہ حکم لکھ دیا تھا کہ جان کے بدلے جان اور آنکھ اور ناک کے بدلے ناک اور کان کے بدلے کان اور دانت کے بدلے دانت اور سب زخموں کا اسی طرح بدلا ہے لیکن جو شخص بدلا معاف کردے وہ اس کیلئے کفّارہ ہوگا۔ اور جو خدا کے نازل فرمائے ہوئے احکام کے مطابق حکم نہ دے تو ایسے ہی لوگ بےانصاف ہیں۔

(45) اور ہم نے توریت میں بنی اسرائیل پر یہ چیز فرض کی تھی، اگر کوئی شخص کسی کو دانستا ناحق قتل کردے یا دانستا ناحق آنکھ پھوڑ دے یا ناحق دانستا ناک کاٹ دے یا ناحق دانستا کان کاٹ دے یا ناحق دانستا دانت توڑدے تو سب کا قصاص ہوگا اسی طرح دوسرے زخموں میں حکومت عدل ہے۔ پھر جو شخص زخمی کرنے والے کو معاف کردے تو یہ زخم یا زخمی کرنے والے کا کفارہ ہوجائے گا۔
Ayahs 5:46–47

وَ قَفَّیْنَا عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ بِعِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ التَّوْرٰىةِ١۪ وَ اٰتَیْنٰهُ الْاِنْجِیْلَ فِیْهِ هُدًى وَّ نُوْرٌ١ۙ وَّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَ هُدًى وَّ مَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِیْنَؕ Open ayah 5:46 in the Quran reader

اور ان پیغمبروں کے بعد انہیں کے قدموں پر ہم نے عیسیٰ بن مریم کو بھیجا جو اپنے سے پہلے کی کتاب تورات کی تصدیق کرتے تھے اور ان کو انجیل عنایت کی جس میں ہدایت اور نور ہے اور تورات کی جو اس سے پہلی (کتاب) ہے تصدیق کرتی ہے اور پرہیزگاروں کو راہ بتاتی اور نصیحت کرتی ہے۔

وَ لْیَحْكُمْ اَهْلُ الْاِنْجِیْلِ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فِیْهِ١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 5:47 in the Quran reader

اور اہل انجیل کو چاہئے کہ جو احکام خدا نے اس میں نازل فرمائے ہیں اسکے مطابق حکم دیا کریں اور جو خدا کے نزل کئے ہوئے احکام کے مطابق حکم نہ دے گا تو ایسے لوگ نافرمان ہیں۔

(46۔ 47) جو شخص ان کو نہ بیان کرے اور ان پر عمل نہ کرے تو وہ اپنے آپ کو سزا کے مستحق ہونے کی وجہ سے نقصان پہنچانے والے ہیں اور ہم نے ان کے بعد توریت کے احکام کی ترویج اور توحید کی موافقت اور تصدیق کے لیے حضرت عیسیٰ ؑ کو بھیجا، اور ہم نے ان کو انجیل دی جو توحید اور رجم کے بیان میں توریت کے موافق تھی، اور کفر وشرک اور دیگر فواحش سے روکنے والی تھی اور اس لیے کہ انجیل میں اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں بیان کی ہیں، جیسا کہ رسول اکرم ﷺ کی نعت وصیت اور رجم کا حکم تو انجیل والے ان چیزوں کو بیان کردیں اور جن امور کو اللہ تعالیٰ نے انجیل میں بیان کیا ہے جو لوگ ان کو نہیں بیان کرتے وہی گنہگار اور کافر ہیں۔
Ayah 5:48

وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ الْكِتٰبِ وَ مُهَیْمِنًا عَلَیْهِ فَاحْكُمْ بَیْنَهُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَهُمْ عَمَّا جَآءَكَ مِنَ الْحَقِّ١ؕ لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَّ مِنْهَاجًا١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لٰكِنْ لِّیَبْلُوَكُمْ فِیْ مَاۤ اٰتٰىكُمْ فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرٰتِ١ؕ اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِیْعًا فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَۙ Open ayah 5:48 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر !) ہم نے تم پر سچی کتاب نازل کی ہے جو اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے۔ اور ان (سب) پر شامل ہے تو جو حکم خدا نے نازل فرمایا ہے اس کے مطابق ان کا فیصلہ کرنا اور حق جو تمہارے پاس آچکا ہے اس کو چھوڑ کر ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کرنا۔ ہم نے تم میں سے ہر ایک (فرقے) کے لیے ایک دستور اور طریقہ مقرر کردیا ہے اور اگر خدا چاہتا تو سب کو ایک ہی شریعت پر کردیتا مگر جو حکم اس نے تم کو دیئے ہیں ان میں وہ تمہاری آزمائش کرنی چاہتا ہے سو نیک کاموں میں جلدی کرو۔ تم سب کو خدا کیطرف لوٹ کر جانا ہے۔ پھر جن باتوں میں تم کو اختلاف تھا وہ تم کو بتادے گا۔

(48) اب اللہ تعالیٰ نے بذریعہ جبریل امین ؑ قرآن حکیم آپ ﷺ پر نازل کیا جو حق اور باطل کو بیان کرنے والا اور سابقہ کتب میں جو توحید اور دیگر مضامین ہیں ان کی تصدیق کرنے والا اور تمام کتابوں کی یا آیت رجم کی گواہی دینے والا یا تمام سابقہ کتب کا محافظ ہے۔ لہذا اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں جو آپ ﷺ کو حکم دیا ہے، اس کے مطابق بنی قریضہ اور بنی نضیر اور خیبر والوں کے درمیان فیصلہ فرمائیے اور اس حکم کے بعد کوڑے لگانے اور سنگسار نہ کر نہ کرنے میں ان کی خواہشات کی پیروی مت کیجیے، ہم نے ہر ایک نبی کے لیے خاص شریعت اور خاص فرائض وسنن تجویز کیے ہیں اور اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو تم سب کے لیے ایک ہی شریعت مقرر کردیتا، مگر حکمت کے سبب اس نے ایسا نہیں کیا کیوں کہ تمہیں جو کتاب طریقت اور فرائض دیے ہیں، اس میں تمہاری آزمایش کریں اور اللہ تعالیٰ ہی نے تم پر یہ تمام چیزیں فرض کی ہیں، لہٰذا تمہارے دلوں میں کسی قسم کا کوئی شک نہ ہونا چاہیے تو اے امت محمدیہ ﷺ فرائض وسنن اور تمام نیکیوں کی بجا آوری میں تم اور امتوں سے سبقت لے جاؤ۔ یا یہ کہ نیکیوں کی طرف دوڑو، تمام امتوں کو اس کے دربار میں پیش ہونا ہے، دین اور شریعتوں میں جو تم اختلاف کرتے تھے وہ سب تمہیں وہاں بتلا دے گا۔
Ayah 5:49

وَ اَنِ احْكُمْ بَیْنَهُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَهُمْ وَ احْذَرْهُمْ اَنْ یَّفْتِنُوْكَ عَنْۢ بَعْضِ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ اِلَیْكَ١ؕ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمْ اَنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّصِیْبَهُمْ بِبَعْضِ ذُنُوْبِهِمْ١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ لَفٰسِقُوْنَ Open ayah 5:49 in the Quran reader

اور (ہم پھر تاکید کرتے ہیں کہ) جو (حکم) خدا نے نازل فرمایا ہے اسی کے مطابق تم فیصلہ کرنا اور ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کرنا اور ان سے بچتے رہنا کہ کسی حکم سے جو خدا نے تم پر نازل فرمایا ہے یہ کہیں تم کو بہکانہ دیں۔ اگر یہ نہ مانیں تو جان لو کہ خدا چاہتا ہے کہ ان کے بعض گناہوں کے سبب ان پر مصیبت نازل کرے اور اکثر لوگ تو نافرمان ہیں۔

(49) اور قرآن کریم میں جو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اسی کے مطابق آپ بنی قریضہ اور بنو نضیر اور اہل خیبر کے درمیان فیصلہ فرمائیے اور سنگسار کے ترک کرنے میں ان کی خواہشات کی پیروی مت کیجیے ،۔ اور ان لوگوں سے ہرگز مطمئن نہ ہوئیے کہ کہیں یہ آپ ﷺ کو احکام قرآنیہ اور حکم رجم سے نہ پھیر دیں اور اگر یہ لوگ رجم سے اور قصاص کے فیصلہ سے جو آپ ﷺ نے ان کے درمیان کیا ہے اعراض کریں تو اللہ تعالیٰ ان کے تمام گناہوں کی وجہ سے انھیں عذاب دے گا اور اہل کتاب تو عہد شکن اور کافر ہیں۔ شان نزول : (آیت) ”۔ وان احکم بینہم بما انزل اللہ“۔ (الخ) ابن اسحاق ؒ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ کعب بن اسید اور عبداللہ بن صوریا اور شاش بن قیس نے کہا کہ محمد ﷺ کے پاس چلو، ممکن ہے کہ ہم ان کے دین میں کوئی فتنہ پیدا کرسکیں، چناچہ یہ آئے اور کہا کہ محمد ﷺ آپ جانتے ہیں کہ ہم یہودیوں کے عالم اور ان کے سردار ہیں، اگر ہم آپ کی اتباع کرلیں گے تو تمام یہود آپ کی اتباع کرلیں گے اور کوئی بھی ہماری مخالفت نہیں کرے گا، البتہ ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان کچھ اختلاف ہیں، ہم ان میں آپ کو فیصل بناتے ہیں، آپ ہماری حمایت میں ان کے خلاف فیصلہ کردیں، ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے ، (جب کہ ان کا ایمان لانے کا ارادہ نہیں تھا) تب اللہ تعالیٰ نے ان کے متعلق، آیت نازل فرمائی کہ آپ ان کے باہمی معاملات میں اس بھیجی ہوئی کتاب کے مطابق فیصلہ فرمایا کیجیے۔ (الخ)۔
Ayah 5:50

اَفَحُكْمَ الْجَاهِلِیَّةِ یَبْغُوْنَ١ؕ وَ مَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ۠ Open ayah 5:50 in the Quran reader

کیا یہ زمانہ جاہلیت کے حکم کے خواہشمند ہیں ؟ اور جو یقین رکھتے ہیں ان کے لیے خدا سے اچھا حکم کس کا ہے ؟

(50) اے محمد ﷺ کیا قرآن کریم میں یہ آپ سے پھر جاہلیت کا فیصلہ مانگتے ہیں اور ان لوگوں کے لیے جو قرآن حکیم پر یقین رکھتے ہیں، فیصلہ کرنے میں اللہ تعالیٰ سے کون اچھا ہوگا۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی ؒ
Ayah 5:51

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْیَهُوْدَ وَ النَّصٰرٰۤى اَوْلِیَآءَ١ؔۘ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّهٗ مِنْهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 5:51 in the Quran reader

اے ایمان والو ! یہود اور نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ۔ یہ ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ اور جو شخص تم میں سے انکو دوست بنائیگا وہ بھی انہیں میں سے ہوگا۔ بیشک خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

(51) اے اہل ایمان ! دوستی اور مدد میں ظاہری اور خفیہ طریقے پر دینی معاملات میں یہود و نصاری کو دوست مت بنانا اور جو مسلمانوں میں سے مدد اور دوستی میں ان (یہود و نصاری) کے ساتھ ہوگا، وہ اللہ تعالیٰ کی امانت اور حفاظت میں نہیں ہوگا، اور اللہ تعالیٰ یہود ونصاری کو ان کے غلط رویے کے سبب اپنے دین اور حجت کی طرف ہدایت نہیں کرتا۔ شان نزول : (آیت) ”۔ یایھا الذین امنوا لاتتخذوا الیہودا والنصری“۔ (الخ) ابن اسحاق ؒ ابن جریر ؒ ابن ابی حاتم ؒ اور بیہقی ؒ نے عبادہ بن صامت ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ جب بنی قینقاع کی لڑائی ہوئی تو عبداللہ بن ابی بن سلول نے اس میں بڑی دلچپسی لی اور ان کی مخالفت پر کمربستہ ہوا تو حضرت عبادہ بن صامت ؓ رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے سامنے ان کی دوستی سے برأت ظاہر کی اور حضرت عبادہ بن عوف بن الخزرج سے تھے اور ان لوگوں کی قسموں کی طرف سے ان کو وہ فضیلت جو عبداللہ بن ابی بن سلول کو تھی چناچہ ان لوگوں نے رسول اکرم ﷺ کے سامنے قسمیں کھائیں اور کفار کی قسموں اور ان کی دوستی سے برأت ظاہر کی، سورة مائدہ کی یہ آیت حضرت عبادہ اور عبداللہ بن ابی کے بارے میں نازل ہوئی، اے ایمان والو تم یہود ونصاری کو دوست مت بناؤالخ۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayah 5:52

فَتَرَى الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ یُّسَارِعُوْنَ فِیْهِمْ یَقُوْلُوْنَ نَخْشٰۤى اَنْ تُصِیْبَنَا دَآئِرَةٌ١ؕ فَعَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّاْتِیَ بِالْفَتْحِ اَوْ اَمْرٍ مِّنْ عِنْدِهٖ فَیُصْبِحُوْا عَلٰى مَاۤ اَسَرُّوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ نٰدِمِیْنَؕ Open ayah 5:52 in the Quran reader

تو جن لوگوں کے دلوں میں (نفاق کا) مرض ہے تم انکو دیکھو گے کہ ان میں دوڑ دوڑ کے ملے جاتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ ہمیں خوف ہے کہ کہیں ہم پر زمانے کی گردش نہ آجائے۔ سو قریب ہے کہ خدا فرح بھیجے یا اپنے ہاں سے کوئی اور امر (نازل فرمائے) پھر یہ اپنے دل کی باتوں پر جو چھپایا کرتے تھے پشیمان ہو کر رہ جائیں گے۔

(52) اے محمد ﷺ آپ ایسے لوگوں کو، جن کے دل میں مرض اور شک ہے جیسا کہ عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھی، دیکھیں گے کہ وہ ان ہی لوگوں کی دوستی کی طرف بڑھے چلے جاتے ہیں اور ایک دوسرے سے یہ باتیں ملاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں حالات کی سختی کا ڈر ہے، اسی لیے ہم انھیں دوست بناتے ہیں۔ تو یہ چیز بہت ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ مکہ مکرمہ فتح فرمادے اور رسول اکرم ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کی مدد فرمائے یا بنی قریضہ اور بنی نضیر پر قتل اور جلاوطنی کا عذاب نازل فرمادے تو یہ منافقین یہودیوں کی دوستی کی بنا پر ذلیل ورسوا ہوجائیں۔
Ayah 5:53

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَهٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ١ۙ اِنَّهُمْ لَمَعَكُمْ١ؕ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فَاَصْبَحُوْا خٰسِرِیْنَ Open ayah 5:53 in the Quran reader

اور (اس وقت) مسلمان (تعجب سے) کہیں گے کہ کیا یہ وہی ہیں جو خدا کی سخت سخت قسمیں کھایا کرتے تھے کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں ان کے عمل اکارت گئے اور وہ خسارے میں پڑگئے۔

(53) اور مومن کہیں گے کہ یہ وہی منافقین عبداللہ بن ابی اور ان کے ساتھی ہیں جو بڑے زور لگا کر قسمیں کھایا کرتے تھے کہ ہم منافقین تم خالص ایمان والوں کے ساتھ ہیں، ان کی تو دنیاوی تمام نیکیاں ضائع ہوگئیں اور عذاب کی وجہ سے یہ تو بہت بڑے خسارے والے ہیں۔
Ayah 5:54

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَنْ یَّرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِیْنِهٖ فَسَوْفَ یَاْتِی اللّٰهُ بِقَوْمٍ یُّحِبُّهُمْ وَ یُحِبُّوْنَهٗۤ١ۙ اَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ اَعِزَّةٍ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ١٘ یُجَاهِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لَا یَخَافُوْنَ لَوْمَةَ لَآئِمٍ١ؕ ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 5:54 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اگر کوئی تم میں سے اپنے دین سے پھرجائے گا تو خدا ایسے لوگ پیدا کردے گا جن کو وہ دوست رکھے اور جسے وہ دوست رکھیں اور جو مومنوں کے حق میں نرمی کریں اور کافروں سے سختی سے پیش آئیں خدا کی راہ میں جہاد کریں اور کسی ملامت کرنے والے سے نہ ڈریں۔ یہ خدا کا فضل ہے وہ جسے چاہتا ہے دیتا ہے اور خدا بڑی کشائش والا اور جاننے والا ہے۔

(54) اسد وغطفان اور قبیلہ کندہ و مراد کے جو آدمی رسول اکرم ﷺ کی رحلت کی بعد دین سے پھرجائیں تو اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو لائے گا جنھیں اللہ تعالیٰ سے محبت ہوگی اور وہ مسلمانوں کے ساتھ بہت نرم دل اور مہربان ہوں گے اور اطاعت خداوندی میں سر بسجود ہوں گے کسی ملامت سے انکا کوئی تعلق نہیں ہوگا۔ یہ تمام خوبیاں فضل الہی ہیں، جو اس کا اہل ہوتا ہے، اس کو دیتا ہے وہ بڑی وسعتوں والا ہے اور جس کو دیتا ہے اس کو جاننے والا ہے۔
Ayahs 5:55–56

اِنَّمَا وَلِیُّكُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ رٰكِعُوْنَ Open ayah 5:55 in the Quran reader

تمہارے دوست تو خدا اور اس کے پیغمبر اور مومن لوگ ہی ہیں جو نماز پڑھتے اور زکوٰۃ دیتے اور (خدا کے آگے) جھکتے ہیں

وَ مَنْ یَّتَوَلَّ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَاِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْغٰلِبُوْنَ۠ Open ayah 5:56 in the Quran reader

اور جو شخص خدا اور اس کے پیغمبر اور مومنوں سے دوستی کرے گا تو (وہ خدا کی جماعت میں داخل ہوگا اور) خدا کی جماعت ہی غلبہ پانیوالی ہے۔

(55۔ 56) حضرت عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھی اسد، اسید اور ثعلبۃ بن قیس وغیرہ کو یہود نے تکالیف پہنچائیں، تو اللہ تعالیٰ ان کی تسلی کے لیے فرماتے ہیں کہ تمہارا محافظ و مددگار اور دوست اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ﷺ اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور ان کے ساتھی ہیں جو پانچوں نمازوں کو باجماعت رسول اکرم ﷺ کے ساتھ پڑھتے ہیں اور اپنے اموال کی زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور جو ان سے دوستی رکھے تو اللہ تعالیٰ کی جماعت یعنی رسول اکرم ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ کرام ؓ اپنے دشمنوں پر یقیناً غلبہ رکھتے ہیں۔ شان نزول : (آیت) ”انما ولیکم اللہ ورسولہ“۔ (الخ) طبرانی ؒ نے اوسط میں عمار بن یاسر ؓ سے روایت کیا ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نفلی نماز میں رکوع میں تھے، ایک سائل نے آپ سے کچھ مانگا آپ نے اپنی انگوٹھی اتار کر اسے دے دی، اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ تمہارا دوست تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول۔ الخ۔ اس روایت کا اور بھی شاہد موجود ہے، چناچہ عبدالرزاق نے بواسطہ عبدالوہاب، مجاہد، ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت حضرت علی ؓ کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور ابن مردویہ ؒ نے دوسرے طریقہ سے حضرت ابن عباس ؓ سے اور اسی طرح حضرت علی ؓ سے روایت نقل کی ہے، نیز ابن جریر نے مجاہد سے اور ابن ابی حاتم ؒ نے سلمۃ بن کہیل سے اسی طرح روایت نقل کی ہے، ان شواہد سے ایک روایت کو ایک کے ساتھ تقویت حاصل ہوتی ہے۔
Ayah 5:57

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَكُمْ هُزُوًا وَّ لَعِبًا مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ الْكُفَّارَ اَوْلِیَآءَ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 5:57 in the Quran reader

اے ایمان والو ! جن لوگوں کو تم سے پہلے کتابیں دی گئی تھی ان کو اور کافروں کو جنہوں نے تمہارے دین کو ہنسی اور کھیل بنا رکھا ہے دوست نہ بناؤ اور مومن ہو تو خدا سے ڈرتے رہو۔

(57) یعنی یہود و نصاری نے تمہارے دین کو کھیل اور مذاق بنا رکھا ہے ان کو اور تمام کافروں کو دوست مت بناؤ اور ان کو دوست رکھنے میں اللہ تعالیٰ سے ڈور (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح) شان نزول : (آیت) ”یایھا الذین امنوا لاتتخذوا“۔ (الخ) ابوالشیخ اور ابن حبان ؒ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رفاعۃ بن زید تابوت اور سوید بن حارث نے اسلام کا اظہار کیا، پھر یہ لوگ منافق ہوگئے، اور مسلمانوں میں سے ایک شخص ان دونوں سے دوستی رکھتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے (آیت) ”یایھا الذین“ ‘۔ سے ”۔ بما کانوا یکتمون“۔ تک یہ آیت نازل فرمائی۔
Ayah 5:58

وَ اِذَا نَادَیْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ اتَّخَذُوْهَا هُزُوًا وَّ لَعِبًا١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 5:58 in the Quran reader

اور جب تم لوگ نماز کے لئے اذان دیتے ہو تو یہ اسے بھی ہنسی اور کھیل بناتے ہیں۔ یہ اس لئے کہ سمجھ نہیں رکھتے۔

(58) اور جب اذان اور اقامت ہوتی تو یہ اس کی ہنسی اور مذاق اڑاتے ہیں اور یہ اس وجہ سے ہے کہ یہ لوگ احکام خداوندی اور توحید خداوندی اور دین الہی سے قطی بیخبر ہیں، یہ آیت ایک یہودی کے بارے میں نازل ہوئی ہے، وہ حضرت بلال ؓ کی اذان کا مذاق اڑایا کرتا تھا، اللہ تعالیٰ نے اسے آگ میں جلا دیا۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی ؒ
Ayah 5:59

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ هَلْ تَنْقِمُوْنَ مِنَّاۤ اِلَّاۤ اَنْ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلُ١ۙ وَ اَنَّ اَكْثَرَكُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 5:59 in the Quran reader

کہو کہ اے اہل کتاب ! تم ہم میں برائی ہی کیا دیکھتے ہو سوا اس کے کہ تم خدا پر اور جو (کتاب) ہم پر نازل ہوئی اس پر اور جو (کتابیں) پہلے نازل ہوئیں ان پر ایمان لائے ہیں اور تم میں اکثر بدکردار ہیں۔

(59) اے محمد ﷺ آپ ان یہودیوں سے فرمادیجیے کہ تم ہماری ہنسی کیوں اڑاتے ہو اور کون سی معیوب بات ہم میں پاتے ہو ماسوا اس کے کہ ہم اللہ وحدہ لاشریک پر اور قرآن کریم پر اور رسول اکرم ﷺ سے پہلے جس قدر رسول ہوئے اور جتنی کتابیں نازل کی گئیں ہم سب پر ایمان لاتے ہیں یعنی سب کو ماننے والے حقیقی مومن ہم (مسلمان) ہیں تم سب اپنے غلط مشرکانہ عقیدہ عمل کی بنا پر سب کافر ہو، پھر یہودی جل کر کہتے تھے کہ تمام دین والوں میں العیاذ باللہ رسول اکرم ﷺ اور اپ کے صحابہ کرام ؓ کا رتبہ کم ہے۔ شان نزول : (آیت) ”قل یاھل الکتب ھل تنقمون“۔ (الخ) حضرت ابن عباس ؓ ہی نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس یہودیوں کی ایک جماعت آئی، جن میں ابویاسر بن اخطب اور نافع بن ابی نافع اور غازی بن عمر تھا، انہوں نے رسول اکرم ﷺ سے دریافت کیا کہ آپ رسولوں میں سے کن رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا، میں اللہ تعالیٰ پر اور جو کتاب حضرت ابراہیم ؑ پر نازل کی گئی ہے اور حضرت اسماعیل ؑ اسحاق ؑ ، یعقوب ؑ پر اور ان کی اولاد میں جو کتابیں نازل کی گئی ہیں، ان پر اور جو حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت عیسیٰ ؑ کو جو کتاب دی گئی ہے اور ان کے علاوہ اور دوسرے انبیاء کرام کو جو کتابیں دی گئیں ہیں سب پر ایمان رکھتا ہوں ہم کسی کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتے اور ہم اس کے فرمانبردار ہیں، جب آپ ﷺ نے حضرت عیسیٰ ؑ کا تذکرہ کیا، تو ان لوگوں نے ان کی نبوت کا انکار کیا اور بولے کہ ہم حضرت عیسیٰ ؑ پر ایمان نہیں رکھتے اور نہ اس شخص پر ایمان لاتے ہیں جو حضرت عیسیٰ ؑ پر ایمان رکھتا ہو، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayah 5:60

قُلْ هَلْ اُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكَ مَثُوْبَةً عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ مَنْ لَّعَنَهُ اللّٰهُ وَ غَضِبَ عَلَیْهِ وَ جَعَلَ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَ الْخَنَازِیْرَ وَ عَبَدَ الطَّاغُوْتَ١ؕ اُولٰٓئِكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضَلُّ عَنْ سَوَآءِ السَّبِیْلِ Open ayah 5:60 in the Quran reader

کہو کہ میں تمہیں بتاؤں کہ خدا کے ہاں اس سے بھی بدتر جزا پانیوالے کون ہیں ؟ وہ لوگ ہیں جن پر خدا نے لعنت کی اور جن پر وہ غضبناک ہوا اور (جن کو) ان میں سے بندر اور سُؤر بنادیا اور جنہوں نے شیطان کی پرستش کی ایسے لوگوں کا برا ٹھکانا ہے۔ اور وہ سیدھے راستے سے بہت دور ہیں۔

(60) اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں محمد ﷺ ان کے جواب میں آپ ان یہودیوں سے کہیے کہ ایسا طریقہ میں تمہیں بتلاؤں جو اللہ کے یہاں سزا ملنے میں اس سے بھی زیادہ ہو وہ ان لوگوں کا طریقہ ہے، جن پر اللہ تعالیٰ نے اپنی ناراضگی اور جزیہ کا عذاب مسلط کردیا ہے۔ اور داؤد کے زمانہ میں ان کو بندر اور حضرت موسیٰ ؑ کے زمانہ میں اہل مائدہ کو کفران مائدہ (آسمانی دسترخوان کی ناقدری کی وجہ سے) سور اور کاہن اور شیاطین بنادیا، یا انھوں نے شیاطین بتوں اور کاہنوں کی پوجا کی ہو، یہ لوگ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی راہ حق سے دور ہوجانے کی وجہ سے بہت برے ہیں۔
Ayah 5:61

وَ اِذَا جَآءُوْكُمْ قَالُوْۤا اٰمَنَّا وَ قَدْ دَّخَلُوْا بِالْكُفْرِ وَ هُمْ قَدْ خَرَجُوْا بِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا كَانُوْا یَكْتُمُوْنَ Open ayah 5:61 in the Quran reader

اور جب یہ لوگ تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان آئے حالانکہ کفر لے کر آتے ہیں اور اسی کو لیکر جاتے ہیں۔ اور جن باتوں کو یہ مخفی رکھتے ہیں خدا انکو خوب جانتا ہے

(61) اور جس وقت یہ ذلیل یہودی یعنی منافق آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم آپ ﷺ کی نعت وصفت پر ایمان لاتے ہیں کیوں کہ وہ ہماری کتاب میں موجود ہے، حالانکہ وہ خفیہ طور پر کفر ہی کو لے کر آتے ہیں اور اسی کو لے کر مجلس سے نکل جاتے ہیں۔
Ayah 5:62

وَ تَرٰى كَثِیْرًا مِّنْهُمْ یُسَارِعُوْنَ فِی الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ اَكْلِهِمُ السُّحْتَ١ؕ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 5:62 in the Quran reader

اور تم دیکھو گے کہ ان میں اکثر گناہ اور زیادتی اور حرام کھانے میں جلدی کر رہے ہیں۔ بیشک یہ جو کچھ کرتے ہیں برا کرتے ہیں۔

(62) اور محمد ﷺ آپ ان یہودیوں کو دیکھتے ہیں جو دوڑ دوڑ کر کفر وشرک، ظلم، لوت مار، حرام اور رشوت اور حکم خداوندی کی تبدیلی پر تبدیلی کرتے ہیں۔
Ayah 5:63

لَوْ لَا یَنْهٰىهُمُ الرَّبّٰنِیُّوْنَ وَ الْاَحْبَارُ عَنْ قَوْلِهِمُ الْاِثْمَ وَ اَكْلِهِمُ السُّحْتَ١ؕ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 5:63 in the Quran reader

بھلا ان کے مشائخ اور علماء انہیں گناہ کی باتوں اور حرام کھانے سے منع کیوں نہیں کرتے ؟ بلا شبہ وہ بھی برا کرتے ہیں۔

(63) ان کو گرجے والے ان کے علماء کفر وشرک اور رشوت و حرام خوری سے کیوں نہیں روکتے، یہ ان کا درگزر کرنا بہت برا ہے۔
Ayah 5:64

وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ یَدُ اللّٰهِ مَغْلُوْلَةٌ١ؕ غُلَّتْ اَیْدِیْهِمْ وَ لُعِنُوْا بِمَا قَالُوْا١ۘ بَلْ یَدٰهُ مَبْسُوْطَتٰنِ١ۙ یُنْفِقُ كَیْفَ یَشَآءُ١ؕ وَ لَیَزِیْدَنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ مَّاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ طُغْیَانًا وَّ كُفْرًا١ؕ وَ اَلْقَیْنَا بَیْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ١ؕ كُلَّمَاۤ اَوْقَدُوْا نَارًا لِّلْحَرْبِ اَطْفَاَهَا اللّٰهُ١ۙ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 5:64 in the Quran reader

اور یہود کہتے ہیں کہ خدا کا ہاتھ (گردن سے) بندھا ہوا ہے۔ (یعنی اللہ بخیل ہے) انہیں کے ہاتھ باندھے جائیں اور ایسا کہنے کے سبب ان پر لعنت ہو۔ (بلکہ اس کے دونوں ہاتھ کھلے ہیں) وہ جتنا چاہتا ہے خرچ کرتا ہے اے محمد یہ کتاب جو تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوئی ہے اس سے ان میں سے اکثر کی شرارت اور انکار اور بڑھے گا اور ہم نے انکے باہم عداوت اور بغض قیامت تک کیلئے ڈال دیا ہے۔ یہ جب لڑائی کے لئے آگ جلاتے ہیں تو خدا اس کو بجھا دیتا ہے اور یہ ملک میں فساد کے لیے دوڑتے پھرتے ہیں اور خدا فساد کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔

(64) اور فخاص بن عاز وراء یہودی بکتا ہے کہ معاذ اللہ، اللہ تعالیٰ کا ہاتھ خرچ کرنے سے بند ہوگیا ان ہی کے ہاتھ خیر اور نیک کام میں خرچ کرنے سے بند ہوگئے، اسی بات کی وجہ سے ان پر اللہ کی جانب سے جزیہ کی ذلت مسلط کردی گئی ، اللہ تعالیٰ کے تو دونوں ہاتھ نیک و بد کو دینے کے لیے ہوئے ہیں اگر وہ اپنی حکمت کے تحت چاہتا ہے تو فراخی کے ساتھ دیتا ہے اور اگر چاہتا ہے تو تنگی کے ساتھ دیتا ہے اور آپ پر جو قرآن کریم نازل کیا جاتا ہے حق کا یہ نزول ان کافروں میں سے بہت سے لوگوں کی سرکشی اور کفر پر جمے رہنے کا باعث ہوتا ہے۔ اور ہم نے یہود و نصاری کو قتل و غارت گری اور دشمنی میں مبتلا کردیا ہے، العیاذ باللہ جب بھی یہ لوگ اپنی سرکشی میں رسول اکرم ﷺ پر دست درازی کا اراداہ کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کا شیرازہ بکھیر دیتا ہے اور یہ زمین میں لوگوں کو رسول اکرم ﷺ اور توحید خداوندی سے دور کرنے کے لیے فساد کرتے پھرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ یہود اور ان کے تحریف شدہ دین کو پسند نہیں فرماتے۔ شان نزول : (آیت) ”وقالت الیہود یداللہ“۔ (الخ) طبرانی ؒ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا یہودیوں میں سے، ناش بن قیس نامی ایک شخص نے کہا کہ آپ کا پروردگار بخیل ہے، کچھ خرچ نہیں کرتا، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور ابوالشیخ نے دوسرے طریقے پر ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت کریمہ یہود بنی قینقاع کے سردار فخاص کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
Ayahs 5:65–66

وَ لَوْ اَنَّ اَهْلَ الْكِتٰبِ اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَكَفَّرْنَا عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ لَاَدْخَلْنٰهُمْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 5:65 in the Quran reader

اور اگر اہل کتاب ایمان لاتے اور پرہیزگاری کرتے تو ہم ان سے انکے گناہ محو کریتے اور انکو نعمت کے باغوں میں داخل کرتے۔

وَ لَوْ اَنَّهُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِمْ مِّنْ رَّبِّهِمْ لَاَكَلُوْا مِنْ فَوْقِهِمْ وَ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ١ؕ مِنْهُمْ اُمَّةٌ مُّقْتَصِدَةٌ١ؕ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ سَآءَ مَا یَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 5:66 in the Quran reader

اور اگر وہ تورات اور انجیل کو اور جو (اور کتابیں) ان کے پروردگار کی طرف سے ان پر نازل ہوئیں ان کو قائم رکھتے تو (ان پر رزق مینہ کی طرح برستا کہ) اپنے اوپر سے اور پاؤں کے نیچے سے کھاتے۔ ان میں کچھ لوگ میانہ رو ہیں۔ اور بہت سے ایسے ہیں جن کو اعمال برے ہیں۔

(65۔ 66) اور اگر یہود ونصاری قرآن کریم اور رسول اکرم ﷺ پر ایمان لے آتے اور یہودیت ونصرانیت سے توبہ کرلیتے تو ہم زمانہ یہودیت ونصرانیت کے تمام گناہ معاف کردیتے اور اگر یہ توریت وانجیل کی پوری پابندی کرتے اور اس میں مذکور رسول اکرم ﷺ کی نعت وصفت کو بیان کرتے اور توریت وانجیل میں جو ان کے پروردگار نے بیان کیا ہے اس کو بیان کرتے یا یہ کہ تمام آسمانی کتب اور تمام رسولوں کا اقرار کرتے تو آسمان سے پانی بطور نعمت برستا اور پھلوں کی خوب پیداوار ہوتی۔ ان ہی اہل کتاب میں ایک جماعت ایسی بھی ہے جو راہ راست پر چلنے والی ہے جیسا کہ حضرت عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھی اور بحیراء راہب اور اس کے ساتھی اور حضرت نجاشی اور ان کے ساتھی اور حضرت سلمان فارسی ؓ اور ان کے ساتھی مگر ایسے بھی لوگ ہیں جن کے کردار بہت برے ہیں جیسا کہ کعب بن اشرف، کعب بن اسد اور مالک بن سیف اور سعید بن عمرو ابویاسر اور جدی بن اخطب کہ رسول اللہ ﷺ کی نعت وصفت کو چھپاتے ہیں۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayah 5:67

یٰۤاَیُّهَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ١ؕ وَ اِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 5:67 in the Quran reader

اے پیغمبر ! جو ارشادات خدا کی طرف سے تم پر نازل ہوئے ہیں سب لوگوں کو پہنچ دو۔ اور اگر ایسا نہ کیا تو تم خدا کے پیغام پہنچانے میں قاصر رہے۔ (یعنی پیغمبری کا فرض ادانہ کیا) اور خدا تم کو لوگوں سے بچائے رکھے گا۔ بیشک خدا منکروں کو ہدایت نہیں دیتا۔

(67) یعنی محمد ﷺ ان کے بتوں کا انکار کیجیے اور ان کے دین کو دلائل کے ساتھ غلط ثابت کیجیے اور آخری درجہ میں ان کے ساتھ قتال کیجیے اور جو قبول حق پر آمادہ ہوں انھیں اسلام کی دعوت دیجیے اور اگر آپ حکم الہی کی بجاآوری نہیں کریں گے تو آپ نے ایک پیغام بھی نہیں پہنچایا اور یہود وغیرہ سے اللہ تعالیٰ آپ کو محفوظ رکھے گا اور جو دین خداوندی کا اہل نہیں ہوتا، اسے اللہ وہ راستہ نہیں دیکھاتا۔ شان نزول : (آیت) ”یایہا الرسول بلغ ماانزل الیک“۔ (الخ) ابوالشیخ نے حسن ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے مجھے رسالت سے مشرف فرمایا تو میرے دل میں پریشانی ہوئی اور میں نے یہ سمجھ لیا کہ لوگ ضرور میری تکذیب کریں گے تو مجھے اس چیز کا ڈر ہوا کہ میں تمام احکام کی تبلیغ کردوں، ورنہ مجھے عذاب دیا جائے گا۔ تو اس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی اور ابن ابی حاتم ؒ نے مجاہد سے روایت کیا ہے کہ جس وقت یہ آیت نازل ہوئی تو آپ نے عرض کیا کہ اے میرے پروردگار، کس طرح تبلیغ کروں میں اکیلا ہوں اور سب مل کر مجھ پر ہجوم کرجائیں گے تو اس وقت آپ ﷺ پر جملہ نازل ہوا، (آیت) ”وان لم تفعل فما بلغت رسلتہ“۔ اور حاکم ؒ وترمذی ؒ نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم ﷺ کا پہرہ دیا جاتا تھا یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی، (آیت) ”واللہ یعصمک من الناس“۔ تو آپ نے خیمہ سے سرنکالا اور فرمایا کہ لوگو واپس چلے جاؤ اللہ تعالیٰ نے میری حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے۔ نیز طبرانی ؒ نے ابوسعید خدری ؓ سے روایت کیا ہے کہ حضرت عباس ؓ رسول اکرم ﷺ کے عم محترم ان حضرات میں سے تھے جو آپ کا پہرہ دیا کرتے تھے، جب یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی، کہ اللہ تعالیٰ آپ کو لوگوں سے محفوظ رکھے گا تو انہوں نے پہرہ دینا چھوڑ دیا۔ نیز عصمۃ بن مالک ؓ سے روایت کیا ہے کہ ہم رات کو رسول اکرم ﷺ کا پہرہ دیا کرتے تھے، جب یہ آیت نازل ہوئی کہ اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کو لوگوں سے محفوظ رکھے گا تو پہرہ دینا چھوڑ دیا گیا۔ اور ابن حبان نے اپنی صحیح میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے، فرماتے ہیں کہ جب ہم اور رسول اکرم ﷺ کسی سفر میں ہوتے تو ہم آپکے لیے سب سے بڑا اور سب سے زیادہ سایہ دار درخت چھوڑ دیتے تھے جس کے نیچے آپ اتر کر آرام فرماتے، چناچہ ایک دن ایسے ہی ایک درخت کے نیچے آپ نے آرام فرمایا اور اپنی تلوار درخت پر لٹکا دی تو ایک شخص نے آکر وہ تلوار اتارلی اور کہا محمد ﷺ تمہیں مجھ سے کون بچا سکتا ہے، آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ بچا سکتا ہے تلوار رکھ دے اس نے تلوار رکھ دی، تب یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ”واللہ یعصمک من الناس“۔ اور ابن ابی حاتم ؒ اور ابن مردویہ نے جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ بنی انمار کیا تو مقام ذات الرقیع میں ایک کھجوروں کے بلند باغ پر پڑاؤ کیا، رسول اکرم ﷺ کنوئیں کی منڈیر پر بیٹھے ہوئے تھے اور پیر کنوئیں میں لٹکا رکھے تھے۔ تو بنی نجار میں سے وارث نامی ایک شخص کہنے لگا کہ العیاذ باللہ میں ضرور محمد ﷺ کو قتل کروں گا، تو اس کے ساتھیوں نے اس سے کہا کہ کس طرح قتل کرے گا وہ کہنے لگا میں آپ سے آپ کی تلوار مانگوں گا، جب آپ اپنی تلوار دے دیں گے تو میں آپ کو قتل کردوں گا، چناچہ وہ آیا اور کہا محمد ﷺ ذرا اپنی تلوار تو دیجیے، میں سونگھتا ہوں، آپ نے تلوار دے دی تو اس کا ہاتھ کانپنے لگا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، اللہ تعالیٰ تیرے اور تیرے ارادہ کے درمیان حائل ہوگیا۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ (آیت) ”یایھا الرسول بلغ ما ان (الخ) اور ابن مردویہ ؒ اور طبرانی ؒ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم ﷺ کی حفاظت کی جاتی تھی اور ابوطالب بنی ہاشم میں سے کچھ لوگ آپ ﷺ کی حفاظت کے لیے آپ ﷺ کے ساتھ بھیجنے کا ارادہ فرمایا، تو آپ ﷺ نے فرمایا عم محترم اللہ تعالیٰ نے جن وانس سب سے میری حفاظت کا وعدہ فرمالیا ہے۔ نیز ابن مردویہ نے جابر بن عبداللہ ؓ سے اسی طرح روایت نقل کی ہے اور اس سے اس چیز کا امکان پیدا ہوتا ہے کہ یہ آیت مکی ہے مگر ظاہر اس کا مخالف ہے۔
Ayah 5:68

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَسْتُمْ عَلٰى شَیْءٍ حَتّٰى تُقِیْمُوا التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ١ؕ وَ لَیَزِیْدَنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ مَّاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ طُغْیَانًا وَّ كُفْرًا١ۚ فَلَا تَاْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 5:68 in the Quran reader

کہو کہ اے اہل کتاب ! جب تک تم تورات اور انجیل کو اور جو (اور کتابیں) تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوئی ان کو قائم نہ رکھو گے کچھ بھی راہ پر نہیں ہوسکتے اور (یہ قرآن) جو تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے اس سے ان میں سے اکثر کی سرکشی اور کفر اور بڑھے گا۔ تو تم قوم کفار پر افسوس نہ کرو۔

(68) اے محمد ﷺ آپ یہود ونصاری سے فرما دیجیے کہ تم دین الہی میں سے کسی راہ پر نہیں، جب تک کہ توریت انجیل اور تمام کتابوں اور تمام رسولوں کا اقرار نہ کرو، اور جو قرآن کریم آپ ﷺ کے پروردگار کی طرف سے نازل کیا گیا ہے، وہ قرآن ان کفار (یہود ونصاری) کی تحریف بالکتاب کا پردہ چاک کرتا ہے جو انکی سرکشی اور کفر پر جمے رہنے کا باعث ہوتا ہے، اگر یہ لوگ ایمان نہ لانے کی وجہ سے اپنے کفر کی حالت میں ہلاک ہوجائیں تو آپ ﷺ ان کا فکر مت کیجیے کہ کافروں کا یہی انجام ہے۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح) شان نزول : (آیت) ”قل یاھل الکتب لستم“۔ (الخ) ابن جریر ؒ اور ابن ابی حاتم ؒ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رافع اور سلام بن مشکم اور مالک بن صیف آکر کہنے لگے کہ محمد ﷺ کیا آپ ﷺ یہ سمجھتے ہیں کہ آپ ﷺ حضرت ابراہیم ؑ کی ملت اور اس کے دین پر ہیں اور جو کتاب ہمارے پاس ہے اس پر ایمان رکھتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں مگر تم نے نئی باتیں پیدا کرلی ہیں اور جو تمہاری کتاب میں ہے، اس کا انکار کرتے ہو اور جس چیز کا اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا ہے کہ اسے لوگوں کے سامنے بیان کر دو ، اسے چھپاتے ہو تو انہوں نے کہا جو ہمارے پاس ہے، ہم اس پر عمل کرتے ہیں اور ہم ہدایت اور حق پر ہیں، تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ اے اہل کتاب تم کسی راہ پر بھی نہیں (الخ)
Ayah 5:69

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَادُوْا وَ الصّٰبِئُوْنَ وَ النَّصٰرٰى مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 5:69 in the Quran reader

جو لوگ خدا پر اور روز آخرت پر ایمان لائیں گے اور عمل نیک کریں گے خواہ وہ مسلمان ہوں یا یہودی یا ستارہ پرست یا عیسائی ان کو (قیامت کے دن) نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہونگے۔

(69) جو حضرات حضرت موسیٰ ؑ اور تمام کتابوں اور تمام رسولوں پر ایمان لائے اور اسی حالت میں مرگئے نہ ان پر خوف ہوگا اور نہ انھیں کوئی غم ہوگا اور یہودی اور فرقہ صائبی یہ نصاری ہی کی ایک شاخ ہے جو قول میں ان سے نرم ہے اور نصاری اہل نجران جو ان میں سے اللہ تعالیٰ اور بعث بعد الموت پر ایمان لائے اور جو یہودیت سے اور صائبی صابیت اور نصرانی نصرانیت سے توبہ کرے اور اس کے ساتھ اعمال صالحہ کرے تو آئندہ عذاب کا کوئی خوف اور گزشتہ باتوں پر کوئی غم نہیں ہوگا۔ یا یہ کہ جس وقت لوگ خوفزدہ ہوں گے، ان کو خوف نہیں ہوگا اور جس وقت اور لوگ غم زدہ ہوں گے انھیں غم نہیں ہوگا یا یہ کہ جس وقت موت ذبح کی جائے گی، انھیں خوف نہیں ہوگا اور جب دوزخ بھری جائے گی تو انھیں غم نہیں ہوگا۔
Ayahs 5:70–71

لَقَدْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ وَ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهِمْ رُسُلًا١ؕ كُلَّمَا جَآءَهُمْ رَسُوْلٌۢ بِمَا لَا تَهْوٰۤى اَنْفُسُهُمْ١ۙ فَرِیْقًا كَذَّبُوْا وَ فَرِیْقًا یَّقْتُلُوْنَۗ Open ayah 5:70 in the Quran reader

ہم نے بنی اسرائیل سے عہد بھی لیا اور ان کی طرف پیغمبر بھی بھیجے (لیکن) جب کوئی پیغمبر ان کے پاس ایسی باتیں لیکر آتا جن کو ان کے دل نہیں چاہتے تھے تو وہ (انبیاء کی) ایک جماعت کو تو جھٹلادیتے اور ایک جماعت کو قتل کردیتے تھے۔

وَ حَسِبُوْۤا اَلَّا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ فَعَمُوْا وَ صَمُّوْا ثُمَّ تَابَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ ثُمَّ عَمُوْا وَ صَمُّوْا كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 5:71 in the Quran reader

اور یہ خیال کرتے تھے کہ (اس سے ان پر) کوئی آفت نہیں آنے کی تو وہ اندھے اور بہرے ہوگئے۔ پھر خدا نے ان پر مہربانی فرمائی (لیکن) پھر ان میں سے بہت سے اندھے اور بہرے ہوگئے۔ اور خدا ان کے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے۔

(70۔ 71) توریت میں رسول اکرم ﷺ کی تصدیق اور اطاعت اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانے کا عہد لیا جب بھی ان کے پاس کوئی رسول ایسا حکم لایا جس کو ان کے دل نہیں چاہتے تھے اور انکی یہودیت کے موافق نہیں تھا تو حضرت عیسیٰ ؑ اور رسول اکرم ﷺ کی تو انہوں نے تکذیب کی اور حضرت زکریا اور یحییٰ (علیہما السلام) کو قتل کردیا اور یہی گمان کرتے رہے کہ انبیاء کرام کی تکذیب اور ان کے قتل کی وجہ سے یہ ہلاک نہیں ہوں گے اور حق وہدایت سے اندھے، بہرے بنے رہے اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا، مگر پھر ایمان لائے اور کفر سے توبہ کی تو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل خاص سے ان کے گناہوں کو معاف کردیا۔ مگر اس کے بعد پھر بھی یہ ہدایت اور حق سے اندھے، بہرے ہوگئے اور کفر وشرک ہی کی حالت میں مرگئے، کفر کی اس حالت میں کہ جب انہوں نے انبیاء کرام کو جھٹلایا اور ان کو قتل کیا تو اللہ تعالیٰ ان کے ایسے افعال بد کو بخوبی جانتے ہیں۔
Ayah 5:72

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ١ؕ وَ قَالَ الْمَسِیْحُ یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اعْبُدُوا اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبَّكُمْ١ؕ اِنَّهٗ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَیْهِ الْجَنَّةَ وَ مَاْوٰىهُ النَّارُ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ Open ayah 5:72 in the Quran reader

وہ لوگ بےشبہ کافر ہیں جو کہتے ہیں کہ مریم کے بیٹے (عیسٰی) مسیح خدا ہیں۔ حالانکہ مسیح (یہود سے) یہ کہا کرے تھے کہ اے بنی اسرائیل خدا کی عبادت کرو جو میر ابھی پروردگار ہے اور تمہارا بھی (اور جان رکھو کہ) جو شخص خدا کے ساتھ شرک کریگا خدا اس پر بہشت کو حرام کردے گا اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔

(72) ”اللہ عین مسیح ہیں“ یہ نسطوریہ فرقہ کا قول ہے، حضرت عیسیٰ ؑ نے توحید خداوندی کی طرف بلایا اور فرمایا جو کفر پر مرجائے، اس کا جنت میں داخلہ حرام ہے اور مشرکین کا کوئی حمایتی نہیں ہوگا۔
Ayahs 5:73–74

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ ثَالِثُ ثَلٰثَةٍ١ۘ وَ مَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّاۤ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ؕ وَ اِنْ لَّمْ یَنْتَهُوْا عَمَّا یَقُوْلُوْنَ لَیَمَسَّنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 5:73 in the Quran reader

وہ لوگ (بھی) کافر ہیں جو اس بات کے قائل ہیں کہ خدا تین میں کا تیسرا ہے۔ حالانکہ اس معبود یکتا کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ اگر یہ لوگ ایسے اقوال (و عقائد سے باز نہیں آئیں گے تو ان میں جو کافر ہوئے ہیں وہ تکلیف دینے والا عذاب پائیں گے۔

اَفَلَا یَتُوْبُوْنَ اِلَى اللّٰهِ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 5:74 in the Quran reader

تو یہ کیوں خدا کے آگے توبہ نہیں کرتے اور اس سے گناہوں کی معافی نہیں مانگتے ؟ اور خدا تو بخشنے والا مہربان ہے۔

(73۔ 74) اور مرتوسیہ فرقہ کہتا ہے کہ خدا تین میں کا ایک ہے، یعنی باپ، بیٹا، روح قدس، حالانکہ تمام آسمان و زمین والوں کے لیے بجز ایک معبود حقیقی کے اور کوئی معبود نہیں، جو وحدہ لاشریک ہے اور اگر یہود ونصاری اپنی خرافات سے توبہ نہیں کریں گے تو ان پر اللہ کی طرف سے ایسا درد ناک عذاب مسلط کیا جائے گا کہ اس کی شدت ان کے دلوں تک سرایت کرجائے گی اور جو توبہ کرے اور ایمان لائے اور توبہ ہی پر مرجائے تو ایسے لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے۔
Ayah 5:75

مَا الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ اِلَّا رَسُوْلٌ١ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ١ؕ وَ اُمُّهٗ صِدِّیْقَةٌ١ؕ كَانَا یَاْكُلٰنِ الطَّعَامَ١ؕ اُنْظُرْ كَیْفَ نُبَیِّنُ لَهُمُ الْاٰیٰتِ ثُمَّ انْظُرْ اَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 5:75 in the Quran reader

مسیح ابن مریم تو صرف (خدا کے) پیغمبر تھے۔ ان سے پہلے بھی بہت سے رسول گزر چکے تھے۔ اور ان کی والدہ (مریم خدا کی ولی اور) سچّی فرماں بردار تھیں۔ دونوں (انسان تھے اور) کھانا کھاتے تھے۔ دیکھو ہم ان لوگوں کے لئے اپنی آیتیں کس طرح کھول کھول کر بیان کرتے ہیں پھر (یہ) دیکھو کہ کدھر الٹے جا رہے ہیں۔

(75) ان کی والدہ بھی ایک ولی بی بی ہیں، دونوں اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں، کھانا وغیرہ کھاتے ہیں، محمد ﷺ غور کیجیے کہ ہم کیسے واضح اور شاندار دلائل بیان کررہے ہیں کہ حضرت عیسیٰ ؑ اور حضرت مریم دونوں خدا نہیں پھر دیکھیے کہ یہ نصاری جھوٹ میں کس طرف جارہے ہیں۔
Ayah 5:76

قُلْ اَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا١ؕ وَ اللّٰهُ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 5:76 in the Quran reader

کہو کہ تم خدا کے سوا ایسی چیز کی کیوں پرستش کرتے ہو جس کو تمہارے نفع اور نقصان کا کچھ بھی اخیتار نہیں ؟ اور خدا ہی سب کچھ سنتا جانتا ہے۔

(76) اے محمد ﷺ آپ ان سے فرمادیجیے کہ کیا ان بتوں کو پوجتے ہو جو دنیا وآخرت میں نقصان سے بچانے اور نفع حاصل کرنے کی کچھ بھی طاقت نہیں رکھتے، حضرت عیسیٰ ؑ اور ان کی والدہ کے بارے میں جو کچھ تم کہتے ہو، اس کو وہ ذات سننے والی اور تمہارے عذاب کو جاننے والی ہے۔
Ayah 5:77

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ غَیْرَ الْحَقِّ وَ لَا تَتَّبِعُوْۤا اَهْوَآءَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوْا مِنْ قَبْلُ وَ اَضَلُّوْا كَثِیْرًا وَّ ضَلُّوْا عَنْ سَوَآءِ السَّبِیْلِ۠ Open ayah 5:77 in the Quran reader

کہو کہ اے اہل کتاب ! اپنے دین (کی بات) میں ناحق مبالغہ نہ کرو اور ایسے لوگوں کی خواہشوں کے پیچھے نہ چلو جو (خود بھی) پہلے گمراہ ہوئے اور اور بھی اکثروں کو گمراہ کر گئے اور سیدھے راستے سے بھٹک گئے۔

(77) نصاری اہل نجران دین میں ناحق غلو مت کرو اور ایسی قوم کے دین اور ان کی باتوں پر مت چلو جو خود تم سے پہلے ہدایت سے بےراہ ہیں اور وہ قوم کے سردار اور رؤساء ہیں جنہوں نے بہت سے لوگوں کو بےراہ کردیا۔
Ayahs 5:78–79

لُعِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ عَلٰى لِسَانِ دَاوٗدَ وَ عِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ١ؕ ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّ كَانُوْا یَعْتَدُوْنَ Open ayah 5:78 in the Quran reader

جو لوگ بنی اسرائیل میں کافر ہوئے ان پر داؤد اور عیسیٰ بن مریم کی زبان سے لعنت کی گئی۔ یہ اس لئے کہ نافرمانی کرتے تھے اور حد سے تجاوز کرتے تھے

كَانُوْا لَا یَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُّنْكَرٍ فَعَلُوْهُ١ؕ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 5:79 in the Quran reader

(اور) برے کاموں سے جو وہ کرتے تھے ایک دوسرے کو روکتے نہیں تھے۔ بلا شبہہ وہ برا کرتے تھے۔

(78۔ 79) بنی اسرائیل میں جو کافر ہیں وہ حضرت داؤد ؑ کی دعا سے بندر اور حضرت عیسیٰ ؑ کی بددعا سے سور ہوگئے ہیں اور یہ لعنت اس وجہ سے نازل ہوئی کہ ہو ہفتہ کے روز میں اور اکل مائدہ میں اور انبیاء کرام کے قتل کرنے اور معاصی کو حلال سمجھنے میں اللہ کی نافرمانی کرتے تھے اور جو کچھ وہ نافرمانیاں اور حد سے تجاوز کرتے تھے، اس سے توبہ بھی نہیں کرتے تھے۔
Ayah 5:80

تَرٰى كَثِیْرًا مِّنْهُمْ یَتَوَلَّوْنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ لَبِئْسَ مَا قَدَّمَتْ لَهُمْ اَنْفُسُهُمْ اَنْ سَخِطَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ وَ فِی الْعَذَابِ هُمْ خٰلِدُوْنَ Open ayah 5:80 in the Quran reader

تم ان میں سے بہتوں کو دیکھو گے کہ کافروں سے دوستی رکھتے ہیں۔ انہوں نے جو کچھ اپنے واسطے آگے بھیجا ہے برا ہے (وہ یہ) کہ خدا ان سے ناخوش ہوا اور وہ ہمیشہ عذاب میں (مبتلا) رہیں گے۔

(80) یعنی بہت سے منافقین کعب اور اس کے ساتھیوں سے دوستی کرتے ہیں یا کعب اور اس کے ساتھی کفار مکہ ابوسفیان اور اس کے ساتھیوں سے دوستی کرتے ہیں یہ یہودیت اور نفاق کا اتحاد بہت برا ہے، وہ عذاب میں ہمیشہ رہیں گے نہ وہاں موت آئے گی اور نہ اس سے نکالے جائیں گے۔