36. Surah Yaseen
يسYaseen · 83 ayahsتفسیرِ حقانی
اَوَ لَیْسَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنْ یَّخْلُقَ مِثْلَهُمْ١ؐؕ بَلٰى١ۗ وَ هُوَ الْخَلّٰقُ الْعَلِیْمُ Open ayah 36:81 in the Quran reader
کیا وہ کہ جس نے آسمانوں اور زمین کو بنایا، اس پر قادر نہیں کہ ان جیسے اور بنائے کیوں نہیں، وہ بہت کچھ بنانے والا ‘ ماہر ہے۔
اولیس الذی خلق السمٰوٰت والارض بقادر علی ان یخلق مثلہم کہ کیا وہ شخص کہ جس نے آسمانوں اور زمین کو بنایا اس بات پر قادر نہیں کہ ان کو بارو گر پیدا کرے ؟ بیشک پیدا کرسکتا ہے۔ متلھم ای مثل ھؤلاء الاناسی الذین ماتوا اوالمراد ھم علی سبیل الکنایۃ نحو مثلک لاینجل والمراد انت آپ ہی اس استفہام کا جواب دیتا ہے۔ بلی وھو الخلاق العلیم کیوں نہیں وہ خلاق ہر چیز پیدا کرسکتا ہے اور علیم بھی ہے، ہر قسم کے علوم اس کے آگے حاضر ہیں۔ قدرت بھی ثابت کی گئی علم بھی۔
اب کلام میں کوئی جگہ مخالف کے لیے باقی نہیں۔ کس لیے کہ جو شخص خدا تعالیٰ کے وجود کو مانتا ہے اور اس کو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا بھی جانتا ہے تو اس بات کا ماننا اس کو ضرور ہے کہ وہ بار دگر بھی پیدا کرسکتا ہے، کیونکہ باردگر پیدا کرنا اول بار کے پیدا کرنے سے عقلاً کوئی زیادہ بات نہیں اور مشرکین کہ جن کے مقابلہ میں یہ کلام ہورہا ہے۔ خدا کے بھی قائل تھے اور اس کو خالق آسمان و زمین بھی جانتے تھے۔ حشر کے منکر تھے۔ یہود میں بھی ایک فرقہ منکر حشر کا تھا۔ اس کے بعد ایک اور دلیل بیان فرماتا ہے۔
اِنَّمَاۤ اَمْرُهٗۤ اِذَاۤ اَرَادَ شَیْئًا اَنْ یَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ Open ayah 36:82 in the Quran reader
اس کی تو یہ شان ہے کہ جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اتنا ہی فرما دیتا ہے کہ ہو۔ سو وہ ہوجاتی ہے،
انما امرہ اذا اراد شیئا ان یقول لہ کن فیکون اس میں ان کی تمثیل کا بھی بطلان ہے کہ وہ کہتے تھے کوئی بھی حشر پر قادر نہیں، غائب کا حاضر پر قیاس کرتے تھے، فرماتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو مخلوق پر قیاس نہ کرو کس لیے کہ مخلوق میں سے جو کوئی کسی چیز کو بنانا چاہتا ہے تو وہ چند باتوں کا محتاج ہوتا ہے۔ (اول) اپنی قوت و طاقت کا ہونا۔ (دوم) آلات بدنیہ۔ (سوم) دیگر آلات۔ (چہارم) اس چیز کا مادہ موجود ہونا۔ (پنجم) زمانہ کا درمیان آنا۔ (ششم) مواقع کا دور ہونا، مثلاً کوئی معمار کسی مکان بنانے کا ارادہ کرے تو اس میں قوت و طاقت فن معماری کا علم ہونا چاہیے، پھر اس کے ہاتھ پائوں، اعضائِ بدنیہ بھی درست ہونے چاہییں، پھر اس کے اوزار ‘ آلات بھی ضرور ہیں، پھر اس مکان کا مادہ اینٹ پتھر لکڑی گارا چونا، لوہا وغیرہ بھی کہ جن سے وہ مکان بنے گا۔ پھر یہ بھی ضرور ہے کہ وہ مکان دفعۃً نہیں بنے گا، زمانہ میں تیار ہوگا۔ ایک ساعت سے لے کر دس برس بیس برس کا کسی قدر ہو زمانہ ضرور ہوگا، ان سب کے بعد یہ بھی کہ کوئی مانع پیش نہ آوے، اگر کسی زبردست نے بننے سے روک دیا تو رک جاوے گا یا بارش آندھی کوئی بات پیش آجاوے، تب بھی رک جاوے گا۔ برخلاف خدا تعالیٰ کے کہ وہ ان چیزوں میں سے کسی کا بھی محتاج نہیں۔ ہمہ وقت اس کے لیے سب سامان مہیا ہیں، پھر اس کو مخلوق پر قیاس کرنا کیسی بےعقلی ہے۔ اس بات کو خدا تعالیٰ اس آیت میں بیان کرتا ہے کہ وہ جب کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو صرف یہی بات ہوتی ہے کہ اس کو کہتا ہے کن یعنی ہوجا سو وہ فوراً موجود ہوجاتی ہے۔ امر سے مراد امر تکوینی ہے اور قول اور کن سے بھی قول اور کن تکوینی مراد ہے تو یہ کہ اس معدوم چیز سے خطاب کیا جاتا ہے کہ تو ہوجا کس لیے کہ وہ تو اس وقت معدوم ہوتی ہے۔ قابل خطاب ہی نہیں ہوتی اور جو موجود ہو تو پھر موجود کو موجود کرنے کے کیا معنی ؟ بلکہ مراد یہ ہے کہ اس کے علم میں ہر شے ہے، خواہ وہ خارج میں موجود ہو یا معدوم اور یہ علم اس کا علم ازلی ہے، جب سے وہ ہے اسی کے ساتھ اس کی ذات بابرکات میں تمام چیزوں کا علم ان چیزوں کے پیدا کرنے سے پیشتر ہی رکھا ہوا ہے، پھر جب وہ کسی چیز کے پیدا کرنے کا قصد کرتا ہے تو اس موجود علمی سے یہ فرما دیتا ہے، یعنی ارادہ کرلیتا ہے کہ ہوجا، سو وہ فوراً موجود ہوجاتی ہے۔ ذرا بھی دیر نہیں لگتی۔
فَسُبْحٰنَ الَّذِیْ بِیَدِهٖ مَلَكُوْتُ كُلِّ شَیْءٍ وَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ۠ Open ayah 36:83 in the Quran reader
پس پاک ہے وہ ذات کہ جس کے ہاتھ میں ہر چیز کا کامل اختیار ہے اور اسی کے پاس پھر تم لائے جاؤ گے۔
اس تقریر سے معتزلہ اور کر امیہ کا خیال بھی باطل ہوگیا کہ معدوم کو بھی شے کہتے ہیں اور یہ کہ اس کا ارادہ حادث ہے۔ اس آیت میں اس نے اپنی بےانتہا قدرت کا ثبوت کردیا اور راسخ الاعتقاد اور سلیم الطبع کو کامل یقین دلایا اور دعویٰ کو دلیل کر دکھایا۔
اس لیے اس کے بعد اس بحث کے نتیجہ کو کس عمدہ پیرائے اور اسلوب سے بیان فرماتا ہے کہ جو اصل الاصول مطالب کو گھیرے ہوئے ہے۔ فقال فسبحان الذی بیدہ ملکوت کل شیئٍ والیہ ترجعون اور اس تمام سورة میں اصل الاصول تین ہی باتیں ہیں، توحید، اقرار رسالت اعتقاد حشر رسالت کو تو کئی مقام پر اس سورة میں ثابت کردیا ہے۔ ایک بار اول ہی میں فرمایا۔ والقرآن الحکیم انک لمن المرسلین اور اس کو سب سے اول اس لیے ذکر کیا کہ جب تک انسان رسولوں پر ایمان نہیں لاوے گا، اس کے کہنے سے حشر اور اس کے صفات کا کب قائل ہوگا، کس لیے کہ یہ باتیں تجربہ اور حس سے باہر ہیں اور براہین عقلیہ میں باہم تعارض ہوجاتا ہے اور وہم خلل اندازی کرتا ہے۔ ان باتوں کا کامل یقین تو اس کے فرستادہ یعنی رسول کے کہنے سے ہوسکتا ہے اور ایک بار اخیر رکوع میں ثابت کیا۔ بقولہ وما علمناہ الشعر الخ اب رہیں دو باتیں توحید اور حشر پر ایمان لانا سو اٰیۃ لہم سے شروع کرکے چند دلائل سے اس کو ثابت کردیا اور حشر کے مسئلہ کو اخیر میں بڑے زور سے ان کا انکار نقل کرکے وَضَرَبَ لَنَا مثلاً و نسی خلقہ قال من یحی العظام وھی رمیم ثابت کیا اور اخیر میں اس لیے کہ حشر بھی دنیا کا اخیر ہی ہوتا ہے اور اس بات کے اثبات میں اپنی قدرت غیر متناہی کے جتلانے کے لیے دلائل بیان کرتا چلا آتا ہے۔ اس لیے ختم کلام کے موقع پر ان دونوں باتوں کو نتیجہ کے طور پر ثابت کرتا ہے۔ فسبحان الذی بیدہ ملکوت کل شیء میں توحید کو ثابت کیا۔ اول تو لفظ سبحان ہی اس کی تنزیہ و تقدیس پر دلالت کرتا ہے کہ وہ شریک وسہیم و مثل و نظیر اور عجز و حدوث والد و مولود سب نقصان کی چیزوں سے پاک ہے نہ اس کو جورو کی حاجت ‘ نہ بیٹے کی ضرورت ‘ نہ کسی جسم میں حلول کرنے کی احتیاج نہ کسی مددگار کی پروا۔ کس لیے کہ بیدہ ملکوت کل شیئٍ اس کے ہاتھ میں یعنی قبضہ میں ہر شے کے حکومت ہے۔ یہ جملہ تنزیہ کے لیے بھی دلیل ہے اور آیندہ دوسری بات حشر برپا کرنے کے لیے بھی دلیل ہے، کیونکہ جب اس کے قبضہ میں ہر چیز کی حکومت ہے تو مر کر باردگر زندہ کرنے پر بھی وہ قادر ہے، اس لیے اس کے بعد والیہ ترجعون فرمایا کہ اسی کے پاس پھر جاؤ گے، یعنی حشر برپا ہوگا، مر کر زندہ ہو کے خدا تعالیٰ کے سامنے کھڑا ہونا ہوگا۔
اور الیہ جار کو مقدم کیا جس میں اشارہ ہے کہ اس کے پاس پھرجانا ہے نہ کہ کسی اور کے پاس کہ جس کو تم اس کے ساتھ شریک کرتے اور اس کی خدائی کا حصہ دار یا کار مختار سمجھتے ہو، اس پر اور لطف بھی ہے کہ ترجعون مضارع کا صیغہ استعمال ہوا، اس میں اشارہ ہے کہ حشر قائم ہونے کے بعد تو خدا کے پاس جانا ہی ہے۔ جیسا کہ معنی استقبال مضارع میں پائے جاتے ہیں۔ حال میں بھی تم اسی کے پاس چلے جارہے ہو، یہ عمر تمہارا ایک سفر ہی ہے جس قدر برس گزرتے ہیں یا جس قدر دن گزرتے ہیں۔ گویا تمہارے سفر کی اسی قدر منزلیں طے ہوتی ہیں۔ آخر ایک روز یہ سفر تمام ہوگا۔ موت آوے گی، کیا بلکہ سامنے کھڑی ہے۔ پس تمہاری روح کو اس کے سامنے جانا ہوگا، اب ہر وقت تم اسی کے پاس سفر طے کرکے جارہے ہو اور اس پر لطف یہ کہ مضارع مجہول کا صیغہ آیا تاکہ یہ معلوم ہو کہ تم ازخود نہیں بلکہ کوئی اور تم کو لیے جارہا ہے اور سچ بھی ہے کہ ہم بےاختیار منازل عمر طے کررہے ہیں، اسی بات کو کئی ایک جگہ قرآن مجید میں ذکر کیا ہے۔ فقال یا ایہا الانسان انک کا دح الی ربک کدحا فملا قیہ امام احمد (رح) نے روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا ہے۔ یٰسٓ قرآن مجید کا دل ہے جو کوئی اس کو خالصتاً لوجہ اللہ پڑھے گا، اس کو خدا بخش دے گا۔ اس کو دل اسی لیے کہا کہ اس سورة میں اعتقادیات ہی ہیں جو دل میں رہا کرتے ہیں یا یوں کہو قرآن مجید کے امہات المطالب یہی تین باتیں ہیں اور ان کے مہتمم یا محافظ یا فروع ہیں اور یہی باتیں لب لباب ہیں اور اعلیٰ تر ہیں اور عمدہ اور اعلیٰ چیز کو انسان کے دل سے تشبیہ دی جایا کرتی ہے کہ وہ بھی بدن میں سب سے عمدہ اور اعلیٰ اور سردار ہوتا ہے۔