12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayah 12:81

اِرْجِعُوْۤا اِلٰۤى اَبِیْكُمْ فَقُوْلُوْا یٰۤاَبَانَاۤ اِنَّ ابْنَكَ سَرَقَ١ۚ وَ مَا شَهِدْنَاۤ اِلَّا بِمَا عَلِمْنَا وَ مَا كُنَّا لِلْغَیْبِ حٰفِظِیْنَ Open ayah 12:81 in the Quran reader

تم سب والد صاحب کے پاس جاؤ اور کہو کہ ابّا آپ کے صاحبزادے نے (وہاں جا کر) چوری کی۔ اور ہم نے تو اپنی دانست کے مطابق آپ سے (اسکے لے آنیکا) عہد کیا تھا مگر ہم غیب (کی باتوں) کے (جاننے اور) یاد رکھنے والے نہیں تھے۔

(81) پھر یہودا نے اپنے بھائیوں سے کہا میرے بھائیوں تم اپنے باپ کے پاس واپس جاؤ اور کہو کہ آپ کے بیٹے نے بادشاہ کے پیمانہ کی جو کہ سونے کا تھا چوری کرلی ہے اور ہم تو وہی بیان کرتے ہیں جو ہمیں مشاہدہ سے معلوم ہوا کہ وہ چرائی ہوئی چیز بنیامین کے سامان میں سے ملی ہے۔ اور اگر ہم غیب کی باتوں سے واقف ہوتے تو ہم ان کو ہرگز اپنے ساتھ لے کر نہ جاتے اور رات کے وقت تو ہم ان کی نگرانی نہیں کر رہے تھے کہ انہوں نے کیا کیا۔
Ayah 12:82

وَ سْئَلِ الْقَرْیَةَ الَّتِیْ كُنَّا فِیْهَا وَ الْعِیْرَ الَّتِیْۤ اَقْبَلْنَا فِیْهَا١ؕ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 12:82 in the Quran reader

اور جس بستی میں ہم (ٹھہرے تھے) وہاں سے (یعنی اہل مصر سے) اور جس قافلے میں آئے ہیں اس سے دریافت کرلیجئے۔ اور ہم (اس بیان میں) بالکل سّچے ہیں۔

(82) اور اگر یقین نہ ہو تو اس بستی والوں میں سے جو مصر ہی کی ایک بستی ہے کسی سے پوچھ لیجیے اور اس قافلہ والوں سے پوچھ لیجیے جن میں شامل ہو کر ہم یہاں آئے ہیں اور ان کے ساتھ قبیلہ کنعان کے کچھ لوگ آئے تھے اور ہم نے جو کچھ آپ سے بیان کیا اس میں ہم بالکل سچے ہیں، چناچہ سب بھائیوں نے واپس آکر حضرت یعقوب ؑ سے یہ ساری بات بیان کردی۔
Ayah 12:83

قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًا١ؕ فَصَبْرٌ جَمِیْلٌ١ؕ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّاْتِیَنِیْ بِهِمْ جَمِیْعًا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 12:83 in the Quran reader

(جب انہوں نے یہ بات یعقوب سے آ کر کہی تو) انہوں نے کہا (کہ حقیقت یوں نہیں) بلکہ یہ بات تم نے اپنے دل سے بنالی ہے تو صبر ہی بہتر ہے عجب نہیں کہ خدا ان سب کو میرے پاس لے آئے۔ بیشک وہ دانا (اور) حکم والا ہے۔

(83) یہ سن کر حضرت یعقوب ؑ نے ان سے فرمایا یہ بات ممکن نہیں بلکہ تم نے اپنے دل سے ایک بات نکال لی ہے لیکن میں صبر ہی کروں گا اور تم لوگوں سے کوئی شکایت نہیں کروں گا۔ مجھ کو اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ وہ یوسف، بنیامین اور یہودا کو مجھ تک پہنچا دے گا وہ اس بات سے خوب واقف ہے کہ وہ کہاں ہیں اور وہ ان سب کو مجھ سے ملانے میں بڑی حکمت والا ہے۔
Ayah 12:84

وَ تَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰۤاَسَفٰى عَلٰى یُوْسُفَ وَ ابْیَضَّتْ عَیْنٰهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِیْمٌ Open ayah 12:84 in the Quran reader

پھر انکے پاس سے چلے گئے اور کہنے لگے ہائے افسوس یوسف (ہائے افسوس) اور رنج والم میں (اس قدر روئے کہ) انکی آنکھیں سفید ہوگئیں اور ان کا دل غم سے بھر رہا تھا۔

(84) اور ان سے الگ ہو کر کہنے لگے ہائے یوسف اور رنج وغم سے ان کی آنکھیں چندھیا گئیں، اور وہ غم سے دل ہی دل میں گھٹا کرتے تھے۔
Ayah 12:85

قَالُوْا تَاللّٰهِ تَفْتَؤُا تَذْكُرُ یُوْسُفَ حَتّٰى تَكُوْنَ حَرَضًا اَوْ تَكُوْنَ مِنَ الْهٰلِكِیْنَ Open ayah 12:85 in the Quran reader

(بیٹے) کہنے لگے کہ واللہ اگر آپ یوسف کو اسی طرح یاد کرتے رہیں گے تو یا تو بیمار ہوجائیں گے یا جان ہی دیدیں گے۔

(85) اور ان کی اولاد کہنے لگی خدا کے لئے آپ ہمیشہ حضرت یوسف ؑ ہی کی یاد میں لگے رہو گے یہاں تک کہ گھل گھل کر ہلاک ہوجاؤ گے۔
Ayah 12:86

قَالَ اِنَّمَاۤ اَشْكُوْا بَثِّیْ وَ حُزْنِیْۤ اِلَى اللّٰهِ وَ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:86 in the Quran reader

انہوں نے کہا کے میں تو اپنے غم واندوہ کا اظہار خدا سے کرتا ہوں۔ اور خدا کی طرف سے وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔

(86) حضرت یعقوب ؑ نے فرمایا میں تو اپنے رنج وغم کی صرف اللہ سے شکایت کرتا ہوں اور میں جانتا ہوں کہ حضرت یوسف ؑ نے جو بچپن میں خواب دیکھا تھا وہ سچا ہے اور ہم ان کو سجدہ کریں گے اور اللہ تعالیٰ کے رحم وکرم اور اس کے لطف کو جتنا میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے اور میں خوب جانتا ہوں کہ یوسف ؑ زندہ ہیں کیوں کہ عزرائیل ؑ حضرت یعقوب ؑ کے پاس آئے، حضرت یعقوب ؑ نے ان سے دریافت کیا کہ جن لوگوں کی تم نے روحیں قبض کی ہیں کہ ان میں یوسف ؑ کی بھی روح قبض کی ہے عزرائیل ؑ نے فرمایا نہیں۔
Ayah 12:87

یٰبَنِیَّ اذْهَبُوْا فَتَحَسَّسُوْا مِنْ یُّوْسُفَ وَ اَخِیْهِ وَ لَا تَایْئَسُوْا مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یَایْئَسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 12:87 in the Quran reader

بیٹا (یوں کرو کہ ایک دفعہ پھر) جاؤ اور یوسف اور اس کے بھائی کو تلاش کرو۔ اور خدا کی رحمت سے ناامید نہ ہو کہ خدا کی رحمت سے بےایمان لوگ ناامید ہوا کرتے ہیں۔

(87) اسی لیے حضرت یعقوب ؑ نے فرمایا کہ میرے بیٹو ! جاؤ یوسف ؑ اور بنیامین کو تلاش کرو اور ان کی خبر لاؤ اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ناامید مت ہو، کیوں کہ اللہ تعالیٰ سے اور اس کی رحمت سے وہی لوگ ناامید ہوتے ہیں، جو کافر ہیں۔
Ayah 12:88

فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلَیْهِ قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الْعَزِیْزُ مَسَّنَا وَ اَهْلَنَا الضُّرُّ وَ جِئْنَا بِبِضَاعَةٍ مُّزْجٰىةٍ فَاَوْفِ لَنَا الْكَیْلَ وَ تَصَدَّقْ عَلَیْنَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَجْزِی الْمُتَصَدِّقِیْنَ Open ayah 12:88 in the Quran reader

جب وہ یوسف کے پاس گئے تو کہنے لگے کہ عزیز ہمیں اور ہمارے اہل و عیال کو بڑی تکلیف ہو رہی ہے اور ہم تھوڑا سا سرمایہ لائے ہیں۔ آپ ہمیں (اس کے عوض) پورا غلہ دیجئے اور خیرات کیجئے کہ خدا خیرات کرنے والوں کو ثواب دیتا ہے۔

(88) چناچہ جب دوسری مرتبہ بھی یہ سب مصر پہنچے تو کہنے لگے اے عزیز ہم اور ہمارے گھر والے قحط سے پریشان ہیں اور ہم کچھ کھوٹے سکے لائے ہیں جن کے عوض نہ اناج مل سکتا ہے اور نہ وہ لوگوں کے درمیان چلتے ہیں اور کچھ پہاڑی چیزیں صنوبر، جستہ الخضراء وغیرہ لائے ہیں اور عرب کے استعمال کی چیزیں مثلا اون، گھی وغیرہ لائے ہیں تو ہمیں اب بھی پورا اناج دے دیجیے جیسا کہ آپ نئے سکوں پر پورا اناج دیتے ہیں، اور ان قیمتوں کے فرق اور ماپوں کے فرق کو ملحوظ نہ رکھیے بلکہ ہمیں خیرات سمجھ کر دے دیجیے بیشک اللہ تعالیٰ خیرات دینے والوں کو دنیا و آخرت میں جزائے خیر دیتا ہے۔
Ayah 12:89

قَالَ هَلْ عَلِمْتُمْ مَّا فَعَلْتُمْ بِیُوْسُفَ وَ اَخِیْهِ اِذْ اَنْتُمْ جٰهِلُوْنَ Open ayah 12:89 in the Quran reader

(یو سف نے) کہا تمہیں معلوم ہے کہ جب تم نادانی میں پھنسے ہوئے تھے تو تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا تھا ؟

(89) یہ سن کر حضرت یوسف ؑ ان سے فرمانے لگے وہ بھی تمہیں یاد ہے جو کچھ تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا تھا جب کہ تمہاری جہالت اور شباب کا زمانہ تھا۔
Ayah 12:90

قَالُوْۤا ءَاِنَّكَ لَاَنْتَ یُوْسُفُ١ؕ قَالَ اَنَا یُوْسُفُ وَ هٰذَاۤ اَخِیْ١٘ قَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَیْنَا١ؕ اِنَّهٗ مَنْ یَّتَّقِ وَ یَصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:90 in the Quran reader

وہ بولے کیا تم ہی یوسف ہو ؟ انہوں نے کہا ہاں میں ہی یوسف ہوں۔ اور (بنیامین کی طرف اشارہ کر کے کہنے لگے) یہ میرا بھائی ہے۔ خدا نے ہم پر بڑا احسان کیا ہے جو شخص خدا سے ڈرتا اور صبر کرتا ہے تو خدا نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔

(90) سوچ کر کہنے لگے کیا تم ہی یوسف ہو ؟ فرمایا ہاں میں یوسف ہوں اور یہ بنیامین میرا سگا بھائی ہے، اللہ تعالیٰ نے صبر کی دولت دے کر ہم پر بڑا احسان کیا ہے اور واقعی جو خوشحالی میں گناہوں سے بچتا ہے اور تنگی میں صبر کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ تقوی اور صبر کرنے والوں کے ثواب ضائع نہیں کرتے۔
Ayah 12:91

قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ اٰثَرَكَ اللّٰهُ عَلَیْنَا وَ اِنْ كُنَّا لَخٰطِئِیْنَ Open ayah 12:91 in the Quran reader

وہ بولے خدا کی قسم خدا نے تم کو ہم پر فضیلت بخشی ہے اور بیشک ہم خطاکار تھے۔

(91) چناچہ حضرت یوسف ؑ کے بھائی حضرت یوسف ؑ سے بطور معذرت کہنے لگے بخدا تمہیں اللہ تعالیٰ نے ہم پر فضیلت فرمائی ہے اور جو کچھ تم نے کیا بیشک اس میں ہم آپ کے ساتھ برائی کرنے والے اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے والے تھے۔
Ayah 12:92

قَالَ لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَ١ؕ یَغْفِرُ اللّٰهُ لَكُمْ١٘ وَ هُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ Open ayah 12:92 in the Quran reader

(یوسف ؑ نے) کہا کہ آج کے دن (سے) تم پر کچھ عتاب (وملامت) نہیں ہے۔ خدا تم کو معاف کرے اور وہ بہت رحم کرنے والا ہے۔

(92) حضرت یوسف ؑ نے ان سے فرمایا تم پر آج کے بعد میری طرف سے کوئی الزام نہیں جو کچھ تم سے قصور ہوا اللہ تعالیٰ اس کو معاف فرمائے وہ والدین سے زیادہ مہربان ہے۔
Ayah 12:93

اِذْهَبُوْا بِقَمِیْصِیْ هٰذَا فَاَلْقُوْهُ عَلٰى وَجْهِ اَبِیْ یَاْتِ بَصِیْرًا١ۚ وَ اْتُوْنِیْ بِاَهْلِكُمْ اَجْمَعِیْنَ۠ Open ayah 12:93 in the Quran reader

یہ میرا کرتہ لے جاؤ اور اسے والد صاحب کے منہ پر ڈال دو۔ وہ بینا ہوجائیں گے۔ اور اپنے تمام اہل و عیال کو میرے پاس لے آؤ۔

(93) اب تم جاکر میرے باپ کو بشارت دو اور میری یہ قمیص بھی لیے جاؤ اور حضرت یوسف ؑ کی یہ قمیص جنت سے آیا ہوا لباس تھا اور ان کو ان کے چہرہ پر ڈال دو اس سے انکی آنکھیں روشن ہوجائیں گی اور باقی اپنے سب گھر والوں کو بھی جو تقریبا ستر اشخاص تھے میرے پاس لے آؤ۔
Ayahs 12:94–95

وَ لَمَّا فَصَلَتِ الْعِیْرُ قَالَ اَبُوْهُمْ اِنِّیْ لَاَجِدُ رِیْحَ یُوْسُفَ لَوْ لَاۤ اَنْ تُفَنِّدُوْنِ Open ayah 12:94 in the Quran reader

اور جب قافلہ (مصر سے) روانہ ہوا تو ان کے والد کہنے لگے کہ اگر مجھ کو یہ نہ کہو کہ (بوڑھا) بہک گیا ہے تو مجھے تو یوسف کی بو آرہی ہے۔

قَالُوْا تَاللّٰهِ اِنَّكَ لَفِیْ ضَلٰلِكَ الْقَدِیْمِ Open ayah 12:95 in the Quran reader

وہ بولے کہ واللہ آپ اسی قدیم غلطی میں مبتلا ہیں۔

(94۔ 95) چناچہ جب قافلہ مقام عریش سے جو کہ مصر اور کنعان کے درمیان ایک بستی تھی قمیص لے کر چل پڑا تو حضرت یعقوب ؑ نے ارد گرد کے لوگوں سے کہنا شروع کیا کہ اگر تم مجھ کو بہکی باتیں کرنے والا نہ سمجھو اور میری بات کو جھوٹ نہ سمجھو تو ایک بات کہتا ہوں کہ مجھے یوسف ؑ کی خوشبو آرہی ہے انکے پاس جو انکے پوتے پڑپوتے موجود تھے وہ کہنے لگے بخدا آپ تو حضرت یوسف ؑ کے بارے میں اپنی اسی خام خیالی پر قائم ہیں۔
Ayahs 12:96–97

فَلَمَّاۤ اَنْ جَآءَ الْبَشِیْرُ اَلْقٰىهُ عَلٰى وَجْهِهٖ فَارْتَدَّ بَصِیْرًا١ۚ قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ١ۙۚ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:96 in the Quran reader

جب خوشخبری دینے والا آپہنچا تو کرتہ یعقوب کے منہ پر ڈال دیا اور وہ بینا ہوگئے (اور بیٹوں سے) کہنے لگے کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں خدا کی طرف سے وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے ؟

قَالُوْا یٰۤاَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَاۤ اِنَّا كُنَّا خٰطِئِیْنَ Open ayah 12:97 in the Quran reader

بیٹوں نے کہا کہ ابّا ہمارے لئے ہمارے گناہوں کی مغفرت مانگیے بیشک ہم خطاکار تھے۔

(96۔ 97) چناچہ جب یہودا حضرت یوسف ؑ کی قمیص لے کر انکی سلامتی کی خوشخبری لے کر آیا آپہنچا تو اس نے وہ کرتہ ان کے پر پر لا کر ڈال دیا، فورا ہی ان کی آنکھیں کھل گئیں تو آپ نے اپنے بیٹوں اور پوتوں سے فرمایا کیوں میں نے تم سے کہا نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ کی باتوں کو جتنا میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے وہ یہ کہ حضرت یوسف ؑ زندہ ہیں۔ مرے نہیں تو ان کے بیٹوں اور پوتوں نے کہا کہ اے ہمارے باپ اللہ تعالیٰ سے ہمارے گناہوں کی مغفرت کے لیے دعا کیجیے ہم بیشک گناہ گار اور اللہ تعالیٰ کے نافرمان تھے۔
Ayah 12:98

قَالَ سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 12:98 in the Quran reader

انہوں نے کہا میں اپنے پروردگار سے تمہارے لئے بخشش مانگوں گا۔ بیشک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔

(98) حضرت یعقوب ؑ نے ان سے فرمایا تمہارے لیے جمعہ کی رات میں تہجد کے وقت مغفرت کی دعا کروں گا بیشک وہ غفور الرحیم اور توبہ کرنے والوں پر مہربان ہے۔
Ayah 12:99

فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰى یُوْسُفَ اٰوٰۤى اِلَیْهِ اَبَوَیْهِ وَ قَالَ ادْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِیْنَؕ Open ayah 12:99 in the Quran reader

جب (یہ سب لوگ) یوسف ؑ کے پاس پہنچے تو یوسف نے اپنے والدین کو اپنے پاس بٹھایا اور کہا مصر میں داخل ہوجائیے۔ خدا نے چاہا تو خاطر جمع سے رہیئے گا۔

(99) چناچہ جب یہ سب حضرت یوسف ؑ کے پاس پہنچے تو انہوں نے اپنے باپ اور اپنی خالہ کو کیوں کہ ان کی والدہ پہلے ہی انتقال کرگئی تھیں اپنے پاس جگہ دی اور فرمایا کہ سب مصر چلیے اور وہاں انشاء اللہ دشمن اور تکلیف سے امن میں رہیے۔
Ayah 12:100

وَ رَفَعَ اَبَوَیْهِ عَلَى الْعَرْشِ وَ خَرُّوْا لَهٗ سُجَّدًا١ۚ وَ قَالَ یٰۤاَبَتِ هٰذَا تَاْوِیْلُ رُءْیَایَ مِنْ قَبْلُ١٘ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّیْ حَقًّا١ؕ وَ قَدْ اَحْسَنَ بِیْۤ اِذْ اَخْرَجَنِیْ مِنَ السِّجْنِ وَ جَآءَ بِكُمْ مِّنَ الْبَدْوِ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ نَّزَغَ الشَّیْطٰنُ بَیْنِیْ وَ بَیْنَ اِخْوَتِیْ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَطِیْفٌ لِّمَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 12:100 in the Quran reader

اور اپنے والدین کو تخت پر بٹھایا اور سب یوسف ؑ کے آگے سجدے میں گرپڑے (اس وقت یوسف نے کہا ابّاجان ! یہ میرے اس خواب کی تعبیر ہے جو میں نے پہلے (بچپن میں) دیکھا تھا میرے پروردگار نے اسے سچ کردیا۔ اور اس نے مجھ پر (بہت سے) احسان کئے ہیں کہ مجھ کو جیل خانے سے نکالا اور اس کے بعد کہ شیطان نے مجھ میں اور میرے بھائیوں میں فساد ڈال دیا تھا۔ آپ کو گاؤں سے یہاں لایا۔ بیشک میرا پروردگار جو چاہتا ہے تدبیر کرتا ہے۔ وہ دانا (اور) حکمت والا ہے۔

(100) اور وہاں پہنچ کر اپنے والدین کو تخت شاہی پر اونچا بٹھایا اور عظمت کے غلبہ کے باعث والدین اور ان کے بھائی سب سجدہ میں جھک گئے اور اس زمانہ میں یہ سجدہ رکوع کے طریقہ پر ہوتا تھا جو کہ سلام کے قائم مقام تھا کہ کم تر باعزت کے اور نوجوان بوڑھے کے اور چھوٹا بڑے کے سامنے جھکتا جیسا کہ عجمی لوگ کرتے تھے حضرت یوسف ؑ فرمانے لگے اباجان یہ سجدہ میرے اس خواب کی تعبیر ہے جو میں نے پہلے دیکھا تھا میرے پروردگار نے اس کو سچا کردکھایا اور مجھ پر قید سے نکلنے کے وقت بھی احسان فرمایا اور مجھے غلامی سے نجات دی اور اس کے بعد بھی کہ شیطان نے حسد میں میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان فساد ڈلوا دیا تھا پھر اللہ تعالیٰ آپ سب کو باہر سے لے آیا بیشک میرا پروردگار جو چاہتا ہے اس کی اچھی تدبیر کردیتا ہے کہ اس طریقے سے ہم سب کو دوبارہ ملانے والا اور وہ ہماری پریشانیوں کو جاننے والا اور ملانے والا اور ملانے اور جدا کرنے میں حکمتوں والا ہے۔
Ayah 12:101

رَبِّ قَدْ اٰتَیْتَنِیْ مِنَ الْمُلْكِ وَ عَلَّمْتَنِیْ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ١ۚ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١۫ اَنْتَ وَلِیّٖ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ تَوَفَّنِیْ مُسْلِمًا وَّ اَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَ Open ayah 12:101 in the Quran reader

(جب یہ سب باتیں ہو لیں تو یوسف نے خدا سے دعا کی کہ) اے میرے پروردگار تو نے مجھ کو حکومت سے بہرہ دیا اور خوابوں کی تعبیر کا علم بخشا۔ اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے تو ہی دنیا اور آخرت میں میرا کارساز ہے تو مجھے (دنیا سے) اپنی اطاعت (کی حالت) میں اٹھائیو اور (آخرت میں) اپنے نیک بندوں میں داخل کیجئیو۔

(101) اے میرے پروردگار آپ نے مجھ کو ملک مصر کی سلطنت عطا کی جس کا رقبہ چالیس فرسخ (فاصلے کا ایک ماپ جو اٹھارہ ہزار فٹ ہوتا ہے) اور مجھ کو خوابوں کی تعبیر دنیاکا علم دیا اے آسمانوں اور زمین کے خالق آپ ہی میرے پروردگار خالق رازق ومحافظ ہیں دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، مجھے عبادت توحید میں پورے خلوص کے ساتھ دنیا سے اٹھائیے اور میرے آباؤ اجداد مرسلین کے ساتھ جو جنت میں ہیں شامل کردیجیے۔
Ayah 12:102

ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهِ اِلَیْكَ١ۚ وَ مَا كُنْتَ لَدَیْهِمْ اِذْ اَجْمَعُوْۤا اَمْرَهُمْ وَ هُمْ یَمْكُرُوْنَ Open ayah 12:102 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ یہ اخبار غیب میں سے ہیں۔ جو ہم تمہاری طرف بھیجتے ہیں اور جب برادارن یوسف نے اپنی بات پر اتفاق کیا تھا اور وہ فریب کر رہے تھے تو تم ان کے پاس تو نہ تھے۔

(102) اے محمد ﷺ آپ سے جو حضرت یوسف ؑ اور ان کے بھائیوں کا قصہ بیان کیا گیا یہ آپ کے اعتبار سے غیب کی خبروں میں سے ہے اور بذریعہ جبریل امین آپ کو یہ قصہ بتلاتے ہیں اور ظاہر ہے کہ آپ برادران یوسف ؑ کے زمانے میں موجود نہ تھے، جب انہوں نے حضرت یوسف ؑ کو کنوئیں میں ڈالنے کا پختہ ارادہ کرلیا تھا اور وہ یوسف ؑ کی ہلاکت کے بارے میں تدابیر کررہے تھے۔
Ayah 12:103

وَ مَاۤ اَكْثَرُ النَّاسِ وَ لَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 12:103 in the Quran reader

اور بہت سے آدمی گو تم (کتنی ہی) خواہش کرو ایمان لانے والے ہیں۔

(103) اور خواہ آپ کیسی ہی کیوں نہ کوشش کریں اہل مکہ میں سے اکثر آسمانی کتابوں اور اللہ کے رسولوں پر ایمان نہیں لاتے۔
Ayah 12:104

وَ مَا تَسْئَلُهُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 12:104 in the Quran reader

اور تم ان سے اس (خیر خواہی) کا کچھ صلہ بھی تو نہیں مانگتے۔ یہ (قرآن) اور کچھ نہیں تمام عالم کے لئے نصیحت ہے۔

(104) اور محمد ﷺ آپ تبلیغ توحید پر ان سے کچھ معاوضہ تو نہیں لیتے یہ قرآن تو تمام جنات اور انسانوں کے لیے ایک نصیحت ہے۔
Ayah 12:105

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ اٰیَةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ یَمُرُّوْنَ عَلَیْهَا وَ هُمْ عَنْهَا مُعْرِضُوْنَ Open ayah 12:105 in the Quran reader

اور آسمان اور زمین میں بہت سی نشانیاں ہیں جن پر یہ گزرتے ہیں۔ اور ان سے اعراض کرتے ہیں۔

(105) اور بہت سی نشانیاں ہیں، آسمانوں میں جیسا کہ چاند، سورج، ستارے وغیرہ اور زمین میں جیسا کہ پہاڑ، دریا، درخت، جانور، وغیرہ جن پر اہل مکہ کا گزر ہوتا رہتا ہے اور وہ ان کی طرف توجہ اور غور نہیں کرتے، بلکہ الٹا جھٹلاتے ہیں۔
Ayah 12:106

وَ مَا یُؤْمِنُ اَكْثَرُهُمْ بِاللّٰهِ اِلَّا وَ هُمْ مُّشْرِكُوْنَ Open ayah 12:106 in the Quran reader

اور یہ اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے۔ مگر (اس کے ساتھ) شرک کرتے ہیں۔

(106) اور اکثر اہل مکہ جو دل میں اللہ کی عبودیت کو مانتے بھی ہیں مگر علانیہ وحدانیت خداوندی میں شرک کرتے ہیں۔
Ayah 12:107

اَفَاَمِنُوْۤا اَنْ تَاْتِیَهُمْ غَاشِیَةٌ مِّنْ عَذَابِ اللّٰهِ اَوْ تَاْتِیَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 12:107 in the Quran reader

کیا یہ اس (بات) سے بےخوف ہیں کہ ان پر خدا کا عذاب نازل ہو کر ان کو ڈھانپ لے یا ان پر ناگہاں قیامت آجائے اور انھیں خبر بھی نہ ہو ؟

(107) کیا پھر بھی مکہ والے اس بات سے مطمئن بیٹھے ہیں کہ بدر کی طرح عذاب الہی میں سے کوئی عذاب ان پر نازل ہو یا ان پر اچانک عذاب قیامت آپڑے اور ان کو اس کے آنے کی خبر بھی نہ ہو۔
Ayah 12:108

قُلْ هٰذِهٖ سَبِیْلِیْۤ اَدْعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ١ؔ۫ عَلٰى بَصِیْرَةٍ اَنَا وَ مَنِ اتَّبَعَنِیْ١ؕ وَ سُبْحٰنَ اللّٰهِ وَ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 12:108 in the Quran reader

کہہ دو میرا راستہ تو یہ ہے۔ میں خدا کی طرف بلاتا ہوں (ازروئے یقین وبرہان) سمجھ بوجھ کر۔ میں بھی (لوگوں کو خدا کی طرف بلاتا ہوں) اور میرے پیرو بھی۔ اور خدا پاک ہے۔ اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔

(108) محمد ﷺ آپ ان اہل مکہ سے فرما دیجیے کہ ملت ابراہیمی ہی میرا طریق ہے میں لوگوں کو اللہ کی طرف اس طور پر بلاتا ہوں کہ میں دلیل اور دین خداوندی پر قائم ہوں، میں بھی اور میرے اوپر جو ایمان لائے وہ بھی اللہ کی طرف اس طور پر دعوت دیتے ہیں کہ وہ بھی دلیل اور دین خداوندی پر قائم ہیں اور اللہ تعالیٰ شریک اور اولاد سے پاک ہے اور میں مشرکین کے ساتھ نہیں ہوں۔
Ayah 12:109

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ اِلَیْهِمْ مِّنْ اَهْلِ الْقُرٰى١ؕ اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ وَ لَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ اتَّقَوْا١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 12:109 in the Quran reader

اور ہم نے تم سے پہلے بستیوں کے رہنے والوں میں سے مرد ہی بھیجے تھے جن کی طرف ہم وحی بھیجتے تھے۔ کیا ان لوگوں نے ملک میں سیر (وسیاحت) نہیں کی کہ دیکھ لیتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا انجام کیا ہوا ؟ اور متقیوں کے لئے آخرت کا گھر بہت اچھا ہے۔ کیا تم سمجھتے نہیں۔

(109) اے محمد ﷺ ہم نے آپ نے آپ سے پہلے مختلف بستی والوں میں جتنے رسول بنا کر بھیجے سب آدمی ہی تھے جس طرح اب ہم آپ کے پاس بذریعہ جبریل امین وحی بھیجتے ہیں اسی طرح ان کے پاس وحی بھیجتے تھے کیا مکہ والے کہیں چلے پھرے نہیں کہ اپنی آنکھوں سے دیکھ کر غور کرلیتے کہ ان سے پہلے جو کافر تھے ان کا کیسا برا انجام ہوا۔ البتہ جنت ان حضرات کے لیے جو کفر وشرک اور فواحش سے بچتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اور رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان رکھتے ہیں نہایت بھلائی کی چیز ہے۔ کیا تمہارے پاس انسانوں والا دماغ نہیں کہ سوچو آخرت دنیا سے بہتر ہے یا یہ کی دنیا فانی اور آخرت باقی رہنے والی ہے یا یہ کہ کیا اس بات کو نہیں مانتے کہ گزشتہ قوموں پر جب انہوں نے رسولوں کو جھوٹا قرار دیا کیا کیا عذاب نازل ہوئے۔
Ayah 12:110

حَتّٰۤى اِذَا اسْتَیْئَسَ الرُّسُلُ وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوْا جَآءَهُمْ نَصْرُنَا فَنُجِّیَ مَنْ نَّشَآءُ١ؕ وَ لَا یُرَدُّ بَاْسُنَا عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 12:110 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب پیغمبر ناامید ہوگئے اور انہوں نے خیال کیا کہ (اپنی نصرت) کے بارے میں جو بات انہوں نے کہی تھی اس میں وہ سچے نہ نکلے تو ان کے پاس ہماری مدد آپہنچی۔ پھر جسے ہم نے چاہا بچا دیا اور ہمارا عذاب (اتر کر) گنہگاروں سے پھرا نہیں کرتا۔

(110) چناچہ جب پیغمبر اپنی قوم کی تصدیق کرنے سے مایوس ہوگئے اور ان پیغمبروں کو گمان غالب ہوگیا کہ انکی قوم جو وہ اللہ کا پیغام اپنی قوم کے پاس لے کر آئے تھے جھٹلانے پر تلی ہوئی ہے اور اب ایمان نہیں لائے گی اور لفظ ”کذبوا“۔ کو تخفیف کے ساتھ پڑھا جائے گا تو مطلب یہ ہوگا کہ قوم کو غالب گمان ہوا کہ رسولوں نے جو وعدہ کیا تھا (نزول عذاب کا) اس کے خلاف کیا تو ایسی مایوسی کی حالت میں ان کی قوم کی ہلاکت کے لیے ہمارا عذاب آپہنچے گا، چناچہ ہم نے اس عذاب سے رسولوں اور انکے ماننے والوں کو بچا لیا اور ہمارا عذاب مشرکین سے نہیں ٹلتا۔
Ayah 12:111

لَقَدْ كَانَ فِیْ قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لِّاُولِی الْاَلْبَابِ١ؕ مَا كَانَ حَدِیْثًا یُّفْتَرٰى وَ لٰكِنْ تَصْدِیْقَ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ تَفْصِیْلَ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 12:111 in the Quran reader

ان کے قصے میں عقلمندوں کے لئے عبرت ہے۔ یہ (قرآن) ایسی بات نہیں ہے۔ جو (اپنے دل سے) بنائی گئی ہو بلکہ جو (کتابیں) اس سے پہلے (نازل ہوئی) ہیں ان کی تصدیق (کرنے والا) ہے اور ہر چیز کی تفصیل (کرنے والا) اور مومنوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے۔

(111) حضرت یوسف ؑ اور ان کے بھائیوں کے واقعہ میں سمجھدار لوگوں کے لیے بڑی عبرت ہے، یہ قرآن کریم کوئی خود سے بنائی ہوئی بات تو نہیں بلکہ یہ تو ریت انجیل اور تمام آسمانی کتب کی بیان توحید اور بعض دوسرے احکام اور واقعہ حضرت یوسف ؑ کی تصدیق کرنیو الی ہے اور یہ قرآن کریم حلال و حرام میں سے ہر ایک چیز کو تفصیل سے بیان کرنے والا ہے اور ان حضرات کے لیے جو کہ رسول اکرم ﷺ اور اس قرآن کریم پر جو کہ آپ پر آپ کے پروردگار کی طرف سے نازل کیا گیا ہے ایمان رکھتے ہیں، گمراہی سے ہدایت اور عذاب سے رحمت ہے۔