23. Surah Al-Muminoon

المؤمنونThe Believers · 118 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayah 23:79

وَ هُوَ الَّذِیْ ذَرَاَكُمْ فِی الْاَرْضِ وَ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 23:79 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جس نے تم کو زمین میں پیدا کیا اور اسی کی طرف تم سب جمع ہو کر جاؤ گے

(79) اور وہ ایسا ہے کہ اس نے زمین میں تمہیں پھیلا رکھا ہے اور تم مرنے کے بعد اسی کے سامنے پیش کیے جاؤ گے پھر وہ تمہیں تمہارے اعمال کا بدلہ دے گا۔
Ayah 23:80

وَ هُوَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ وَ لَهُ اخْتِلَافُ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 23:80 in the Quran reader

اور وہی جو زندگی بخشتا ہے اور موت دیتا ہے اور رات اور دن کا بدلتے رہنا اسی کا تصرف ہے کیا تم سمجھتے نہیں ؟

(80) اور وہ ایسا ہے جو حشر کے لیے سب کو زندہ کرے گا اور وہی دنیا میں موت دیتا ہے اور دن رات کی تبدیلی اور ان کا آنا جانا اور گھٹنا اور بڑھنا اور رات کا تاریک کرنا اور دن کو روشن کرنا یہ سب چیزیں اسی کے دائرہ اختیار میں ہیں اور یہ سب اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ وہ مرنے کے بعد مردوں کو زندہ کرے گا تو ان دلائل کے بعد بھی تم بعث بعد الموت یعنی مرنے کے بعد زندگی کی تصدیق نہیں کرتے۔
Ayahs 23:81–82

بَلْ قَالُوْا مِثْلَ مَا قَالَ الْاَوَّلُوْنَ Open ayah 23:81 in the Quran reader

بات یہ ہے جو اگلے (کافر) کہتے تھے، اسی طرح کی (بات یہ) کہتے ہیں۔

قَالُوْۤا ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ Open ayah 23:82 in the Quran reader

کہتے ہیں کہ جب ہم مرجائیں گے اور مٹی ہوجائیں گے اور استخوان (بوسیدہ کے سوا کچھ) نہ رہے گا تو کیا ہم پھر اٹھائے جائیں گے ؟

(81۔ 82) بلکہ یہ کفار مکہ بھی بعث بعد الموت کی اسی طرح تکذیب کرتے ہیں، جیسا کہ پہلے کافر لوگ تکذیب کرتے چلے آتے ہیں یعنی یوں کہتے ہیں کہ کیا ہم جب مرجائیں گے اور ہم مٹی اور بوسیدہ ہڈیاں ہوجائیں گے تو کیا ہم دوبارہ زندہ کیے جائیں گے۔
Ayah 23:83

لَقَدْ وُعِدْنَا نَحْنُ وَ اٰبَآؤُنَا هٰذَا مِنْ قَبْلُ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 23:83 in the Quran reader

یہ وعدہ ہم سے اور ہم سے پہلے ہمارے باپ دادا سے بھی ہوتا چلا آیا ہے (اجی) یہی تو صرف اگلے لوگوں کی کہانیاں ہیں

(83) اے محمد ﷺ آپ جس کا ہم سے وعدہ کر رہے ہیں اس کا اس سے پہلے ہمارے بڑوں سے بھی وعدہ ہوتا چلا آیا ہے آپ جو بیان کرتے ہیں یہ کچھ بھی نہیں محض بےسند اگلوں کی منقول شدہ باتیں ہیں۔
Ayah 23:84

قُلْ لِّمَنِ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهَاۤ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 23:84 in the Quran reader

کہو کہ اگر تم جانتے ہو تو بتاؤ کہ زمین اور جو کچھ اس میں ہے سب کس کا مال ہے ؟

(84) نبی کریم ﷺ آپ جوابا یوں فرما دیجیے کہ اچھا ی تو بتاؤ کہ یہ زمین اور یہ جو اس پر مخلوقات رہتی ہے، یہ کس کی ہے اگر تم کچھ جانتے ہو۔
Ayahs 23:85–86

سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ١ؕ قُلْ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 23:85 in the Quran reader

جھٹ بول اٹھیں گے کہ خدا کا کہو پھر سوچتے کیوں نہیں

قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ السَّبْعِ وَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ Open ayah 23:86 in the Quran reader

(ان سے) پوچھو کہ سات آسمانوں کا مالک کون ہے ؟ اور عرش عظیم کا (کون) مالک (ہے)

(85۔ 86) وہ ضرور یہی کہیں گے کہ اللہ کے ہیں تو آپ ان سے فرمائیے کہ پھر کیوں غور وفکر نہیں کرتے تاکہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرو اور آپ ان سے یہ بھی فرمایئے کہ اچھا یہ تو بتاؤ کہ ان سات آسمانوں کا مالک اور عالی شان عرش کا مالک کون ہے۔
Ayah 23:87

سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ١ؕ قُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 23:87 in the Quran reader

بےساختہ کہ دیں گے کہ یہ (چیزیں) خدا ہی کی ہیں کہو کہ پھر تم ڈرتے کیوں نہیں ؟

(87) اس کا بھی وہ یہی جواب دیں گے کہ ان سب کا خالق ومالک اللہ ہے تو آپ ان سے فرما دیجیے کہ پھر تم غیر اللہ کی پرستش سے کیوں نہیں ڈرتے۔
Ayahs 23:88–89

قُلْ مَنْۢ بِیَدِهٖ مَلَكُوْتُ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُوَ یُجِیْرُ وَ لَا یُجَارُ عَلَیْهِ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 23:88 in the Quran reader

کہو اگر تم جانتے ہو تو بتاؤ کہ وہ کون ہے جس کے ہاتھ میں ہر چیز کی بادشاہی ہے اور وہ پناہ دیتا ہے اور اسکے مقابل کوئی کسی کو پناہ نہیں دے سکتا ؟

سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ١ؕ قُلْ فَاَنّٰى تُسْحَرُوْنَ Open ayah 23:89 in the Quran reader

فوراً کہہ دیں گے کہ (ایسی بادشاہی تو) خدا ہی کی ہے تو کہو پھر تم پر جادو کہاں سے پڑجاتا ہے

(88۔ 89) آپ ان سے یہ بھی فرمائیے اچھا وہ کون ہے جس کے ہاتھ میں تمام چیزوں کا اختیار ہے اور وہ جو چاہتا ہے فیصلہ فرماتا ہے اور اس کے مقابلہ میں کوئی بھی فیصلہ نہیں کرسکتا یہ مطلب ہے کہ وہ جس کو چاہتا ہے اپنے عذاب سے پناہ دیتا ہے اور اس کے مقابلہ میں کوئی کسی کو اس کے عذاب سے پناہ نہیں دے سکتا، اس بات کا جواب دو اگر تمہیں کچھ خبر ہے۔ البتہ وہ ضرور یہی کہیں گے کہ یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہیں تو آپ ان سے اس وقت کہیے کہ پھر تم اللہ تعالیٰ کے بارے میں کیوں تکذیب کر رہے ہو، یا یہ کہ آپ دیکھے یہ کیسے جھوٹ کی طرف جا رہے ہیں۔
Ayahs 23:90–91

بَلْ اَتَیْنٰهُمْ بِالْحَقِّ وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 23:90 in the Quran reader

بات یہ ہے کہ ہم نے ان کے پاس حق پہنچا دیا ہے اور جو (بت پرستی کئے جاتے ہیں) بیشک جھوٹے ہیں

مَا اتَّخَذَ اللّٰهُ مِنْ وَّلَدٍ وَّ مَا كَانَ مَعَهٗ مِنْ اِلٰهٍ اِذًا لَّذَهَبَ كُلُّ اِلٰهٍۭ بِمَا خَلَقَ وَ لَعَلَا بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یَصِفُوْنَۙ Open ayah 23:91 in the Quran reader

خدا نے نہ تو (اپنا) کسی کو بیٹا بنایا ہے اور نہ اسکے ساتھ کوئی اور معبود ہے ایسا ہوتا تو ہر معبود اپنی اپنی مخلوقات کو لے کر چلتا اور ایک دوسرے پر غالب آجاتا یہ لوگ جو کچھ (خدا کے بارے میں) بیان کرتے ہیں خدا اس سے پاک ہے

(90۔ 91) بلکہ ہم نے تو ان کے نبی کریم ﷺ کے پاس قرآن کریم بذریعہ جبریل ؑ پہنچایا ہے جس میں صاف طور پر یہ موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ وحدہ لاشریک ہے اور یقینا یہ خود ہی اپنے اس قول میں کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں جھوٹے ہیں اللہ تعالیٰ نے کسی کو اولاد قرار نہیں دیا، نہ انسانوں میں اور نہ بقول ان کے فرشتوں میں سے اور نہ ان کے ساتھ اور کوئی شریک ہے، اگر بقول ان کے ایسا ہوتا تو ہر ایک اللہ اپنی مخلوق کو تقسیم کر کے جدا کرلیتا ہے اور اس پر اپنی سلطنت جما لیتا اور پھر ایک دوسرے پر چڑھائی کرکے غالب آجاتا۔ اللہ تعالیٰ تو ان نازیبا باتوں سے ماوراء، پاک اور برتر ہے جو لوگ اس کی نسبت بیان کرتے ہیں۔
Ayah 23:92

عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَتَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 23:92 in the Quran reader

وہ پوشیدہ اور ظاہر کو جانتا ہے اور (مشرک) جو اس کے ساتھ شریک کرتے ہیں اسکی شان اس سے بلند ہے۔

(92) وہ ان باتوں کو جاننے والا ہے جو بندوں سے پوشیدہ ہیں یا یہ کہ آئندہ ہونے والی ہیں اور آشکارا کا بھی یا یہ کہ جن چیزوں کا ظہوار ہوچکا ان کا بھی غرض، کہ ان لوگوں کے شرک سے کہ یہ بتوں کا شریک قرار دیتے وہ بالاتر اور منزہ ہے۔
Ayahs 23:93–94

قُلْ رَّبِّ اِمَّا تُرِیَنِّیْ مَا یُوْعَدُوْنَۙ Open ayah 23:93 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ کہو کہ اے پروردگار جس عذاب کا ان (کفار) سے وعدہ ہوا ہے اگر تو میری زندگی میں ان پر نازل کر کے مجھے دیکھائے

رَبِّ فَلَا تَجْعَلْنِیْ فِی الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 23:94 in the Quran reader

تو اے پروردگار مجھے (اس سے محفوظ رکھیے اور) ان ظالموں میں شامل نہ کیجیو

(93۔ 94) اے محمد ﷺ آپ دعا کیجیے کہ جس عذاب کا ان سے وعدہ کیا جارہا ہے اگر آپ مجھ کو دکھادیں تو بدر کے دن ان کافروں کے ساتھ مجھ کو شامل نہ کیجیے۔
Ayah 23:95

وَ اِنَّا عَلٰۤى اَنْ نُّرِیَكَ مَا نَعِدُهُمْ لَقٰدِرُوْنَ Open ayah 23:95 in the Quran reader

جو وعدہ ہم ان سے کر رہے ہیں ہم تم کو دکھا کر ان پر نازل کرنے پر قادر ہیں

(95) اور ہم جس عذاب کا ان سے وعدہ کررہے ہیں وہ بدر کے دن آپ کو بھی دکھا دیں ہم اس بات پر قادر ہیں۔
Ayah 23:96

اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ السَّیِّئَةَ١ؕ نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَصِفُوْنَ Open ayah 23:96 in the Quran reader

اور بری بات کے جواب میں ایسی بات کہو جو نہایت اچھی ہو اور یہ جو کچھ بیان کرتے ہیں ہمیں خوب معلوم ہے

(96) اور آپ ان کے ساتھ یہ معاملہ رکھیے کہ ابوجہل اور اس کے ساتھیوں کے شرک کا دفعیہ کلمہ طبیہ کے ساتھ کردیا کیجیے یا یہ کہ اپنے سے ان کی بدتمیزیوں کا دفعیہ سلامتی اور اچھی طریقہ پر کردیا کیجیے یا یہ کہ اپنے سے ان کی بدتمیزیوں کا دفعیہ سلامتی اور اچھے طریقہ پر کردیا کیجیے اور ہم خوب جانتے ہیں جو کچھ یہ آپ کی نسبت جھوٹ کہا کرتے ہیں۔
Ayah 23:97

وَ قُلْ رَّبِّ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ هَمَزٰتِ الشَّیٰطِیْنِۙ Open ayah 23:97 in the Quran reader

اور کہو کہ اے پروردگار ! میں شیطانوں کے وسوسوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں

(97) اور آپ یہ بھی دعا کیجیے کہ اے میرے رب میں آپ کی پناہ مانگتا ہوں شیطانوں کے وسوسوں سے کہ جن سے انسان سے خلاف مصلحت کام سرزد ہوجائے۔
Ayah 23:98

وَ اَعُوْذُ بِكَ رَبِّ اَنْ یَّحْضُرُوْنِ Open ayah 23:98 in the Quran reader

اور اے پروردگار ! اس سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں کہ وہ میرے پاس آموجود ہوں

(98) اور اے میرے رب میں آپ کی پناہ چاہتا ہوں اس بات سے کہ شیطان میرے پاس بھی آئیں خواہ نماز میں یا تلاوت قرآن کریم کے وقت یا موت کے وقت۔
Ayah 23:99

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُوْنِۙ Open ayah 23:99 in the Quran reader

(یہ لوگ اسی طرح غفلت میں رہیں گے) یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کے پاس موت آجائے گی تو کہے گا اے پروردگار ! مجھے پھر (دنیا میں) واپس بھیج دے

(99) یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کے سر پر ”ملک الموت“ اور ان کے مددگار ان کی روحیں قبض کرنے کے لیے آکھڑے ہوں تو یہ کہتا ہے کہ اے میرے پروردگار مجھ کو دنیا میں پھر واپس کردیجیے۔
Ayah 23:100

لَعَلِّیْۤ اَعْمَلُ صَالِحًا فِیْمَا تَرَكْتُ كَلَّا١ؕ اِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَآئِلُهَا١ؕ وَ مِنْ وَّرَآئِهِمْ بَرْزَخٌ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 23:100 in the Quran reader

تاکہ میں اس میں جسے چھوڑ آیا ہوں نیک کام کیا کروں ہرگز نہیں یہ ایک ایسی بات ہے کہ وہ اسے زبان سے کہہ رہا ہوگا اور (اسکے ساتھ) عمل نہیں ہوگا اور ان کے پیچھے برزخ ہے (جہاں وہ) اس دن تک کہ (دوبارہ) اٹھائے جائیں گے (رہیں گے)

(100) تاکہ جس دنیا کو میں چھوڑ آیا ہوں اور وہاں آپ کی تکذیب کی ہے تو پھر وہاں جاکر نیک کام کروں اور آپ پر ایمان لاؤں، اللہ تعالیٰ تردید کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ہرگز اس کو دنیا کی طرف واپس نہیں کیا جائے گا، یہ واپس ہونے کی درخواست اس کی ایک بات ہے جس کو یہ کہے جارہا ہے اور یہ اسے کوئی سودمند نہ ہوگی اور ان لوگوں کے آگے ایک چیز آڑ کی آنے والی ہے یعنی قبر یہاں تک کہ ان کو قبروں سے اٹھایا جائے۔
Ayah 23:101

فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَلَاۤ اَنْسَابَ بَیْنَهُمْ یَوْمَئِذٍ وَّ لَا یَتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 23:101 in the Quran reader

پھر جب صور پھونکا جائے گا تو نہ تو ان میں قرابتیں رہیں گی اور نہ وہ ایک دوسرے کو پوچھیں گے

(101) پھر جب بعث بعد الموت کے لیے صور پھونکا جائے گا تو ان میں باہمی جو رشتے ناتے تھے قیامت کے دن وہ بھی باقی نہیں رہیں گے اور نہ کوئی کسی کو پوچھے گا۔
Ayahs 23:102–103

فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 23:102 in the Quran reader

تو جن کے (عملوں کے) بوجھ بھاری ہوں گے وہ فلاح پانے والے ہیں

وَ مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فِیْ جَهَنَّمَ خٰلِدُوْنَۚ Open ayah 23:103 in the Quran reader

اور جن کے بوجھ ہلکے ہوں گے وہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے تیئیں خسارے میں ڈالا ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے

(102۔ 103) سو جس شخص کی نیکیوں کا پلہ بھاری ہوگا تو ایسے ہی لوگ غصہ خداوندی اور اس کے عذاب سے دور ہوں گے اور جس کی نیکیوں کا پلہ ہلکا ہوگا سو یہ وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے اپنا نقصان کرلیا اور جہنم میں ہمیشہ کے لیے رہیں گے نہ وہاں موت آئے گی اور نہ یہ اس سے نکالے جائیں گے۔
Ayah 23:104

تَلْفَحُ وُجُوْهَهُمُ النَّارُ وَ هُمْ فِیْهَا كٰلِحُوْنَ Open ayah 23:104 in the Quran reader

آگ ان کے مونہوں کو جھلس دے گی اور وہ اس میں تیوری چڑھائے ہوں گے

(104) ان کے چہروں کی آگ جھلستی ہوگی اور ان کی ہڈیوں اور گوشت کو آگ جلا کر ختم کر دے گی اور دوزخ میں ان کی صورتیں سیاہ اور آنکھیں نیلی ہوں گی۔
Ayah 23:105

اَلَمْ تَكُنْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَكُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 23:105 in the Quran reader

کیا تم کو میری آیتیں پڑھ کر نہیں سنائی جاتی تھیں ؟ (نہیں) تم ان کو سنتے تھے (اور) جھٹلاتے تھے

(105) اور ان سے اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ کیوں کیا میری آیات یعنی قرآن کریم دنیا میں تمہیں پڑھ کر سنایا نہیں جایا کرتا تھا اور تم ان کو جھٹلایا کرتے تھے۔
Ayah 23:106

قَالُوْا رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَیْنَا شِقْوَتُنَا وَ كُنَّا قَوْمًا ضَآلِّیْنَ Open ayah 23:106 in the Quran reader

اے ہمارے پروردگار ! ہم پر ہماری کم بختی غالب ہوگئی اور راستے سے بھٹک گئے

(106) کفار دوزخ ہی میں عرض کریں گے اے ہمارے پروردگار واقعی ہماری بدبختی نے ہمیں گھیر لیا جو ہمارے بارے میں لکھی جا چکی تھی سو ہم اپنے ارادہ سے ایمان نہیں لائے اور واقعی ہم کافر تھے۔
Ayah 23:107

رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا مِنْهَا فَاِنْ عُدْنَا فَاِنَّا ظٰلِمُوْنَ Open ayah 23:107 in the Quran reader

اے پروردگار ! ہم کو اس میں سے نکال دے اگر ہم پھر (ایسے کام) کریں تو ظالم ہوں گے

(107) اے ہمارے پروردگار ہمیں اس جہنم سے نکال دیجیے پھر اگر ہم دوبارہ کفر کریں تو بیشک ہم پورے قصور وار ہیں۔
Ayah 23:108

قَالَ اخْسَئُوْا فِیْهَا وَ لَا تُكَلِّمُوْنِ Open ayah 23:108 in the Quran reader

(خدا) فرمائے گا کہ اسی میں ذلت کے ساتھ پڑے رہو اور مجھ سے بات نہ کرو

(108) ارشاد خداوندی ہوگا کہ اسی جہنم میں راندے ہوئے پڑے رہو اور یہاں سے نکلنے کے بارے میں مجھ سے کسی قسم کی کوئی بات نہ کرو۔
Ayah 23:109

اِنَّهٗ كَانَ فَرِیْقٌ مِّنْ عِبَادِیْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا وَ ارْحَمْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْنَۚۖ Open ayah 23:109 in the Quran reader

میرے بندوں میں ایک گروہ تھا جو دعا کیا کرتا تھا کہ اے ہمارے پروردگار ! ہم ایمان لائے تو تو ہم کو بخشدے اور ہم پر رحم کر اور تو سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے

(109) میرے بندوں میں ایک گروہ ایمانداروں کا تھا جو مجھ سے عرض کیا کرتے تھے کہ اے ہمارے پروردگار تجھ پر اور تیری کتاب اور تیرے رسول پر ایمان لے آئے سو ہمارے گناہوں کو معاف فرما دیجیے اور ہم پر رحمت فرمائیے اور ہمیں عذاب نہ دیجیے، آپ ہم پر والدین سے بھی زیادہ رحم فرمانے والے ہیں۔
Ayah 23:110

فَاتَّخَذْتُمُوْهُمْ سِخْرِیًّا حَتّٰۤى اَنْسَوْكُمْ ذِكْرِیْ وَ كُنْتُمْ مِّنْهُمْ تَضْحَكُوْنَ Open ayah 23:110 in the Quran reader

تو تم ان سے تمسخر کرتے رہے یہاں تک کہ ان کے پیچھے میری یاد بھی بھول گئے اور تم (ہمیشہ) ان سے ہنسی کیا کرتے تھے

(110) سو تم نے ان کا مذاق مقرر کیا تھا یہاں تک کہ اس کا مشغلہ کیا کہ ان کے مشغلہ نے تمہیں ہماری توحید اور ہماری یاد بھی بھلا دی اور تم ان کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔
Ayah 23:111

اِنِّیْ جَزَیْتُهُمُ الْیَوْمَ بِمَا صَبَرُوْۤا١ۙ اَنَّهُمْ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 23:111 in the Quran reader

آج میں نے ان کو ان کے صبر کا بدلہ دیا کہ وہ کامیاب ہوگئے

(111) میں نے انھیں آج ان کے صبر کا بدلہ جنت کی صورت میں دیا کیوں کہ وہ میری اطاعت پر ثابت قدم رہے اور تمہاری تکالیف پر انہوں نے صبر کیا اور یہی حضرات جنت کے ملنے اور دوزخ سے نجات حاصل ہونے کی وجہ سے کامیاب ہوئے۔ یہ آیت مبارکہ ابوجہل اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے کیوں کہ وہ لوگ حضرت سلمان فارسی ؓ اور ان کے ساتھیوں کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔
Ayah 23:112

قٰلَ كَمْ لَبِثْتُمْ فِی الْاَرْضِ عَدَدَ سِنِیْنَ Open ayah 23:112 in the Quran reader

(خدا) پوچھے گا کہ تم زمین میں کتنے برس رہے ؟

(112) ارشاد خداوندی ہوگا کہ اچھا یہ تو بتلاؤ کہ تم مہینوں اور دنوں کے اعتبار سے کتنی مدت قبروں میں رہے ہو گے ،
Ayah 23:113

قَالُوْا لَبِثْنَا یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ فَسْئَلِ الْعَآدِّیْنَ Open ayah 23:113 in the Quran reader

وہ کہیں گے ہم ایک یا ایک روز سے بھی کم رہے تھے شمار کرنے والوں سے پوچھ لیجئے

(113) وہ جواب دیں گے بہت رہے ہوں گے تو ایک دن، پھر اس میں بھی ان کو شک ہوجائے گا تو بولیں گے یا ایک دن سے بھی کم ہم رہیں ہوں گے اور سچ یہ ہے کہ ہمیں کچھ یاد نہیں فرشتوں سے یا ملک الموت اور ان کے مددگاروں سے پوچھ لیجیے۔
Ayah 23:114

قٰلَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا لَّوْ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 23:114 in the Quran reader

(خدا) فرمائے گا کہ (وہاں) تم (بہت ہی) کم رہے کاش تم جانتے ہوتے

(114) ارشاد خداوندی ہوگا خیر بہ نسبت دوزخ کے قیام کے تم قبروں میں تھوڑی ہی مدت رہے ہو کیا خوب ہوتا اگر تم میرے حکم کی تصدیق کرتے۔
Ayah 23:115

اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ Open ayah 23:115 in the Quran reader

کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ ہم نے تم کو بےفائدہ پیدا کیا ہے اور یہ کہ تم ہماری طرف لوٹ کر نہیں آؤ گے

(115) یا یہ کہ ان سے اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا خوب ہوتا اگر تم دنیان میں اس چیز کو سمجھتے اور میرے انبیاء کرام ؑ کی تصدیق کرتے تو تمہیں معلوم ہوجاتا کہ تم قبروں میں کم ہی رہے ہو۔ مکہ والو خصوصا کیا تم نے یہ خیال کیا تھا کہ ہم نے تمہیں یوں ہی مہمل پیدا کردیا ہے کہ اوامرو نواہی اور ثواب و عذاب کا تم سے کوئی تعلق نہیں اور یہ کہ تم مرنے کے بعد ہمارے پاس نہیں لائے جاؤ گے۔
Ayah 23:116

فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِیْمِ Open ayah 23:116 in the Quran reader

تو خدا جو سچا بادشاہ ہے (اس کی) شان اس سے اونچی ہے اسکے سوا کوئی معبود نہیں وہی عرش بزرگ کا مالک ہے

(116) سو اللہ تعالیٰ بہت ہی عالی شان ہے اور جو اولاد اور شریک سے منزہ اور بادشاہ حقیقی ہے اس کے سوا کوئی بھی لائق عبادت نہیں اور وہ عرش عظیم کا مالک ہے۔
Ayah 23:117

وَ مَنْ یَّدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ۙ لَا بُرْهَانَ لَهٗ بِهٖ١ۙ فَاِنَّمَا حِسَابُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 23:117 in the Quran reader

اور جو شخص خدا کے ساتھ اور معبود کو پکارتا ہے جس کی اس کے پاس کچھ سند نہیں تو اس کا حساب خدا ہی کے ہاں ہوگا کچھ شک نہیں کہ کافر رستگاری نہیں پائیں گے

(117) اور جو شخص اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور بتوں کی عبادت کرے جس کے معبود ہونے پر اس کے پاس کوئی بھی دلیل نہیں تو اس کو آخرت میں عذاب ملے گا، یقینا کافروں کو عذاب الہی سے نجات اور فلاح نہیں ہوگی۔
Ayah 23:118

وَ قُلْ رَّبِّ اغْفِرْ وَ ارْحَمْ وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْنَ۠ Open ayah 23:118 in the Quran reader

کہ میرے پروردگار مجھے بخش دے اور (مجھ پر) رحم کر اور تو سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے

(118) اور اے نبی کریم ﷺ آپ تو یوں دعا کیا کیجیے کہ اے میرے پروردگار میری امت کی خطائیں معاف کر اور میری امت پر رحم فرما اور اس کو عذاب مت دے یقینا تو ہی ارحم الراحمین ہے۔