10. Surah Yunus

يونسJonas · 109 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayah 10:41

وَ اِنْ كَذَّبُوْكَ فَقُلْ لِّیْ عَمَلِیْ وَ لَكُمْ عَمَلُكُمْ١ۚ اَنْتُمْ بَرِیْٓئُوْنَ مِمَّاۤ اَعْمَلُ وَ اَنَا بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:41 in the Quran reader

اور اگر یہ تمہاری تکذیب کریں تو کہہ دو کہ مجھ کو میرے اعمال (کا بدلہ ملے گا) اور تم کو تمہارے اعمال (کا) تم میرے عملوں کے جوابدہ نہیں ہو اور میں تمہارے عملوں کا جوابدہ نہیں ہوں۔

(41) اے محمد ﷺ اگر آپ کی قوم آپ کے ارشادات کو جھٹلاتی رہے تو یہ فرما دیجیے کہ میرا کیا ہوا اور میرا دین مجھ کو ملے گا اور تمہارا کیا ہوا اور تمہارا کیا ہوا اور تمہارا دین تمہیں ملے گا، تم میرے کیے ہوئے کے جواب دہ نہیں ہو اور میں تمہارے کیے ہوئے کا جواب دہ نہیں ہوں۔
Ayah 10:42

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُوْنَ اِلَیْكَ١ؕ اَفَاَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ وَ لَوْ كَانُوْا لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 10:42 in the Quran reader

اور ان میں بعض ایسے ہیں کہ تمہاری طرف کان لگاتے ہیں۔ تو کیا تم بہروں کو سناؤ گے اگرچہ کچھ بھی (سُنتے) سمجھتے نہ ہوں۔

(42) اور ان یہود میں سے بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو ظاہرا آپ کے کلام اور گفتگو سنتے ہیں یا یہ کہ ان مشرکین عرب میں سے بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو ظاہرا آپ کے کلام اور گفتگو کو سنتے ہیں، اے محمد ﷺ کیا آپ بہروں کو سناتے ہیں جو سمجھنے کا ارادہ بھی نہیں رکھتے۔
Ayah 10:43

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّنْظُرُ اِلَیْكَ١ؕ اَفَاَنْتَ تَهْدِی الْعُمْیَ وَ لَوْ كَانُوْا لَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 10:43 in the Quran reader

اور بعض ایسے ہیں کہ تمہاری طرف دیکھتے ہیں۔ تو کیا تم اندھوں کو راستہ دکھاؤ گے اگرچہ کچھ بھی دیکھتے (بھالتے) نہ ہوں ؟

(43) اور ان یہود اور مشرکین عرب میں سے بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو ظاہرا آپ کو دیکھ رہے ہیں تو کیا آپ اندھوں کو ہدایت کا راستہ دکھلا رہے ہیں گو ان کو بصیرت بھی نہیں اور حق وہدایت کو دیکھنے کا وہ ارادہ بھی نہیں رکھتے۔
Ayah 10:44

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَظْلِمُ النَّاسَ شَیْئًا وَّ لٰكِنَّ النَّاسَ اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 10:44 in the Quran reader

خدا تو لوگوں پر کچھ ظلم نہیں کرتا لیکن لوگ ہی اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں۔

(44) اللہ تعالیٰ لوگوں کو نیکیوں میں سے کچھ کمی نہیں فرماتے اور نہ ان کے گناہوں میں زیادتی فرماتے ہیں لیکن لوگ کفر وشرک اور گناہوں کی وجہ سے خود ہی اپنے آپ کو تباہ وبرباد کرتے ہیں۔
Ayah 10:45

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ كَاَنْ لَّمْ یَلْبَثُوْۤا اِلَّا سَاعَةً مِّنَ النَّهَارِ یَتَعَارَفُوْنَ بَیْنَهُمْ١ؕ قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِلِقَآءِ اللّٰهِ وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِیْنَ Open ayah 10:45 in the Quran reader

اور جس دن خدا ان کو جمع کرے گا (تو وہ دنیا کی نسبت ایسا خیال کریں گے کہ) گویا (وہاں) گھڑی بھر دن سے زیادہ رہے ہی نہ تھے (اور) آپس میں ایک دوسرے کو شناخت بھی کریں گے۔ جن لوگوں نے خدا کے روبرو حاضر ہونے کو جھٹلایا وہ خسارے میں پڑگئے اور راہ یاب نہ ہوئے۔

(45) اور جس دن اللہ تعالیٰ ان یہود و نصاری اور مشرکین کو اس کیفیت سے جمع کرے گا کہ وہ قبروں میں سارے دن کی ایک آدھ گھڑی رہے ہوں گے اور بعض مقامات میں آپس میں ایک دوسرے کو پہچان بھی رہے ہوں گے، گھاٹے میں وہ لوگ رہے جنہوں نے اللہ کے پاس جانے کو جھٹلایا کہ دنیا و آخرت سب ان کے ہاتھ سے جاتی رہی اور یہ کفر وضلالت سے ہدایت پانے والے نہ تھے۔
Ayah 10:46

وَ اِمَّا نُرِیَنَّكَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّكَ فَاِلَیْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ اللّٰهُ شَهِیْدٌ عَلٰى مَا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 10:46 in the Quran reader

اگر ہم کوئی عذاب جس کا ان لوگوں سے وعدہ کرتے ہیں تمہاری آنکھوں کے سامنے (نازل) کریں یا (اس وقت جب) تمہاری مدت حیات پوری کردیں تو ان کو ہمارے ہی پاس لوٹ کر آنا ہے۔ تو جو کچھ یہ کر رہے ہیں خدا اس کو دیکھ رہا ہے۔

(46) اے محمد ﷺ جس عذاب کا ہم ان سے وعدہ کررہے ہیں اس میں سے کچھ تھوڑا سا اگر ہم آپ کو دکھلا دیں، یہ اس عذاب کے دکھلانے سے پہلے ہی ہم آپ کو وفات دے دیں تو ہر صورت میں ان کو بعد از موت ہمارے پاس تو آنا ہی ہے پھر یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کی نیکیوں اور برائیوں سب کو جانتا ہے۔
Ayah 10:47

وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلٌ١ۚ فَاِذَا جَآءَ رَسُوْلُهُمْ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 10:47 in the Quran reader

اور ہر ایک امت کی طرف پیغمبر بھیجا گیا جب انکا پیغمبر آتا ہے تو ان میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیا جاتا ہے اور ان پر کچھ ظلم نہیں کیا جاتا۔

(47) اور ہر ایک دین والوں (یعنی قوم) کے لیے ایک رسول ہوا ہے جو ان کو اللہ تعالیٰ اور اس کے دین کی دعوت دیتا رہا سو جب ان کا وہ رسول ان کے پاس آچکتا ہے اور وہ اس کی تکذیب کرتے ہیں تو ان کے اور ان کے رسوول کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کیا جاتا ہے یا کہ ایسی نافرمان قوم کو ہلاک اور ان کے رسول کو بچا لیا جاتا ہے اور ان کی نیکیوں میں سے ذرا بھی کمی نہیں کی جاتی اور نہ ان کی برائیوں میں کچھ اضافہ کیا جاتا ہے۔
Ayah 10:48

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 10:48 in the Quran reader

اور یہ کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو (جس عذاب کا) یہ وعدہ (ہے وہ آئے گا) کب ؟

(48) اور ہر ایک قوم اپنے اپنے رسولوں سے یوں کہتی ہے کہ اگر تم سچے ہو تو یہ وعدہ عذاب کب پورا ہوگا۔
Ayah 10:49

قُلْ لَّاۤ اَمْلِكُ لِنَفْسِیْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ لِكُلِّ اُمَّةٍ اَجَلٌ١ؕ اِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ فَلَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ Open ayah 10:49 in the Quran reader

کہہ دو کہ میں تو اپنے نقصان اور فائدے کا بھی کچھ اختیار نہیں رکھتا مگر جو خدا چاہے۔ ہر ایک امت کے لئے (موت) کا ایک وقت مقرر ہے جب وہ وقت آجاتا ہے تو ایک گھڑی بھی دیر نہیں کرسکتے اور نہ جلدی کرسکتے ہیں۔

(49) سو آپ ان سے فرما دیجیے کہ میں اپنی ذات خاص کے لیے کسی نفع کے حاصل کرنے کا اختیار نہیں رکھتا مگر جتنا اختیار نفع حاصل کرنے اور ضرر کے دور کرنے کا اللہ کو منظور ہے۔ ہر ایک دین والوں کے لیے ایک وقت مقررہ اور مہلت ہے سو جب ان کی ہلاکت کا وہ وقت آپہنچتا ہے تو اس وقت ایک گھڑی بھی نہ پیچھے ہٹ سکتے ہیں اور نہ آگے بڑھ سکتے ہیں۔
Ayah 10:50

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُهٗ بَیَاتًا اَوْ نَهَارًا مَّا ذَا یَسْتَعْجِلُ مِنْهُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 10:50 in the Quran reader

کہہ دو کہ بھلا دیکھو تو اگر اس کا عذاب تم پر (ناگہاں) آجائے رات کو یا دن کو تو پھر گنہگار کس بات کی جلدی کریں گے ؟

(50) اے محمد ﷺ ان کفار مکہ سے آپ فرما دیجیے یہ تو بتلاؤ کہ اگر تم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب رات کو آپڑے یا دن کو واقع ہوجائے تو پھر تم کیا کرو گے اور پھر عذاب الہی میں کون چیز ایسی ہے، جسے یہ مشرک لوگ جلدی مانگ رہے ہیں، اس پر اگر وہ کہیں کہ ہم ایمان لے آئیں گے تو آپ ان سے فرما دیجیے۔
Ayah 10:51

اَثُمَّ اِذَا مَا وَقَعَ اٰمَنْتُمْ بِهٖ١ؕ آٰلْئٰنَ وَ قَدْ كُنْتُمْ بِهٖ تَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 10:51 in the Quran reader

کیا جب وہ آ واقع ہوگا (تب اس پر ایمان لاؤ گے ؟) (اس وقت کہا جائیگا کہ) اور اب (ایمان لائے) اسی کے لئے تو تم جلدی مچایا کرتے تھے۔

(51) کہ اب تو جھٹلا رہے ہو اور جس وقت تم پر وہ عذاب آئے گا، تب تصدیق کرو گے، اس پر بھی وہ ہاں کہیں تو آپ ان سے کہہ دیجیے کہ نزول عذاب کے وقت تم سے کہا جائے گا ہاں اب عذاب کے خوف سے ایمان لاتے ہو حالانکہ پہلے سے تم بطور مذاق اور تکذیب کے اس کی جلدی مچایا کرتے تھے۔
Ayah 10:52

ثُمَّ قِیْلَ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ذُوْقُوْا عَذَابَ الْخُلْدِ١ۚ هَلْ تُجْزَوْنَ اِلَّا بِمَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ Open ayah 10:52 in the Quran reader

پھر ظالم لوگوں سے کہا جائے گا کہ عذاب دائمی کا مزا چکھو (اب تم انھیں (اعمال) کا بدلہ پاؤ گے جو (دُنیا میں) کرتے رہے۔

(52) پھر ان مشرکوں سے کہا جائے گا کہ ہمیشہ کا عذاب چکھو، دنیا میں جو کچھ تم کرتے اور کہتے تھے آخرت میں اب تمہیں اسی کا بدلہ ملا ہے۔
Ayah 10:53

وَ یَسْتَنْۢبِئُوْنَكَ اَحَقٌّ هُوَ١ؔؕ قُلْ اِیْ وَ رَبِّیْۤ اِنَّهٗ لَحَقٌّ١ؔؕۚ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ۠ Open ayah 10:53 in the Quran reader

اور تم سے دریافت کرتے ہیں کہ آیا یہ سچ ہے ؟ کہہ دو ہاں خدا کی قسم سچ ہے۔ اور تم (بھاگ کر خدا کو) عاجز نہ کرسکو گے۔

(53) (تعجب سے) آپ سے پوچھتے ہیں کہ اے محمد ﷺ کیا یہ عذاب اور قرآن کریم واقعی امر ہے۔ آپ فرمادیجیے کہ قسم ہے میرے رب کی وہ عذاب واقعی امر ہے جو ہونے والا ہے اور تم کسی طریقہ سے عذاب الہی سے بچ نہیں سکتے۔
Ayah 10:54

وَ لَوْ اَنَّ لِكُلِّ نَفْسٍ ظَلَمَتْ مَا فِی الْاَرْضِ لَافْتَدَتْ بِهٖ١ؕ وَ اَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ١ۚ وَ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 10:54 in the Quran reader

اور اگر ہر ایک نافرمان شخص کے پاس روئے زمین کی تمام چیزیں ہوں تو (عذاب سے بچنے کے) بدلے میں (سب) دے ڈالے اور جب وہ عذاب کو دیکھیں گے تو پچھتائیں گے (اور) ندامت کو چھپائیں گے۔ اور ان میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا اور (کسی طرح کا) ان پر ظلم نہیں ہوگا۔

(54) اور اگر ہر ایک مشرک کے پاس اتنا مال ہو کہ اس سے ساری زمین بھر جائے تب بھی اس سارے مال کو دے کر عذاب الہی سے اپنی جان بچانے پر راضی ہوجائے، اور جب یہ رؤسا عذاب خداوندی دیکھیں گے تو غربا سے پشیمانی کو پوشیدہ رکھیں گے اور ان رؤسا اور غربا کے درمیان فیصلہ انصاف کے ساتھ ہوگا نہ ان کی نیکیوں میں سے کسی قسم کی کچھ کمی کی جائے گا اور نہ ہی ان کے گناہوں میں کچھ زیادتی اور اضافہ ہوگا۔
Ayah 10:55

اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 10:55 in the Quran reader

سُن رکھو کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے۔ اور یہ بھی سن رکھو کہ خدا کا وعدہ سچا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

(55) یاد رکھو کہ تمام مخلوقات اور عجائبات خداوندی سب اللہ ہی کی ملک ہیں اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ یاد رکھو کہ مرنے کے بعد پھر دو بارہ زندہ ہونا ہے۔ سچا ہے اور یقینی ہونے والا ہے لیکن بہت سے آدمی تصدیق ہی نہیں کرتے۔
Ayah 10:56

هُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 10:56 in the Quran reader

وہی جان بخشا اور (وہی) موت دیتا ہے اور تم لوگ اسی کی طرف لوٹ کر جاؤ گے۔

(56) وہی اللہ دوبارہ زندہ کرنیکے لیے جان ڈالتا ہے اور وہی دنیا میں انسانوں کی جان نکالتا ہے اور مرنے کے بعد تم سب اسی کے پاس لائے جاؤگے۔
Ayah 10:57

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَتْكُمْ مَّوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ شِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِ١ۙ۬ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:57 in the Quran reader

لوگو ! تمہارے پاس پروردگار کی طرف سے نصیحت اور دلوں کی بیماریوں کی شفاء اور مومنوں کے لئے ہدایت اور رحمت آپہنچی ہے۔

(57) اے لوگوں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک ایسی چیز آئی ہے جو ان برے کاموں سے روکنے کے لیے نصیحت ہے جن پر تم قائم ہو اور دلوں میں جو ان کاموں سے بیماری پیدا ہوگئی ہے، ان کے لیے شفا ہے اور گمراہیوں سے نیک کاموں کی طرف رہنمائی کرنے والی ہے اور عذاب کے لیے باعث رحمت ہے اور یہ سب برکات ایمان والوں کے لیے ہیں۔
Ayah 10:58

قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَ بِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْیَفْرَحُوْا١ؕ هُوَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ Open ayah 10:58 in the Quran reader

کہہ دو کہ (یہ کتاب) خدا کے فضل اور اس کی مہربانی سے (نازل ہوئی ہے) تو چاہئے کہ لوگ اس سے خوش ہوں۔ یہ اس سے کہیں بہتر ہے جو وہ جمع کرتے ہیں۔

(58) اے محمد ﷺ آپ اپنی جماعت صحابہ سے فرمادیجیے کہ لوگو اللہ کے انعام سے جو کہ قرآن حکیم عطا کرکے کیا ہے، اور اس کی رحمت پر جس کی بذریعہ اسلام تمہیں توفیق دی گئی ہے، خوش ہونا چاہئے، اور قرآن کریم اوردین اسلام اس دنیاوی اموال سے بہت بہتر ہے جس کو یہ یہود اور مشرک جمع کررہے ہیں۔
Ayah 10:59

قُلْ اَرَءَیْتُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ لَكُمْ مِّنْ رِّزْقٍ فَجَعَلْتُمْ مِّنْهُ حَرَامًا وَّ حَلٰلًا١ؕ قُلْ آٰللّٰهُ اَذِنَ لَكُمْ اَمْ عَلَى اللّٰهِ تَفْتَرُوْنَ Open ayah 10:59 in the Quran reader

کہو کہ بھلا دیکھو تو خدا نے تمہارے لئے جو رزق نازل فرمایا۔ تو تم نے اس میں سے (بعض کو) حرام ٹھیرایا اور (بعض کو) حلال (ان سے) پوچھو کیا خدا نے تمہیں اس کام کا حکم دیا ہے یا تم خدا پر افترا کرتے ہو ؟

(59) آپ ان مکہ والوں سے فرما دیجیے کہ یہ تو بتلاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے جو تمہارے لیے کھیتیاں اور جانور پیدا کیے تھے پھر تم نے اس کے کچھ حصہ سے فائدہ حاصل کرنا عورتوں پر حرام کردیا یعنی بحیرہ، سائبہ اور حام اور مردوں کے لیے حلال قرار دے لیا تو آپ ان سے پو چھیے کیا اس چیز کی تمہیں تمہارے پروردگار نے اجازت دی تھی یا محض اللہ تعالیٰ پر اپنی ہی طرف سے جھوٹ باندھتے ہو۔
Ayah 10:60

وَ مَا ظَنُّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَشْكُرُوْنَ۠ Open ayah 10:60 in the Quran reader

اور جو لوگ خدا پر افترا کرتے ہیں وہ قیامت کے دن کی نسبت کیا خیال رکھتے ہیں ؟ بیشک خدا لوگوں پر مہربان ہے۔ لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔

(60) اور جو اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں انکا قیامت کے متعلق کیا خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ کیا معاملہ کرے گا، واقعی لوگوں پر اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل ہے کہ اس نے ان سے عذاب کو ٹال رکھا ہے لیکن اکثر اس احسان کی بےقدری کرتے ہیں اور اس پر ایمان نہیں لاتے۔
Ayah 10:61

وَ مَا تَكُوْنُ فِیْ شَاْنٍ وَّ مَا تَتْلُوْا مِنْهُ مِنْ قُرْاٰنٍ وَّ لَا تَعْمَلُوْنَ مِنْ عَمَلٍ اِلَّا كُنَّا عَلَیْكُمْ شُهُوْدًا اِذْ تُفِیْضُوْنَ فِیْهِ١ؕ وَ مَا یَعْزُبُ عَنْ رَّبِّكَ مِنْ مِّثْقَالِ ذَرَّةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ وَ لَاۤ اَصْغَرَ مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْبَرَ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 10:61 in the Quran reader

اور تم جس حال میں ہوتے ہو یا قرآن میں سے کچھ پڑھتے ہو یا تم لوگ کوئی (اور) کام کرتے ہو جب اس میں مصروف ہوتے ہو ہم تمہارے سامنے ہوتے ہیں۔ اور تمہارے پروردگار سے ذرہ برابر بھی کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے۔ نہ زمین میں اور نہ آسمان میں۔ اور نہ کوئی چیز اس سے چھوٹی ہے یا بڑی مگر کتاب روشن میں (لکھی ہوئی) ہے۔

(61) اے محمد ﷺ آپ خواہ کسی حال میں ہوں اور منجملہ ان احوال کے آپ کہیں سے قرآن کریم کی سورت یا آیت پڑھتے ہوں اور اسی طرح اور لوگ بھی جو نیکیاں اور برائیاں کرتے ہیں۔ ہمیں تمہاری سب حالتوں اور تمہاری تلاوت اور تمہارے سب کاموں کی خبر رہتی ہے، جب تم اس کام کو کرنا شروع کرتے ہو اور قرآن کریم کی تکذیب میں لگتے ہو اور بندوں کے اعمال میں سے آپ کے رب کے علم سے کوئی چیز بھی ذرہ برابر غائب نہیں اور نہ کوئی چیز اس مقدار مذکور سے چھوٹی ہے اور نہ کوئی چیز اس سے بڑی اور بھاری ہے مگر یہ سب بوجہ احاطہ علم الہی کے لوح محفوظ میں لکھی ہوئی ہے۔
Ayahs 10:62–63

اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ Open ayah 10:62 in the Quran reader

سُن رکھو کہ جو خدا کے دوست ہیں ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے۔

الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَؕ Open ayah 10:63 in the Quran reader

(یعنی) وہ جو ایمان لائے اور پرہیزگار رہے

(62۔ 63) یہ بات یاد رکھو کہ مومنین کی جماعت کو نہ کسی عذاب کے آنے کا خطرہ ہے اور نہ وہ کسی مطلوب کے فوت ہونے پر غمگین ہوتے ہیں۔
Ayah 10:64

لَهُمُ الْبُشْرٰى فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِ١ؕ لَا تَبْدِیْلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُؕ Open ayah 10:64 in the Quran reader

ان کے لئے دنیا کی زندگی میں بشارت ہے اور آخرت میں بھی۔ خدا کی باتیں بدلتی نہیں۔ یہی تو بڑی کامیابی ہے۔

(64) اور وہ کون لوگ ہیں ! اب اللہ تعالیٰ ان کا بیان فرماتا ہے کہ جو رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان لائے اور کفر وشرک اور فواحش سے بچتے ہیں، ان کے لیے دنیاوی زندگی میں بھی کہ وہ رؤیائے صادقہ دیکھتے ہیں یا ان کو دکھلائے جاتے ہیں اور آخرت میں بھی کہ ان کو جنت ملے گی، خوشخبری ہے اور جنت کا جو وعدہ فرمایا ہے اس میں کچھ فرق ہوا نہیں کرتا اور یہ بشارت بہت بڑی کامیابی ہے جس کی بدولت جنت اور اس کی نعمتیں حاصل ہوں گی اور دوزخ اور اس کی سختیوں سے چھٹکارا ملے گا۔
Ayah 10:65

وَ لَا یَحْزُنْكَ قَوْلُهُمْ١ۘ اِنَّ الْعِزَّةَ لِلّٰهِ جَمِیْعًا١ؕ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 10:65 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر ﷺ ان لوگوں کی باتوں سے آزردہ نہ ہونا (کیونکہ) عزت سب خدا ہی کی ہے۔ وہ (سب کچھ) سُنتا (اور) جانتا ہے۔

(65) اے محمد ﷺ خاص طور پر آپ کو ان لوگوں کا جھٹلانا غم میں نہ ڈالے، ان کو ہلاک کرنے کی تمام تر قدرت اور غلبہ اللہ تعالیٰ ہی کو حاصل ہے، وہ ان کی باتیں سنتا اور ان کی حالت اور ان کے انجام کو جانتا ہے۔
Ayah 10:66

اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا یَتَّبِعُ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ شُرَكَآءَ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَ Open ayah 10:66 in the Quran reader

سُن رکھو کہ جو مخلوق آسمانوں میں ہے اور جو لوگ زمین میں ہے سب خدا ہی کے (بندے اور اس کے مملوک ہیں) اور یہ جو خدا کے سوا اپنے بنائے ہوئے شریکوں کو پکارتے ہیں وہ کسی اور چیز کے پیچھے نہیں چلتے محض ظن کے پیچھے چلتے ہیں اور محض اٹکلیں دوڑا رہے ہیں۔

(66) یاد رکھو کہ تمام مخلوقات اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے جس طرح وہ چاہے اس کو ان پر تسلط کا حق حاصل ہے اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر دوسرے معبودان باطل بتوں وغیرہ کی پوجا کر رہے ہیں یہ محض بےبنیاد خیال کا بغیر یقین کے اتباع کر رہے ہیں اور یہ راہنما صرف عوام کو دھوکا دینے کے لیے فرضی باتیں اور جھوٹ بول رہے ہیں۔
Ayah 10:67

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ النَّهَارَ مُبْصِرًا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ Open ayah 10:67 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے رات بنائی تاکہ اس میں آرام کرو اور روز روشن بنایا (تاکہ اس میں کام کرو) جو لوگ (مادہ) سماعت رکھتے ہیں ان کے لئے اس میں نشانیاں ہیں۔

(67) اور تمہارا اللہ ایسا ہے جس نے تمہارے لیے رات کو پیدا کیا تاکہ تم اس میں آرام کرسکو اور دن کو بھی اسی طرح پیدا کیا کہ وہ آنے جانے کے لیے روشنی کا ذریعہ ہے اس بنانے میں ایسے لوگوں کے لیے عبرت کی چیزیں ہیں جو نصائح قرآنی کو سنتے اور اس پر عمل کرتے ہیں۔
Ayah 10:68

قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا سُبْحٰنَهٗ١ؕ هُوَ الْغَنِیُّ١ؕ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ اِنْ عِنْدَكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍۭ بِهٰذَا١ؕ اَتَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 10:68 in the Quran reader

(بعض لوگ) کہتے ہیں کہ خدا نے بیٹا بنالیا ہے۔ اس کی ذات (اولاد سے) پاک ہے (اور) وہ بےنیاز ہے۔ جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے (اے افترا پردازو) تمہارے پاس اس (قول باطل) کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ تم خدا کی نسبت ایسی بات کیوں کہتے ہو جو جانتے نہیں ؟

(68) اہل مکہ کہتے ہیں کہ فرشتے (نعوذ باللہ) اللہ تعالیٰ کی لڑکیاں میں، سبحان اللہ اس کی ذات بابرکات تو ولد اور شریک سے ماورا اور پاک ہے اور وہ دلدو شریک کسی کا محتاج نہیں تمام مخلوقات اور عجائبات قدرت اسی کے قبضہ قدرت میں ہیں تمہارے پاس تمہارے اس دعوے پر جو کہ تم اللہ تعالیٰ پر افتراء پر دازی کرتے ہو کوئی دلیل اور حجت نہیں بلکہ تم اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتے ہو۔
Ayah 10:69

قُلْ اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا یُفْلِحُوْنَؕ Open ayah 10:69 in the Quran reader

کہہ دو کہ جو لوگ خدا پر جھُوٹ باندھتے ہیں فلاح نہیں پائیں گے۔

(69) اے محمد ﷺ آپ فرما دیجیے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ پر افتراء پر دازی کرتے ہیں وہ کبھی عذاب الہی سے نجات نہیں پائیں گے اور نہ وہ اس کے عذاب سے محفوظ رہیں گے۔
Ayah 10:70

مَتَاعٌ فِی الدُّنْیَا ثُمَّ اِلَیْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ نُذِیْقُهُمُ الْعَذَابَ الشَّدِیْدَ بِمَا كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ۠ Open ayah 10:70 in the Quran reader

(ان کے لئے جو) فائدے ہیں دنیا میں (ہیں) پھر ان کو ہماری طرف لوٹ کر آنا ہے۔ اس وقت ہم ان کو عذاب شدید (کے مزے) چکھائیں گے کیونکہ کفر (کی باتیں) کیا کرتے تھے

(70) یہ دنیا میں چند روزہ زندگی گزار رہے ہیں، پھر مرنے کے بعد ان کو ہمارے ہی پاس آنا ہے، پھر ہم ان کو ان کے قرآن اور رسول اکرم ﷺ کی تکذیب اور اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے کے بدلے سخت سزا کا مزہ چکھائیں گے۔
Ayah 10:71

وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ نُوْحٍ١ۘ اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ اِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَیْكُمْ مَّقَامِیْ وَ تَذْكِیْرِیْ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَعَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْتُ فَاَجْمِعُوْۤا اَمْرَكُمْ وَ شُرَكَآءَكُمْ ثُمَّ لَا یَكُنْ اَمْرُكُمْ عَلَیْكُمْ غُمَّةً ثُمَّ اقْضُوْۤا اِلَیَّ وَ لَا تُنْظِرُوْنِ Open ayah 10:71 in the Quran reader

اور ان کو نوح کا قصہ پڑھ کر سنا دو۔ جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ اے قوم ! اگر تم کو میرا (تم میں) رہنا اور خدا کی آیتوں سے نصیحت کرنا ناگوار ہو تو میں تو خدا پر بھروسہ رکھتا ہوں تم اپنے شریکوں کے ساتھ مل کر ایک کام (جو میرے بارے میں کرنا چاہو) مقرر کرلو اور وہ تمہاری تمام جماعت (کو معلوم ہوجائے اور کسی) سے پوشیدہ نہ رہے پھر وہ کام میرے حق میں کر گزرو اور مجھے مہلت نہ دو۔

(71) اور آپ ان کو بذریعہ قرآن کریم نوح ؑ کا واقعہ پڑھ کر سنائیے جب کہ انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ اگر تمہیں میرا رہنا اور میرا زیادہ قیام اور عذاب الہی سے میرا تمہیں ڈرانا بھاری اور ناگوار معلوم ہوتا ہے تو میرا تو اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسا ہے اور میں نے اپنے تمام کام اس کے سپرد کردیے ہیں، سو تم اپنی تدبیر اور اپنا معاملہ مع اپنے شرکاء کی مدد کے پختہ کرلو پھر تمہارا معاملہ تمہاری تنگی کا باعث نہ ہو اور تمہاری وہ تدبیر تمہارے نقصان کا باعث نہ ہو اور میرے ساتھ جو کچھ کرنا ہے وہ کر کزرو اور مجھے ذرا بھی مہلت نہ دو۔
Ayah 10:72

فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَمَا سَاَلْتُكُمْ مِّنْ اَجْرٍ١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ١ۙ وَ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 10:72 in the Quran reader

اور اگر تم نے منہ پھیرلیا تو (تم جانتے ہو کہ) میں نے تم سے کچھ معاوضہ نہیں مانگا۔ میرا معاوضہ تو خدا کے ذمے ہے۔ اور مجھے حکم ہوا ہے کہ میں فرمانبرداروں میں رہو۔

(72) پھر بھی اگر تم اس بات پر جس کو میں تمہارے پاس لے کر آیا ہوں ایمان لانے سے اعراض کیے جاؤ تو میں نے تم سے اس تبلیغ ایمان پر کوئی معاوضہ تو نہیں مانگا کیوں کہ میں تمہیں جو ایمان کی دعوت دے رہا ہوں، اس پر ثواب ومعاوضہ تو صرف اللہ تعالیٰ ہی کے ذمے ہے اور چوں کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اطاعت کرنے والوں کے ساتھ ان کے دین پر قائم رہوں۔
Ayah 10:73

فَكَذَّبُوْهُ فَنَجَّیْنٰهُ وَ مَنْ مَّعَهٗ فِی الْفُلْكِ وَ جَعَلْنٰهُمْ خَلٰٓئِفَ وَ اَغْرَقْنَا الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ۚ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُنْذَرِیْنَ Open ayah 10:73 in the Quran reader

لیکن ان لوگوں نے انکی تکذیب کی تو ہم نے ان کو اور جو لوگ ان کے ساتھ کشتی میں سوار تھے سب کو (طوفان سے) بچالیا اور انھیں (زمین میں) خلیفہ بنادیا اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھُٹلایا ان کو غرق کردیا تو دیکھ لو کہ جو لوگ ڈرائے گئے تھے ان کا کیسا انجام ہوا۔

(73) سو وہ لوگ حضرت نوح ؑ کی دعوت ایمانی کو جھٹلاتے رہے، نتیجہ یہ ہوا کہ ہم نے ان کو اور جو ان کے ساتھ کشتی میں مومن لوگ تھے، غرق ہونے سے نجات دی اور ان کو زمین پر دوبارہ آباد کیا اور ان کو زمین میں حکمران بنایا اور جنہوں نے ہماری کتاب اور ہمارے رسول یعنی حضرت نوح ؑ کو جھٹلایا تھا ان کو غرق کردیا، سودیکھنا چاہیے کیسا برا انجام ہوا، ان لوگوں کا جن کو ان کے رسولوں نے اللہ کے عذاب سے ڈریا تھا مگر اس کے باوجود بھی وہ ایمان نہ لائے۔
Ayah 10:74

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ رُسُلًا اِلٰى قَوْمِهِمْ فَجَآءُوْهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَمَا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا بِمَا كَذَّبُوْا بِهٖ مِنْ قَبْلُ١ؕ كَذٰلِكَ نَطْبَعُ عَلٰى قُلُوْبِ الْمُعْتَدِیْنَ Open ayah 10:74 in the Quran reader

پھر نوح کے بعد ہم نے اور پیغمبر اپنی اپنی قوم کی طرف بھیجے۔ تو وہ ان کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے۔ مگر وہ لوگ ایسے نہ تھے کہ جس چیز کی پہلے تکذیب کرچکے تھے اس پر ایمان لے آتے۔ اسی طرح ہم زیادتی کرنے والوں کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں۔

(74) پھر حضرت نوح ؑ کی قوم کی ہلاکت کے بعد اور رسولوں کو ان کی قوموں کی طرف بھیجا، سو وہ ان کے پاس اوامر ونواہی اور معجزات لے کر آئے، پھر بھی جس چیز کے عہد ومیثاق سے پہلے انہوں نے تکذیب کردی تھی یہ نہ ہوا کہ پھر اس کو مان لیں اسی طرح ہم ایسے لوگوں کے دلوں پر جو کہ حلال و حرام سے تجاوز کرتے ہیں مہریں لگادیتے ہیں۔
Ayah 10:75

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ مُّوْسٰى وَ هٰرُوْنَ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ بِاٰیٰتِنَا فَاسْتَكْبَرُوْا وَ كَانُوْا قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 10:75 in the Quran reader

پھر ان کے بعد ہم نے موسیٰ اور ہارون کو اپنی نشانیاں دے کر فرعون اور اسکے سرداروں کے پاس بھیجا تو انہوں نے تکبر کیا اور وہ گنہگار لوگ تھے۔

(75) پھر ہم نے ان رسولوں کے بعد حضرت موسیٰ ؑ و حضرت ہارون ؑ کو فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس اپنی کتاب یا یہ کہ اپنے نو معجزات ید عصا، طوفان، جراد، قمل، ضفادع، دم، سنین، نقص من الثمرات یا یہ کہ مالوں کو برباد کرنے کی دعا کا حق دے کر بھیجا، سو انھوں نے کتاب خداوندی رسول اور معجزات پر ایمان لانے سے انکار کیا۔
Ayah 10:76

فَلَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوْۤا اِنَّ هٰذَا لَسِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 10:76 in the Quran reader

تو جب ان کے پاس ہمارے ہاں سے حق آیا تو کہنے لگے کہ یہ تو صریح جادُو ہے۔

(76) اور وہ لوگ مشرک تھے، جب ان کے پاس کتاب رسول اور معجزات آئے تو وہ لوگ کہنے لگے کہ حضرت موسیٰ ؑ جس چیز کو لے کر آئے ہیں (نعوذ باللہ) وہ صریح جھوٹ جادو ہے اور اگر ساحر پڑھا جائے تو پھر مقصود یہ کہ نعوذ باللہ حضرت موسیٰ ؑ صریح جھوٹے جادوگر ہیں۔
Ayah 10:77

قَالَ مُوْسٰۤى اَتَقُوْلُوْنَ لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَكُمْ١ؕ اَسِحْرٌ هٰذَا١ؕ وَ لَا یُفْلِحُ السّٰحِرُوْنَ Open ayah 10:77 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا کیا تم حق کے بارے میں جب وہ تمہارے پاس آیا یہ کہتے ہو کہ یہ جادو ہے ؟ حالانکہ جادوگر فلاح نہیں پانے کے۔

(77) حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا کہ تم کتاب اور رسول اور ان معجزات کے بارے میں جب کہ وہ تمہارے پاس پہنچے ایسی بات کہتے ہو حالانکہ جادوگر عذاب الہی سے محفوظ نہیں رہا کرتے۔
Ayahs 10:78–79

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِتَلْفِتَنَا عَمَّا وَجَدْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا وَ تَكُوْنَ لَكُمَا الْكِبْرِیَآءُ فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا نَحْنُ لَكُمَا بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:78 in the Quran reader

وہ بولے کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ جس (راہ) پر ہم اپنے باپ دادا کو پاتے رہے ہیں اس سے ہم کو پھیر دو۔ اور (اس) ملک میں تم دونوں ہی کی سرداری ہوجائے ؟ اور ہم تم پر ایمان لانے والے نہیں ہیں

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ ائْتُوْنِیْ بِكُلِّ سٰحِرٍ عَلِیْمٍ Open ayah 10:79 in the Quran reader

اور فرعون نے حکم دیا کہ سب کامل فن جادوگروں کو ہمارے پاس لے آؤ۔

(78۔ 79) ان لوگوں نے موسیٰ ؑ سے کہا کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ ہمیں ان بتوں کی پوجا سے ہٹا دو اور تم دونوں کو سرزمین مصر میں ریاست اور بادشاہت مل جائے، ہم تو تم دونوں کی کبھی تصدیق نہ کریں گے اور فرعون کہنے لگا میرے سامنے تمام ماہر جادوگروں کو حاضر کرو ،