36. Surah Yaseen

يسYaseen · 83 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayah 36:41

وَ اٰیَةٌ لَّهُمْ اَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّیَّتَهُمْ فِی الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ Open ayah 36:41 in the Quran reader

اور ان کے لیے یہ بھی نشانی ہے کہ ہم نے ان کی نسل کو بھری کشتی میں سوار کیا

واٰیۃ لہم انا حملنا ذریتہم فی الفلک المشحون یہ تیسری دلیل ہے کہ پانی کی سطح پر جو سینکڑوں گز گہرا ہے، ہم تم کو کس طرح سے کشتی میں سوار کرکے پھراتے ہیں۔ ذریتہم کی ضمیر عباد کی طرف پھرتی ہے اور ذریت سے مراد بچے ہیں۔ یہ زیادہ تعجب کی بات ہے کہ کمزور بچے یوں پانی پر سفر کریں۔ واحدی کہتے ہیں ذریت کا اطلاق آباد پر بھی ہوتا ہے، تب یہ معنی ہوں گے کہ ان کے باپ دادا کو نوح ( علیہ السلام) کی کشتی میں سوار کیا اور اس کے بعد اور اسی طرح کی کشتیاں بنانی سکھائیں۔ حضرت علی ؓ فرماتے ہیں، بھری کشتیوں سے مراد حاملہ عورتوں کے پیٹ میں تشبیہ کے طور سے اور ان میں بنی آدم کی ذریت یعنی بچوں کو خدا سوار کرتا ہے اور تلف سے حفاظت کرتا ہے۔
Ayahs 36:42–44

وَ خَلَقْنَا لَهُمْ مِّنْ مِّثْلِهٖ مَا یَرْكَبُوْنَ Open ayah 36:42 in the Quran reader

اور ان کے لیے اسی طرح کی اور بھی چیزیں بنادی ہیں کہ جن پر وہ چڑھے پھرتے ہیں،

وَ اِنْ نَّشَاْ نُغْرِقْهُمْ فَلَا صَرِیْخَ لَهُمْ وَ لَا هُمْ یُنْقَذُوْنَۙ Open ayah 36:43 in the Quran reader

ہم چاہتے تو ان کو ڈبو دیتے پھر نہ ان کا کوئی فریاد رس ہوتا اور نہ وہ بچائے جاتے،

اِلَّا رَحْمَةً مِّنَّا وَ مَتَاعًا اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 36:44 in the Quran reader

مگر ہم نے اپنی مہربانی سے اور ایک وقت تک برتنے کے لیے بچایا۔

وخلقنا لہم من مثلہ ما یرکبون سے بعض کے نزدیک اونٹ وغیرہ دیگر بار کش چیزیں ہیں، جن کو خشکی کی کشتی کہنا چاہیے، جس میں چھکڑے اور ریل گاڑی بھی آگئی۔ یہ سب اس کی عنایت و رحمت ہے۔
Ayahs 36:45–46

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اتَّقُوْا مَا بَیْنَ اَیْدِیْكُمْ وَ مَا خَلْفَكُمْ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 36:45 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اپنے سامنے اور پیچھے آنے والے عذاب سے ڈرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے

وَ مَا تَاْتِیْهِمْ مِّنْ اٰیَةٍ مِّنْ اٰیٰتِ رَبِّهِمْ اِلَّا كَانُوْا عَنْهَا مُعْرِضِیْنَ Open ayah 36:46 in the Quran reader

(تو ہنسی اڑاتے ہیں) اور ان کے پاس ان کے رب کی نشانیوں میں سے ایسی کوئی بھی نشانی نہیں آتی کہ جس سے وہ منہ نہ موڑ لیتے ہوں

واذا قیل لہم یہاں سے ان کی سرکشی بیان ہوتی ہے۔ مابین ایدیکم سے مراد دنیاوی مصائب جو سرکشوں پر آیا کرتی ہیں۔ وماخلفکم سے دار آخرت کے مصائب (یہ سفیان کا قول ہے) ۔
Ayahs 36:47–50

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ١ۙ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنُطْعِمُ مَنْ لَّوْ یَشَآءُ اللّٰهُ اَطْعَمَهٗۤ١ۖۗ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 36:47 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کے دیے میں سے کچھ خرچ کیا کرو تو کافر ایمانداروں سے کہتے ہیں کہ کیا ہم اس کو کھلاویں کہ اگر اللہ چاہتا تو آپ اس کو کھلا سکتا تھا، تم جو ہو تو صاف گمراہی میں ہی پڑے ہوئے ہو

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 36:48 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کب ہے یہ وعدہ اگر تم سچے ہو۔

مَا یَنْظُرُوْنَ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً تَاْخُذُهُمْ وَ هُمْ یَخِصِّمُوْنَ Open ayah 36:49 in the Quran reader

وہ صرف ایک چیخ ہی کا انتظار کررہے ہیں کہ ان کو آلے گی اور وہ جھگڑتے ہی رہیں گے،

فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ تَوْصِیَةً وَّ لَاۤ اِلٰۤى اَهْلِهِمْ یَرْجِعُوْنَ۠ Open ayah 36:50 in the Quran reader

پھر ان کو نہ کچھ کہہ مرنے کی قدرت ہوگی اور نہ اپنے گھروں میں واپس آسکیں گے۔

تفسیر : واذا قیل لہم انفقوا یہ ان کی دوسری بدخاصیت بیان ہے کہ جب ان سے اللہ کی راہ میں دینے کو کہا جاتا ہے تو طعن کی راہ سے کہتے ہیں کہ اس کو اللہ ہی نے نہ دیا تو ہم کیوں دیں، اگر دینا ہوتا تو وہ خود نہ دیتا یعنی ان میں نہ تقویٰ ہے جو تعظیم امر اللہ ہے نہ رحم برخلق اللہ ہے باایں ہمہ دلیری یہ ہے کہ پوچھتے ہیں۔ متی ھذا الوعد کہ قیامت کب آوے گی ؟ اس کے جواب میں فرماتا ہے۔ ماینظرون الخ وہ جب آوے گی تو کچھ دیر نہ لگے گی، صرف اسرافیل ( علیہ السلام) کی ایک ہی چیخ ہوگی۔ نفخہ اولیٰ جس میں بےہوش ہو کر گر پڑیں گے، نہ کچھ اپنے دل کی کہ سکیں گے نہ گھر تک جاسکیں گے جو کوئی جس حال میں ہوگا، اس آواز کے سنتے ہی بےہوش ہو کر مرجاوے گا، پھر رفتہ رفتہ تمام دنیا فنا ہوجاوے گی۔
Ayah 36:51

وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَاِذَا هُمْ مِّنَ الْاَجْدَاثِ اِلٰى رَبِّهِمْ یَنْسِلُوْنَ Open ayah 36:51 in the Quran reader

اور صور پھونکا جائے گا تو وہ فوراً اپنی قبروں سے نکل کر اپنے رب کی طرف دوڑے چلے آئیں گے،

ترکیب : ھذا مبتداء وعد الرحمن خبرہ و ما مصدریۃ او موصولہ محذوفۃ العائد و یمکن ان یکون ہذا صفۃ لمرقدنا وما وعد خبر مبتداء محذوف او یکون مبتداء و خبرہ حق محذوف ہم مبتداء و ازواجہم معطوف علی ہم للمشارکۃ فی النعماء فی ظلال حال من المعطوف علیہ متکئون خبر علی الارائک صلۃ لہ مایدعون من باب الافتعال من الدعاء وما موصولۃ او موصوفۃ با لابتداء ولہم خبر ھا سلام بدل منھا اور صفۃ اُخریٰ قولا منصوب علی انہ مصدر لفعل محذوف اے قال لھم اللہ ذلک قولا۔ کس لطف کے ساتھ مبدء کے بعد مسئلہ معاد کا ذکر کیا ہے۔ ونفخ فی الصور یہاں سے نفخہ ثانیہ کا ذکر ہے کہ دنیا کے فنا ہونے کے بعد پھر اسرافیل ( علیہ السلام) صور پھونکیں گے، جس کی آواز سے ہر ایک مردہ قبروں سے نکل کر میدان حشر میں حساب کی جگہ تخت رب العالمین کی طرف دوڑتا ہوا چلا آوے گا۔
Ayah 36:52

قَالُوْا یٰوَیْلَنَا مَنْۢ بَعَثَنَا مِنْ مَّرْقَدِنَا١ؐٚۘ هٰذَا مَا وَعَدَ الرَّحْمٰنُ وَ صَدَقَ الْمُرْسَلُوْنَ Open ayah 36:52 in the Quran reader

کہیں گے ہائے کمبختی ! ہم کو کس نے ہماری خوابگاہوں سے اٹھادیا ؟ (فرشتے کہیں گے) یہ وہی وقت ہے کہ جس کا رحمان نے وعدہ کیا تھا اور رسول سچ کہتے تھے،

قالوا یا ویلنا من بعثنا من مرقدنا عذاب دیکھ کر حیران ہوں گے اور کہیں گے کس نے ہم کو خواب گاہوں سے بیدار کردیا۔ کفار کو مرنے کے بعد حشر تک قبر میں عذاب ہے، جیسا کہ احادیث صحیحہ میں آیا ہے اور اسی پر اہل سنت کا اتفاق ہے، پھر خواب سے جگا دینا جو کفار کہیں گے یا تو اس وجہ سے کہ ان کے حواس پریشان ہوں گے، اس بدحواسی میں وہ قبروں میں رہنے کو خواب سمجھیں گے۔ یا عذاب حشر کے مقابلہ میں قبر کا عذاب راحت اور خواب معلوم ہوگا۔ ابی بن کعب و ابن عباس ؓ و مجاہد و قتادہ کہتے ہیں کہ نفخہ اولیٰ سے لے کر نفخہ ثانیہ کے زمانہ میں ان سے عذاب دور کردیا جاوے گا، تب وہ آرام سے سوتے ہوں گے، پھر جب حشر برپا ہونے کا صور پھونکے گا تو یہ کہیں گے فرشتے یا اہل نجات کہیں گے ھذا ما وعد الرحمن وصدق المرسلون یہ وہ دن ہے کہ جس کا اللہ نے تم سے وعدہ کیا تھا اور اپنی رحمت سے بتلادیا تھا اور اس خبر میں رسول سچے تھے۔ فرماتا ہے۔
Ayah 36:53

اِنْ كَانَتْ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً فَاِذَا هُمْ جَمِیْعٌ لَّدَیْنَا مُحْضَرُوْنَ Open ayah 36:53 in the Quran reader

وہ تو صرف ایک ہی زور کی آواز ہوگی، پھر تو وہ سب ہمارے سامنے حاضر کئے جائیں گے۔

ان کانت الاصیحۃ الخ کہ قیامت برپا ہونے میں کچھ بھی دیر نہ لگے گی، صرف اسرافیل ( علیہ السلام) کا صور پھونکنا ہوگا کہ برپا ہوجاوے گی اور سب حاضر ہوجاویں گے۔
Ayah 36:54

فَالْیَوْمَ لَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْئًا وَّ لَا تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 36:54 in the Quran reader

پس اس دن کسی پر کچھ بھی ظلم نہ کیا جائے گا اور تم اسی کا بدلہ پاؤ گے، جو کیا کرتے تھے۔

فالیوم لاتظلم الخ اس دن کسی پر کچھ ظلم ہوگا، اپنے کئے کا پورا بدلہ پاوے گا۔ آگے بدلہ کا بیان ہے اور سب سے پہلے نیک لوگوں کا بدلہ ذکر کرتا ہے۔
Ayahs 36:55–61

اِنَّ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ الْیَوْمَ فِیْ شُغُلٍ فٰكِهُوْنَۚ Open ayah 36:55 in the Quran reader

بیشک بہشت کے لوگ اس دن مزہ سے دل بہلا رہے ہوں گے۔

هُمْ وَ اَزْوَاجُهُمْ فِیْ ظِلٰلٍ عَلَى الْاَرَآئِكِ مُتَّكِئُوْنَ Open ayah 36:56 in the Quran reader

وہ اور ان کی بیویاں سایوں میں تختوں پر تکیہ لگائے ہوئے بیٹھے ہوں گے،

لَهُمْ فِیْهَا فَاكِهَةٌ وَّ لَهُمْ مَّا یَدَّعُوْنَۚۖ Open ayah 36:57 in the Quran reader

وہاں ان کے لیے میوے ہوں گے اور جو کچھ وہ طلب کریں گے وہ بھی موجود ہوگا۔

سَلٰمٌ١۫ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِیْمٍ Open ayah 36:58 in the Quran reader

خدا رحیم کی طرف سے سلام کہا جائے گا

وَ امْتَازُوا الْیَوْمَ اَیُّهَا الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 36:59 in the Quran reader

اور (دوزخیوں سے کہا جائے گا) آج اے مجرمو ! (جنتیوں سے) الگ ہوجائو۔

اَلَمْ اَعْهَدْ اِلَیْكُمْ یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ اَنْ لَّا تَعْبُدُوا الشَّیْطٰنَ١ۚ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 36:60 in the Quran reader

اے اولاد آدم ! کیا ہم نے تم سے یہ تاکید نہ کردی تھی کہ شیطان کی عبادت نہ کرنا، کیونکہ وہ تمہارا صریح دشمن ہے

وَّ اَنِ اعْبُدُوْنِیْ١ؔؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 36:61 in the Quran reader

اور یہ کہ میری ہی عبادت کرنا (کیونکہ) یہ سیدھا راستہ ہے۔

فقال ان اصحب الجنۃ الخ کہ نیک لوگ بہشت میں عیش و آرام کریں گے۔ یہ جنت جسمانی کی طرف اشارہ تھا۔ سلم قولاً من رب رحیم یہ روحانی جنت کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ کی طرف سے ان کو سلام پہنچے گا۔ ان پر تجلی ہوگی اور دیدار سے سرفرازی بخشی جاوے گی جو سرور ابدی ہے۔ اس کے بعد بدوں کا حال بیان فرماتا ہے۔ وامتازوا الیوم کہ مجرموں کو سزا دینے کے لیے جماعت سے الگ کردینے کا حکم ہوگا اور ان کو ملامت کی جاوے گی کہ دیکھو ہم نے تم سے کہلا بھیجا تھا کہ شیطان کا کہنا نہ ماننا، وہ تمہارا صریح دشمن ہے اور خاص میری عبادت کرنا یہ سیدھا رستہ ہے، مگر تم نے نہ مانا، آج اس بلا میں گرفتار ہوئے۔
Ayahs 36:62–65

وَ لَقَدْ اَضَلَّ مِنْكُمْ جِبِلًّا كَثِیْرًا١ؕ اَفَلَمْ تَكُوْنُوْا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 36:62 in the Quran reader

اور البتہ اس نے تو تم میں سے بہت مخلوق کو گمراہ کیا تھا۔ پھر کیا تم کو عقل نہ تھی،

هٰذِهٖ جَهَنَّمُ الَّتِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ Open ayah 36:63 in the Quran reader

یہ ہے وہ دوزخ کہ جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔

اِصْلَوْهَا الْیَوْمَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ Open ayah 36:64 in the Quran reader

آج اس میں بیٹھو اس سبب سے کہ تم انکار کیا کرتے تھے،

اَلْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰۤى اَفْوَاهِهِمْ وَ تُكَلِّمُنَاۤ اَیْدِیْهِمْ وَ تَشْهَدُ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 36:65 in the Quran reader

آج ہم ان کے مونہوں پر مہر کردیں گے اور ہم سے ان کے ہاتھ کلام کریں گے اور ان کے پائوں جو کچھ یہ کیا کرتے تھے،

ترکیب : اللام موطتہ للقسم والجملۃ مستانفۃ للتوبیخ ای واللہ لقد اضل جبلا فیہا لغات متعددۃ وھی جمع جبلۃ بمعنی الخلق وقیل الجبلۃ والجبل و احد افلم الھمزۃ للتوبیخ و الفاء للعطف علی مقدر ای کنتم تشاہدون اما کنتم تعقلون ولو کلمۃ الشرط نشاء شرط مفعولہ محذوف ای ان نطمس لطمسنا جو ابہ ای اذھبنا اعینھم اے اعینا ھم فاستبقوا معطوف علی لطمسنا و کذا قولہ تعالیٰ ولو نشاء لمسخنہم وسیظہرلک المعنی فی التفسیر۔ تفسیر : ولقد اضل سے لے کر یکسبون تک اسی گفتگو کا تتمہ ہے جو قیامت کے روز منکرین سے بطور الزام کے کی جاوے گی کہ تم میں سے یہ شیطان بہت خلق کو گمراہ کرچکا تھا، جن کی گمراہی اور بدکاری سے دنیا میں بھی ان پر بلا آئی، پھر بھی تم نہ سمجھے، اب تمہارے لیے یہ جہنم تیار ہے، اس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا اور تم جھوٹ جانتے تھے۔ آج اپنے اعمال کے سبب اس میں گرو۔ منکرینِ آخرت میں بھی اس الزام کے بعد خدا تعالیٰ سے جھوٹ بولیں گے اور قسمیں کھاکر کہیں گے کہ ہم بتوں کو نہیں پوجتے تھے، اس بات پر خدا تعالیٰ فرماوے گا۔ الیوم نختم کہ اس روز ہم تمہارے منہ پر مہر کردیں گے، یعنی بند کردیں گے اور تمہارے ہاتھ پائوں تمہارے اعمال کی گواہی دیں گے، یعنی ان کے ہاتھ پائوں گواہ ہوجاویں گے۔ اس گواہی کی حقیقت اور ہاتھ پائوں کی گویائی اسی کو معلوم ہے اور یہ سب اس کی قدرت میں ہے، کوئی مشکل بات نہیں، سنت مطہرہ میں بھی اس کی تشریح ہے۔
Ayah 36:66

وَ لَوْ نَشَآءُ لَطَمَسْنَا عَلٰۤى اَعْیُنِهِمْ فَاسْتَبَقُوا الصِّرَاطَ فَاَنّٰى یُبْصِرُوْنَ Open ayah 36:66 in the Quran reader

اس کی گواہی دیں گے اور اگر ہم چاہتے تو ان کی آنکھیں پٹ کر ڈالتے پھر وہ راستہ کو ٹٹولتے پھرتے۔ سو کہاں دیکھ سکتے تھے

ولو نشاء لطمسنا علی اعینہم سے شبہ ہوتا تھا کہ خدا تعالیٰ نے ان پر ہاتھ پائوں کی شہادت لے کر سزا دی اور آپ ہی یہ بھی فرمادیا تھا کہ ہم نے ان کے آگے اور پیچھے گمراہی کی دیواریں کھڑی کردیں، اس سے معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ نے اپنے بندوں کو آپ عذاب کے لیے مجبور کردیا تھا، ان کو ہدایت پانے کا کچھ اختیار نہیں دیا تھا، اس آیت میں اس بات کا جواب ایک عجیب برہان قائم کرکے دے دیا کہ اگر ہم یوں چاہتے تو ان کی آنکھیں اندھی کردیتے، پھر وہ رستہ کو ٹٹولتے اور رستہ نہ پاتے، حالانکہ ہم نے ایسا نہیں کیا، ان کی ظاہری آنکھیں اور رستہ ظاہری پانا اس کی دلیل ہے جس طرح ہم نے ظاہری آنکھیں دی ہیں ہر ایک کو باطنی آنکھیں بھی عطاء کی ہیں لیکن وہ نہیں دیکھتے شیطان نے ان کی آنکھوں پر شہوات و لذات فانیہ کے حجاب ڈال رکھے ہیں۔
Ayah 36:67

وَ لَوْ نَشَآءُ لَمَسَخْنٰهُمْ عَلٰى مَكَانَتِهِمْ فَمَا اسْتَطَاعُوْا مُضِیًّا وَّ لَا یَرْجِعُوْنَ۠ Open ayah 36:67 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہتے تو ان کے گھروں ہی پر ان کی صورتیں مسخ کردیتے کہ پھر وہ نہ آگے بڑھ سکتے اور نہ پیچھے ہٹ سکتے۔

پھر اس کی اور بھی تائید کرتا ہے۔ فقال ولو نشاء لمسخناھم علی مکانتہم فما استطاعوا مضیا ولا یرجعون اس کو جانے دو اپنے چلنے پھرنے کی قوت کو دیکھو تم کو ہر طرح سے چلنے پھرنے پر قادر کیا ہے، اسی طرح قوائے باطنیہ بھی ہر قسم کے تم کو عطا کئے ہیں، لیکن تم نے ان کو معطل کر رکھا ہے۔ اگر ہم چاہتے تو تم کو اپنی جگہ پتھر کی طرح بےحس و حرکت کرکے ڈال دیتے، پھر تم آنے جانے سے عاجز ہوجاتے، حالانکہ ایسا نہیں کیا، پھر جب تم کو یہ قوتیں عطا کی ہیں اور تم آپ گمراہی میں گرتے ہو پھر کیا وجہ کہ جہنم تمہارے سامنے نہ آئے اور تمہارے ہاتھ پائوں تم پر گواہی نہ دیں، جن کے تم حاکم بنے ہوئے تھے ؟ مضیا بضم المیم و فتحہا و کسرہا والمعنی لایستطیعون رجوعاً یقال معنی یمضی مضیا اذا اذھب فی الارض و رجع یرجع رجوعا اذا عاد من حیث جاء جبرو قدر کے باریک راز کو خدا تعالیٰ نے ان آیات میں کس خوبی کے ساتھ ظاہر کیا ہے کہ جس کا بیان نہیں ہوسکتا۔ واللہ اعلم بالصواب ولو نشاء الخ آیات میں یہ بات ثابت کی گئی تھی کہ ہم نے ہر ایک بات سمجھنے کی قوت دی تھی، اس پر یہ خیال گزرتا تھا کہ ہم کو غور کرنے کا بھی موقع دینا چاہیے تھا، بڑی عمر عطا کرنی تھی کہ تجربہ ہوتے ہوتے اسرار پر بھی آگاہی ہوجاتی۔ اس کا جواب دیتا ہے۔
Ayahs 36:68–70

وَ مَنْ نُّعَمِّرْهُ نُنَكِّسْهُ فِی الْخَلْقِ١ؕ اَفَلَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 36:68 in the Quran reader

اور جس کی ہم بڑی عمر کرتے ہیں تو اس کو دنیا میں الٹا کردیتے ہیں، پھر وہ کیوں نہیں سمجھتے

وَ مَا عَلَّمْنٰهُ الشِّعْرَ وَ مَا یَنْۢبَغِیْ لَهٗ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ وَّ قُرْاٰنٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 36:69 in the Quran reader

اور نہ ہم نے نبی کو شعر سکھایا اور نہ یہ اس کے لائق ہی تھے۔ یہ تو صرف نصیحت اور صاف صاف قرآن ہے

لِّیُنْذِرَ مَنْ كَانَ حَیًّا وَّ یَحِقَّ الْقَوْلُ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 36:70 in the Quran reader

تاکہ جو زندہ ہے اس کو ڈر سنائے اور کافروں پر الزام ثابت ہوجائے،

ومن نعمرہ ننکسہ فی الخلق کہ بڑی عمر سے کیا زیادہ سمجھ آجاوے گی، سمجھنے کے لیے تو عمر کا ایک معتد بہ حصہ کافی ہے، جیسا کہ پہلے فرمایا تھا۔ اولم نعمرکم مایتذکر فیہ من تذکر اور زیادہ عمر ہونے کی آرزو بیکار ہے، کس لیے کہ جب عمر زیادہ ہوجاتی ہے تو اعضاء انسانی اور قوائے مدرکہ بھی ضعیف ہوجاتے ہیں۔ زجاج کہتے ہیں اس کے یہ معنی کہ جس کی ہم عمر زیادہ کرتے ہیں تو اس کو پیدائشی باتوں میں الٹا کردیتے ہیں۔ قوت کے بعد ضعف جوانی کے بعد بڑھاپا آجاتا ہے۔ سیدھا قد ٹیڑھا ہوجاتا ہے۔ افلایعقلون اس پر بھی وہ عقل نہیں کرتے، اس جملہ میں ایک اور بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ دنیا میں ممکنات کے جس قدر کمالات ہیں، طاقت و قوت حسن و جمال ‘ علم و دانش حتٰی کہ ہستی سب ہماری دی ہوئی ہے اور اس دنیا میں چند روز کے لیے ہے، آخر فنا ہے۔ چند روز بہار ہے جس پر تم اس قدر پھولے ہوئے ہو اور محسن اصلی اور منزل اصلی کو بھولے ہوئے ہو، اپنے ہی آپ کو دیکھو عمر زیادہ ہونے میں وہ جوانی کہاں رہتی ہے، کہاں گئی وہ قوت حافظہ اور کس جگہ چلی گئی وہ قوت ہاضمہ کہاں ہے وہ قوت باصرہ و سامعہ کہاں ہے وہ رنگ و روغن، حسن و جمال قد جو سرو رواں تھا، جھک گیا، سب چیزیں تم سے لی جاتی ہیں، ایک یہ ہستی بھی چھین لی جاوے گی، اس پر بھی تم عقل نہیں کرتے۔
Ayahs 36:71–76

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا خَلَقْنَا لَهُمْ مِّمَّا عَمِلَتْ اَیْدِیْنَاۤ اَنْعَامًا فَهُمْ لَهَا مٰلِكُوْنَ Open ayah 36:71 in the Quran reader

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ان کے لیے اپنے ہاتھوں سے چار پائے بنائے کہ جن کے وہ مالک بن رہے ہیں

وَ ذَلَّلْنٰهَا لَهُمْ فَمِنْهَا رَكُوْبُهُمْ وَ مِنْهَا یَاْكُلُوْنَ Open ayah 36:72 in the Quran reader

اور ان کو ان کے بس میں کردیا ہے، پھر ان میں سے کسی پر چڑھتے ہیں اور کسی کو کھاتے ہیں

وَ لَهُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ وَ مَشَارِبُ١ؕ اَفَلَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 36:73 in the Quran reader

اور ان کے لیے ان میں اور بہت سے فائدے ہیں اور خاص کر پینے کی چیز پھر کیوں نہیں شکر کرتے

وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً لَّعَلَّهُمْ یُنْصَرُوْنَؕ Open ayah 36:74 in the Quran reader

اور اللہ کے سوا انہوں نے اور معبود بنا رکھے ہیں تاکہ وہ ان کی مدد کیا کریں،

لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَهُمْ١ۙ وَ هُمْ لَهُمْ جُنْدٌ مُّحْضَرُوْنَ Open ayah 36:75 in the Quran reader

وہ خود تو اپنی مدد کر نہیں سکتے (اور ان کی کیا کریں گے) اور یہ ان کا لشکر حاضر کیا جائے گا۔

فَلَا یَحْزُنْكَ قَوْلُهُمْ١ۘ اِنَّا نَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ Open ayah 36:76 in the Quran reader

پھر آپ ان کی بات سے برا نہ مانیں، کیونکہ ہم جانتے ہیں جو کچھ وہ چھپاتے اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں۔

ان باتوں کو سن کر کفار عرب کہتے تھے کہ یہ نصیحت آمیز باتیں محمد ﷺ جو سناتا ہے تو شاعر ہے، شاعر بھی ایسا کلام کیا کرتے ہیں، اس کے جواب میں فرماتا ہے۔ وما علمناہ الشعر کہ ہم نے محمد کو شعر نہیں سکھایا۔ وماینبغی لہ اور نہ یہ کہ آپ کے لائق ہے۔ یہ اس لیے کہ الہام اور وحی تو خداوند تعالیٰ کا ایک خاص فیضان ہے جو جبرئیل ( علیہ السلام) کے وسیلہ سے روح پر نازل ہوتا ہے۔ قوائے ملکوتیہ کو ابھارتا اور بہیمیہ کو پست کرتا ہے اور شعر تخیلات کی روانی اور زبان کی لفاظی ہے، اس میں کہیں عمدہ باتیں بھی ہوتی ہیں اور بیشتر تو توہمات و تخیلات ہوتے ہیں جو قوائے سہوانیہ کو جوش میں لاتے ہیں اور اسی لیے شعر کی بابت علمائِ اسلام نے فیصلہ کردیا ہے کہ حمدوثناء ‘ وعظ و پند کے شعرا چھے ہیں اور برے مضامین کے برے ہیں اور آنحضرت ﷺ سے اتفاقیہ کوئی شعر موزوں ہوگیا تو اس سے شاعر نہیں کہے جاسکتے، ان ھوا الا ذکرو قرآن مبین کہ یہ قرآن ہے جو سراسر نصیحتِ آسمانی ہے۔ لینذر من کان حیا یہ اس لیے نازل ہوا ہے کہ جو زندہ دل ہیں، ان کو خوف دلائے اور منکروں پر خدا کی حجت پوری ہوجاوے یہ نہ کہیں کہ دنیا میں ہم کو کسی نے نہیں سمجھایا۔ اولم یروا سے بت پرستوں کو اپنی نعمتیں یاد دلاتا ہے کہ ہم نے ان کے لیے چارپائے پیدا کئے اور ان کو بس میں کردیا، جس لیے ان سے طرح طرح کے فائدے اٹھاتے ہیں، سوار ہوتے ہیں، ذبح کرکے کھاتے ہیں، ان کے بچوں اور بالوں سے نفع لیتے ہیں۔ دودھ پیتے ہیں، پھر بھی شکر نہیں کرتے۔ اللہ کے تابع نہیں ہوتے بلکہ منعم حقیقی کو چھوڑ کر اور معبود بنا رکھے ہیں کہ وہ ان کی مدد کریں حالانکہ وہ ایسے بےبس ہیں کہ خود اپنی مدد نہیں کرسکتے بلکہ قیامت کو پکڑے ہوئے آویں گے یا یہ معنی کہ کفار ان بتوں کا لشکر بن کر ان کے آگے حاضر رہتے ہیں، ان کی مدد کررہے ہیں یا یہ معنی کہ کفار ان کو اپنی مدد کے لیے لشکر جانتے ہیں۔ فلا یحزنک قولہم نبی کو تسلی دیتا ہے کہ ان کی باتوں سے برا نہ مانو۔
Ayah 36:77

اَوَ لَمْ یَرَ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰهُ مِنْ نُّطْفَةٍ فَاِذَا هُوَ خَصِیْمٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 36:77 in the Quran reader

کیا آدمی نہیں جانتا کہ ہم نے اس کو منی کے ایک قطرہ سے بنایا ہے، پھر وہ کھلم کھلا دشمن بن کر جھگڑنے لگا

ترکیب : فاذا ھو الجملۃ معطوفۃ علی الجملۃ المنفیۃ قبلھا داخلۃ معھا فی حیز الانکار المفہوم من الاستفہام و المعنی العجب من ھذا المخاصم الدنی یجادل الجبار القہار و نسی اصلہ و خلقہ من ای شیء خلق و کیف صار اولیس الھمزہ للانکار والوا و للعطف علی مقدر من نظائرہ رمیم فعیل بمعنی مفعول یستوی فیہ المذکر والمؤنث۔ تفسیر : اولم یر الانسان الخ یہاں سے ثبوت حشر پر دلائل قائم کرتا ہے اور منکرین حشر کو انہی کی ذات میں اپنی قدرت و کمال کا نمونہ دکھاتا ہے کہ انسان یقینا جانتا ہے کہ خدا نے مجھ کو ایک قطرہ پانی سے پیدا کیا ہے، جو متشابہ الاجزا و متحد الحقیقۃ و الاسم ہے، پھر اس میں سے ہڈی اور گوشت اور پوست اور سر ‘ پائوں ‘ دل و دماغ، آنکھ ناک کیسے مختلف الاسم و الحقیقۃ اجزاء پیدا کردیے اور ہر ایک میں جداگانہ قوت و تاثیر رکھی اور اس کے تمام کیل و پرزے جوڑ کر اس کو بڑا گویا اور فہیم بنادیا، یہ گویا ہوتے ہی بڑے دشمن، بڑے مقرر منکر حشر بن گئے، طرح طرح کی حجتیں نبیوں اور اس کے کلام کے مقابلہ میں کرنے لگے،
Ayah 36:78

وَ ضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَّ نَسِیَ خَلْقَهٗ١ؕ قَالَ مَنْ یُّحْیِ الْعِظَامَ وَ هِیَ رَمِیْمٌ Open ayah 36:78 in the Quran reader

اور ہماری نسبت باتیں بنانے لگا اور اپنا پیدا ہونا بھول گیا۔ کہنے لگا بوسیدہ ہڈیوں کو کون زندہ کرسکتا ہے،

ضرب لنا مثلاو نسی خلقہ اور ہمارے لیے دنیا کے لوگوں کی مثال بیان کی کہ جس طرح دنیا کے لوگ بعض اشد کاموں میں عاجز ہیں، وہ بھی ہے، یعنی مخلوق کی قدرتوں اور طاقتوں پر قیاس کرکے ہماری قدرت کو بھی محدود سمجھ لیا کہ وہ مرنے کے بعد زندہ نہیں کرسکتا اور طرفہ یہ ہے کہ ہماری قدرت غیر محدود کا نمونہ اسی کے پیدا کرنے میں موجود ہے، اس کو بھول گیا، یعنی اس میں غور نہیں کرتا، پھر اس مثل کا بیان کرتا ہے۔ قال من یحی العظام وھی رمیم کہ انسان کہتا ہے۔ بوسیدہ اور ریزہ ریزہ ہوئی ہڈیوں کو کون زندہ کرسکتا ہے ؟ انسان سے مراد عموماً منکرین حشر ہیں، گو یہ بات جیسا کہ ابن عباس ؓ نے فرمایا ہے، عاص بن وائل ؓ نے حضرت ﷺ سے کہی تھی۔ ابن جریر و ابن المنذر و ابن ابی حاتم نے اس کو ابن معجم میں نقل کیا ہے۔
Ayahs 36:79–80

قُلْ یُحْیِیْهَا الَّذِیْۤ اَنْشَاَهَاۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ١ؕ وَ هُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِیْمُۙ Open ayah 36:79 in the Quran reader

کہہ دو ان کو وہی زندہ کرے گا کہ جس نے ان کو اول بار پیدا کیا تھا اور وہ سب کچھ بنانا جانتا ہے۔

اِ۟لَّذِیْ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الشَّجَرِ الْاَخْضَرِ نَارًا فَاِذَاۤ اَنْتُمْ مِّنْهُ تُوْقِدُوْنَ Open ayah 36:80 in the Quran reader

وہ کہ جس نے تمہارے لیے سبز درخت میں سے آگ پیدا کردی کہ تم جھٹ پٹ اس سے آگ سلگانے لگتے ہو،

خدا تعالیٰ اس کا جواب دیتا ہے۔ قل یحیہا الذی انشائھا اول مرۃ اے محمد ﷺ کہہ دے ان بوسیدہ ہڈیوں کو وہی زندہ کرے گا کہ جس نے ان کو اول بار بنایا تھا اور ان کا کچھ بھی وجود نہ تھا، پھر باردگر بنانا اس کو کیا نہیں آتا ؟ وھو بکل خلق علیم حالانکہ وہ ہر ہر چیز مخلوقات کی جانتا ہے، کوئی ذرہ اجزائِ بدن کا اس سے مخفی نہیں، بارِدگر سب کو ملادے گا اور روح ڈال دے گا یا یوں کہو وہ ہر طرح سے پیدا کرنا جانتا ہے، کوئی ذرہ اجزائِ بدن کا اس سے مخفی نہیں۔ بارِدگر سب کو ملادے گا اور روح ڈال دے گا یا یوں کہو وہ ہر طرح سے پیدا کرنا جانتا ہے۔ فالخلق مصدر وعلی الاول بمعنی المخلوق۔ اس کے بعد اور دلیل بیان فرماتا ہے۔ الذی جعل لکم من الشجر الاخضر نارا الخ کہ اللہ تو وہ قادر مطلق ہے کہ سبز درخت میں سے آگ نکال دیتا ہے۔ بن میں جب بانس کی ٹہنیاں ہوا سے آپس میں رگڑا کھاتی ہیں تو اس سے آگ نکلتی ہے جس سے بن میں خود بخود آگ لگ جاتی ہے اور عرب میں وہ درخت ہیں، ایک کو مرخ دوسرے کو عفار کہتے ہیں اور زند اور زندہ بھی جب آگ سلگانی منظور ہوتی ہے تو دونوں کی ہری ٹہنیاں توڑ کر ایک کو دوسرے پر مارتے ہیں، آگ پیدا ہوجاتی ہے۔ پھر آگ اور سبز درخت کو دیکھئے جو پانی اور رطوبت کی پوٹ ہے، دونوں ضدوں کو جمع کردیا، پھر جس نے اضداد کو جمع کردیا، کیا وہ اجزائِ بدن انسانی کو جمع نہیں کرسکتا ؟ بیشک کرسکتا ہے۔ اس کے بعد ایک اور دلیل بیان کرتا ہے۔