Ayahs 77:41–47ترکیب : ان اسمھا المتقین فی ظلال خبرھا وعیون وکذافوا کہ عطف علی الخبر وممایشتھون من بیانیۃ ماموصولۃ یشتھون صلۃ والعائد محذوف ای یشتھونہ والجملۃ مجروربمن ای متعلقہ بمحذوف نعت لفواکھہ۔ کلواواشربوا فی محل الحال من ضمیر المتقین فی الخبر بتقدیر القول ای مقولا لھم کلواواشبروا۔ ھنیئًا منصوب علی انہ صفۃ مصدر محذوف ای اکلاً ھنیئًا وشرباً ھنیئا (ھن) گواراشدن طعام و شراب۔ یقال ھنت الطعام ای تھنات بہ ومنہ قولہ تعالیٰ فکلوہ ھنیئًا مریئًا من باب فتح یفتح وکرم یکرم (من الصراح) بما الباء لسببیۃ کلواوتمتعواقلیلا ای زماناً قلیلا
الجملۃ حال من المکذبین ای الویل ثابت لھم فی حال مایقال لھم کلواوتمتعوا ایذاناً بانھم فی الدنیا کانوا احقاء بان یقال لھم ذلک وعلل ذلک بکونھم مجرمین دلالۃ علی ان کل مجرم مالہ الاکل والتمتع الا ایا ماقلائل ثم الخلود فی العذاب ابدًا۔ ویجوزان یکون کلامًا مستانفا خطابا للمکذبین فی الدنیا۔ من الکشاف۔
تفسیر : اب ایک اور مصیبت کفار پر پیش آئے گی وہ یہ کہ المتقین فی ظلال و عیون وفوا کہ مما یشتہوں پرہیزگار یا ایماندار اس روز ٹھنڈی چھائوں میں ہوں گے برخلاف اس کے کفار گرم دھوئیں کی چھائوں میں ہوں گے اور وہ آتش دوزخ کی چنگاریوں میں جلتے ہوں گے مگر ایماندار اس کے بدلے چشموں میں نہاتے ‘ پانی پیتے عیش کرتے ہوں گے۔ کفار کو زقوم اور پیپ اور لہو کھانے کو ملے گا یا غصہ اور غم مگر ایمانداروں کے لیے میوے ہوں گے اور میوے بھی وہ جن کو دل چاہے گا وہی حاضر ہوں گے اور کفار کو لعنت ملامت ہوگی برخلاف ان کے ایمانداروں کو یہ کہا جائے گا کلواواشربوا ھنیئًا بماکنتم تعلمون کہ خوب کھاؤ پیئو مزے کرو اپنے ان نیک عملوں کے بدلے جن کو تم دنیا میں کیا کرتے تھے۔ یہ کلمہ ایسا ہے جیسا کسی معظم و مکرم مہمان کو کہا جاتا ہے کہ کھائیے ہرچند تمہارے اعمال نیک چند روزہ تھے اور ان کا بدلہ اور اجرت اس قدر نہیں مگر ہم کریم ہیں اناکذلک نجزی المحسنین نیکوں کو ایسا ہی بدلا دیا کرتے ہیں ایک نیکی کے بدلے دس بلکہ اس سے بھی زیادہ اور فانی کے بدلے باقی عطا کرتے ہیں۔ یہ کیفیت عرصات کی ہے کفار کے جہنم میں فیصلہ ہو کر جانے سے پہلے پھر جب کفار ایمانداروں کے لیے عرصات میں یہ انعام و اکرام دیکھیں گے اور اپنے لیے یہ خرابی اور ذلت اور عذاب دیکھیں گے تو اپنے مقابلے میں اپنے دشمنوں کی عزت و اکرام دیکھ کر کس قدر رنج اور غم ہوگا اور نیز اس بات سے بھی کہ ہم نے ایسے کریم کی کیوں نافرمانی کی جو آج ایسے صلے دے رہا ہے۔ یہ اور بھی رنج ہوگا کماقال ویل یومئذ للمکذبین کہ خرابی ہے اس روز جھٹلانے والوں کی۔
آیت میں اہل سعادت کا انجام بھی بیان کردیا تاکہ بیان پورا ہوجاوے۔ ظلال یعنی سائے فرمایا جو جمع کا لفظ ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ دراصل ایمانداروں کے لیے متعدد سائے ہوں گے اول عرصات میں عرش رب العالمین کا سایہ ہوگا پھر پل صراط سے گزرنے کے وقت اعمال صالحہ اور صدقات کا پھر جب بہشت میں جائیں گے تو طوبیٰ کا سایہ ہوگا اور پربہار درختوں کا اور جب اپنے منازل و مکانات سکونت میں آئیں گے تو جنت کے عمدہ محلوں اور وہاں کے چھپرکھٹوں اور نمگیروں کا سایہ ہوگا اور سب سے بڑھ کر رحمت الٰہی کا سایہ ہوگا جو ایک سایہ ہزار سایوں سے بہتر ہوگا اور اسی طرح عیون بھی جمع کا لفظ ہے۔ عین ایک چشمہ عیون بہت سے۔ وہاں چشمے اور نہریں جاری بھی ان کے لیے متعدد ہوں گی جو ان کے معارف اور اعمال صالحہ کا مظہر ہوگا اقسام اقسام کے اعمال و معارف تھے ویسے ہی چشمے بھی اقسام اقسام کے ہوں گے کسی میں کافور کی آمیزش کسی میں زنجبیل کی کسی میں شہد کی شیرینی کسی میں دودھ کی خاصیت۔ یہ دنیا میں ان کے روزہ کی تشنگی برداشت کرنے کا اور دین میں کوشش کرنے کا ثمرہ ہوگا اور اسی طرح فواکہ جمع کا لفظ ہے فاکھہ کی جمع جس کے معنی ہیں میوہ سو وہاں ان کا ہر ایک عمل اور ہر ایک کوشش ایک ایک دل پسند میوے کی صورت میں ظاہر ہوگی اور یہی وجہ ہے کہ بماکنتم تعملون فرمایا جائے گا کہ یہ تمہارے نیک عملوں کا بدلہ ہے۔
ایک اور مصیبت ان پر پیش آئے گی وہ یہ کہ تمسخر کے طور پر ان کفار سے کہا جائے گا کلواوتمتعوا قلیلاً انکم مجرمون کہ چند روز کھالو پی لو، آخر تو تم مجرم ہو۔ یہ ان کی دنیاوی حالت کو یاد دلا کر ان پر تعریض کی جائے گی کیونکہ منکرین قیامت دنیا ہی کو سمجھتے تھے اور کہتے تھے اجی قیامت قیامت سنا کرتے ہیں وہاں کے ادھار کے لیے کیوں آج نقد عیش و عشرت کو چھوڑے۔ کھاؤ حرام و حلال جو ملے اور ہر طرح کا مزہ کرو ‘ شراب و زنا وغیرہ لذتوں سے کون محروم رہے۔ یہ خشک دماغ جو قیامت کے بھروسہ پر بیٹھے ہیں ناحق ان مزوں سے محروم رہتے ہیں قیامت کس نے دیکھی ہے۔ دن بھر روزے میں بھوکا پیاسا مرنا کس عقل مند کا کام ہے پھر کیا باردگر دنیا میں آنا ہے یہ مزے کیوں چھوڑیں۔ بعض شعراء نے جو انہیں لوگوں کی ذریت میں سے ہیں ان باتوں کو اشعار میں بھی نظم کیا ہے۔ تب وہاں ان سے فرشتے انہیں کی اس بات کو انہیں کے دنیاوی خیالات یاد دلانے کے لیے اس میں نمک مرچ لگا کر یوں کہیں گے کہ کھاؤ مزے کرلو چند روز آخر تم مجرم ہو۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ کلام دنیا میں کفار کی طرف بالفعل ہے کہ اے کفار ! تم جو قیامت کے منکر ہو دنیا ہی کی لذات پر دلدادہ ہو تھوڑے دنوں کھالو عیش کرلو آخر تم مجرم ہو حبس دائمی اور سزائے ابدی میں گرفتار ہو گے اس لیے ویل یومئذ للمکذبین اس دن جھٹلانے والوں کے لیے خرابی ہے۔ اور اس خرابی سے بڑھ کر اور کیا ہے کہ دنیا کے مزے یاد کریں گے اور حسرت آمیز آنسوئوں سے روئیں گے کہ ہائے چند روز عیش و نشاط کے سبب جو اب خواب و خیال ہوگئے ہمیشہ کا عذاب دردناک اور دکھ بھری زندگانی خریدی جہاں موت بھی نہیں کہ مر کر اس بلا سے چھوٹ جائیں۔ یہ نویں قسم کی خرابی تھی جس کو عذاب کہنا چاہیے خواہ جسمانی ہو خواہ روحانی ایک دوسری سے بڑھ کر ہے اس کے بعد خدا تعالیٰ ان مصائب میں مبتلا ہونے کی وجہ بیان فرماتا ہے کہ کیوں وہ ایسی ایسی مصیبتوں میں گرفتار ہوں گے۔
Ayahs 77:48–50ترکیب : واذا شرط لایرکعون ای ھم لایرکعون الجملۃ جو ابہ فبای الباء تتعلق بیؤمنون بعدہ ظرف لیؤمنون والجملۃ استفہامیہ والاستفہام استقراری۔
تفسیر : فقال واذا قیل لہم ارکعوالا یرکعون یعنی وہ ایسے سرکش اور حق کی طرف سے پھرے ہوئے ہیں کہ جب دنیا میں کہا جاتا ہے (رسول یا اس کے نائب کہتے ہیں) خدا کی طرف جھکو کہ اس کے احکام مانو ‘ نواہی سے بچو تو نہیں جھکتے۔ مومن و کافر میں ایک یہ بھی بڑا امتیاز ہے کہ مومن مصیبت کے وقت ‘ راحت کے وقت ‘ بیماری میں تندرستی میں ‘ افلاس ‘ میں تواندگی میں ہر حال میں خدا کی طرف جھکتا ہے۔ اس کا مرکز اصل وہی ہے جب کسی مانع نے روک بھی لیا تو جب مانع اٹھ گیا ادھر ہی چلا آیا اس کی طرف اس کو قرار آتا ہے برخلاف کافر کے۔
بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ رکوع سے مراد نماز میں جھکنا ہے جو خاص علامت فرمانبرداری کی ہے کہ ہم نے آپ کے آگے سر جھکا دیا، پیٹھ ٹیڑھی کردی آپ جو چاہیے ہم پر احکام کا بوجھ دھر دیجئے ہم بجا لانے کو مستعد ہیں اور اسی لیے دنیا میں بادشاہوں کے سامنے خم ہونا اور سلام کرنا اطاعت اور انقیاد کی علامت ہے اور یہ رکوع نماز میں اسلامیوں کے شعار میں داخل ہوگیا گویا جب ان کو نماز کے لیے بلایا جاتا ہے تاکہ زمرہ اسلام میں داخل ہوں تو نہیں مانتے۔
مقاتل کہتے ہیں کہ یہ آیت قوم ثقیف کے معاملہ میں نازل ہوئی اور آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اظہار اسلام کیا۔ آپ نے فرمایا نماز پڑھو اور نماز تعلیم فرمائی۔ انہوں نے کہا ہم رکوع نہ کریں گے کیونکہ اس میں عار ہے کیونکہ آدمی زاد سیدھا پیدا کیا گیا اور جب وہ پیٹھ گائے بیل کی طرح کرے تو برا معلوم ہوتا ہے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا لاخیرفی دین لیس فیہ رکوع ولاسجود کہ اس دین میں کچھ خیر نہیں کہ جس میں نہ رکوع ہے نہ سجود۔
بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ جملہ کفار سے اس وقت کہا جائے گا جبکہ تجلیِ الٰہی ہو کر کشف شاق ہوگا اور لوگوں کو سجدہ کرنے کا حکم ہوگا پھر جو دنیا میں سجدہ نہیں کرتے تھے وہاں بھی نہ کرسکیں گے۔ تختے کی طرح پیٹھ اور گردن اکڑ جائے گی رکوع و سجود میں خم نہ ہو سکیں گے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ کفار جب قیامت میں رکوع و سجود کرنے والوں کو دیکھیں گے کہ طرح طرح کے انعام و اکرام ان پر ایک آسان عمل سے ہو رہے ہیں تو سخت رنج و افسوس ہوگا کہ ہائے ہم نے کس لیے اس حکم کو نہ مانا۔ ویل یومئذ للمکذبین یہ ایک اور خرابی ہوگی جو دسویں خرابی ہے۔
پھر جب ان کفار کو دارآخرت کا حال اس طرح کرایا گیا اور یہ بتایا گیا کہ منکروں کے لیے یہ خرابیاں اور ماننے والوں کے لیے یہ نعمتیں ہیں تو پھر اگر اس کو سن کر بھی ایمان نہ لائے تو فبای حدیث بعدہ یومنون پھر کس بات پر اس بیان کے بعد ایمان لائیں گے ؟ مفسرین کہتے ہیں کہ بعدہ کی ضمیر بیان واضح قرآن کی طرف راجع ہے جو قرینہ حاصل سے سمجھا جاتا ہے۔ ابن ابی حاتم نے ابوہریرہ ؓ سے نقل کیا ہے کہ جب اس آیت تک پہنچے تو اس کے بعد کہے آمنا باللہ وبما انزل۔