Ayahs 5:51–53ترکیب : الیہود والنصاریٰ ‘ لا تتخذوا کا مفعول اول اولیاء مفعول ثانی الذین فتری کا مفعول اول یسارعون مفعول ثانی فیصبحوا معطوف ہے یاء تی پر۔
تفسیر : چونکہ خدا سے نافرمانی کرنا اور فسق و فجور اور شرک و کفر میں ایک مرض روحانی ہے جو بیشتر ایسے لوگوں سے دلی میل جول رکھنے سے متعدی ہوجاتا ہے۔ اس لئے یہود و نصاریٰ کی خرابیاں بیان فرما کر ان سے دلی میل جول کی ممانعت کرتا ہے بقولہ یا یہا الذین آمنوا الخ اولیاء تک کلام تمام ہوگیا۔ بعضہم اولیاء بعض الگ جملہ ہے یعنی وہ کفر و نفاق میں ہم جنس ہیں۔ ان کی باہم محبت قرین قیاس ہے مگر تم ان سے محبت نہ کرو اور جو ایسا کرے گا تو انہیں میں شمار ہوگا۔ روایت ہے کہ عبادۃ بن الصامت نے آنحضرت ﷺ کے روبرو حاضر ہو کر یہود کی دوستی قدیم سے دستبرداری کی مگر وہیں عبداللہ بن ابی منافق بھی کھڑا تھا۔ اس نے کہا ہم ایسا نہیں کرسکتے کیونکہ ان سے ترک کرنے میں کسی مصیبت کا اندیشہ ہے جس پر یہ آیت نازل ہوئی (کبیر) اور فتری الذین سے منافقوں کی گفتگو کا ذکر ہے کہ وہ ان سے دوڑ کر ملتے اور کہتے ہیں کہ ہم کو مصیبت کا اندیشہ ہے فعسی اللّٰہ سے اس کا جواب دیتا ہے کہ عنقریب خدا تعالیٰ اپنے رسول اور مسلمانوں کو ان کے دشمنوں پر فتح یاب کرے گا اور اپنا حکم ازلی جو سلطنت آسمانی کے غلبہ اور ظہور کا ہے پردہ ٔ اخفا سے عرصہ ظہور میں لاوے گا تو اسی وقت اپنے دل کی پوشیدہ باتوں پر (کہ اس رسول کو کبھی غلبہ نہ ہوگا چند روز میں ان مخالفین کے ہاتھ سے ان مسلمانوں کا یہ جوش و خروش سرد ہوجاوے گا ہم کیوں اپنے قدیمی دوستوں سے بگاڑیں) بڑے نادم ہوں گے اور مسلمان متعجب ہو کر کہیں گے کہ لو صاحب یہ منافقین بڑی سخت قسمیں کھا کر کہا کرتے تھے کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں اور مخالفوں سے اندرخانہ کیسا میل جول ان کی شوکت پر بھروسہ رکھ کر کرتے تھے۔ چناچہ جنگ احزاب کے بعد مسلمانوں نے منافقوں کو سخت ملامت کی اور خدا تعالیٰ کی پیشین گوئی پوری صادق ہوگئی۔ چند روز میں اسلام کا غلبہ ہوگیا۔ مخالفوں کی تمام شوکت مٹ گئی۔ حبطت یعنی منافقوں کا ایمان ظاہر کچھ کام نہ آوے گا۔
Ayahs 5:54–55ترکیب : من یرتد شرط منکم من کی صفت یا حال ‘ فسوف یحبہم اور یحبونہ اذلۃ اعزۃ یجاھدون لا یخافون قوم کی صفت جو مفعول ہے یاتی کا۔
تفسیر : اس سے پہلی آیت میں کفار سے دلی میل جول سے ممانعت کے بعد یہ فرمایا تھا کہ جو ان سے ملے گا وہ انہیں میں سے ہوجاوے گا یعنی مرتد ہوگا۔ اب اس آیت میں مرتدوں کے حالات بیان کرتا ہے۔ من یرتد ارتداد کے معنی پھرجانا۔ جو لوگ دین اسلام سے پھرجاتے ہیں ان کو مرتد کہتے ہیں۔ صاحب کشاف نے لکھا ہے کہ مرتدوں کے گیارہ گروہ تھے جن میں سے تین آنحضرت ﷺ کے روبرو ہوئے تھے : (1) بنو مدلج ان کا سردار ذوالحمارا سود عنسی ساحر تھا جس نے اطراف یمن میں قبضہ کرکے آنحضرت ﷺ کے عمال کو نکال دیا تھا۔ آنحضرت ﷺ نے معاذ بن جبل ؓ اور یمن کے رئیسوں کی طرف لکھا آخر یہ شخص فیروز دیلمی کے ہاتھوں سے قتل ہوا۔ اس کے قتل کی خبر اسی روز آنحضرت ﷺ نے دی تھی گو وہاں سے خبر دو مہینے بعد آئی تھی۔ (2) بنو حنیفہ مسیلمہ کذاب کی قوم ملک یمامہ میں جس نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔ (3) بنو اسد طلحہ بن خویلد کی قوم جس نے نبوت کا دعویٰ کیا اور شکست کھا کر ملک شام میں بھاگ گیا تھا مگر اخیر میں پھر توبہ کرکے سچا اسلام اختیار کرلیا تھا اور سات قومیں حضرت ابوبکر ؓ کے عہد میں مرتد ہوگئی تھیں۔ فزارہ عیینہ بن حصن کی قوم غطفان ‘ فُزہ بن سلمہ قشیری کی قوم بنو سلیم ‘ فجاہ بن عبدیا لیل کی قوم بنو یربوع ‘ مالک بن نویرہ کی قوم اور بعض لوگ بنی تمیم کے جو سجاح بنت منذر کے مرید ہوگئے تھے اس عورت نے بھی نبوت کا دعویٰ کیا تھا اور مسیلمہ سے نکاح کیا تھا۔ کندہ اشعت بن قیس کی قوم اور بحرین میں بنوبکر بن وائل حطم بن زید کی قوم اور عمر ؓ کے عہد میں غسان کے لوگ جبلہ کے مرتد ہوجانے سے مرتد ہوگئے تھے۔ جبلہ نے ایک شخص کے طمانچہ مارا تھا۔ حضرت عمر ؓ نے قصاص کا حکم دیا۔ اس نے ہزارہا روپیہ معاوضہ میں دینا چاہا مگر مدعی نے کہا میں بدلہ ہی لوں گا۔ اس خوف کے مارے وہ مرتد ہو کر روم چلا گیا۔ اس آیت میں خدا تعالیٰ اس وقت کے مسلمانوں سے تہدید کے طور پر فرماتا اور وعدہ کرتا ہے کہ اسلام کا مدار تم پر نہیں۔ اگر تم میں سے کوئی مرتد ہوجاوے گا تو وہ ایک اور ایسی قوم لاوے گا جس میں یہ وصف ہوں گے۔ (1) یہ کہ اللہ ان سے اور وہ اللہ سے محبت رکھیں گے (2) ایمانداروں کے حق میں نرم خدا کے دشمنوں سے گرم ہوں گے دبنا اور تقیہ تو کجا ؟ (3) اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے (4) کسی کی ملامت اور برا کہنے کی امر حق کے اظہار میں کچھ بھی پروا نہ کریں گے۔ اب دیکھنا چاہیے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد عرب کی اس قدر قومیں مرتد ہوگئی تھیں ان کے مقابلے میں خدا کونسی قوم کو لایا تھا اور اس کا کون سردار تھا جس کے ہاتھ پر یہ وعدہ پورا ہوا جو تاریخ اسلام سے واقف ہے بیساختہ کہہ دے گا کہ ان مرتدوں کے مقابلہ میں صحابہ انصارو مہاجرین اور اہل یمن کے لوگ اٹھے تھے جنہوں نے ان سب مرتد قوموں کو پست کردیا تھا اور ان کے سردار اور خلیفہ حضرت ابوبکر ؓ تھے۔ اب اس آیت سے جس طرح آنحضرت ﷺ کی نبوت کی اس پشین گوئی کے پورا ہونے سے تصدیق ہوتی ہے۔
Ayahs 5:56–58ترکیب : ومن مبتداء متضمن شرط اللّٰہ اور رسولہ اور والذین آمنوا یتول کا مفعول ‘ فان حزب اللّٰہ خبر لا تتخذوا نہی انتم ضمیر اس کی فاعل الذین موصول اتخذوا فعل دینکم مفعول اول ہزوا ولعبا مفعول ثانی۔ من الذین اوتوا الکتاب من قبلکم الذین کا بیان یہ تمام صلہ والکفار اس پر معطوف یہ سب مفعول اول یا ایہا الذین آمنوا لا تتخذوا کا اولیاء مفعول ثانی۔
تفسیر : اسی طرح حضرت ابوبکر ؓ کی خلافت بھی برحق ثابت ہوتی ہے۔ اگر شیعہ یہ کہیں ( کہ اس گروہ کا سردار اور اس وعدہ کی تکمیل کے مہتمم حضرت علی ؓ تھے اور لوگوں کا حضرت علی ؓ کو خلیفہ نہ کرنا اور ان کا حق تلف کرکے ابوبکر ؓ کو خلیفہ بنانا اور فاطمہ ؓ کا حق باغ فدک نہ دینا ارتداد ہے۔ اس وجہ سے جنہوں نے ابوبکر ؓ کو خلیفہ بنایا وہ سب مرتد ہوگئے) تو ہم پوچھتے ہیں کہ حضرت ابوبکر ؓ کی خلافت تمام انصار و مہاجرین کے مشورہ سے ہوئی تھی۔ اگر یہ سب اس وجہ سے مرتد ہوگئے تو پھر ان مرتدوں کو حضرت علی ؓ نے کب پست کیا اور خدا نے کب اپنے وعدہ کو سچا کیا اور وہ کون سی قوم معین اسلام پیدا ہوئی تھی بلکہ برخلاف اس کے حضرت علی ؓ ہمیشہ ابوبکر و عمر ؓ کی خلافت میں شریک رائے رہے اور ان عرب کی مرتد قوموں پر چڑھائی کرنے میں ان کے دل سے شریک رہے اور کسرٰی و قیصر کی سلطنتیں برباد کرکے اسلام کے قبضہ میں کرنا اور اسلام کی بےنہایت ترقی کا پایا جانا سب ابوبکر و عمر ؓ کی خلافت حضرت علی ؓ کی وزارت میں متحقق ہوا۔ رہا یہ احتمال کہ حضرت علی ؓ دل سے شریک نہ تھے اول تو لایخافون لومتہ لائم کے خلاف ہے۔ دوم پھر اس ارتداد کے مقابلہ میں بجائے مقابلہ کے مدد کرنا معاذ اللہ خدا کے وعدہ کو جھوٹا کردینا ہے۔ پس معلوم ہوا کہ وہی ارتداد مراد ہے جو دراصل اسلام سے پھرنا تھا اور جس کو سب ارتداد کہہ سکتے ہیں نہ کہ علی ؓ کو اول مقدم خلیفہ نہ بنایا کیونکہ اس کو خود حضرت علی ؓ نے ہی ارتداد نہیں قرار دیا بلکہ وہ ان لوگوں کو مسلمان سمجھتے رہے۔ مناکحت امامت صلوٰۃ نماز جنازہ تمام باتوں میں ان سے متفق رہے۔ اس کے بعد کافروں کی ولایت سے منع کرکے اللہ اور اس کے رسول کی ولایت اور حمایت میں رہنے کی ترغیب دلاتا ہے اور اللہ کی جماعت کے لئے انجام کار غلبہ کا وعدہ دیتا ہے۔ بقولہ انما ولیکم اللّٰہ ورسولہ والذین آمنوا پھر مومنین کے یہ چند اوصاف ذکر کرتا ہے یقیمون الصلوٰۃ کہ وہ نماز قائم کرتے ہیں۔ یہ بدنی اور روحانی عبادت کا اصل اصول ہے ویؤتون الزکوٰۃ کہ وہ زکوٰۃ دیتے ہیں۔ یہ مالی عبادت کا رکن اعظم ہے وھم راکعون۔ ابو مسلم کہتے ہیں کہ رکوع سے مراد خضوع ہے کہ وہ یہ باتیں نہایت خشوع و خضوع سے کرتے ہیں۔ بعض نے اس کو یؤتون الزکوۃ سے حال بنا کر حالت نماز میں اللہ کے لئے انگوٹھی دینا حضرت علی کی نسبت روایت کیا ہے۔ ومن یتول یہ اللہ اور اس کے رسول اور ایمانداروں کے ساتھ دوستی کرنے والوں کے حق میں بشارت دیتا ہے کہ فان حزب اللّٰہ ھم الغالبون کہ انجام کار خدا کا گروہ غالب رہے گا۔ سو ایسا ہی ہوا۔ پھر اس کے بعدمنافقوں کے ساتھ محبت کرنے سے ان کے چند اوصاف ذمیمہ بیان کرکے ممانعت کرتا ہے کہ انہوں نے دین کو کھیل کود سمجھ رکھا ہے اور جب کہ اذان کہی جاتی ہے تو اس پر ٹھٹھا کرتے ہیں۔ چناچہ مدینہ کے منافق اور یہود اذان سن کر واہی تباہی باتیں بنایا کرتے تھے۔ فرماتا ہے کہ یہ اس لئے کہ یہ احمق ہیں ورنہ نماز و اذان میں عقلاً کوئی برائی نہیں۔
Ayahs 5:59–62ترکیب : وان اکثرھم فاسقون جملہ معطوف ہے ان آمنا پر مثوبۃ تمیز ہے بشر سے من لعنہ اللّٰہ جملہ بدل ہے بشر سے وعبد اگر ماضی کا صیغہ مانا جاوے تو اس کا عطف لعنہ اللہ پر ہے ورنہ القردۃ۔
تفسیر : یہود و نصاریٰ جو اسلام کی عبادت و اذان پر ٹھٹھہ کرتے تھے اب ان سے بطور الزام کے کہا جاتا ہے کہ کیوں صاحبو ہم پر ٹھٹھا کرنے کا یہی باعث ہے کہ ہم اللہ پر اور جو کچھ اس نبی اور اس سے پہلے انبیاء پر نازل کیا ایمان رکھتے ہیں اور تم میں سے اکثر نماز و روزہ سے غافل اور فاسق ہیں ؟ تو یہ تو کوئی عیب اور برائی کی بات نہیں۔ ہاں عیب اور برائی کے قابل وہ لوگ ہیں کہ جن پر خدا نے لعنت کی اور ان کی صورتوں کو بندر اور سور کی صورتوں میں مسخ کیا اور انہوں نے طاغوت یعنی شیطان کی پرستش یعنی پیروی کی۔ چونکہ یہود میں یہ تینوں باتیں پائی جاتی تھیں اور اس کو وہ تسلیم کرتے تھے اس لئے تعریضاً ان پر اس قابل عیب بات کا اشارہ کیا۔
بندر اور سور بنانا اس واقعہ کی طرف اشارہ ہے جو حضرت دائود (علیہ السلام) کے عہد میں یہود پر سبت کے روز شکار کرنے کی وجہ سے گذرا تھا کہ خدا نے ان کے چہروں کو طاعون کے مرض میں مبتلا کرکے ایسا سوجا پھلا دیا تھا کہ بعض کی بندر کی صورت اور بعض کی سور کی صورت معلوم ہوتی تھی۔ آخر تین روز کے اندر اندر اسی میں ہلاک ہوگئے۔ اس کا بیان اوپر گذر چکا۔ عبدالطاغوت میں یہود کی اس بت پرستی اور فسق و فجور کی طرف اشارہ ہے کہ جو بخت نصر کے عہد سے پہلے اور اس کے پیچھے ان میں توریت اور شریعت کے ترک کرنے سے واقع ہوئی۔ چونکہ یہود کا حسن ایمانی بالکل جاتا رہا خدا پرستی اور نیک بختی اور فسق و فجور ان کے نزدیک کچھ بھی وزن نہیں رکھتا تھا اس لئے وہ اغراض دنیا کے واسطے جب آنحضرت ﷺ کی مجلس وعظ و پند میں آتے تو ایمان ظاہر کرتے تھے مگر جب اٹھ کر جاتے تھے تو دامن و آنچل جھاڑ کر ویسے کے ویسے ہی اٹھتے تھے۔ ان کی اس حالت سے خدا تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ اذا جاؤکم قالوا آمنا الخ یعنی اس قوم کے شجر کہنہ میں اصلاح کی قابلیت ہی نہ رہی۔ یہ اس قابل ہے کہ اس کو زمین پر سے بالکل کاٹ دیا جاوے کہ اس کے کانٹے اور برے پھلوں سے اور بنی آدم کا مزاج روحانی خراب نہ ہو سو ایسا ہی ہوا۔
Ayahs 5:63–66ترکیب : واکلہم السحت مصدر مصاف ہے مفعول کی طرف وکذاقولہ عن قولہم الاثم ما کانوا یعملون جملہ بتاویل مصدر فاعل بئس لیزیدن کا فاعل انزل الخ کثیرًا مفعول اول طغیانا وکفرا مفعول ثانی علت الخ جملہ بددعا کے لئے ولو ان شرط لکفرنا جواب ولوانہم اقاموا شرط لاکلوا جواب شرط۔
تفسیر : پہلے جملہ میں ان کے عوام پر عتاب تھا کہ وہ حرام خوری اور بےدینی میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ یہاں ان کے علماء اور درویشوں پر تنبیہ ہوتی ہے کہ پھر یہ لوگ کیوں ان کو ایسی بری باتوں سے منع نہیں کرتے ؟ اور جب جس قوم کے علماء اور عوام کا یہ حال ہوگا تو وہ قوم کیونکر فلاح اور سعادت کا منہ دیکھ سکتی ہے۔ اس لئے نصیحتاً فرماتا ہے لبئس ما کانوا یعملون پھر ماکانوا یعملون کی تفصیل کرتا ہے۔ وقالت الیہود وید اللّٰہ مغلولۃ۔ یہ بات غالباً مدینہ کے آس پاس کے رہنے والے بعض شریروں نے کی تھی نہ کہ کل یہود نے اور اس کفر کے کلمہ کہنے کا باعث علمائِ اسلام نے یہ بیان کیا ہے کہ جب قرآن میں یہ آیت نازل ہوئی من ذالذی یقرض اللّٰہ قرضًا حسنًا کہ کون شخص ہے جو اللہ کو قرض حسن دیوے یہودی بےادبوں نے اس کا مطلب نہ سمجھ کر یہ کلمہ جواب میں کہہ دیا یا آنحضرت ﷺ اور صحابہ کا فقر و فاقہ دیکھ کر تمسخر کے طور پر یہ کہہ دیا ہو یا اس لئے کہ یہود کی سلطنت و شوکت کا زوال خیال میں آگیا ہو۔ غلت ایدیہم ولعنوابما قالوا یہ جملہ بددعا کے طور پر اس کے جواب میں فرمایا ٗ بل یداہ مبسوطتان ہاتھوں کا بند ہونا اور کشادہ ہونا کنایہ ہے بخل اور جود سے زبان عرب میں سخی کو مبسوط الید کہتے ہیں۔ آیت میں اگرچہ خدا تعالیٰ کے لئے لفظ ید آیا ہے اور اسی طرح اور بہت جگہ ید اور وجہ کا اطلاق ہوا ہے مگر جمہور اہل اسلام آیات تنزیہ پر لحاظ کرکے اس بات پر متفق ہیں کہ خدا تعالیٰ جسم اور جسمانیت اور ان کے لوازمات حدوث و امکان سب سے پاک اور منزہ ہے۔ شرح عقائدِ نسفی اور شرح مواقف اور شرح مقاصد و غیر کتب کلام میں اس کی تصریح ہے۔ پھر ہاتھ اور منہ اور ساق سے کیا مراد ہے ؟ متقدمین فرماتے ہیں کہ یہ الفاظ چونکہ قرآن و حدیث صحیحہ میں اس کی نسبت وارد ہیں اور ان کے معنی متبادر جو ہمارے ذہن میں آتے ہیں وہ اس کی ذات پاک کے لائق نہیں۔ اس لئے ہم ان الفاظ کے معانی کو اس کے سپرد کرتے اور الفاظ پر ایمان رکھتے ہیں۔ متکلمین کہتے ہیں کہ ان الفاظ کا اطلاق مجازاً ہوا ہے۔ چناچہ اس جگہ خدا کے ہاتھ کشادہ ہونے سے محاورہ ٔ عرب کے موجب اس کا جواد کریم ہونا مراد ہے اور یہی حال تمام الفاظ کا ہے (کبیر) اور صحیح تر بھی یہی ہے۔ ولیزیدن کثیرا منہم الخ یہاں یہ بات بتلاتا ہے کہ یہود نے جو اقرضوا اللّٰہ قرضاً حسنا پر اعتراض کرکے ید اللّٰہ مغلولۃ کہہ دیا اور ایسی کفر کی باتیں منہ سے بکنے لگے۔ کچھ تعجب کی بات نہیں کیونکہ شریر اور بدنہادوں کا قاعدہ ہے کہ ان کو جس قدر نصیحت کیجئے وہ اس قدر ضد میں آکر اور بھی کفر بکنے لگتے ہیں۔ جوں جوں قرآن میں ان کے لئے نصائح نازل ہوتے رہیں گے اسی قدر ان کا انکار اور ضد کرکے یہ کفر اور سرکشی میں آگے قدم رکھیں گے کیونکہ ان میں صلاحیت نہیں رہی۔ ہر ایک شخص اپنی خواہش نفسانی کا بندہ ہے اور اس کے جو کوئی سد راہ ہوتا ہے۔ اس سے بجنگ وجدال پیش آتا ہے۔ کینہ و عداوت ظاہر کرتا ہے کس لئے کہ اتفاق کا باعث اتحاد مقصود ہے اور اختلاف و عداوت کا سبب اختلاف اغراض و مقاصد ہے۔ سو اس حالت کو خدا تعالیٰ اپنا آسمانی قہر جتلا کر یہ فرماتا ہے۔ والقینا بینہم العداوۃ والبغضاء الی یوم القیامۃ اور کچھ باہمی عداوت اور بغض پر منحصر نہیں بلکہ یہ حق کے مقابلہ میں بھی بار بار آتش فتنہ و فساد سلگاتے ہیں جس کو خدا اپنی رحمت کے پانی سے بجھا دیتا ہے۔ کلما اوقد نارا للحرب اطفاء اللّٰہ پھر جب اس سے ناکام رہتے ہیں تو اور طرح طرح کے فساد اٹھاتے پھرتے ہیں۔ ویسعون فی الارض فساد الخ پھر ان کے ذمایم بیان فرما کر یہ بات بتلاتا ہے کہ جو کچھ خرابیاں ان پر پڑیں دارین کی برکات سے محروم ہوگئے۔ خصوصاً یہود دنیاوی ذلتوں میں گرفتار کئے گئے۔ بخت نصر اور اینٹوکس اور طیطس وغیرہ کے حوادث میں مبتلا ہوئے۔ یہ سب بلا ان پر اس سبب سے ہے کہ انہوں نے توریت و انجیل پر عمل نہیں کیا۔ ولوان اھل الکتاب آمنوا واتقوا الخ ولوانہم اقامو التوارۃ والانجیل الخ اگر یہ آسمانی کتابوں پر عمل کرتے تو ان پر برکتوں کے دروازے کھل جاتے اور اپنے اوپر اور نیچے سے کھاتے یعنی ہر طرف اور ہر طرح سے ان پر رزق میں وسعت اور کشائش ہوجاتی یا اوپر سے کھانا آسمانی بارش سے آمدنی یا درختوں کے پھل مراد اور نیچے سے کھانے سے یا زمین کی پیداوار نباتات یا زمین کی اور آمدنی مگر انہوں نے ایسا نہ کیا۔ توریت کو یہود نے ایسا چھوڑا کہ عالم سے ہی معدوم کردیا۔ اسی طرح اپنی اپنی تصانیف کے لئے انجیل شریف کو کھو دیا۔ یہ کلام بالذات تو اسی زمانہ کے لوگوں سے ہے۔ انہوں نے توریت و انجیل کی موجودگی میں ان پر عمل نہ کیا اور تبعاً آنحضرت ﷺ کے عہد کے یہود و نصاریٰ سے جیسا کہ اول سورة میں اذ انجینکم من آل فرعون وغیرہ میں ان کے خاندان کی نعماء کا ان پر ہونا ظاہر کیا ہے اور اگر خصوصاً آنحضرت ﷺ کے عہد کے یہود و نصاریٰ سے خطاب ہو تو توریت و انجیل سے مراد ان کے احکام ہیں۔ چناچہ تفسیر کبیر میں لکھا ہے اقامۃ التوارۃ والانجیل اقامۃ احکامہا وحدودہا۔ اور آنحضرت ﷺ کے عہد میں گو توریت و انجیل اصلی موجود نہ تھی مگر ان کے احکام تو اس فرضی توریت و انجیل میں پیشتر موجود تھے۔ اس لئے وہ بھی عمل نہ کرنے سے مورد الزام ہوئے۔ یہاں سے آنحضرت ﷺ کے عہد میں توریت و انجیل اصلی کا موجود ہونا سمجھ لینا اور پھر اس سے آج کل کے فرضی مجموعہ کو وہی توریت و انجیل بتانا محض کم فہمی ہے اور دھوکا ہے۔
Ayahs 5:67–68ترکیب : بلغ فعل بافعل ‘ ما انزل الخ صلہ و موصول اس کا مفعول وان لم تفعل شرط فما بلغت جواب واللّٰہ مبتدا یعصمک خبر حتی غایۃ ہے لستم کی۔
تفسیر : یہود و نصاریٰ کی خرابیاں بیان فرما کر آنحضرت ﷺ کو تبلیغ وحی میں بلغ کے ساتھ تاکید فرمائی جاتی ہے کہ اگر آپ کسی کے خوف و اندیشہ سے تبلیغ دین میں کچھ کوتاہی کریں گے تو عہد رسالت کے ذمہ دار ہوں گے۔ چونکہ عرب کی مشرک قوموں سے تو مکہ ہی سے بسبب توحید ظاہر کرنے کے مخالفت سخت ہوگئی تھی وہ شب و روز نبی ﷺ اور آنحضرت ﷺ کی جماعت کی ایذا اور تکلیف دہی میں سرگرم تھے۔ اس لئے جب ان کے ظلموں کی برداشت نہ ہوسکی مکہ چھوڑ کر مدینہ میں رہنا اختیار کیا۔ یہاں یہود و نصاریٰ کے گروہ زور آور اور سرکش تھے۔ یہ بھی امر حق کے ظاہر کرنے سے جو ان کی طبائع کے خلاف اور رسمی مذہب کے برخلاف تھا سخت دشمن ہوگئے۔ رہے بیچارے انصار اور چند غریب اور مفلس مہاجرین سو وہ بظاہر تمام قبائلِ عرب اور یہود و نصاریٰ کے دفع ظلم و ستم پر پورے قادر نہ تھے۔ ایسی صورت میں انسانی طبیعت کا مقتضٰی ہے کہ ذرا لب بند کرے مگر چونکہ آپ اس کے رسول برحق اور نبی موعود تھے جن کے آنے پر تمام قوموں کی بھلائی اور نجات منحصر رکھی گئی تھی اسی لئے خدا نے تاکید سے بلغ ما انزل فرمایا اور لوگوں کے خوف اور دہشت کی بابت آپ آنحضرت ﷺ کی حفاظت کا ذمہ لیا کہ واللّٰہ یعصمک من الناس اور ایسی حالت میں جس کا عشر عشیر حضرت مسیح (علیہ السلام) اور زکریا (علیہ السلام) پر نہ تھی تب بھی وہ کفار کی گزند سے محفوظ نہ رہے۔ آنحضرت ﷺ کا محفوظ رہنا خصوصاً ایسے ملک میں کہ جہاں کوئی حاکم بھی ظالموں کے لئے داروگیر کرنے والا نہیں ایک بڑی دلیل منجانب اللہ ہونے کی ہے مگر کافروں کی آنکھوں پر ازلی پردہ ہے اور اس سے دیکھ نہیں سکتے۔ ان اللّٰہ لا یہدی القوم الکافرین کے یہی معنی ہیں۔ اس کے بعد مانزل الیک من ربک کی قسم خاص کو جو اس وقت ضروری التبلیغ تھی یہود و نصاریٰ کے گمان فاسد کو ایسے طور پر غلط کرنے کے لئے کہ جس کو وہ بھی تسلیم کرلیں یہ ارشاد ہوا قل یا اھل الکتاب الخ کہ جب تم توریت و انجیل اور خدا کے تمام نوشتوں پر نہ چلو گے فلاح وسعادت کا منہ نہ دیکھو گے۔ یہ مقدمہ مسلم ہے۔ رہا ان کتابوں پر چلنا سو وہ ان کی تحریفات و تخریبات کی وجہ سے بجز قرآن مجید کے کہ جو ان کتابوں کا محافظ و مہیمن ہے یعنی سچا خلاصہ مع ترمیمِ الٰہی ممکن نہیں سو بغیر قرآن و نبی (علیہ السلام) راہ ہدایت ملنی ممکن نہیں مگر یہود و نصاریٰ اس بات کو کب ماننے والے تھے بلکہ سرکشی اور عناد کرنے والے ولیزیدن الخ اس لئے آپ کو تسلی دیتا ہے کہ پھر تم بھی کچھ ان کی اس حالت پر رنج و افسوس نہ کرو۔ فلاتاس الخ۔
Ayahs 5:69–72ترکیب : من آمن شرط فلا خوف الخ جواب جملہ خبران والصابئون مبتدا اس کی خبر محذوف جیسا کہ فانی و قیاربہا لغریب ای فانی لغریب وقیار بہا کذلک کلما جاء شرط ھم جاء کا بسبب متعدی ہونے کے مفعول اول بما لاتہویٰ مفعول ثانی رسول فاعل فریقا الخ جملہ جواب۔
تفسیر : چونکہ یہود و نصاریٰ کو یہ گمان تھا کہ نجات یہودی یا نصرانی کے بعد اور کو نہیں ہوگی اور اب تک دونوں فریق کو یہی گمان ہے جیسا کہ ہنود کا گمان ہے۔ حالانکہ یہ گمان بالکل غلط ہے۔ اس کا ابطال کرنا منصب خاتم النبوۃ کا فرض تھا۔ اگر یوں ابطال کرتے کہ تمہارا گمان غلط ہے تو چنداں موثر نہ ہوتا بلکہ وہ یہ طعن کرتے کہ یہ نبی حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کی اتباع سے منع کیا کرتا ہے۔ کیسا نبی ہے ؟ بلکہ ایک ایسی مسلم بات بیان کی کہ جس کی تسلیم کے بغیر کسی عقلمند آدمی کو چارہ نہیں ہے جس سے خود بخود ان کے عقیدہ فاسدہ کا ابطال ہوجاتا ہے۔ وہ یہ کہ خدا نے انسان کو دو قوتیں عنایت کی ہیں جن کی تکمیل سے اس کی نجات ہے۔ ایک قوت نظریہ اس کی تکمیل یہ ہے کہ اشرف الموجودات حق سبحانہ کو مع صفات خصوصاً صفت اقامۃ حشر و نشر جزاء و سزا جانے۔ دوسری قوت عملیہ اس کی تکمیل یہ ہے کہ خالق کی تعظیم و عبادت کے بعد خلق کی نفع رسانی اس لئے اعلان عام کے طور پر فرماتا ہے کہ خواہ کوئی یہودی ہو خواہ نصرانی خواہ مسلمان خواہ صابی جو ان دونوں قوتوں کی تکمیل کرے گا (اول کی طرف من آمن باللّٰہ والیوم الاخر میں اور دوسری کی طرف وعمل صالحاً میں اشارہ کیا) وہ نجات کے دونوں حصوں کو حاصل کرے گا۔ اول یہ کہ اس کو وہاں کے عقوبات سے کچھ خوف نہ ہوگا۔ دوم یہ کہ وہاں کے نعماء کے مقابلہ میں دنیا کی نعمتیں ہاتھ سے چھن جانے پر کچھ حزن نہ کرے گا۔ چونکہ اس تکمیل کا نام اسلام ہے اس لئے ان کے مقابلے میں نجات کا انحصار اسلام پر کرنا بہت ٹھیک بات ہے۔ اس کے بعد یہود کی قدیم سرکشی بیان فرما کر یہ بات بتلاتا ہے کہ جو ایسی سرکش اور گمراہ قوم ہو اور اس گمراہی کو تسلیم بھی کرتی ہو نبی معہود کی اطاعت نہ کرے اور اپنی سرکشی میں نجات کا دعویٰ کرے بایں خواری توقع ملک داری کا مضمون ہے اور وہ قدیم سرکشی یہ ہے لقد اخذنا یعنی باوجود یکہ بنی اسرائیل سے عہد لے لیا تھا اس پر پے در پے انبیاء بھی بھیجتے رہے مگر جب کسی نے ان کے برخلاف کہا تو اس کے قتل و تکذیب کے درپے ہوگئے جیسا کہ زکریا و یحییٰ و عیسیٰ (علیہم السلام) کے ساتھ کیا اور لطف یہ ہے کہ باوجود اس قتل و تکذیب کے صرف نسل یعقوب و ابراہیم سے ہونے کی وجہ سے یہ سمجھتے تھے کہ ان پر کوئی بلا نازل نہ ہوگی۔ اصل یہ ہے کہ وہ اندھے بہرے ہوجاتے تھے۔ پھر خدا ان کو کسی نبی کی معرفت متنبہ کرتا تھا۔ ثم تاب اللّٰہ علیہم مگر چند روز بعد پھر وہ اندھے بہرے ہوجاتے تھے نہ حق کو دیکھتے تھے نہ کسی حق گو کی سنتے تھے۔ یہ خدا کا بڑا قہر اور باعث ہلاکت دارین ہے۔
Ayahs 5:73–75ترکیب : ثالث ثلثہ ای احد ثلثۃ اور ایسے موقع میں بجز اضافت کے اور کوئی صورت جائز نہیں وما من الہ من زائد اور الٰہ موضع مبتداء میں ہے اور خبر محذوف ہے اے وما للخلق الہ الا اللہ۔ الٰہ واحد بدل ہے الٰہ سے لیمسن جواب ہے قسم محذوف کا اور یہ قائم مقام ہے جواب شرط کے جو ان لم ینتہوا ہے منہم موضع حال میں ہے الذین سے قد خلت موضع رفع میں صفت رسول کی کان یاکلان الخ اس کا اعراب میں کوئی محل نہیں۔
تفسیر : ابطال الوہیت مسیح : بلغ ما انزل کے بعد مجملاً اہل کتاب کو لستم علی شیء حتی تقیموا التوراۃ والانجیل کہہ کر پھر تفصیلاً ہر ایک عقیدہ فاسدہ پر کلام کرتا ہے۔ چونکہ عیسائی اپنے دین کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے دین کا عطر اور پچھلے نبی کا آراستہ کردہ اور روحانی مذہب خیال کرتے تھے۔ یہ خیال اس وقت تک صحیح تھا جس وقت تک کہ اس مقدس مذہب میں تحریف و تبدل نہ ہوئی تھی مگر چونکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے تھوڑے ہی عرصے کے بعد پولوس اور اس کے مریدوں کی افراط وتفریط سے اس دین میں ایسا خلط ہوا کہ کچھ کا کچھ ہوگیا جس کی اصلاح اور درستی آنحضرت ﷺ کے ہاتھوں پر منحصر تھی۔ اس لئے سب سے اول ان کی اول غلطی اعتقاد ظاہر فرماتا ہے اور یہ اعتقاد حد درجہ کی تاریکی روح کا باعث تھا۔ اس لئے اس کو لفظ کفر سے تعبیر کیا۔ الوہیت مسیح کو لقد کفر الذین قالوا ان اللّٰہ ھو المسیح ابن مریم عیسائیوں کے اکثر فریق خصوصاً کلیسائِ عرب بلکہ آج کل کے رومن کیتھولک اور پر اٹسٹنٹ حضرت مسیح (علیہ السلام) کو الٰہ یعنی خدا کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے دنیا کے گناہ معاف کرنے کے لئے حضرت مریم ( علیہ السلام) کے پیٹ سے بشکل مسیح ظہور کیا۔ جیسا کہ ہندوئوں کا اعتقاد اوتاروں کی نسبت ہے کہ ایشور یعنی خدا تعالیٰ شیر اور انسانوں کی صورت میں ظاہر ہوا۔
اس لغو اعتقاد کے ابطال پر دلائل کی ضرورت نہ سمجھ کر صرف مسیح (علیہ السلام) کے قول پر بس کیا کہ جس سے الوہیت کی نفی اور عبودیت کا ثبوت پایا جاتا ہے وقال المسیح الخ کہ مسیح نے بنی اسرائیل سے کہا تھا اللہ کی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا دونوں کا خدا ہے کیونکہ جو اس کے سوا اور کو پوجے گا وہ مشرک ہوگا کہ جس پر جنت حرام اور جہنم اس کا ٹھکانا ہے۔ انجیل مرقس کے 12 باب 29 درس میں ہے۔ یسوع (مسیح) نے اس کے جواب میں کہا کہ سب حکموں سے اول یہ ہے کہ اے اسرائیلی سن وہ خداوند جو ہمارا خدا ہے ایک ہی خداوند ہے اور تو اپنے خداوند کو سارے دل و جان و عقل و قوت سے پیار کر (یعنی اس کی خا لصاً عبادت کر) انتہیٰ ملخصاً یہ مضمون اس جگہ کو پورا پایا گیا رہا انہ من یشرک باللّٰہ دوسرے مواضع سے ثابت ہے اور ممکن ہے کہ ناقل انجیل نے یہ جملہ سہواً ترک کیا ہو۔ یہ نقل کلام مسیح نہ ہو اور اس مطلب کے مؤید اور بھی جملے اناجیل موجودہ میں پائے جاتے ہیں جن سے مسیح کا بندہ ہونا پایا جاتا ہے بلکہ خود ان کا عبادت کرنا ‘ روزہ رکھنا ان اناجیل میں مذکور ہے۔ پس اگر خدا ہوتے تو عبادت کس کی کرتے اور اپنا خدائِ واحد کیوں بتلاتے بلکہ آپ خدائی کے مدعی ہوتے۔ سو ایسا کہیں نہیں پس ثابت ہوا کہ یہ قول غلط ہے۔ لوگوں نے افراط محبت سے پیدا کرلیا ہے۔
ابطال تثلیث : عیسائیوں کا دوسرا عقیدہ بد تثلیث کا تھا اور اب بھی ہے کہ جس کو وہ موجب نجات سمجھتے ہیں۔ اس کو بھی خدا نے بلفظ کفر تعبیر کیا لقد کفر الذین قالوا ان اللہ ثالث ثلثۃ۔ عیسائی (نہیں بلکہ پولوسی) کہتے ہیں کہ جوہر واحد 1 ؎ کے تین اقنوم (حصہ) ہیں اب ابن روح القدس اور یہ تینوں مل کر ایک خدا ہوا۔ جیسا کہ آفتاب کا اطلاق قرص اور شعاع اور حرارت پر ہوتا ہے۔ اب سے مراد اللہ اور ابن سے کلمہ یعنی حضرت مسیح اور روح سے حیات یا جبرئیل اور عرب کے عیسائی بجائے روح القدس کے تیسرا اقنوم حضرت مریم کو قرار دیا کرتے تھے۔ اس کو تثلیث کہتے ہیں اس سے خدا منع کرتا اور عذاب الیم کا خوف دلاتا ہے۔
اب اس خراب اور فاسد عقیدے کے بطلان پر چندادلّہ قائم کرتا ہے : (1) مامن الہ الا الہ واحد الخ یہ بات کہ خدا ایک ہے۔ تمام انبیائِ سابقین اور عقل اور خود مسیح کی شہادت سے ثابت ہے جو اناجیل مروجہ میں بھی اب تک پائی جاتی ہے اور تثلیث اس توحید کی صریح نقیض ہے۔ پس اس کے بطلان میں اب کیا کلام باقی ہے۔ اس کے جواب میں بعض پادری کبھی ان تینوں اقانیم کو صفات کہتے ہیں۔ کبھی کبھی مراتب اجمال و تفصیل قرار دیتے ہیں مگر ان کے وجود مستقل ماننے اور باہم علت و معلول قرار دینے نے سب توجیہات کو باطل کر رکھا ہے۔ (2) ما المسیح ابن مریم الارسول کہ اور رسولوں سے مسیح میں کوئی بات زائد نہ تھی پھر جب وہ خدا یا خدائی کا جزو نہیں تو یہ کیونکر ہوگئے ؟ اگر بغیر باپ کے پیدا ہونا تو آدم (علیہ السلام) بغیر باپ اور ماں کے پیدا ہوئے تھے۔ اگر مردہ زندہ کرنا تو حضرت الیاس (علیہ السلام) کا لڑکے کو زندہ کرنا (اول کتاب السلاطین 17 باب) اور حضرت الیشع کے معجزات 2 کتاب السلاطین میں بہت کچھ موجود ہیں۔ اگر خدا کا بندہ کہلانا تو اس لفظ کا اطلاق اور بھی سینکڑوں پر بائبل میں ہوا ہے جیسا کہ انجیل متی باب 6 و دیگر مقامات سے ثابت ہے مگر آسمانوں پر اٹھایا جانا تو حنوخ کا کتاب پیدائش کے 5 باب میں اور الیاس کا کتاب السلاطین کے 2 باب میں اور کوئی وجہ خصوصیت پائی نہیں جاتی۔ (3) وامہ صدیقہ کانا یا کلان الطعام جس کی ماں ہوگی تو وہ ضرورت حادث ہوگا اور حادث نہ خدا ہے نہ خدائی کا جزو اور عیسیٰ (علیہ السلام) کی ماں مریم تھی۔ دوم دونوں کا کھانا کھانا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ بھوک اور پیاس کو دفع نہ کرسکتے تھے۔ کھانے کے محتاج تھے اور اللہ کسی کا محتاج نہیں اور یہ تاویل کچھ مفید نہیں کہ مسیح میں الوہیت اور انسانیت جمع تھی۔
1 ؎ ان تینوں اقنوم کو بعض نے وجوہ حیات علم کے ساتھ تعبیر کیا ہے۔ سیل نے مقدمہ ترجمہ قرآن میں لکھا ہے کہ عرب میں ایک فرقہ تھا جس کو لنیر مدتیس کہتے ہیں وہ بھی مریم کو تثلیث میں بجائے روح القدس داخل کرتا تھا جس طرح کہ میریا مائٹ کرانے والے لوگ داخل کرتے تھے۔ قرآن مجید میں جو آیا ہے اتتخذونی وامی الہین الآیہ انہیں لوگوں کے اعتقاد کے رد میں ہے۔ فرقہ ابیونی اس تثلیث کا اول سے منکر تھا اور 200 عیسوی میں مارتمن فرقہ بھی منکر تثلیث تھا (رومن تاریخ کلیسا) چناچہ فرقہ یونی ٹیرن اب تک منکر ہے۔ یہ خراب عقیدہ اریوس کے انکار اور اتھانبشیشس کے اصرار اور قسطنطین بادشاہ روم کی حمایت اور شہر نائس میں کمیٹی کے مجبورانہ فتوے سے زیادہ رواج پایا گیا۔ گو اس کے بعد بھی اسی عقیدہ پر سالہا سال باہم جنگ وجدال رہا۔ یہ بلالوس اور اس کے گروہ نے حواریوں کے خلاف ہو کر پھیلائی تھی۔ 12 منہ
Ayahs 5:76–82ترکیب : مالا یملک مانکرہ موصوفہ یا بمعنی الذی مفعول تعبدون لا تغلوا فعل لازم ہے اور غیر الحق صفت ہے مصدر محذوف کی اے غلو غیر الحق اور جائز ہے کہ حال ہو ضمیر فاعل سے ای لاتغلوا مجاوزین الحق من بنی اسرائیل حال ہے الذین کفروا سے علی لسان داؤد متعلق ہے لعنوا سے۔
تفسیر : اب ایک اور دلیل یہود و نصاریٰ و مشرکین کے مقابلہ میں ایسی ذکر فرماتا ہے کہ جس سے اللہ کے سوا تمام چیزوں کا معبود ہونا باطل ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ معبود وہ ہونا چاہیے جو نفع و ضرر کا مالک ہو اور یہی بات ہے کہ جس سے کسی کی عبادت اور اطاعت کی جاتی ہے اور حضرت مسیح (علیہ السلام) اور عزیر (علیہ السلام) اور مشرکین کے فرضی خدا نہ کسی کو نفع دے سکتے ہیں نہ ضرر کیونکہ جب وہ اپنے ضرر کو دفع نہیں کرسکے (مسیح نے بقول نصاریٰ صلیب پر چیخ چیخ کر جان دی اور ایلی ایلی پکارا کئے) تو اور کا ضرر کیا دفع کریں گے۔ قل اتعبدون سے ھوالسمیع العلیم تک اس دلیل کی طرف اشارہ ہے۔ پھر اہل کتاب سے خطاب کرتا ہے کہ تم اپنے دین میں غلو یعنی زیادتی نہ کرو اور اپنے سے پہلے گمراہ قوموں کی پیروی نہ کرو جو خود بھی گمراہ ہو چکیں اور لوگوں کو گمراہ کرتی تھیں جیسا کہ حور بابل اور نینوا کے بت پرست اور دراصل انہیں قوموں کے رسم و رواج نے اہل کتاب کو تباہ کیا۔ ادھر یونان اور روم کی بت پرست قوموں کی صحبت نے عیسائیوں کو خراب کیا۔ اس کے بعد بنی اسرائیل کے اوپر جو انبیاء (علیہم السلام) کی طرف سے پھٹکار پڑی اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی زبانی ان یہود پر لعنت ہوئی کہ جو مائدہ کا معجزہ دیکھ کر بھی ایمان نہ لائے یعنی حضرت دائود (علیہ السلام) کے زمانہ سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک یہ حالت تھی کہ نافرمان اور حد سے تجاوز کرنے والے اور جس برے کام کو کرتے تھے لایتناھون (تفاعل من النہی اے لاینھی بعضہم بعضاً ) کہ ایک دوسرے کو منع نہ کرتا تھا (یا بمعنی الانتہٰی) کہ اس میں کمی نہ کرتے تھے۔ پھر جب ان کی اس عہد میں یہ کیفیت تھی تو اب نبی آخر الزماں کے عہد میں تو جس قدر سرکش اور بدباطن یہ قوم ہوگئی تھی ظاہر ہے۔
Ayahs 5:83–88ترکیب : ان سخط ان بتاویل مصدر خبر ہے مبتداء محذوف کی جو ھو ہے اور ممکن ہے کہ یہ بدل ہو ما قدمت کا جو محلاً منصوب ہوگا وھذا رجح ما اتخذوھم جواب ہے ولو کانوا یؤمنون کا ‘ عداوۃ منصوب ہے بوجہ تمیز ہونے کے اشد سے ‘ للذین آمنوا متعلق ہے عداوۃ سے ‘ الیہود معطوف علیہ والذین اشرکوا معطوف مجموعہ مفعول ہے لتجدن کا ‘ للذین متعلق ہے مودۃ سے ‘ الذین قالوا انا نصریٰ جملہ مفعول ثانی ہے لتجدن کا ‘ بان ثابت کے متعلق ہو کر خبر ہے ذلک کی ‘ واذا اسمعوا معطوف ہے خبر ان پر جو لایستکبرون ہے اور ممکن ہے کہ جملہ مستانفہ ہو گو معنیً اس کو ماسبق سے علاقہ ہو۔ تری کو اگر رویۃً عین سے لیا جاوے تو تفیض حال ہوگا ونطمع حال عاملہ حال الحال الاولی ولکن مقید بالحال الاولی بتقدیر نحن او عطف علی نؤمن او حال من فاعل لا نؤمن۔
تفسیر : جب کہ خدا تعالیٰ یہود کے اسلاف کا حال بیان کرچکا تو اب خود ان کا حال بیان کرتا ہے۔ وہ یہ کہ تریٰ کثیرا منہم مدینہ کے یہود کعب بن اشرف وغیرہ مشرکین عرب کو جوش دلا کر اسلام کے مقابلہ میں ابھارتے تھے اور باوجود یکہ توحید اور اقرار نبوت موسیٰ اور تصدیق توریت میں اسلام ان کا ہم زبان تھا مگر اپنی خبث باطنی سے ان کے مقابلہ میں مشرکین عرب سے یاری کرتے تھے پھر فرماتا ہے کہ اگر وہ اپنے نبی پر بھی بصدق دل ایمان لاتے تو ہرگز ایسا نہ کرتے۔ اس کے بعد یہودو نصاریٰ کا اس امر میں فرق بیان کرتا ہے لتجدن اشد الناس کہ اگرچہ یہود سے نصاریٰ کا کفر بڑھ کر ہے (کیونکہ یہود سے تو صرف نبوت میں کلام ہے مگر نصاریٰ تو آدمی کو خدا کہتے ہیں) لیکن با این ہمہ ان میں ایک قسم کی خدا ترسی اور خوف آخرت اور دنیا سے نفرت پائی جاتی ہے کیونکہ ان میں قسیس و رہبان بھی ہیں جو نہایت نرم دل ہوتے ہیں اور یہود میں سراسر حبِّ جاہ ہے جو تمام سخت دلیوں اور عداوتوں کا سرچشمہ ہے۔ پس اسلام کا سب سے سخت تر دشمن اے نبی علیک السلام آپ یہود کو پاویں گے اور کافروں میں نرم اور رحم دل اسلام کے لئے عیسائیوں کو پاویں گے۔ پھر آگے ان عیسائیوں کی رحم دلی اور خدا ترسی کا ذکر فرماتا ہے کہ جب وہ کلام الٰہی سنتے ہیں تو حق جان کر رونے لگتے ہیں اور خدا سے دعا کرتے ہیں کہ ہم کو بھی نیک لوگوں کی جماعت میں داخل کر دے۔ اس کے بعد خدا تعالیٰ ان کے لئے ثوابِ آخرت ‘ جنت کا وعدہ اور تکذیب و کفر کرنے والوں کے لئے جہنم کی سزا ذکر کرتا ہے۔
جمہور مفسرین اس بات پر متفق ہیں کہ اذا سمعوا سے آخر تک عام عیسائیوں کے حق میں نہیں بلکہ نجاشی اور اس کے متبعین کے حق میں ہے۔ پس جب یہ ہے تو لتجدن الخ اسلام کی نسبت رحمدل اور بامروت ہونا بھی انہیں کے حق میں ہے کیونکہ سب کلام متصل ہے۔ یہ بات بھی یقین کرنے کے قابل ہے کہ مذہب عیسوی میں رحمدلی اور نرمی کا ایک بڑا بھاری حصہ ہے۔ مذہب کی پابندی کے لحاظ سے عیسائیوں کے نزدیک محمدیوں کا برا کہنا بھی جائز نہیں۔ چہ جائیکہ ان کو ستانا اور ان سے عداوت رکھنا۔ کس لئے کہ اسلام میں حضرت عیسیٰ ؓ پر ادب سے ایمان لانے کی اور حواریوں کی تعظیم کی اور انجیل شریف کے تصدیق کی نہایت تاکید ہے اور عیسائیوں کے نزدیک مسیح پر ایمان لانے والامستحق نجات ہے اور اس سے برادرانہ برتائو کرنا لازم ہے۔ ہاں جو لوگ کہ برائے نام عیسائی ہیں اور پورے ملحد ہیں یا وہ مسلمانوں سے مقابلہ کرتے کرتے سخت دل ہوگئے ہیں جیسا کہ پادریان حال البتہ وہ تو مسلمانوں سے بجائے مودت کے عداوت اور سختی برتتے ہیں۔
یہی لوگ تو ہیں جنہوں نے صلاح الدین مصری کے عہد میں جب کہ عیسائیوں نے متفق ہو کر بیت المقدس چھڑانے کے لئے مسلمانوں سے برسوں تک سخت خونخوار لڑائیاں کیں اور ایک بار باوجودامن مانگنے کے ہزاروں مرد و زن اسلام کو نہایت بےرحمی سے قتل کیا۔ اس معرکہ کو حرب الصلیب 1 ؎ کہتے ہیں۔ یہ لڑائی مدتوں تک رہی تھی۔ کتب تواریخ میں اس کا مفصل ذکر ہے مگر ان کے برخلاف جب صلاح الدین نے بیت المقدس کو پھر واپس لیا تو کسی عیسائی کو ایذا تک نہیں دی بلکہ جو لڑنے کو جمع ہو کر آئے تھے ان کے زخمیوں کے علاج کئے۔ ان کو ضرورت کی چیزیں عطا کیں اور اس سے بڑھ کر جو عیسائیوں کی سخت دلی اور مسلمانوں پر بےحد ظلم اور زیادتی دیکھنی منظور ہو تو وہ سپین یعنی اندلس کے اس معرکہ کو دیکھے جب کہ عیسائیوں نے پادریوں کی ہدایت سے اندلس کے مسلمانوں پر حملہ کرکے ان کو مغلوب کیا اور اس کے بعد ایک حکم نامہ جاری کیا کہ جو عیسائی ہوجاوے گا تو امن پائے گا ورنہ قتل کیا جائے گا۔ چناچہ ایسا ہی کیا گیا ہزاروں مرد و زن مسلمان بھوک اور پیاس اور سردی کے مارے بن آئی مرگئے جو کہ عیسائیوں کی تلوار سے بچے تھے سینکڑوں گھروں کو مع اس کے مکان کے آگ لگا دی گئی۔
1 ؎ حضرت عمر ؓ کے عہد سے اور شلیم اور بیت المقدس اہل اسلام کے قبضہ میں چلا آتا تھا، پھر پطرس (پیٹر) راہب کی اشتعالک سے یورپ کے بادشاہوں نے جمع ہو کر دسویں صدی عیسوی میں بیت المقدس پر حملہ کیا اور شہر کو لے لیا اور چالیس ہزار مسلمانوں کو جن میں بچے اور بیمار ‘ عورتیں اور بڈھے بھی تھے سب کو بےرحمی سے قتل کیا۔ (کتاب جان ڈیون پورٹ مطبوعہ 1870 ء صفحہ 103) مگر 1188 ء میں جب صلاح الدین مصری نے یہ شہر واپس لیا تو کسی کے ساتھ بدسلوکی نہ کی بلکہ آسائش دی۔ یہ لڑائی تخمینا دو سو برس اہل اسلام اور اہل یورپ عیسائیوں میں رہی۔ 12 منہ
سینکڑوں عورتوں کو بےعزت کرکے سپاہیوں نے قتل کیا۔ ہزاروں معصوم بچوں کے خون سے ان کے ماں باپ کے روبرو اپنے ہتھیاروں کو سرخ کیا۔ بوڑھے سے لے کر جوان تک بیمار سے تندرست تک کون تھا کہ جس پر ظلم کی تلوار نہ دھری گئی ہو۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سینکڑوں برسوں کے رہنے والے مسلمانوں کو یکلخت ملک سے بدر 1 ؎ کردیا۔ مقابر و مساجد کو گرا دیا۔ اس کے برخلاف اہل اسلام نے اپنے علماء کی ہدایت سے آج تک کسی ہندو یا عیسائی یا موسائی کے ساتھ ایسا نہیں کیا۔ صرف ایک حد تک جنگ قائم رکھی جس میں بچے اور عورتیں مستثنیٰ تھیں اور امن کے بعد یا اسلام یا اطاعت ظاہر کرنے کے بعد کسی کو بھی کچھ مضرت نہیں دی گئی۔ جس پر مسلمانوں کے مذہب کو ہلاکو اور سفاک اور بےرحم اور لڑاکا اور بدخو اور ٹَرَّاکہتے ہیں۔ بغور نظر کی جاتی ہے تو آیات مذکورہ میں عیسائیوں کے ایک خاص گروہ کی یہ مدح ہے جس سے مفسرین نے نجاشی اور اس کی قوم مراد لی ہے۔
مکہ معظمہ میں جب مشرکوں کے ہاتھوں سے اہل اسلام پر نہایت سختی پہنچنی شروع ہوئی کہ کوئی دھوپ میں ڈال کر کوڑوں سے پیٹا جاتا ہے ‘ کسی کو قتل کیا جاتا ہے ‘ کسی کو زخم لگائے جاتے ہیں ٗ گوشت کاٹا جاتا ہے یہاں تک عمار بن یاسر ؓ اور ان کے والدین کو عذاب دیا جا رہا تھا کہ اتنے میں ابو جہل بھی آنکلا۔ اس بدبخت نے سمیۃ والدہ عمار کی پیشاب گاہ میں نیزہ ایسا چلایا کہ وہ شہید ہوگئیں۔
ایسی حالت میں 82 ایماندار کہ جن میں تیرہ عورتیں اور باقی مرد حضرت عمر بن الخطاب و جعفر بن ابی طالب وغیرہ تھے دریائِ قلزم پار اتر کر ملک حبشہ میں ہجرت کر گئے۔ اس ملک کا بادشاہ اصحمہ نام نجاشی لقب عیسائی مذہب کلیسا افریقہ کے عقائد کا آدمی تھا۔ وہ یا تو ان اناجیل سے کہ جن کا اب عیسائیوں میں مفقود ہونا مسلم ہے جیسا کہ متی کی عبرانی انجیل یا انہیں اناجیل میں اس وقت تک لفظ احمد میں تغیر نہ ہوا ہوگا فارقلیط و معین وکیل جواب بنایا گیا ہے نہ بنایا گیا ہوگا اور صحائف کی وجہ سے وہ مدت پیشتر آنحضرت ﷺ کے ظاہر ہونے کا منتظر تھا اور
مجملاً یہ جانتا تھا کہ یہ اخیر نبی عرب کے قبائل سے مبعوث ہوگا اس بات کی طرف اس کے کان لگے ہوئے تھے کہ صحابہ کی یہ جماعت اس کے ملک اور اس کے خاص شہر میں تاجروں کی ہوائی کشتیوں پر سوار ہو کر پہنچی اور ان کے بعد میں کفار قریش نے نجاشی کے لئے ہدیہ اور خط دے کر عبداللہ بن ابی ربیعہ اور عمرو بن العاص کو بھیجا کہ یہ جماعت نئے مذہب کی پیدا ہوئی ہے۔ یہ لوگ مسیح کو خدا نہیں بلکہ خدا کا بندہ کہتے ہیں ٗ ان کو مقید کرکے ہمارے پاس واپس بھیج دیجئے تاکہ یہ آپ کے ملک میں شورش نہ برپا کریں۔
اس مراسلہ کے بعد نجاشی نے اپنے اراکین سلطنت و علماء و فضلا کی ایک مجلس قائم کی اور اس جماعت صحابہ کو بھی ان دونوں ایلچیوں کے روبرو طلب کرکے مسلمانوں سے پوچھا کہ تم میں سے اپنے نبی کا زیادہ قرابت دار کون ہے ؟ حضرت جعفر طیار ؓ نے فرمایا ٗ میں ہوں۔ نجاشی نے آنحضرت ﷺ کا تمام حال استفسار کیا۔ مہاجرین پر ظلم و ستم کا برپا ہونا بھی معلوم کیا۔ اس کے بعد پوچھا کہ محمد ﷺ نبی پر کوئی آسمان سے کتاب بھی نازل ہوتی ہے ؟ انہوں نے عرض کیا ہاں۔ کہا کچھ پڑھ کر سنائو (چونکہ عرب و حبش میں چنداں فاصلہ نہیں اور نیز نجاشی عربی جانتا تھا۔ اس لئے باہم عربی میں تکلم ہوا کرتا تھا) جعفر طیار ؓ نے سورة مریم پڑھنی شروع کی۔ یہ پڑھتے جاتے تھے نجاشی اور ان کے ارکان دولت زار زار کلام الٰہی سن کر رقت سے روتے جاتے تھے اور یہ باتیں منہ سے کہتے تھے کہ جن کو خدا تعالیٰ نے ان آیات میں
1 ؎ یہ ملک خلیفہ ولید شاہ دمشق کے سپہ سالار طارق غلام نے کہ جس کے نام سے جبل الطارق (انگریزی میں جبل الٹرا) مشہور ہے 79 ء میں فتح کیا اور عبدالرحمن بن معاذ بن ہشام بن عبدالملک بن مروان 139 ھ میں اس کا اول بادشاہ ہوا۔ قرطبہ اس ملک کا دارالسلطنت تھا جس میں ایک مسجد تھی کہ جس کے ہزار سے زیادہ ستون تھے۔ علامہ قرطبی اور ابن العربی وغیرہ ہزارہا علماء و فضلا اس ملک میں گذرے ہیں۔ یورپ کا نیا فلسفہ انہیں علمائِ اسلام کا ایجاد ہے۔ آخر یہ ملک یورپ کے حسن و دولت کا چشمہ اہل اسلام بادشاہوں کی نالائقی اور عیش پسندی اور ان کے کارپردازوں کی حماقت اور خودغرضی اور ملک والوں کے فسق و فجور کی شامت سے 1610 ء میں عیسائیوں کے ہاتھ آگیا۔
نقل فرمایا۔ پس نجاشی مسلمان ہوگیا اور حضرت کے پاس ہدیئے بھیجے اور صحابہ کی بڑی خاطر و تواضع کرتا رہا۔ اس کے بعد آنحضرت ﷺ کا نامہ مبارک بھی اس کے پاس پہنچ گیا۔
Ayah 5:891 ؎ بشرطیکہ حانث ہوجائو یعنی ان قسموں میں پورے نہ اترو۔ صرف قسم کھانے پر کفارہ نہیں۔ بالاتفاق۔ 12 منہ
ترکیب : حلالا میں تین وجہ ہوسکتی ہیں اول یہ کہ کلوا کا مفعول ہو اس صورت میں مما حال ہوگا۔ دوم یہ کہ ما رزقکم سے حال ہو کیونکہ یہ بمعنی الذی ہے۔ سوم یہ صفت ہو مصدر محذوف کی اے اکلا حلالا باللغو فی ایمانکم ممکن ہے کہ حال ہو باللغو سے اے باللغوکائنافی ایمانکم اور ممکن ہے کہ یؤاخذکم سے متعلق ہو ‘ اطعام مصدر مضاف ہے مفعول کی طرف من اوسط صفت ہے مفعول کی۔
تفسیر : چونکہ ان سے پہلی آیات میں نصاریٰ میں قسیس و رہبان ہونے کی وجہ سے ان کی مدح تھی جس سے دل میں رہبانیت کی خوبی کا خطرہ گذرتا تھا اور دراصل رہبانیت (یعنی حلال اور پاک اور لذت کی چیزوں کا کھانا پینا ترک کر بیٹھنا نکاح وغیرہ مستلذات کو اپنے اوپر حرام کرلینا) عند اللہ کوئی عمدہ چیز نہیں کچھ خدا کو بندے کی حالت ترّفہ اور اس کے کھانے پینے سے چڑ نہیں اور نہ اس کا یہ مقصد کہ اس کو اپنی نعمتوں سے ترساوے ‘ محروم رکھے ہاں اس میں کوئی شبہ نہیں کہ لذات جسمیہ میں مبتلا رہنا مبتدی کو معارف عقلیہ سے باز رکھتا ہے اور اسی لئے پہلی امتوں میں یہ ریاضت اور نفس کشی مروج ہوئی تھی تاکہ بہیمیت کا زور ٹوٹے مگر شریعت محمدیہ علی صاحبہا السلام میں تقرب الٰہی اور بہیمت کے مغلوب کرنے کا ایک ایسا عمدہ برقی آلہ قرار پایا ہے جو طرفۃ العین میں اس کو کہیں سے کہیں پہنچا دے اور وہ استغراق فی ذات اللہ ہے جس کے مواضع صلوٰۃ وادعیہ ہیں اور جس قدر ریاضت شریعت نے اس آلہ برقی کے ساتھ مناسب سمجھی اس کو قائم بھی رکھا ہے۔ چناچہ روزہ رمضان وغیرہ لیکن ہر شخص کو ان پاک اور لذت کی چیزوں کے حرام کرلینے کا اختیار نہیں دیا۔ اس لئے فرمایا لا تحرمواو کلو الخ اور ان چیزوں کے حرام کرنے کا طریقہ قسم کھانا بھی ہوتا تھا کہ کسی چیز کے کھانے پر قسم کھا بیٹھے جس طرح ہنود میں آن کرلیتے ہیں اس لئے قسم کے مسائل اور ایسی بےفائدہ قسموں میں کفارہ دے کر اس قسم کے باہر ہوجانے کا حکم بھی ذکر کیا لا یؤاخذکم اللّٰہ باللغو (1) یمینِ 1 ؎ لغو کا کچھ کفارہ نہیں (2) یمین منعقدہ پر جبکہ حانث ہو یعنی قسم توڑ دے اس کا کفارہ ہے دس بھوکوں کو کھانا کھلانا اوسط درجہ کا یا ان کو کپڑا پہنانایا ایک غلام آزاد کرے (3) یا تین روزے رکھے (4) اچھی قسموں پر تابمقدار قائم رہنا چاہیے۔
1 ؎ یمین لغو اور غموس کے معنی کا تعین اور کفارہ میں اس بات کی بحث کہ دو وقت کا کھانا کھلانا چاہیے یا ایک وقت اور ان کو غلہ دیا جاوے تو کس قدر دس شخصوں کو یا ایک شخص کو دس روز تک اور پھر کپڑا جو پہنا جاوے تو کس قدر ہو اور جو غلام کہ آزاد کیا جاوے تو مسلمان ہو اور روزے پے در پے ہوں یا بہ تفریق یہ سب مسائل آئمہ کے اجتہاد اور احادیث و اقوال صحابہ وتابعین سے ثابت ہیں اور ان باتوں میں علماء کا اختلاف ہے۔ اس بحث کو تفسیر سورة ٔ بقرہ جلد سوم صفحہ 82۔ 83 میں دیکھو۔ 12 منہ