Ayah 5:6ترکیب : اذ شرطیہ فاغسلوا جواب الی المرافق الی بمعنی مع متعلق ہے اغسلوا سے برؤسکم بازائد ہے وقیل للا لصاق وارجلکم بالنصب اس لئے کہ اس کا عطف وجوھکم پر ہے ای فاغسلوا ارجلکم اور بالجر اس طور سے کہ اس کو رئوس پر معطوف کیا جاوے اور حکم دونوں کا مختلف ہو اور اس کو جر جوار کہتے ہیں یعنی سر کا مسح ہو اور پائوں دھونے چاہییں اور اس قسم کا جر جو قرآن مجید اور کلام شعراء میں واقع ہے وان کنتم شرط فتیموا الخ جواب۔
تفسیر : اس سورة میں اول اوفوا بالعقود کہہ کے وفائِ عہد کا حکم دیا گیا تھا مگر اس سے ضمناً یہ بات بھی نکلتی تھی کہ جب تم بندے ہو کر عہد کو پورا کرنے پر مجبور کئے جاتے ہو تو میں رب العالمین زیادہ تر اپنے اس عہد کے پورا کرنے کا مستحق ہوں جو میں نے اپنے بندوں سے کیا ہے۔ چونکہ اللہ کا عہد بندوں سے یہ تھا کہ ان کو منافع دنیاویہ مباح کر دے اور عالم آخرت میں ان کو جنت میں رکھے۔ سو سب سے اول منافع دنیا کی بابت (کہ جس کی انسان کو ہر وقت ضرورت پڑتی ہے اور جو حسنات عقبیٰ کا ذریعہ ہی) اس نے اپنا عہد وفا کیا۔ منافع دنیا یا کھانے پینے کی چیزیں ہیں یا مناکحت کے متعلق اور مقدم کھانا پینا ہے۔ اس لئے اول کھانے پینے کی چیزوں کی اباحت اور حلت بیان فرما کر پھر حلال عورتوں کا ذکر کیا کہ جن سے نکاح کی اجازت دی گئی۔ اس کے بعد وہ بندوں سے ان کے عہد عبودیت کو پورا کرتا ہے اور عبودیت میں سب سے اول درجہ میں نماز ہے اور نماز بغیر وضو درست نہیں کس لئے کہ کثافت جسمانیہ کا اثر نفس پر پہنچتا ہے۔ یہ تجربہ کی بات ہے اس لئے وضو کے بارے میں فرماتا ہے یا ایہا الذین امنوا اذا قمتم الی الصلوٰۃ الخ یا یوں کہو دنیا میں بندہ ہمیشہ نہیں رہے گا۔ آخر اس کو سفر درپیش ہے کہیں جانا ہے کہ جہاں سے پھر آنا نہیں۔ سودا کہتا ہے ؎
رخصت دے باغباں کہ ذرا دیکھ لیں چمن
جاتے ہیں واں جہاں سے پھر آیا نہ جائے گا
اور آسمانی کتاب انسان کے فوائدِ دنیا و دین کے لئے نازل ہوا کرتی ہیں۔ پس جس طرح اس نے سب سے اول اس دنیا کے فوائد کو حلال حرام چیزیں کھانے پینے کے متعلق اور نکاح کے متعلق بیان فرما کر معاش کی اصلاح کردی کیونکہ سچ پوچھو تو دنیا ان ہی دو چیزوں سے عبارت ہے اور باقی سب جھگڑے اور بکھیڑے ان ہی کے لئے ہیں۔ اسی طرح اس نے عالم جاودانی اور فضائے نورانی کی تدبیر عبادتِ الٰہی تعلیم فرمائی اور عبادت اعلیٰ نماز جو پنج وقتہ اس کے دربار کی حضوری ہے اور یہ بغیر طہارت جسمانی یعنی وضو کے ٹھیک نہیں اس لئے وضو کا حکم دیا۔ فاغسلوا وجوھکم واید یکم فرمایا جس میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ اے بندے تو کب تک دنیائے فانی کے لذائذ کھانے پینے عورتوں سے صحبت کرنے میں مصروف رہے گا۔ اس ظلمت کدہ کی اس شہوانی سیاہی سے ہاتھ منہ دھو کر صاف پاک ہو کر اپنے اصلی مقام پر آ اور شہوات سے ہاتھ دھو۔ اذا قمتم الی الصلوٰۃ اس سے مراد یہ ہے کہ جب نماز کا ارادہ کرو کیونکہ قیام الی الصلوٰۃ سے وضو مقدم بالاتفاق ہے۔ اس آیت سے وضو کا فرض ہونا ثابت ہے مگر اس سے یہ نہیں ثابت ہوتا کہ ہر نماز کے لئے جداگانہ وضو کرنا چاہیے بلکہ ایک وضو دوسری نماز کے وقت تک باقی رہے تو کافی ہے۔ وضو جدید ضرور نہیں جیسا کہ دائود ظاہری کا مذہب ہے کیونکہ مسلم و احمد و اہل سنن نے بریدہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ ہر نماز کے لئے جداگانہ وضو کیا کرتے تھے اور فتح مکہ کے روز صرف ایک وضو سے کئی نماز خفین پر مسح کرکے پڑھیں۔ عمر ؓ نے عرض کیا کہ آج آپ نے وہ بات کی جو پہلے نہیں کیا کرتے تھے۔ حضرت ﷺ نے فرمایا اے عمر میں نے اس کو عمداً کیا ہے اور بخاری اور احمد اور اہل سنن نے عمرو بن عامرانصاری ؓ سے روایت کیا ہے کہ انس بن مالک ؓ فرماتے تھے کہ نبی ﷺ ہر نماز کے لئے جداگانہ وضو کرتے تھے۔ وہ کہتے ہیں میں نے پوچھا پھر تم کیا کیا کرتے ہو۔ کہا کہ ہم تو جب تک حدث نہ ہو کئی نمازیں ایک ہی وضو میں پڑھ لیتے ہیں۔ ہاں باوجود وضو ہونے کے اگر دوسرے وقت میں وضو کرلے گا تو مستحب ہے۔
وضو کا اول فرض : فاغسلوا وجوھکم یہ وضو کا اول فرض ہے۔ اس میں تمام امت کا اتفاق ہے۔ اب رہے غسل وجہ (یعنی منہ) کے معنی اور کیفیت کہ جس کو قرآن نے عرف اہل زبان پر چھوڑ دیا۔ البتہ اس میں علماء کے مختلف اقوال ہیں۔ غسل لغت میں کسی عضو پر پانی بہانے کو کہتے ہیں نہ محض تر کرنے کو۔ اقل مرتبہ غسل میں یہ بات ہے کہ کچھ قطرات ٹپکیں۔ اس تقدیر پر اگر کسی نے برف کے ڈلے کو منہ یا اور اعضاء پر وضو میں پھرایا۔ پس اگر ہوا کی گرمی یا جسم کی گرمی سے برف پگھل کر ٹپکے تو وضو ہوگیا ورنہ نہیں۔ آیت میں دو بار یا تین بار دھونے کی کوئی قید نہیں بلکہ باعتبار معنی لغوی کے ایک بار بھی اعضائِ وضو کو دھو وے گا تو وہ وضو ہوجاوے گا اور اسی لئے بخاری اور ترمذی اور ابن ماجہ اور نسائی اور ابو دائود نے روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ نے وضو میں اعضاء کو گاہے صرف ایک بار بھی دھو کر یہ بتلا دیا ہے کہ اس قدر وضو میں فرض ہے۔ وجہ جو مواجہۃ سے لیا گیا ہے جس کے معنی سامنے کے ہیں ٗ منہ کو کہتے ہیں یعنی ماتھے کے بالوں سے لے کر ٹھوڑی تک اور دونوں کانوں تک اس لئے آنکھ کے اندر پانی پہنچانا جمہور کے نزدیک کچھ ضرور نہیں۔ الاعند ابن عباس ؓ اور اسی طرح کان اور ڈاڑھی کے درمیان جو خالی جگہ ہے وہ بھی منہ شمار ہے اس کا دھونا بھی جمہور کے نزدیک فرض مگر امام ابو یوسف کہتے ہیں وہ منہ نہیں اس کا دھونا بھی کچھ ضرور نہیں۔ اسی طرح جس کی ہلکی ڈاڑھی ہو اس کو بالوں کی جڑ تک پانی پہنچانا ضرور نہیں کیونکہ بجائے جلد کے بال ہیں۔ صرف ان کا دھونا کافی ہے۔ شافعی (رح) کہتے ہیں چونکہ بال ہلکے ہیں۔ جڑوں میں پانی پہنچانا چاہیے مگر گھنی ڈاڑھی میں بالاتفاق بالوں کی جڑ دھونا ضرور نہیں۔ ہاں خلال کرنا مستحب ہے جیسا کہ ابن ماجہ اور ترمذی نے روایت کیا ہے کان النبی ﷺ یخلل لحیتہ اور جس قدر ڈاڑھی نیچے لٹکی ہوئی ہے اور جو کانوں سے اوپر تک اٹھی ہوئی ہے آیا اس کا دھونا بھی واجب ہے کہ نہیں ؟ امام ابوحنیفہ اور مالک فرماتے ہیں نہیں کیونکہ اس پر وجہ کا اطلاق نہیں ہوتا۔ امام شافعی (رح) کہتے ہیں واجب ہے مگر اس حدیث سے کہ جس کو مسلم اور احمد نے روایت کیا ہے۔ دھونا مستحب ہے۔
وضو کا دوسرا فرض : وایدیکم الی المرافق یہ وضو کا دوسرا فرض ہے یعنی دونوں ہاتھوں کا مرافق ( جمع مرفق اعنی کہنی) تک دھونا فرض جمہور کے نزدیک کہنیوں کو بھی دھونا چاہیے۔ امام مالک اور امام زفر فرماتے ہیں اللہ نے کہنیوں تک فرمایا۔ کہنیین اس میں شامل نہیں۔ جمہور کہتے ہیں اس مقام پر مابعد اور ماقبل الی کے ہم جنس ہونے کی وجہ سے غایۃً مغیا میں داخل ہے۔ آیت میں اس کی بھی کچھ تشریح نہیں کہ پہلے دائیں ہاتھ کو دھوئے یا بائیں کو مگر مسنون یوں ہے کہ اول دائیں کو پھر بائیں کو دھوئے اور پہنچوں سے دھوتا ہوا کہنیوں تک آوے نہ کہ کہنی سے پانی ڈال کر پہنچوں تک پہنچاوے کیونکہ یہ مکروہ خلاف حدیث ہے۔ اس لئے بعض علماء نے کہا ہے کہ یہ درست نہ ہوگا۔
وضو کا تیسرا فرض : وامسحوا برئو سکم یہ تیسرا فرض وضو کا ہے مسح کہتے ہیں ہاتھ تر کرکے کسی چیز پر لگانا اور لغت میں عموماً چھونا۔
اس آیت میں کچھ تصریح نہیں کہ آدھے سر کا مسح کرے یا کل کا یا چوتھائی کا۔ اس لئے علمائے کرام و مجتہدین عظام کے اس میں مختلف اقوال ہیں۔ امام ابوحنیفہ (رح) و امام شافعی (رح) اور اکثر علماء کے نزدیک کل سر کا مسح کرنا ضرور نہیں۔ کس لئے کہ اول تو برؤسکم میں ب بعضیت کا فائدہ دیتی ہے۔ بولتے ہیں مسحت یدی بالمندیل کہ میں نے اپنے ہاتھوں کو رومال سے مسح کیا۔ اس میں یہ کچھ ضرور نہیں کہ تمام رومال کا مسح کیا ہو بلکہ اس کے بعض اجزاء کے مسح پر بھی یہ قول صادق آسکتا ہے۔ دوم اگر ب کو زائدہ بھی تسلیم کر لیویں تب باعتبار عرفِ اہل زبان کے تمام سر کا مسح کرنا نہیں سمجھا جاتا۔ یہ مسح مطلق ہے۔ پھر امام شافعی (رح) نے اس کو مطلق ہی رکھا ہے حتٰی کہ اگر سر کے چند بالوں کا مسح بھی کرلے گا تو جائز ہوگا مگر امام ابوحنیفہ (رح) نے اس کو ان احادیث سے جو مسح بعض راس کے لئے آئی ہیں چوتھائی سر مراد لیا ہے اور امام مالک (رح) نے اپنے قرائن اور ان احادیث سے کہ جن میں تمام سر کا مسح کرنا پایا گیا ہے کل سر کا مسح کرنا مراد لیا ہے۔ احادیث صحیحہ میں کل سر کا مسح کرنا بھی آیا ہے اور بعض کا بھی۔ گرچہ یہ بحث علماء کی فرضیت میں تھی مگر سب کے نزدیک تمام سر کا مسح کرنا مسنون اور احوط ہے۔ اوزاعی اور ثوری اور امام احمد (رح) کے نزدیک اگر بجائے سر کے کوئی عمامہ پر بھی مسح کرلے گا تو درست ہوگا کیونکہ نبی ﷺ نے بعض اوقات ایسا کیا ہے جیسا کہ عمرو بن امیہ ضمیری اور بلال اور مغیرہ بن شعبہ اور سلمان اور ثوبان رضوان اللہ علیہم سے روایات آئی ہیں جن کو بخاری اور احمد اور ترمذی اور ابن ماجہ وغیرہ نے اپنی کتابوں میں روایت کیا ہے مگر امام شافعی اور ابوحنیفہ اور اکثر علما کے نزدیک یہ کافی نہ ہوگا اور آنحضرت ﷺ کا یہ فعل اس بات پر محمول ہوگا کہ آپ نے عمامہ کو ہاتھ سے اٹھا کر سر کا مسح کیا۔ راوی نے یہی سمجھ لیا کہ صرف عمامہ پر مسح کیا۔ دیکھو صحیحین میں مغیرہ بن شعبہ ؓ سے یوں منقول ہے۔ ان النبی ﷺ توضا فمسح بنا صیۃ وعلی العمامۃ الخ 1 ؎ اور نیز قرآن میں سر کا مسح کرنا مشرح ہوچکا ہے نہ کہ عمامہ کا اور نیز وہ صحیح احادیث کہ جن میں اس بات کا بیان ہے کہ آنحضرت ﷺ نے وضو کرکے دکھایا اور فرما دیا کہ اس طرح کے وضو بغیر خدا نماز قبول نہیں کرتا۔ ان میں سر کا مسح کرنا پایا گیا ہے۔: امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ گردن بھی سر میں شمار ہوتی ہے۔ اس پر بھی مسح کرنا مستحب ہے جیسا کہ کانوں کا اور مسح رقبہ میں چند احادیث بھی وارد ہیں۔
وضو کا چوتھا فرض : وارجلکم الی الکعبین چوتھا فرض وضو کا ہے یعنی ٹخنوں تک پائوں دھونا۔ ارجل رجل کی جمع ہے جس کے معنی پائوں کے ہیں اور کعب ٹخنے کو کہتے ہیں۔ کعب کے لغت میں معنی بلندی اور ارتفاع یا ابھار کے ہیں اور اسی لئے عرب میں ان عورتوں کو کہ جن کے سینے ابھرے ہوئے ہوتے تھے کو اعب کہتے ہیں۔ اس لئے پائوں میں جو دونوں طرف ابھری ہوئی ہڈی دکھائی دیتی ہیں ان کو کعبین کہتے ہیں۔ جمہور اہل لغت کا یہی قول ہے مگر شیعہ امامیہ کے نزدیک کعب اس گول ہڈی کو کہتے ہیں کہ جس پر پنڈلی کی ہڈی آن کر جڑی ہے۔ وہ ٹخنے سے نیچے کی طرف کسی قدر اسی جانب میں یعنی اندر کے رخ ایک چھوٹی سی ہڈی معلوم ہوتی ہے کیونکہ کعب جوڑ کو کہتے ہیں اور اسی لئے عرب اونٹ کے مفاصل کو کعوب کہا کرتے ہیں اور محمد بن حسن رحمۃ اللہ کا بھی یہی قول ہے اور اصمعی بھی اس کو پسند کرتے تھے مگر کعبین صیغہ تثنیہ تو یہ چاہتا ہے کہ ہر پائوں میں دو کعب ہوں۔ سو یہ بات صرف ٹخنوں پر صادق آسکتی ہے نہ کہ شیعہ کی ہڈی پر کیونکہ ہر پائوں میں ایک ہے۔ علاوہ اس کے اہل زبان خصوصاً وہ لوگ کہ جن کی زبان میں قرآن نازل ہوا ہے کعبین ٹخنوں کو کہتے تھے۔ ارجلکم کو نافع وابن عامر و حفص و کسائی ویعقوب اور اعمش نے بالنصب پڑھا ہے اور حسن بصری کی بھی یہی قرأت ہے اس لئے ارجلکم کا عطف وجوہکم وایدیکم پر ہوگا جس کے صاف معنی یہ ہوئے کہ اپنے پائوں بھی ٹخنوں تک دھوئو۔ جیسا کہ جمہور اہل اسلام کا قول ہے اور جس پر تمام صحابہ و اہل بیت کا عمل رہا ہے اور جس کے بارے میں بہت احادیث آئی ہیں۔ منجملہ ان کے یہ ہے ” عن عبداللہ بن عمر قال تخلف عنا رسول اللہ ﷺ فی سفرہ فادرکناہ وقدارھقنا العصر فجعلنا نتوضاء ونمسح علی ارجلنا قال فنادی باعلی صوتہ ویل للاعقاب من النار مرتین او ثلاثاً متفق علیہ عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ایک سفر میں ہم رسول اللہ ﷺ سے پیچھے رہ گئے۔ سو ہم آپ سے آملے اور عصر کا وقت تنگ ہوگیا تھا ٗ ہم وضو کرکے پائوں پر مسح کرنے لگے۔ تب آپ ﷺ نے بآواز بلند پکار کر فرمایا کہ ایڑیوں کو عذاب نار کی خرابی ہے۔ دو بار یا تین بار فرمایا۔ از انجملہ یہ ہے عن ابی ہریرہ ان النبی ﷺ رای رجلا لم یغسل عقبہ فقال ویل للاعقاب من النار رواہ مسلم کہ نبی ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا کہ اس نے وضو میں اپنی ایڑی کو نہیں دھویا۔ تب اس کے لئے فرمایا کہ آگ کا عذاب ہے۔ اسی طرح اور
1 ؎ نبی ﷺ نے وضو کرکے اپنے ماتھے اور عمامہ پر مسح کیا۔ 12 منہ
بہت سی صحیح احادیث پائوں کے دھونے کے لئے وارد ہیں اور ابن کثیر و ابو عمرو و حمزہ نے ارجلکم کے لام کو بالکسر پڑھا ہے۔ باقاعدہ جر جوار اور شعرائِ عرب کے کلام میں اور نیز قرآن میں متعدد جگہ جرِجوار پایا جاتا ہے جیسا کہ سورة ہود میں ہے عذاب یوم محیط اور سورة واقعہ میں ہے حورعین اور عرب کہا کرتے ہیں (حجر ضب حزب) جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اس کا رئوسکم پر عطف نہیں بلکہ رئوسکم قریب ہونے کی وجہ سے جر میں شریک ہے نہ کہ مسح کرنے میں علاوہ اس کے مسح میں کوئی حد نہیں بخلاف غسل کے اور پائوں میں الی الکعبین کی حد لگا دی گئی ہے لیکن شیعہ امامیہ اس کو رئوسکم پر معطوف سمجھ کر سر کی طرح پائوں کا بھی وضو میں بجائے غسل کے مسح کرنا فرض بتلاتے ہیں اور اپنے اس قول پر کچھ دلائل بھی پیش کرتے ہیں کہ جن کے نقل کرکے جواب دینے کی یہاں گنجائش نہیں مگر اس بات کو تو شاید منصفین امامیہ بھی تسلیم کرتے ہوں گے کہ خدا تعالیٰ نے جو وضو میں اعضاء کا دھونا فرمایا ہے صرف پاکیزگی اور دفع کثافت کے لئے جو بارگاہ کبریائی میں بوقتِ
مناجات روح پر تازگی پہنچانے کا ایک فطری سبب ہے اور بہ نسبت ہاتھ منہ کے پائوں زیادہ تر زمین پر ٹکتے ہیں کہ جہاں نجاست و کثافت کا محل و موقع ہے۔ پھر کیا وجہ کہ پائوں جیسے عضو خسیس کو سر جیسے عضو رئیس کے برابر کیا جائے اور دونوں کو مسح کا حکم دیا جائے ؟ حالانکہ سر بیشتر نجاسات و کثافات سے محفوظ رہتا ہے۔ سر پائوں کو یکساں سمجھنا بےسروپا بات ہے۔ علاوہ اس کے غسل تو مسح سے بھی بڑھ کر ہے اور اس کا کام بھی دے سکتا ہے۔ برخلاف مسح کے پھر احتیاط تو غسل ہی میں ہے۔ یہ وضو کے چار فرض تھے جن کا بیان ہوا۔ باقی نیت کرنا اور مسواک کرنا اور تین بار ہر عضو کا دھونا اور داہنی طرف سے شروع کرنا اور ترتیب کو ملحوظ رکھنا کہ اول ہاتھ پھر منہ الخ اور بغیر خشک ہونے ایک عضو کے دوسرے کو دھونا جس کو توالی کہتے ہیں اور سب سے اول ہاتھ پہنچوں تک دھونا پھر کلی مسواک کرنا پھر ناک میں پانی ڈالنا۔ اس کے بعد منہ دھو کر وضو اخیر تک تمام کرنا یہ سب باتیں پیغمبر ﷺ کے قول و فعل سے ثابت ہیں جو سنت و مستحب شمار ہوتی ہیں جن میں صدہا اسرار روحانی 1 ؎ رکھے ہوئے ہیں۔ اب کوئی ان چیزوں میں سے کسی کو آنحضرت ﷺ کی مواظبت یا آیت میں استنباط و خوض سے واجب و فرض بھی کہہ دیتا ہے اور یہی وجہ ان جزئیات میں اختلاف کی ہے ورنہ اصل میں کچھ اختلاف نہیں اور جبکہ اسلامیوں نے اپنے پیارے اور برحق پیغمبر ﷺ کی ہر ایک بات کا اتباع کرنا چاہا اور ہر ایک بات کی تہ کو پہنچنے کا قصد کیا اور قرآن میں جو باتیں مطلقاً تھیں ان کی تحدید و تعین کرنی پڑی تو ایسی صورت میں ان جزئیات میں اختلاف رائے ہونا ایک ضروری بات تھی کوئی بات ہو جب اس میں موشگافی کی جائے گی اختلافِ آراء ہوگا سو یہ کچھ باعث نقصان ملت نہیں بلکہ علماء کے کمال علم کی دلیل ہے جب خدا تعالیٰ طہارت صغریٰ یعنی وضو کے بیان سے فارغ ہوچکا تو طہارت کبریٰ یعنی غسل اور یہ نہ ہو سکے تو تیمم کا بیان فرماتا ہے۔
غسل اور تیمم کا بیان : وان کنتم جنبا فاطہروا۔ اس آیت میں جنابت والے کے لئے طہارت یعنی غسل کا حکم دیتا ہے کہ جس کی شرح قولاً و عملاً نبی ﷺ نے بیان فرما دی کہ پہلے نجاست دھوئے پھر وضو کرکے تین بار تمام جسم پر پانی بہاوے اور پائوں بعد میں وہاں سے اٹھ کر دھوئے۔ اگر جگہ اچھی نہیں اور جس عورت کے بال ایسے گندھے ہوئے ہوں کہ ان کے کھولنے میں دقت ہو تو صرف بالوں کے اوپر ہی سے پانی ڈال دینا کافی ہے۔ بالوں کی جڑ تر کرنی ضرور نہیں۔ یہ بیان صحاح ستہ کی کتابوں میں موجود ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) لفظ فاطہروا سے جس میں تاکید طہارت پائی جاتی ہے۔ غسل میں کلی کرنا ‘ ناک میں پانی دینا بھی ضروری تصور کرتے ہیں۔ جنابت کہ جس پر غسل کرنا واجب ہے دو
1 ؎ ازانجملہ ترتیب وضو میں یہ بھی حکمت ملحوظ ہے کہ اول ہاتھوں پر پانی ڈالنے سے حاروبارد معلوم ہوجاتا ہے۔ پھر کلی کرنے سے اس کا مزہ اور کیفیت معلوم ہوجاتی ہے۔ پھر ناک میں پانی لینے سے اس کی بو بھی معلوم ہوجاتی ہے۔ اس سے نہ صرف اس پانی کی طہارت بلکہ اس کا مضر و نافع ہونا بھی معلوم ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد اس کو منہ پر ڈالا جاتا ہے اور وضو کیا جاتا ہے۔ اگر دفعتاً منہ دھونے کا حکم ہوتا تو یہ بات معلوم نہ ہوتی۔ علاوہ اس کے اسی ترتیب سے یہ اعضاء استعمال میں لائے جاتے ہیں جن کو اسی کے موافق کثافت اٹھانی پڑتی ہے جس کا ازالہ وضو میں کیا جاتا ہے۔ 12
باتوں سے پائی جاتی ہے۔ اول یہ کہ احتلام ہو کر خواب میں منی برآمد ہو جس کا اثر کپڑے یا بدن پر معلوم ہو جیسا کہ حدیث (انما الماء بالمائ) سے ثابت ہے۔ دوم یہ کہ عورت سے صحبت کی جاوے خواہ انزال ہو یا نہ ہو جیسا کہ حدیث (اذا التقی الختانان واجب الغسل) سے ثابت ہے۔ جمہور کا یہی مذہب ہے مگر زید بن ثابت و معاذ و ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ بغیر انزال کے غسل واجب نہیں۔ اس کے بعد وضو اور غسل کے قائم مقام بوقت ضرورت تیمم کا حکم دیتا ہے۔ وان کنتم مرضیٰ الخ جمہور صحابہ کے نزدیک تیمم نہ صرف اس کے لئے جائز ہے کہ جو وضو پر قادر نہیں بلکہ حالت جنابت میں جو مرض یا پانی نہ ملنے کی وجہ سے غسل پر قادر نہ ہو اس کو بھی تیمم درست ہے۔ جیسا کہ حدیث عمران بن حصین ؓ وغیرہ سے ثابت ہے (صحیحین) مگر عمر بن مسعود اور حضرت عمر ؓ ابتداء میں جنبی کے لئے تیمم کافی نہیں سمجھتے تھے۔ پھر اس سے رجوع کیا اس کے بعد یرید اللّٰہ بکم الیسر الخ سے اپنے احکام میں رحمت و طہارت روحانی و جسمانی اور دیگر فوائد مرعی رکھنے کی طرف اشارہ فرماتا ہے۔
Ayahs 5:7–8ترکیب : اذقلتم ظرف ہے واثقکم کا۔ قوامین للّٰہ خبر ہے کونوا کی۔ شہداء سورة نساء میں اس کی ترکیب آچکی ہے کی ضمیرا عدلوا سے جو عدل سمجھا جاتا ہے اس کی طرف پھرتی ہے۔
تفسیر : جبکہ خدا تعالیٰ یہ احکام بیان فرما چکا تو اس کے بعد وہ بات بیان فرماتا ہے کہ جس سے ان احکام پر ثابت قدمی ہوتی ہے۔ اس کی دو قسم ہیں : اول اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی کثرت کس لئے کہ نعمت احسانات کا ایک ایسا مضبوط رشتہ ہے کہ جو انسان کے دل کو اپنے منعم کی طرف باندھ لاتا ہے۔ اس بات کو اذکروا نعمۃ اللّٰہ میں ذکر فرمایا اور چونکہ خدا کی نعمتوں کی تعداد اور شمار ممکن نہیں کس لئے کہ حیات اور تندرستی اور عقل اور ہدایت اور بلائوں سے محفوظ رکھنا دنیا اور آخرت کی خوبیوں کا عطا کرنا بیشمار نعمتیں ہیں جیسا کہ خود فرماتا ہے وان تعد وانعمۃ اللہ لا تحصوھا۔ یہ نعماء اگرچہ ایسی ہیں کہ کوئی بھی ان کو نہیں بھول سکتا مگر انسان کی ایک جبلی عادت ہے کہ وہ یا تو بکثرت اور پے در پے انعام و احسانات کو ایک امر معتاد سمجھ لیتا ہے دیکھئے جو لوگ ریگستان خشک کے رہنے والے ہیں وہ سرد پانی کو جو کہیں نصیب ہوجاتا ہے کیسی نعمت الٰہی سمجھتے ہیں اور جو سرد سیر ملک اور ایسے باغوں کے رہنے والے ہیں کہ جن میں نہریں چلتی ہیں اور وہ اپنے عمدہ مکانات میں خس کی ٹٹیوں میں بیٹھ کر بجز برف کے اور کچھ نہیں پیتے وہ اس کو کیا نعمت سمجھتے ہیں ؟ اور یا ایک نعمت کے عام ہوجانے سے وہ اس کو چنداں نعمت نہیں سمجھتا اگر کسی شخص کی آنکھ پھوٹ جائے پھر دیکھئے وہ اس کے درست ہوجانے کو کس قدر نعمت سمجھتا ہے اور چونکہ ابتدائً ہر شخص کو خدا نے دو آنکھیں دی ہیں تو یہ جانتا ہے کہ آہ میری کیا خصوصیت ہے۔ سب ہی کو دو آنکھیں ملی ہیں۔ پس انسان پر ایسی حالت کا طاری ہوجانا اس کی نعمتوں کا بھول جانا ہے کیونکہ کثرت ظہور باعث نسیان ہوگئی اور اسی لئے کہا گیا ہے سبحان من احتسب عن العقول بشدۃ ظہورہ واختفی عنھا بکمال نورہ۔ (دوم) وہ بات کہ جس کے سبب سے انسان تکلیف احکام کی برداشت کرتا ہے عہد و پیمان ‘ قول وقرار ہے اس کو اس جملہ میں ذکر فرماتا ہے ومیثاقہ الذی واثقکم بہ۔ اس عہد و میثاق سے یا تو وہ عہد و میثاق مراد ہے جو صحابہ نے آنحضرت ﷺ سے بیعت رضوان وغیرہا مواقع میں کیا تھا کہ ہم سختی و نرمی میں ہمیشہ خدا تعالیٰ کے اوامرو نواہی کی پابندی کریں گے اور رسول سے عہد کرنا گویا خدا سے عہد کرنا ہے جیسا کہ خود فرماتا ہے ان الذین یبایعونک انما یبایعون اللّٰہ کیونکہ رسول دنیا میں خدا تعالیٰ کا خلیفہ ہے۔ مجاہد اور کلبی اور مقاتل وغیرہ علماء کہتے ہیں کہ اس سے مراد وہ عہد ہے کہ جو بندوں نے روز ازل خدا تعالیٰ سے کیا تھا۔ سدی فرماتے ہیں کہ انعامِ الٰہی اور اس کی عبودیت کا مقتضٰی یہ عہد و میثاق ہے کہ جس پر دلائلِ عقلیہ قائم ہیں اور یہ بہت ٹھیک ہے کیونکہ انسان کی یہ حالت احتیاج و حدوث جو اس کو ہر دم اس کا دست نگر کر رہی ہے۔ یہی ایک باہمی عہد نامہ ہے جس پر بندے کی طرف سے مہر ہے کہ ہمیشہ ہم تیرے احکام و شریعت کی پابندی کریں گے۔ اس کے بعد اجمالاً اس تکلیف عبادت کو بیان فرماتا ہے کہ جو دو نوع میں منحصر ہے۔ اول تعظیم امر اللہ دوم ترحم علی خلق اللہ۔ اول بات کی طرف کو نو قوامین للّٰہ میں اشارہ کرتا ہے کہ اس کی توحید اور تعظیم دنیا میں رواج دینے کے لئے اور مکارم اخلاق کی تعلیم کے لئے تمام لوگوں کے لئے قولاً اور فعلاً معلم و ذمہ دار ہوجائو۔ چناچہ صحابہ کرام ؓ آنحضرت ﷺ کے فیض صحبت سے ایسے ہی ہوگئے تھے ہر ذرہ آفتاب ہوگیا تھا۔ دوسری بات کی طرف شہداء بالقسط میں اشارہ کرتا ہے اور چونکہ قیم لامر اللہ کے لئے بعض لوگوں کی بیجا کاوش اور ناحق کی سرکشی اس بات کی طرف ابھارا کرتی ہے کہ ان شریروں کی گوشمالی کی جائے جو بسا اوقات شفقت و ترحم سے دور کرکے اصل منصب قیومیت میں فرق ڈال دیتی ہے۔ اس لیے ولایجرمنکم الخ بھی فرما دیا اور دوسرے مرتبہ کے لئے انصاف شرط تھا۔ اس لئے اعدلوا بھی فرما دیا اور سب کے لئے اللہ سے ڈرنے کی تاکید بھی فرما دی۔ واتقوا اللّٰہ اور اس مقام سے ان اللّٰہ خبیر بما تعملون کا وہ تعلق ہے جو مہر کو عہد نامہ سے ہے۔
Ayahs 5:9–11ترکیب : وعد کا فاعل اللّٰہ۔ الذین الخ مفعول اول لہم مغفرۃ جملہ دوسرے مفعول محذوف کے قائم مقام اذھم ظرف نعمۃ اللّٰہ علیکم کا اور علی اللہ فلیتوکل سے متعلق ہے۔
تفسیر : اوامرِ الٰہی کے بجا لانے کے اسباب ذکر فرما کر دو اور سبب ذکر کرتا ہے جو انسان کو خدا تعالیٰ کی اطاعت و محبت پر ابھارتے اور اس کی منہیات سے باز رکھتے ہیں۔ گویا یہ جملہ کلام سابق کے لئے تتمہ ہے۔ اول سبب اطاعت و محبت کا آیندہ خیر کا امیدوار کرنا ہے کس لئے کہ احسانات سابقہ ہی پر انسان کی نظر بس نہیں کرتی بلکہ آیندہ کی بھلائی اور امید پر بہ نسبت انعام سابق کے زیادہ تر آمادہ اطاعت ہوتا ہے۔ پس اس بات کو وعد اللّٰہ الذین سے اجر عظیم تک بیان کیا یعنی جو ایمان لا کر اعمال صالح کرے گا۔ اس سے خود خدا وعدہ کرتا ہے کہ اس کو بخشے گا اور نہ اسی پر بس کرے گا بلکہ اپنے پاس سے اجر عظیم عطا فرماوے گا جو عالم قدس کی حیات ابدی ہے چونکہ ایمان مقدم ہے اس لئے اولاً امنوا کہا اور ایمان کے بعد عمل صالح گویا وہ ایمان کی رونق ہے اس لئے اس کو بعد عملوا الصلحت فرمایا اور ان دونوں کے مقابلہ میں دو ہی وعدے فرمائے۔ اول مغفرت ‘ دوم اجر عظیم۔ دوسری بات کہ جس سے انسان خدا سے ڈر کر بری باتوں سے بچتا ہے۔ خوف سزا ہے پس اس کو والذین کفروا الخ میں بیان فرما دیا کہ جو کفر کرکے ہماری آیتیں جھٹلائے گا جہنم میں رہے گا جس سے بڑھ کر پھر کوئی اور سزا نہیں۔
اس کے بعد خدا تعالیٰ پھر مسلمانوں کو اپنی نعمت اور احسان خاص یاد دلاتا ہے تاکہ شکر گزاری کیا کریں سو اس کو یا ایہا الذین سے شروع کیا کہ تم کو ایک قوم کی دست اندازی سے محفوظ رکھا۔ اس دست اندازی سے محفوظ رکھنے کی تفسیر میں علمائِ مفسرین کے دو قول ہیں۔ ایک یہ کہ اس سے کسی خاص واقعہ کی طرف اشارہ نہیں بلکہ عموماً اہل اسلام کی اس ابتدائی حالت کی طرف اشارہ ہے جس میں کہ کفار مشرکین چاروں طرف سے ان پر چڑھایاں کرتے اور مار دھاڑ کرتے تھے جس سے خدا نے ان کو محفوظ رکھا۔ اسلامیوں کو غلبہ دیا دوسرا یہ کہ اس سے کسی خاص واقعہ کی طرف اشارہ ہے جو ہجرت سے پانچویں سال وقوع میں آیا۔ وہ یہ کہ صحابہ ؓ اور آنحضرت ﷺ کسی جنگ سے واپس آکر بمقام غسفان ظہر کی نماز میں مصروف تھے کفار نے اس بات سے مطلع ہو کر یہ قصد کیا کہ اب اگلی نماز عصر میں موقع کو ہاتھ سے جانے نہ دو ان پر اسی حالت میں دفعۃً آ گرو اور سب کو قتل کر ڈالو۔ اس بات سے خدا تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو مطلع کردیا۔ بعض کہتے ہیں کہ اس میں اس واقعہ کی طرف بھی اشارہ ہوسکتا ہے کہ جو قبیلہ نبی نضیر میں آنحضرت ﷺ مع خلفائِ اربعہ دیت میں امداد کرنے کے لئے تشریف لے گئے تھے۔ یہود بنی نضیر نے آپ کو ایک ایسی جگہ بٹھلایا کہ جس کے اوپر سے بھاری پتھر ڈال کر قتل کرنے کا قصد کر رکھا تھا۔ خدا نے حضرت ﷺ کو اس سے مطلع کردیا۔ بعض کہتے ہیں حدیبیہ کے قصہ کی طرف بھی اشارہ ہوسکتا ہے کہ جو قریش سے جنگ ہوتے ہوتے رہ گئی۔ اصل یوں ہے کہ اس قسم کے معجزات آنحضرت ﷺ سے کئی بار واقع ہوئے اس آیت میں ان میں سے ہر ایک کی طرف اشارہ ہوسکتا ہے سب میں خدا تعالیٰ کے فضل خاص کا جلوہ اہل اسلام پر تھا جس کا یاد کرنا مسلمانوں کو شکرگزاری کے لئے ایک عمدہ بات ہے۔
Ayahs 5:12–13ترکیب : منہم نقیبا کی صفت ‘ لئن شرط لاکفرن جملہ جواب۔ فبما نقضہم ب لعنا سے متعلق ہے اور مامصدریہ ہے یحر فون جملہ مستانفہ اور ممکن ہے کہ حال ہو الا قلیلا استثناء ہے خائنۃ سے۔
تفسیر : پہلے ذکر ہوا تھا واذکروا نعمۃ اللّٰہ علیکم ومیثاقہ الذین واثقکم بہ کہ اے اہل اسلام خدا کے عہد کو یاد کرو۔ اب یہاں یہ بات بتائی جاتی ہے کہ یہ عہد کچھ تم ہی سے نہیں لیا گیا تھا کہ جس کی پابندی کی تم کو تاکید کی جاتی ہے بلکہ تم سے پہلے انبیاء (علیہم السلام) اور ان کے متبعین سے بھی ایسا کیا گیا تھا۔ عادۃ اللہ یوں ہی جاری ہے اور نیز یہ بھی بتلایا جاتا ہے کہ عہد خدائی کے برخلاف کرنے سے بنی اسرائیل نے نہایت سختی اور ذلت اٹھائی ہے۔ دیکھو کہیں تم ایسا نہ کیجیو کہ پھر تم کو بھی ذلت اٹھانا پڑے اور نیز یہود کے بدخصائل سے جو عہد شکنی کے بعد ظہور میں آئے۔ بتلا کر متنبہ کرتا ہے اخذ اللّٰہ میثاق بنی اسرائیل وبعثنا الخ یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے عہد کا وہ واقعہ ہے جبکہ موسیٰ اور بنی اسرائیل بیابانوں میں ٹکراتے ٹکراتے دشت فاران میں پہنچے تو خدا تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ تو بنی اسرائیل کے بارہ اسباط یعنی قبائل میں سے ایک ایک سردار نقیب 1 ؎ یعنی جاسوس بنا کر کنعان کی اس سرزمین پہنچ کہ جس کے دینے کا میں لے تم سے عہد کیا ہے چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) نے ہر سبط سے یہ بارہ سردار نقیب بنا کر بھیجے۔ روبن کے فرقہ میں سے سموع بن ذکور اور شمعون کے فرقہ میں سے سفت بن حوری اور یہودا کے فرقہ میں سے کالب بن یفنہ اور شکاء کے فرقہ میں سے اجال بن یوسف اور فرائم کے فرقہ میں سے ہو سیعہ بن نون جس کا نام موسیٰ (علیہ السلام) نے یوشع رکھا تھا اور بنیا میں کے فرقہ میں سے فلتی بن رفو اور زبلون کے فرقہ میں سے جدی ایل بن سودی اور دان کے فرقہ میں سے عمی ایل بن جملّی اور آشر کے فرقہ میں سے ستور بن میکائیل اور نفتالی کے فرقہ میں سے نخیی بن دنسی اور جد کے فرقہ میں سے جو ایل بن ما کی اور یوسف یعنی منسی کے فرقہ میں سے جدی بن سوسی۔
1 ؎ زجاج کہتے ہیں نقیب بروزن فعیل نقب بمعنی کھودنے اور چھید کرنے سے مشتق ہے چونکہ جو لوگ کسی قوم کی طرف جاسوسی اور تفتیش کے لئے جاتے ہیں وہ ہر امر کی تفتیش کرتے کھود کر بات نکالتے ہیں۔ اس لئے ان کو نقیب کہتے ہیں جس کی جمع نقباء آتی ہے اور نقیب قوم کے مصالح اور فوائد ملحوظ رکھنے والے کو بھی کہتے ہیں۔ 12 منہ
یہود کی بربادی کے دو ہی سبب تھے جن کو یہاں بیان فرمایا ٗ اول کتاب اللہ کی تحریف اپنے مطلب کے موافق بنانا ‘ دوم کتاب اللہ کا بھلا دینا اس کو پس پشت ڈال کر اور چیزوں میں مصروف ہونا۔ مسلمان جو ترقی کے وسائل تلاش کرتے ہیں ان کو ادھر بھی خیال کرنا چاہیے۔ 12 منہ
Ayah 5:14ترکیب : ومن الذین الخ اخذنا سے متعلق ہے بینھم اغرینا کا ظرف ہے۔ یبین جملہ حال ہے رسولنا سے۔ سبل السلام مفعول ثانی ہے یہدی کا من اتبع مفعول اول اور یخرجہم کی ضمیر فاعل اللہ کی طرف رجوع کرتی ہے۔ اس کا عطف یہدی پر ہے۔ ان اراد شرط فمن یملک جملہ دال برجزا۔
تفسیر : یہ بارہ نقیب جبرون تک آئے اور وہاں سے ملک کی سرسبزی اور خوبی اور وہاں کے لوگوں کی خصوصاً بنی اعناق اور عموری اور عمالیق اور حتی اور بیوسی لوگوں کی قد آوری اور بہادری دیکھ کر واپس آئے اور بنی اسرائیل کو نہایت تشویش اور خوف میں ڈال کر ڈرایا مگر کالب اور یوشع بن نون نے لوگوں کو تسلی اور خدا کی مدد کا بھروسہ دیا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قال رجلان من الذین یخافون الآیہ (توریت سفر عدد باب 13) اس عہد کے علاوہ کہ وہاں کے لوگوں کی قد آوری اور بہادری نہ بیان کریں۔ یہ بھی عہد خدا نے بنی اسرائیل سے لیا تھا کہ تم اس ملک میں جائو تو میری شریعت اور احکام پر عمل کرنا جیسا کہ سفر عدد کی 15 و دیگر فصول سے ثابت ہے اور خدا نے ان سے یہ عہد کیا تھا کہ میں تم کو اس سرزمین میں بسائوں گا کہ جہاں باغ اور نہریں جاری ہیں۔ سو اول تو اس عہد کو ان نقیبوں نے توڑ ڈالا کہ جس پر خدا تعالیٰ نے غصہ ظاہر فرما کر یہ فرمایا کہ میں اس خبیث گروہ کو بجز ان دو شخصوں کے اس سرزمین میں جانے نہ دوں گا۔ بیس برس کی عمر سے لے کر اور زیادہ تک کے لوگ بیابانوں میں وباء اور دشمنوں کی تلواروں سے فنا کئے گئے۔ پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد حضرت یوشع بن نون کے عہد میں یہ ملک خدا نے بنی اسرائیل کو عطا کیا۔ پھر ان ملکوں پر قبضہ و اقتدار پا کر بنی اسرائیل نے اس عہد نامہ کو کہ جو یوشع کی معرفت تازہ کیا گیا تھا (کتاب یوشع اول باب درس 8) بنی اسرائیل نے بت پرستی اور شریعت کو ترک کرنے سے توڑ ڈالا جس پر طرح طرح کے مصائب اور غیر بادشاہوں کے ہاتھ سے ذلت اور رسوائی ان پر پڑی جیسا کہ کتاب تاریخ اور کتاب سموئیل سے ثابت ہے۔ اس کے بعد خدا تعالیٰ نبی ﷺ کو فرماتا ہے ولا تزال تطلع علی خائنۃ منہم کہ اس خبیث گروہ میں اب تک وہی آثار بدبختی باقی ہیں جن پر وقتاً فوقتاً آپ مطلع ہوتے رہتے ہیں مگر ان میں عبداللہ بن سلام ؓ جیسے چند نیک بھی ہیں۔ سو آپ ان بدبختوں سے درگذر کیجئے۔ اس کے بعد نصاریٰ نے جو کچھ خدا تعالیٰ سے عہد کرکے اس کے برخلاف کیا اور اس کی سزا باہمی عداوت جو ان پر پڑی اس کو بیان فرماتا ہے۔ نصاریٰ سے عہد کا لینا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی معرفت ہوا تھا۔ انجیل یوحنا کے 14 باب 15 درس میں ہے اور اگر مجھے پیار کرتے ہو تو میرے حکموں پر عمل کرو۔ اور پھر آنحضرت ﷺ کی تشریف آوری کی خبر دے کر آپ پر ایمان لانے کی تاکید کی تھی اور آنحضرت ﷺ کی بہت کچھ مدح فرمائی تھی جیسا کہ اسی کتاب کے اسی باب سے ثابت ہے جس کے بعض جملے یہ ہیں اس جہان کا سردار آتا ہے اور مجھ میں اس کی کوئی چیز نہیں اور اسی کتاب کے 6 باب میں تو صاف فارقلیط کے آنے کی خبر ہے جو لفظ احمد کا ترجمہ ہے۔
مگر نصاریٰ نے باوجود یکہ فارقلیط کے منتظر تھے جب فارقلیط آنحضرت ﷺ ظاہر ہوئے تو انکار کردیا۔ حضرت مسیح (علیہ السلام) کے عہد کو توڑ ڈالا، فاغرینا بینہم العداوۃ یہود و نصاریٰ میں عداوت مذہبی قائم ہوئی اور قائم رہے گی۔ بعض علماء کہتے ہیں کہ اس سے مراد خود نصاریٰ کی باہمی عداوت ہے اور یہی ٹھیک ہے۔ سو بموجب پیشین گوئی خدا تعالیٰ کے نصاریٰ کے فرقوں میں جیسی کچھ عداوت پیدا ہوئی اور اب ہے ‘ بیان سے باہر ہے۔ تاریخ کلیسا سے معلوم ہوجاوے گا کہ باہم صرف مذہبی امور میں ان میں کس قدر قتال وجدال واقع ہوا ہے ؟
Ayahs 5:15–17اس کے بعد تمام اہل کتاب یہود و نصاریٰ سے خطاب کرکے فرماتا ہے قدجاء کم رسولنا الخ کہ تمہارے پاس ہمارا وہ رسول آچکا جو تم پر ان باتوں کو ظاہر کرتا ہے کہ جن کو تم چھپایا کرتے تھے یعنی آنحضرت ﷺ کے ظہور کے متعلق اور نیز رجم وغیرہ احکام کے متعلق اور جن باتوں کے ظاہر کرنے میں کچھ حرج نہیں ان میں تم سے درگذر کرتا ہے یا یوں کہو کہ احکام فطرت اور ملت میں جس قدر تم نے تحریفات کر رکھی ہیں وہ سب کی اصلاح کرتا ہے۔ اس کے بعد آنحضرت ﷺ کو نور اور قرآن کو کتاب مبین بیان فرما کر یہ بات ظاہر کرتا ہے کہ قرآن نے جو کچھ مذہب انبیاء میں تحریفات واقع ہوگئی تھیں سب کی اصلاح کردی ہر بات کو جس کی ضرورت تھی بیان کردیا اور آنحضرت ﷺ یا مذہب اسلام آسمانی نور ہے مگر یہ بات ہے کہ اس آفتاب جہانتاب کی روشنی سے وہی مستفید ہوسکتا ہے کہ جس کو خدا نے توفیق ازلی کی آنکھیں عطا کی ہیں۔ یہدی اللّٰہ من اتبع رضوانہ میں اسی طرف اشارہ ہے اور اس قید سے یہی مطلب ہے۔
پھر اس کے بعد وہ جو نصاریٰ نے مذہب عیسوی میں تحریف کرکے اس کو بگاڑ دیا تھا اس میں سے سب سے اول اور بڑھ کر فساد اعتقاد تثلیث و الوہیت مسیح تھا۔ اس کو کس خوبی کے ساتھ ان آیات میں رد فرماتا ہے۔ لقد کفر الذین قالوا الخ اس عقیدے کے بطلان پر تین دلائل قائم کرتا ہے : (1) فمن یملک جمیعاً تک اس میں ضمناً حضرت مسیح (علیہ السلام) کے واقعہ گرفتاری و قید کی طرف اشارہ کرکے ان کا محکوم و مسخر امر الٰہی ہونا ظاہر کرتا ہے جو خدائی کے برخلاف ہے۔ اس سے مسیح کی خدائی باطل ہوئی۔ (2) للہ ملک السمٰوٰت والارض اس میں اپنی عنائے ذاتی کو ظاہر کرکے بیٹے بنانے کی ضرورت کو رفع کرتا ہے۔ (3) یخلق ما یشاء اس میں ان کے بغیر باپ کے پیدا ہونے سے جو لوگوں کے دل میں ان کے لئے خدا کا بیٹا ہونے کا خیال پیدا ہوتا ہے اس کو دور کرتا ہے کہ یہ کچھ مشکل بات نہیں ٗ ہم جس طرح چاہیں پیدا کرسکتے ہیں۔
Ayahs 5:18–19ترکیب : نحن الخ جملہ مقولہ ہے قالت الیہود الخ کا ‘ علی فترۃ موصوف من الرسل اس کی صفت مجموعہ حال ہے ضمیر یبین سے اور ممکن ہے کہ لکم کی ضمیر سے حال ہو۔
تفسیر : پہلی آیتوں میں یہود و نصاریٰ کی عہد شکنی کا بیان تھا جس سبب سے ان پر آسمانی بلائیں نازل ہوئیں۔ یہاں یہ بات ظاہر کی جاتی ہے کہ جس قوم پر سے خدا کا سایہ اٹھ جاتا ہے تو اس کی عقل میں بھی فتور آجاتا ہے۔ وہ نقصان کی صورت میں نفع ڈھونڈھتی ہے۔ وہ نافرمانی اور سرکشی کرکے جس کا بدلہ سخت عذاب ہے نہ صرف انعام کا ہی مستحق سمجھتی ہے بلکہ وہ خدا کے بیٹے اور محب ہونے کی بھی مدعی ہوجاتی ہے۔ جس کے سبب غرور میں آکر خدا کے احکام اور اس کے فرستادوں سے بمقابلہ پیش آتی ہے۔ بائبل میں چند مواقع پر خدا کے مطیعوں پر بیٹے کا لفظ بولا گیا ہے۔ انجیل میں بھی حضرت مسیح (علیہ السلام) نے کئی ایک جگہ ایسا فرمایا ہے۔ خصوصاً یہود کو تو ان وعدوں پر جو حضرت ابراہیم و اسحاق ( علیہ السلام) سے کئے گئے تھے بہت کچھ گھمنڈ تھا اس لئے وہ باوجود اس سرتابی اور خدا کے احکام سے روگردانی کے نبی امی کے مقابلہ میں جس کا ظاہر ہونا ان کے انبیاء (علیہم السلام) کی معرفت مشتہر کیا گیا تھا اس کلمہ نحن ابناء اللّٰہ الخ کو زبان پر لاتے تھے۔ اس کے جواب میں صرف ایک موٹی سی بات سے خدا تعالیٰ ان کو رد کرتا ہے کہ اس بات کا تو تم کو بھی اقرار ہے کہ ہماری سرتابی اور گناہوں کی وجہ سے ہم پر بیشمار مصیبتیں خدا نے نازل کی تھیں (بخت نصر اور دیگر سلاطین نے کیا کچھ کیا) اور کرتا ہے اور آخرت میں بھی گناہوں پر عذاب ہوگا۔ پھر جب تم خدا کے بیٹے اور اس کے محبوب ہو تو ایسا کیوں ہوا ؟ محبوب بیٹے سے کوئی ایسا کرتا ہے ؟ یہ بات آنحضرت ﷺ کے عہد کے یہود و نصاریٰ نے کہی تھی اور گو بظاہر آج کل کے یہود و نصاریٰ ایسا نہیں کہتے مگر ان کے دل میں اپنی جماعتوں کی نسبت اب تک اسی کے قریب قریب خیال ہے۔ اس کے بعد اس خیال کے بطلان پر تین دلیلیں قائم کرتا ہے : (1) بل انتم بشر الخ کہ تمہاری پیدائش اور دیگر انسانوں کی پیدائش میں کچھ بھی فرق نہیں پھر تم میں کیا فوقیت ہے ؟ (2) یغفر الخ کہ اس کی مغفرت اور اس کا عذاب اس کے اختیار میں ہے تم بھی اس میں شامل ہو پھر تمہارے اس دعویٰ نے کیا نتیجہ پیدا کیا ؟ (3) للّٰہ ملک السموات الخ کہ وہ واجب الوجود مستغنی اور ہر ایک چیز کا مالک ہے۔ بیٹا بنانا ثمرہ احتیاج و حدوث ہے۔ اس کے بعد تمام اہل کتاب کو آنحضرت ﷺ کی بعثت اور آپ ﷺ کی رسالت کی ضرورت سے مطلع کرتا ہے (علی فترہ من الرسل) کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد دیگر انبیاء دین الٰہی کی اصلاح کے لئے پے در پے آئے۔ پھر حضرت مسیح (علیہ السلام) کے بعد سے آنحضرت ﷺ کے عہد تک جو تخمیناً چھ سو برس تک کا زمانہ ہے جس قدر اس مذہب میں خرابیاں پڑگئی تھیں وہ خود ان ہی کے مؤرخین کے اقوال سے ثابت ہیں۔ اس خرابی کی اصلاح کرنے والا ایسے مواضع اختلافات میں حق بیان کرنے والا بھیجنا اس کی رحمت کا مقتضٰی ہے جیسا کہ اول زمانے میں انبیاء کا بھیجنا مقتضٰیِ رحمت تھا تاکہ پھر کوئی یہ عذر نہ کرے کہ اتنے عرصے میں ہمارے پاس کوئی بشیر و نذیر نہیں آیا۔
Ayahs 5:20–26ترکیب : یقوم اذکرو اور یقوم ادخلوا مقولے ہیں قال موسیٰ کے۔ علی ادبارکم حال ہے فاعل ترتدوا سے فتنقلبوا مجزوم ہے اس لئے کہ جواب نہی ہے من الذین یخافون رجلان کی صفت ہے انعم اللّٰہ علیہم دوسری صفت ہے مادا موا الخ بدل ہے ابدا سے اربعین سنۃ ظرف ہے محرمۃ کا۔ تاس کا الف وائو سے بدل ہے۔
تفسیر : پہلی آیت میں بنی اسرائیل کے عہد کا ذکر تھا اور اس کے ساتھ تبعاً نصاریٰ کے عہد اور فترت 1 ؎ میں بعثت کا ذکر فرما کر پھر اس عہد کے بنی اسرائیل کا ذکر فرماتا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے کیا فرمایا اور انہوں نے اس کے جواب میں کیا کہا اور کیا کیا ؟
ف۔ و اذ قال موسیٰ لقومہ یہ اسی دشت فاران کا تذکرہ ہے جبکہ بارہ نقیب ملک شام سے لوٹ کر آئے اور بجز دو شخصوں کے اوروں نے بنی اسرائیل کو ڈرا کر نامرد کردیا۔ اب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان سے فرما رہے ہیں اور جنگل میں کھڑے ہوئے سرکش قوم کو سمجھا رہے ہیں کہ اے قوم تم خدا کے احسانات کو یاد کرو۔ اول تو یہ کہ تمہاری قوم میں خدا نے بہت سے انبیاء پیدا کئے۔ حضرت ابراہیم و اسحاق و اسماعیل و یعقوب اور موسیٰ اور ہارون اور وہ ستر آدمی جو کوہ طور پر گئے تھے۔ دوم تم کو خدا نے بادشاہ بنا دیا یعنی پہلے تم فرعونیوں کی قید میں تھے اب آزاد ہو۔ حقیقت میں آزادی سے بڑھ کر اور کیا سلطنت ہوگی ؟ اور ممکن ہے کہ ان کے آیندہ اقتدار و سلطنت کو بلفظ ماضی تحقیق کے لئے تعبیر کیا ہو۔ سوم تم کو وہ چیزیں دیں جو اب تک کسی کو نہیں دیں۔ دریائے قلزم سے خشک پار اتارنا ‘ فرعونیوں کو تمہارے روبرو غرق کردینا ‘ جنگل میں پتھر سے پانی کے بارہ چشمے نکالنا ‘ ابر کا سایہ کرنا ‘ کھانے کو من وسلویٰ دینا۔ یہ احسان یاد دلا کر ان کو ارض مقدسہ یعنی ملک فلسطین کے چلنے کا حکم دیتے ہیں جس میں خدا نے میووں اور سرد پانیوں کی برکتیں رکھی ہیں اور یہ بھی کہ تم پھر واپس مصر جانے کا قصد نہ کرو ورنہ خسارہ میں پڑ جائو گے۔ یہ تمام گفتگو توریت سفر عدد کے 14 باب میں خوب تفصیل سے بیان ہے جس کے بعض جملے یہ ہیں ” تب ساری جماعت چلا کے روئی اور لوگ اس رات بھر رویا کئے۔ پھر سارے بنی اسرائیل موسیٰ و ہارون پر گڑگڑائے کہ اے کاش ہم مصر میں مرجاتے الخ خداوند کس لئے ہم اس کو زمین میں لایا الخ۔ تب انہوں نے ایک دوسرے کو کہا کہ آئو اپنا ایک سردار بنائیں اور مصر کو پھر چلیں۔ موسیٰ اور ہارون تمام بنی اسرائیل
: یہ (اذ قال موسیٰ الخ) اس وقت کا تذکرہ بنی اسرائیل کو یاد دلایا جاتا ہے جبکہ بنی اسرائیل قلزم کو عبور کرکے عرب مغربی و شمالی بیابانوں میں خیمہ زن تھے اور عمالیق قوم کے ملک سے ان کو گذرنا تھا۔ اس لئے ان سے مقابلہ کی ٹھہر رہی تھی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہمت دلاتے اور یہ نامرد ہمت ہارے جاتے تھے۔ اور منہ سے کفر بکتے جاتے تھے جس کی سزا میں چالیس برس تک بیابانوں میں ٹکرا کر مرنا نصیب ہوا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا مجھ میں اور ان میں فرق کر دے یعنی تیرے عتاب میں ہم شامل نہ ہوں۔ 12 منہ
1 ؎ فترہ کے معنی ہیں بند ہونا اس سے مراد وہ زمانہ کہ جس میں حضرت مسیح (علیہ السلام) کے بعد سے آنحضرت ﷺ تک کوئی اولوالعزم نبی برپا نہ ہوا۔ یہ تخمیناً پانچ سو برس کا زمانہ ہے۔ اس عرصہ میں دین عیسوی بھی بگڑتے بگڑتے بالکل بدل گیا تھا۔ یہود اور مجوس اور بت پرستوں کا تو کچھ پوچھنا ہی نہیں۔ اس ظلمت کدہ میں عرب سے آفتاب جلوہ گر ہوا۔ لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لایا۔ 12 منہ
کے مجمع میں سامنے زمین پر اوندھے گر پڑے اور نون کے بیٹے یوشع اور یفنہ کے بیٹے کالب نے جو اس زمین کی جاسوسی کرنے والوں میں سے تھے۔ اپنے کپڑے پھاڑے اور ساری جماعت بنی اسرائیل کو کہا کہ وہ زمین جہاں ہم جاسوسی کے لئے گئے تھے خوب زمین ہے۔ اگر ہم سے خدا راضی ہے تو ہم کو اس زمین پر لے جائے گا الخ مگر تم خداوند سے بغاوت نہ کرو اور نہ تم وہاں کے لوگوں سے ڈرو۔ وہ تو تمہاری خوراک ہیں۔ ان کا سایہ ان سے جا چکا ہے (قال رجلان الخ کی یہ پوری تفسیر ہے) تب ساری جماعت نے چاہا کہ ان پر پتھرائو کرے اسی وقت جماعت کے خیمہ میں سارے بنی اسرائیل کے سامنے خدا کا جلال نمایاں ہوا۔ خداوند نے موسیٰ کو فرمایا کہ یہ لوگ کب تک مجھے غصہ دلائیں گے اور کب تک میری نشانیوں کا جو انہیں دکھائیں یقین نہ کریں گے۔ میں انہیں وبا سے ماروں گا اور انہیں خارج کروں گا ان کے بدلے تجھے اور قوم دوں گا۔ موسیٰ نے کہا اگر یہ خبر مصر والے سنیں گے تو کہیں گے کہ خدا نے ان کو بیاباں میں ہلاک کردیا۔ سو میں تیری منت
کرتا ہوں کہ تو اپنی رحمت سے اس امت کا گناہ بخش دے۔ خداوند نے فرمایا ٗمیں نے تیرے کہنے سے بخشا پر مجھے اپنی حیات کی قسم جیسا تم نے غصہ دلایا اور سنا کے کہا میں تم سے ویسا ہی کروں گا۔ تمہاری لاشیں سب کی بیس برس والے سے لے کر اوپر والے تک جنہوں نے میری شکایتیں کیں اس بیابان میں گریں گی۔ تم بیشک اس زمین پر نہ پہنچو گے۔ جس کا میں نے تم سے وعدہ کیا ہے بجز یوشع اور کالب کے اور تمہارے لڑکوں کے جن کے حق میں تم کہتے ہو کہ وہ لٹ جائیں گے میں ان کو داخل کروں گا اور تمہاری لاشیں اس بیاباں میں گریں گی اور تمہارے لڑکے اس بیاباں میں چالیس برس تک بھٹکتے پھریں گے۔ ان دنوں کے شمار کے موافق جن میں تم اس زمین کی جاسوسی کرتے تھے جو چالیس دن ہیں ٗ دن پیچھے ایک سال ہوگا۔ انتہیٰ مخلصاً ۔ چناچہ ایسا ہی ہوا کہ اکثر لوگ تو اس واقعہ کے اگلے روز عمالیق کے ہاتھ سے قتل ہوئے جو باوجود ممانعت موسیٰ (علیہ السلام) کے پہاڑ پر ان سے لڑنے کو چڑھے تھے اور وہ دس جاسوس اور پھر سب لوگ اس قرن کے وقتاً فوقتاً وبا اور قتل سے ہلاک ہوئے حتٰی کہ اس چالیس برس کے عرصہ میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان سے پہلے ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) بھی یرون ندی کے اسی پار جاں بحق ہوئے۔ پھر جب یہ چالیس برس گزر گئے اور یہ لوگ تمام ہوگئے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قائم مقام ان کا بھانجا اور خلیفہ یوشع بن نون ہوا تو خدا نے نئی نسل اسرائیل کو وہاں کا ملک عطا کیا۔ عمالیق اور دیگر اقوام شام پر یوماً فیوماً بنی اسرائیل فتح پاتے رہے۔ خدا کا وعدہ پورا ہوگیا۔
تیہ تاہ تیہ تہاوتوہا سرگردانی۔ تیہاء اس زمین کو کہتے ہیں جس میں آدمی کو رستہ نہ ملے۔ یہ زمین کہ جس میں بنی اسرائیل بھٹکتے پھرے وہ ہے کہ جس کو ہم نے سورة بقرہ میں ایک نقشہ میں دکھایا ہے۔ اعنی بحر قلزم سے مشرق کی طرف عبور کرکے بیابان قادسیہ اور عرب کا شمالی اور مغربی گوشہ دریائے یرون تک یعنی شام کے کنارہ تک۔ یہ کئی سو کوس کا میدان ہے وہاں اس زمانہ میں کہیں کہیں پہاڑوں اور شاداب جگہوں میں کچھ قومیں بھی رہتی تھیں جن میں بنی اسرائیل سے جنگ وجدل کا اتفاق پڑجاتا تھا۔ خدا کی قدرت تھی شام کے ملک میں پہنچنا چاہتے تھے مگر دو چار منزل چل کر پھر بھول بھٹک کر وہیں آجاتے تھے۔
Ayahs 5:27–311 ؎ یعنی میرا کیا قصور جو تو مجھے نیاز قبول نہ ہونے سے مارنا چاہتا ہے۔ نیاز پرہیزگاروں کی قبول ہوا کرتی ہے۔ سو یہ تیرا قصور ہے کیوں حسد کرتا ہے۔ یہاں سے حسد کی برائی بیان ہو رہی ہے جس میں یہود و نصاریٰ مبتلا تھے اور نبی آخر الزمان ﷺ سے بمقابلہ پیش آرہے تھے۔ 12 منہ
ترکیب : نبا مضاف ابنی مضاف الیہ مضاف آدم مضاف الیہ مجموعہ مفعول واتل بالحق حال ہے فاعل اتل سے اذ ظرف ہے نبا کا باثمی معطوف علیہ واثمک معطوف متعلق ہیں تبوء بمعنی ترجع کے جو تاویل ان مصدریہ جملہ مفعول ہے ارید کا جو خبر ہے ان کی کیف حال ہے ضمیر یواری سے اور جملہ محل نصب میں لیریہ ہے۔
تفسیر : پہلی آیت میں یہود و نصاریٰ کا عہد توڑنا بیان ہوا تھا اور نیز بزرگوں کی اولاد اور انبیاء کی طرف منسوب ہونے کی وجہ سے وہ نحن ابناء اللّٰہ واحباء کہتے تھے اس کلمہ کو بھی نقل کیا تھا جو دراصل دونوں قوموں کی بربادی کا باعث ہوا۔ یہود کو اس کلمہ سے تفاخر ہوا جس سے حضرت مسیح (علیہ السلام) کو بزعم خود قتل کر ڈالا اور پھر یہی بلا نصاریٰ میں پیدا ہوگئی۔ انہوں نے بھی اس تفاخر اور حسد میں آکر نبی آخر الزماں کا انکار کیا جو قتل سے بھی بڑھ کر ہے۔ اب ان آیات میں خدا تعالیٰ حضرت آدم (علیہ السلام) کے دو بیٹوں کا قصہ بیان فرما کر یہ بات جتلاتا ہے کہ تفاخر سے حسد پیدا ہوتا ہے جو دوسرے شخص میں کوئی خوبی و کمال دیکھ کر اس کی ایذا اور قتل پر آمادہ کرتا ہے جو اس کے لئے دارین کی روسیاہی کا باعث ہوجاتا ہے اور پھر یہ بزرگ زادہ ہونا اس کے کچھ بھی کام نہیں آتا۔ جیسا کہ قابیل کے کچھ کام نہ آیا ابد تک لعنتی ہوا۔
ابنی آدم سے مراد ہابیل اور قائن کے قصہ کی طرف اشارہ ہے۔ اس قصے کو توریت موجودہ سفر پیدائش کے 4 باب میں بیان کیا ہے کہ ” آدم اپنی جورو حوا سے ہم بستر ہوا۔ وہ حاملہ ہوئی اور قائن کو جنی (عربی میں اس کو قابیل کہتے ہیں) پھر اس کے بھائی ہابیل کو جنی اور ہابیل بھیڑ بکری کا چرواہا اور قائن کسان تھا۔ چند روز کے بعد یوں ہوا کہ قائن اپنے کھیت کے حاصل میں سے خداوند کے لئے ہدیہ لایا اپنی پلوٹھی اور موٹی بھیڑ بکریوں میں سے لایا اور خداوند نے ہابیل کو اور اس کے ہدیہ کو قبول کیا۔ پر قائن کو اور اس کے ہدیہ کو قبول نہ کیا۔ اس لئے قائن نہایت غصہ اور ترش رو ہوا اور خداوند نے قائن سے کہا ‘ تجھے کیوں غصہ آیا۔ اگر تو اچھا کرتا تو کیا مقبول نہ ہوتا الخ اور جب وہ دونوں کھیت میں تھے تو قائن اپنے بھائی ہابیل پر اٹھا اور اسے مار ڈالا۔ تب خداوند نے کہا تیرا بھائی کہاں ہے ؟ اس نے کہا کیا میں اس کا نگہبان ہوں۔ پھر اس نے کہا کہ تو نے کیا کیا۔ تیرے بھائی کا خون زمین سے تجھے پکارتا ہے اور اب تو زمین سے لعنتی ہوا الخ سو قائن خداوند کے حضور سے نکل گیا اور عدن کے پورب کی طرف لوذ کی سرزمین میں جا رہا۔ پھر آدم اپنی جورو سے ہم بستر ہوا اور وہ ایک بیٹا جنی اور اس کا نام سیت (یعنی) شیث رکھا۔ انتہیٰ ملخصاً قابیل اپنے بھائی کو قتل کرکے اپنی پیٹھ پر لادے پھرتا تھا۔ اس سے پہلے کسی کو دفناتے نہ دیکھا تھا جو دفناتا۔ اس لئے خدا نے کوے بھیجے جو باہم لڑے اور ایک نے ایک کو مار کر پنجوں سے زمین کرید کر دبا دیا۔ اس پر قابیل کو دیکھ کر سخت ندامت ہوئی کہ ہائے افسوس میں تو اس کوے کے برار بھی نہ ہوسکا یعنی مجھے دفنانا نہ آیا اور نیز کوے نے جانور ہو کر بعد مردن دوسرے پر رحم کیا جو اس کی لاش کو تہ خاک کیا۔ میں نے اپنے بھائی کے ساتھ انسان ہو کر کیا کیا ؟