23. Surah Al-Muminoon

المؤمنونThe Believers · 118 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayahs 23:39–41

قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ بِمَا كَذَّبُوْنِ Open ayah 23:39 in the Quran reader

پیغمبر نے کہا اے پروردگار انہوں نے مجھے جھوٹا سمجھا تو میری مدد کر

قَالَ عَمَّا قَلِیْلٍ لَّیُصْبِحُنَّ نٰدِمِیْنَۚ Open ayah 23:40 in the Quran reader

فرمایا کہ تھوڑے ہی عرصے میں پیشیمان ہو کر رہ جائیں گے

فَاَخَذَتْهُمُ الصَّیْحَةُ بِالْحَقِّ فَجَعَلْنٰهُمْ غُثَآءً١ۚ فَبُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 23:41 in the Quran reader

تو ان کو وعدہ برحق کے مطابق زور کی آواز نے آپکڑا تو ہم نے ان کو کوڑا کر ڈالا پس ظالم لوگوں پر لعنت ہے

(39۔ 40۔ 41) اللہ کی طرف سے ارشاد ہوا، اس تکذیب پر نزول سزا کے وقت عنقریب یہ پچھتائیں گے چناچہ ان کو جبریل امین کی آواز نے سخت عذاب کے ساتھ آپکڑا، پھر ہلاک کرنے کے بعد ہم نے ان کو خس و خاشاک کی مانند کردیا تو ان کافروں کے لیے اللہ کی مار اور رحمت خداوندی سے رسوائی اور محرومی ہے۔
Ayah 23:42

ثُمَّ اَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قُرُوْنًا اٰخَرِیْنَؕ Open ayah 23:42 in the Quran reader

پھر ان کے بعد ہم نے اور جماعتیں پیدا کی

(42) اور پھر ہم نے ان کی ہلاکت کے بعد اور امتوں کو پیدا کیا، ایک امت کے بعد دوسری امت ان کے زمانہ سے لے کر اٹھارہ سال تک تک اور اٹھارہ سال کے عرصے کو ایک قرن کہتے ہیں۔
Ayah 23:43

مَا تَسْبِقُ مِنْ اُمَّةٍ اَجَلَهَا وَ مَا یَسْتَاْخِرُوْنَؕ Open ayah 23:43 in the Quran reader

کوئی جماعت اپنے وقت سے نہ آگے جاسکتی ہے اور نہ پیچھے رہ سکتی ہے

(43) ان امتوں میں سے کوئی امت نہ اپنی مقررہ مدت سے پہلے ہلاک ہوسکتی ہے اور نہ اس سے پیچھے ہٹ سکتی ہے ،
Ayah 23:44

ثُمَّ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا تَتْرَا١ؕ كُلَّمَا جَآءَ اُمَّةً رَّسُوْلُهَا كَذَّبُوْهُ فَاَتْبَعْنَا بَعْضَهُمْ بَعْضًا وَّ جَعَلْنٰهُمْ اَحَادِیْثَ١ۚ فَبُعْدًا لِّقَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 23:44 in the Quran reader

پھر ہم پے درپے پیغمبر بھیجتے رہے جب کسی امت کے پاس اس کا پیغمبر آتا تھا تو وہ اسے جھٹلاتے تھے تو ہم بھی بعض کو بعض کے پیچھے (ہلاک کرتے اور ان پر عذاب) لاتے رہے اور ان کے افسانے بناتے رہے پس جو لوگ ایمان نہیں لاتے ان پر لعنت

(44) پھر ہم نے اپنے پیغمبروں کو یکے بعد دیگرے بھیجا جب کسی امت کے پاس اس امت کا رسول اللہ کے احکام لے کر آیا اور انہوں نے اس رسول کو جھٹلایا، تو ہم نے بھی ہلاک کرنے میں ایک کے بعد ایک کا نمبر لگا دیا اور ہم نے ان کی کہانیاں بنا دیں کہ ان کے زمانہ میں وہ سنائی جانے لگیں تو اللہ کی رحمت سے دور ہیں وہ لوگ جو رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان نہیں لاتے۔
Ayah 23:45

ثُمَّ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى وَ اَخَاهُ هٰرُوْنَ١ۙ۬ بِاٰیٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 23:45 in the Quran reader

پھر ہم نے موسیٰ اور ان کے بھائی ہارون کو اپنی نشانیاں اور دلیل ظاہر دے کر بھیجا

(45) پھر ہم نے موسیٰ ؑ و ہارون ؑ کو اپنی نو نشانیاں اور کھلا معجزہ دے کر فرعون اور اس کی قوم کی طرف بھیجا ،
Ayah 23:46

اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ فَاسْتَكْبَرُوْا وَ كَانُوْا قَوْمًا عَالِیْنَۚ Open ayah 23:46 in the Quran reader

(یعنی) فرعون اور اس کی جماعت کی طرف تو انہوں نے تکبر کیا اور وہ سرکش لوگ تھے

(46) تو انہوں نے حضرت موسیٰ ؑ اور آیات تسعہ پر ایمان لانے سے تکبر کیا اور وہ لوگ تھے ہی موسیٰ ؑ کے مخالف اور ایمان سے تکبر کرنے والے۔
Ayah 23:47

فَقَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ لِبَشَرَیْنِ مِثْلِنَا وَ قَوْمُهُمَا لَنَا عٰبِدُوْنَۚ Open ayah 23:47 in the Quran reader

کہنے لگے کہ کیا ہم ان اپنے جیسے دو آدمیوں پر ایمان لے آئیں اور ان کی قوم کے لوگ ہمارے خدمت گار ہیں ؟

(47) اور کہنے لگے کیا ہم ایسے دو شخصوں پر یعنی موسیٰ ؑ و ہارون ؑ پر جو کہ ہماری ہی طرح ہیں ایمان لے آئیں حالانکہ ان کی قوم کے لوگ ہمارے غلام ہیں۔
Ayahs 23:48–49

فَكَذَّبُوْهُمَا فَكَانُوْا مِنَ الْمُهْلَكِیْنَ Open ayah 23:48 in the Quran reader

تو ان لوگوں نے ان کی تکذیب کی سو (آخر) ہلاک کر دئیے گئے

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ لَعَلَّهُمْ یَهْتَدُوْنَ Open ayah 23:49 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تھی تاکہ وہ لوگ ہدایت پائیں

(48۔ 49) غرض کہ وہ لوگ ان دونوں کی رسالت کو جھٹلاتے رہے، نتیجہ یہ ہوا کہ سب کے سب دریا میں غرق کیے گئے اور ہم نے موسیٰ ؑ کو توریت عطا کی تاکہ وہ لوگ گمراہی سے ہدایت پائیں۔
Ayah 23:50

وَ جَعَلْنَا ابْنَ مَرْیَمَ وَ اُمَّهٗۤ اٰیَةً وَّ اٰوَیْنٰهُمَاۤ اِلٰى رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّ مَعِیْنٍ۠ Open ayah 23:50 in the Quran reader

اور مریم کے بیٹے (عیسی) اور ان کی ماں کو (اپنی) نشانی بنایا تھا اور ان کو ایک اونچی جگہ پر جو رہنے کے لائق تھی اور جہاں (نتھرا ہوا) پانی جاری تھا پناہ دی تھی

(50) اور ہم نے حضرت عیسیٰ ؑ اور ان کی والدہ کو بڑی نشانی بنایا کہ بغیر باپ کے اور بغیر کسی انسانی تعلق کے پیدا ہوئے یہ دونوں کے لیے قدرت کاملہ کی عظیم نشانی ہے اور ہم نے ان دونوں کو ایسی بلند زمین میں لے جا کر پناہ دی جو پھلوں کی وجہ سے اور نہر جاری ہونے کی وجہ سے سرسبز و شاداب جگہ تھی یعنی دمشق۔
Ayah 23:51

یٰۤاَیُّهَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّیِّبٰتِ وَ اعْمَلُوْا صَالِحًا١ؕ اِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌؕ Open ayah 23:51 in the Quran reader

اے پیغمبرو ! پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو جو عمل تم کرتے ہو میں ان سے واقف ہوں

(51) اے محمد ﷺ حلال چیزیں کھاؤ اور خوب نیک کام کرو، آپ اور آپ کی امت جو نیک کام کرتی ہے میں اس کے ثواب سے خوب واقف ہوں۔
Ayah 23:52

وَ اِنَّ هٰذِهٖۤ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ اَنَا رَبُّكُمْ فَاتَّقُوْنِ Open ayah 23:52 in the Quran reader

اور یہ تمہاری جماعت (حقیقت میں) ایک ہی جماعت ہے اور میں تمہارا پروردگار ہوں تو مجھ سے ڈرو

(52) یہ ہے تمہارا طریقہ اور وہ ایک ہی طریقہ ہے اور یہ ہے تمہارا پسندیدہ دین اور میں تمہارا رب حقیقی وحدہ لاشریک ہوں کہ اس عظیم نعمت کے ساتھ میں نے تمہیں کو سرفراز کیا، سو تم میری ہی اطاعت کرو۔
Ayah 23:53

فَتَقَطَّعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَیْنَهُمْ زُبُرًا١ؕ كُلُّ حِزْبٍۭ بِمَا لَدَیْهِمْ فَرِحُوْنَ Open ayah 23:53 in the Quran reader

تو پھر آپس میں اپنے کام کو متفرق کر کے جدا جدا کردیا جو چیز جس فرقے کے پاس ہے وہ اسی سے خوش ہو رہا ہے

(53) تو ان امتوں نے اپنے دین میں اپنا طریقے سے الگ الگ مختلف فرقے بنائے، جیسے یہود، نصاری، مشرکین، مجوس، ہر ایک گروہ اور جماعت کے پاس جو دین ہے وہ اسی سے خوش ہے۔
Ayah 23:54

فَذَرْهُمْ فِیْ غَمْرَتِهِمْ حَتّٰى حِیْنٍ Open ayah 23:54 in the Quran reader

تو ان کو ایک مدت تک ان کی غفلت ہی میں رہنے دو

(54) اے محمد ﷺ آپ ان کو ان کی جہالت میں نزول عذاب کے وقت تک یعنی بدر کے واقعہ تک یوں ہی رہنے دیجیے۔
Ayahs 23:55–56

اَیَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهٖ مِنْ مَّالٍ وَّ بَنِیْنَۙ Open ayah 23:55 in the Quran reader

کیا یہ لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم جو دنیا میں ان کو مال اور بیٹوں کی مدد دیتے ہیں

نُسَارِعُ لَهُمْ فِی الْخَیْرٰتِ١ؕ بَلْ لَّا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 23:56 in the Quran reader

(تو اس سے) ان کی بھلائی میں جلدی کر رہے ہیں ؟ (نہیں) بلکہ یہ سمجھتے ہیں ہیں

(55۔ 56) یہ مختلف گروہ والے کیا یہ سوچ رہے ہیں کہ ہم ان کو دنیا میں جو مال و اولاد دیتے چلے جاتے ہیں تو ہم ان کو دنیا میں جلدی جلدی فائدہ پہنچا رہے ہیں، ایسا ہرگز نہیں، بلکہ ان سے آخرت میں پوچھ گچھ ہوگی، اور یہ اس کی وجہ نہیں سمجھتے کہ ہم نے ان کو دنیا میں فائدہ پہنچایا اور آخرت میں ہم ان کو ذلیل ورسوا کریں گے۔
Ayahs 23:57–61

اِنَّ الَّذِیْنَ هُمْ مِّنْ خَشْیَةِ رَبِّهِمْ مُّشْفِقُوْنَۙ Open ayah 23:57 in the Quran reader

جو لوگ اپنے پروردگار کے خوف سے ڈرتے ہیں

وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ یُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 23:58 in the Quran reader

اور جو اپنے پروردگار کی آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں

وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِرَبِّهِمْ لَا یُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 23:59 in the Quran reader

اور جو اپنے پروردگار کے ساتھ شریک نہیں کرتے

وَ الَّذِیْنَ یُؤْتُوْنَ مَاۤ اٰتَوْا وَّ قُلُوْبُهُمْ وَجِلَةٌ اَنَّهُمْ اِلٰى رَبِّهِمْ رٰجِعُوْنَۙ Open ayah 23:60 in the Quran reader

اور جو دے سکتے ہیں وہ دیتے ہیں اور ان کے دل اس بات سے ڈرتے رہتے ہیں کہ ان کو اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانا ہے

اُولٰٓئِكَ یُسٰرِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ وَ هُمْ لَهَا سٰبِقُوْنَ Open ayah 23:61 in the Quran reader

یہی لوگ نیکیوں میں جلدی کرتے ہیں اور یہی ان کے لئے آگے نکل جاتے ہیں

(57۔ 61) اب اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے اوصاف بیان فرماتا ہے جنھیں حقیقی طور پر دنیا میں جلدی جلدی فائدے پہنچائے جاتے ہیں کہ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے پروردگار کے عذاب سے ڈرتے رہتے ہیں۔ اور جو لوگ رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان رکھتے ہیں اور جو لوگ اس ایمان میں اپنے رب کے ساتھ ان بتوں کو شریک نہیں کرتے اور جو لوگ اللہ کی راہ میں دیتے ہیں اور جو کچھ صدقہ دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں جو کچھ مال خرچ کرتے ہیں، سو کرتے ہیں یا یہ کہ جو کچھ نیک اعمال کرتے ہیں سو کرتے ہیں اور باوجود اس دینے کے ان کے دل اس بات سے خوف زدہ ہوتے ہیں کہ وہ اپنے رب کے پاس جانے والے ہیں کہیں ایسا نہ کہ وہاں آخرت میں یہ چیزیں قابل قبول نہ ہوں ایسی خوبیوں والوں کو ہماری طرف سے بہت جلد فائدہ پہنچایا جائے گا۔ اور یہ لوگ اعمال صالحہ میں سبقت کر رہے ہیں اور اپنے فائدے جلدی جلدی حاصل کرنے میں اس کی طرف دوڑ رہے ہیں۔
Ayah 23:62

وَ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا وَ لَدَیْنَا كِتٰبٌ یَّنْطِقُ بِالْحَقِّ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 23:62 in the Quran reader

اور ہم کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے اور ہمارے پاس کتاب ہے جو سچ سچ کہہ دیتی ہے اور لوگوں پر ظلم نہیں کیا جائے گا

(62) اور ہم تو کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ کام کرنے کو نہیں کہتے اور ہمارے پاس ایک دفتر نامہ اعمال کا محفوظ ہے جس میں ہر ایک کی نیکیاں اور برائیاں لکھی ہوئی ہیں جو ٹھیک ٹھیک عدل و انصاف کے ساتھ سب کا حال بتا دے گا اور ان کی نیکیوں میں کسی قسم کی کوئی کمی اور ان کی برائیوں میں کوئی ذرہ برابر اضافہ نہیں کیا جائے گا۔
Ayah 23:63

بَلْ قُلُوْبُهُمْ فِیْ غَمْرَةٍ مِّنْ هٰذَا وَ لَهُمْ اَعْمَالٌ مِّنْ دُوْنِ ذٰلِكَ هُمْ لَهَا عٰمِلُوْنَ Open ayah 23:63 in the Quran reader

مگر ان کے دل ان (باتوں) کی طرف سے غفلت میں (پڑے ہوئے) ہیں اور اسکے سوا اور اعمال بھی ہیں جو یہ کرتے رہتے ہیں

(63) بلکہ ان مکہ والوں یعنی ابوجہل اور اس کے ساتھیوں کے دل اس قرآن کریم کی طرف سے جہالت اور غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اور جن نیکیوں کا آپ ان کو حکم دیتے ہیں ان کے علاوہ برائیاں ان کے مقدر میں لکھی ہوئی ہیں جن کو یہ دنیا میں اپنے وقت آنے تک کر رہے ہیں۔
Ayah 23:64

حَتّٰۤى اِذَاۤ اَخَذْنَا مُتْرَفِیْهِمْ بِالْعَذَابِ اِذَا هُمْ یَجْئَرُوْنَؕ Open ayah 23:64 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب ہم ان میں سے آسودہ حال لوگوں کو پکڑ لیا تو وہ اس وقت چلائیں گے

(64) یہاں تک کہ جب ہم ان کے سرکشوں اور امراء و رؤسا ہشام، ولید بن مغیرہ، عاص بن وائل، عتبہ شیبہ، وغیرہ پر سات سالہ قحط سالی کا عذاب نازل کریں گے تو یہ چیخ و پکار شروع کردیں گے۔
Ayah 23:65

لَا تَجْئَرُوا الْیَوْمَ١۫ اِنَّكُمْ مِّنَّا لَا تُنْصَرُوْنَ Open ayah 23:65 in the Quran reader

آج مت چلاؤ ! تم کو ہم سے کچھ مدد نہیں ملے گی

(65) آپ ان سے فرما دیجیے آج کے دن ہمارے عذاب سے چیخ و پکار مت کرو کیوں کہ ہمارا عذاب تم سے ٹالا نہیں جائے گا۔
Ayahs 23:66–67

قَدْ كَانَتْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَكُنْتُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْ تَنْكِصُوْنَۙ Open ayah 23:66 in the Quran reader

میری آیتیں تم کو پڑھ پڑھ کر سنائی جاتی تھیں اور تم الٹے پاؤں پھر پھرجاتے تھے

مُسْتَكْبِرِیْنَ١ۖۗ بِهٖ سٰمِرًا تَهْجُرُوْنَ Open ayah 23:67 in the Quran reader

ان سے سرکشی کرتے، کہانیوں میں مشغول ہوتے اور بےہودہ بکواس کرتے تھے

(66۔ 67) قرآن حکیم تمہیں پڑھ کر سنایا جایا کرتا تھا اور تمہارے سامنے پیش کیا جاتا تھا تو تم اپنے پہلے دین کی طرف لوٹتے تھے اور بیت اللہ شریف کی وجہ سے خود کو بڑا سمجھتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم اس کے زیادہ حق دار ہیں اور کہتے تھے مشغلہ اس کے چاروں طرف ہے اور رسول اکرم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام ؓ اور قرآن کریم کی شان میں تم لوگ بیہودہ باتیں بکتے تھے۔ شان نزول : (آیت) ”۔ مستکبرین بہ“۔ (الخ) اب ابی حاتم ؒ نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا ہے کہ قریش قوم بیت اللہ کے گرد قصے کہانیاں کہا کرتی تھی اور طواف نہیں کرتی تھی اور پھر اس پر فخر کرتے چناچہ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
Ayah 23:68

اَفَلَمْ یَدَّبَّرُوا الْقَوْلَ اَمْ جَآءَهُمْ مَّا لَمْ یَاْتِ اٰبَآءَهُمُ الْاَوَّلِیْنَ٘ Open ayah 23:68 in the Quran reader

کیا انہوں نے اس کلام میں غور نہیں کیا ؟ یا ان کے پاس کچھ ایسی چیز آئی ہے جو ان کے اگلے باپ دادا کے پاس نہیں آئی تھی

(68) کیا ان لوگوں نے اس قرآن کریم میں اور جو کچھ اس میں وعیدیں بیان کی گئی ہیں غور نہیں کیا یا ان مکہ والوں کے لیے امن و برأت کی کوئی دستاویز آگئی۔
Ayah 23:69

اَمْ لَمْ یَعْرِفُوْا رَسُوْلَهُمْ فَهُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ٘ Open ayah 23:69 in the Quran reader

یا یہ اپنے پیغمبر کو جانتے پہچانتے نہیں اس وجہ سے ان کو نہیں مانتے

(69) یا یہ لوگ اپنے رسول سے واقف نہیں تھے اس وجہ سے ان کے منکر ہیں۔
Ayah 23:70

اَمْ یَقُوْلُوْنَ بِهٖ جِنَّةٌ١ؕ بَلْ جَآءَهُمْ بِالْحَقِّ وَ اَكْثَرُهُمْ لِلْحَقِّ كٰرِهُوْنَ Open ayah 23:70 in the Quran reader

کیا یہ کہتے ہیں کہ اسے سودا ہے (نہیں) بلکہ وہ ان کے پاس حق کو لے کر آئے ہیں اور ان میں سے اکثر حق کو ناپسند کرتے ہیں

(70) یا یہ وجہ ہے کہ نعوذ باللہ یہ لوگ آپ کی نسبت جنون کے قائل ہیں بلکہ اصل وجہ یہ ہے کہ رسول اکرم ﷺ ان کے پاس قرآن کریم اور توحید و رسالت لے کر آئے اور ان میں سے اکثر لوگ قرآن کریم کا انکار کرتے ہیں۔
Ayah 23:71

وَ لَوِ اتَّبَعَ الْحَقُّ اَهْوَآءَهُمْ لَفَسَدَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهِنَّ١ؕ بَلْ اَتَیْنٰهُمْ بِذِكْرِهِمْ فَهُمْ عَنْ ذِكْرِهِمْ مُّعْرِضُوْنَؕ Open ayah 23:71 in the Quran reader

اور اگر (خدائے) برحق ان کی خواہشوں پر چلے تو آسمان اور زمین اور جو ان میں ہیں سب درہم برہم ہوجائیں بلکہ ہم نے ان کے پاس ان کی نصیحت (کی کتاب) پہنچا دی ہے اور اپنی (کتاب) نصیحت سے منہ پھیر رہے ہیں

(71) اور اگر بالفرض والتقدیر خدا ان کے خیالات کے مطابق ہوجاتا کہ آسمان میں بھی ایک اللہ اور زمین پر بھی ایک اللہ تعالیٰ تو آسمان و زمین اور جو کچھ ان میں مخلوقات ہیں سب تباہ ہوجاتے بلکہ ہم نے ان کے نبی کے پاس بذریعہ جبریل امین ؑ قرآن کریم بھیجا جس میں ان کی عزت اور شرافت ہے سو یہ لوگ اپنی شرافت وعزت کی چیز کو بھی جھٹلاتے ہیں۔
Ayah 23:72

اَمْ تَسْئَلُهُمْ خَرْجًا فَخَرَاجُ رَبِّكَ خَیْرٌ١ۖۗ وَّ هُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ Open ayah 23:72 in the Quran reader

کیا تم ان سے (تبلیغ کے صلے میں) کچھ مال مانگتے ہو ؟ تو تمہارے پروردگار کا مال بہت اچھا ہے اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے

(72) کیا اے محمد ﷺ آپ ان مکہ والوں سے کچھ آمدنی چاہتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ آپ کی بات کو قبول نہیں کرتے، سو یہ بھی غلط ہے کیوں کہ آمدنی تو آپ کی جو جنت میں ہے اس تمام دولت سے بہتر ہے جو ان کے پاس دنیا میں ہے اور وہ دنیا و آخرت میں سب دینے والوں سے اچھا ہے۔
Ayah 23:73

وَ اِنَّكَ لَتَدْعُوْهُمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 23:73 in the Quran reader

اور تم تو ان کو سیدھے راستے کی طرف بلاتے ہو

(73) بلکہ آپ تو ان کو صراط مستقیم یعنی دین اسلام کی طرف بلا رہے ہیں۔
Ayah 23:74

وَ اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ عَنِ الصِّرَاطِ لَنٰكِبُوْنَ Open ayah 23:74 in the Quran reader

اور جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے وہ راستے سے الگ ہو رہے ہیں

(74) اور ان لوگوں کی جو مرنے کے بعد جی اٹھنے پر ایمان نہیں رکھتے یہ حالت ہے کہ وہ دین خداوندی سے دور ہوتے جاتے ہیں۔
Ayah 23:75

وَ لَوْ رَحِمْنٰهُمْ وَ كَشَفْنَا مَا بِهِمْ مِّنْ ضُرٍّ لَّلَجُّوْا فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 23:75 in the Quran reader

اور اگر ہم ان پر رحم کریں اور جو تکلیفیں ان کو پہنچ رہی ہیں وہ دور کردیں تو اپنی سرکشی پر اڑے رہیں (اور) بھٹکتے (پھریں)

(75) اور اگر ہم ان مکہ والوں پر مہربانی فرما دیں اور ان کو بھوک کی جو تکلیف ہے اس کو ہم دور بھی کردیں تو یہ لوگ پھر بھی کفر اور گمراہی میں بھٹکتے رہیں گے کہ حق اور ہدایت ان کو کچھ بھی نظر نہیں آئے گا۔
Ayah 23:76

وَ لَقَدْ اَخَذْنٰهُمْ بِالْعَذَابِ فَمَا اسْتَكَانُوْا لِرَبِّهِمْ وَ مَا یَتَضَرَّعُوْنَ Open ayah 23:76 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو عذاب میں بھی پکڑا تو بھی انہوں نے خدا کے آگے عاجزی نہ کی اور وہ عاجزی کرتے نہیں ہیں

(76) اور ہم نے ان کو بھوک اور قحط سالی کے عذاب میں گرفتار بھی کیا ہے سو یہ لوگ نہ اپنے پروردگار کے سامنے توحید کے قائل ہو کر جھکے اور نہ عاجزی اختیار کر کے ایمان لائے شان نزول : (آیت) ”۔ ولقد اخذنھم بالعذاب“۔ (الخ) امام نسائی ؒ اور حاکم ؒ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ ابوسفیان ؓ رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ محمد ﷺ میں آپ کو اللہ کی اور رشتہ داری کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ ہم نے خون اور مردار تک کھالیا ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی یعنی ہم نے ان کو گرفتار عذاب بھی کیا ہے سو ان لوگوں نے نہ اپنے رب کے سامنے فروتنی کی اور عاجزی اختیار کی اور امام بیہقی ؒ نے دلائل میں ان الفاظ میں روایت نقل کی ہے کہ ابن ایاز حنفی جب رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں لائے گئے تو وہ قیدی تھے آپ نے ان کو رہا کردیا چناچہ وہ اسلام قبول کر کے مکہ مکرمہ چلے گئے پھر وہاں سے واپس آئے تو مکہ والوں اور یمامہ والوں کے درمیان کوئی رکاوٹ ہوگئی یہاں تک نوبت آگئی کہ قریش نے مردار تک کھائے اس کے بعد ابوسفیان رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں آئے اور کہنے لگے کہ کیا آپ یہ نہیں کہتے کہ میں رحمۃ العالمین بنا کر بھیجا گیا ہوں ؟ آپ نے فرمایا یقینا تو ابوسفیان کہنے لگے تو باپ دادا تو تلواروں سے قتل دیے گئے اور اولاد بھوک سے مرگئی اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
Ayah 23:77

حَتّٰۤى اِذَا فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَابًا ذَا عَذَابٍ شَدِیْدٍ اِذَا هُمْ فِیْهِ مُبْلِسُوْنَ۠ Open ayah 23:77 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب ہم نے ان پر عذاب شدید کا دروازہ کھول دیا تو اس وقت وہاں ناامید ہوگئے

(77) اے محمد ﷺ ان کی یہ حالت اس وقت تک ہے کہ جب ہم ان پر قحط سالی کے عذاب کا سخت دروازہ کھول دیں گے تو اس وقت یہ ہر ایک بھلائی سے مایوس ہوجائیں گے۔
Ayah 23:78

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ Open ayah 23:78 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے تمہارے کان اور آنکھیں اور دل بنائے لیکن تم کم شکر گزاری کرتے ہو

(78) بالخصوص مکہ والو اللہ تعالیٰ ایسا قادر ومنعم ہے کہ اس نے تمہارے سننے کے لیے کان اور دیکھنے کے لیے آنکھیں اور سوچنے اور سمجھنے کے لیے دل بنائے، مکہ والو تم پر یہ جتنے انعامات و احسانات فرمائے تم اس کی نسبت بہت ہی کم شکر کرتے ہو۔