10. Surah Yunus

يونسJonas · 109 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayahs 10:80–82

فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰۤى اَلْقُوْا مَاۤ اَنْتُمْ مُّلْقُوْنَ Open ayah 10:80 in the Quran reader

جب جادوگر آئے تو موسیٰ نے ان سے کہا کہ جو تم کو ڈالنا ہے ڈالو۔

فَلَمَّاۤ اَلْقَوْا قَالَ مُوْسٰى مَا جِئْتُمْ بِهِ١ۙ السِّحْرُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَیُبْطِلُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 10:81 in the Quran reader

جب انہوں نے (اپنی رسیوں اور لاٹھیوں کو) ڈالا تو موسیٰ نے کہا جو چیزیں تم (بناکر) لائے ہو جادو ہے خدا اس کو ابھی نیست و نابود کر دے گا۔ خدا شریروں کے کام سنوارا نہیں کرتا۔

وَ یُحِقُّ اللّٰهُ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُوْنَ۠ Open ayah 10:82 in the Quran reader

اور خدا اپنے حکم سے سچ کو سچ ہی کر دے گا اگرچہ گنہگار برا ہی مانیں۔

(80۔ 81۔ 82) جب وہ جادوگر آئے تو حضرت موسیٰ ؑ نے ان سے فرمایا کہ لکڑیاں اور رسیاں جو کچھ سامان جادو تمہیں ڈالنا ہو، ڈال دو لہذا جب انہوں نے اپنی لکڑیاں اور رسیاں ڈالیں تب حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا جادو یہ ہے۔ جو کچھ تم نے ڈالا ہے۔ حق کی طاقت اس کو ابھی درہم برہم کردے گی کیوں کہ اللہ تعالیٰ جادوگروں کا کام بننے نہیں دیتا اور اللہ تعالیٰ دین صحیح کو اپنے وعدوں کے موافق ثابت کردیتا ہے، خواہ مشرکین کو یہ چیز کتنی ہی ناگوار اور بری لگے۔
Ayah 10:83

فَمَاۤ اٰمَنَ لِمُوْسٰۤى اِلَّا ذُرِّیَّةٌ مِّنْ قَوْمِهٖ عَلٰى خَوْفٍ مِّنْ فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهِمْ اَنْ یَّفْتِنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ فِرْعَوْنَ لَعَالٍ فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ اِنَّهٗ لَمِنَ الْمُسْرِفِیْنَ Open ayah 10:83 in the Quran reader

تو موسیٰ پر کوئی ایمان نہ لایا مگر اس کی قوم میں سے چند لڑکے (اور وہ بھی) فرعون اور اس کے اہل دربار سے ڈرتے ڈرتے کہ کہیں وہ ان کو آفت میں نہ پھنسا دے اور فرعون ملک میں متکبر اور متغلب اور (کبر و کفر میں) حد سے بڑھا ہوا تھا۔

(83) حضرت موسیٰ ؑ جس چیز کو لے کر آئے تھے، اس پر فرعون کی قوم میں تھوڑے آدمی جن کے آباء و اجداد قبطی اور ان کی مائیں بنی اسرائیل سے تھیں، موسیٰ ؑ پر ایمان لائے، وہ بھی فرعون سے اور اپنے حکام سے ڈرے رہے کہ کہیں ان کو قتل نہ کردے اور واقعی فرعون دین موسوی کا سخت مخالف اور مشرکوں کا دوست اور ساتھی تھا۔
Ayah 10:84

وَ قَالَ مُوْسٰى یٰقَوْمِ اِنْ كُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللّٰهِ فَعَلَیْهِ تَوَكَّلُوْۤا اِنْ كُنْتُمْ مُّسْلِمِیْنَ Open ayah 10:84 in the Quran reader

اور موسیٰ نے کہا کہ اے قوم اگر تم خدا پر ایمان لائے ہو تو اگر (دل سے) فرمانبردار ہو تو اسی پر بھروسا رکھو۔

(84) حضرت موسیٰ ؑ نے یہ حالت دیکھ کر فرمایا کہ اسی پر بھروسہ کرو جب کہ تم مومن ہو۔
Ayahs 10:85–86

فَقَالُوْا عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْنَا١ۚ رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 10:85 in the Quran reader

تو وہ بولے کہ ہم خدا ہی پر بھروسا رکھتے ہیں۔ اے ہمارے پروردگار ! ہم کو ظالم لوگوں کے ہاتھ سے آزمائش میں نہ ڈال۔

وَ نَجِّنَا بِرَحْمَتِكَ مِنَ الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 10:86 in the Quran reader

اور اپنی رحمت سے قوم کفار سے ہمیں نجات بخش۔

(85۔ 86) وہ کہنے لگے ہم نے اللہ پر توکل کیا کہ اے ہمارے پروردگار ہم پر ان مشرکین کو مسلط نہ فرما کہ پھر وہ ہمیں باطل پر اور اپنے کو حق پر جانیں اور ہمیں فرعون اور اس کی قوم سے نجات عطا فرما ،
Ayahs 10:87–88

وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰى وَ اَخِیْهِ اَنْ تَبَوَّاٰ لِقَوْمِكُمَا بِمِصْرَ بُیُوْتًا وَّ اجْعَلُوْا بُیُوْتَكُمْ قِبْلَةً وَّ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:87 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی کی طرف وحی بھیجی کہ اپنے لوگوں کے لئے مصر میں گھر بناؤ اور اپنے گھروں کو قبلہ (یعنی مسجدیں) ٹھیراؤ اور نماز پڑھو۔ اور مومنوں کو خوشخبری سنادو۔

وَ قَالَ مُوْسٰى رَبَّنَاۤ اِنَّكَ اٰتَیْتَ فِرْعَوْنَ وَ مَلَاَهٗ زِیْنَةً وَّ اَمْوَالًا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۙ رَبَّنَا لِیُضِلُّوْا عَنْ سَبِیْلِكَ١ۚ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلٰۤى اَمْوَالِهِمْ وَ اشْدُدْ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْا حَتّٰى یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ Open ayah 10:88 in the Quran reader

اور موسیٰ نے کہا اے ہمارے پروردگار ! تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو دنیا کی زندگی میں (بہت سا) ساز وبرگ اور مال وزر دے رکھا ہے۔ اے پروردگار ان کا مآل یہ ہے کہ تیرے راستے سے گمراہ کردیں۔ اے پروردگار ! ان کے مال کو برباد کر دے اور ان کے دلوں کو سخت کر دے کہ ایمان نہ لائیں جب تک عذاب الیم نہ دیکھ لیں۔

(87۔ 88) اور ہم نے حضرت موسیٰ ؑ وہارون ؑ کے پاس وحی بھیجی کہ اپنے گھروں کے اندر مسجدیں بنا لو اور اپنی مسجدوں کو قبلہ کی طرف کرو اور پانچوں نمازوں کی پابندی کرو اور آپ مسلمانوں کو مدد اور مصیبت سے نجات اور جنت کی بشارت دے دی حضرت موسیٰ ؑ نے (دعا میں عرض کیا) اے ہمارے پروردگار آپ نے فرعون کو اور اس کے سرداروں کو سامان تجمل اور طرح طرح کے مال، اے ہمارے پروردگار اسی واسطے دیے ہیں کہ وہ اس مال سے آپ کے بندوں کو آپ کی اطاعت اور آپ کے دین سے گمراہ کردیں، سو ان کے مالوں کو نیست ونابود کردیجیے اور ان کے دلوں کو سخت کردیجیے تاکہ یہ ایمان نہ لانے پائیں تاوقتیکہ یہ غرق ہونے کے عذاب کو نہ دیکھ لیں۔
Ayah 10:89

قَالَ قَدْ اُجِیْبَتْ دَّعْوَتُكُمَا فَاسْتَقِیْمَا وَ لَا تَتَّبِعٰٓنِّ سَبِیْلَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 10:89 in the Quran reader

(خدا نے) فرمایا کہ تمہاری دعا قبول کرلی گئی تو تم ثابت قدم رہنا اور بےعقلوں کے راستے نہ چلنا۔

(89) اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ وہارون ؑ سے فرمایا کہ تم دونوں کی دعا قبول کرلی گئی سو تم ایمان، اطاعت خداوندی اور تیلغ رسالت پر قائم رہو اور ان لوگوں کے طریقہ کو مت اختیار کرنا، جو توحید خداوندی کو نہیں سمجھتے اور ان اس کی تصدیق کرتے یعنی فرعون اور اس کی قوم۔
Ayah 10:90

وَ جٰوَزْنَا بِبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْبَحْرَ فَاَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ وَ جُنُوْدُهٗ بَغْیًا وَّ عَدْوًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَدْرَكَهُ الْغَرَقُ١ۙ قَالَ اٰمَنْتُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا الَّذِیْۤ اٰمَنَتْ بِهٖ بَنُوْۤا اِسْرَآءِیْلَ وَ اَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 10:90 in the Quran reader

اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا سے پار کردیا تو فرعون اور اس کے لشکر نے سرکشی اور تعدی سے ان کا تعاقب کیا۔ یہاں تک کہ جب اس کو غرق (کے عذاب) نے آپکڑا تو کہنے لگا میں ایمان لایا کہ جس (خدا) پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں فرمانبرداروں میں ہوں۔

(90) اور جب ہم نے بنی اسرائیل کو اس دریا سے پار کردیا تو ان کے پیچھے پیچھے فرعون اپنے لشکر کے ساتھ ظلم اور ان کے قتل کے ارادہ سے چلا لیکن وہ دریا سے پار نہ ہوسکا یہاں تک کہ جب ڈوبنے لگا تو کہنے لگا کہ میں اب ایمان لاتا ہوں کہ بجز اس کے جس پر موسیٰ ؑ اور ان کی قوم ایمان لائی، کوئی معبود نہیں اور میں مسلمانوں کے دین میں داخل ہوتا ہوں۔
Ayah 10:91

آٰلْئٰنَ وَ قَدْ عَصَیْتَ قَبْلُ وَ كُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 10:91 in the Quran reader

(جواب ملا) کہ اب (ایمان لاتا ہے) حالانکہ تو پہلے نافرمانی کرتا رہا اور مفسد بنا رہا ؟

(91) تب حضرت جبریل امین ؑ نے اس سے فرمایا اب غرق ہونے کے وقت ایمان لاتا ہے (جب کہ اس کا اعتبار نہیں) اور غرق ہونے سے پہلے تو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتا رہا اور ارض مصر میں قتل وشرک اور غیر اللہ کی طرف لوگوں کو دعوت دے کر فساد پھیلاتا رہا۔
Ayah 10:92

فَالْیَوْمَ نُنَجِّیْكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُوْنَ لِمَنْ خَلْفَكَ اٰیَةً١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ عَنْ اٰیٰتِنَا لَغٰفِلُوْنَ۠ Open ayah 10:92 in the Quran reader

تو آج ہم تیرے بدن کو (دریا سے) نکال لیں گے تاکہ تو پچھلوں کیلئے عبرت ہو۔ اور بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے بیخبر ہیں۔

(92) سو آج ہم تیری لاش کو تیری مرصع زر کے ساتھ زمین پر پھینک کر نجات دین گے تاکہ بعد میں آنے والے کفار کے لیے نشان عبرت ہو کہ پھر وہ تیری باتوں پر عمل نہ کریں اور قطعی طور پر یہ جان لیں کہ تو خدا نہیں ہے اور بہت سے کفار ہماری کتاب اور ہمارے رسول کے منکر ہیں۔
Ayah 10:93

وَ لَقَدْ بَوَّاْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ مُبَوَّاَ صِدْقٍ وَّ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ١ۚ فَمَا اخْتَلَفُوْا حَتّٰى جَآءَهُمُ الْعِلْمُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 10:93 in the Quran reader

اور ہم نے بنی اسرائیل کو رہنے کو عمدہ جگہ دی اور کھانے کو پاکیزہ چیزیں عطا کیں لیکن وہ باوجود علم حاصل ہونے کے اختلاف کرتے رہے۔ بیشک جن باتوں میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں تمہارا پروردگار قیامت کے دن ان میں ان باتوں کا فیصلہ کر دے گا۔

(93) اور ہم نے بنی اسرائیل کو فرعون کی ہلاکت کے بعد عمدہ سرزمین یعنی اردن اور فلسطین میں رہائش دی اور ہم نے من وسلوی اور غنیمتیں ان کو کھانے کا عطا کیں۔ اور یہودی و نصاری نے رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم کے بارے میں اختلاف نہیں کیا یہاں تک کہ ان کے پاس ان کی کتاب میں رسول اللہ ﷺ کی نعت وصفت کے بارے میں علم پہنچ گیا۔ محمد ﷺ آپ کا پروردگار قیامت کے دن یہود و نصاری میں اس دین کے بارے میں فیصلہ کردے گا جس میں یہ اختلاف کیا کرتے تھے۔
Ayah 10:94

فَاِنْ كُنْتَ فِیْ شَكٍّ مِّمَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ فَسْئَلِ الَّذِیْنَ یَقْرَءُوْنَ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكَ١ۚ لَقَدْ جَآءَكَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَۙ Open ayah 10:94 in the Quran reader

اگر تم کو اس (کتاب کے) بارے میں جو ہم نے تم پر نازل کی ہے کچھ شک ہو تو جو لوگ تم سے پہلے کی (اتری ہوئی) کتابیں پڑھ تے ہیں ان سے پوچھ لو۔ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس حق آچکا ہے تو تم ہرگز شک کرنے والوں میں نہ ہونا۔

(94) اے محمد ﷺ اگر بالفرض آپ اس کتاب یعنی قرآن کریم کے بارے میں کسی شک میں ہوں جس کو ہم نے بذریعہ جبریل امین آپ پر اتارا ہے تو آپ توریت کے پڑھنے والوں یعنی حضرت عبداللہ بن سلام ؓ اور ان کے ساتھیوں سے پوچھ لیجئے، چناچہ رسول اکرم ﷺ کو تو قرآن کریم کے کتاب خداوندی ہونے میں کسی قسم کا ذرہ برابر بھی شک نہیں تھا، اس لیے آپ نے کسی سے نہیں پوچھا بلکہ اللہ تعالیٰ کا مقصود اس کتاب خصوصی سے ذات اقدس ؓ نہیں ہیں بلکہ مراد آپ کی قوم ہے۔
Ayah 10:95

وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَتَكُوْنَ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 10:95 in the Quran reader

اور نہ ان لوگوں میں ہونا جو خدا کی آیتوں کی تکذیب کرتے ہیں نہیں تو نقصان اٹھاؤ گے۔

(95) اے محمد ﷺ بیشک آپ کے رب کی طرف سے جبریل امین قرآن کریم آپ پر لے کر آئے ہیں جس میں گزشتہ اقوام کی بھی باتیں ہیں، سو آپ ہرگز شک کرنے والوں میں سے نہ ہوں (خطاب خاص ہے مراد عام لوگ ہیں) اور نہ ان لوگوں میں سے ہوں، جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی کتاب اور اس کے رسول کو جھٹلایا، کہیں نعوذ باللہ آپ اس سے اپنی ذات کو نقصان پہنچا بیٹھیں۔
Ayah 10:96

اِنَّ الَّذِیْنَ حَقَّتْ عَلَیْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا یُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 10:96 in the Quran reader

جن لوگوں کے بارے میں خدا کا حکم (عذاب) قرار پا چکا ہے وہ ایمان نہیں لانے کے۔

(96) بیشک جن لوگوں کے متعلق میں علم ازلی میں عذاب ثابت ہوچکا ہے وہ ہرگز ایمان نہیں لائیں گے۔
Ayah 10:97

وَ لَوْ جَآءَتْهُمْ كُلُّ اٰیَةٍ حَتّٰى یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ Open ayah 10:97 in the Quran reader

جب تک عذاب الیم نہ دیکھ لیں خواہ ان کے پاس ہر (طرح کی) نشانی آجائے۔

(97) خواہ ان کے پاس تمام دلائل پہنچ جائیں جن کا وہ آپ سے مطالبہ کرتے ہیں، پھر بھی وہ ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ بدر، احد اور احزاب کے واقعات نہ دیکھ لیں۔
Ayah 10:98

فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَ١ؕ لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 10:98 in the Quran reader

تو کوئی بستی ایسی نہ ہوئی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان اسے نفع دیتا۔ ہاں یونس کی قوم کہ جب ایمان لائی تو ہم نے دنیا کی زندگی میں ان سے ذلت کا عذاب دور کردیا اور ایک مدت تک (فوائد دنیاوی سے) ان کو بہرہ مند رکھا۔

(98) چناچہ جن بستیوں والوں پر عذاب نازل ہوچکا ہے، نزول عذاب کے وقت ان میں سے کوئی بھی ایمان نہیں لایا کہ ایمان لانا اس کو نفع بخش ہوتا مگر نزول عذاب کے وقت کسی نے بھی بذریعہ ایمان نفع حاصل نہیں کیا، ہاں مگر حضرت یونس ؑ کی قوم کہ ان کا ایمان لانا انکو فائدہ مند ہوا جب وہ ایمان لائے تو اس سخت ترین عذاب کو ہم نے دنیاوی زندگی میں ان سے ٹال دیا اور مرنے تک بغیر عذاب کے ان کو رہنے دیا۔
Ayah 10:99

وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَاٰمَنَ مَنْ فِی الْاَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِیْعًا١ؕ اَفَاَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتّٰى یَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:99 in the Quran reader

اور اگر تمہارا پروردگار چاہتا تو جتنے لوگ زمین پر ہیں سب کے سب ایمان لے آتے۔ تو کیا تم لوگوں پر زبردستی کرنا چاہتے ہو کہ وہ مومن ہوجائیں ؟

(99) اے محمد ﷺ اگر آپ کے پروردگار کی مرضی ہوتی تو تمام کفار ایمان لے آتے لہذا جب یہ بات ہے تو کیا آپ لوگوں کو مجبور کرسکتے ہیں کہ وہ ایمان لائیں۔
Ayah 10:100

وَ مَا كَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تُؤْمِنَ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ یَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِیْنَ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 10:100 in the Quran reader

حالانکہ کسی شخص کو قدرت نہیں کہ خدا کے حکم بغیر ایمان لائے۔ اور جو لوگ بےعقل ہیں ان پر وہ (کفر وذلت کی) نجاست ڈالتا ہے۔

(100) حالانکہ کہ کسی کافر کا ایمان لانا بغیر مشیت خداوندی اور اس کی توفیق کے ممکن نہیں اور اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے دلوں میں جو توحید خداوندی کو نہیں سمجھتے، کفر اور تکذیب کی گندگی کو بھردیتا ہے۔ یہ آیت ابوطالب کے بارے میں اتری ہے رسول اکرم ﷺ ان کے ایمان لانے کے متمنی اور خواہش مند تھے مگر مشیت خداوندی ان کے ایمان لانے کے بارے میں نہ ہوئی۔
Ayah 10:101

قُلِ انْظُرُوْا مَا ذَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا تُغْنِی الْاٰیٰتُ وَ النُّذُرُ عَنْ قَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 10:101 in the Quran reader

(ان کفار سے) کہو کہ دیکھو تو آسمانوں اور زمین میں کیا کیا کچھ ہے۔ مگر جو لوگ ایمان نہیں رکھتے ان کے نشانیاں اور ڈراوے کچھ کام نہیں آتے۔

(101) اے محمد ﷺ آپ ان سے کہہ دیجیے کہ تم چاند، سورج، اور ستاروں کو دیکھو اور غور کرو کہ کیا کیا چیزیں زمین میں ہیں درخت، جانور، پہاڑ، دریا ان میں غور وفکر کرنے سے تمہارے لیے توحید پر دلیل عقلی قائم ہوگی اور علم ازلی میں جو لوگ ایمان لانے والے نہیں ان کو رسولوں کی دھمکیاں اور دلائل کچھ فائدہ نہیں دے سکتے۔
Ayah 10:102

فَهَلْ یَنْتَظِرُوْنَ اِلَّا مِثْلَ اَیَّامِ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ قُلْ فَانْتَظِرُوْۤا اِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ Open ayah 10:102 in the Quran reader

سو جیسے (برے) دن ان سے پہلے لوگوں پر گزر چکے ہیں۔ اسی طرح کے (دنوں کے) یہ منتظر ہیں۔ کہہ دو کہ تم بھی انتظار کرو۔ میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں۔

(102) تو کیا ان کے لیے اور کوئی نشانی باقی رہ گئی ہے جس کی بنا پر یہ ان کفار جیسے عذاب کا انتظار کر رہے ہیں جو ان سے پہلے گزرے ہیں۔ اے محمد ﷺ آپ ان سے کہہ دیجیے کہ تم بھی نزول عذاب اور میری ہلاکت کے منتظر رہو میں بھی تمہارے ساتھ نزول عذاب اور تمہاری ہلاکت کا منتظر ہوں۔
Ayah 10:103

ثُمَّ نُنَجِّیْ رُسُلَنَا وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كَذٰلِكَ١ۚ حَقًّا عَلَیْنَا نُنْجِ الْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 10:103 in the Quran reader

اور ہم اپنے پیغمبروں کو اور مومنوں کو نجات دیتے رہے ہیں۔ اسی طرح ہمارا ذمہ ہے کہ مسلمانوں کو نجات دیں۔

(103) پھر ہم ان قوموں کو ہلاک کرنے کے بعد اپنے رسولوں کو اور ان لوگوں کو جو ہمارے رسولوں پر ایمان لائے بچالیتے ہیں ہم اسی طرح رسولوں کے ساتھ سب ایمان والوں کو نجات دیا کرتے ہیں وہ ہمارے ذمہ ہے۔
Ayah 10:104

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْ دِیْنِیْ فَلَاۤ اَعْبُدُ الَّذِیْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لٰكِنْ اَعْبُدُ اللّٰهَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰىكُمْ١ۖۚ وَ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 10:104 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ کہہ دو کہ لوگو ! اگر تم کو میرے دین میں کسی طرح کا شک ہو تو (سن رکھو کہ) جن لوگوں کی تم خدا کے سوا عبادت کرتے ہو میں ان کی عبادت نہیں کرتا۔ بلکہ میں خدا کی عبادت کرتا ہوں۔ جو تمہاری روحیں قبض کرلیتا ہے اور مجھ کو یہی حکم ہوا ہے کہ ایمان لانے والوں میں ہوں ؟

(104) اے محمد ﷺ آپ کفار مکہ سے کہہ دیجیے کہ اگر تمہیں دین اسلام کے بارے میں شک ہے تو میں ان معبودوں کی عبادت نہیں کرتا، جن بتوں کی تم اللہ کی بجائے عبادت کرتے ہو لیکن ہاں اس معبود کی عبادت کرتا ہوں جو تمہاری ارواح کو قبض کرتا ہے اور پھر مرنے کے بعد وہ تمہیں دوبارہ زندہ کرے گا اور مجھے یہ حکم ہوا ہے کہ میں مومن لوگوں کے ساتھ ان کے دین پر ہوں۔
Ayah 10:105

وَ اَنْ اَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفًا١ۚ وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 10:105 in the Quran reader

اور یہ کہ (اے محمد ﷺ سب سے) یکسو ہو کر دین (اسلام) کی پیروی کئے جاؤ۔ اور مشرکوں میں ہرگز نہ ہونا۔

(105) اور مجھے اس چیز کا حکم ہوا ہے کہ مسلمان ہونے کی حالت میں اپنے دین اور ملت کو خالص اللہ تعالیٰ ہی کے لیے کروں اور یہ حکم صادر ہوا ہے کہ کبھی مشرکین کے ساتھ انکے دین کو اختیار نہ کروں۔
Ayah 10:106

وَ لَا تَدْعُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُكَ وَ لَا یَضُرُّكَ١ۚ فَاِنْ فَعَلْتَ فَاِنَّكَ اِذًا مِّنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 10:106 in the Quran reader

اور خدا کو چھوڑ کر ایسی چیز کو نہ پکارنا جو نہ تمہارا کچھ بھلا کرسکے اور نہ کچھ بگاڑ سکے۔ اگر ایسا کرو گے تو ظالموں میں ہوجاؤ گے۔

(106) اور یہ حکم ہوا ہے کہ اللہ کو چھوڑ کر ایسی چیز کی عبادت نہ کروں کہ جو تجھ کو نہ عبادت کی حالت میں کوئی نفع دنیوی واخروی پہنچا سکے اور نہ ترک عبادت کی حالت میں کوئی دنیاوی واخروی نقصان پہنچا سکے پھر اگر بالفرض ایسا کیا تو تم اپنے آپ کو نقصان پہنچانے والوں میں سے ہوجاؤ گے۔
Ayah 10:107

وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهٗۤ اِلَّا هُوَ١ۚ وَ اِنْ یُّرِدْكَ بِخَیْرٍ فَلَا رَآدَّ لِفَضْلِهٖ١ؕ یُصِیْبُ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 10:107 in the Quran reader

اور اگر خدا تم کو کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کے سوا اس کا کوئی دور کرنے والا نہیں۔ اور اگر تم سے بھلائی کرنی چاہے تو اس کے فضل کو کوئی روکنے والا نہیں۔ اور اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے فائدہ پہنچاتا ہے اور وہ بخشنے والا مہربان ہے۔

(107) اور اگر اللہ تعالیٰ تمہیں کوئی تکلیف یا خلاف مرضی کوئی چیز پہنچا دے تو ماسوا اس کی ذات کے اور کوئی تکلیف کو دور کرنے والا نہیں اور اگر وہ تمہیں کوئی نعمت اور راحت پہنچانا چاہے تو اس کے فضل کو کوئی روکنے والا نہیں۔ وہ اپنے فضل سے اپنے بندوں میں جو اس فضل کا اہل ہو جس کو چاہیں نوازیں اور جو توجہ کرے اس کی مغفرت فرمانے والے ہیں اور جو توبہ کی حالت میں فوت ہوجائے اس پر رحم کرنے والے ہیں۔
Ayah 10:108

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ١ۚ فَمَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا یَهْتَدِیْ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْهَا١ۚ وَ مَاۤ اَنَا عَلَیْكُمْ بِوَكِیْلٍؕ Open ayah 10:108 in the Quran reader

کہہ دو کہ لوگو ! تمہارے پروردگار کے ہاں سے تمہارے پاس حق آچکا ہے۔ تو جو کوئی ہدایت حاصل کرتا ہے تو ہدایت سے اپنے ہی حق میں بھلا کرتا ہے اور جو گمراہی اختیار کرتا ہے تو گمراہی سے اپنا ہی نقصان کرتا ہے اور میں تمہارا وکیل نہیں ہوں۔

(108) آپ یہ بھی فرمادیجیے کہ اے اہل مکہ کتاب الہی اور رسول تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس پہنچ چکا ہے سو جو کتاب اور رسول کے ذریعے راہ راست پر آجائے گا اس کا ثواب اسی کو ملے گا اور جو شخص کتاب اور رسول کا انکار کرے گا تو اس کی سزا اسی منکر کو ملے گی اور میں تمہارا ذمہ دار مقرر نہیں کیا گیا، یہ آیت، آیت قتال سے منسوخ ہوگئی۔
Ayah 10:109

وَ اتَّبِعْ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ وَ اصْبِرْ حَتّٰى یَحْكُمَ اللّٰهُ١ۖۚ وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ۠ Open ayah 10:109 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر ﷺ تم کو جو حکم بھیجا جاتا ہے اس کی پیروی کئے جاؤ اور (تکلیفوں پر) صبر کرو۔ یہاں تک کہ خدا فیصلہ کردے۔ اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔

(109) اے محمد ﷺ قرآن کریم میں تبلیغ رسالت کے بارے میں جو احکامات آپ کو دیے جاتے ہیں آپ اسی کی اتباع کیجیے اور اسی پر صبر کیجیے، تاوقتیکہ اللہ تعالیٰ بدر کے دن ان کی ہلاکت اور خاتمہ کا تمہارے اور ان کے درمیاں فیصلہ فرمادیں اور وہ ان کی ہلاکت اور تمہاری مدد فرمانے میں تمام فیصلہ کرنے والوں میں سب سے زیادہ مستحکم فیصلہ فرمانے والے ہیں۔