28. Surah Al-Qasas

القصصThe Stories · 88 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 28:76–81

اِنَّ قَارُوْنَ كَانَ مِنْ قَوْمِ مُوْسٰى فَبَغٰى عَلَیْهِمْ١۪ وَ اٰتَیْنٰهُ مِنَ الْكُنُوْزِ مَاۤ اِنَّ مَفَاتِحَهٗ لَتَنُوْٓاُ بِالْعُصْبَةِ اُولِی الْقُوَّةِ١ۗ اِذْ قَالَ لَهٗ قَوْمُهٗ لَا تَفْرَحْ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْفَرِحِیْنَ Open ayah 28:76 in the Quran reader

بیشک قارون موسیٰ کی قوم میں سے تھا، پھر وہاں سے اکڑنے لگا اور ہم نے اس کو اتنے خزانے دیے تھے کہ اس کی کنجیاں چند زور آور مرد بمشکل اٹھاتے تھے (قارون کے اکڑنے پر) جب اس کو اس کی قوم نے کہا کہ اترا مت کیونکہ اللہ کو اترانے والے نہیں بھاتے

وَ ابْتَغِ فِیْمَاۤ اٰتٰىكَ اللّٰهُ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ وَ لَا تَنْسَ نَصِیْبَكَ مِنَ الدُّنْیَا وَ اَحْسِنْ كَمَاۤ اَحْسَنَ اللّٰهُ اِلَیْكَ وَ لَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِی الْاَرْضِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 28:77 in the Quran reader

اور جو کچھ تجھ کو اللہ نے دیا ہے، اس سے آخرت کا گھر حاصل کر اور اپنا حصہ دنیا میں سے نہ بھول اور بھلائی کر جس طرح اللہ نے تجھ سے بھلائی کی اور ملک میں خرابی ڈالتا نہ پھر ‘ کس لیے کہ اللہ کو مفسد لوگ پسند نہیں آتے۔

قَالَ اِنَّمَاۤ اُوْتِیْتُهٗ عَلٰى عِلْمٍ عِنْدِیْ١ؕ اَوَ لَمْ یَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ قَدْ اَهْلَكَ مِنْ قَبْلِهٖ مِنَ الْقُرُوْنِ مَنْ هُوَ اَشَدُّ مِنْهُ قُوَّةً وَّ اَكْثَرُ جَمْعًا١ؕ وَ لَا یُسْئَلُ عَنْ ذُنُوْبِهِمُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 28:78 in the Quran reader

اس نے کہا مجھے تو یہ ایک ہنر سے ملا ہے جو مجھے حاصل ہے۔ کیا اس نے معلوم نہیں کیا کہ اللہ نے اس سے پہلے ایسے قرن ہلاک کردیے ہیں جو قوت اور مال میں اس سے بھی زیادہ تھے اور گناہ گاروں کے گناہوں سے پرسش نہیں کی جاتی ہے،

فَخَرَجَ عَلٰى قَوْمِهٖ فِیْ زِیْنَتِهٖ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ یُرِیْدُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا یٰلَیْتَ لَنَا مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ قَارُوْنُ١ۙ اِنَّهٗ لَذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ Open ayah 28:79 in the Quran reader

پھر (ایک دن) وہ اپنی قوم کے سامنے اپنی تیاری سے نکلا تو دنیا کی زندگی کے طالب کہنے لگے کہ اے کاش ! ہمارے لیے بھی ویسا ہی ہوتا جیسا کہ قارون کو دیا گیا ہے، وہ تو بڑا نصیبے والا ہے

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَیْلَكُمْ ثَوَابُ اللّٰهِ خَیْرٌ لِّمَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا١ۚ وَ لَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الصّٰبِرُوْنَ Open ayah 28:80 in the Quran reader

اور علم والوں نے کہا کم بختو اللہ کا ثواب بہتر ہے، اس کے لیے جو ایمان لایا اور نیک کام کیا اور یہ نہیں ملتا مگر صبر کرنے والوں کو۔

فَخَسَفْنَا بِهٖ وَ بِدَارِهِ الْاَرْضَ١۫ فَمَا كَانَ لَهٗ مِنْ فِئَةٍ یَّنْصُرُوْنَهٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ۗ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُنْتَصِرِیْنَ Open ayah 28:81 in the Quran reader

پھر ہم نے قارون اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسا دیا۔ پھر اس کی ایسی کوئی بھی جماعت نہ تھی جو اس کو (عذاب) اللہ سے بچالیتی اور نہ وہ خود بچ سکا

ترکیب : ماان مفاتحہ، بمعنی الذی فی موضع نصب باتینا وان و اسمھا و خبرھا صلۃ الذی ولھذا کسرت ان، تنوءا الخ ای ثقلھم فالباء، للتعدیۃ وقد یقال اناء تہ ونوء ت، بہ وقیل ھو علی القلب ای لتنوء بہ العصبۃ و من الکنوز متعلق باتیناہ واذقال لہ ظرف لاتیناہ والا وجہ ان یقال اذکر اذ قال لہ قومہ۔ فیما اتاک، مصدریۃ او بمعنی الذی وھی فی موضع الحال اے واطلب منقلبا فیما اتاک اللہ اجر الآخرۃ ویجوزان یکون ظرفا لاتبغ علی علم فی موضع الحال وعندی صفۃ لعلم من قبلہ ظرف لا ھلکنا من ھو مفعول۔ تفسیر : کلام اس میں آگیا تھا کہ ما اوتیتم من شیئٍ فمتاع الحیوۃ الدنیا و زینتہا و ما عند اللہ خیر و ابقی کہ دنیا کے ناز و نعم بےثبات ہیں۔ نعمائِ باقیہ دار آخرت کی ہیں، پھر اس کے سبب دار آخرت کو چھوڑنا پوری بدنصیبی اور بےعقلی ہے، اس کے بعد اسی کے متعلق کلام رہا، قارون کا قصہ : اب اس کی توضیح و تمثیل کے لیے ایک بڑے مالدار کا قصہ بیان کرتا ہے کہ جس نے مال کے غرور میں دار آخرت کی محرومی حاصل کی اور نبی سے سرکش ہوگیا، جس سے اس طرف بھی اشارہ ہے کہ پھر یہ دولت دنیا ہی میں جاتی رہتی ہے اور بلائے آسمانی نازل ہوجاتی ہے، یعنی دار آخرت کا عذاب تو کچھ ہوگا سو ہوگا مگر جس دولت پر پھولا ہوا ہے وہ بھی دنیا میں سدا اس کے پاس نہیں رہتی اور وہ مالدار ایک شخص بنی اسرائیل کا تھا جس کا نام قارون تھا، فقال ان قارون کان من قوم موسیٰ فبغیٰ علیہم الخ فبغیٰ علیہم سو اس نے موسیٰ اور ہارون ( علیہ السلام) اور بنی اسرائیل کے فرمانبردار سرداروں سے سرکشی اور مقابلہ کیا اور حالانکہ اس کو خدا نے اس قدر خزانے دیے تھے کہ ان مفاتحہ لتنوئا بالعصبۃ اولی القوۃ اس کی کنجیوں کے اٹھانے سے چند زور آور آدمی تھک جاتے تھے۔ والمفاتح جمع مفتح بکسر المیم و ھو ما یفتح بہ الباب یعنی مفتح کنجی مفاتح اس کی جمع کنجیاں، اوجمع مفتح بالفتح وھو الخزانۃ، مفتح بالفتح خزانہ اگر مفاتح اس کی جمع ہوگی تو اس کے معنی بہت سے خزانے۔ (نیشاپوری) ۔ بعض مفسرین پہلے معنی پر طعن کرکے دوسرے ہی کو لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس قدر مال ہو نہیں سکتا کہ جس کی کنجیوں کے بوجھ سے ایک جماعت تھک جاوے اور اگر ہم ایک شہر سونے سے بھرا ہوا بھی فرض کرلیں تو اس کے لیے بھی ایک کنجی کافی ہے، اسی لیے ابوزرین کہتے ہیں کہ تمام کوفہ کو ایک کنجی کافی ہوسکتی ہے اور نیز کنوز دفینہ کو کہتے ہیں، اس کے لیے کنجیوں کی کیا ضرورت ہے ؟ پس معنی یہ ہوئے کہ اس کے پاس اس قدر خزانے تھے کہ جن کو اٹھانے سے چند قوی آدمی تھک جاتے تھے اور یہ ممکن ہے لیکن جو لوگ مفاتح کو کنجیاں سمجھتے ہیں وہ کہتے ہیں وہ زمانہ اور طور کا تھا، آج کل کے عمدہ قفلوں اور باریک اور نازک کنجیوں پر قیاس نہ کرنا چاہئے۔ موٹی موٹی بھاری بھاری کنجیاں ہوں گی، جیسا کہ اب بھی نبیوں کی دکانوں کی ہوتی ہیں۔ خصوصاً دیہات میں اور پھر اس کنجوس نے ہر ہر چیز کو ایک صندوق میں مقفل کر رکھا تھا، کسی میں کپڑے ‘ کسی میں برتن ‘ کسی میں کچھ ‘ کسی میں کچھ۔ اس طرح کئی سو صندوق ہوں تو پھر ایسی کنجیوں کے اٹھانے کے لیے ضرور کئی آدمیوں کی ضرورت پڑتی ہوگی اور کئی خچروں پر لاتے ہوں گے، پس یہ ممکن ہے اور اسی کو ابن عباس ؓ اور حسن نے اختیار کیا ہے۔ ابو مسلم کہتے ہیں مفاتح سے مراد علم کے مفاتح ہیں جن کا احاطہ جماعتِ ذی قوت پر دشوار ہے جیسا کہ ایک جگہ آیا ہے وعندہ مفاتح الغیب یہ توجیہ بالکل غلط ہے اور ابو مسلم کو شاید کتب اہل کتاب کے دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا۔ اذ قال قومہ لاتفرح ان اللہ لایحب الفرحین کہ اترا نہیں خدا کو اترانا نہیں بھاتا۔ و ابتغ فیا اتاک اللہ الدار الآخرۃ کہ جو کچھ اللہ نے تجھ کو دیا ہے، مال و عزت اس سے دار آخرت حاصل کر ولا تنس نصیبک من الدنیا اور جو کچھ دنیا میں تیرا حصہ ہے، کھانے پینے میں اس کو فراموش نہ کر، یعنی دولت سے نفع اٹھا، کیونکہ وہ بڑا بخیل تھا یہ اس لیے کہا مطلب یہ کہ اللہ کی راہ میں دے اور خود بھی کھاپی اور تکبر اور سرکشی نہ کر قال انما اوتیتہ علی علم عندی کہ میں نے یہ جو کچھ حاصل کیا ہے تو اپنی دانائی اور ہوشیاری سے حاصل کیا ہے، جیسا کہ آج کل نئی روشنی والے جب کامیاب ہوجاتے ہیں تو اس کو اللہ کا فضل نہیں سمجھتے، اپنی ہی لیاقت اور دانائی کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ یہ نہیں سمجھتے کہ اس سے بڑھ کر استعداد اور علم کے لوگ کیسے نامراد پھرتے ہیں ؟ اولم یعلم میں اللہ تعالیٰ اس کی اس ناشکری پر تہدید ظاہر فرماتا ہے کہ وہ نہیں جانتا تھا کہ اللہ نے اس سے پہلے کیسے کیسے مالداروں زور آوروں کو غارت کردیا ہے اور پھر جب وقت آجاتا ہے تو مجرموں سے کچھ نہیں پوچھا جاتا، یعنی ان کا کوئی عذر نہیں سنا جاتا۔ فخرج علی قومہ فی زینتہ ایک روز بڑی آرائش سے قوم کے ساتھ آیا اور ممکن ہے کہ اس کے یہ معنی ہوں کہ اپنی زینت میں قوم سے مقابل و مخالف ہوا بولتے ہیں خرج علی فلاں ای بغی علیہ۔ جس کو دنیا داروں نے دیکھ کر بڑی حسرت کی، آخر وہ مال کے ساتھ زمین میں غرق کردیا گیا، اس پر لوگوں کو متنبہ کیا۔ یہ قصہ توریت کے سفر عدو کے سولہویں باب میں بالتصریح مذکور ہے جس کے مختصر جملے یہ ہیں۔ ” اور قارح (یعنی قارون) بن اظہار بن قہات بن لاوی نے لوگ لیے الخ اڑھائی سو شخص جو سرگروہ اور نامی اور جماعت کے مشہور تھے۔ موسیٰ کے مقابلے میں اٹھے اور وہ موسیٰ اور ہارون کی مخالفت پر جمع ہوئے اور انہیں کہا۔ الخ، تم کیوں آپ کو خداوند کی جماعت سے بڑا جانتے ہو، الخ پھر موسیٰ نے قارح کو کہا اے بنی لاوی سن رکھو الخ اب تم کہانت (امامت) کو بھی چاہتے ہو سو تو اور سب تیرے گروہ خداوند کی مخالفت پر اکٹھے ہوئے اور ہارون کون ہے جو تم اس کی شکایت کرتے ہو۔ (قارون چاہتا تھا کہ موسیٰ اور ہارون کے برخلاف لوگوں کو اکسا کر سرداری آپ لے اور خصوصاً کہانت کے عہدہ کا اس کو بڑا رشک تھا کہ یہ اپنے بھائی ہارون کو کیوں دیا، مجھے کیوں نہ دیا) تب موسیٰ کا غصہ بھڑکا اور خداوند سے یوں بولا ان کے ہدیئے کی طرف توجہ مت کر۔ میں نے ان سے ایک گدھا بھی نہیں لیا نہ ان میں سے کسی کو دکھ دیا۔ پھر موسیٰ نے قارح کو کہا کہ تو اپنے سارے گروہ سمیت تو اور وے اور ہارون بھی خداوند کے حضور کل کے دن حاضر ہوں اور ہر ایک شخص اپنا اپنا عود سوز لیوے اور اس میں بخور ڈالے، الخ سو ہر ایک آدمی نے اپنا اپنا عود سوز لیا اور اس میں آگ بھری اور اس پر بخور ڈالا اور جماعت کے خیمے کے دروازے پر موسیٰ اور ہارون سمیت آکھڑے ہوئے اور قارح نے اس سارے گروہ کو ان کی مخالفت پر جماعت کے خیمے کے دروازہ پر جمع کیا “۔ (فخرج علی قومہ فی زینتہ کے یہی معنی ہیں) ” تب خداوند کا جلال اس سارے گروہ کے سامنے ظاہر ہوا اور خداوند نے موسیٰ اور ہارون کو خطاب کرکے فرمایا، تم آپ کو اس گروہ میں سے جدا کرو تاکہ میں انہیں ایک پل میں ہلاک کروں۔ الخ تب موسیٰ نے کہا تم اس سے جانیو کہ خداوند نے مجھے بھیجا ہے الخ۔ اگر یہ آدمی اس موت سے مریں جس موت سے سب مرتے ہیں یا ان پر کوئی حادثہ ایسا ہو وے جو سب پر ہوتا ہے تو میں خداوند کا بھیجا ہوا نہیں پر اگر خداوند کوئی نئی بات پیدا کرے اور زمین اپنا منہ پھیلا دے اور ان کو اس سب سمیت جو ان کا ہے نگل جاوے اور جیتے جی گور میں جاویں تو تم جانیو کہ ان لوگوں نے خداوند کی اہانت کی اور یوں ہوا کہ جوں ہی موسیٰ یہ سب باتیں کہہ چکا تو زمین جو ان کے نیچے تھی پھٹی اور زمین نے اپنا منہ کھولا اور انہیں اور ان کے گھروں اور ان سب آدمیوں کو جو قارح کے تھے اور ان کے سب مال کو نگل گئی۔ سو وہ اور سب جو ان کے تھے جیتے جی گور میں گئے اور زمین نے انہیں چھپالیا اور جماعت کے درمیان سے فنا ہوگئے “ (فخسفنا بہ وبدارہ الارض فما کان لہ من فئۃ ینصرونہ من دون اللہ وما کان من المنتصرین کے یہی معنی ہیں) ” اور سارے بنی اسرائیل جو ان کے پاس تھے، ان کے چلانا سن کے بھاگے کہ انہوں نے کہا ایسا نہ ہو کہ زمین ہم کو بھی نگل جاوے ‘ ـ ‘، انتہٰی ملخصاً ویکان اللہ یبسط الرزق لمن یشاء من عبادہ ویقدر (دنیا کی مالداری کچھ مقبولیت کی دلیل نہیں) لولا ان من اللہ علینا لخسف بناویکانہ 1 ؎ لایفلح الکافرون کے یہی معنی ہیں، یعنی اس کی دولت دیکھ کر جو ہم حسرت کرتے تھے اور اس کو بڑا شخص جانتے تھے، اگر اور لوگوں کی طرح ہم بھی ان کے ساتھ ہوجاتے تو ہلاک ہوجاتے۔ کافرون یعنی پیغمبروں سے مقابلہ کرنے والوں کو فلاح نہیں ہوتی۔ قارون 2 ؎ کی دولت کا توریت میں کچھ ذکر نہیں مگر قرآن سے اس کا مالدار ہونا معلوم ہوتا ہے اور اپنی قوم میں بڑا مالدار تھا یہ مال اس نے مصر میں تجارت یا فرعون کی نوکری سے حاصل کیا تھا، باقی اس کی کیمیا گری اور فسوں سازی کے جو افسانے لوگوں نے لکھے ہیں، بےسند باتیں معلوم ہوتی ہیں۔ قصہ گو تھوڑی سی بات کو بڑا کرلیتے ہیں۔ 2 ؎ گو یہ قصہ توریت میں بھی مگر قرآن مجید نے کن الفاظ میں ادا کیا اور کس خوب کے ساتھ جو عبرت دلاتا اور دنیا سے بےرغبتی پیدا کرتا ہے۔ 12 منہ
Ayah 28:82

وَ اَصْبَحَ الَّذِیْنَ تَمَنَّوْا مَكَانَهٗ بِالْاَمْسِ یَقُوْلُوْنَ وَیْكَاَنَّ اللّٰهَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَ یَقْدِرُ١ۚ لَوْ لَاۤ اَنْ مَّنَّ اللّٰهُ عَلَیْنَا لَخَسَفَ بِنَا١ؕ وَیْكَاَنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْكٰفِرُوْنَ۠ Open ayah 28:82 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو کل اس کے مرتبہ کی تمنا کرتے تھے آج صبح کو کہنے لگے کہ ہائے رے ! اللہ اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہتا ہے روزی فراخ کرتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کرتا ہے۔ اگر خدا کی ہم پر مہربانی نہ ہوتی تو ہم کو بھی زمین میں دھنسا دیا ہوتا، ہائے کافروں کو فلاح نہیں ہوتی۔

1 ؎ ویکانہ ویک عند الکونین بمعنی ویلک وجوز جار اللہ ان یکون الکاف کاف الخطاب مضموتہ اے وای 12 منہ
Ayahs 28:83–88

تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًا١ؕ وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ Open ayah 28:83 in the Quran reader

(دنیا تو عام ہے) یہ آخرت کا گھر ہم خاص ان کو ہی دیتے ہیں جو نہ زمین میں گردن کشی کرنا چاہتے ہیں اور نہ فساد اور انجام تو پرہیزگاروں کا ہی اچھا ہے

مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ خَیْرٌ مِّنْهَا١ۚ وَ مَنْ جَآءَ بِالسَّیِّئَةِ فَلَا یُجْزَى الَّذِیْنَ عَمِلُوا السَّیِّاٰتِ اِلَّا مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 28:84 in the Quran reader

جو کوئی نیکی لے کر آئے گا تو اس کو اس سے بہتر بدلہ ملے گا اور جو کوئی بدی لائے گا سو بدی کرنے والوں کو اسی قدر سزا دی جائے گی، جو وہ کرتے تھے۔

اِنَّ الَّذِیْ فَرَضَ عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ لَرَآدُّكَ اِلٰى مَعَادٍ١ؕ قُلْ رَّبِّیْۤ اَعْلَمُ مَنْ جَآءَ بِالْهُدٰى وَ مَنْ هُوَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 28:85 in the Quran reader

(اے نبی ! ) جس نے آپ پر قرآن فرض کیا ہے وہ ضرور آپ کو معاد کی طرف پھیر لائے گا۔ (اے نبی ! ) کہہ دو میرا رب خوب جانتا ہے کہ کون دین حق لے کر آیا ہے اور کون صریح گمراہی میں پڑا ہوا ہے

وَ مَا كُنْتَ تَرْجُوْۤا اَنْ یُّلْقٰۤى اِلَیْكَ الْكِتٰبُ اِلَّا رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ ظَهِیْرًا لِّلْكٰفِرِیْنَ٘ Open ayah 28:86 in the Quran reader

اور آپ کو توقع بھی نہ تھی کہ آپ پر کتاب اتاری جائے گی، مگر آپ کے رب کی آپ پر مہربانی ہوئی (جو کتاب اتاری) پھر کافروں کی طرف داری نہ کرنا

وَ لَا یَصُدُّنَّكَ عَنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ بَعْدَ اِذْ اُنْزِلَتْ اِلَیْكَ وَ ادْعُ اِلٰى رَبِّكَ وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۚ Open ayah 28:87 in the Quran reader

اور ایسا نہ ہو کہ اللہ کی آیتیں نازل ہوچکنے کے بعد آپ کو ان سے کوئی باز رکھے اور آپ لوگوں کو اپنے رب کی طرف بلاتے چلے جایئے اور ہرگز مشرکین میں شامل نہ ہونا

وَ لَا تَدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ۘ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١۫ كُلُّ شَیْءٍ هَالِكٌ اِلَّا وَجْهَهٗ١ؕ لَهُ الْحُكْمُ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ۠ Open ayah 28:88 in the Quran reader

اور اللہ کے ساتھ اور کسی معبود کو نہ پکارنا، اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ ہر چیز مٹ جانے والی ہے، مگر اس کی ذات اسی کی بادشاہی ہے، اسی کے پاس تم کو پھر کر جانا ہے۔

ترکیب : تلک مبتداء والدار لغت و نجعلہا خبر من موضع نصب میں ہے۔ اعلم سے ومن یہ معطوف ہے، من اول پر۔ الا رحمۃ ای ولکن القی رحمۃ الاوجہہ استثناء من الجنس ای الا ایاہ۔ تفسیر : قارون کی بربادی کا حال بیان فرما کر اور یہ بات ثابت کرکے کہ دار آخرت کی نعماء باقی اور بہتر ہیں۔ یہ بات بتلاتا ہے کہ اس دار آخرت کا کون مستحق ہے اور کن کن باتوں سے حاصل ہوتا ہے۔ فقال تلک الدار الآخرۃ نجعلہا للذین لا یریدون علوًا فی الارض ولا فسادًا کہ یہ دار آخرت ہم اس کو دیں گے کہ جو دنیا میں سرکشی اور فساد کرنے کا قصد بھی نہ کرے گا۔ علو گردن کشی ‘ تکبر ‘ اس کی ضد اسلام گردن نہادن یعنی جو اللہ اور اس کے رسول کے آگے گردن جھکائے ان کی سب باتوں کو مانے، اس میں تمام عقائد آگئے۔ یعنی قوت نظریہ کی تکمیل اور فساد کی ضد اصلاح ہے، اس میں اعمال صالحہ آگئے، یعنی نیک کام کرے۔ اب یہ خیال کرنا کہ دار آخرت کے لیے ایمان اور عمل صالح کی کوئی شرط نہیں تکبر اور فساد نہ کرنا ہی کافی ہے، محض غلط خیال ہے۔ ان اعتقادیات اور عملیات کو ترک تکبر اور فساد کے الفاظ سے اس لیے تعبیر کیا ہے کہ فرعون اور قارون کہ جن کا اس سورة میں ذکر ہے، وہ کمبخت اسی تکبر اور فساد سے ہلاک ہوئے ہیں۔ والعاقبۃ للمتقین اس کی تصریح ہے کہ ترک تکبر اور ترک فساد سے ایمان اور عمل صالح مراد ہیں، کیونکہ بغیر اس کے متقی نہیں ہوتے اور عاقبت یعنی آخرت اور اس کی خوبیاں متقیوں کے لیے ہیں۔ یہ جملہ کلام سابق کی تفسیر یا تاکید ہے، من جاء بالحسنۃ الخ میں اور بھی تصریح و تفصیل ہے کہ جو کوئی نیکی کرے گا اس سے بھی بہتر بدلہ پاوے گا اور جو بدی کرے گا اس کی سزا پاوے گا۔ یہ دار آخرت کا قانون ہے۔ کفار اور بت پرست دار آخرت کا ذکر سن کر کہتے تھے کہ دراصل ہم ہی دار آخرت کے مستحق ہیں جو کام ہم کررہے ہیں، وہی ہدایت اور سعادت کے کام اور دار آخرت کے وسائل ہیں۔ (اور تمام مذاہب باطلہ کو یہی خبط ہے کہ وہ اپنے اعتقادِ بد اور عمل فاسد کو موجب نجات جانتے ہیں، دوسرے کو محروم) اور اسی لیے آنحضرت ﷺ کو کہتے تھے کہ تجھے دار آخرت نصیب نہیں اور نہ تو ہدایت پر ہے۔ اس کے جواب میں فرماتا ہے ان الذی فرض علیک القرآن لرآدُّک الی معاد کہ جس نے تجھ پر قرآن کا پڑھنا اور لوگوں کو سنانا فرض کیا جو راہ راست اور ہدایت کا سرچشمہ ہے، ضرور تجھے معاد یعنی دار آخرت میں پہنچاوے گا۔ یعنی وہاں کی خوبیاں نصیب کرے گا۔ معاد جائے بازگشت۔ اس میں ایک لطیف اشارہ اس طرف بھی ہے کہ یہ کفار جو تجھے مکہ سے نکالتے ہیں ہم پھر تجھے یہاں لاویں گے، چناچہ بعد ہجرت کے آنحضرت ﷺ مکہ میں تشریف لائے اور یہاں کے قابض ہوئے، خدا تعالیٰ نے اس پیشین گوئی کو صادق کردیا اور حضرت کا اعجاز پورا ہوا۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک سے روایت کیا ہے کہ جب آپ مکہ سے نکلے اور جحفہ تک پہنچے تو مکہ کا شوق ہوا، تب یہ آیت نازل ہوئی۔ بخاری نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ معاد سے مکہ مراد ہے۔ اور ان سے کہہ دے کہ اللہ ہی جانتا ہے کہ ہدایت پر کون ہے اور گمراہی صریح میں کون پڑا ہوا ہے۔ پھر آنحضرت ﷺ کو تسکین دیتا ہے، وماکنت ترجوا الخ کہ اس وحی کی تجھے تو امید بھی نہ تھی، پھر خود ہم نے اپنی رحمت سے قرآن نازل کیا، پھر تو خاموشی اختیار کرکے کافروں کا مددگار نہ بن اور ان کے شبہات سے اللہ کی آیتوں سے نہ رُک۔ تو شوق سے اپنے رب کی طرف لوگوں کو بلا اور مشرکوں میں شامل نہ ہو اور اللہ کے سوا کسی کو نہ پکار کیونکہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اس کے سوا جو کوئی ہو تو فنا ہونے والا ہے، دنیا سے 1 ؎ یا ممکن الوجود ہے، مگر وہ وجہہ سے اس کی ذات تعبیر کی گئی ہے اور اس کی بادشاہی ہے اور سب کو اسی کے پاس پھر کر آنا ہے۔ یہ تین علامتیں معبود برحق کی ہیں، باقی اور ابدی ہونا۔ بادشاہی ہونا، اس کے پاس سب کو پھر کر آنا۔ یہ باتیں اور کسی میں نہیں، پس وہ معبود بھی نہیں، اس لیے ان کے پکارنے سے منع کیا۔ حاصل یہ کہ تو راہ راست پر ہے اور لوگوں کو توحید کی تعلیم کر ان کے کہنے کا کچھ بھی خیال نہ کر۔ سبحان اللہ سورة کو کن عمدہ مقاصد پر کس لطف کے ساتھ تمام کیا ہے۔ 1 ؎ اس قید سے وہ تعارض اٹھ گیا جو نعماء جنت کے لیے دائمی اور باقی رہنے والا فرمایا ہے اس کس لیے کہ اس نعماء اور ہلاک سے مراد فنا اس عالم کا ہے اور جس نے مالک کے معنی ممکن الوجود کے لیے ہیں اس کے نزدیک تو سرے سے تعارض ہی نہیں۔ 12 منہ