44. Surah Ad-Dukhaan

الدخانThe Smoke · 59 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 44:30–42

وَ لَقَدْ نَجَّیْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ مِنَ الْعَذَابِ الْمُهِیْنِۙ Open ayah 44:30 in the Quran reader

اور البتہ ہم نے بنی اسرائیل کو ذلت کی تکلیف سے نجات دی

مِنْ فِرْعَوْنَ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ عَالِیًا مِّنَ الْمُسْرِفِیْنَ Open ayah 44:31 in the Quran reader

جو فرعون کی طرف سے تھی کیونکہ وہ سرکش بیہودہ لوگوں میں سے تھا

وَ لَقَدِ اخْتَرْنٰهُمْ عَلٰى عِلْمٍ عَلَى الْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 44:32 in the Quran reader

اور ہم نے بنی اسرائیل کو جان بوجھ کر دنیا پر برگزیدہ کیا تھا

وَ اٰتَیْنٰهُمْ مِّنَ الْاٰیٰتِ مَا فِیْهِ بَلٰٓؤٌا مُّبِیْنٌ Open ayah 44:33 in the Quran reader

اور ان کو وہ نشانیاں بھی دی تھیں کہ جن میں صاف امتحان تھا۔

اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَیَقُوْلُوْنَۙ Open ayah 44:34 in the Quran reader

یہ لوگ ضرور کہیں گے

اِنْ هِیَ اِلَّا مَوْتَتُنَا الْاُوْلٰى وَ مَا نَحْنُ بِمُنْشَرِیْنَ Open ayah 44:35 in the Quran reader

کہ ہمارے لیے تو صرف یہی پہلی موت ہے اور ہم مر کر زندہ نہ ہوں گے

فَاْتُوْا بِاٰبَآئِنَاۤ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 44:36 in the Quran reader

پھر ہمارے باپ دادا کو تم لے آؤ اگر تم سچے ہو

اَهُمْ خَیْرٌ اَمْ قَوْمُ تُبَّعٍ١ۙ وَّ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ اَهْلَكْنٰهُمْ١٘ اِنَّهُمْ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ Open ayah 44:37 in the Quran reader

کیا یہ بہتر ہیں یا تبع کی قوم اور وہ لوگ جو ان سے پہلے تھے کہ جن کو ہم نے ہلاک کر ڈالا کیونکہ وہ نافرمان تھے۔

وَ مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا لٰعِبِیْنَ Open ayah 44:38 in the Quran reader

اور (اے نبی ! ) ہم نے آسمان اور زمین کو اور جو ان کے اندر ہیں کھیل تماشا کے لیے نہیں بنایا ہے

مَا خَلَقْنٰهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 44:39 in the Quran reader

ہم نے ان کو بہت ہی مصلحت سے بنایا ہے لیکن اکثر ان میں سے جانتے نہیں

اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ مِیْقَاتُهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 44:40 in the Quran reader

بیشک فیصلہ کا دن ان سب کے لیے مقرر ہوچکا ہے

یَوْمَ لَا یُغْنِیْ مَوْلًى عَنْ مَّوْلًى شَیْئًا وَّ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَۙ Open ayah 44:41 in the Quran reader

جس دن کہ کوئی رفیق کسی رفیق کے کچھ بھی کام نہ آئے گا اور نہ ان کی مدد کی جاوے گی

اِلَّا مَنْ رَّحِمَ اللّٰهُ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 44:42 in the Quran reader

مگر جس پر کہ اللہ نے مہربانی کی ہوگی کیونکہ وہ جو ہے تو زبردست ‘ مہربان ہے۔

ترکیب : من فرعون بدل من العذاب علی حذف المضاف ای من عذابہ وقیل لاحاجۃ الی الحذف لان فرعون فی نفسہ کان عذابا مہینالافراطہ فی تعذیب بنی اسرائیل قرء ابن عباس ؓ من فرعون فیکون استفہاما انہ کان الخ جو ابہ مافیہ الخ مفعول ثان لاتینا۔ تفسیر : ولقد نجینا یہ بیان سابق کا تتمہ ہے کہ ہم نے بنی اسرائیل کو سخت عذاب سے نجات دی جو فرعون سرکش کے ہاتھ سے ان پر ہوا کرتا تھا اور صرف مصیبت ہی دفع نہیں کی بلکہ ذلت کے بدلے ان کو عزت دی۔ یہ ہیں اخترناھم علی العالمین کے معنی اور مصیبت کے بدلہ بڑی نعمتیں دیں کہ جن میں ان کی آزمائش تھی اور وہ نعماء خدا کی نشانیاں تھیں جیسا کہ قلزم سے پاراتارنا ‘ من وسلویٰ ‘ پانی کا چٹان میں سے نکلنا ‘ ملک شام کی حکومت ‘ عمالیق وغیرہ سرکش و طاقت ورا قوام پر غلبہ ‘ فرمانبرداری و نافرمانی کا نیک و بد نتیجہ بیان فرما کر پھر قریش کی طرف روئے سخن کرتا ہے اور مسئلہ نبوت کو تمام کر کے مسئلہ معاد میں ان کے انکار کو نقل فرما کر اس کا ثبوت دیتا ہے کہ باردگر مر کر جینا برحق ہے فقال ان ھؤلاء لیقولون الخ کہ یہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہمارے لیے صرف یہی دنیا کی موت ہے اور اس کے بعد جینا نہیں۔ اگر اے مسلمانو ! تم سچے ہو تو ہمارے مردہ باپ دادا کو زندہ کر کے دکھا دو ۔ اس کے جواب میں اولاً تو ان کو اس بیبا کانہ وگستاخانہ انکار حشر پر دھمکایا جاتا ہے اھم خیرام قوم تبع 1 ؎ کیا یہ لوگ تبع حمیری کی قوم سے جو یمن میں آباد تھے اور بڑے دولت و قوت والے تھے اور ان سے پہلے اور بہت قومیں تھیں ان سے بہتر ہیں زور میں ‘ دولت میں زیادہ ہیں ؟ ہرگز نہیں پس ہم نے ان کے جرم پر ان سب کو ہلاک کردیا تو یہ بیچارے کیا چیز ہیں ؟ اس کے بعد ان کے شبہ کا جواب دیتا ہے وماخلقنا السماوات والارض الخ کہ ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور ان کے اندر کی چیزوں کو عبث و بیکار نہیں بنایا ہے بلکہ ٹھیک اور درست بنایا ہے یہ تو تم بھی جانتے ہو پس اگر بعث برحق نہ ہو تو ان کا پیدا کرنا بیکار و عبث ہوجاوے یہ اس لیے کہ ان سب میں افضل انسان ہے اور اسی کے لیے یہ سب کچھ بنایا گیا ہے اگر حشر برحق نہ ہو تو نیک و بد کی دنیا میں تو پوری سزاء و جزاء ہے نہیں پھر نیکوں کی نیکی رائیگاں جاوے اور بد آزاد ہوجاوے ایسا ہو تو عالم خراب ہوجاوے۔ یا یوں کہو انسان اس عالم میں تکمیل کے لیے آیا ہے اور کسی دوسری جگہ سے بھیجا گیا ہے پھر اگر یہی چند روزہ زندگی ہے اور یہ عالم کسی اور عالم کی ایک منزل نہ ہو تو اس تھوڑی دیر کے لیے اتنے سامان کرنا عبث ہوجاویں ستارے بنائے کیا کیا کیا ؟ اور روح تکمیل پانے کے بعد کسی اور عالم میں جانا چاہتی ہے یہ عالم اس کے لیے مقام راحت نہیں اگر اور عالم نہیں تو یہ سب کچھ بیکار ہے پھر فرماتا ہے کہ یوم الفصل فیصلہ کا دن یعنی قیامت کا روز ان سب کے لیے معین کردیا ہے اس دن سب کے فیصلے ہوجاویں گے کوئی حمایتی کسی کے کام نہ آوے گا مگر اس کے کہ جس پر اللہ کا رحم ہوگا۔ 1 ؎ تبع حمیر کا بادشاہ تھا یہ نیک تھا قوم کو توحید کی طرف متوجہ کرتا تھا سرکش قوم نے انکار کیا آخر برباد ہوئے اس کا بیٹا ذوالقرنین تھا اس کو کثرت اتباع کی وجہ سے تبع کہتے تھے پھر عموماً شاہان یمن کا لقب ہوگیا اس تبع کی بابت ان احادیث میں کہ جن کو حاکم و ابن المبارک و احمد و طبرانی و ابن ماجہ وغیرہ جماعت کثیرہ نے نقل کیا یہ آیا ہے کہ وہ ایماندار تھا۔ 12 منہ
Ayahs 44:43–55

اِنَّ شَجَرَتَ الزَّقُّوْمِۙ Open ayah 44:43 in the Quran reader

بیشک تھور کا پیڑ

طَعَامُ الْاَثِیْمِ٤ۖۛۚ Open ayah 44:44 in the Quran reader

گناہگاروں کا کھاجا ہوگا۔

كَالْمُهْلِ١ۛۚ یَغْلِیْ فِی الْبُطُوْنِۙ Open ayah 44:45 in the Quran reader

جیسا پگھلا ہوا تانبا پیٹ میں کھولتے ہوئے

كَغَلْیِ الْحَمِیْمِ Open ayah 44:46 in the Quran reader

پانی کی طرح کھولے گا

خُذُوْهُ فَاعْتِلُوْهُ اِلٰى سَوَآءِ الْجَحِیْمِۗۖ Open ayah 44:47 in the Quran reader

(حکم ہوگا) اس کو پکڑو گھسٹیتے ہوئے جہنم کے بیچوں بیچ تک لے جاؤ

ثُمَّ صُبُّوْا فَوْقَ رَاْسِهٖ مِنْ عَذَابِ الْحَمِیْمِؕ Open ayah 44:48 in the Quran reader

پھر اس کے سر پر عذاب کا کھولتا ہوا پانی ڈالو

ذُقْ١ۙۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْكَرِیْمُ Open ayah 44:49 in the Quran reader

(فرشتے کہیں گے) لے مزہ چکھ کیونکہ تو ہی تو معزز و محترم تھا۔

اِنَّ هٰذَا مَا كُنْتُمْ بِهٖ تَمْتَرُوْنَ Open ayah 44:50 in the Quran reader

یہ وہی تو ہے کہ جس میں تم شک کیا کرتے تھے

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ مَقَامٍ اَمِیْنٍۙ Open ayah 44:51 in the Quran reader

البتہ پرہیز گار امن کی جگہ میں ہوں گے

فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۚۙ Open ayah 44:52 in the Quran reader

باغوں اور چشموں میں

یَّلْبَسُوْنَ مِنْ سُنْدُسٍ وَّ اِسْتَبْرَقٍ مُّتَقٰبِلِیْنَۚۙ Open ayah 44:53 in the Quran reader

مہین اور دبیز لباس پہن کر آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے

كَذٰلِكَ١۫ وَ زَوَّجْنٰهُمْ بِحُوْرٍ عِیْنٍؕ Open ayah 44:54 in the Quran reader

ایسا ہی ہوگا اور ہم ان کو گوری گوری بڑی بڑی آنکھوں والی عورتیں بیاہ دیں گے۔

یَدْعُوْنَ فِیْهَا بِكُلِّ فَاكِهَةٍ اٰمِنِیْنَۙ Open ayah 44:55 in the Quran reader

وہاں ہر ایک قسم کے میوے مانگیں گے۔

دارِ آخرت کا ثبوت کرکے اب کچھ وہاں کے حالات بیان فرماتا ہے۔ سب سے پہلے بدکاروں کی سزا بیان کرتا ہے فقال ان شجرۃ الزقوم گناہگاروں کا کھانا تھور ہوگا جو نہایت تلخ اور بدمزہ چیز ہے لاچار ہو کر اسی کو کھاویں گے وہ پیٹ میں جا کر گرم پانی کی طرح کھولے گا مہل تلچھٹ یا تانبا سیسہ وغیرہ پگھلا ہوا۔ مہل پر جملہ تمام ہوگیا پھر یغلی سے اس کے غلیان کی کیفیت شروع ہوتی ہے۔ بعض کالمہل کو یغلی سے بھی ربط دیتے ہیں۔ اس کے لیے یہ بھی فرشتوں کو حکم دیا جاوے گا کہ اس کو پکڑو اور دھکے دیتے ہوئے جہنم میں لے جاؤ اور اس کے سر پر کھولتا ہوا پانی ڈالو اور کہو چکھ کیونکہ تو اپنے زعم میں بڑا عزت والا ‘ زبردست سمجھا ہوا تھا ان باتوں کو تم دنیا میں نہیں مانتے تھے۔ ابن السکیت کہتے ہیں عتلتہ ای السجن واعتلۃ اذا دفعۃ وفعا عنیفاً ۔ اگر یوں بولتے صبوا فوق رأسہ الحمیم تو اس میں وہ لطف نہ ہوتا جو عذاب کے لفظ نے دیا۔ اس کے بعد نیک لوگوں کا حال بیان فرماتا ہے ان المتقین کہ پرہیز گار عمدہ مقامات میں رہیں گے ‘ عمدہ لباس پہنیں گے ‘ تختوں پر آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے ‘ حورعین سے شادی ہوگی ‘ عمدہ چیزیں کھاویں گے۔ لذت و عیش کی سب چیزیں آگئیں مکان ‘ لباس ‘ عورت ‘ حسین کھانا پینا یہی تو لذات ہیں۔ سندس مہین ریشمی کپڑا۔ استبرق دلدار ریشمی کپڑا جیسا کہ مخمل کا شانی حور واحدی کہتے ہیں اس کے اصلی معنی سفیدی کے ہیں یہ جمع ہے حوراء کے جس کے معنی گوری۔ عین عیناء کی جمع جس کے معنی بڑی آنکھوں والی۔
Ayahs 44:56–59

لَا یَذُوْقُوْنَ فِیْهَا الْمَوْتَ اِلَّا الْمَوْتَةَ الْاُوْلٰى١ۚ وَ وَقٰىهُمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِۙ Open ayah 44:56 in the Quran reader

وہاں پہلی موت کے سوا اور موت کا مزہ نہ چکھیں گے اور خدا ان کو دوزخ کے عذاب سے بچا دے گا۔

فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكَ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 44:57 in the Quran reader

آپ کے رب کا فضل ہے۔ یہی تو وہ بڑی کامیابی ہے

فَاِنَّمَا یَسَّرْنٰهُ بِلِسَانِكَ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 44:58 in the Quran reader

اس قرآن کو ہم نے آسان کردیا آپ کی زبان میں تاکہ وہ سمجھیں

فَارْتَقِبْ اِنَّهُمْ مُّرْتَقِبُوْنَ۠ Open ayah 44:59 in the Quran reader

پھر آپ بھی انتظار کیجئے کیونکہ وہ بھی انتظار کر رہے ہیں۔

لایذوقون فیہا الموت الالموتۃ الاولی یعنی جنت میں کبھی موت کا مزہ نہ چکھیں گے بجز اس کے کہ جو پہلے دنیا میں چکھ چکے ہیں استثناء منقطع ہے۔ اے لکن الموتۃ کذاقال الزجاج والفراء۔ ابتدائِ سورة میں قرآن مجید کے چند اوصاف بیان فرمائے تھے منجملہ ان کے ایک یہ کہ وہ مبین ہے یعنی اس میں ہر چیز کا بیان وضاحت کے ساتھ ہے اب یہاں اس کی اور بھی تشریح کرتا ہے کہ یسرناہ بلسانک کہ اے محمد ﷺ تیری زبان میں سمجھنے کے لیے اس کو آسان کیا تاکہ لوگ سمجھیں مگر بدبخت نہیں سمجھتے اور تجھ پر موت یا ہلاکت آنے کے منتظر رہتے ہیں سو تو بھی اے محمد ﷺ ان پر بلا آنے کا انتظار کر۔