40. Surah Al-Ghaafir

غافرThe Forgiver · 85 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayah 40:41

وَ یٰقَوْمِ مَا لِیْۤ اَدْعُوْكُمْ اِلَى النَّجٰوةِ وَ تَدْعُوْنَنِیْۤ اِلَى النَّارِؕ Open ayah 40:41 in the Quran reader

اور اے قوم ! میرا کیا (حال) ہے کہ میں تو تم کو نجات کی طرف بلاتا ہوں اور تم مجھے (دوزخ کی) طرف بلاتے ہو

اور حزقیل نے کہا بھائیو یہ کیا بات ہے کہ میں تمہیں طریق نجات یعنی توحید کی طرف بلاتا ہوں اور تم مجھ کو دوزخیوں کے کام یعنی شرک کی طرف بلاتے ہو۔
Ayah 40:42

تَدْعُوْنَنِیْ لِاَكْفُرَ بِاللّٰهِ وَ اُشْرِكَ بِهٖ مَا لَیْسَ لِیْ بِهٖ عِلْمٌ١٘ وَّ اَنَا اَدْعُوْكُمْ اِلَى الْعَزِیْزِ الْغَفَّارِ Open ayah 40:42 in the Quran reader

تم مجھے اس لئے بلاتے ہو کہ خدا کے ساتھ کفر کروں اور اس چیز کو اس کا شریک مقرر کروں جس کا مجھے کچھ بھی علم نہیں، اور میں تم کو (خدائے) غالب (اور) بخشنے والے کی طرف بلاتا ہوں

اور یہ کہ ایسی چیز کو اس کا شریک بناؤں جس کے شریک ہونے کی میرے پاس کوئی بھی دلیل نہیں اور اس کے بجائے اس بات کی دلیلیں ہیں کہ اس کا کوئی شریک نہیں اور میں تمہیں اس ذات کی توحید کی طرف بلاتا ہوں جو کافر کو سزا دینے پر غالب اور مومن کی مغفرت فرمانے والا ہے۔
Ayah 40:43

لَا جَرَمَ اَنَّمَا تَدْعُوْنَنِیْۤ اِلَیْهِ لَیْسَ لَهٗ دَعْوَةٌ فِی الدُّنْیَا وَ لَا فِی الْاٰخِرَةِ وَ اَنَّ مَرَدَّنَاۤ اِلَى اللّٰهِ وَ اَنَّ الْمُسْرِفِیْنَ هُمْ اَصْحٰبُ النَّارِ Open ayah 40:43 in the Quran reader

سچ تو یہ ہے کہ جس چیز کی طرف تم بلاتے ہو اس کو دنیا اور آخرت میں بلانے (یعنی دعا قبول کرنے) کا مقدور نہیں اور ہم کو خدا کی طرف لوٹنا ہے اور حد سے نکل جانے والے دوزخی ہیں

لازمی بات ہے کہ تم مجھے جس چیز کی عبادت کی طرف بلاتے ہو وہ دنیا و آخرت میں کسی قسم کا فائدہ پہنچانے کے لائق نہیں اور ہم سب کو مرنے کے بعد اللہ کے سامنے حاضر ہونا ہے اور مشرکین سب دوزخی ہوں گے۔
Ayah 40:44

فَسَتَذْكُرُوْنَ مَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ١ؕ وَ اُفَوِّضُ اَمْرِیْۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بَصِیْرٌۢ بِالْعِبَادِ Open ayah 40:44 in the Quran reader

جو بات میں تم سے کہتا ہوں تم اسے آگے چل کر یاد کرو گے اور میں اپنا کام خدا کے سپرد کرتا ہوں، بیشک خدا بندوں کو دیکھنے والا ہے

قیامت کے دن تم میری بات یاد کرو گے جو میں تم سے دنیا میں عذاب کے بارے میں کہہ رہا ہوں میں اپنا معاملہ اللہ ہی کے سپرد کرتا ہوں وہ مومن و کافر سب کا خود نگران ہے۔
Ayah 40:45

فَوَقٰىهُ اللّٰهُ سَیِّاٰتِ مَا مَكَرُوْا وَ حَاقَ بِاٰلِ فِرْعَوْنَ سُوْٓءُ الْعَذَابِۚ Open ayah 40:45 in the Quran reader

غرض ! خدا نے موسیٰ کو ان لوگوں کی تدبیروں کی برائیوں سے محفوظ رکھا اور فرعون والوں کو برے عذاب نے آگھیرا

چناچہ اللہ تعالیٰ نے اس مومن کو فرعونیوں کی قتل کی تدبیر سے محفوظ رکھا اور فرعون اور اس کی قوم پر غرق ہونے کا سخت عذاب نازل ہوا۔
Ayah 40:46

اَلنَّارُ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْهَا غُدُوًّا وَّ عَشِیًّا١ۚ وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ١۫ اَدْخِلُوْۤا اٰلَ فِرْعَوْنَ اَشَدَّ الْعَذَابِ Open ayah 40:46 in the Quran reader

(یعنی) آتش (جہنم) کہ صبح وشام اس کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں اور جس روز قیامت برپا ہوگی (حکم ہوگا کہ) فرعون والوں کو نہایت سخت عذاب میں داخل کرو

فرعون والے فرعون سمیت دوزخ میں قیامت تک دوزخ کے سامنے صبح و شامل لائے جاتے رہیں گے۔ اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرمائے گا کہ فرعون اور اس کے ساتھیوں کو سخت ترین دوزخ کے عذاب میں داخل کرو۔
Ayah 40:47

وَ اِذْ یَتَحَآجُّوْنَ فِی النَّارِ فَیَقُوْلُ الضُّعَفٰٓؤُا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ اَنْتُمْ مُّغْنُوْنَ عَنَّا نَصِیْبًا مِّنَ النَّارِ Open ayah 40:47 in the Quran reader

اور جب وہ دوزخ میں جھگڑیں گے تو ادنیٰ درجے کے لوگ بڑے آدمیوں سے کہیں گے کہ ہم تو تمہارے تابع تھے تو کیا تم دوزخ (کے عذاب) کا کچھ ہم سے دور کرسکتے ہو

اور جب دوزخ میں کافر سردار اور ان کے پیرو ایک دوسرے سے جھگڑیں گے اور ادنی درجے کے لوگ ان سرداروں سے جو کہ ایمان لانے سے تکبر کرتے تھے کہیں گے کہ ہم دنیا میں تمہارے طریقے پر چلتے تھے تو کیا تم ہم سے آگ کا کوئی حصہ ہٹا سکتے ہو۔
Ayah 40:48

قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا كُلٌّ فِیْهَاۤ١ۙ اِنَّ اللّٰهَ قَدْ حَكَمَ بَیْنَ الْعِبَادِ Open ayah 40:48 in the Quran reader

بڑے آدمی کہیں گے کہ تم (بھی اور) ہم (بھی) سب دوزخ میں (رہیں گے) خدا بندوں میں فیصلہ کرچکا ہے

تو یہ بڑے درجے کے لوگ ادنی درجے والوں سے کہیں گے کہ ہم سب ہی عابد ہوں یا معبود سردار ہوں چاہے ان کے پیروکار دوزخ میں ہیں اللہ تعالیٰ نے ان سب کے لیے دوزخ کا فیصلہ فرما دیا ہے۔ یا یہ کہ مومنین کے لیے جنت کا اور کافروں کے لیے دوزخ کا قطعی فیصلہ فرما دیا ہے۔
Ayahs 40:49–50

وَ قَالَ الَّذِیْنَ فِی النَّارِ لِخَزَنَةِ جَهَنَّمَ ادْعُوْا رَبَّكُمْ یُخَفِّفْ عَنَّا یَوْمًا مِّنَ الْعَذَابِ Open ayah 40:49 in the Quran reader

اور جو لوگ آگ میں (جل رہے) ہوں گے وہ دوزخ کے داروغوں سے کہیں گے کہ اپنے پروردگار سے دعا کرو کہ ایک روز تو ہم سے عذاب ہلکا کرے

قَالُوْۤا اَوَ لَمْ تَكُ تَاْتِیْكُمْ رُسُلُكُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ؕ قَالُوْا بَلٰى١ؕ قَالُوْا فَادْعُوْا١ۚ وَ مَا دُعٰٓؤُا الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ۠ Open ayah 40:50 in the Quran reader

وہ کہیں گے کہ کیا تمہارے پاس تمہارے پیغمبر نشانیاں لے کر نہیں آئے تھے ؟ وہ کہیں گے کیوں نہیں، تو وہ کہیں گے تم ہی دعا کرو اور کافروں کی دعا (اس روز) بیکار ہوگی

(49۔ 50) اس کے بعد دوزخی کو جب عذاب کی سختی ہوگی اور ان کی برداشت سے باہر ہوجائے گی اور وہ اپنی دعاؤں سے بھی مایوس ہوجائیں گے تو سب ملکر جہنم کے موکل فرشتوں سے کہیں گے کہ تم ہی اپنے رب سے دعا کرو کہ وہ ہم سے ایک دن جتنا تو عذاب ہلکا کردے تو فرشتے کہیں گے کیا تمہارے پاس انبیاء کرام اوامرو نواہی اور معجزات اور اللہ کی جانب رسالت لے کر نہیں آتے رہے تھے وہ دوزخی بولیں گے ہاں رسول آتے تو رہے تھے تو فرشتے بطور مذاق کے ان دوزخیوں سے کہیں گے تم خود ہی دعا کرلو باقی دوزخ میں دعا محض بےاثر ہے یا یہ کہ کفار دنیا میں جو عبادت کرتے تھے وہ جھوٹے ہی تھے۔
Ayah 40:51

اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ یَوْمَ یَقُوْمُ الْاَشْهَادُۙ Open ayah 40:51 in the Quran reader

ہم اپنے پیغمبروں کی اور جو لوگ ایمان لائے ہیں، ان کی دنیا کی زندگی میں بھی مدد کرتے ہیں اور جس دن گواہ کھڑے ہوں گے

ہم نے پیغمبروں کی اور ان کے ماننے والوں کی دنیاوی زندگی میں بھی ان کے دشمنوں کے مقابلہ میں مدد کرتے ہیں اور قیامت کے دن بھی عذر اور حجت اور گواہی کے ذریعے ان کی مدد کریں گے۔ جس دن فرشتے گواہی دینے کھڑے ہوں گے یعنی کراما کاتبین ان کے اعمال کی گواہی دیں گے۔
Ayah 40:52

یَوْمَ لَا یَنْفَعُ الظّٰلِمِیْنَ مَعْذِرَتُهُمْ وَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ Open ayah 40:52 in the Quran reader

(یعنی قیامت کو بھی) جس دن ظالموں کو ان کی معذرت کچھ فائدہ نہ دے گی اور ان کے لئے لعنت اور برا گھر ہے

اور جس روز کافروں کو اپنے کفر کی وجہ سے معذرت پیش کرنا کچھ فائدہ نہ دے گی اور ان پر غصہ اور عذاب اور ان کے لیے دوزخ ہوگی۔
Ayahs 40:53–54

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْهُدٰى وَ اَوْرَثْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْكِتٰبَۙ Open ayah 40:53 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کو ہدایت (کی کتاب) دی اور بنی اسرائیل کو اس کتاب کا وارث بنایا

هُدًى وَّ ذِكْرٰى لِاُولِی الْاَلْبَابِ Open ayah 40:54 in the Quran reader

عقل والوں کے لئے ہدایت اور نصیحت ہے

(53۔ 54) اور ہم نے موسیٰ کو توریت داؤد کو زبور حضرت عیسیٰ ابن مریم کو انجیل دی تھی اور پھر اس کے بعد ہم نے بنی اسرائیل کو زبور انجیل پہنچائی تھی جو کہ ہدایت اور نصیحت کی چیز تھی عقل والوں کے لیے۔
Ayah 40:55

فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ اسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ بِالْعَشِیِّ وَ الْاِبْكَارِ Open ayah 40:55 in the Quran reader

تو صبر کرو بیشک خدا کا وعدہ سچا ہے اور اپنے گناہوں کی معافی مانگو اور صبح و شام اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتے رہو

سو اے نبی کریم آپ یہود و نصاری اور مشرکین کی تکالیف پر صبر کیجیے اور اللہ تعالیٰ نے جو آپ کی مدد فرمانے اور دشمن کے ہلاک کرنے کا وعدہ فرمایا ہے وہ ضرور پورا ہو کر رہے گا۔ اور اللہ تعالیٰ نے آپ پر اور آپ کے صحابہ کرام پر جو انعامات کیے ان کا شکر کی ادا کرنے میں جو کوتاہی ہوگئی ہو اس کی معافی مانگیے اور اپنے پروردگار کے حکم سے صبح و شام نماز پڑھیے۔
Ayah 40:56

اِنَّ الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ بِغَیْرِ سُلْطٰنٍ اَتٰىهُمْ١ۙ اِنْ فِیْ صُدُوْرِهِمْ اِلَّا كِبْرٌ مَّا هُمْ بِبَالِغِیْهِ١ۚ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ Open ayah 40:56 in the Quran reader

جو لوگ بغیر کسی دلیل کے جو ان کے پاس آئی ہو خدا کی آیتوں میں جھگڑتے ہیں ان کے دلوں میں اور کچھ نہیں (ارادہ) عظمت ہے اور وہ اس کو پہنچنے والے نہیں تو خدا کی پناہ مانگو بیشک وہ سننے والا (اور) دیکھنے والا ہے

جو لوگ بلا کسی سند کے جو اللہ کی جانب سے ان کے پاس موجود ہو یعنی یہودی رسول اکرم اور قرآن کریم کے بارے میں جھگڑے نکالا کرتے ہیں۔ اور یہ لوگ رسول اکرم سے دجال کی صفت اور اس بات پر کہ میں خروج دجال کے وقت پھر ان لوگوں کو سلطنت دوں گا اس میں بھی مباحثہ کیا کرتے تھے ان کے دلوں میں صرف اللہ سے برائی ہی برائی ہے اور وہ اس بڑائی تک کبھی نہیں پہنچ سکتے کہ خروج دجال کے وقت پھر ان کو بادشاہت ملے تو آپ دجال کے فتنہ سے اللہ کی پناہ مانگتے رہیں۔ وہ ان یہودیوں کی باتوں کو سننے والا اور ان کو اور ان کے اعمال کو اور خروج دجال اور اس کے فتنہ کو جاننے والا ہے۔ شان نزول : اِنَّ الَّذِيْنَ يُجَادِلُوْنَ (الخ) ابن ابی حاتم نے روایت کیا ہے کہ یہودی رسول اکرم کی خدمت میں آئے اور دجال کا ذکر کیا اور کہنے لگے وہ آخری زمانہ میں ہوگا اور اس کی حالت کو خوب بڑھا چڑھا کر بیان کیا اور کہنے لگے کہ وہ ایسا ایسا کرے گا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو دجال کے فتنہ سے پناہ مانگنے کا حکم دیا اور فرمایا آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا دجال کے پیدا کرنے کی نسبت بڑا کام ہے اور کعب احبار سے اس آیت مبارکہ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ آیات خداوندی سے جھگڑنے والے یہ یہودی ہیں یہ دجال کے نکلنے کے منتظر تھے اسی کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔
Ayah 40:57

لَخَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 40:57 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا لوگوں کے پیدا کرنے کی نسبت بڑا (کام) ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

آسمان و زمین کا پیدا کرنا دجال کے پیدا کرنے کی نسبت بڑا کام ہے لیکن یہودی دجال کے فتنہ کو جانتے ہی نہیں۔
Ayah 40:58

وَ مَا یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُ١ۙ۬ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ لَا الْمُسِیْٓءُ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 40:58 in the Quran reader

اور اندھا اور آنکھ والا برابر نہیں اور نہ ایمان لانے والے نیکوکار اور نہ بدکار (برابر ہیں) (حقیقت یہ ہے کہ) تم بہت کم غور کرتے ہو

اور کافر و مومن ثواب و اعزاز میں اور اسی طرح جو لوگ رسول اکرم اور قرآن کریم پر ایمان لائے اور انہوں نے اعمال صالحہ کیے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے والا دونوں برابر نہیں ہوسکتے تم لوگ بہت ہی کم باتوں سے نصیحت حاصل کرتے ہو۔
Ayah 40:59

اِنَّ السَّاعَةَ لَاٰتِیَةٌ لَّا رَیْبَ فِیْهَا وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 40:59 in the Quran reader

قیامت تو آنے والی ہے اس میں کچھ شک نہیں اکثر لوگ ایمان نہیں رکھتے

قرآن کی اکثر باتوں پر غور نہیں کرتے قیامت تو بالآخر قائم ہو کر رہے گی اس کے آنے میں تو کسی قسم کا شک ہی نہیں مگر مکہ والے قیامت کے دن پر ایمان نہیں لاتے۔
Ayah 40:60

وَ قَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِیْۤ اَسْتَجِبْ لَكُمْ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِیْ سَیَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِیْنَ۠ Open ayah 40:60 in the Quran reader

اور تمہارے پروردگار نے ارشاد فرمایا ہے کہ تم مجھ سے دعا کرو میں تمہاری (دعا) قبول کروں گا جو لوگ میری عبادت سے ازراہ تکبر کتراتے ہیں عنقریب جہنم میں ذلیل ہو کر داخل ہوں گے

اور تمہارے پروردگار نے فرمایا ہے کہ میری توحید کے قائل ہوجاؤ میں تمہاری مغفرت کروں گا یا یہ کہ مجھے پکارو میں تمہاری ہر درخواست قبول کروں گا۔ جو لوگ میری توحید و عبادت سے انکار کرتے ہیں وہ عنقریب ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے۔
Ayah 40:61

اَللّٰهُ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ النَّهَارَ مُبْصِرًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 40:61 in the Quran reader

خدا ہی تو ہے جس نے تمہارے لئے رات بنائی کہ اس میں آرام کرو اور دن کو روشن بنایا (کہ اس میں کام کرو) بیشک خدا لوگوں پر فضل کرنے والا ہے لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے

اور وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہارے فائدہ کے لیے رات بنائی تاکہ تم اس میں آرام کرو اور دن کو ذریعہ معاش تلاش کرنے کے لیے روشن بنایا اور اللہ تعالیٰ خصوصا مکہ والوں پر بڑا فضل کرنے والا ہے مگر مکہ والے اس چیز کا شکر نہیں ادا کرتے اور نہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتے ہیں۔
Ayah 40:62

ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ١ۘ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ٘ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ Open ayah 40:62 in the Quran reader

یہی خدا تمہارا پروردگار ہے جو ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں پھر تم کہاں بھٹک رہے ہو

جو ذات یہ سب کچھ کرتی ہے وہ ہی تمہارا رب ہے اسی کا شکر کرو وہ ہر چیز کو پیدا کرنے والا ہے اس کے علاوہ اور کوئی پیدا کرنے والا نہیں پھر تم لوگ اللہ تعالیٰ پر کہاں کا بہتان لگا رہے ہو۔
Ayah 40:63

كَذٰلِكَ یُؤْفَكُ الَّذِیْنَ كَانُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ یَجْحَدُوْنَ Open ayah 40:63 in the Quran reader

اسی طرح وہ لوگ بھٹک رہے تھے جو خدا کی آیتوں سے انکار کرتے تھے

اسی طرح وہ لوگ جھوٹ باندھتے ہیں جو رسول اکرم اور قرآن کریم کا انکار کرتے ہیں۔
Ayah 40:64

اَللّٰهُ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ قَرَارًا وَّ السَّمَآءَ بِنَآءً وَّ صَوَّرَكُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَكُمْ وَ رَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ١ۖۚ فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 40:64 in the Quran reader

خدا ہی تو ہے جس نے زمین کو تمہارے لئے ٹھہرنے کی جگہ اور آسمان کو چھت بنایا اور تمہاری صورتیں بنائیں اور صورتیں بھی اچھی بنائیں اور تمہیں پاکیزہ چیزیں کھانے کو دیں یہی خدا تمہارا پروردگار ہے پس خدائے پروردگار عالم بہت ہی بابرکت ہے

اللہ ہی ہے جس نے زمین کو زندوں اور مردوں کی آرام گاہ بنایا اور آسمان کو اوپر چھت کی طرح بنایا اور رحموں کے اندر تمہاری شکلیں بنائیں اور جانوروں کی روزی کے مقابلہ میں تمہیں عمدہ عمدہ چیزیں کھانے کو دیں یا یہ کہ حلال روزی دی بس ان چیزوں کا خالق یہ اللہ ہے تمہارا رب اسی کا شکر کرو سو وہ بڑی عالی شان اور برکتوں والا ہے جو کہ ہر اس جاندار چیز کا بھی خدا ہے جو کہ روئے زمین پر موجود ہے۔
Ayah 40:65

هُوَ الْحَیُّ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ فَادْعُوْهُ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ؕ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 40:65 in the Quran reader

وہ زندہ ہے اسکے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں تو اس کی عبادت کو خالص کر کے اسی کو پکارو ہر طرح کی تعریف خدا ہی کو (سزاوار) ہے جو تمام جہان کا پروردگار ہے

وہ حی لا یموت ہے اس کے علاوہ اور کوئی یہ کام نہیں کرسکتا اس کی توحید کا سچا اقرار کرلو اور خالص اعتقاد کر کے اسی کی عبادت کرو۔ تمام خوبیاں اور خدائی اسی اللہ کے لیے ہے جو کہ ہر اس جاندار کا بھی اللہ ہے جو روئے زمین پر رہتا ہے۔
Ayah 40:66

قُلْ اِنِّیْ نُهِیْتُ اَنْ اَعْبُدَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَمَّا جَآءَنِیَ الْبَیِّنٰتُ مِنْ رَّبِّیْ١٘ وَ اُمِرْتُ اَنْ اُسْلِمَ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 40:66 in the Quran reader

(اے محمد ! ﷺ ان سے) کہہ دو کہ مجھے اس بات کی ممانعت کی گئی ہے کہ جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو میں ان کی پرستش کروں (اور میں انکی پرستش کیونکر کروں) جبکہ میرے پاس میرے پروردگار (کی طرف) سے کھلی دلیلیں آچکی ہیں اور مجھ کو حکم ہوا ہے کہ پروردگار عالم ہی کا تابع فرمان رہوں

اے محمد جس وقت یہ مکہ والے آپ سے آبائی دین اختیار کرنے کو کہیں تو آپ ان سے فرما دیجیے کہ مجھے بذریعہ قرآن کریم اس چیز سے منع کردیا گیا ہے کہ میں ان بتوں کی عبادت کروں جنہیں اللہ کے علاوہ تم پوجتے ہو جبکہ میرے پاس میرے رب کی اس چیز کے بارے میں نشانیاں اور دلائل آچکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ وحدہ لا شری اور مجھ کو یہ حکم ہوا ہے کہ میں رب العالمی ہی کے دین اسلام پر ثابت قدم رہوں۔ شان نزول : قُلْ اِنِّىْ نُهِيْتُ (الخ) جبیر نے ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ ولید بن مغیرہ اور شیبہ بن ربیعہ نے کہا کہ اے محمد اپنی بات سے رجوع کرلو اور اپنے آباؤ اجداد کا طریقہ اختیار کرو اس پر یہ آیت نازل ہوئی یعنی آپ کہہ دیجیے کہ مجھے اس سے ممانعت کردی گئی کہ میں ان کی عبادت کروں۔
Ayah 40:67

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ یُخْرِجُكُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوْۤا اَشُدَّكُمْ ثُمَّ لِتَكُوْنُوْا شُیُوْخًا١ۚ وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّتَوَفّٰى مِنْ قَبْلُ وَ لِتَبْلُغُوْۤا اَجَلًا مُّسَمًّى وَّ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 40:67 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے تم کو (پہلے) مٹی سے پیدا کیا پھر نطفہ بنا کر پھر لوتھڑا بنا کر پھر تم کو نکالتا ہے (کہ تم) بچے (ہوتے ہو) پھر تم اپنی جوانی کو پہنچتے ہو پھر بوڑھے ہوجاتے ہو اور کوئی تو تم میں سے پہلے مرجاتا ہے اور تم (موت کے) وقت مقرر تک پہنچ جاتے ہو تاکہ تم سمجھو

اور وہی اللہ ہے جس نے تمہیں بذریعہ آدم مٹی سے پیدا کیا پھر تمہیں تمہارے آباء کے نطفہ سے پیدا کیا پھر خون کے لوتھڑ؁ سے پھر تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹوں سے بچہ کی صورت میں نکالتا ہے تاکہ تم اپنی جوانی کو یعنی اٹھارہ سال سے لیکر تیس سال تک پہنچ جاؤ اور تاکہ تم پھر جوانی کے بعد بوڑھے ہوجاؤ۔ اور کسی کی تم میں سے بلوغ اور بڑھاپے سے پہلے ہی روح قبض کرلی جاتی ہے اور تاکہ تم سب اپنے وقت مقررہ تک پہنچ جاؤ تاکہ تم بعث بعد الموت کی تصدیق کرو۔
Ayah 40:68

هُوَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ۚ فَاِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ۠ Open ayah 40:68 in the Quran reader

وہی تو ہے جو جلاتا اور مارتا ہے پھر جب کوئی کام کرنا (اور کسی کو پیدا کرنا) چاہتا ہے تو کہہ دیتا ہے ہوجا تو وہ ہوجاتا ہے

وہی حشر کے لیے زندہ کرتا ہے اور دنیا میں وہی موت دیتا ہے اور جب وہ بغیر باپ کے کوئی اولاد پیدا کرنا چاہتا ہے جیسے حضرت عیسیٰ تو وہ فرما دیتا ہے کہ ہوجا سو بغیر باپ کے لڑکا پیدا ہوجاتا ہے یا یہ کہ جس وقت وہ قیامت قائم کرنے کا ارادہ فرمائے گا تو قیامت سے فرمائے گا کہ ہوجا سو وہ پھر قائم ہوجائے گی سو اس کا حکم کاف اور نون کے درمیان ہے کاف کے نون کے ساتھ ملنے سے پہلے ہی وہ کام ہوجاتا ہے۔
Ayah 40:69

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ١ؕ اَنّٰى یُصْرَفُوْنَ٤ۖۛۚ Open ayah 40:69 in the Quran reader

کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو خدا کی آیتوں میں جھگڑتے ہیں یہ کہاں بھٹک رہے ہیں ؟

اے محمد کیا آپ کو بذریعہ قرآن حکیم ان لوگوں کی حالت کا علم نہیں ہوا جو کہ قرآن حکیم کی تکذیب کرتے ہیں یہ اپنے جھوٹ کی وجہ سے کہاں بہکے جارہے ہیں اور کس طرح اللہ تعالیٰ پر بہتان لگاتے ہیں۔
Ayah 40:70

الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِالْكِتٰبِ وَ بِمَاۤ اَرْسَلْنَا بِهٖ رُسُلَنَا١ۛ۫ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 40:70 in the Quran reader

جن لوگوں نے کتاب (خدا) کو اور جو کچھ ہم نے پیغمبروں کو دے کر بھیجا اس کو جھٹلایا وہ عنقریب معلوم کرلیں گے

جن لوگوں نے قرآن حکیم کو اور سابقہ انبیاء کرام (علیہم السلام) کی کتابوں کو جھٹلایا سو ان کو ابھی معلوم ہوا جاتا ہے کہ قیامت کے دن ان کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا۔
Ayahs 40:71–74

اِذِ الْاَغْلٰلُ فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ وَ السَّلٰسِلُ١ؕ یُسْحَبُوْنَۙ Open ayah 40:71 in the Quran reader

جب کہ ان کی گردنوں میں طوق اور زنجیریں ہوں گی (اور) گھسیٹے جائیں گے

فِی الْحَمِیْمِ١ۙ۬ ثُمَّ فِی النَّارِ یُسْجَرُوْنَۚ Open ayah 40:72 in the Quran reader

یعنی کھولتے ہوئے پانی میں پھر آگ میں جھونک دئیے جائیں گے

ثُمَّ قِیْلَ لَهُمْ اَیْنَ مَا كُنْتُمْ تُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 40:73 in the Quran reader

پھر ان سے کہا جائے گا کہ وہ کہاں ہیں جن کو تم (خدا کے) شریک بناتے تھے ؟

مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قَالُوْا ضَلُّوْا عَنَّا بَلْ لَّمْ نَكُنْ نَّدْعُوْا مِنْ قَبْلُ شَیْئًا١ؕ كَذٰلِكَ یُضِلُّ اللّٰهُ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 40:74 in the Quran reader

(یعنی) غیر خدا کہیں گے وہ تو ہم سے جاتے رہے بلکہ ہم تو پہلے کسی چیز کو پکارتے ہی نہیں تھے اسی طرح خدا کافروں کو گمراہ کرتا ہے

(71۔ 74) جبکہ لوہے کے طوق ان کی گردنوں میں ہوں گے اور اس کے ساتھ ان کی گردنوں میں زنجیریں ہوں گی شیاطین بھی ان کے ساتھ ہوں گے ان کو گھسیٹ کر دوزخ میں ڈالا جائے گا پھر یہ آگ میں جھونک دیے جائیں گے۔ پھر ان سے فرشتے کہیں گے کہ وہ تمہارے شریک کہاں گئے جن کو پوجتے تھے وہ کہیں گے کہ وہ شرکاء تو ہم سے غائب ہوگئے اور پھر خود ہی اس بات کے منکر ہوجائیں گے اور کہیں گے کہ ہم تو اس سے پہلے اللہ کے علاوہ کسی کو نہیں پوجتے تھے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کفار کو دلیل سے گمراہ کردیتا ہے۔
Ayahs 40:75–76

ذٰلِكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَفْرَحُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ بِمَا كُنْتُمْ تَمْرَحُوْنَۚ Open ayah 40:75 in the Quran reader

یہ اس کا بدلہ ہے کہ تم زمین میں حق کے بغیر (یعنی اسکے خلاف) خوش ہوا کرتے تھے اور اسکی (سزا ہے) کہ تم اترایا کرتے تھے

اُدْخُلُوْۤا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِیْنَ Open ayah 40:76 in the Quran reader

(اب) جہنم کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ ہمیشہ اسی میں رہو گے متکبروں کا کیا برا ٹھکانا ہے

(75۔ 76) تمہارے لیے دوزخ کا عذاب اس وجہ سے ہے کہ تم دنیا میں ناحق اترایا کرتے تھے اور شرک وتکبر کیا کرتے تھے۔ جہنم میں ہمیشہ ہمیشہ رہو نہ یہاں موت آئے گی اور نہ یہاں سے نکالے جاؤ گے دوزخ کفار کا برا ٹھکانا ہے۔
Ayah 40:77

فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ١ۚ فَاِمَّا نُرِیَنَّكَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّكَ فَاِلَیْنَا یُرْجَعُوْنَ Open ayah 40:77 in the Quran reader

تو (اے پیغمبر ﷺ صبر کرو خدا کا وعدہ سچا ہے اگر ہم تم کو کچھ اس میں سے دکھا دیں جس کا ہم تم سے وعدہ کرتے ہیں (یعنی کافروں پر عذاب نازل کریں) یا تمہاری مدت حیات پوری کردیں تو انکو ہماری طرف ہی لوٹ کر آنا ہے

اے نبی اکرم آپ کفار کی دی گئی تکالیف پر صبر کیجیے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی فتح اور ان کی ہلاکت کا جو وعدہ فرمایا ہے وہ ضرور پورا ہو کر رہے گا سو اگر اس عذاب میں سے جس کا ان سے وعدہ کر رہے ہیں تھوڑا سا بدر کے دن آپ کو دکھا دیں یا اس کے دکھانے سے پہلے ہی آپ کو وفات دے دیں تو ان کو مرنے کے بعد ہمارے ہی پاس آنا ہوگا خواہ آپ ان پر نازل ہونے والا عذاب کو دیکھیں یا نہ دیکھیں۔
Ayah 40:78

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ مِنْهُمْ مَّنْ قَصَصْنَا عَلَیْكَ وَ مِنْهُمْ مَّنْ لَّمْ نَقْصُصْ عَلَیْكَ١ؕ وَ مَا كَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ یَّاْتِیَ بِاٰیَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۚ فَاِذَا جَآءَ اَمْرُ اللّٰهِ قُضِیَ بِالْحَقِّ وَ خَسِرَ هُنَالِكَ الْمُبْطِلُوْنَ۠ Open ayah 40:78 in the Quran reader

اور ہم نے تم سے پہلے (بہت سے) پیغمبر بھیجے ان میں کچھ تو ایسے ہیں جن کے حالات تم سے بیان کر دئیے ہیں اور کچھ ایسے ہیں جن کے حالات بیان نہیں کیے اور کسی پیغمبر کا مقدور نہ تھا کہ خدا کے حکم کے سواء کوئی نشانی لائے پھر جب خدا کا حکم آپہنچا تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیا گیا اور اہل باطل نقصان میں پڑگئے

اور ہم نے آپ سے پہلے بہت سے پیغمبر ان کی قوموں کی طرف بھیجے تو ان میں سے بعضوں کا تو نام ہم نے آپ کو بتا دیا تاکہ آپ ان کو بھی تعلیم کردیں اور بعضوں کا ہم نے آپ سے نام بھی نہیں لیا۔ البتہ اتنی بات سن لو کہ جب انبیاء کرام (علیہم السلام) سے ان کی قوموں نے معجزہ بتانے کا مطالبہ کیا تو کسی رسول سے یہ نہ ہوسکا کہ کوئی معجزہ بغیر حکم الہی کے ظاہر کردے۔ غرض کہ جبکہ گزشتہ قوموں میں عذاب الہی کا وقت آگیا تو حق کے مطابق ان کو عذاب دیا گیا یا یہ کہ قیامت کے دن انبیاء کرام (علیہم السلام) اور ان کی امتوں کے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کردیا جائے گا اور اس وقت کافر خسارہ میں رہ جائیں گے۔
Ayahs 40:79–80

اَللّٰهُ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَنْعَامَ لِتَرْكَبُوْا مِنْهَا وَ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَ٘ Open ayah 40:79 in the Quran reader

خدا ہی تو ہے جس نے تمہارے لئے چارپائے بنائے تاکہ ان میں سے بعض پر سوار ہو اور بعض کو تم کھاتے ہو

وَ لَكُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ وَ لِتَبْلُغُوْا عَلَیْهَا حَاجَةً فِیْ صُدُوْرِكُمْ وَ عَلَیْهَا وَ عَلَى الْفُلْكِ تُحْمَلُوْنَؕ Open ayah 40:80 in the Quran reader

اور تمہارے لئے ان میں (اور بھی) فائدے ہیں اور اس لئے بھی کہ (کہیں جانے کی) تمہارے دلوں میں جو حاجت ہو ان پر (چڑھ کر وہاں) پہنچ جاؤ اور ان پر اور کشتیوں پر تم سوار ہوتے ہو

(79۔ 80) اللہ ہی نے تمہارے لیے مویشی پیدا کیے جن میں سے بعض سے تم سواری کا کام لیتے ہو اور بعض کا گوشت کھاتے اور ان مویشیوں کا دودھ اور ان کی اون بھی تمہارے کام آتی ہے۔ اور تاکہ تم ان کے ذریعے سے اپنی دلی مراد کو پورا کرو اور خشکی میں ان جانوروں پر بھی اور سمندر میں کشتیوں پر بھی تم سفر کرتے پھرتے ہو۔