Ayah 5:32ترکیب : من اجل متعلق ہے کتبنا سے علی بنی اسرائیل بھی کتبنا سے متعلق ہے انہ جملہ الی جمیعا مفعول ہے کتبنا کا۔ اس جملہ میں انہ کی ضمیر شان ہے اور من شرطیہ بغیر نفس حال ہے۔ ضمیر قتل سے ای من قتل نفسًا ظالمًا او فسادًا معطوف ہے نفس پر فکانما جملہ جواب شرط بعد ذلک ظرف ہے لمسرفون کا۔
تفسیر : من اجل ذلک سے یہ مراد نہیں ہے کہ قابیل کے قتل کرنے سے بنی اسرائیل پر قصاص مقرر کردیا کیونکہ اس کے قتل سے بنی اسرائیل کو کیا خصوصیت ہے بلکہ ذلک سے اشارہ مفاسد قتل کی طرف ہے کہ چونکہ قتل ناحق میں یہ کچھ خرابی ہے۔ اس لئے جب توریت اور شریعت نازل ہوئی تو بنی اسرائیل پر ہم نے قصاص مقرر کردیا جنہوں نے باوجود اس کے انبیاء (علیہم السلام) کو قتل کیا۔
فکا نما قتل الناس جمیعا سے یہ مراد نہیں ہے کہ ایک شخص کے قتل ناحق کا گناہ بنی اسرائیل پر جمیع بنی آدم کے قتل کے برابر مقرر ہوگیا تھا کیونکہ یہ عدالتِ الٰہی سے بعید ہے بلکہ تشبیہ صرف عظمت قتل عمد میں ہے کہ جس بدبخت نے اپنی خواہش نفسانی اور حسد سے ایک آدمی کو ناحق قتل کیا۔ سو اس سے تمام بنی آدم کا قتل ناحق کچھ بعید نہیں۔ اگر یہ ان پر موقع پاتا تو ان سے بھی ایسا ہی کرتا جس نے چوری سے باغ کا ایک پھل توڑا۔ اس نے گویا سب کو توڑا اور ایک کو زندہ رکھنے سے سب کو زندہ رکھنے کا اسی پر قیاس کرلیجئے۔
Ayahs 5:33–34ترکیب : جزا مضاف الذین مضاف الیہ یحاربون اللہ معطوف علیہ و یسعون معطوف الذین کا صلہ جملہ مبتدا ان یقتلوا مع اس کے عواطف کے مجموعہ خبر ذلک مبتداء لہم خزی جملہ خبر۔
تفسیر : پہلی آیت میں قتل ناحق کی سخت مذمت تھی۔ اب اس آیت میں اس قتل کی سزا بیان فرمائی جاتی ہے اور نیز یہ کہ کونسا جرم کس سزا کو چاہتا ہے ؟ جمہور کے نزدیک یہ آیت عرینیوں 1 ؎ کے حق میں نازل ہوئی جو کہ مرتد ہو کر قتل اور ڈاکے کے مرتکب ہوئے تھے۔ پھر وہ گرفتار کرکے لائے گئے اور ان کے ہاتھ پائوں کاٹ کر ان کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیر کر ان کو دھوپ میں ڈال دیا گیا وہیں تڑپ کر مرگئے۔ اس فعل کی ممانعت کے لئے یہ آیت نازل ہوئی جس میں حد مقرر کردی گئی۔ امام مالک اور ابوحنیفہ اور شافعی اور ابو ثور اور دیگر مجتہدین (رح) فرماتے ہیں کہ یہ آیت ان اہل اسلام کے حق میں ہے جو بادشاہ اسلام سے باغی ہو کر راہزنی اور فساد کرنے لگیں۔ بقرینہ الا الذین تابوا۔ اپنی تفسیر میں علامہ قرطبی فرماتے ہیں کہ گو یہ آیت کسی کے حق میں نازل ہو مگر عموم الفاظ کا لحاظ کیا جاوے گا۔ خصوصی سب کو نہ دیکھا جاوے گا۔ اس لئے ہر ایک ڈاکو اور راہزن پر یہ حکم جاری ہوگا۔ خواہ وہ مسلمان ہو خواہ کافر۔ اس میں کسی کا بھی خلاف نہیں۔ الذین یحاربون اللّٰہ خدا سے لڑائی کرنا اس مقام پر بقول ابن عباس ؓ و سعید بن المسیب و مجاہد و عطا و حسن بصری و ابراہیم نخعی وغیرہم (رح) شاہ اسلام کے مقابلہ میں ہتھیار اٹھانا اور مسافروں کو چھیڑنا لوٹنا مارنا ہے نہ کہ چوری اور زنا وغیرہ معاصی کے لئے کہ ان جرائم کی اور سزا مقرر ہے۔ پس جو شخص جمعیت بہم پہنچا کر ایسا کرے خواہ شہر میں رہ کر خواہ جنگل میں رہ کر (مگر امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ یہ سزا ان شخصوں کے لئے ہے جو شہروں میں نہ ہوں کیونکہ شہر میں رہنے والے پر حکومت ہر وقت قابو پا سکتی ہے وہ بمنزلہ چور کے ہے) شاہ اسلام کو بقول ابن عباس ؓ و مجاہد و علی بن ابی طلحہ و حسن بصری وغیرہم (رح) قابو پا کر اختیار ہے خواہ قتل کر ڈالے خواہ دار پر کھینچے خواہ جانب مخالف سے ہاتھ پائوں کاٹ کر چھوڑ دے خواہ جلاوطن کردے۔ اس کو اختیار ہے۔ ان چاروں سزائوں میں سے جو چاہے دے کیونکہ کلمہ او تخییر کے لئے ہے مگر جمہور کے نزدیک او تخییر کے لئے نہیں بلکہ یہ سزائیں جرائم پر منقسم ہیں۔ اگر وہ صرف قتل کے مرتکب ہوئے ہیں تو ان کو صرف قتل کرنا چاہیے اور اگر قتل کے ساتھ مال بھی لوٹا
1 ؎ بنی عرینہ عرب ایک قوم ہے۔ ان میں سے مدینہ میں آکر چند لوگ مسلمان ہوئے۔ چونکہ مرض استسقاء میں مبتلا تھے۔ آپ نے ان کو جہاں بیت المال کے اونٹ چرتے تھے بھیج دیا کہ وہاں تندرست ہوجائیں۔ جب تندرست ہوئے تو نیت میں فرق آیا۔ اونٹوں کے چرانے والوں کو قتل کرکے اونٹ لے کر چل دیے۔ مدینہ میں خبر ہوئی تو وہ گرفتار کرکے لائے گئے۔ ان کے لئے یہ سزا دی گئی تھی جس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ 12 منہ
ہے تو قتل کرکے عبرت کے لئے سولی پر بھی لٹکا دیا جائے۔ اس صورت میں ہاتھ پائوں کاٹ کر پھر قتل کیا جاوے اور سولی پر بھی تشہیر کے لئے لٹکا دیا جائے اور اگر صرف مال لوٹا ہے تو ایک طرف کا ہاتھ اور دوسری طرف کا پائوں کاٹ کر چھوڑ دیا جائے اور اگر صرف لوگوں کو خوف ہی دلایا ہے تو نفی کی جاوے یعنی اس کو قید کیا جاوے۔ شافعی (رح) فرماتے ہیں اس کے معنی جلاوطن کے ہیں یعنی جلاوطن کردیا جاوے الا الذین تابوا من قبل الخ یعنی اگر وہ لوگ گرفتار ہونے سے پہلے اس فعلِ بد سے توبہ کرلیں تو ان سے یہ حد ساقط ہوجائے گی ہاں حقوق عباد خواہ مالی ہوں خواہ جانی اس کا عوض عدالت ان سے ضرور لوگوں کو دلائے گی۔ وہذا ہوالقوی۔
Ayahs 5:35–37ترکیب : الیہ الوسیلۃ ممکن ہے کہ ابتغوا سے متعلق ہو اور جائز ہے کہ خود الوسیلۃ سے کیونکہ یہ بمعنی المتوسل بہ ہے الذین کفروا صلہ موصول اسم ان لو ان شرط الخ جواب مجموعہ خبران۔
تفسیر : اس پہلی آیت میں ان مفسدوں اور باغیوں کی مذمت تھی جو خدا سے لڑتے تھے اور رسول اور قرآن کے حکم سے جو خدا تعالیٰ کی طرف پہنچنے کا وسیلہ اور حبل المتین ہے چھوڑ کر دائرہ اطاعت سے باہر ہوتے تھے جس کا نتیجہ دنیا اور آخرت میں رسوائی اور خواری ہے۔ اس مقام پر ان کے برخلاف اس وسیلہ الٰہی کو اختیار کرکے ہر ایک قسم کی نیکی اور بھلائی کرنے کی ترغیب دلائی جاتی ہے اور اس کے برخلاف کرنے میں آخرت کا انجامِ بد بتایا جاتا ہے۔ واضح ہو کہ جمیع احکامِ الٰہی دو قسم میں منحصر ہیں : قسم اول بری باتوں کا ترک کرنا اور یہ سب سے مقدم ہے کیونکہ انسان جب تک بری باتوں کو ترک نہیں کرے گا تو اس کے لوح دل پر ضرور ایک ایسا اثر پیدا ہوگا جو اس کو نیکیوں سے روکے گا اور اپنی ہی طرف کھینچے گا۔ علاوہ اس کے جب کسی لوح پر کوئی عمدہ نقش کھینچنا چاہتے ہیں تو اول اس کو صاف کرلیتے ہیں پھر کچھ لکھتے ہیں ؎
چاہیے تجھ کو اگر وصل صنم
دل کو خالی غیر سے کریک قلم
اس لئے سب سے مقدم اس قسم کی طرف واتقوا اللّٰہ میں اشارہ کیا۔ دوسری قسم اچھی چیزوں کا عمل میں لانا۔ عبادت ‘ سخاوت ‘ رحم دلی ‘ بردباری ‘ صبر و شکر ‘ رضا و تسلیم وغیرہ ان سب کی طرف وابتغوا الیہ لوسیلۃ میں اشارہ فرمایا۔ پس یہ کرنا اور نہ کرنا افعال میں بھی معتبر ہے۔ نہ کرنے میں منہیات اور کرنے میں مامورات شامل ہیں اور اسی طرح اخلاق میں بھی اخلاق رذیلہ تکبر ‘ عجب ‘ ریا (خودپسندی) کو ترک کرنا چاہیے۔ بردباری ‘ رضا و تسلیم کو عمل میں لانا چاہیے اور اسی طرح افکار میں بھی ترک اور عمل معتبر ہیں۔ جن افکار کا ترک لازم ہے وہ برے خیالات ہیں جو انسان کے لئے بری باتوں کی طرف محرک ہوتے ہیں اور اچھے خیالات کو عمل میں لانا چاہیے جو حسنات کی طرف محرک ہیں اور اسی طرح یہ ترک اور فعل مقام تجلی میں بھی معتبر ہے۔ ترک التفات الی غیر اللہ کرنا چاہیے۔ فعل کیا ہے اس کی ذات پر انوار میں مستغرق رہنا ‘ اہل ریاضت ترک کو تخلیہ اور کبھی صحو اور محو اور نفی اور فنا کہتے ہیں اور ان سب میں نفی مقدم ہوا کرتی ہے۔ اس لئے کلمہ توحید لا الہ میں نفی مقدم ہے۔ اثبات الا اللہ مؤخر۔ وسیلہ ہر قسم کے اچھے کام ہیں اور قرآن مجید اور نبی کریم علیہ الصلواۃ والسلام اور بزرگان دین بھی خدا کی طرف کا وسیلہ ہیں۔ ارشاد اور فیض سے انسان خیرات کی طرف راغب ہوتا ہے اور ان ہی کی برکت سے خدا تعالیٰ کا طالب بنتا ہے اور جبکہ حسنات اور سعادات کا عمل میں لانا کوئی آسان 1 ؎ بات زبانی جمع خرچ نہ تھا۔ اس لئے اس کے بعد جاھدوا فی سبیلہ بھی فرما دیا۔ انبیاء (علیہم السلام) با ایں علو مرتبت راتوں کو رویا کرتے تھے اور آنسوئوں کے موتی اس جمال جہاں آرا کی یاد میں پرویا کرتے تھے۔ صحابہ اور بزرگان دین کی جان کا ہیاں مشہور ہیں۔ اس میں طالبان ذات کے بلند مرتبہ کی طرف اور لعلکم تفلحون میں طالبان عقبی کی طرف اشارہ ہے۔ ان الذین کفروا میں ان لوگوں کا انجام کار بیان ہوتا ہے جو اس عالم فانی کے لذائذِ حسیہ پر فریفتہ ہو کر اس عالم جاودانی کو بھول بیٹھتے ہیں اور اللہ کے وسیلہ کو چھوڑ خدا سے توڑ بیٹھتے ہیں۔
Ayahs 5:38–40ترکیب : والسارق معطوف علیہ والسارقۃ معطوف مبتداء سیبویہ کے نزدیک بوجہکے فاقطعوا خبر نہیں ہوسکتا پس خبر فیمایتلی علیکم محذوف ہے اور کہتے ہیں فاقطعوا کیونکہ الف لام السارق میں بمنزلہ الذی کے ہے۔ پس یہ مشابہ شرط ہے ‘کا خبر میں آنا درست ہوگیا۔ جزاء فاقطعوا کا مفعول لہ ہے وقس علیہ نکالا فمن تاب شرط فان اللّٰہ جواب۔
تفسیر : باغیوں اور لٹیروں کی سزا بیان کرنے کے بعد چور کی سزا بیان کرنا گویا اس بیان کا تکملہ کردینا ہے۔
والسارق والسارقۃ اگرچہ قرآن مجید میں عموماً احکام میں خطاب مردوں کی طرف ہے عورتیں تبعاً ان احکام میں شامل ہیں مگر اس آیت میں محض اس حکم کی تاکید ظاہر کرنے کی غرض سے سارق مرد چور اور سارقۃ چور عورت دونوں کو ذکر کیا۔ سرقۃ لغت میں چوری کو کہتے ہیں
1 ؎ مولانا اوحد الدین کرمانی فرماتے ہیں۔ تادیدہ و دل خون نکنی پنجاہ سال ہرگز نہ دہندت رہ از حال بقال۔ 12 منہ
یعنی کسی کا مال جو حفاظت میں رکھا ہو چھپا کرلے جانا۔ یہاں تین باتیں ہیں : ایک مال جس کی چوری کی گئی۔ اس کی اس آیت میں کوئی قید نہیں کہ کس قدر مال چرانے پر سزا دی جائے۔ اس لئے بعض علماء نے جیسا کہ ابن زبیر اور ابن عباس و حسن بصری ہیں اس کو مطلق رکھا ہے مگر جمہور علماء مجتہدین کہتے ہیں کہ مال کا لفظ ایک وسیع لفظ ہے۔ ہر شخص اور ہر قوم اور ہر زمانے کے لحاظ سے اس کے معنی میں تفاوت ہوسکتا ہے۔ متمول ملکوں میں دو پیسے چار پیسے کچھ مال نہیں۔ یہی دو چار پیسے مفلس لوگوں میں مال گنے جاتے ہیں۔ علی ہذا القیاس اس لئے ایسے اختلافات معنی کے وقت عرب کا عرف عام خصوصاً قریش کا دستور دیکھنا چاہیے کہ وہ کس کو مال کہتے تھے کیونکہ شریعت محمدیہ علیہ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام میں اکثر ان ہی کے رواج و عادت کا زیادہ لحاظ کیا گیا ہے۔ یہ بات تو ان کی عادت دیکھنے سے قطعاً معلوم ہوتی ہے کہ ایک دو مٹھی اناج یا کسی قدر چھوارے یا دو ایک انگور کے خوشے ان کے ہاں ایسا مال نہ سمجھا جاتا تھا کہ جس سے چھپا کرلے جانے کو چوری کہا جاوے۔ ایسی قلیل چیزوں کو اجازت بےاجازت لے کر کھالیا کرتے تھے۔ پس اس مقدار کا اندازہ امام ابوحنیفہ و ثوری نے بعض احادیث و اقوال صحابہ اور ان کے معاملات پر غور کرکے دس درہم قرار دیا ہے۔ اس قدر جو کوئی چرائے گا تو یہ سزا پائے گا۔ اس سے کم کی چوری پر یہ سزا نہیں دی جائے گی اور امام مالک و احمد و اسحاق نے تین درہم یا ربع دینار کی تعداد قائم کی ہے اور ابن ابی لیلیٰ نے پانچ درہم اور امام شافعی نے ربع دینار معین کیا ہے۔ ہر ایک کے دلائل اس تعداد کے لئے مبسوطات میں مذکور ہیں مگر دائود اصفہانی اور خوارج نے آیت کو مطلق رکھ کر ذرا سی چیز کی چوری پر یہی سزا قائم رکھی ہے حتٰی کہ کوڑی دو کوڑی کے چور کو بھی قطع ید کا حکم دیتے ہیں۔
دوسری بات اس فعل کے لئے یہ ہے کہ یہ مال جس کو چرایا ہے مالک کی حفاظت میں ہو کیونکہ رستہ پر پڑی ہوئی چیز کا اٹھا کرلے جانا عرف میں چوری نہیں مگر دائود ظاہری یہاں بھی خلاف جمہور کرتے ہیں اور حفاظت کو کوئی شرط نہیں سمجھتے۔
تیسری بات سرقہ میں یہ ہے کہ لوگوں سے چھپا کرلے جاوے کہ عادتاً لوگ اس کو دیکھیں تو پکڑ لیں۔ اب اگر وہ بالکل لوگوں کے سامنے سے لے گیا ہے تو اس کو بھی چوری نہیں کہیں گے بلکہ غصب ملکیۃ یا سینہ زوری اور اگر ایسے موقع سے لے گیا ہے کہ اگر اس کو لوگوں نے نہ دیکھا اور معلوم نہیں کرسکے جیسا کہ کیسہ بریا گرہ کٹ عام مجموعوں میں لوگوں کے روبرو گرہ کاٹ لیتے ٗ جیب کتر لیتے ہیں۔ یہ بھی عرف میں چوری کے علاوہ دوسرا فعل گنا جاوے گا۔ ان دونوں صورتوں میں چوری کی سزا نہ دی جائے گی بلکہ اور سزا ملے گی۔ بعض علمائِ مجتہدین فرماتے ہیں کہ بلاشک غصب کی صورت میں تو چوری نہیں کیونکہ اخفا نہیں پایا جاتا جو چوری کے معنی میں لیا گیا ہے۔ ہاں دوسری صورت میں چوری کے معنی پر ایک بات اور زیادہ ہوگئی کہ وہ سب کی آنکھوں میں خاک ڈال کرلے گیا ‘ سو یہ اعلیٰ درجہ کی چوری ہے۔ اس لئے یہ شخص سزائے سرقہ کا مستوجب سمجھا جاوے گا۔ ان تینوں باتوں پر بہت سے مسائلِ فقہ مبنی ہیں۔ فاقطعوا ایدیہما یہ سزا ہے چوری کی کہ اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے۔ آیت میں اس کی بھی کچھ تصریح نہیں کہ کونسا ہاتھ کاٹا جاوے اور کہاں تک کاٹا جاوے ؟ مگر جمہور نے آنحضرت ﷺ کے عہد کی سزا سے یہی ثابت کیا ہے کہ اول بار چوری کرنے سے پونہچے تک داہنا ہاتھ کاٹ ڈالنا چاہیے اور نیز جب ایک بارچوری کرے تو داہنا ہاتھ کاٹ دیا جاوے اور دوبارہ کرے تو بایاں پائوں کاٹ دیا جائے اور امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ اگر تیسری بار چوری کرے تو بایاں ہاتھ اور چوتھی بار کرے تو دایاں پائوں بھی کاٹ ڈالنا چاہیے۔ امام ابوحنیفہ اور سفیان ثوری وغیرہ علما صرف دو بار تک قطع کا حکم دیتے ہیں۔ باقی پھر قطع نہیں بلکہ حبس۔
1 ؎ باوجود اس کے اہل یورپ کیا بدنی سزا نہیں دیتے بید مارتے ‘ پھانسی دیتے ہیں اور چونکہ چور کی بابت یہ سزا نہیں تو دیکھئے ان کی عملداری میں چوری کا کیسا بازار گرم ہے۔ بدمعاش لوگ جیل خانہ کو اپنا گھر سمجھتے ہیں۔ اس کی انہیں کیا پروا ہے اور عیسائی تو کوئی اس کی بابت اعتراض ہی نہیں کرسکتا کیونکہ بائبل میں ادنیٰ ادنیٰ جرموں پر قتل کرنا جلا دینا موجود ہے۔ 12 منہ
یہ سزا آنحضرت ﷺ نے اپنی حیات میں دی ہے جیسا کہ احادیث صحیحہ میں بکثرت وارد ہے اور نیز آپ کے خلفائِ اربعہ سے خلفائے بنی العباس تک بھی اس قانونِ الٰہی پر عملدرآمد رہا ہے۔ شاہان اسلام ہندوستان و دیگر بلاد اپنے تمام علماء و قضاۃ کے فتوے کے بموجب اس پر عمل کرتے آئے ہیں۔ کتب تواریخ شاہد عدل ہیں اور اس میں حکمت بھی ہے کیونکہ جس ہاتھ سے اس نے یہ بد کام کیا تھا اس کی سزا میں ایسی نعمت سے محروم کردینا پورا انصاف ہے اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ یہ سزا اس جرم کے انسداد کے لئے اکسیر اعظم کا حکم رکھتی ہے اور کیوں نہ ہو آخر جس نے قرآن نازل کیا ہے اور وہ حکیم وعلیم ہے جس کی علم و حکمت کے آگے بندوں کے علم و دانش کو کیا نسبت ہے۔ کوئی تو حکمت سمجھی ہے جو ایسا حکم جاری کیا ہے۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ کوئی شخص الہام کو فرضی ڈھکوسلا سمجھے یا اپنی عقل کو خدا کے علم پر ترجیح دے۔ آج کل یورپ نے علوم میں ترقی کی مگر الحاد اور بدکاری حد سے زیادہ ترقی کرگئی ہے۔ ان کے رسم و رواج خواہ کیسے ہی قبیح 1 ؎ ہوں ان
کے مریدوں کے نزدیک تہذیب کا معیار قرار دیے گئے ہیں۔ اس لئے ان کے مرید تمام شریعت کو ان ہی کے رسم و رواج کے مطابق کرنے کی تدبیریں کرتے ہیں اور اسی کو اعانت اسلام کہتے ہیں۔ چناچہ ایک صاحب اس سزا کی یہ توجیہ کرتے ہیں ” ص 203 مگر جبکہ ملک میں تسلط ہو اور قید خانوں کا انتظام موجود ہو تو قرآن مجید کی رو سے اس سزائے بدنی کا دینا (یعنی چور کا ہاتھ کاٹنا) کسی طرح جائز نہیں۔ “ حضرت نے قزاقوں کی سزا کو جو ینفوا من الارض ایک صورت خاص میں ہے یعنی قید کرنا مؤخر سمجھ لیا حالانکہ مقدم ہے اس کے بعد آیت السارق الخ موجود ہے جس میں بجز ہاتھ کاٹنے کے چور کی اور کوئی سزا ہی بیان نہیں ہوئی۔ اس کو چوری کی سزا قرار دیا ہے اور بےسند چند چوروں کے اشعار اور ان کے خیالات نقل کرکے تمام کتب تواریخ کے برخلاف یہ نتیجہ نکالا ہے کہ صحابہ کے عہد میں ہاتھ نہیں کاٹے گئے بلکہ قید کیا گیا ہے۔ حالانکہ اگر قید کئے گئے ہوں گے تو وہ ڈاکو جن سے ملک کو دہشت ہوگی نہ کہ چور اور لطف یہ کہ آپ بھی اقرار کرتے جاتے ہیں کہ ڈاکوئوں کو قید کیا گیا ہے مگر دونوں کو خلط کردینے سے اور ملا کر بیان کرنے سے شاید بمقابلہ بیشمار احادیث صحیحہ و اجماع جمہور مسلمین اپنے خیال میں اپنی کامیابی سمجھتے ہیں۔ جزاء بما کسبا سے یہ بات صاف معلوم ہوتی ہے کہ چور کا ہاتھ کاٹنا ہی اس کے فعلِ بد کی سزا ہے۔ اس تقدیر پر اگر مال موجود نہیں رہا تو اس سے تاوان لینا درست نہیں جیسا کہ امام ابوحنیفہ وغیرہ سفیان ثوری و احمد و اسحاق فرماتے ہیں لیکن امام شافعی فرماتے ہیں کہ خواہ مال مسروق موجود ہو یا نہ ہو چور سے باوجود اس سزا کے وہ واپس لیا جاوے گا۔ مالک فرماتے ہیں اگر مقدور ہے تو واپس لیں گے ورنہ نہیں واللّٰہ عزیزحکیم میں اس سزا کی حکمت کی طرف اشارہ ہے۔ اصمعی کہتے ہیں کہ ایک اعرابی کے سامنے بھول کر میں نے اس جملہ کی جگہ غفور رحیم پڑھ دیا۔ اس نے چونک کر کہا یہ کس کا کلام ہے ؟ میں نے کہا اللہ کا اس نے کہا یوں نہ ہوگا پھر میرے یاد آیا تو عزیز حکیم پڑھا۔ کہنے لگا اب ٹھیک ہے کیونکہ غفور رحیم قطع ید کے مناسب نہیں فمن تاب کے متعلق تفسیر ہوچکی الم تعلم الخ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ توبہ قبول کرنا ہمارے اختیار میں ہے اور نیز ایسا حکم دینا بھی اپنے بندوں کے لئے ہمارے لئے کچھ ظلم نہیں ہم مالک ہیں۔
Ayahs 5:41–42ترکیب : الذین یسارعون الخ فاعل لایحزنک مفعول من الذین قالوا۔ الذین یسارعون کا بیان۔ ومن الذین ھادوا معطوف ہے من الذین قالوا پر۔
تفسیر : پہلی آیات میں شرائع اور احکام بیان ہوئے جن کی مخالفت کرنا دو قوموں سے متوقع تھا۔ اس لئے نبی ﷺ کو تسلی کے طور پر فرماتا ہے کہ ان کفر میں کوشش کرنے والی قوموں من الذین قالوا امنا الخ منافقین اور من الذین ھادوا یہود سے کچھ رنج و غم نہ کرو کیونکہ امر حق کی مخالفت ان کا شیوہ ہوگیا ہے۔ منافقین کی یہ دو خصلتیں ہیں : اول سماعون کہ وہ جھوٹی باتیں بہت جلد قبول کرتے ہیں جو کوئی اسلام کی مذمت میں ان سے کیسی ہی بےاصل بات کیوں نہ کہے اس کو مان لیتے ہیں یا یہ معنی کہ آپ سے جو زیادہ سنتے ہیں نہ عمل کرنے کے لئے بلکہ للکذب جھٹلانے کے لئے۔ دوم سماعون کہ جو قومیں ہنوز آپ کے پاس نہیں آئیں ٗ ان کو دور سے ہی یہ لوگ بہکاتے اور اسلام سے بدگمان کرتے ہیں۔ یہ باتیں ان کی کفر میں کوشش کرنا ہے جس سے آنحضرت ﷺ کو ملال خاطر ہوتا تھا۔ یہود کے دو وصف بدیہ ہیں : اول یحرفون الکلم کہ جو بات حلال و حرام کے متعلق خدا نے قائم کردی ہے اس کو بھی یہ اپنی خواہش نفسانی سے بدل ڈالتے ہیں۔ دوم یقولون کہ لوگوں سے کہتے ہیں اگر نبی تمہاری خواہش کے مطابق حکم دے تو لو ورنہ نہیں۔ ان جملوں کے متعلق مفسرین نے یہ قصہ نقل کیا
1 ؎ احکام توریت۔
2 ؎ یعنی اگر محمد ﷺ تم کو بعینہٖ وہی حکم دیں (جیسا کہ بدل کر انہوں نے دیا) تو مان لو ورنہ نہیں۔ 12 منہ
: توریت سفر احبار باب 20 درس 10۔ 12 منہ
ہے کہ خیبر کے یہود میں سے دو معزز مرد و عورت نے زنا کرلیا تو حکم تورات (جو سنگسار کرنا یا قتل کرنا ہے) ان کو شاق معلوم ہوا اس لئے باہم قیل و قال ہو کر یہ بات ٹھہری کہ آنحضرت ﷺ جو کچھ فرمائیں اس پر عمل کیا جاوے۔ چناچہ آپ کے پاس آئے اور آپ نے بھی یہی حکم دیا جس کے انکار پر وہ نسخہ منگایا گیا جس کو یہود توریت سمجھتے تھے اس میں بھی یہی نکلا۔ فرماتا ہے کہ یہ گمراہ ازلی ہیں۔ آپ کہاں تک فہمائش کرسکتے ہیں اور نیز ان کے دل پاک کرنا اس کی تقدیر ازلی نے نہ چاہا ان کو دنیا اور آخرت میں رسوائی اور عذاب الیم ہے فان جائوک اس آیت میں صاف ہے کہ اگر وہ آپ کے پاس آویں تو آپ اے نبی ! مختار ہیں۔ اعراض کریں یا حکم دیں۔ اگر حکم دیں تو انصاف سے دیں۔ نخعی اور شعبی و قتادہ و عطا و ابی بکر اصم کہتے ہیں کہ یہی اختیار تمام احکام میں کفار کی نسبت باقی ہے۔ ابن عباس اور حسن بصری و مجاہد و عکرمہ فرماتے ہیں کہ حاکم اسلام کو جبکہ اس کے پاس کفار کا جھگڑا آوے خواہ وہ اہل ذمہ ہوں یا نہ ہوں بموجب آیت وان احکم بینہم بما انزل اللّٰہ قانونِ آسمانی کے موافق فیصلہ کرنا چاہیے مگر بجز نیا چریہ کسی مسلمان کا قول نہیں کہ کفار میں ان کے قانون کے موافق حاکم اسلام فیصلہ کرے۔
Ayah 5:43ترکیب : کیف ضمیر یحکمونک فاعل سے حال ہے وعندھم خبر التوراتہ مبتداء جملہ موضع حال میں ہے فیہا ھدی ونور جملہ حال ہے التوراتہ سے اسی طرح یحکم الخ للذین ھادوا کالام یحکم سے متعلق ہے والربانیون اور الاحبار معطوف ہیں النبیون پر بما اے بسبب الذین استحفظوہ ای استود عوہ اعنی استحفظہم اللہ ایاہ من کتاب حال ہے ما سے۔
تفسیر : اس جگہ خدا تعالیٰ نبی (علیہ السلام) سے یہود کے آنحضرت ﷺ کے پاس جھگڑا لانے اور فیصلہ پر راضی ہونے پر تعجب ظاہر فرماتا ہے کہ یہ لوگ باوجودیکہ توریت کے معتقد ہیں اور اس میں احکامِ الٰہی ہیں اور اس کو خاص اللہ نے نازل کیا تھا جس پر انبیاء اور مشائخ و علماء چلتے تھے مگر اس کے حکم سے اعراض کرکے اے نبی ! آپ کو حکم بنانا کہ جس کے منکر ہیں ٗ کمال تعجب کی بات ہے یعنی ان کے قلوب ایسے خراب ہوگئے ہیں کہ جس کتاب کو برحق سمجھتے ہیں اس کے احکام پر نہ چلنے کے لئے اس کو چھوڑ کر مخالف کے پاس جاتے ہیں۔ پس جن کی اپنی کتاب توریت کی نسبت یہ حالت ہو تو اس قوم کا نبی عربی کے مقابلہ میں حق سے چشم پوشی کرنے میں کیا کچھ حال نہ ہوگا ؟ وما اولئک بالمؤمنین میں اسی طرف اشارہ ہے کہ دراصل ان کا توریت پر ایمان ہی نہیں۔ اس کے بعد توریت کی مدح فرماتا ہے کہ جس کے وہ دراصل منکر ہیں۔ (1) انا انزلنا التوراتہ کہ توریت کو ہم نے نازل کیا ہے۔ وہ کسی شخص کی تصنیف کردہ کتاب نہیں بلکہ منزل من اللہ ہے۔ جو خاص حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوئی تھی۔ جیسا کہ ایک جگہ فرماتا ہے 1 ؎ ولقد اتینا موسیٰ الکتاب ای التورتہ اور بہت جگہ ایسا ہی آیا ہے (2) فیہا ھدی ونور ہدی سے مراد احکام و شرائع اور نور سے مراد توحید و تنزیہ باری تعالیٰ اور نبوت اور معاد کا بیان (3) یحکم بہا النبیون کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد سے لے کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک جس قدر انبیاء آئے ہیں احکام و شرائع میں سب کے سب توریت پر چلتے تھے۔ ان کے لئے کوئی جداگانہ شریعت نہ دی گئی تھی۔ گویا وہ سب دین موسوی کے مجدد تھے۔ پھر انبیاء کی صفت میں الذین اسلموا کا جملہ لانا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ تمہاری طرح منحرف نہ تھے بلکہ مطیع تھے اور یہ بھی کہ وہ یہود و نصاریٰ نہ تھے بلکہ مسلمان۔ جس سے یہ بات پیدا ہوئی کہ تمام انبیاء بجز چند احکام کے سب متفق اور ملقب بہ اسلام تھے۔ للذین ھادوا کالام یحکم سے متعلق مانا جاوے گا تو یہ معنی ہوں گے کہ انبیاء احکام توریت پر چلنے کا یہود کو حکم دیتے تھے۔ احبار حبر بالکسر کی جمع ہے ( فرائ) ابو عبیدہ کہتے ہیں حبر بفتح الحاء ہے اور یہ تحبیر بمعنی تحسین سے مشتق ہے۔
چونکہ علم بڑی زینت ہے اس لئے یہود میں حبر کہتے تھے ربانی لوگ بمنزلہ مجتہدین کے ہوتے تھے اور احبار بمنزلہ عام علماء کے یا ربانیین درویش احبار علمائ۔ بما استحفظوا من کتاب اللّٰہ یہ احبار کا صلہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ کا ہے کے عالم تھے یعنی اس چیز کے جو کتاب اللہ یعنی توریت میں سے حافظ کئے گئے تھے یا یحکم سے متعلق کیا جاوے کہ جو کچھ ان کو توریت میں سے یاد کرایا گیا تھا اس کا حکم دیتے تھے (کبیر) یعنی نہ صرف انبیاء ہی توریت پر یہود کو چلنے کا حکم دیتے آئے ہیں بلکہ ان کے بعد مشائخ اور علماء بھی اسی پر چلاتے تھے۔ بعد میں جو یہود نے توریت میں تحریف کرنی شروع کی تھی۔ غالباً اس کے دو سبب تھے : ایک خوف حکام کہ اگر ان کے برخلاف یہ احکام بیان کریں گے تو ہم کو ایذا دیں گے۔ اس کے وہ جواب فرماتا ہے فلا تخشوا الناس واخشون کہ لوگوں سے نہ ڈرو بلکہ خاص مجھ سے کیونکہ نافع و ضار میں ہوں۔ دوسرا سبب طمع تھا کہ لوگوں کی خواہش کے موافق کم زیادہ کرکے حکم دیتے تھے تاکہ لوگ ان کو کچھ دیا کریں۔ اس کے جواب میں فرماتا ہے ولا تشتروا بآیاتی ثمنا قلیلا کہ دنیا چند روزہ اور بہت بےحقیقت ہے۔ اس کے لئے میری امانت میں خیانت نہ کرو۔ اس کے بعد بطور تہدید کے فرماتا ہے ومن لم یحکم الخ کہ جو بدبخت خدا کی نازل کی ہوئی کتاب پر حکم نہ دے وہ کافر ہے۔ عکرمہ کہتے ہیں خلاف ما انزل اللہ حکم کرنے سے جو کافر ہوتا ہے تو اس صورت میں کہ دل سے بھی اس کا منکر ہو ورنہ دل میں حق جاننے اور زبان سے حق کہنے پر جو کوئی خلاف کتاب اللہ کسی دنیاوی غرض سے فیصلہ کرے گا کافر نہ ہوگا بلکہ فاسق۔ یہاں سے وہ انگریزی نوکریاں جن میں خلاف قرآن حکم دیا جاتا ہے ممنوع و حرام سمجھی گئیں بلکہ جو قرآن کے مقابلہ میں ایکٹ کو دل سے پسند کرکے حکم دے گا تو بموجب آیت مذکورہ کافر ہوجاوے گا۔
1 ؎ یہاں سے صاف ثابت ہوا کہ جو کتاب موسیٰ کے بعد توریت کے نام سے تصنیف کی گئی وہ ہرگز توریت نہیں اور یہ مجموعہ آج کل اہل کتاب کے ہاں توریت کہلاتا ہے قطعاً موسیٰ کے بعد تصنیف ہوا سو یہ بھی قطعاً وہ توریت نہیں کرسکے کہ جس کے اوصاف قرآن میں مذکور ہیں جن کو پادری مغالطہ دینے کے لیے اس پر منطبق کرکے مسلمانوں کو اس کے تسلیم پر مجبور کیا کرتے ہیں۔
توریت کے گم ہونے پر بحث : لارڈ ولیم میور نے اپنی کتاب شہادت قرآنی میں اس آیت کے جملہ وعندھم التوراتہ اور اسی قسم کی دیگر آیات سے جو توریت کی مدح میں وارد ہیں یا توریت پر عمل نہ کرنے سے اہل کتاب پر الزام ہے۔ یہ بات ثابت کی ہے کہ آج کل جو اہل کتاب کے پاس توریت ہے وہی اصلی توریت بلا تغیر موجود ہے اور نیز ان کے ایک قدیم مرید نے جو در پردہ ان ہی کے حامی مذہب ہیں۔ صحیح بخاری اور فوز الکبیر سے یحرفون کی تفسیر میں تحریف معنوی مراد لینا نقل کرکے اس بات پر بڑا زور دیا ہے کہ یہ توریت بلا تحریف وہی اصلی توریت ہے اور نیز اس کی سند میں بعض اقوال بےتک بھی نقل کرکے اس توریت کے ایک جملہ کے منکر کو بھی خواہ وہ مخالف قرآن ہی کیوں نہ ہو کافر بتلایا ہے مگر یہ سب دھوکا ہے۔ اولاً تو یوں کہ التوراتہ سے مراد مجازاً یہ مجموعہ ہے کہ جس میں اصلی توریت کے بھی پیشتر مضامین موجود ہیں باعتبار تسمیۃ الکل باسم الجز کیونکہ مدعی بھی اس بات کا انکار نہیں کرسکتا کہ اس مجموعہ پر لفظ توریت مجازاً اطلاق ہوا ہے کس لئے کہ اصلی توریت اینٹو کس و بخت نصر وغیرہ کے حوادث میں تلف ہوگئی۔ یہ مجموعہ تاریخ و مسائل بعد میں مشائخوں نے جمع کیا ہے۔ علاوہ اس کے توریت تو وہ ہے کہ جو خاص حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوئی تھی اور مجموعہ میں سینکڑوں مضامین وہ ہیں کہ جو بعد موت موسیٰ (علیہ السلام) درج کئے گئے۔ چناچہ کتاب استثناء کا اخیر باب جس میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی موت اور قبر کے مفقود ہونے کا حال درج ہے اور جو شیئیں مرکب ہو ایک سے اور اس کے غیر سے وہ نہیں رہتی۔ سکنجبین جو شہد وسر کہ سے مرکب ہے نہ وہ سرکہ کہلاتی ہے نہ شہد الا مجازاً پس مجازاً توریت کہنے سے اس مجموعہ کا اصل ہونا کیونکر لازم آگیا۔ ثانیاً یوں کہ اگر ہم اس بات کو تسلیم بھی کرلیں کہ آنحضرت ﷺ کے عہد تک وہی اصلی توریت یہود عرب کے پاس موجود تھی اور وہ اس میں تحریراً تحریف نہیں کیا کرتے تھے بلکہ صرف بیان کرتے وقت الٹ پلٹ کردیتے تھے۔ بنابرتحریف معنوی اور پھر اس توریت کی پیغمبر ﷺ نے نہایت مدح و عزت بھی کی تھی جیسا کہ مدعی ثابت کرتا ہے اور اس سے بھی ہم قطع نظر کرلیں کہ آنحضرت ﷺ عمر ؓ پر توریت کے اوراق پڑھنے سے نہایت پر غضب ہوئے تھے جیسا کہ دارمی نے بسند صحیح نقل کیا ہے اور اس سے بھی کہ آنحضرت ﷺ نے (لاتصدقوا اہل الکتاب) فرمایا ہے جیسا کہ صحیح بخاری میں موجود ہے تب بھی اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ یہ جو آج کل یہود و نصاریٰ کے پاس مجموعہ صحیح و غلط روایات ہے کہ جس کو وہ توریت کہتے ہیں وہی اصلی توریت ہو۔ اگر اصلی ہوگا تو آنحضرت ﷺ کے عہد تک یہود عرب کے پاس ہوگا نہ کہ یہ جو قطعاًـ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد تصنیف ہوا جس کا مخالف بھی انکار نہیں کرسکتا اور یہی مذہب جمہور علمائِ اسلام کا ہے اور اس بات پر تمام فرقہ اسلامیہ متفق ہیں کہ توریت وہی تھی جو موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوئی نہ کہ وہ جو بعد میں بنائی گئی۔ واللہ اعلم۔ گرچہ آپ کو مقدمہ تفسیر سے یہ بات بخوبی معلوم ہوگئی ہوگی کہ یہ جو آج کل یہود و نصاریٰ کے پاس توریت ہے یہ ایک مجموعہ ہے صحیح اور غیر صحیح مرویات کا نہ کہ وہ توریت جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوئی تھی لیکن اس مقام پر اور بھی اس امر کا تحقیق کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے۔
واضح ہو کہ جب اس توریت کو دیکھا جاتا ہے تو بیشمار مقدمات سے یہ صاف معلوم ہوتا ہے کہ کسی نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی موت کے بعد اس کو ترتیب دیا ہے۔ منجملہ ان کے کتاب استثناء کے 34 باب کی یہ عبارت ہے۔ ” سو موسیٰ خداوند کا بندہ خداوند کے حکم کے موافق مواب کی سزا میں مرگیا اور اسے اسی مواب کے ایک وادی میں بیت مغفور کے مقابل گاڑا۔ پر آج تک کوئی اس قبر کو نہیں جانتا اور موسیٰ اپنے مرنے کے وقت ایک سو بیس برس کا تھا کہ نہ اس کی آنکھیں دھندلائیں اور نہ اس کی تازگی جاتی رہی۔ سو بنی اسرائیل موسیٰ کے لئے مواب کے میدانوں میں تیس دن تک رویا کئے اور ان کے رونے پیٹنے کے دن موسیٰ کے لئے آخر ہوئے اور نون کا بیٹا یشوع دانائی کی روح سے معمور ہوا کیونکہ موسیٰ نے اپنے ہاتھ اس پر رکھے تھے اور بنی اسرائیل اس کے شنوا ہوئے اور جیسا خداوند نے موسیٰ کو فرمایا تھا انہوں نے ویسا کیا۔ اب تک بنی اسرائیل میں موسیٰ کی مانند کوئی نبی نہیں اٹھا جس سے خداوند آمنے سامنے آشنائی کرتا۔ ان سب نشانیوں اور عجائب اور غرائب کی بابت جن کے کرنے کے لئے فرعون اور ان کے سب خادموں اور اس کی ساری سرزمین کے سامنے خداوند نے مصر کی سرزمین میں بھیجا تھا اور اس قویٰ ہاتھ اور بڑے ہیبت کے سب کاموں کی بابت جو موسیٰ نے تمام بنی اسرائیل کے آگے کر دکھائے “۔ اب کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ عبارت جس پر توریت کا خاتمہ ہوگیا ہے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تو کیا ان کے کسی معاصر کے ہاتھ کی بھی لکھی ہوئی ہے ؟ ہرگز نہیں بلکہ یہ بہت عرصہ کے بعد جبکہ موسیٰ (علیہ السلام) کی قبر کا نشان بھی مٹ گیا جو بنی اسرائیل میں قرنوں اور صدیوں زیارت گاہ خاص و عام رہ چکی ہوگی اور لطف یہ ہے کہ اس تمام توریت میں کسی جگہ بھی نہیں پایا جاتا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) لکھ رہے ہیں بلکہ یہ کوئی دوسرا مؤرخ ان کا حال تحریر کر رہا ہے اور جیسی یہ عبارت ہے اسی قسم کے اور صدہا مقامات ہیں کہ جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد صدہا سال والے شخص کے لکھے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔ اس بات کا خود اہل کتاب کو بھی اقرار ہے کہ یہ مقامات توریت میں کسی اور شخص نے بعد میں لکھے ہیں اور بلا سند حضرت عزیر (علیہ السلام) کا نام بتاتے ہیں۔ فرض کرلو کہ یہ عبارتیں حضرت عزیر (علیہ السلام) نے بعد میں زیادہ کردیں مگر جبکہ حضرت عزیر (علیہ السلام) نبی تھے۔ غلط باتیں کیونکر لکھتے پھر وہ جو سینکڑوں مقامات غلط فاحش ہیں کہ جن کے غلط ہونے کا اہل کتاب کے مفسرین کو بھی اقرار ہے جیسا کہ عدن سے جیحون و سیحون کا نکلنا اور خدا سے یعقوب کا کشتی لڑنا اور آدم کو پیدا کرکے پچھتانا اور اس سے خائف ہونا حضرت لوط (علیہ السلام) کا شراب پی کر اپنی دونوں بیٹیوں سے زنا کرنا۔ حضرت ہارون (علیہ السلام) کا بنی اسرائیل سے بچھڑا پجوانا یا تاریخی واقعات میں غلطیاں ہیں) وہ تو کسی طرح کلام الٰہی نہیں ہوسکتے۔ غیر لوگوں کے کلام حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر منزل توریت ہوسکتے ہیں۔ پس جب اس آج کل کی توریت میں غلط باتیں بھی ہیں اور موسیٰ (علیہ السلام) کے علاوہ اور اشخاص کے کلام بھی مندرج ہیں تو یہ مجموعہ جو مرکب ہے کلام اصلی اور غیر اصلی سے ہرگز وہ اصلی توریت نہیں۔ اگر کوئی شخص کچھ مضامین قرآن کے اور کچھ اور باتیں دیگر لوگوں کی لے کر کوئی کتاب مرکب کرے تو یہ مجموعہ ہرگز قرآن نہ شمار ہوگا۔ پس اسلامی عقیدہ کے بموجب یہ مجموعہ ہرگز توریت نہیں۔ کمالایخفی۔
(2) اصل حال یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے عہد کے اندر اندر جانے کس وقت فلسطینیوں اور مصر کے بادشاہوں کی غارت گری میں جو کئی بار بنی اسرائیل پر واقع ہوئی توریت مفقود ہوگئی کیونکہ جب حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اس صندوق کو کھولا کہ جس میں توریت دھری تھی (جیسا کہ کتاب استثناء کے 32 باب 24 درس سے صندوق میں موسیٰ کا کتاب دھرنا پایا جاتا ہے) تو بجز پتھر کی دو لوحوں کے جو کوہ حورب سے موسیٰ لائے تھے اور کچھ نہ نکلا جیسا کہ اول کتاب السلاطین کے 8 باب 9 درس میں مذکور ہے۔ یہ واقعہ حضرت مسیح (علیہ السلام) سے تخمیناً ہزار برس پیشتر کا ہے۔ اس کے بعد بنی اسرائیل میں سلطنت کے دو ٹکڑے ہوگئے اور اسرائیلی بادشاہ اکثر بت پرست اور بدکار ہونے لگے کہ ہیکل کو بھی جلایا اور جو کچھ اس مقدس مقام میں تبرکات تھے سب کو لوٹ کھسوٹ کر برباد کردیا بلکہ خود ہیکل میں بت رکھ دیے۔ پھر حضرت سلیمان (علیہ السلام) سے تخمینا ً چار سو برس بعد بوسیاہ بن آمون کے عہد میں خلقیاہ کاہن نے کہیں ہیکل کے کسی کونے میں دبے ہوئے کئی سو برس کے بوسیدہ اوراق اٹھا کر یہ دعویٰ کیا کہ مجھ کو دبی ہوئی توریت دستیاب ہوگئی جس کو سن کر بوسیاہ بڑا رویا۔ پھر یہ مجموعہ بھی جس کو خلقیاہ نے مرتب کیا تھا اور جو بنی اسرائیل میں توریت سمجھا جانے لگا تھا بنو کد قیصر یعنی بخت نصر کی دوبارہ چڑھائی میں بالکل نیست و نابود ہوگیا۔ یہاں تک کہ جب بنی اسرائیل ستر (70) برس کی اسیری کے بعد شہر بابل سے شام میں آئے تو ان کے پاس توریت تو کیا کوئی مذہبی کتاب بھی نہ تھی بلکہ وہ تو سرے سے اپنی زبان قدیم کو بھی بھول گئے تھے اور کلدانی زبان بولتے تھے۔ اس کے بعد مشہور کرتے ہیں کہ حضرت عزیر (علیہ السلام) نے پھر ازسرنو توریت کو مرتب کیا مگر اس کا کوئی ثبوت نہیں۔ ایک بےسند بات ہے بلکہ جس کو خود عزیر کی کتاب مجموعہ بائبل میں شمار کرتے ہیں۔ وہ بھی بقول محققین شمعون صادق کی تصنیف ہے جو حضرت مسیح (علیہ السلام) سے تخمیناً تین سو برس پیشتر تھا۔ خیر یہ بھی سہی کہ حضرت عزیر (علیہ السلام) نے پھر توریت کو مرتب کیا مگر آکس یعنی اینٹو کس سر یا کے بادشاہ نے حضرت مسیح (علیہ السلام) سے ایک سواکہتر برس پیشتر ساڑھے تین برس تک اور شلیم اور ہیکل کو ایسا برباد و نیست و نابود کردیا کہ ہزاروں آدمیوں کو تہ تیغ کردیا اور شہر اور ہیکل کو جلا دیا۔ ڈھونڈ ڈھونڈ کر تمام کتب دینیہ یہود کو جلایا۔ جیسا کہ مقابیس کی پہلی کتاب کے اول باب میں اس کا اقرار ہے اور یہ ظاہر ہے کہ بجز ہیکل کے توریت اور کہیں نہیں رہی تھی۔ سو وہ عزیر (علیہ السلام) کا مرتب کردہ نسخہ بھی معدوم ہوگیا۔ اس کے بعد یہوداہ مقابیس نے مسیح سے ایک سو پینسٹھ برس پیشتر ہیکل کی تعمیر کی اور سن سنا کر ایک مجموعہ احکام و قصص بھی مرتب کیا اور نام توریت رکھا۔ اس کا ایک نسخہ ہیکل میں رہتا تھا (مفتاح الکتاب صفحہ 135) اور یہی نسخہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کے عہد تک باقی تھا اس کے بعد حضرت مسیح سے تخمیناً چالیس برس بعد روم کے بادشاہ طیطس نے اور شلیم پر چڑھائی کرکے تمام شہر کو نیست و نابود کردیا۔ ہیکل اور اس نسخہ کو جلا دیا۔ لاکھوں آدمیوں کو تہ تیغ کرکے اس نقلی توریت کو بھی صفحہ عالم سے نیست و نابود کردیا جس کا تمام یہود و نصاریٰ کو ملال رہا۔ بعض کہتے ہیں کہ طیطس اس کو روم میں لے گیا۔ اس کے 65 برس بعد آدرین قیصر شاہ روم نے جو بت پرست تھا ٗ یہودیوں کی سرکشی دیکھ کر اور بھی شہر اور ہیکل پر ہل چلوا دیے اور پیٹر بت کا مندر بنا دیا اور شلیم کا نام اپنے خاندان کی یادگار پر ایلیہ رکھ دیا۔ اس کے بعد اور بھی بربادیاں اہل کتاب پر سخت سخت آئیں مگر پھر امن پا کے ایک مجموعہ مرتب احکام و قصص کا مشائخِ یہود نے کیا اور اس کا نام تورات رکھا۔ اگرچہ پھر عمداً یا سہواً اس میں بھی صدہا غلطیاں اور تحریفات ہوئیں مگر آنحضرت ﷺ کے عہد میں یہود عرب کے پاس یہی نسخہ تھا۔ اب اگر بعض علمائِ اسلام کا یہ قول مان لیا جاوے کہ یہود مدینہ تحریف لفظی نہ کرتے تھے تو کیا اس سے یہ نسخہ موسیٰ کی اصل توریت ہوگیا ؟ مولوی رحمۃ اللہ صاحب اپنی کتاب اظہار الحق کے صفحہ 142 جلد اول میں فرماتے ہیں ” ان التورات الاصلی وکذا الانجیل الاصلی فقدا قبل بعثۃ محمد ﷺ والموجودان الآن بمنزلۃ کتابین من السیر مجموعین من الروایات الصحیحۃ والکاذبۃ “ اس کے بعد علمائِ اسلام کے اقوال اور احادیث اس بات کی تائید میں کئی صفحہ تک درج فرماتے ہیں۔ فمن شاء فلیرجع الیہ۔
Ayahs 5:44–451 ؎ یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد جو انبیاء بنی اسرائیل گزرے ہیں سلیمان ‘ داؤد ‘ الیاس ‘ الیسع ‘ عزیر ‘ لخمیا ‘ زکریا یحییٰ سب توریت کے پابند تھے جب بخت نصر وغیرہ کی حوادث میں توریت جاتی رہی تو ان ہی بزرگوں نے جو کچھ مل سکا بہم پہنچا کر اس کے احکام کو منضبط کیا یہ اس معنی سے اس کے امانت دار اور محافظ تھے اور ان کے سوا یہود کے ربی یعنی مشائخ تارک دنیا اور احباء علماء بھی اسی کی تعمیل کرتے تھے جس کو یہود نے یوں پس پشت ڈال دیا۔ 12 منہ
Ayahs 5:46–47ترکیب : وکتبنا اے فرضنا ‘ ان النفس تقتل بالنفس خبر ان جملہ مفعول کتبنا والعین معطوف ہے النفس اسم ان پر۔ اور اسی طرح پر الانف اور الاذن اور السن اور الجروح معطوف ہیں فمن تصدق شرط فہو کفارۃ لہ جواب۔ بعیسی متعلق ہے قفینا سے۔
تفسیر : توریت کی مدح فرما کر اس کے بعض احکام کا بیان یہود پر تعریضاً کرتا ہے کہ دیکھو تم ان احکام کے بھی پابند نہیں جس طرح یہود نے زنا کی سزا میں یہ کر رکھا تھا کہ غریب کو قتل کرتے تھے اور امیر یا ذی عزت کو صرف تشہیر کرکے چھوڑ دیتے تھے۔ اسی طرح قصاص کے بارے میں شریف کو غیر شریف کے بدلے میں قتل نہیں کرتے تھے۔ مدینہ کے آس پاس یہود کے دو گروہ رہتے تھے۔ ایک بنی قریظہ۔ دوسرا بنی نضیر۔ بنی نضیر ذرا اپنی کسی فوقیت پر نازاں تھے۔ اس لئے اگر کوئی بنی قریظہ میں سے کسی بنی نضیر کو قتل کرتا تھا تو اس کے بدلے میں قاتل کو برابر قتل کرتے تھے اور جو بنی نضیر کا کوئی شخص بنی قریظہ کے کسی شخص کو قتل کر ڈالتا تھا تو قاتل صرف دیت لے کر چھوڑ دیا جاتا تھا اور عرب کے قبائل میں بھی یہی جہالت تھی کہ شریف کو وضیع کے بدلے میں قتل نہیں کرتے تھے اس لئے ان آیات میں توریت کے قصاص کے متعلق احکام بیان فرما کر ان کو خواب غفلت سے بیدار کرتا ہے۔
وکتبنا علیہم فیہا۔ اس توریت میں بھی یہ حکم ہے سفر استثناء کے 19 باب 21 درس میں یہ ہے اور تیری آنکھ مروت نہ کرے کہ جان کا بدلہ جان ٗ آنکھ کا بدلہ آنکھ ٗ دانت کا بدلہ دانت ٗ ہاتھ کا بدلہ ہاتھ اور پائوں کا بدلہ پائوں ہوگا اور سفر خروج کے 22 باب 24‘ 25 درس میں یوں ہے اور آنکھ کے بدلے آنکھ ‘ دانت کے بدلے دانت اور ہاتھ کے بدلے ہاتھ اور پائوں کے بدلے پائوں ‘ جلانے کے بدلے جلانا ‘ زخم کے بدلے زخم ٗ چوٹ کے بدلے چوٹ۔
علماء اسلام نے اصول فقہ میں اس آیت سے یہ بات ثابت کی ہے کہ پہلے انبیاء (علیہم السلام) کی جس قدر شریعتیں منسوخ نہیں ہیں امت محمدیہ کو انہیں ماننا چاہیے بشرطیکہ ان شرائع کو قرآن نے یا پیغمبر (علیہ السلام) نے نقل کیا ہو کیونکہ کتب سابقہ محرف ہوگئیں۔ ان پر وثوق نہیں ہوسکتا (نور الانوار) چونکہ قصاص کے اس مسئلہ کو خداوند تعالیٰ نے بحوالہ توریت شریف ذکر فرمایا ہے سو یہی حکم اسلام میں بھی جاری ہے۔
ہر عضو کے بدلے دوسرے کا وہی عضو کاٹا جاوے گا۔ آنکھ کے بدلے آنکھ ‘ دانت کے بدلے دانت ‘ ہاتھ کے بدلے ہاتھ ‘ والجروح قصاص اور زخم کے بدلے زخم دیا جاوے گا مگر جس زخم کے دینے سے موت کا خوف ہو یا اس زخم کا طول و عرض و عمق معلوم نہ ہو سکے تو ان صورتوں میں زخم دینے والے کو ایسا زخم دینا متعذر سمجھ کر اس سے تاوان لیا جاوے گا جس کو شرع میں ارش کہتے ہیں۔ باقی اس ارش کی مقدار اور اس کے متعلق دیگر مسائل جزئیہ جو آئمہ دین نے قرآن و احادیث سے استنباط کرکے نکالے ہیں کتب فقہ میں کمال تشریح کے ساتھ مذکور ہیں جو چاہے وہاں دیکھ لے۔
امام ابوحنیفہ (رح) اور اکثر اہل علم نے اس آیت سے یہ بات ثابت کی ہے کہ خواہ کوئی مسلمان دوسرے مسلمان کو قتل کرے خواہ کسی کافر ذمی کو قتل کرے یا کسی غلام یا عورت کو قتل کرے خواہ بڈھے یا لڑکے یا بیمار کو قتل کرے ان سب کے بدلے میں قاتل کو قتل کیا جاوے گا۔ کس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے جان کے بدلے جان فرمائی ہے اور جانیں سب کی برابر ہیں اور یہی بات اصول سلطنتِ آسمانی کے موافق ہے اور تمدن کے لئے بھی نہایت نافع ہے۔ فمن تصدق بہ فہو کفارۃ لہ یعنی جو شخص اپنے ہاتھ یا کسی عضو کاٹ دینے والے کو یا زخم لگانے والے کو معاف کر دے اور اپنا بدلہ نہ چاہے تو یہ اس معاف کرنے والے کے گناہوں کا کفارہ ہے۔ خدا تعالیٰ اس کے بدلے میں اس مظلوم کے گناہ معاف کر دے گا۔ بعض کہتے ہیں لہ کی ضمیر قاتل کی طرف پھرتی ہے کہ یہ معاف کرنا زخم کرنے والے کے لئے کفارہ ہوگیا۔ اب اس سے کچھ بدلہ نہ لیا جاوے گا مگر معنی اول سیاق عبارت سے نہایت مناسبت رکھتے ہیں۔
مظلوم کے معاف کرنے پر انتقام کا حاکم وقت کو مجاز ہے کہ نہیں : اس مقام پر ایک اور بحث ذکر کرنے کے قابل ہے۔ وہ یہ کہ اگر مظلوم نے یا اس کے وارثوں نے قاتل یا زخم دینے والے سے دستبرداری کرلی ٗ معاف کردیا تو اس صورت میں حاکم کو بھی اس کو انتظاماً کوئی سزا دینے کا مجاز ہے یا نہیں ؟ یہ تو بالاتفاق ہے کہ ایسی صورت میں قاتل قتل سے اور زخم دینے والا زخم سے محفوظ رہے گا مگر تہدیداً قید یا کوئی اور سزا بھی حاکم کے اختیار میں ہے ؟ ایک جماعت کہتی ہے کہ نہیں کیونکہ اب اس پر کوئی مطالبہ باقی نہیں رہا مگر محققین کہتے ہیں حاکم کو بھی تہدیداً سزا دینے کا اختیار ہے نہ مقتول و مجروح کے حقوق کی وجہ سے بلکہ امن عام میں خلل پیدا کرنے کی وجہ سے قتل و زخم کی سزا سے کم سزا مالی یا جسمانی قید وغیرہ کا مجاز ہے۔ جب توریت کی ایسی حالت اور یہود کی ایسی نوبت تھی تو ان کی اصلاح کے لئے خدا تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو انجیل شریف دے کر بھیجا۔ اس لئے فرماتا ہے وقضینا علی آثارھم بعیسٰی بن مریم الخ عیسیٰ کی مدح میں مصدقالما بین یدیہ من التوراۃ فرمایا کہ وہ اپنے سے پہلی کتاب توریت کی تصدیق کرتے تھے۔ اس مقام پر اہل کتاب کہتے ہیں کہ گو توریت کا حوادث مذکورہ میں کچھ ٹھیک نہیں رہا مگر جب کہ مسیح نے اس کی شہادت دی تو توریت گم شدہ پائی گئی۔ میں کہتا ہوں کہ کہیں سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) نے توریت کو ہاتھ میں لے کر یہ کہا ہو کہ یہ وہی اصلی توریت ہے۔ بلاتغیر جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوئی تھی۔ کسی موقع پر اس کی بعض آیات سے استدلال کرنا یا توریت کو منجانب اللہ کہنا اور اس کی مدح فرمانا سو ایسا حضرت عیسیٰ نے ضرور کیا ہوگا مگر اس سے اس مجموعہ کا اصلی اور بلاکم و بیش توریت موسیٰ ہونا لازم نہیں آتا اور کسی شے کی تصدیق کرنا یہ نہیں چاہتا کہ اس چیز کا وجود خارج میں بھی موجود ہو بلکہ وجود ذہنی کافی ہے مثلاً آج جو ہم موسیٰ (علیہ السلام) کی تصدیق کریں تو اس سے یہ لازم نہ آئے گا کہ موسیٰ (علیہ السلام) شام میں موجود بھی ہوں مگر مسیح کے بعد جو حوادث قیاصرہ روم کی طرف سے پڑے ان میں تلف ہوجانے کے بعد پھر موجود ہونے کی کوئی دلیل نہیں اور آتیناہ الانجیل اس میں صاف بیان ہے کہ انجیل وہ کتاب آسمانی ہے کہ جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوئی تھی جس میں یہ چار وصف تھے فیہ ھدی ونور ومصدقالما بین یدیہ من التوراۃ وھدی وموعظۃ کہ اس میں ہدایت اور نور اور تصدیق اور نصیحت تھی اور اسی انجیل پر اہل اسلام کا ایمان ہے۔
انجیل پر بحث : پس یہ جو آج چار شخصوں کی تاریخیں جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد لوگوں نے ان کے حالات میں لکھیں جن کو انجیل متی انجیل مرقس انجیل لوقا انجیل یوحنا کہتے ہیں حضرت مسیح (علیہ السلام) کی وہ انجیل نہیں کہ جو ان پر نازل ہوئی تھی کیونکہ یہ کتابیں حضرت مسیح (علیہ السلام) کے روبرو بھی نہیں لکھی گئیں بلکہ بہت زمانہ بعد۔ علاوہ اس کے خود عیسائیوں کے فرقوں میں بہت سی مختلف انجیلیں کہ جن کی تعدادسو سے زیادہ ہے اس بات پر صریح دلیل ہے کہ ہر شخص اپنی تصنیف کو انجیل کہا کرتا تھا۔ حضرت مسیح (علیہ السلام) کی انجیل اگر ان کے پاس سے حوادث قیاصرہ میں گم نہ ہوجاتی تو اس تصانیف کی بنام نہاد انجیل کچھ ضرورت نہ پڑتی۔
خود ان چاروں کتابوں کی بھی تسلیم اور عدم تسلیم میں باہم بہت کچھ اختلاف رہا کیونکہ پہلی صدیوں ہی میں جعلی انجیلوں کی تصانیف کا بازار گرم تھا۔ اس لئے عیسائیوں کا پولوس مقدس اس بات کی بہت کچھ شکایت کرتا ہے کہ لوگوں نے خداوند کی انجیل کو پلٹ دیا۔ وہ اپنی ایک اور انجیل بتاتا ہے اور اس کے سوا اور انجیلوں کے سننے والے پر لعنت کرتا ہے۔ پھر ان چاروں انجیلوں میں بھی جو کچھ تحریفات اور کمیاں اور بیشیاں ہیں ان کا بھی خود عیسائی علماء کو اقرار ہے۔ پادری فنڈر گریسباخ وغیرہ کے حوالہ سے ہزاروں سہو اور اغلاط کا اختتام مباحثہ دینی اکبر آباد میں مقر ہے۔ پس جب ان کا یہ حال ہے تو پولوس وغیرہ حواریوں کے خطوط تو کسی طرح بھی علمائِ اسلام کے عقیدہ کے بموجب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی انجیل نہیں ہوسکتی۔
واضح ہو کہ آنحضرت ﷺ کے عہد میں عرب کے بعض قبائل عیسائی تھے جیسا کہ یمن میں اور بخران میں بنی حارث اور یمامہ میں بنی حنظلہ اور تیمیہ میں بنی طے اور تغلب وغیرہ قومیں مگر ان سب کے پاس فرقہ ملینکیون اور ابیونوں اور سریانی اور مصری اور ارمنی عیسائیوں کی اناجیل تھیں نہ یہ اناجیل سو ان کی تو کسی طرح سے قرآن میں تصدیق نہیں کیونکہ اسی زمانہ میں ابیونی اور مانکیز وغیرہ فرقہ تھے جن کو یہ فرقہ پر انسٹنٹ جو سولہویں صدی عیسوی میں پیدا ہوا خود بدعتی اور گمراہ بتلاتا ہے ولیحکم اھل الانجیل یعنی جو دلائل تمہاری کتابوں میں آنحضرت ﷺ کی نبوت پر دالّہ ہیں تم ان کے مطابق حکم دو ورنہ تمہارے دعوے کے موجب تم فاسق ہو۔ کافر اور فاسق اور ظالم تین وصف خدا کے حکم پر عمل نہ کرنے والے کے بلالحاظ حقوق اللہ و حقوق العباد فرمائے۔
Ayahs 5:48–50ترکیب : بالحق حال ہے الکتاب مفعول انزلنا سے مصدقا ومہیمنا بھی حال ہے عما جاءک موضع حال میں ہے اے عادلا عماجاءک ولکن لیبلوکم لام متعلق محذوف ہے۔
تفسیر : چونکہ توریت کی بربادی کے بعد خدا تعالیٰ نے انجیل نازل کی تھی۔ اسی طرح انجیل کے معدوم ہوجانے اور حضرت مسیح (علیہ السلام) کے دین میں افراط وتفریط ہوجانے کے سبب قرآن مجید نازل کیا جس میں خدا تعالیٰ نے تمام کتب سابقہ کے مضامین و مطالب ہدایت افزا کو جمع کردیا۔ اس لئے فرماتا ہے انزلنا الخ چونکہ قرآن توریت و انجیل کی اس بات میں تصدیق کرتا ہے کہ وہ برحق اور من اللہ تھیں اور ان کے عمدہ مضامین قرآن میں ہیں اس لئے ان کا مہیمن یعنی محافظ ہے کیونکہ جب وہ مضامین قرآن میں آئے تو اب ان میں کسی طرح کی تبدیلی و تحریف ممکن نہیں۔
اس کے بعد آنحضرت ﷺ کو قرآن کے اتباع کی تاکید کرتا ہے اور تینوں امتوں میں جو وقتاً فوقتاً احکام جداگانہ بھیجے ان کی مصلحت فرماتا ہے لکل 1 ؎ جعلنا منکم شرعۃ ومنہا جا شرع ماخود ہے شروع فی الشے سے وھوا لدخول فیہ۔ شریعت کلام عرب میں گھاٹ کو کہتے ہیں۔ شریعۃ بروزن فعیلۃ وہ امور کہ جن کو خدا نے بندوں پر مقرر کردیا ہے منہاج کھلا ہوا رستہ بعض کہتے ہیں دونوں سے ایک چیز مراد ہے بعض کہتے ہیں شریعت سے مراد احکام ظاہریہ اور منہاج سے طریقت یعنی اس کے مکارم۔ (کبیر)
1 ؎ انبیاء (علیہم السلام) کا اصول مذہب ایک ہے اس لئے یکے بعد دیگر تین کتابیں نازل ہوئیں جو ایک دوسری کی تصدیق و تجدید کرتی ہے۔ توریت ٗ انجیل ٗ قرآن۔ مگر مصالح وقت کے لحاظ سے احکام بدلتے رہے۔ لکل جعلنا منکم شرعۃ ومنہاجا میں اسی طرف اشارہ ہے۔ خدا چاہتا تو ایک ہی دستورالعمل رکھتا ‘ اختلاف نہ ہونے دیتا مگر بندوں کی آزمائش کے لئے میدان نہ رہتا۔ پچھلے لوگوں کو پہلی امت کے سخت احکام کی پابندی میں عذر ہوتا اب جبکہ ہر ایک زمانہ کے لوگوں کو ان کے موافق احکام عطا فرمائے تو اب جو کوئی کوشش نہ کرے اس کا قصور ہے۔ پہلے آزمائشِ الٰہی ہے۔ اس کے بعد امت محمدیہ کے تیز رو سواروں کو فرماتا ہے کہ ہاں میدان صاف ہے لو دوڑو سعادت کے جھنڈے لے اڑو۔ ع
کوئی توفیق وسعادت درمیان افگندہ اند
کس بہ میداں درنمی آید سواران راچہ شد
فاستبقو الخیرات اب اگلے احکام کی آرزو کرنا پرانی لکیر کا فقیر ہونا یہ ضد ہے جس کا ثمرہ مرنے کے بعد معلوم ہوجاوے گا فینبئکم الخ اس کے بعد آنحضرت ﷺ کو جدید شریعت پر استقامت کی تاکید فرماتا ہے اور یہود و نصاریٰ کے دائو گھات سے بچنے کا حکم دیتا ہے۔ 12 منہ