40. Surah Al-Ghaafir

غافرThe Forgiver · 85 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 40:69–76

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ١ؕ اَنّٰى یُصْرَفُوْنَ٤ۖۛۚ Open ayah 40:69 in the Quran reader

کیا آپ نے وہ لوگ نہیں دیکھے جو اللہ کی آیتوں میں جھگڑا مچایا کرتے ہیں، کہاں بہکے چلے جارہے ہیں۔

الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِالْكِتٰبِ وَ بِمَاۤ اَرْسَلْنَا بِهٖ رُسُلَنَا١ۛ۫ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 40:70 in the Quran reader

یہ وہ ہیں کہ جنہوں نے کتاب کو اور جو کچھ ہم نے رسولوں کو دے کر بھیجا تھا سب کو جھٹلادیا۔ پھر ان کو ابھی معلوم ہوا جاتا ہے،

اِذِ الْاَغْلٰلُ فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ وَ السَّلٰسِلُ١ؕ یُسْحَبُوْنَۙ Open ayah 40:71 in the Quran reader

جبکہ طوق اور زنجیریں ان کے گلوں میں ڈال کر گھسیٹے جائیں گے۔

فِی الْحَمِیْمِ١ۙ۬ ثُمَّ فِی النَّارِ یُسْجَرُوْنَۚ Open ayah 40:72 in the Quran reader

کھولتے پانی میں پھر آگ میں جھوکے جائیں گے،

ثُمَّ قِیْلَ لَهُمْ اَیْنَ مَا كُنْتُمْ تُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 40:73 in the Quran reader

پھر ان سے کہا جائے گا جن کو تم اللہ کے سوا شریک بناتے تھے کہاں ہیں،

مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قَالُوْا ضَلُّوْا عَنَّا بَلْ لَّمْ نَكُنْ نَّدْعُوْا مِنْ قَبْلُ شَیْئًا١ؕ كَذٰلِكَ یُضِلُّ اللّٰهُ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 40:74 in the Quran reader

وہ کہیں گے وہ ہمارے پاس سے کھوئے گئے، بلکہ ہم پہلے تو کسی کو بھی پکارا نہیں کرتے تھے۔ اللہ یوں کافروں کو بچلاوے گا (بدحواس کرے گا)

ذٰلِكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَفْرَحُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ بِمَا كُنْتُمْ تَمْرَحُوْنَۚ Open ayah 40:75 in the Quran reader

یہ عذاب تم کو اس لیے ہوا کہ تم ملک میں ناحق کی خوشیاں منایا کرتے تھے اور اس لیے بھی کہ تم اترایا کرتے تھے۔

اُدْخُلُوْۤا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِیْنَ Open ayah 40:76 in the Quran reader

جہنم کے دروازوں میں ہمیشہ رہنے کے لیے گھسو، پھر کیا ہی بری جگہ ہے غرور کرنے والوں کی۔

ترکیب : اذا الاغلالظرف لیعلمون والمراد معنی الاستقبال والسلاسل جمع سلسلۃ معطوف علی الاغلال و الخبرفی اعناقہم او مبتداء خبرہ یسبحون والعائد محذوف ای یسبحون بھا و ھو علی الاول حال و قریٰ بالنصب و یسبحون بفتح الیاء ای یسبحون السلاسل۔ تفسیر : آیات الٰہیہ میں جھگڑا کرنے والوں کی پھر مذمت بیان کی جاتی ہے۔ فقال الم ترالی الذین الخ خدا تعالیٰ تعجب کے طور پر ارشاد فرماتا ہے کہ اے محمد ﷺ ! کیا آپ نے وہ لوگ نہیں دیکھے جو آیات الٰہیہ میں ناحق حجت کیا کرتے ہیں، وہ کہاں بہکے جاتے ہیں ؟ پھر فرماتا ہے وہ کون ہیں۔ الذین کذبوا بالکتابوہ ہیں کہ جنہوں نے کتاب اللہ کو جھٹلایا، عام ہے کہ قرآن مجید ہو یا اگلی کتابیں یا ان میں سے کسی کتاب کا انکار۔ کیا ہو اور رسول جس چیز کو لائے اس کا بھی انکار کیا۔ رسول اللہ ﷺ کی کسی بات کو جھٹلانا کفر ہے۔ خواہ صراحۃً یا کنایۃ۔ پھر آخرت میں جو سزا ان کو ہوگی اس کو بیان کرتا ہے۔ اذا الاغلال الخ ان کے گلوں میں طوق و زنجیر ڈال کر گرم پانی میں گھسیٹا جائے گا۔ پھر آگ میں ڈالے جائیں گے، یعنی طرح طرح سے عذاب ہوگا۔ راغب اصفہانی کہتے ہیں تسلسل الشیء اضطراب اس کے معنی میں حرکت و اضطراب پایا جاتا ہے۔ زنجیر کو بھی اسی لیے سلسلہ کہتے ہیں کہ اس کی کڑیوں میں حرکت ہوتی ہے اور پانی کو بھی بوجہ روانگی کے ماء سلسل کہتے ہیں۔ اغلال جمع غل بمعنی طوق ‘ السحب زور سے کھینچنا اور بادل کو بھی اسی لیے سحاب کہتے ہیں کہ اس کو ہوا دھکیلتے ہوئی لے جاتی ہے۔ حمیم گرم کھولتا ہوا پانی بعض کہتے ہیں، پیپ مراد ہے۔ سجر تنور گرم کرنا اور نہر کو پانی سے بھرنا اس لیے کہتے ہیں، بحر مسجور اے مملوا ماء۔ پھر ان سے سوال ہوگا کہ جن کو تم شریک بناتے تھے وہ کہاں ہیں ؟ جواب دیں گے ضلوا عنا کہ ہم سے کھوئے گئے، ہم کو نظر نہیں آتے، پھر کہیں گے بل لم نکن ندعوا من قبل شیئا کہ ہم تو کسی کو بھی نہیں پکارا کرتے تھے، جس طرح کوئی شخص کچھ برا کام کرے اور سزا کے وقت انکار کرے کہ میں نے تو کچھ بھی نہیں کیا تھا تاکہ سزا نہ ہو۔ فرماتا ہے کذلک یضل اللہ کہ جس طرح اس روز بکیں گے، کئے کام کا انکار کریں گے، اسی طرح دنیا میں اللہ ان کو گمراہ کررہا ہے جو وہ آیات اللہ میں جھگڑتے ہیں یا یہ معنی کہ اس طرح سے ان کو آخرت میں مبہوت و بدحواس کرے گا۔ ان سے وہاں کہا جائے گا ذلکم یہ عذاب تم کو اس لیے ہوا کہ تم دنیا میں گناہوں اور شرک اور طرح طرح کی بدکاری کرکے خوش ہوا کرتے تھے۔ مال و عیال میں مست تھے اور اس لیے بھی کہ تم تکبر کیا کرتے تھے۔ تکبر سے اہل اللہ کی بات نہیں سنتے تھے۔ لو اب ادخلوا ابواب جہنم دوزخ کے دروازوں میں گھسو ہمیشہ رہنے کے لیے یہ بری جگہ متکبروں کی ہے۔
Ayahs 40:77–78

فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ١ۚ فَاِمَّا نُرِیَنَّكَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّكَ فَاِلَیْنَا یُرْجَعُوْنَ Open ayah 40:77 in the Quran reader

پھر (اے محمد) صبر کرو کیونکہ اللہ کا وعدہ برحق ہے، پھر اگر ان چیزوں میں سے کہ جن کا ہم ان سے وعدہ کرتے ہیں کیا آپ کو دکھائیں یا آپ کو (اس سے پہلے بھی) موت دیں تو پھر وہ تو سب ہمارے ہی پاس آویں گے

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ مِنْهُمْ مَّنْ قَصَصْنَا عَلَیْكَ وَ مِنْهُمْ مَّنْ لَّمْ نَقْصُصْ عَلَیْكَ١ؕ وَ مَا كَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ یَّاْتِیَ بِاٰیَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۚ فَاِذَا جَآءَ اَمْرُ اللّٰهِ قُضِیَ بِالْحَقِّ وَ خَسِرَ هُنَالِكَ الْمُبْطِلُوْنَ۠ Open ayah 40:78 in the Quran reader

اور ہم نے آپ سے پہلے بھی رسول بھیجے ہیں کہ ان میں سے کسی کا حال تو آپ کو سنادیا اور کسی کا حال ان میں سے آپ کو نہیں سنایا اور کسی رسول کا بھی مقدور نہ تھا کہ اللہ کی بےاجازت کوئی نشانی لے آتا۔ پھر جب حکم الٰہی آیا تو انصاف سے فیصلہ کیا گیا اور جو لوگ برسر باطل تھے اس وقت وہی نقصان میں رہے۔

ترکیب : فا ما ان شرطیۃ وما مزیدۃ لتاکید الشرط فالینا یرجعون جواب نتوفینک و جواب نرینک محذوف مثل فذاک ویمکن ان یکون جوابا لھما بمعنی ان نعذبھم فی حیاتک اولم نعذبھم فانا نعذبھم فی الآخرۃ اشد العذاب ویدل علیٰ شدتہ الاقتصار بذکر الرجوع فی ھذا المعرض بیضاوی۔ تفسیر : اول اس سورة سے لے کر یہاں تک آیات اللہ میں جھگڑنے والوں کی برائی اور ان کے طریقہ کی مذمت تھی، اس جگہ اپنے رسول کو ان کی ایذائوں پر صبر کرنے کا حکم دیتا ہے اور منکروں کو ایک آنے والی مصیبت سے خبردار کرتا ہے کہ آپ صبر کیجئے، کیونکہ اگر آپ کی زندگی میں کفار کو بعض آنے والی مصیبت دکھاویں جیسا کہ بدر کے روز کا معاملہ تو فھو المراد آپ بھی دیکھ لیں گے اور اگر آپ مرگئے تو بھی یہ لوگ ہمارے پاس آنے والے ہیں۔ ان کو سخت عذاب ہوگا۔ اس کی نظیر یہ آیت ہے۔ فامانذھبن بک فانا منہم منتقمون اور نرینک الذی وعدنا ھم فانا علیہم مقتدرون۔ غرض یہ کہ صبر کر خدا کا وعدہ برحق ہے، ان پر بلا آنے والی ہے۔ خواہ آپ کی حیات میں آوے یا بعد میں بہرحال ان ناہنجاروں پر و بال آئے گا اور سخت آوے گا۔ اس کے بعد آنحضرت ﷺ کو اور بھی تسلی دی جاتی ہے۔ فقال ولقد ارسلنا رسلا من قبلک کہ آپ سے پیشتر بھی ہم بہت سے رسول دنیا میں بھیج چکے ہیں۔ جن کی تعداد بموجب بعض روایات ایک لاکھ چوبیس ہزار ہے جن میں سے تین سو پندرہ رسول تھے۔ (اخرجہ احمد) مگر قوی تریہی ہے کہ ان کی تعداد اللہ ہی کو معلوم ہے۔ اجمالاً سب کو برحق ماننا ضرور ہے اور وہ ہر ملک و ہر قوم میں آئے تھے۔ منہم من قصصنا علیک ان میں سے بعض کا حال آپ سے بیان کیا ہے، یعنی پچیس کا ذکر آیا اوروں کا ذکر آپ سے نہیں کیا مگر سب رسولوں کے ساتھ یہ بات پیش آئی ہے کہ ہر ایک قوم نے ان کی باتوں میں مجادلہ اور ناحق کا جھگڑا مچایا ہے۔ اگرچہ انہوں نے معجزات بھی دکھائے۔ نشانیاں بھی پیش کیں مگر پھر بھی وہ سرکشی کی راہ سے بغیر ضرورت معجزات کی خواستگاری کرتے رہے۔ وماکان لرسول ان یاتی بآیۃ الاباذن اللہ۔ حالانکہ کسی رسول کی بھی طاقت نہ تھی کہ بغیر حکم الٰہی کے ان کی خواہش پورا کرنے کو کوئی معجزہ دکھاسکے۔ پس ان کی خواہش پوری نہ کی گئی ان کا انکار و اصرار بڑھتا گیا۔ فاذا جاء امر اللہ قضی بالحق پھر جب امر الٰہی یعنی عذاب کا وقت موعود آیا تو انصاف سے فیصلہ ہوگیا۔ بدکاروں، شریروں نے اپنے جرم کی سزا پائی ایمانداروں کو نجات دی گئی۔ و خسر ھنا لک المبطلون اور اس وقت باطل کا اتباع کرنے والے آیات اللہ کو باطل ٹھہرانے والے برباد ہوگئے دنیا میں نام و نشان بھی باقی نہ رہا۔ یہ نبی ﷺ کے ہمعصر مشرکوں کو سنایا جاتا ہے کہ تم اسی طرح معجزات طلب کرتے ہو۔ تمہارا بھی یہی انجام ہوگا۔
Ayahs 40:79–85

اَللّٰهُ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَنْعَامَ لِتَرْكَبُوْا مِنْهَا وَ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَ٘ Open ayah 40:79 in the Quran reader

اللہ وہ ہے کہ جس نے تمہارے لیے چار پائے بنائے تاکہ ان میں سے کسی پر سواری کرو اور کسی کو کھائو

وَ لَكُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ وَ لِتَبْلُغُوْا عَلَیْهَا حَاجَةً فِیْ صُدُوْرِكُمْ وَ عَلَیْهَا وَ عَلَى الْفُلْكِ تُحْمَلُوْنَؕ Open ayah 40:80 in the Quran reader

اور تمہارے لیے ان میں اور بھی فائدے ہیں اور یہ بھی کہ ان پر سوار ہو کر اپنے اس مقصد تک پہنچو جو تمہارے دل میں ہے اور ان پر اور کشتیوں پر بھی تم سوار کئے جاتے ہو

وَ یُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ١ۖۗ فَاَیَّ اٰیٰتِ اللّٰهِ تُنْكِرُوْنَ Open ayah 40:81 in the Quran reader

اور وہ تم کو اپنی نشانیاں دکھاتا ہے، پھر تم اللہ کی کس کس آیت کا انکار کرو گے۔

اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَانُوْۤا اَكْثَرَ مِنْهُمْ وَ اَشَدَّ قُوَّةً وَّ اٰثَارًا فِی الْاَرْضِ فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 40:82 in the Quran reader

پھر کیا انہوں نے ملک میں پھر کر نہیں دیکھ لیا کہ ان سے پہلوں کا کیا انجام ہوا جو ان سے تعداد میں زیادہ اور ان سے بھی زیادہ زور آور اوروں سے زیادہ تر زمین پر نشانیاں چھوڑ جانے والے تھے۔ پھر ان کی کارروائی ان کے کچھ بھی کام نہ آئی۔

فَلَمَّا جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَرِحُوْا بِمَا عِنْدَهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 40:83 in the Quran reader

پھر جب ان کے پاس (ہمارے) رسول نشانیاں لے کر آئے تو وہ اپنے علم و دانش پر اترانے لگے اور جس پر وہ ہنسی کرتے تھے وہ ان پر الٹ پڑا۔

فَلَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَحْدَهٗ وَ كَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهٖ مُشْرِكِیْنَ Open ayah 40:84 in the Quran reader

پھر جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھا تو کہنے لگے کہ ہم اکیلے اللہ پر ایمان لائے اور جس کو اس کا شریک کرتے تھے اس کے ہم منکر ہوگئے،

فَلَمْ یَكُ یَنْفَعُهُمْ اِیْمَانُهُمْ لَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا١ؕ سُنَّتَ اللّٰهِ الَّتِیْ قَدْ خَلَتْ فِیْ عِبَادِهٖ١ۚ وَ خَسِرَ هُنَالِكَ الْكٰفِرُوْنَ۠ Open ayah 40:85 in the Quran reader

پھر ان کا ایمان ان کو (اس وقت) کیا نفع دیتا جبکہ انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا اللہ کا اس کے بندوں میں قدیم سے یہی دستور چلا آرہا ہے اور اس جگہ منکر گھاٹے میں رہیں گے۔

تفسیر : خوف دلانے کے بعد پھر وہ دلائل بیان فرماتا ہے کہ جو اللہ حکیم رحیم کے وجود پر دلالت کرتے ہیں اور جن سے اس کا بندوں پر انعام و احسان ثابت ہوتا ہے۔ فقال اللہ الذی الخ کہ اللہ وہ محسن و رحیم و کریم و قادر ہے کہ جس نے تم سے بڑے زور آور جانوروں کو تمہارے بس میں کردیا کہ ان میں سے تم کسی پر سوار ہوتے ہو۔ جیسا کہ اونٹ، گھوڑا، گدھا بعض ملکوں میں بیل ہاتھی بھی یہی کام دیتے ہیں اور بعض کو تم ذبح کرکے کھاتے ہوگائے، بھیڑ، بکری وغیرہ۔ اور اسی پر بس نہیں بلکہ ولکم فیہا منافع اس کے علاوہ تمہارے لیے ان میں اور بھی فوائد ہیں، ان سے نفع لیتے ہو۔ دودھ، گھی فروخت کرتے ہو کھاتے پیتے ہو ہل جو تتے ہو، ان کی نسل بڑھا کر فروخت کرتے ہو، ان کی کھالوں سے فوائد اٹھاتے ہو، ان کی ہڈیوں اور سینگوں کو کام میں لاتے ہو۔ ولتبلغوا علیہا حاجۃ فی صدور کم اور نیز ان پر چڑھ کر اپنی حاجات دلی کو پورا کرتے ہو، سفر کرتے ہو، اسباب لاد کرلے جاتے ہو، دشمنوں پر چڑھائی کرتے ہو اور یہ سوار ہونا کچھ انہی پر موقوف نہیں بلکہ علیہا وعلی الفلک تحملون ان پر اور کشتیوں پر بھی سوار ہوتے ہو۔ ویریکم آیاتہ اور وہ تم کو اپنی اور بہت سی نشانیاں دکھاتا ہے۔ فای آیات اللہ تنکرون، پس کون کون سی نشانیوں کو جھٹلاؤ گے۔ افلم یسیروافی الارض یہاں سے یہ بات بتلاتا ہے کہ نعمتوں کی ناقدری اور ناشکری کی اس کے ہاں سخت سزا دنیا میں بھی ملا کرتی ہے۔ اگر یقین نہیں تو ملک میں پھر کر اپنے سے پہلے لوگوں کا حال کیا انہوں نے نہیں دیکھ لیا ہے کہ ان کا کیا انجام ہوا ؟ اور ہمارے مقابلہ میں ان کی کوئی تدبیر اور کوئی زور کارآمد نہ ہوا۔ پھر ان موجودہ لوگوں کا کیا کارآمد ہوگا، حالانکہ وہ ان سے زور آور ‘ بڑے نشان باقی چھوڑنے والے تھے۔ قلعہ اور عمارات بلند اور کنوئیں ان کی یادگار موجود ہیں۔ فلما جاء تہم رسلہم بالبینات الخ یہاں سے ان کی بربادی کے اسباب بیان فرماتا ہے کہ ان کے پاس رسول نشانیاں معجزات لے کر آئے۔ انہوں نے اپنے خیالات فاسدہ پر خوشی ظاہر کی اور نبیوں کی بات نہ مانی اور ان پر ٹھٹھا کرنے لگے۔ وحاق بہم پس ان پر وہ بلا کہ جس کے آنے کا ذکر سن کر اس پر ہنسی کرتے تھے، اُلٹ پڑی۔ فلما راوا پھر جب بلا آتی دیکھی تو دولت دنیا کا نشہ اتر گیا کہنے لگے۔ امنا باللہ وحدہ الخ کہ ہم خالص ایک اللہ پر ایمان لائے اور اپنے معبودوں کے منکر ہوگئے، مگر اس وقت کا ایمان لانا کیا فائدہ دیتا تھا، کس لیے کہ اللہ کا دستور ہمیشہ سے یوں ہی چلا آیا ہے کہ ہلاکت کے وقت کا ایمان لانا معتبر نہیں ہوتا۔ سو وہ زیاں کاربرباد ہوگئے۔ فوائد : (1) لام وجو غرض کے لیے آتا ہے۔ لترکبوا و لتبلغوا پر داخل ہوا اور باقی پر نہ داخل ہوا ‘ اس کا کیا سبب ہے ؟ صاحب کشاف نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ چارپایوں پر چڑھنا حج اور جہاد میں واجب یا مستحب ہے۔ پس یہ دونوں دینی اغراض ہیں، اس لیے ان پر لازم آیا لیکن کھانا اور منافع حاصل کرنا سو یہ حس مباحات سے ہیں، اس لیے ان پر لام نہیں داخل ہوا اور نظیر اس کی یہ آیت ہے۔ والخیل والبغال والحمیر لترکبوھا وزینۃ دیکھو یہاں رکوب پر لام آیا زینت پر نہ آیا، یعنی رکوب مقصد اصلی ہے اور باقی فرعی ہیں۔ (2) ای ایات اللہ فرمایا مذکر کا صیغہ آیات مؤنث کے لیے آیا اور آیۃٌنہ فرمایا۔ صاحب کشاف اس کے جواب میں فرماتے ہیں کہ یہی فصیح اور مستعمل ہے۔ آیۃٌ نہیں کس لیے کہ اسمائِ غیر صفات میں جیسا کہ حمار و حمارۃ مونث اور مذکر میں تفرقہ بہت ہی کم ہوتا ہے، چہ جائیکہ ای ّکیونکہ یہ مبہم ہے۔ (3) فرحوا بما عندھم من العلم فرحوا کی ضمیر یا تو کفار کی طرف راجع ہے۔ پس ان کے اس علم سے کہ جس سے خوش وقت تھے، کیا مراد ہے ؟ یا تو ان کے وہ خیالات فاسدہ کہ جو متوارث چلے آتے تھے یا ان کی جہل پسند طبیعت اور آزادی پسند فطرت اور بےباکی نے ازخود گھڑ لیے تھے۔ جیسا کہ یہلکنا الا الدھر ولو شاء اللہ ما اشرکنا ولا آبائونا، ومن یحی العظام وھی رمیم۔ ومانعبدھم الا لیقربنا الی اللہ زلفی وغیر ذلک یعنی دہریے دہر ہی کو محی و ممیت کہتے تھے اور مشرک اپنے مذموم افعال کی صحت پر خدا کی مشیت کو دلیل بناتے تھے کہ ہمارے یہ کار برے ہوتے تو خدا ان کو نہ ہونے دیتا یا وہ قیامت کے روز زندہ ہونے کو محال سمجھتے تھے یا اپنے معبودوں کو اللہ کے تقرب کا وسیلہ جانتے تھے، ایسے ایسے ہی اقوال فاسدہ وہ انبیاء کے مقابلہ میں پیش کرکے بغلیں بجایا کرتے تھے یا ان کے علوم سے مراد فلاسفہ کے علوم ہیں۔ ریاضیات و عنصریات کے سو الٰہیات میں بھی ان کو ان کے اقوال پر بڑا زعم تھا اور آج کل بھی صدہا انسان فلسفہ حال پر ایمان لائے ہوئے ہیں۔ بظاہر اسلام کا ترک کرنا اپنی بدنامی اور حریصانہ کوشش دنیاوی کے منافی جان کر اسلام کا ترک کرنا تو مناسب نہیں جانتے، اس لیے قرآن کے مطالب نفیسہ کی تاویل بعید کرکے یعنی تکین ملاکر اقوال حکماء کے مطابق کرنا چاہتے ہیں اور اس کوشش بیکار کا جملہ مسلمانوں کو ممنون منت بتاتے ہیں اور ایسی تاویلات رکیکہ کا نام انہوں نے تفسیر الکلام بافعال اللہ و بقدرت اللہ رکھا ہے۔ ان علوم فلسفیہ سے وہ انبیاء کا مقابلہ کیا کرتے تھے اور اب بھی بت پرست اپنے جاہلانہ خیالات کو قرآن مجید کے مقابلہ میں لایا کرتے ہیں یا ان کے علم سے مراد امور دنیاویہ کا علم ہے کہ اسی پر وہ شاداں وفرحاں رہتے تھے۔ انبیاء کی باتوں پر جو دنیا کی بےثباتی اور خدا کے پاس جانے کی بابت تھیں، کان بھی نہ دھرتے تھے۔ اور یا یہ ضمیر حضرات انبیاء کی طرف راجع ہے۔ اس صورت میں یا تو فرحت رسولوں کی مراد ہوگی کہ حضرات انبیاء ان کے انکار و جاہلانہ مکابرہ سے دل تنگ نہ ہوتے تھے بلکہ جو علوم ان کو اللہ کی طرف سے حاصل ہوئے تھے، ان پر شاداں وفرحاں تھے، اور یہ ان کے یقین کی برکت تھی۔ یا یہ معنی کہ کفار انبیاء کے علم پر جو ان کو دیا گیا تھا۔ خوش ہوتے تھے، یعنی ہنسی اور تمسخر کرتے تھے، جیسا کہ آج کل نئے تعلیم یافتہ دینی باتوں پر ہنسی کیا کرتے ہیں، مگر نتیجہ ان کا خسران و حرمان ہوا۔ برباد ہوئے۔ آخرت میں مبتلائِ عذاب ہوئے۔ الٰہی بطفیل نبی پاک ﷺ ہم کو خسارہ دارین سے پناہ میں رکھیو یہ خسران و حرمان ہمارے پاس نہ آوے۔ آمین۔