40. Surah Al-Ghaafir

غافرThe Forgiver · 85 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayah 40:81

وَ یُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ١ۖۗ فَاَیَّ اٰیٰتِ اللّٰهِ تُنْكِرُوْنَ Open ayah 40:81 in the Quran reader

اور وہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے تو تم خدا کی کن کن نشانیوں کو نہ مانو گے

اور مکہ والو اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی قدرت کی اور بھی نشانیاں دکھاتا رہتا ہے جیسا کہ چاند اور سورج، ستارے، رات، دن، پہاڑ، بادل، دریا وغیرہ یہ سب اللہ کی قدرت کی نشانیاں ہیں سو تم اللہ کی کون کون کون سی نشانیاں کا انکار کرو گے کہ یہ اللہ نشانی نہیں۔
Ayah 40:82

اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَانُوْۤا اَكْثَرَ مِنْهُمْ وَ اَشَدَّ قُوَّةً وَّ اٰثَارًا فِی الْاَرْضِ فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 40:82 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے زمین کی سیر نہیں کہ تاکہ دیکھتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا انجام کیسا ہوا (حالانکہ) وہ ان سے کہیں زیادہ اور طاقتور اور زمین میں نشانات (بنانے) کے اعتبار سے بہت بڑھ کر تھے تو جو کچھ وہ کرتے تھے وہ ان کے کچھ کام نہ آیا

کیا ان کا کفار مکہ نے سفر کر کے غورو خوض نہیں کیا کہ ان سے پہلے لوگوں کو انبیاء کرام کی تکذیب کے وقت کس طرح ہلاک کیا۔ جو ان مکہ والوں سے تعداد میں بھی زیادہ تھے اور طاقت میں اور ذریعہ معاش کی تلاش اور چلنے پھرنے میں بھی بڑح کر تھے تو عذاب الہی کے سامنے ان کے دینی اقوال و اعمال کچھ کام نہ آئے۔
Ayah 40:83

فَلَمَّا جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَرِحُوْا بِمَا عِنْدَهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 40:83 in the Quran reader

اور جب انکے پیغمبر ان کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے تو جو علم (اپنے خیال میں) ان کے پاس تھا اس پر اترانے لگے اور جس چیز سے تمسخر کیا کرتے تھے اس نے ان کو آگھیرا

اور جب ان کے پاس رسول اوامرو نواہی لے کر آئے تو وہ اپنے دین و عمل پر بڑے نازاں ہوئے جو کہ محض ان کا خیال تھا اور انبیاء کرام (علیہم السلام) کے ساتھ ان کے مذاق کرنے کی وجہ سے ان پر عذاب نازل ہوا۔
Ayah 40:84

فَلَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَحْدَهٗ وَ كَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهٖ مُشْرِكِیْنَ Open ayah 40:84 in the Quran reader

پھر جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا تو کہنے لگے کہ ہم خدائے واحد پر ایمان لائے اور جس چیز کو اس کے ساتھ شریک بناتے تھے اس سے نامعتقد ہوئے

چناچہ جب انہوں نے اپنی ہلاکت کے لیے ہمارا عذاب آتے ہوئے دیکھا تو توحید الہی کا اقرار کرنے لگے اور یہ عذاب کے دیکھنے کی وجہ سے صرف زبانی اقرار تھا جس کا ان کے دلوں پر کوئی اثر نہ تھا۔
Ayah 40:85

فَلَمْ یَكُ یَنْفَعُهُمْ اِیْمَانُهُمْ لَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا١ؕ سُنَّتَ اللّٰهِ الَّتِیْ قَدْ خَلَتْ فِیْ عِبَادِهٖ١ۚ وَ خَسِرَ هُنَالِكَ الْكٰفِرُوْنَ۠ Open ayah 40:85 in the Quran reader

لیکن جب وہ ہمارا عذاب دیکھ چکے (اس وقت) ان کے ایمان نے انکو کچھ فائدہ نہ دیا (یہ) خدا کی عادت (ہے) جو اسکے بندوں (کے بارے) میں چلی آتی ہے اور وہاں کافر گھاٹے میں پڑگئے

چناچہ جب انہوں نے اپنی ہلاکت کے لیے ہمارا عذاب دیکھ لیا تو اس وقت ان کا ایمان کچھ فائدہ مند نہ ہوا البتہ اس سے پہلے ایمان لانا فائدہ مند ہوتا اور اسی طرح توبہ بھی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنا یہی معمولی مقرر کر رکھا ہے جو اس کے بندوں میں تکذیب کے بعد عذاب نازل ہونے اور نزول عذاب پر عدم قبولیت ایمان کے بارے میں چلا آرہا ہے اور اس عذاب کے مشاہدہ کے وقت کافر خسارہ میں رہے۔