40. Surah Al-Ghaafir

غافرThe Forgiver · 85 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 40:36–44

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ یٰهَامٰنُ ابْنِ لِیْ صَرْحًا لَّعَلِّیْۤ اَبْلُغُ الْاَسْبَابَۙ Open ayah 40:36 in the Quran reader

اور فرعون نے کہا اے ہامان ! میرے لیے ایک محل تو تیار کر تاکہ میں ان رستوں سے

اَسْبَابَ السَّمٰوٰتِ فَاَطَّلِعَ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوْسٰى وَ اِنِّیْ لَاَظُنُّهٗ كَاذِبًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ زُیِّنَ لِفِرْعَوْنَ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ وَ صُدَّ عَنِ السَّبِیْلِ١ؕ وَ مَا كَیْدُ فِرْعَوْنَ اِلَّا فِیْ تَبَابٍ۠ Open ayah 40:37 in the Quran reader

جو آسمان کے رستے ہیں، پہنچ کر موسیٰ کے خدا کو دیکھ آئوں اور میں تو اس کو جھوٹا ہی سمجھتا ہوں اور اسی طرح فرعون کے برے کام اس کی آنکھوں میں بھلے معلوم ہورہے تھے اور وہ رستہ سے روکا گیا تھا اور فرعون کی تدبیریں تو سراسر بربادی بخش تھیں

وَ قَالَ الَّذِیْۤ اٰمَنَ یٰقَوْمِ اتَّبِعُوْنِ اَهْدِكُمْ سَبِیْلَ الرَّشَادِۚ Open ayah 40:38 in the Quran reader

اور اس ایمان والے نے کہا اے قوم ! میری پیروی کرو کہ میں تم کو سیدھے رستہ پر لے چلوں،

یٰقَوْمِ اِنَّمَا هٰذِهِ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا مَتَاعٌ١٘ وَّ اِنَّ الْاٰخِرَةَ هِیَ دَارُ الْقَرَارِ Open ayah 40:39 in the Quran reader

اے قوم یہ دنیا کی زندگانی جو ہے تو کچھ برتنے کے لیے ہے اور آخرت کا گھر ہی ٹھہرنے کی جگہ ہے،

مَنْ عَمِلَ سَیِّئَةً فَلَا یُجْزٰۤى اِلَّا مِثْلَهَا١ۚ وَ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓئِكَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ یُرْزَقُوْنَ فِیْهَا بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 40:40 in the Quran reader

جس نے برا کام کیا تو اتنی ہی سزا پاوے گا اور جس نے نیک کام کیا خواہ مرد ہو خواہ عورت اور وہ ایماندار بھی ہو سو وہ جنت میں داخل ہوں گے، جہاں ان کو بےحساب روزی ملے گی

وَ یٰقَوْمِ مَا لِیْۤ اَدْعُوْكُمْ اِلَى النَّجٰوةِ وَ تَدْعُوْنَنِیْۤ اِلَى النَّارِؕ Open ayah 40:41 in the Quran reader

اور اے قوم ! میرا بھی عجیب حال ہے کہ میں تم کو نجات کی طرف بلا رہا ہوں اور تم مجھ کو آگ کی طرف بلاتے ہو

تَدْعُوْنَنِیْ لِاَكْفُرَ بِاللّٰهِ وَ اُشْرِكَ بِهٖ مَا لَیْسَ لِیْ بِهٖ عِلْمٌ١٘ وَّ اَنَا اَدْعُوْكُمْ اِلَى الْعَزِیْزِ الْغَفَّارِ Open ayah 40:42 in the Quran reader

تم مجھے اس بات کی طرف بلاتے ہو کہ میں اللہ کا منکر ہوجائوں اور اس کے ساتھ اس کو شریک کروں کہ جس کو میں جانتا بھی نہیں ہوں اور میں تم کو زبردست ‘ بخشنے والے کی طرف بلاتا ہوں۔

لَا جَرَمَ اَنَّمَا تَدْعُوْنَنِیْۤ اِلَیْهِ لَیْسَ لَهٗ دَعْوَةٌ فِی الدُّنْیَا وَ لَا فِی الْاٰخِرَةِ وَ اَنَّ مَرَدَّنَاۤ اِلَى اللّٰهِ وَ اَنَّ الْمُسْرِفِیْنَ هُمْ اَصْحٰبُ النَّارِ Open ayah 40:43 in the Quran reader

بلاشک تم مجھ کو جس کی طرف بلاتے ہو وہ تو نہ دنیا میں بلانے کے قابل ہے اور نہ آخرت میں اور بیشک ہم کو اللہ کے پاس لوٹ کر جانا ہے اور بیشک بےہودہ لوگ ہی دوزخی ہیں،

فَسَتَذْكُرُوْنَ مَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ١ؕ وَ اُفَوِّضُ اَمْرِیْۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بَصِیْرٌۢ بِالْعِبَادِ Open ayah 40:44 in the Quran reader

پھر تم میری بات کو یاد کرو گے اور میں اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں، بیشک اللہ بندوں کو دیکھ رہا ہے۔

ترکیب : اسباب السمٰوٰت بدل مما قبلہ فاطلع بالنصب علی جواب الامر و بالرفع عطفا علی ابلغ و تدعوننی الجملۃ و مایتصل بھا بدل اوتبیین لتدعوننی الاولی۔ وافوض الجملۃ حال من الضمیر فی اقول۔ تفسیر : فرعون نے پہلے کہا تھا وما اھدیکم الاسبیل الرشاد اب اس جگہ اس کی عقل و فہم کی کوتاہی بیان کی جاتی ہے کہ اپنے وزیر یا مصاحب ہامان سے کہا کہ میرے لیے کوئی ایسا بلند مکان بنا کہ جس پر چڑھ کر موسیٰ کے خدا کو دیکھوں اور میں تو اس کو جھوٹا ہی جانتا ہوں۔ حماقت اس میں یہ ہے کہ موسیٰ ( علیہ السلام) کے اس کہنے سے کہ اللہ رب السماوات ہے، وہ یہ سمجھ گیا کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں پر رہتا ہے۔ جیسا کہ طبائعِ عامہ فوقیت کے لحاظ سے اس کو آسمانوں پر بتاتے ہیں اور فرقہ مشبہ و مجسمہ فرعون کے قول کو سند میں لاتے ہیں۔ دوسری حماقت یہ تھی کہ اگر ہامان کوئی ایسا بلند مکان بھی بناتا تو غایۃ الامر بڑے سے بڑے پہاڑ کے برابر بناتا۔ پھر اس احمق کو یہ نہ سوجھا کہ پہاڑ پر چڑھنے سے بھی تو یہ بات حاصل نہیں ہوسکتی ہے۔ تیسری حماقت یہ ہے کہ خدا تعالیٰ محسوس نہیں، وہ بلندی پر چڑھ کر کیونکر دکھائی دے سکتا ہے ؟ اسباب السماوات وہ چیزیں کہ جن سے استمدادلی جاتی ہے۔ رسا وغیرہ۔ ہامان کی بابت اہل کتاب کا یہ اعتراض کرنا کہ فرعون کے عہد کے سینکڑوں برس بعد میں ہوا ہے، محض غلط ہے کس لیے کہ یہ اور ہامان ہے۔ اب یہ بات ہے کہ تورات میں اس کا ذکر نہیں۔ سو یہ بھی بیکار ہے تورات میں سینکڑوں باتیں مذکور نہیں، پھر کیا ان کا انکار ہوسکتا ہے ؟ اور تورات محرف بھی ہو تو پھر اس پر کیونکر اعتماد ہوسکتا ہے ؟ ہامان نے کوئی ایسا محل اس احمق کے کہنے سے بنایا نہ تھا، وہ تو اس کی موسیٰ ( علیہ السلام) کی تکذیب کے لیے لوگوں کے سنانے کو ایک بات تھی۔ وکذلک الخ خدا تعالیٰ فرماتا ہے، اس پر کیا بس ہے اور بہت سی باتیں غلط اور اعمال فاسدہ فرعون کے نزدیک عمدہ سمجھے جاتے تھے۔ وصد جمہور نے معروف کا صیغہ پڑھا ہے، ای صد فرعون الناس عن سبیل اللہ اور کو فیوں نے مجہول کا صیغہ پڑھا ہے۔ صُدّ اس کا عطف زین پر ہوگا اور بعض نے مصدر پڑھا ہے، اس کا عطف سوء عملہ پر ہوگا، اس کے بعد اخیر تک اس مرد مومن کی گفتگو نقل ہے جو اس نے فرعونیوں کے مقابلہ میں کی تھی، جس میں دنیا کی بےثباتی اور دار آخرت کا ذکر اور اپنی نصیحت کا وثوق بیان ہوا ہے۔
Ayahs 40:45–50

فَوَقٰىهُ اللّٰهُ سَیِّاٰتِ مَا مَكَرُوْا وَ حَاقَ بِاٰلِ فِرْعَوْنَ سُوْٓءُ الْعَذَابِۚ Open ayah 40:45 in the Quran reader

پھر اللہ نے اس کو تو ان کے فریبوں کی برائی سے بچایا اور خود فرعونیوں پر سخت عذاب آپڑا

اَلنَّارُ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْهَا غُدُوًّا وَّ عَشِیًّا١ۚ وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ١۫ اَدْخِلُوْۤا اٰلَ فِرْعَوْنَ اَشَدَّ الْعَذَابِ Open ayah 40:46 in the Quran reader

وہ صبح و شام آگ کے سامنے لائے جاتے ہیں اور جس دن کہ قیامت برپا ہوگی (حکم ہوگا) فرعونیوں کو سخت عذاب میں لے جائو

وَ اِذْ یَتَحَآجُّوْنَ فِی النَّارِ فَیَقُوْلُ الضُّعَفٰٓؤُا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ اَنْتُمْ مُّغْنُوْنَ عَنَّا نَصِیْبًا مِّنَ النَّارِ Open ayah 40:47 in the Quran reader

اور جبکہ دوزخی دوزخ میں باہم جھگڑیں گے پھر کمزور سرکشوں سے کہیں گے کہ ہم تمہارے پیرو تھے، پھر کیا تم ہم سے کچھ بھی آگ دور کرسکتے ہو۔

قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا كُلٌّ فِیْهَاۤ١ۙ اِنَّ اللّٰهَ قَدْ حَكَمَ بَیْنَ الْعِبَادِ Open ayah 40:48 in the Quran reader

سرکش کہیں گے ہم تم سبھی اس میں پڑے ہوئے ہیں، البتہ اللہ اپنے بندوں میں فیصلہ کرچکا

وَ قَالَ الَّذِیْنَ فِی النَّارِ لِخَزَنَةِ جَهَنَّمَ ادْعُوْا رَبَّكُمْ یُخَفِّفْ عَنَّا یَوْمًا مِّنَ الْعَذَابِ Open ayah 40:49 in the Quran reader

اور دوزخی جہنم کے داروغوں سے کہیں گے کہ تم اپنے رب سے عرض کرو کہ وہ ہم سے کسی روز تو عذاب ہلکا کردیا کرے،

قَالُوْۤا اَوَ لَمْ تَكُ تَاْتِیْكُمْ رُسُلُكُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ؕ قَالُوْا بَلٰى١ؕ قَالُوْا فَادْعُوْا١ۚ وَ مَا دُعٰٓؤُا الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ۠ Open ayah 40:50 in the Quran reader

وہ کہیں گے کیا تمہارے پاس تمہارے رسول نشانیاں لے کر نہ آئے تھے وہ کہیں گے ہاں (لاتے رہے) فرشتے کہیں گے تو پڑے پکارا کرو اور کافروں کا پکارنا محض رائیگاں ہوگا۔

تفسیر : اس کے بعد خدا تعالیٰ اس مومن کے ایمان کا نتیجہ بیان کرتا ہے جو دنیا میں بھی اس کے سامنے آیا اور فرعونیوں کا انجام کار بیان فرماتا ہے۔ فقال فوقہ اللہ کہ اللہ نے اس مومن کو فرعونیوں کے فریب و ایذاء سے جو اس کو مومن سمجھ کردینا چاہتے تھے بچالیا اور خود فرعونیوں پر بڑا عذاب آپڑا کہ وہ اول تو طرح طرح کی مصیبتوں میں جو موسیٰ ( علیہ السلام) کی بددعا سے ان پر آئیں، مبتلا ہوئے، پھر بحر قلزم میں غرق ہوئے اور مرنے کے بعد ان کا یہ حال ہوا۔ النار یعرضون الخ کہ صبح و شام آتش جہنم کے سامنے کئے جاتے ہیں۔ صبح و شام سے مراد خاص یہی دو وقت نہیں بلکہ دوام مراد ہے۔ اس کو محاورہ میں صبح و شام سے تعبیر کیا کرتے ہیں اور آگ کے سامنے لائے جانے سے مراد اس کا دکھایا جانا ہے، یا کمتر عذاب ہونا بہ نسبت آخرت کے بعض کہتے ہیں۔ آگ میں داخل ہونا مراد ہے بولتے ہیں۔ عرضہم علی السیف اذا قتلہم، بخاری و مسلم وغیرہ نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا ہے کہ ہر میت کو صبح و شام اس کا اصلی ٹھکانا دکھایا جاتا ہے۔ اگر جہنمی ہے تو جہنم اور جنتی ہے تو جنت اور کہہ دیا جاتا ہے قیامت کے روز تیرا یہ ٹھکانا ہوگا۔ یہ عالم برزخ کی سزاء و جزا ہے جو ارواح کو ہوتی ہے اور یہ سزا بہ نسبت اصلی سزا کے جو قیامت کے روز ہوگی، کم ہوتی ہے۔ جیسا کہ قید سے پہلے حوالات ہوتی ہے۔ یہ آیت صاف دلیل ہے کہ مرنے کے بعد عذاب قبر ہوگا اور ثواب بھی جیسا کہ اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے۔ برخلاف معتزلہ کے وہ حشر کے روز جزاء و سزا ہونا کہتے ہیں اور اس درمیانی زمانہ کو خالی قرار دیتے ہیں۔ بدلیل قولہ تعالیٰ من بعثنا مرقدنا اس کو خواب کا زمانہ کہتے ہیں۔ مرقدناکے معنی ہم سورة یٰسٓ کی تفسیر میں بیان کر آئے ہیں، علاوہ اس آیت کے اہل سنت کے عقیدہ کے اثبات کے لیے بیشمار صحیح حدیثیں بھی وارد ہیں اور عذاب وثواب قبر پر جو نظر نہ آنے کا اعتراض ہے، اس کا جواب ہم دے چکے ہیں اور عالم آخرت میں یہ ہوگا۔ ویوم تقوم الساعۃ الخ اور جس دن قیامت برپا ہوگی حکم ہوگا کہ فرعونیوں کو پوری سزا اور سخت عذاب میں لے جائو۔ واذ یتحا جون یہاں سے دوزخ میں ان کی باہم تکرار ہونا بیان فرماتا ہے کہ جو دنیا میں کمزور اور تابع تھے اپنے سرداروں سے کہیں گے ایک دن کے لیے تو ہمارے عذاب کو دفع کردو تمہاری فرمان برداری کرنا کیا کام آوے گی، وہ کہیں گے ہم خود اس میں مبتلا ہیں اور جہنم کے فرشتوں سے ناچار ہو کر تخفیف کی درخواست کریں گے، وہ کہیں گے کیا دنیا میں رسول تمہارے پاس نشانیاں لے کر نہ آئے تھے ؟ وہ کہیں گے آئے تھے فرشتے کہیں گے اب تم پڑے پکارا کرو تمہاری شنوائی نہیں۔ کافروں کی پکار نہیں سنی جاتی۔ اس سے یہ مراد نہیں کہ دنیا میں کافروں کی دعا نہیں سنی جاتی۔
Ayahs 40:51–56

اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ یَوْمَ یَقُوْمُ الْاَشْهَادُۙ Open ayah 40:51 in the Quran reader

ہم اپنے رسولوں اور ایمان داروں کے دنیا کی زندگی میں بھی مددگار ہیں اور اس روز بھی جبکہ گواہ کھڑے ہوں گے،

یَوْمَ لَا یَنْفَعُ الظّٰلِمِیْنَ مَعْذِرَتُهُمْ وَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ Open ayah 40:52 in the Quran reader

جس روز کہ ظالموں کو ان کا عذر کرنا کچھ بھی فائدہ نہ دے گا اور ان پر پھٹکار پڑے گی اور ان کے لیے برا گھر ہوگا

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْهُدٰى وَ اَوْرَثْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْكِتٰبَۙ Open ayah 40:53 in the Quran reader

اور البتہ ہم نے موسیٰ کو ہدایت نامہ (توریت) دیا تھا اور بنی اسرائیل کو اس کتاب کا وارث بنایا تھا،

هُدًى وَّ ذِكْرٰى لِاُولِی الْاَلْبَابِ Open ayah 40:54 in the Quran reader

جس میں عقلمندوں کے لیے ہدایت اور نصیحت تھی۔

فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ اسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ بِالْعَشِیِّ وَ الْاِبْكَارِ Open ayah 40:55 in the Quran reader

پس صبر کرو کیونکہ وعدہ اللہ کا سچا ہے اور اپنے گناہوں کی معافی مانگتے رہو اور اپنے رب کی خوبیوں کے ساتھ شام اور صبح تسبیح کرتے رہو۔

اِنَّ الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ بِغَیْرِ سُلْطٰنٍ اَتٰىهُمْ١ۙ اِنْ فِیْ صُدُوْرِهِمْ اِلَّا كِبْرٌ مَّا هُمْ بِبَالِغِیْهِ١ۚ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ Open ayah 40:56 in the Quran reader

وہ جو اللہ کی آیتوں میں بغیر اس کے کہ ان کے پاس کوئی دلیل آئی ہو جھگڑتے ہیں اور کچھ نہیں بس ان کے دل میں غرور ہے 1 ؎ کہ برائی کی ہوس ہے جس کو وہ نہ پہنچیں گے، سو اللہ سے پناہ مانگو کیونکہ وہ سنتا دیکھتا ہے۔

ترکیب : والذین فی محل نصب عطفا علی رسلنا ای لتنصر رسلنا و ننصر الذین آمنوا معھم، فی الحیوۃ الجار متعلق بننصر و یوم معطوف علی فی الحیوۃ ای ننصرھم فے الدنیا و فی الاخرۃ، یوم بدل من یوم یقوم الاشہاد ولھم اللعنۃ الجملۃ الاسمیۃ معطوف علی لاینفع ھدی حال من الکتاب قال الزجاج الاشھاد جمع شاھد کصاحب و اصحاب و قال النحاس لایحییٰ جمع فاعل علی افعال بلھی جمع شہید کشریف و اشراف۔ تفسیر : فرعونیوں کی بربادی اور بنی اسرائیل اور موسیٰ ( علیہ السلام) کی سلامتی کا ذکر کرکے یہ بات بتلاتا ہے کہ کچھ موسیٰ ( علیہ السلام) اور اس کی قوم ہی پر سلامتی اور امداد غیبی موقوف نہیں، ہم اپنے سب رسولوں اور ان کے ماننے والوں کو دنیا میں اور آخرت میں (کہ جس دن گواہ کھڑے ہوں گے یعنی عدالت کا تخت بچھے گا اور جس دن کہ ظالموں کی معذرت کچھ نفع نہ دے گی اور ان پر لعنت یعنی خدا کی ناراضگی اور برا گھر یعنی جہنم ہوگا) فتح دیں گے کامیاب کریں گے۔ دنیا میں بھی فتح غلبہ پانے اور لوگوں میں ہمیشہ کے لیے بول بالا رہنے اور نیکی سے یاد کئے جانے اور ان کے دل میں سرور اور فرحت و نور عطا ہونے اور بلائوں سے نجات پانے اور مخالفوں کے دل میں رعب و وقار پیدا کرنے سے ہوتی ہے اور آخرت میں مغفرت اور جنت اور دوسروں کی سفارش کرنے کا اختیار دینے سے ہوگی۔ اس میں نبی ﷺ کو مژدہ دیا جاتا ہے اور کفار قریش کے کان کھولے جاتے ہیں، خبردار رہو تمہارا زور و شوکت ‘ حشمت و دولت فرعونیوں کی حشمت و دولت سے بہت کم ہے، دیکھو ان کا انجام کیا ہوا۔ ولقد آتینا موسیٰ الکتاب نصرت اور مدد انبیاء کی ایک خاص بات بیان فرماتا ہے کہ فرعونیوں کو ہلاک کرکے ہم نے موسیٰ کو ہدایت یعنی ہدایت کرنے والی کتاب تورات دی جو اس کے دین کے استحکام کی ایک رکن اعظم تھی اور ان کے بعد بنی اسرائیل کو اس کتاب کا وارث کیا جو عقلمندوں کے لیے ہدایت و نصیحت ہے۔ اس تذکرہ کے بعد جو آنحضرت ﷺ کی تسلی کے لیے ان کو سنایا گیا۔ رسول کریم ﷺ کو ان کی چند روزہ تکالیف پر برداشت کرنے کا حکم دیتا ہے۔ فاصبر ان وعد اللہ حق کہ صبر کرو اللہ کا وعدہ برحق ہے۔ عنقریب تجھ کو اور تیرے رب کے ماننے والوں کو غلبہ ہوتا ہے اور صبر کرکے بیکار نہ بیٹھو نہ اپنی زبان کو ان کے برا بھلا کہنے میں مستعمل کرو بلکہ واستغفر لذنبک خود اپنے خدا تعالیٰ کے روبرو اپنی خطائوں سے معافی مانگو، کیونکہ اگر بشریت سے ان کی ایذائوں کے مقابلہ میں کوئی بات خلاف اولیٰ سرزد ہوگئی ہو تو خدا تعالیٰ سے اس کی معافی مانگو تاکہ اب بالکل بےالزام رہیں۔ بندہ گو کیسا ہی نیکو کار و ابرار ہو اور معصوم بھی ہو مگر مقتضائے عبدیت یہی ہے کہ اپنی نیکی پر گھمنڈ نہ کرے، دوسری بات یہ ہے کہ انبیائِ اولو العزم ہرچند صغائر و کبائر سے پاک تھے، مگر بشر تھے محبت کے طریقے میں ذرا ذرا سی بات جو خلاف اولیٰ ہو ان کے نفوس قدسیہ کے لیے ایک بڑا گناہ سمجھا جاتا تھا، اس لیے استغفار کا حکم ہوا اور بےگناہی پر بھی استغفار کرنا رفع درجات کا باعث ہے اور صرف استغفار ہی نہیں بلکہ و سبح بحمد ربک صبح و شام اپنے رب کی مدح وثناء تسبیح و حمد کیا کرو تاکہ فضلِ الٰہی جلد فتح یاب کرے۔ ان الذین یہاں سے یہ بات بتلاتا ہے کہ وہ جو اللہ کی آیتوں میں بغیر سند کے جاہلانہ حجت کیا کرتے ہیں، یہ صرف ان کے دلی غرور کا باعث ہے جو وہ آپ سردار بننے کی خواہش رکھتے ہیں۔ ماھم ببالغیہ یہ ان کو حاصل نہ ہوگا۔ پس اب ان کے مکائد و غرور سے اللہ کی پناہ چاہو وہ سمیع بصیر ہے۔
Ayahs 40:57–60

لَخَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 40:57 in the Quran reader

البتہ آسمانوں اور زمین کا بنانا آدمیوں کے بنانے سے بڑھ کر ہے، لیکن اکثر لوگ جانتے ہی نہیں

وَ مَا یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُ١ۙ۬ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ لَا الْمُسِیْٓءُ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 40:58 in the Quran reader

اور اندھا اور آنکھوں والا برابر نہیں اور نہ ایمان والے اچھے کام کرنے والے بدکاروں کے برابر ہیں۔ تم بہت ہی کم سمجھتے ہو۔

اِنَّ السَّاعَةَ لَاٰتِیَةٌ لَّا رَیْبَ فِیْهَا وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 40:59 in the Quran reader

بیشک قیامت تو ضرور آنے والی ہے، اس میں کچھ شبہ نہیں لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے

وَ قَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِیْۤ اَسْتَجِبْ لَكُمْ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِیْ سَیَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِیْنَ۠ Open ayah 40:60 in the Quran reader

اور تمہارے رب نے فرمادیا ہے کہ مجھ کو پکارا کرو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا، البتہ وہ جو ہماری عبادت سے سرکشی کرتے ہیں وہ ذلیل ہو کر جہنم میں ڈالے جائیں گے۔

تفسیر : ترغیب و ترہیب کے بعد پھر دلائلِ توحید و اثبات حشر کی طرف رجوع کرتا ہے۔ فقال لخلق السمٰوٰتالخ کہ یہ منکرین حشر اس بات سے کیا تعجب کرتے ہیں کہ قیامت کے روز خدا تعالیٰ بندوں کو باردگر پیدا کرے گا اور اس بات کو کیا محال جانتے ہیں ؟ کس لیے کہ اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے جو انسانوں کے پیدا کرنے سے بڑا کام ہے۔ آسمانوں کی وسعت اور ان میں ایسے ایسے بڑے اجرام نورانی یعنی آفتاب و مہتاب اور ستارے کہ جو زمین سے ہزاروں حصہ بڑے ہیں، عاقل کے لیے اس کی قدرت کاملہ پر دلیل میں ہیں۔ فیثا غورث حکیم اور اس کے مبتعین جو آسمانوں کا وجود ہمارے خیال کے موافق تسلیم نہیں کرتے اور آسمان فضاء کو کہتے ہیں۔ ان کے نزدیک اور زیادہ اس کی قدرت کاملہ کا ثبوت ہے۔ وہ کہتے ہیں زمین بھی ایک چھوٹا سا تارا ہے جس میں یہ کچھ کائنات ہے اور دیگر ستاروں کی طرح آفتاب کے گرد لاکھوں کوس کے فاصلہ سے گھومتی ہے، اسی طرح زہرہ دمشتری وغیرہ ستارے اس سے بھی بڑے ہیں اور وہ بھی دورہ کرتے ہیں اور آفتاب بھی ایک بڑا جرم ہے، وہ بھی دورہ کرتا ہے جو ہم کو نہایت چھوٹے چھوٹے تارے رات کو دکھائی دیتے ہیں۔ وہ بعد کی وجہ سے چھوٹے دکھائی دیتے ہیں، ورنہ وہ زمین سے لاکھوں حصے بڑے ہیں، پھر حکمائِ حال نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ ان میں بھی انسان کی طرح سے حیوانات بستے ہیں اور وہاں روشنی آفتاب یا کسی اور ستارے سے پہنچتی ہے۔ آفتاب کے رہنے والوں کو کسی اور نیر سے آفتاب و ماہتاب کی طرح سے روشنی پہنچتی ہے، ان میں رہنے والوں کو زمین بھی ایک چھوٹا سا تارا معلوم ہوتا ہے اور ان لاکھوں کروڑوں ستاروں میں کہ جن میں سے ایک زمین بھی ہے۔ بعض آفتاب سے منور ہیں، بعض کسی اور سے پھر ان کی نورانیت اور ظلمت بھی مختلف ہے، پھر اس کی قدرت کو دیکھو کہ یہ سب ایک فضائِ غیر محدود میں کس انداز سے دورہ کررہے ہیں۔ آپس میں ٹکرا ٹکرا نہیں جاتے نہ ان کے انتظام میں فرق آتا ہے۔ پس ایسے حکیم و قدیر کے نزدیک آدمی کا باردگر پیدا کرنا کیا مشکل ہے ؟ مگر اس بات کو آنکھوں والے یعنی علم و عقل والے جانتے ہیں نہ اندھے۔ اس لیے فرماتا ہے وما یستوی الاعمیالخ اندھا اور آنکھوں والا یعنی جاہل و عالم برابر نہیں اور نہ مومن نیک کام کرنے والا اور بدکار برابر ہوسکتے ہیں، لیکن اے لوگو ! تم کم سمجھتے ہو، اس کے بعد پھر قیامت کے برپا ہونے کی خبر دیتا ہے۔ ان الساعۃ لاتیۃ الخ کہ قیامت ضرور آوے گی اس میں کچھ بھی شبہ نہیں یعنی یقینا آوے گی لیکن اکثر لوگ مانتے نہیں۔ 1 ؎ قیامت دار آخرت میں جانے اور سرور ابدی پانے کا وسیلہ ہے، اس لیے جو باتیں اس عالم میں نافع ہیں، ان کی تعلیم دیتا ہے۔ فقال و قال ربکم الخ تمہارا رب فرماتا ہے مجھے پکارو میری عبادت کرو میں تم سے غائب نہیں ہوں، میں تمہارا کہنا اور پکارنا سنتا ہوں۔ عبادت قبول کرتا ہوں جو میری عبادت سے تکبر کرتے ہیں وہ ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے۔ ا ؎ بعض نے اسی بات سے یہ خیال پیدا کیا ہے کہ ان اجرام میں سے جنت بھی ایک ایسا ہی جرم سماوی ہے جو بعد کی وجہ سے نظر نہیں آتا۔ وہاں آرام و آسائش دائمی ہے، کیونکہ سب اجرام کے مادے یکساں نہیں، وہ سب میں زیادہ عافیت اور خلو دوسرور کی جگہ ہے۔ ارواح بشر یہ جو نیک ہیں مرنے کے بعد یا قیامت برپا ہونے کے بعد وہاں بھیجی جاتی ہیں اور اس میں آرام سے رہتی ہیں اور جہنم ان میں سے ایک بدتر جرم ہے۔ جو ظلمانی ہے اور زمین سے نیچے ہے وہاں بیشمار تکلیفیں ہیں، مشرکین و کفار و گناہ گاروں کی روحیں وہاں جاکر عذاب میں رہتی ہیں اور جہنم اسی کرئہ ارضی میں رہ جاتا ہے۔ وفیہ مافیہ 12 منہ
Ayahs 40:61–65

اَللّٰهُ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ النَّهَارَ مُبْصِرًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 40:61 in the Quran reader

اللہ وہ ہے کہ جس نے تمہارے آرام کے لیے رات بنائی اور دیکھنے کو دن بنایا 1 ؎۔ بیشک اللہ لوگوں پر فضل کرتا ہے، لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔

ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ١ۘ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ٘ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ Open ayah 40:62 in the Quran reader

وہ ہے اللہ تمہارا رب ہے جو ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، پھر کہاں بہکے چلے جاتے ہو،

كَذٰلِكَ یُؤْفَكُ الَّذِیْنَ كَانُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ یَجْحَدُوْنَ Open ayah 40:63 in the Quran reader

اس طرح وہ لوگ بھی بہک گئے تھے جو اللہ کی آیتوں کا انکار کیا کرتے تھے۔

اَللّٰهُ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ قَرَارًا وَّ السَّمَآءَ بِنَآءً وَّ صَوَّرَكُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَكُمْ وَ رَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ١ۖۚ فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 40:64 in the Quran reader

اللہ وہ ہے کہ جس نے تمہارے ٹھہرنے کو زمین بنائی اور آسمان کو چھت بنایا اور تمہاری صورتیں بنائیں، پھر تمہاری اچھی صورتیں بنائیں اور پاکیزہ چیزوں سے تم کو روزی دی وہ اللہ تمام جہان کا پالنے والا بڑا بابرکت ہے،

هُوَ الْحَیُّ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ فَادْعُوْهُ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ؕ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 40:65 in the Quran reader

وہ ہی ہے زندہ اس کے سوا کوئی بھی معبود نہیں، پھر اسی کو پکارو خاص اسی کی بندگی کرتے ہوئے سب خوبیاں اللہ کو ہیں جو تمام جہان کا پرورش کرنے والا ہے۔

تفسیر : جبکہ یہ ارشاد فرمایا کہ اللہ کو پکارا کرو کہ وہ تمہارا کہنا سنتا ہے، تمہاری مرادیں دیتا ہے تو مناسب ہوا کہ ان مشرکین کو کہ جن کے مقابلہ میں کلام ہورہا ہے اور جو اوہام باطلہ کی پرستش صرف دنیاوی کامیابیوں کے لیے کرتے تھے، دو باتیں بتلائی جائیں۔ اول یہ کہ اللہ تعالیٰ موجودو قادر مطلق بھی ہے کہ نہیں کس لیے کہ اوہام عامہ اس کے محسوس نہ ہونے سے پیشتر تردد میں پڑجاتے ہیں اور اس لیے اپنے تراشیدہ معبودوں کو جو ان کے سامنے موجود دکھائی دیتے ہیں، پوجتے ہیں پس اللہ الذی الخ ان آیات میں دلائل وبراہین سے خدا تعالیٰ کا وجود اور متصف بصفات معبودیت ہونا ثابت کیا گیا اور خدا تعالیٰ کے آثار و علامات سے جو کسی کی طرف منسوب نہیں ہوسکتے، اس کا موجود ہونا بتایا گیا ہے کیونکہ پاؤں کے نشانوں سے چلنے والا اور کسی کار سے اس کا کا ریگر یقینا ثابت ہوجاتا ہے۔ دوسری بات یہ ثابت کرنی تھی کہ آیا وہ دیتا اور فیض بخشی بھی کرتا ہے ؟ سو اس کا بھی انہیں آیات میں ثبوت کیا گیا۔ اس لیے ان دونوں باتوں کے لیے چند دلائل بیان فرمائے۔ اول اللہ الذی الخ کہ اللہ وہ ہے کہ جس نے تمہارے آرام و سکون کے لیے رات بنائی اور دیکھنے کے لیے دن بنایا، اگر زمین و آفتاب ایک ہی حالت پر رہتے تو یا ہمیشہ رات رہتی یا دن۔ یہ دونوں باتیں انسان کی معاش میں خلل انداز تھیں بلکہ اس کی زندگی بھی مشکل ہوجاتی، یہ اس کی بڑی نعمت اور عنایت ہے۔ اس سے ثابت ہوا ان اللہ لذو فضل علی الناس کہ اللہ لوگوں پر بڑی عنایت اور مہربانی کرتا ہے۔ ولکن اکثر الناس لا یشکرون لیکن اکثر آدمی شکر نہیں کرتے یا تو اس لیے کہ اس نعمت کو ایک معمولی بات سمجھتے ہیں یا وہ اللہ تعالیٰ کے منکر ہیں یا اس کو کسی اور کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ اس نعمت کو یاد دلاکر فرماتا ہے۔ ذلکم اللہ ربکم یہ اللہ ہے، تمہارا رب خالق کل شیء ہر چیز کا پیدا کرنے والا نہ اور کوئی۔ ذلک اشارہ کا لفظ لاکر اور اس سے پہلے اپنی روزمرہ کی نشانی دکھاکر گویا آنکھ سے خدا تعالیٰ کو دکھادیا کہ اے اندھو ! آنکھیں کھولو اور دیکھو یہ اللہ ہے اور وہ ایسا بخشنے والا ہے۔ فانی تو فکون پھر کہاں بہکے چلے جاتے ہو اوروں کو پکارتے ہو۔ ان کی عبادت کرتے ہو، ان کو نافع اور ضار سمجھتے ہو اور یہ بہکنا کچھ انہی پر منحصر نہیں بلکہ کذلک یؤفک ان سے پہلے بھی لوگ بہکے ہوئے تھے وہ جو اللہ کی ایسی نشانیوں کا انکار کرتے تھے، یعنی یہ بھی اللہ کی نشانیوں کو دیکھتے ہیں اور انکار کرتے ہیں۔ دوم اللہ الذی جعل لکم الارض قرارا و السماء بناء اللہ وہ ہے جس نے زمین کو تمہارے قرار گاہ بنایا کہ اس پر بستے ہو چلتے پھرتے ہو اور آسمان کو چھت بنادیا کہ تم کو گھیرے ہوئے ہے، صدہا نعمتیں چھت پر سے بےمشقت تمہارے گھر میں آرہی ہیں۔ سوم وصورکم فاحسن صورکم تمہاری صورت اس نے بنائی پھر کیا خوب بنائی اس خوبی کو دیکھو تو معلوم ہو کہ کیسی نعمت تم کو عطاء ہوئی ہے۔ تشریح ابدان کے جاننے والے اس کو جانتے ہیں۔ چہارم ورزقکم من الطیبات یہی نہیں کہ تم کو عمدہ بناکر بھوکا مارا بلکہ عمدہ سے عمدہ روزی دی نفیس چیزیں کھلائیں۔ ذلکم اللہ ربکم یہ ہے اللہ تمہارا رب فتبارک اللہ رب العالمین پھر کیا بابرکت رب ہے جو تمام عالم کا رب ہے۔ ھو الحی الخ وہ زندہ معبود ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں جب یہ ثابت ہوا تو فادعو اسی کو پکارو اسی کی عبادت کرو، مگر کس طرح سے مخلصین لہ الدین اسی کے ہو کر مدعا ثابت کرکے کلام ختم کرتا ہے۔ الحمدللہ رب العالمین کہ ہر قسم کی ستائش کا وہی منعم حقیقی ہے نہ کوئی اور۔ 1 ؎ کہ اس کی روشنی میں ایک دوسرے کو دیکھتا ہے۔
Ayahs 40:66–68

قُلْ اِنِّیْ نُهِیْتُ اَنْ اَعْبُدَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَمَّا جَآءَنِیَ الْبَیِّنٰتُ مِنْ رَّبِّیْ١٘ وَ اُمِرْتُ اَنْ اُسْلِمَ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 40:66 in the Quran reader

کہہ دو مجھ کو تو ان چیزوں کی عبادت سے منع کردیا گیا ہے، جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو، جبکہ میرے رب کی طرف سے میرے پاس کھلی کھلی نشانیاں آچکی تھیں اور مجھے تو یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں رب العالمین کے آگے سر جھکائوں،

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ یُخْرِجُكُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوْۤا اَشُدَّكُمْ ثُمَّ لِتَكُوْنُوْا شُیُوْخًا١ۚ وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّتَوَفّٰى مِنْ قَبْلُ وَ لِتَبْلُغُوْۤا اَجَلًا مُّسَمًّى وَّ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 40:67 in the Quran reader

وہی کہ جس نے تم کو مٹی سے بنایا، پھر نطفہ سے پھر خون کی پھٹکی سے، پھر تم کو بچہ بناکے نکالتا ہے۔ پھر باقی رکھتا ہے تاکہ تم اپنی جوانی کو پہنچو، پھر یہاں تک (باقی رکھتا ہے) کہ تم بوڑھے ہوجاتے ہو کچھ تم میں اس سے پہلے مرجاتے ہیں (تم کو اور زندہ رکھتا ہے) تاکہ تم وقت مقررہ تک پہنچو اور تاکہ تم سمجھو

هُوَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ۚ فَاِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ۠ Open ayah 40:68 in the Quran reader

وہی زندہ کرتا اور مارتا بھی ہے، پھر جب وہ کسی کام کا حکم کرتا ہے تو صرف کن کہتا ہے۔ سو وہ ہوجاتا ہے۔

ترکیب : لما ظرف لا عبد طفلا حال من ضمیر فی یخرجکم ای المنصوب المتصل اعنی کم۔ والتوحید لارادۃ الجنس اوعلی تاویل کل واحدہ المراد اطفالا لتبغلوا اللام متعلقہ بمحذوف ای ثم یبقیکم لبتلغواو کذا فی قولہ ثم لتکونوا شیوخًا جمع الشیخ والشیوخ بضم الشین و بکسرہا ولتبغلوا ذلک لتبلغوا اجلاً مسمی۔ تفسیر : دلائلِ توحید بیان فرما کر شرک کی برائی مؤکد کرنے کے لیے آنحضرت ﷺ کو فرماتا ہے۔ قل انی نہیت کہ ان سے کہہ دو مجھ کو خدا تعالیٰ کی وحدانیت پر یقین کامل ہوگیا ہے اور شرک کی قباحت منکشف ہوگئی ہے۔ میں ان معبودوں کی عبادت کرنے سے منع کیا گیا ہوں کہ جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو، کیونکہ میرے پاس میرے رب کی طرف سے بینات یعنی دلائلِ یقینیہ آچکے ہیں اور مجھ کو رب العالمین کے آگے سر جھکانے کا حکم ہوا ہے۔ ھو الذی الخ سے رب العالمین کی توضیح کی جاتی ہے کہ اس کی ربوبیت کی ایک یہ شان ہے کہ اس نے تم کو بذریعہ تمہارے باپ آدم کے خاک سے بنایا، کیونکہ انسان کا غالب مادہ خاک ہے، پھر اس کے بعد تمہارے توالد و تناسل کا سلسلہ اس طور پر قائم کیا کہ تم کو منی کے قطرہ سے پیدا کرتا ہے۔ پھر وہ قطرئہ منی علقہ ہوجاتی ہے، پھر اس میں ہاتھ پائوں اعضاء نمودار ہو کر جان پڑجاتی ہے، پھر تم کو تمہاری مائوں کے پیٹوں میں سے بچہ بناکر باہر نکالتا ہے۔ پھر تم کو باقی رہنے دیتا ہے، تمہاری پرورش کرتا ہے تاکہ تم جوان ہوجاؤ پھر اس عمر طبعی میں اور ماں کے پیٹ میں دیکھو اس نے کیا کیا احسان تمہارے ساتھ کئے ہیں۔ حواس خمسہ ‘ صحت و عافیت ‘ رزق و دیگر سامان دیے۔ ومنکم من یتوفیٰ اور بعض تم میں سے اس حد سے پہلے مرجاتے ہیں اور ان کو ان کی اجل مقرر تک باقی رکھتا ہے تاکہ تم سمجھو کہ کون معبود برحق ہے، کون رب ہے ؟ ھو الذی یحییٰ ویمیت انسان جو کسی کی اطاعت و عبادت کرتا ہے یا تو احسانات سابقہ اور موجودہ کے لحاظ سے سو یہ بھی استحقاق خالص اللہ ہی کا ہے۔ اس بات کو ھو الذی خلقکم الخ میں بیان فرمادیا، اس لیے کہ اس سے جان کا خوف اور جان باقی رہنے کی امید ہوتی ہے۔ سو یہ بات بھی اسی کے لیے ہے، وہی مارتا ہے۔ وہی زندہ رکھتا ہے، اس میں اس کے سواء کسی کو دخل نہیں یا کسی کاربراری کی امید ہے کہ وہ انسان کی اڑی حاجت کو روا کردیتا ہے۔ سو یہ بھی اسی کا کام ہے، اس بات کو اس جملہ میں بیان فرماتا ہے۔ فاذا قضٰی امرالخ کہ جب وہ کسی کام کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے ہونے میں کوئی بھی دیر نہیں لگتی، اس کے کہنے سے فوراً ہوجاتا ہے، جس کو فوراً کرنا چاہتا ہے اور جس کو بتدریج کرنا چاہتا ہے، اس کو بتدریج کرتا ہے، مگر اس کو بھی اگر فوراً کرنا چاہے تو فوراً ہوسکتا ہے، یعنی وہ ایسا قادر مطلق ہے، پھر جب یہ ساری باتیں اسی کو حاصل ہیں تو پھر اور کسی کے پکارنے اور پوجنے کی کیا حاجت اور کون ضرورت پھر ایسے محسن و قادر مطلق کے سوا اور کو پکارنا اگر نمک حرامی نہیں تو اور کیا ہے ؟ اس لیے اس نمک حرامی کی ممانعت کردی گئی۔