12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayah 12:41

یٰصَاحِبَیِ السِّجْنِ اَمَّاۤ اَحَدُكُمَا فَیَسْقِیْ رَبَّهٗ خَمْرًا١ۚ وَ اَمَّا الْاٰخَرُ فَیُصْلَبُ فَتَاْكُلُ الطَّیْرُ مِنْ رَّاْسِهٖ١ؕ قُضِیَ الْاَمْرُ الَّذِیْ فِیْهِ تَسْتَفْتِیٰنِؕ Open ayah 12:41 in the Quran reader

میرے جیل خانے کے رفیقو ! تم میں سے ایک (جو پہلا خواب بیان کرنے والا ہے وہ) تو اپنے آقا کو شراب پلایا کرے گا اور جو دوسرا ہے وہ سولی دیا جائے گا اور جانور اس کا سر کھا جائیں گے۔ جو امر تم مجھ سے پوچھتے تھے وہ فیصل ہوچکا ہے۔

(41) اب حضرت یوسف ؑ ان غلاموں کو خواب کی تعبیر بتاتے ہیں کہ تم میں سے ساقی تو جرم سے بری ہو کر اپنی اصلی جگہ اور اصلی کام پر چلا جائے گا اور اپنے آقا کو پہلے کی طرح شراب پلایا کرے گا اور نانبائی جیل سے نکال کر سولی پر لٹکایا جائے گا، نانبائی کے بارے میں یہ خواب کی تعبیر سن کر دونوں غلام گھبرائے اور کہنے لگے ہمیں تو ایسی چیز نظر نہیں آئی، حضرت یوسف ؑ نے ان سے فرمایا جس کے بارے تم پوچھتے ہو اور جو کچھ تم نے بیان کیا اور جو میں نے اس کا جواب دیا ہے وہ اسی طرح ہو کر رہے گا خواہ تمہیں یہ حقیقت نظرآئی ہو یا نہ۔
Ayah 12:42

وَ قَالَ لِلَّذِیْ ظَنَّ اَنَّهٗ نَاجٍ مِّنْهُمَا اذْكُرْنِیْ عِنْدَ رَبِّكَ١٘ فَاَنْسٰىهُ الشَّیْطٰنُ ذِكْرَ رَبِّهٖ فَلَبِثَ فِی السِّجْنِ بِضْعَ سِنِیْنَؕ۠ Open ayah 12:42 in the Quran reader

اور دونوں شخصوں میں سے جس کی نسبت (یوسف نے) خیال کیا کہ وہ رہائی پا جائیگا اس سے کہا کہ اپنے آقا سے میرا ذکر بھی کرنا لیکن شیطان نے ان کا اپنے آقا سے ذکر کرنا بھلا دیا اور یوسف کئی برس جیل خانے ہی میں رہے۔

(42) اور ساقی جس کے بارے میں قید اور قتل سے رہائی کا گمان تھا اس سے حضرت یوسف ؑ نے فرمایا کہ اپنے آقا کے سامنے میرا بھی ذکر کرنا کہ میں مظلوم ہوں مجھ پر میرے بھائیوں نے زیادتی کرکے مجھے بیچ ڈالا اور حقیقت میں آزاد ہوں اور ناحق قید میں ہوں، چناچہ رہائی کے بعد شیطان نے اس ساقی آقا سے حضرت یوسف ؑ کا تذکرہ کرنا بھلا دیا، یا یہ کہ شیطان نے حضرت یوسف ؑ کو اپنے پروردگار سے اس چیز کی دعا کرنا بھلا دیا۔ چناچہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے علاوہ مخلوق کے سامنے اس چیز کا ذکر کیا۔ جس کی پاداش میں حضرت یوسف ؑ سات سال تک اور قید خانہ میں قید رہے حالانکہ اس سے پہلے پانچ سال سے قید میں تھے۔
Ayah 12:43

وَ قَالَ الْمَلِكُ اِنِّیْۤ اَرٰى سَبْعَ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَّ سَبْعَ سُنْۢبُلٰتٍ خُضْرٍ وَّ اُخَرَ یٰبِسٰتٍ١ؕ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَاُ اَفْتُوْنِیْ فِیْ رُءْیَایَ اِنْ كُنْتُمْ لِلرُّءْیَا تَعْبُرُوْنَ Open ayah 12:43 in the Quran reader

اور بادشاہ نے کہا کہ میں (نے خواب دیکھا) دیکھتا (کیا) ہوں کہ سات موٹی گائیں ہیں جن کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات خوشے سبز ہیں اور اور (سات) خشک۔ اے سردارو ! اگر تم خوابوں کی تعبیر دے سکتے ہو تو مجھے میرے خواب کی تعبیر بتاؤ۔

(43) بادشاہ مصر نے بھی ایک خواب دیکھا اور وزراء وامراء کو جمع کرکے ان سے کہا کہ میں خواب میں کیا دیکھتا ہوں کہ سات تنومند گائیں نہر سے نکلیں اور ان کے بعد سات لاغر اور کمزور گائیں آئیں اور ان تنومند کو کھاگئیں اور ان پر کسی چیز کا ظہور نہیں ہوا اور اسی طرح سات بالیں سبز ہیں اور دوسری سات خشک ہیں جو ان کو کھاگئیں اور اس کا کچھ ظہور نہ ہوا جادوگرو اور نجومیو اور کاہنو میرے اس خواب کی تعبیر بتاؤ اگر تم اس کی تعبیر جانتے ہو۔
Ayah 12:44

قَالُوْۤا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍ١ۚ وَ مَا نَحْنُ بِتَاْوِیْلِ الْاَحْلَامِ بِعٰلِمِیْنَ Open ayah 12:44 in the Quran reader

انہوں نے کہا یہ تو پریشان سے خواب ہیں اور ہمیں ایسے خوابوں کی تعبیر نہیں آتی۔

(44) ان لوگوں کا گروہ کہنے لگا یہ تو ویسے ہی باطل اور منتشر خیالات ہیں اور پھر ہم خوابوں کی تعبیر کا علم بھی نہیں رکھتے۔
Ayah 12:45

وَ قَالَ الَّذِیْ نَجَا مِنْهُمَا وَ ادَّكَرَ بَعْدَ اُمَّةٍ اَنَا اُنَبِّئُكُمْ بِتَاْوِیْلِهٖ فَاَرْسِلُوْنِ Open ayah 12:45 in the Quran reader

اب وہ شخص جو دونوں قید یوں میں سے رہائی پا گیا تھا اور جسے مدت کے بعد وہ بات یاد آگئی بول اٹھا کہ میں آپ کو اس کی تعبیر (لا) بتاتا ہوں۔ مجھے (جیل خانے) جانے کی اجازت دیجئے۔

(45) اور وہ شراب پلانے والا جو قتل کی سزا سے رہا ہوگیا تھا وہ مجلس میں موجود تھا اور تقریبا سات سال کے بعد یوسف ؑ کی بات کا خیال آیا، تب اس نے بادشاہ سے کہا کہ آپ کے خواب کی تعبیر میں لا دیتا ہوں اور وزراء وامراء سے کہنے لگا کہ مجھے جیل خانہ جانے کی اجازت دو کیوں کہ وہاں ایسے شخص ہیں جو کہ علم اور حلم میں کامل ہیں اور قیدیوں کے حال پر بہت ہی شفیق ومہربان ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ خوابوں کی تعبیر بہت ہی صحیح دیتے ہیں۔
Ayah 12:46

یُوْسُفُ اَیُّهَا الصِّدِّیْقُ اَفْتِنَا فِیْ سَبْعِ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَّ سَبْعِ سُنْۢبُلٰتٍ خُضْرٍ وَّ اُخَرَ یٰبِسٰتٍ١ۙ لَّعَلِّیْۤ اَرْجِعُ اِلَى النَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:46 in the Quran reader

(غرض وہ یوسف کے پاس آیا اور کہنے لگا) یوسف ! اے بڑے سچے (یوسف !) ہمیں اس خواب کی تعبیر بتائیے کے سات موٹی گایوں کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات خوشے سبز ہیں اور سات سوکھے تاکہ میں لوگوں کے پاس واپس جا کر (تعبیر بتاؤں) عجب نہیں کہ وہ (تمہاری قدر) جانیں۔

(46) چناچہ وزراء سلطنت نے اس کو جیل خانہ جانے کی اجازت دی، چناچہ وہ کہنے لگا اے یوسف اس خواب کی تعبیر دیجیے کہ سات موٹی گائیں نہر سے نکلیں اور اس کو سات کمزور گائیں کھاگئیں اور اس کے علاوہ سات ہری بالوں کو سات خشک بالیں کھاگئیں تاکہ میں بادشاہ کے پاس جاؤں اور ان لوگوں کو بھی بادشاہ کے خواب کی تعبیر معلوم ہوجائے۔
Ayah 12:47

قَالَ تَزْرَعُوْنَ سَبْعَ سِنِیْنَ دَاَبًا١ۚ فَمَا حَصَدْتُّمْ فَذَرُوْهُ فِیْ سُنْۢبُلِهٖۤ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّا تَاْكُلُوْنَ Open ayah 12:47 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ تم لوگ سات سال متواتر کھیتی کرتے رہو گے تو جو (غلہ) کا ٹو تو تھوڑے سے غلے کے سوا جو کھانے میں آئے اسے خوشوں میں ہی رہنے دینا۔

(47) یوسف ؑ نے فرمایا اچھا میں تعبیر بتا دیتا ہوں سات موٹی گائیں وہ سات خوش حالی اور پیداوار کے سال ہیں اور ایسے ہی سات سبز بالیں وہ پیداوار اور بارش اور فراخی کے سال ہیں اور سات کمزور گائیں وہ قحط سالی کے سال ہیں اور سات خشک بالیں وہ اس قحط سالی کے سات سالوں میں گرانی اور قحط کی طرف اشارہ ہیں، اس تعبیر کے بعد یوسف ؑ نے ان کی قحط سالی کے زمانہ سے حفاظت کا طریقہ بھی بتادیا، لہذا تم ان خوشحالی کے سات سالوں میں ہر سال خوب غلہ بونا اور جو فصل کاٹو اسے بالوں ہی میں رہنے دینا، صاف مت کرنا تاکہ وہ غلہ گھن وغیرہ سے محفوظ ہے سوائے اس کے جو تھوڑا بہت تمہارے استعمال میں آئے۔
Ayahs 12:48–49

ثُمَّ یَاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ سَبْعٌ شِدَادٌ یَّاْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّا تُحْصِنُوْنَ Open ayah 12:48 in the Quran reader

پھر اس کے بعد (خشک سالی کے) سات سخت (سا ل) آئیں گے کہ جو (غلہ) تم نے جمع کر رکھا ہوگا وہ سب کھا جائیں گیں پھر وہی تھوڑا سا رہ جائے جو تم احتیاط سے رکھ چھوڑو گے۔

ثُمَّ یَاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَامٌ فِیْهِ یُغَاثُ النَّاسُ وَ فِیْهِ یَعْصِرُوْنَ۠ Open ayah 12:49 in the Quran reader

پھر اس کے بعد ایک ایسا سال آئے گا کہ خوب مینہ برسے گا اور لوگ اس میں رس نچوڑیں گے۔

(48۔ 49) پھر ان خوشحالی کے ساتھ سالوں کے بعدقحط کے سخت ترین سات سال آئیں گے جو اس خوشحالی کے تمام جمع کردہ ذخیرہ کو کھاجائیں گے جس کو تم نے ان قحط کے سالوں کے لیے جمع کر رکھا تھا، البتہ تھوڑا سا جو محفوظ کرلو گے۔ اور پھر ان سات سالوں کے بعد ایک سال ایسا آئے گا جس میں مصر والوں کے لیے خوب بارش اور پیداوار ہوگی اور انگوروں کا رسل بھی نچوڑیں گے اور زیتون وغیرہ کا تیل بھی نکالیں گے۔
Ayah 12:50

وَ قَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِیْ بِهٖ١ۚ فَلَمَّا جَآءَهُ الرَّسُوْلُ قَالَ ارْجِعْ اِلٰى رَبِّكَ فَسْئَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ الّٰتِیْ قَطَّعْنَ اَیْدِیَهُنَّ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ بِكَیْدِهِنَّ عَلِیْمٌ Open ayah 12:50 in the Quran reader

(یہ تعبیر سن کر) بادشاہ نے حکم دیا کہ یوسف کو میر پاس لے آؤ۔ جب قاصد انکے پاس گیا۔ تو انہوں نے کہا کہ اپنے آقا کے پاس واپس جاؤ اور ان سے پوچھو کہ ان عورتوں کا کیا حال ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لئے تھے۔ بیشک میرا پروردگار ان کے مکروں سے خوب واقف ہے۔

(50) غرض کہ وہ شخص تعبیر لے کر دربار میں پہنچا اور بادشاہ کو مطلع کیا بادشاہ نے حک دیا یوسف ؑ کو میرے پاس لاؤ چناچہ وہ ساق حضرت یوسف ؑ کے پاس آیا اور آکر اطلاع دی کہ بادشاہ آپ کو بلارہا ہے، حضرت یوسف ؑ نے اس سے فرمایا کہ تو اپنے بادشاہ سے جاکر کہہ وہ ان عورتوں کو بلا کر جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے پوچھے کہ میرا رب ان عورتوں کے مکرو فریب کو خوب جانتا ہے۔
Ayah 12:51

قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ اِذْ رَاوَدْتُّنَّ یُوْسُفَ عَنْ نَّفْسِهٖ١ؕ قُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا عَلِمْنَا عَلَیْهِ مِنْ سُوْٓءٍ١ؕ قَالَتِ امْرَاَتُ الْعَزِیْزِ الْئٰنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ١٘ اَنَا رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ وَ اِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 12:51 in the Quran reader

بادشاہ نے (عورتوں سے) پوچھا کہ بھلا اس وقت کیا ہوا تھا جب تم نے یوسف کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا ؟ سب بول اٹھیں کہ حاشا للہ ہم نے اس میں کوئی برائی معلوم نہیں کی۔ عزیز کی عورت نے کہا اب سچی بات تو ظاہر ہو ہی گئی ہے۔ (اصل یہ ہے) کہ میں نے اس کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا تھا اور وہ بیشک سچا ہے۔

(51) چناچہ اس قاصد نے آکر بادشاہ کو یہ پیغام پہنچایا تو بادشاہ نے ان عورتوں کو جمع کیا اور یہ چار عورتوں تھیں، شراب پلانے والے کی بیوی، باورچی کی بیوی، دربان کی بیوی، اور جیل خانہ کے داروغہ کی بیوی اور زلیخا اور بادشاہ کے علاوہ مصر میں ان عورتوں پر کسی کا زور نہیں تھا۔ بادشاہ نے ان سے کہا کہ تمہارا کیا واقعہ ہے جب تم نے یوسف ؑ سے اپنے مطلب کی خواہش کی۔ عورتوں نے جواب دیا نعوذ باللہ ہم نے ان میں کوئی برائی نہیں دیکھی۔ عزیز کی بیوی کہنے لگی اب تو یوسف ؑ کے بارے میں سچی بات ظاہر ہو ہی گئی سچ یہی ہے کہ میں نے ہی خود ان سے اپنے مطلب کی خواہش کی تھی اور بیشک یوسف ؑ ہی اپنے اس قول میں کہ میں نے اس سے خواہش نہیں کی سچے ہیں۔
Ayah 12:52

ذٰلِكَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآئِنِیْنَ Open ayah 12:52 in the Quran reader

(یوسف نے کہا کہ میں نے) یہ بات اس لئے (پوچھی ہے) کہ عزیز کو یقین ہوجائے کہ میں نے اس کی پیٹھ پیچھے اس کی (امانت میں) خیانت نہیں کی اور خدا خیانت کرنیوالوں کے مکروں کو رو براہ نہیں کرتا۔

(52) چناچہ ان تصدیقات کے بعد حضرت یوسف ؑ نے فرمایا کہ میں نے یہ اہتمام اس لیے کیا ہے تاکہ عزیز کو قطعی طور پر معلوم ہوجائے کہ میں نے اس کی غیر موجودگی میں اس کی بیوی کے ساتھ خیانت کی اور اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں کے فریب کو چلنے نہیں دیتا۔
Ayah 12:53

وَ مَاۤ اُبَرِّئُ نَفْسِیْ١ۚ اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَةٌۢ بِالسُّوْٓءِ اِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّیْ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 12:53 in the Quran reader

اور میں اپنے تئیں پاک صاف نہیں کہتا کیونکہ نفس امّارہ (انسان کو) برائی ہی سکھاتا رہتا ہے مگر یہ کہ میرا پروردگار رحم کرے۔ بیشک میرا پروردگار بخشنے والا مہربان ہے۔

(53) اس پر جبریل امین ؑ نے حضرت یوسف ؑ سے کہا کہ جب زلیخا نے آپ سے اصرار کیا تھا، تب کیا ہوا تھا تو حضرت یوسف ؑ نے فرمایا میں اپنے نفس کو بالذات وساوس سے بری اور پاک نہیں کہتا کیوں کہ دل تو ہر ایک کا پورے جسم کو بری ہی بات سمجھاتا ہے ماسوا اس نفس کے یا جس کو میرا رب ان وساوس سے معصوم اور پاک رکھے اور میرا رب بڑی مغفرت والا ہے اور رحمتوں والا ہے کہ مجھ پر اس نے رحمت فرمائی۔
Ayah 12:54

وَ قَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِیْ بِهٖۤ اَسْتَخْلِصْهُ لِنَفْسِیْ١ۚ فَلَمَّا كَلَّمَهٗ قَالَ اِنَّكَ الْیَوْمَ لَدَیْنَا مَكِیْنٌ اَمِیْنٌ Open ayah 12:54 in the Quran reader

بادشاہ نے حکم دیا کہ اسے میرے پاس لاؤ میں اسے اپنا مصاحب خاص بناؤ نگا۔ پھر جب ان سے گفتگو کی تو کہا کہ آج سے تم ہمارے ہاں صاحب منزلت اور صاحب اعتبار ہو۔

(54) یہ باتیں سن کر بادشاہ نے کہا کہ انکو (حضرت یوسف ؑ کو) میرے پاس لاؤ میں ان کو عزیز سے لے کر خاص اپنے کام کے لیے رکھوں گا، چناچہ لوگ ان کو بادشاہ کے پاس لائے اور بادشاہ کے سامنے پھر انہوں نے خواب کی تعبیر بیان کی، بادشاہ نے ان سے کہا تم میرے نزدیک آج سے بڑے معزز ومعتبر اور صاحب امانت ہو (بادشاہ کو انتظام قحط کی فکر ہوئی)
Ayah 12:55

قَالَ اجْعَلْنِیْ عَلٰى خَزَآئِنِ الْاَرْضِ١ۚ اِنِّیْ حَفِیْظٌ عَلِیْمٌ Open ayah 12:55 in the Quran reader

(یوسف علیہ السلام) نے کہا مجھے اس ملک کے خزانوں پر مقرر کر دیجئے کیونکہ میں حفاظت بھی کرسکتا ہوں اور اس کام سے واقف ہوں۔

(55) حضرت یوسف ؑ نے فرمایا مجھے مصر کے خزانوں پر مقرر کردیجیے میں اس کی مقدار وغیرہ کی حفاظت بھی رکھوں گا اور قحط سالی کے زمانہ وقوع سے بھی اچھی طرح واقف ہوں یا یہ کہ جو کام آپ میرے سپرد کریں گے میں اس کی حفاظت بھی کروں گا اور ان تمام لوگوں کی زبانوں سے بھی خوب واقف ہوں جو آپ کے پاس آتے ہیں۔
Ayah 12:56

وَ كَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِ١ۚ یَتَبَوَّاُ مِنْهَا حَیْثُ یَشَآءُ١ؕ نُصِیْبُ بِرَحْمَتِنَا مَنْ نَّشَآءُ وَ لَا نُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:56 in the Quran reader

اس طرح ہم نے یوسف ؑ کو ملک (مصر) میں جگہ دی اور وہ اس ملک میں جہاں چاہتے تھے رہتے تھے۔ ہم اپنی رحمت جس پر چاہتے ہیں کرتے ہیں اور نیکو کاروں کے اجر کو ضائع نہیں کرتے۔

(56) اور ہم نے ایسے عجیب طریقے پر حضرت یوسف ؑ کو ملک مصر میں بااختیار بنادیا کہ اس میں جہاں چاہیں رہیں۔ ہم اپنی خصوصی رحمت یعنی نبوت جس پر چاہیں کریں اور جو اس کا اہل ہو اسے متوجہ کردیں اور ہم ایسے مومنین کے اجر کو ضائع نہیں کرتے جو قول وفعل میں نیکو کار ہیں۔
Ayah 12:57

وَ لَاَجْرُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ۠ Open ayah 12:57 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور ڈرتے رہے ان کے لئے آخرت کا اجرت بہت بہتر ہے۔

(57) ایسے حضرات کو لیے جو اللہ تعالیٰ اور اس کی تمام کتابوں اور تمام احکامات پر ایمان رکھتے ہوں اور کفر و شرک اور تمام بری باتوں سے بچتے ہوں آخرت کا ثواب دنیا کے ثواب سے کہیں زیادہ ہے۔
Ayah 12:58

وَ جَآءَ اِخْوَةُ یُوْسُفَ فَدَخَلُوْا عَلَیْهِ فَعَرَفَهُمْ وَ هُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ Open ayah 12:58 in the Quran reader

اور یوسف ؑ کے بھائی (کنعان سے مصر میں غلہ خریدنے کیلئے) آئے تو یوسف ؑ نے پاس گئے تو یوسف ؑ نے انکو پہچان لیا اور وہ انکو نہ پہچان سکے۔

(58) چناچہ حضرت یوسف ؑ کے دس بھائی مصر پہنچے اور حضرت یوسف ؑ کے پاس آئے تو حضرت یوسف ؑ نے انکو پہچان لیا اور انہوں نے حضرت یوسف ؑ کو نہیں پہچانا۔
Ayah 12:59

وَ لَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ قَالَ ائْتُوْنِیْ بِاَخٍ لَّكُمْ مِّنْ اَبِیْكُمْ١ۚ اَلَا تَرَوْنَ اَنِّیْۤ اُوْفِی الْكَیْلَ وَ اَنَا خَیْرُ الْمُنْزِلِیْنَ Open ayah 12:59 in the Quran reader

جب یوسف ؑ نے انکے لئے ان کا سامان تیار کردیا تو کہا کہ (پھر آنا تو) جو باپ کی طرف سے تمہارا ایک اور بھائی ہے اسے بھی میرے پاس لیتے آنا۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ میں ناپ بھی پوری پوری دیتا ہوں۔ اور مہمانداری بھی خوب کرتا ہوں ؟

(59) غرض کہ حضرت یوسف ؑ نے جب ان کو انجاج تول دیا تو ان سے کہا کہ جیسا کہ تم کہہ رہے ہو کہ ہمارا ایک سوتیلا بھائی اور ہے تو اب اگر آنے کا ارادہ کرو تو اس کو بھی لانا تاکہ اس کا اناج بھی ملے تم دیکھتے نہیں ہو کہ میں پورا ماپ کردیتا ہوں اور اناج کو ناپ تول کر تقسیم کرانا میرے اختیار میں ہے اور میں سب سے زیادہ مہمان نوازی کرتا ہوں۔
Ayah 12:60

فَاِنْ لَّمْ تَاْتُوْنِیْ بِهٖ فَلَا كَیْلَ لَكُمْ عِنْدِیْ وَ لَا تَقْرَبُوْنِ Open ayah 12:60 in the Quran reader

اور اگر تم اسے میرے پاس نہ لاؤ گے تو نہ تمہیں میرے ہاں سے غلہ ملے گا اور نہ تم میرے پاس ہی آسکو گے۔

(60) اور اگر اپنے سوتیلے بھائی کو نہ لائے تو میں سمجھوں گا کہ تم دھوکے سے زیادہ اناج لینا چاہتے ہو اس کی سزا کے طور پر نہ تمہیں آئندہ اناج ملے گا اور نہ تم دوبارہ میرے پاس آنے کا ارادہ کرنا۔
Ayah 12:61

قَالُوْا سَنُرَاوِدُ عَنْهُ اَبَاهُ وَ اِنَّا لَفٰعِلُوْنَ Open ayah 12:61 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ ہم اس کے بارے میں اس کے باپ سے تذکرہ کرینگے اور ہم (یہ کام) کر کے رہیں گے۔

(61) وہ کہنے لگے ہم اپنے باپ سے اس کو ساتھ لانے کی اجازت مانگیں گے اور کوشش کریں گے اور ہم ضرور اس کو لے کر آئیں گے ہم اس کی ضمانت لیتے ہیں۔
Ayah 12:62

وَ قَالَ لِفِتْیٰنِهِ اجْعَلُوْا بِضَاعَتَهُمْ فِیْ رِحَالِهِمْ لَعَلَّهُمْ یَعْرِفُوْنَهَاۤ اِذَا انْقَلَبُوْۤا اِلٰۤى اَهْلِهِمْ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 12:62 in the Quran reader

اور (یوسف ؑ نے) اپنے خدّام سے کہا کہ ان سرمایہ (یعنی غلہ کی قیمت) ان کے تھیلوں میں رکھدو عجب نہیں کہ جب یہ اپنے اہل و عیال میں جائیں تو اسے پہچان لیں (اور) عجب نہیں کہ یہ پھر یہاں آئیں۔

(62) حضرت یوسف ؑ نے اپنے نوکروں سے فرمایا ان کی جمع پونجی ان کے پلان ہی میں اس طرح چھپا کر رکھو دو کہ ان کو پتا نہ چلے۔ تاکہ یہ میرے احسان کو جان لیں یا یہ کہ ان کو معلوم ہوجائے کہ یہ ان ہی کی جمع پونجی ہے اور وہ جب اپنے والد کے پہنچیں تو پھر اس رقم کو لے کر میرے پاس آئیں۔
Ayah 12:63

فَلَمَّا رَجَعُوْۤا اِلٰۤى اَبِیْهِمْ قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مُنِعَ مِنَّا الْكَیْلُ فَاَرْسِلْ مَعَنَاۤ اَخَانَا نَكْتَلْ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ Open ayah 12:63 in the Quran reader

جب وہ اپنے باپ کے پاس واپس گئے تو کہنے لگے کہ (ابّا) جب تک ہم بنیامین کو ساتھ نہ لیجائیں ہمارے لئے غلے کی بندش کردی گئی ہے تو ہمارے ساتھ ہمارے بھائی کو بھیج دیجئے تاکہ ہم پھر غلہ لائیں اور ہم اس کے نگہبان ہیں۔

(63) چناچہ کہ جب یہ بھائی کنعان آئے تو کہنے لگے اگر اب آئندہ آپ بنیامین کو ہمارے ساتھ نہیں بھیجیں گے تو اناج ہمیں نہیں ملے گا لہذا ہمارے ساتھ بنیامین کو روانہ کیجیے تاکہ وہ بھی اپنے لیے ایک اونٹ کے برابر اناج لاسکے اور اگر یہ لفظ نون کے ساتھ پڑھا جائے تو مطلب یہ ہوگا تاکہ کہ پھر ہم اناج لاسکیں، اور ہم بنیامین کی حفاظت کے پورے ضامن ہیں کہ صحیح سلامت پھر آپ کے پاس ان کو لے آئیں گے۔
Ayah 12:64

قَالَ هَلْ اٰمَنُكُمْ عَلَیْهِ اِلَّا كَمَاۤ اَمِنْتُكُمْ عَلٰۤى اَخِیْهِ مِنْ قَبْلُ١ؕ فَاللّٰهُ خَیْرٌ حٰفِظًا١۪ وَّ هُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ Open ayah 12:64 in the Quran reader

(یعقوب) نے کہا کہ میں اس کے بارے میں تمہارا اعتبار نہیں کرتا۔ مگر ویسا ہی جیسا اس کے بھائی کے بارے میں کیا تھا۔ سو خدا ہی بہتر نگہبان ہے۔ اور وہ سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔

(64) یہ سن کر حضرت یعقوب ؑ نے ان سے کہا کیا میں بنیامین کے بارے میں بھی تم پر ویسا ہی اعتبار کروں جیسا کہ اس سے پہلے یوسف ؑ کے بارے میں تمہارا اعتبار کرچکا ہوں اور حضرت یوسف ؑ کے بارے میں جو تم سے میں نے عہد لیا تھا، اب اس سے زیادہ اور کیا عہد لے سکتا ہوں بس تمہاری نگہبانی سے کیا ہوتا ہے اللہ تعالیٰ ہی کے سپرد ہے اور وہی بنیامین پر اس کے والدین اور بھائیوں سے زیادہ مہربان ہے۔
Ayah 12:65

وَ لَمَّا فَتَحُوْا مَتَاعَهُمْ وَجَدُوْا بِضَاعَتَهُمْ رُدَّتْ اِلَیْهِمْ١ؕ قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مَا نَبْغِیْ١ؕ هٰذِهٖ بِضَاعَتُنَا رُدَّتْ اِلَیْنَا١ۚ وَ نَمِیْرُ اَهْلَنَا وَ نَحْفَظُ اَخَانَا وَ نَزْدَادُ كَیْلَ بَعِیْرٍ١ؕ ذٰلِكَ كَیْلٌ یَّسِیْرٌ Open ayah 12:65 in the Quran reader

اور جب انہوں نے اپنا اسباب کھولا تو دیکھا کہ ان کا سرمایہ ان کو واپس کردیا گیا ہے۔ کہنے لگے ابّا ہمیں (اور) کیا چاہئے ؟ (دیکھئے) یہ ہماری پونجی بھی ہمیں واپس کردی گئی ہے۔ اب ہم اپنے اہل عیال کے لئے پھر غلّہ لائیں گے اور اپنے بھائی کی نگہبانی کرینگے اور ایک بار شتر زیادہ لائیں گے (کہ) یہ غلّہ (جو ہم لائے ہیں) تھوڑا ہے۔

(65) (چنانچہ اس گفتگو کے بعد) جب انہوں نے اپنے سامان اور پالانوں کو کھولا تو اس میں ان کے اناج کی قیمت بھی ملی جو ان ہی کی واپس کردی گئی تھی تو کہنے لگے اباجان لیجیے ہم نے جو کچھ اس بادشاہ کی شفقت اور احسان وکرم آپ سے آکر بیان کیا ہے وہ جھوٹ نہیں اور یہ کہ قیمت کی واپسی کی تو ہم نے ان سے درخواست نہیں کی تھی اور ہم نے اناج کی جو قیمت ادا کی تھی وہ بھی ہمارے غلہ کے ساتھ ہمیں واپس کردی گئی ہے یہ اس بادشاہ یعنی حضرت یوسف ؑ کا ہم پر مزید احسان وکرم ہے، یہ دیکھ کر حضرت یعقوب ؑ نے ان سے فرمایا بلکہ اس شخص نے تمہیں اس طریقہ سے آزمایا ہے۔ یہ قیمت بھی ان کے پاس واپس لے جاؤ اور انہیں لوٹا دو (ان کے بیٹے کہنے لگے ایسے مہربان بادشاہ سے) اپنے گھروالوں کے لیے اور راشن لائیں گے اور وہاں آنے جانے میں اب تو بنیامین کی بھی خوب دیکھ بھال کریں گے اور بنیامین جب ہمارے ساتھ ہوں گے تو ایک اونٹ اناج کا اور لادیں گے یہ تو تھوڑا سا اناج ہے اور تو بنیامین ہی کی وجہ سے ملے گا اور یہ کام تو بہت ہی آسان ہے اور یہ تدبیر تو بہت ہی عمدہ ہے جس کی وجہ سے ہم ان سے اناج لے کر آئیں گے۔
Ayah 12:66

قَالَ لَنْ اُرْسِلَهٗ مَعَكُمْ حَتّٰى تُؤْتُوْنِ مَوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ لَتَاْتُنَّنِیْ بِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ یُّحَاطَ بِكُمْ١ۚ فَلَمَّاۤ اٰتَوْهُ مَوْثِقَهُمْ قَالَ اللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوْلُ وَكِیْلٌ Open ayah 12:66 in the Quran reader

(یعقوب ؑ نے) کہا کہ جب تک تم خدا کا عہد نہ دو کہ اس کا میرے پاس (صحیح وسالم) لے آؤ گے میں اسے تمہارے ساتھ نہیں بھیجنے کا۔ مگر یہ کہ تم گھیر لئے جاؤ (یعنی بےبس ہوجاؤ تو مجبوری ہے) جب انہوں نے ان سے عہد کرلیا تو (یعقوب ؑ نے) کہا کہ جو قول وقرار ہم کر رہے ہیں اس کا خدا ضامن ہے۔

(66) یعقوب ؑ نے ان سے فرمایا خیر ! محض ان باتوں پر میں اس وقت تک تمہارے ساتھ بنیامین کو نہیں بھیجوں گا جب تک کہ اللہ کی قسم کھا کر مجھے پختہ قول نہ دو گے کہ تم اس کو ضرور میرے پاس لے کر آؤ گے ہاں اگر کوئی تم پر آسمانی آفت نازل ہوجائے یا یہ کہ سماوی یا دنیاوی مصیبت میں گھر جاؤ تو مجبوری ہے، چناچہ جب وہ اللہ کی قسم کھا کر بنیامین کے واپس لانے کا اپنے باپ سے وعدہ کرچکے، تب حضرت یعقوب ؑ نے فرمایا ہماری ان باتوں کا اللہ گواہ ہے ،۔
Ayah 12:67

وَ قَالَ یٰبَنِیَّ لَا تَدْخُلُوْا مِنْۢ بَابٍ وَّاحِدٍ وَّ ادْخُلُوْا مِنْ اَبْوَابٍ مُّتَفَرِّقَةٍ١ؕ وَ مَاۤ اُغْنِیْ عَنْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ١ؕ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ١ۚ وَ عَلَیْهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ Open ayah 12:67 in the Quran reader

اور ہدایت کی کہ بیٹا ایک ہی دروازے سے داخل نہ ہونا بلکہ جدا جدا دروازوں سے داخل ہونا۔ اور میں خدا کی تقدیر تو تم سے روک نہیں سکتا۔ (بیشک) حکم اسی کا ہے۔ میں اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں۔ اور اہل توکل کو اسی پر بھروسا رکھنا چاہئے۔

(67) حضرت یعقوب ؑ نے ان سے فرمایا کہ سب کے سب ایک ہی دروازہ سے مت داخل ہونا، بلکہ الگ الگ دروازوں سے داخل ہونا تمہارے بارے میں قدرت کے فیصلے کو تو تم سے نہیں ٹال سکتا حکم تو بہرحال اسی کا چلتا ہے، اسی پر بھروسہ کرتا ہوں اور اپنے اور تمہارے معاملہ کو اسی کے سپرد کرتا ہوں اور اسی پر سب کو بھروسہ کرنا چاہیے یا کہ مومنین پر یہی واجب و ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ پر توکل کریں۔ اور حضرت یعقوب ؑ کو ان پر نظر بد کا خوف ہوا کیوں کہ یہ سب بھائی خوبصورت شخصیت والے اور خوبصورت چہروں والے تھے اسی وجہ سے اس چیز کا ان کے متعلق خدشہ ہوا۔
Ayah 12:68

وَ لَمَّا دَخَلُوْا مِنْ حَیْثُ اَمَرَهُمْ اَبُوْهُمْ١ؕ مَا كَانَ یُغْنِیْ عَنْهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ اِلَّا حَاجَةً فِیْ نَفْسِ یَعْقُوْبَ قَضٰىهَا١ؕ وَ اِنَّهٗ لَذُوْ عِلْمٍ لِّمَا عَلَّمْنٰهُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 12:68 in the Quran reader

اور جب وہ ان ان مقامات سے داخل ہوئے جہاں جہاں سے (داخل ہونے کیلئے) باپ نے ان سے کہا تھا تو وہ تدبیر خدا کے حکم کو ذرا بھی ٹال نہیں سکتی تھی۔ ہاں وہ یعقوب ؑ کے دل کی خواہش تھی جو انہوں نے پوری کی تھی۔ اور بیشک وہ صاحب علم تھے کیونکہ ہم نے ان کو علم سکھایا تھا لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

(68) چناچہ مصر پہنچ کر جس طرح کہ ان کے والد نے ان کو حکم دیا تھا اسی طرح داخل ہوئے اور اس تدبیر سے حضرت یعقوب ؑ کا ان سے حکم الہی کا ٹالنا مقصود نہیں تھا لیکن حضرت یعقوب ؑ کے دل میں اس تدبیر کے بارے میں ایک خیال آیا تھا جس کو انہوں نے اپنے بیٹوں پر ظاہر کردیا۔ اور حضرت یعقوب ؑ بیشک بڑے عالم (اور حدود شرعیہ کے) بڑے پاس رکھنے والے تھے کیوں کہ ہم نے ان کو احکام حدود قضا وقدر تمام باتوں کا حکم دیا تھا اور وہ بخوبی جانتے تھے کہ حکم تو صرف اللہ تعالیٰ ہی کا چلتا ہے مگر مصر والے نہ اس چیز کو جانتے تھے اور نہ اس کی تصدیق کرتے تھے۔
Ayah 12:69

وَ لَمَّا دَخَلُوْا عَلٰى یُوْسُفَ اٰوٰۤى اِلَیْهِ اَخَاهُ قَالَ اِنِّیْۤ اَنَا اَخُوْكَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 12:69 in the Quran reader

اور جب وہ لوگ یوسف کے پاس پہنچے تو یوسف ؑ نے اپنے حقیقی بھائی کو اپنے پاس جگہ دی اور کہا کہ میں تمہارا بھائی ہوں تو جو سلوک یہ (ہمارے ساتھ) کرتے رہے ہیں اس پر افسوس نہ کرنا۔

(69) چناچہ جب یہ سب حضرت یوسف ؑ کے پاس پہنچے تو حضرت یوسف ؑ نے اپنے اس سگے بھائی بنیامین کو اپنے ساتھ بٹھا لیا اور سب کو باہردروازہ پر روک دیا اور ان سے کہہ دیا کہ میں تیرا گم شدہ بھائی ہوں، یہ دوسرے تیسرے بھائی جو کچھ تیرے ساتھ بدسلوکی کرتے رہے ہیں اور برا بھلا کہتے رہے ہیں اس کا غم مت کرنا۔
Ayahs 12:70–71

فَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ جَعَلَ السِّقَایَةَ فِیْ رَحْلِ اَخِیْهِ ثُمَّ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌ اَیَّتُهَا الْعِیْرُ اِنَّكُمْ لَسٰرِقُوْنَ Open ayah 12:70 in the Quran reader

جب ان کا اسباب تیار کردیا تو اپنے بھائی کے شلیتے میں گلاس رکھ دیا پھر (جب وہ آبادی سے باہر نکل گئے) تو ایک پکارنے والے نے آواز دی کہ قافلے والو ! تم تو چور ہو۔

قَالُوْا وَ اَقْبَلُوْا عَلَیْهِمْ مَّا ذَا تَفْقِدُوْنَ Open ayah 12:71 in the Quran reader

وہ انکی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے کہ تمہاری کیا چیز کھو گئی ہے ؟

(70۔ 71) چناچہ ان لوگوں کا اناج تول کر تیار کردیا (اور بنیامین اور حضرت یوسف ؑ کے باہم مشورہ سے) وہ پیالہ جس میں حضرت یوسف ؑ پانی پیا کرتے تھے اور غلہ ماپا کرتے تھے، بنیامین کے سامان میں رکھ دیا پھر ان کو روانگی کا حکم دیا اور ان کے پیچھے حضرت یوسف ؑ نے اپنے ایک خادم کو بھیج دیا، اس نے پکارا کہ قافلہ والوں تم ضرور چور ہو تو سب بھائی تلاشی لینے والوں کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے تمہیں کس چیز کی تلاش ہے۔
Ayah 12:72

قَالُوْا نَفْقِدُ صُوَاعَ الْمَلِكِ وَ لِمَنْ جَآءَ بِهٖ حِمْلُ بَعِیْرٍ وَّ اَنَا بِهٖ زَعِیْمٌ Open ayah 12:72 in the Quran reader

وہ بولے کہ بادشاہ کے پانی پینے کا گلاس کھو گیا ہے اور جو شخص اس کو لے آئے اس کے لیے ایک بار شتر (انعام) اور میں اس کا ضامن ہوں۔

(72) وہ بولے ہم شاہی پیمانہ کی تلاش میں ہیں جس سے بادشاہ پانی پیتا اور اناج ماپ کردیتا ہے اور پیمانہ سونے کا تھا اور اس پکارنے والے نے کہا کہ بادشاہ نے یہ کام میرے ذمہ لگایا ہے کہ جو اس پیمانہ کو حاضر کرے اس کو ایک اونٹ کے برابر اناج ملے گا اور حضرت یوسف ؑ کا خادم کہنے لگا میں اس کے دلوانے کا ذمہ دار ہوں۔
Ayah 12:73

قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ عَلِمْتُمْ مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِی الْاَرْضِ وَ مَا كُنَّا سٰرِقِیْنَ Open ayah 12:73 in the Quran reader

وہ کہنے لگے کہ خدا کی قسم تم کو معلوم ہے کہ ہم (اس) ملک میں اس لئے نہیں آئے کہ خرابی کریں اور نہ ہم چوری کیا کرتے ہیں۔

(73) یہ لوگ بولے مصر والو اللہ کی قسم تمہیں اچھی طرح پتا ہے کہ ہم مصر میں چوری کرنے اور لوگوں کو نقصان پہنچانے کے لیے نہیں آئے ہیں اور جس چیز کی تم تلاش کررہے ہو ہم نے اسے نہیں چرایا۔
Ayahs 12:74–75

قَالُوْا فَمَا جَزَآؤُهٗۤ اِنْ كُنْتُمْ كٰذِبِیْنَ Open ayah 12:74 in the Quran reader

بولے کہ اگر تم جھوٹے نکلے (یعنی چوری ثابت ہوئی) تو اس کی سزا کیا ؟

قَالُوْا جَزَآؤُهٗ مَنْ وُّجِدَ فِیْ رَحْلِهٖ فَهُوَ جَزَآؤُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 12:75 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ اس کی سزا یہ کہ جس کے شلیتے میں وہ دستیاب ہو وہی اس کا بدل قرار دیا جائے۔ ہم ظالموں کو یہی سزا دیا کرتے ہیں۔

(74۔ 75) حضرت یوسف ؑ کے نوکروں نے کہا کہ اگر تم جھوٹے نکلے تو پھر چور کی کیا سزا ہے، ان لوگوں نے جواب دیا کہ جس کے مال میں تمہاری گم شدہ چیز ہے وہی چور ہے اور اس کے لیے چوری کی سزا ہے (یعنی تم اسے اپنا غلام بنالینا) ہم لوگ اپنی سرزمین میں چوروں کو ایسی ہی سزا دیا کرتے تھے۔
Ayah 12:76

فَبَدَاَ بِاَوْعِیَتِهِمْ قَبْلَ وِعَآءِ اَخِیْهِ ثُمَّ اسْتَخْرَجَهَا مِنْ وِّعَآءِ اَخِیْهِ١ؕ كَذٰلِكَ كِدْنَا لِیُوْسُفَ١ؕ مَا كَانَ لِیَاْخُذَ اَخَاهُ فِیْ دِیْنِ الْمَلِكِ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١ؕ نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَآءُ١ؕ وَ فَوْقَ كُلِّ ذِیْ عِلْمٍ عَلِیْمٌ Open ayah 12:76 in the Quran reader

پھر (یوسف ؑ نے) بھائی کے شیلتے سے پہلے ان کے شلیتوں کو دیکھنا شروع کیا۔ پھر اپنے بھائی کے شلیتے میں سے اس کو نکال لیا۔ اس طرح ہم نے یوسف ؑ کے لئے تدبیر کی، (ورنہ) بادشاہ کے قانون کے مطابق وہ مشیت خدا کے سوا اپنے بھائی کو لے نہیں سکتے تھے۔ ہم جس کے لیے چاہتے ہیں درجے بلند کرتے ہیں۔ اور ہر علم والے سے دوسرا علم والا بڑھ کر ہے۔

(76) چنانہ حضرت یوسف ؑ کے نوکروں نے بنیامین کے تھیلے سے پہلے دوسرے بھائیوں کے تھیلوں کی تلاشی لی ان میں وہ پیمانہ نہیں ملا پھر آخرکار انہوں نے اس برتن کو بنیامین کے تھیلے سے برآمد کیا اس تلاش کرنے والے نے بنیامین کو دعا دی کہ اللہ تعالیٰ تم پر آسانی فرمائے جیسا کہ تم نے مجھ پر آسانی کی۔ ہم نے حضرت یوسف ؑ کی خاطر اس طرح تدبیر فرمائی اور ہم نے یوسف ؑ کو علم و حکمت، فہم و نبوت اور بادشاہت کے ذریعے عزت و کرامت عطا فرمائی حضرت یوسف ؑ اپنے بھائی کو بادشاہ مصر کے قانون سے نہیں لے سکتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی مشیت یہی تھی کہ حضرت یوسف ؑ اپنے بھائی کو بادشاہ کے قانون سے نہ لیں کیوں کہ بادشاہ کے قانون کے مطابق چور کی سزا تادیب اور قید تھی یا یہ کہ ہاتھ کاٹنا اور قید تھی۔ اور اس کا یہ بھی مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اسی طرح دلوانا منظور تھا کیوں کہ اگر حضرت یوسف ؑ کو اس بات کا علم ہوجاتا کہ اللہ کی مرضی شاہی قانون ہی کے ذریعے سے لینے کی ہے تو پھر وہ اسی طرح اپنے بھائی کو لیتے ہم جسے چاہتے ہیں فضیلت میں خاص درجوں تک بڑھا دیتے ہیں جیسا کہ ہم نے دنیا میں بھی بڑھایا اور ہر ایک علم والے سے بڑھ کر دوسرا علم والا ہے یہاں تک کہ سلسلہ اللہ تعالیٰ تک پہنچ جاتا ہے وہ سب سے بڑھ کر علم والا ہے اور اس سے بڑھ کر اور کوئی نہیں۔
Ayah 12:77

قَالُوْۤا اِنْ یَّسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ اَخٌ لَّهٗ مِنْ قَبْلُ١ۚ فَاَسَرَّهَا یُوْسُفُ فِیْ نَفْسِهٖ وَ لَمْ یُبْدِهَا لَهُمْ١ۚ قَالَ اَنْتُمْ شَرٌّ مَّكَانًا١ۚ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا تَصِفُوْنَ Open ayah 12:77 in the Quran reader

(برادران یوسف ؑ نے) کہا کہ اگر اس نے چوری کی ہو تو (کچھ عجب نہیں کہ) اس کے ایک بھائی نے بھی پہلے چوری کی تھی۔ یوسف ؑ نے اس بات کو اپنے دل میں مخفی رکھا اور ان پر ظاہر نہ ہونے دیا (اور) کہا کہ تم بڑے بدقماش ہو۔ اور جو تم بیان کرتے ہو خدا اسے خوب جانتا ہے۔

(77) حضرت یوسف ؑ کے بھائی کہنے لگے کہ اگر بنیامین نے بادشاہ کا پیمانہ چرایا ہے تو اس کے بھائی نے بھی اس سے پہلے چوری کی تھی (بت کو چھپا کر توڑ دیا تھا تاکہ بت پرستی نہ ہو) حضرت یوسف ؑ نے اس بات کے جواب کو اپنے دل میں چھپا کر رکھا اور اس کو ان کے سامنے ظاہر نہیں کیا اور دل میں کہا کہ تم تو اس چوری کے درجہ میں یوسف ؑ سے بھی زیادہ برا کام کرچکے ہو اور حضرت یوسف ؑ کی طرف تم جس (بےبنیاد) بات کو منسوب کررہے ہو اس کی حقیقت اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ ہم چور نہیں۔
Ayah 12:78

قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الْعَزِیْزُ اِنَّ لَهٗۤ اَبًا شَیْخًا كَبِیْرًا فَخُذْ اَحَدَنَا مَكَانَهٗ١ۚ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:78 in the Quran reader

وہ کہنے لگے کہ اے عزیز اس کے والد بہت بوڑھے ہیں۔ اور اس سے بہت محبت رکھتے ہیں تو اس کو چھوڑ دیجئے اس کی جگہ ہم میں سے کسی کو رکھ لیجئے ہم دیکھتے ہیں کہ آپ احسان کرنے والے ہیں،

(78) جب بھائیوں نے دیکھا کہ انہوں نے بنیامین کو روک لیا ہے تو خوشامد کرنے لگے کہ ان کا بوڑھا باپ ہے اگر بنیامین کو ہم لے جائیں گے تو وہ خوش ہوگا سو اس کی جگہ آپ ہم میں سے ایک کو بطور ضمانت رکھ لیجئے اگر آپ ایسا کرلیں تو ہم پر آپ کا بڑا احسان ہوگا۔
Ayah 12:79

قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ اَنْ نَّاْخُذَ اِلَّا مَنْ وَّجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهٗۤ١ۙ اِنَّاۤ اِذًا لَّظٰلِمُوْنَ۠ Open ayah 12:79 in the Quran reader

(یوسف نے) کہا کہ خدا پناہ میں رکھے کہ جس شخص کے پاس ہم نے اپنی چیز پائی ہے اسکے سوا کسی اور کو پکڑ لیں۔ ایسا کریں تو ہم (بڑے) بےانصاف ہیں۔

(79) حضرت یوسف ؑ نے فرمایا نعوذ باللہ ہم گناہ گار کے بجائے بےگناہ کو روک لیں۔
Ayah 12:80

فَلَمَّا اسْتَیْئَسُوْا مِنْهُ خَلَصُوْا نَجِیًّا١ؕ قَالَ كَبِیْرُهُمْ اَلَمْ تَعْلَمُوْۤا اَنَّ اَبَاكُمْ قَدْ اَخَذَ عَلَیْكُمْ مَّوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ وَ مِنْ قَبْلُ مَا فَرَّطْتُّمْ فِیْ یُوْسُفَ١ۚ فَلَنْ اَبْرَحَ الْاَرْضَ حَتّٰى یَاْذَنَ لِیْۤ اَبِیْۤ اَوْ یَحْكُمَ اللّٰهُ لِیْ١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ Open ayah 12:80 in the Quran reader

جب وہ اس سے ناامید ہوگئے تو الگ ہو کر صلاح کرنے لگے۔ سب سے بڑے نے کہا کہ کیا تم نہیں جانتے کہ تمہارے والد نے تم سے خدا کا عہد لیا ہے ؟ اور اس سے پہلے بھی تم یوسف کے بارے میں قصور کرچکے ہو۔ تو جب تک والد صاحب مجھے حکم نہ دیں میں تو اس جگہ سے ہلنے کا نہیں یا خدا میرے لئے کوئی اور تدبیر کرے۔ اور وہ سب سے بہتر کرنیوالا ہے۔

(80) چناچہ ان کو حضرت یوسف ؑ سے امید ہی نہ رہی تو اس جگہ سے ہٹ کر سب باہم مشورہ کرنے لگے چناچہ جو ان سب میں سب سے زیادہ عقل مند تھا اور جس کا نام یہودا تھا کہنے لگا بھائیو تم جانتے نہیں کہ تمہارے والد نے بنیامین کے واپس لانے کے بارے میں تم سے پختہ عہد لیا تھا اور بنیامین سے قبل یوسف ؑ کے بارے میں تم اپنے باپ کے عہد و میثاق کی کس قدر کوتاہی کرچکے ہو سو میں تو سرزمین مصر سے ٹلتا نہیں یہاں تک کہ میرا باپ مجھ کو حاضری کی اجازت نہ دے یا جب تک میرا باپ ان سے مجھے قتال کی اجازت نہ دے یا اللہ تعالیٰ میرے بھائی کی واپسی کا سبب نہ پیدا کر دے اور اللہ اس مشکل کو خوب آسان کرنے والا ہے۔