28. Surah Al-Qasas

القصصThe Stories · 88 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 28:39–44

وَ اسْتَكْبَرَ هُوَ وَ جُنُوْدُهٗ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ اِلَیْنَا لَا یُرْجَعُوْنَ Open ayah 28:39 in the Quran reader

اور فرعون اور اس کے لشکروں نے ناحق کا ملک میں سر اٹھایا تھا اور سمجھ لیا تھا کہ ہماری طرف لوٹ کر نہ لائے جائیں گے

فَاَخَذْنٰهُ وَ جُنُوْدَهٗ فَنَبَذْنٰهُمْ فِی الْیَمِّ١ۚ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 28:40 in the Quran reader

پھر ہم نے اس کو اور اس کے لشکروں کو پکڑ لیا۔ پھر ان کو دریا میں پھینک دیا سو دیکھئے ستمگاروں کا کیا انجام ہوا

وَ جَعَلْنٰهُمْ اَئِمَّةً یَّدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ١ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ لَا یُنْصَرُوْنَ Open ayah 28:41 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو پیشوا بنایا تھا (گمراہی میں) ۔ وہ لوگوں کو جہنم کی طرف بلایا کرتے تھے اور قیامت کے دن ان کو مدد نہ پہنچے گی

وَ اَتْبَعْنٰهُمْ فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا لَعْنَةً١ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ هُمْ مِّنَ الْمَقْبُوْحِیْنَ۠ Open ayah 28:42 in the Quran reader

اور ہم نے اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگادی اور قیامت کے دن تو ان کی بہت بری گت ہوگی

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ مِنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَهْلَكْنَا الْقُرُوْنَ الْاُوْلٰى بَصَآئِرَ لِلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 28:43 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی (تورات) بعد اس کے کہ ہم پہلے قرنوں کو ہلاک کرچکے تھے۔ وہ کتاب لوگوں کے لیے بینائی اور ہدایت اور رحمت تھی تاکہ وہ لوگ سمجھیں (اور نصیحت پکڑیں)

وَ مَا كُنْتَ بِجَانِبِ الْغَرْبِیِّ اِذْ قَضَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسَى الْاَمْرَ وَ مَا كُنْتَ مِنَ الشّٰهِدِیْنَۙ Open ayah 28:44 in the Quran reader

اور (اے محمد ! ) جبکہ ہم نے موسیٰ کے لیے نبوت کا حکم دیا تھا تو آپ (کوہ طور کے) غربی جانب موجود نہ تھے اور نہ آپ ان کو دیکھ رہے تھے،

وَ یْومَ الْقِیٰمَۃِ ھم من المقبوحین تک فرعون اور موسیٰ ( علیہ السلام) کا قصہ تھا۔ اس کو تمام کرکے ولقد آتینا موسیٰ الکتب الخ سے اس قصہ کے نتائج کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ جب پہلی قرن یعنی زمانے والے ہلاک ہوچکے تو خلق کی رہنمائی کے لیے ہم نے موسیٰ کو مبعوث کیا۔ اس کو یہ یہ باتیں پیش آئیں، جنگل میں کلام کیا۔ معجزات دیے اور کتاب یعنی تورات عطا کی جو بصارت اور ہدایت اور رحمت تھی۔ سمجھداروں کے لیے اس طرح موسیٰ ( علیہ السلام) کے بعد جب گمراہی کا ایک زمانہ دراز گزر گیا۔ خلق کی ہدایت کے لیے اے محمد ﷺ تجھ کو مبعوث کیا اور تجھ پر قرآن نازل کیا جس میں گزشتہ انبیاء کے صحیح صحیح واقعات تجھ پر ظاہر کئے ورنہ اے محمد ﷺ نہ تو آپ جانب غربی میں تھے، یعنی اس مکان میں جو غربی رخ تھا، جہاں کہ ہم نے موسیٰ ( علیہ السلام) کو وحی بھیجی۔ اس سے مراد کوہ طور کی وادی ہی ہے جو عرب میں غربی سمت پر واقع ہے، یا اسی وادی کے غربی جانب مراد ہے۔ وَمَاکُنْتَ مِنَ الشّٰہْدِیْنَ اور نہ تو اس معاملہ کا دیکھنے والا تھا۔ ابن عباس ؓ کہتے ہیں، یہ معنی ہوئے کہ نہ تو آپ اس جگہ موجود تھے اور جو موجود بھی ہوتے تو ان وقائع کو نہ دیکھتے۔ وَلٰکِنَّآ اَنْشَاْنَا قُرُوْنًا لیکن موسیٰ ( علیہ السلام) کے عہد سے لے کر تیرے زمانہ تک بہت سے قرن 1 ؎ پیدا کئے۔ فتطاول علیہم العمر پس بعد زمانہ کی وجہ سے علوم اور شرائع معدوم ہوگئے تھے تو ہم پر رسول بھیجنا ضرور ہوا، پھر تفصیل کرتا ہے۔ وماکنت ثاویا ای مقیما فی اھل مدین کہ نہ تو مدین میں رہا کرتا تھا جو تتلوا علیہم آیٰتِنا تو ان مکہ والوں کو ان کے حالات بتا رہا ہے۔ (مقاتل) اور ضحاک کہتے ہیں تو مدین والوں کا رسول نہ تھا، بلکہ ان کا اور رسول تھا شعیب۔ تو اور رسول ہے جو سب کے بعد آیا۔ وَمَا کُنْتَ بِجَانِبِ الطُّوْرْ اذ نادَیْنَا اور نہ تو کوہ طور کے پاس تھا، جبکہ ہم نے موسیٰ کو پکارا۔ یہ موسیٰ ( علیہ السلام) کہ کسی دوسرے واقعہ کی طرف اشارہ ہے، جبکہ ستر آدمیوں کو لے کر گئے تھے۔ وَلٰکِنَّ رَحْمَۃً مِّنْ رَّبّْکَ مگر تیرے رب نے اپنے فضل سے تجھ پر وحی کی اور یہ باتیں بتائیں اور تجھ کو رسول بنایا۔ لتنذر قومًا کہ تو ان لوگوں کو متنبہ کرے کہ جن کے پاس رسول نہیں آیا وہ تیرے زمانہ کے لوگ ہیں، یتذکرون تاکہ وہ سمجھیں اور ہدایت پاویں۔
Ayahs 28:45–46

وَ لٰكِنَّاۤ اَنْشَاْنَا قُرُوْنًا فَتَطَاوَلَ عَلَیْهِمُ الْعُمُرُ١ۚ وَ مَا كُنْتَ ثَاوِیًا فِیْۤ اَهْلِ مَدْیَنَ تَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَا١ۙ وَ لٰكِنَّا كُنَّا مُرْسِلِیْنَ Open ayah 28:45 in the Quran reader

لیکن ہم نے بہت سے ان کے بعد قرن 1 ؎ پیدا کئے ‘ مدتیں دراز گزر گئیں اور نہ تو آپ مدین کے لوگوں میں ہی رہا کرتے تھے۔ جو ان کو ہماری آیتیں سنایا کرتے تھے، لیکن ہم رسول بھیجتے رہے۔

وَ مَا كُنْتَ بِجَانِبِ الطُّوْرِ اِذْ نَادَیْنَا وَ لٰكِنْ رَّحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اَتٰىهُمْ مِّنْ نَّذِیْرٍ مِّنْ قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 28:46 in the Quran reader

(اسی طرح آپ کو بھیجا اور الہام سے یہ واقعات آپ کو معلوم ہوئے) لیکن آپ کے رب کی رحمت ہے کہ اس نے آپ کو نبی بناکر بھیجا تاکہ آپ اس قوم کو تنبیہ کریں کہ جن کے پاس آپ سے پہلے کوئی ڈر سنانے والا نہیں آیا تاکہ وہ نصیحت پکڑیں۔

1 ؎ قرن سینگ کو ہی کہتے ہیں اور زماہ کو ہی یہاں اخیر معنی مراد ہیں قرن میں اختلاف ہے کوئی بارہ برس کے زمانہ کو قرن کہتا ہے کوئی کہتا ہے اس سے زیادہ کو کہتے ہیں اس کا ہندی میں ٹھیٹھ ترجمہ جگ ہے کہتے ہیں کئی جگ بیت گئے یعنی کئی زمانے گزر گئے چونکہ آج کل خود قرن کا لفظ مستعمل ہے اس لیے ہم نے اسی کو رہنے دیا اور جہاں کہ آیا ہم نے بہت سے قرن ہلاک کیے وہاں مراد یہ ہے کہ بہت سے قرنوں کے لوگ ہلاک کیے۔ 12 منہ
Ayahs 28:47–50

وَ لَوْ لَاۤ اَنْ تُصِیْبَهُمْ مُّصِیْبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ فَیَقُوْلُوْا رَبَّنَا لَوْ لَاۤ اَرْسَلْتَ اِلَیْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰیٰتِكَ وَ نَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 28:47 in the Quran reader

اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ ان کے اپنے ہی اعمالِ بد کے سبب سے ان پر مصیبت نازل ہوجائے (اس وقت) کہنے لگے کہ اے ہمارے پروردگار ! ہمارے پاس تو نے کس لیے رسول نہیں بھیجا کہ ہم تیری آیتوں پر چلتے (حکموں کو مانتے) اور ایمان لانے والوں میں سے ہوتے،

فَلَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُوْتِیَ مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى١ؕ اَوَ لَمْ یَكْفُرُوْا بِمَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى مِنْ قَبْلُ١ۚ قَالُوْا سِحْرٰنِ تَظٰهَرَا١ٙ۫ وَ قَالُوْۤا اِنَّا بِكُلٍّ كٰفِرُوْنَ Open ayah 28:48 in the Quran reader

پھر جب کہ ان کے پاس ہماری طرف سے دین حق آگیا تو یہ کہنے لگے کہ رسول کو ویسا (معجزہ) کیوں نہ دیا گیا۔ جیسا موسیٰ کو دیا گیا تھا، کیا جو معجزے موسیٰ کو دیے گئے تھے لوگوں نے ان کا پہلے انکار نہیں کیا تھا۔ کہہ دیا تھا دونوں جادوگر (اور) دوسرے کا مددگار ہے اور (صاف صاف) کہتے تھے کہ ہم کسی کو بھی نہیں مانتے۔

قُلْ فَاْتُوْا بِكِتٰبٍ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ هُوَ اَهْدٰى مِنْهُمَاۤ اَتَّبِعْهُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 28:49 in the Quran reader

(اے رسول ! ) آپ ان سے کہہ دیں کہ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو تو خدا کے پاس سے کوئی ایسی کتاب لاؤ جو ان دونوں سے ہدایت میں بڑھ کر ہو کہ میں اس پر چلوں،

فَاِنْ لَّمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَكَ فَاعْلَمْ اَنَّمَا یَتَّبِعُوْنَ اَهْوَآءَهُمْ١ؕ وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَیْرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 28:50 in the Quran reader

پھر اگر آپ کا کہنا نہ کریں (نہ مانیں) تو جان لو کہ وہ صرف اپنی خواہشوں کے تابع ہیں اور ان سے بڑھ کر کون گمراہ ہوگا کہ جو خدا کی ہدایت چھوڑ کر اپنی خواہشوں پر چلتا ہو، بیشک اللہ ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں کرتا (توفیق قبول ہدایت کی نہیں دیتا)

ترکیب : لولا کلمہ شرط ان تصیبہم ان مصدر یہ بما تصیبھم سے متعلق ای لولا اصابۃ المصیبۃ علیھم بسبب ما ای اعمال سیئۃ قدمت والعائد محذوف ای اعمال کسبوھا فیقولواتفریح یا تعقیب کے لیے پورے جملہ مقدمہ سے یعنی لووقع علیھم المصیبۃ باعمالھم لقالوا ربنا الخ یہ سب جملہ حیز شرط میں ہے جو اب مخدوف ما ارسلناک الیھم رسولا۔ قالوا سحران جملہ بیان ہے۔ اولم یکفروا کا ساحران بالا لف ای موسیٰ و ہارون و قیل موسیٰ و محمد وبغیر الالف سحران القرآن والتوراتہ۔ تفسیر : لولا ان تصیبہم مصیبتہ یہاں سے پھر اسی رسولوں کے بھیجنے کے مسئلہ کو مدلل کرتا ہے کہ ہم اس لیے بھی رسول بھیجا کرتے ہیں کہ لوگ جب ان پر ان کے اعمالِ بد کی شامت سے عذاب آوے یہ نہ کہنے لگیں کہ اگر اللہ ہمارے پاس رسول بھیجتا تو ہم آیات الٰہی پر چلتے ایماندار ہوجاتے، اس مصیبت کو نہ دیکھتے، کس لیے کہ پھر برے کام ہی نہ کرتے۔ اس الزام کو دفع کرنے کے لیے بھی اللہ تعالیٰ نے دنیا میں انبیاء بھیجے تاکہ پھر کسی کو کوئی عذر باقی نہ رہے، لیکن فلما جائھم الحق الخ جب ان کے پاس دین حق آیا تو اس میں شبہات کرنے لگے کہ لولا اوتی مثل ما اوتی موسیٰ اس رسول کو ایسے معجزے کیوں نہ دیے گئے جو موسیٰ کو دیے گئے تھے۔ عصا کا سانپ بن جانا یدبیضا وغیرہ۔ خدا تعالیٰ ان کے اس شبہ کا جواب دیتا ہے۔ اولم یکفروا بما اوتی موسیٰ من قبل قالوا سحران تظاھرا کہ کیا اگلے لوگوں نے موسیٰ ( علیہ السلام) کا پہلے انکار نہیں کردیا ہے اور کہہ دیا کہ دونوں بھائی جادوگر ہیں، ایک دوسرے کا مددگار بن گیا ہے۔ قریش نے یہود مدینہ کے کہنے سے یہ کہا تھا کہ موسیٰ ( علیہ السلام) کے مانند معجزات دکھاؤ، فرمایا کہ موسیٰ ( علیہ السلام) کو کب لوگوں نے مانا تھا اور یہ قریش اب بھی موسیٰ ( علیہ السلام) کو کب مانتے ہیں، دونوں بھائیوں کو ساحر کہتے ہیں۔ جس نے ساحران پڑھا ہے تب تو معنی ظاہر اور جس نے سحران پڑھا ہے تب تو یہ مبالغہ پر محمول ہوگا۔ جیسا کہ زید عدل یا سحران بمعنی ذوسحران بعض مفسرین کہتے ہیں سحران تظاھرا سے ان کی مراد توریت و قرآن ہے جو اپنے مضامین کی مطابقت کی وجہ سے ایک دوسرے کی تصدیق کرتی ہے اور یہی تظاہر یعنی باہم مدد کرتا ہے اور اسی پر بس نہیں بلکہ وقالوا انابکل کفرون یہ بھی کہہ دیا کہ ہم سب کے منکر ہیں، نہ توریت کو مانتے ہیں نہ قرآن کو نہ موسیٰ و ہارون کو نہ محمد کو۔ ضرورت نبوت : اس کے جواب میں فرماتا ہے، یہ تو تم بھی مانتے ہو کہ اللہ اپنے بندوں پر لطف و کرم کرتا ہے۔ ان کی سخت ضرورتوں کو دفع کرتا ہے۔ ماں کے پیٹ سے نکلتے ہی بچہ کے لیے دودھ تیار کردیتا ہے، وقت پر مینہ برساتا ہے۔ طیور کو پر اور درندوں کو دانت اور جنگل عطاء کرتا ہے۔ پھر انسان کی اس سے بڑھ کر اور کیا ضرورت ہے کہ اختلاف عقول و عادات کے وقت دار آخرت اور راہ راست بتانے کے لیے اس کے پاس کوئی اس کا بھی دستور العمل آنا چاہیے کہ جس پر چلے قل فاتوا بکتاب من عنداللہ ھواھدی منہما اتبعہ ان کنتم صادقین اب تم کوئی کتاب الٰہی توریت اور قرآن سے بہتر بتلاؤ کہ میں بھی اس پر چلوں، اگر تم سچے ہو۔ فان لم یستجیبوا لک فاعلم انما یتبعون اھوائھم پس اگر وہ کوئی ایسی کتاب نہ لاسکیں تو ظاہر ہوجائے گا کہ وہ اپنی خواہش نفسانی کے پیرو ہیں، جھوٹی حجتیں کرتے ہیں۔ ومن اضل الخ اور جو ایسا کرتا ہے اس سے زیادہ کون گمراہ ہو ؟ یہ ہٹ دھرم بےانصاف ہیں اور ہٹ دھرم بےانصافوں کو ہدایت نصیب نہیں ہوتی۔ غرض یہ کہ رسول نہ آتا تو یوں عذر کرتے اور وہ بھی جبکہ ان پر عذاب آتا نہ کہ اپنے کفر پر آخرت میں آپ نادم ہوتے۔ (بل بےتمہارا کفر) اور جو رسول آیا تو یوں کہنے لگے۔ پھر ایسوں کو ہدایت کہاں ؟ ازلی بدنصیب ہیں۔
Ayahs 28:51–56

وَ لَقَدْ وَصَّلْنَا لَهُمُ الْقَوْلَ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَؕ Open ayah 28:51 in the Quran reader

اور البتہ ہم ان کے پاس ہدایت بھیجتے رہے تاکہ وہ سمجھیں

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِهٖ هُمْ بِهٖ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 28:52 in the Quran reader

(وہ جو منصف ہیں) جن لوگوں کو ہم نے اس (قرآن) سے پہلے کتاب دی ہے وہ اس پر ایمان لاتے ہیں

وَ اِذَا یُتْلٰى عَلَیْهِمْ قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِهٖۤ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّنَاۤ اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلِهٖ مُسْلِمِیْنَ Open ayah 28:53 in the Quran reader

اور جب ان کو یہ کلام الٰہی سنایا جاتا ہے تو کہتے ہیں ہم ان پر ایمان لائے۔ یہ حق ہے ہمارے رب کی طرف سے ہم تو اس کو پہلے ہی سے مانتے ہیں۔

اُولٰٓئِكَ یُؤْتَوْنَ اَجْرَهُمْ مَّرَّتَیْنِ بِمَا صَبَرُوْا وَ یَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّیِّئَةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ Open ayah 28:54 in the Quran reader

یہ ہیں وہ لوگ کہ جن کو دوگنا بدلہ ملے گا، ان کے صبر کی وجہ سے اور یہ نیکی کے ساتھ بدی کو دفع کرتے ہیں اور ہمارے دیے میں سے کچھ دیتے ہیں

وَ اِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ وَ قَالُوْا لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ١٘ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ١٘ لَا نَبْتَغِی الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 28:55 in the Quran reader

اور جب بےہودہ بات سنتے ہیں تو اس سے کنارہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارے لیے ہمارے اعمال اور تمہارے لیے تمہارے اعمال (دور ہی سے) تم کو سلام ہے، ہم جاہلوں کو نہیں چاہتے۔

اِنَّكَ لَا تَهْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 28:56 in the Quran reader

(اے رسول ! ) آپ جس کو چاہیں ہدایت نہیں کرسکتے، لیکن اللہ جس کو چاہتا ہے ہدایت کرتا ہے اور وہی راہ پر آنے والوں کو خوب جانتا ہے۔

ترکیب : لہم وصلنا سے ای متعلق بینا القول القرآن مفعول و صلنا۔ من قبلہ ای من قبل القران پس یہ آیتنا سے متعلق ہے۔ تفسیر : اہل مکہ کا ایک یہ بھی شبہ تھا کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی طرح ایک ہی بار تمام کتاب محمد ﷺ کو کیوں نہ دی گئی ؟ تھوڑا تھوڑا کیوں نازل ہوتا ہے ؟ اور نیز کیا موسیٰ ( علیہ السلام) کی کتاب کافی نہ تھی۔ پھر نئی کتاب کیوں نازل کی گئی ؟ (آج کل کے بعض ناواقف پادریوں نے بھی یہی شبہ کیا ہے) اس کا جواب دیتا ہے، ولقد وصلنا لہم القول لعلہم یتذکرون کہ ہم جو پے درپے 1 ؎ قول یعنی ہدایت کی بات قرآن مجید اور اس کی آیات یکے بعد دیگر اس لیے بھیجتے رہے کہ وہ سمجھیں ہر روز ایک نئے فائدے اور نئی حکمت سے فیض اٹھانا اور تدریجاً یاد کرنا اور ہر ایک وقت اور زمانہ کی ضرورت کے موافق حکمت نوآمیسیہ اور اسرار شریعت سے واقف ہونا زیادہ تر موثر ہے۔ جیسا کہ مشاہدہ اور تجربہ شاہد ہے۔ 1 ؎ قرآن 12 منہ الذین اٰیتناھم الکتب 1 ؎ من قبلہ ھم بہ یؤمنون تمہارے اس شبہ کی کچھ بنیاد نہیں، وہ لوگ کہ جن کو اس سے پہلے کتابیں دی گئی ہیں توریت، زبور و دیگر صحف انبیاء و انا جیل وہ قرآن مجید کے مضامین عالیہ پر نظر کرکے اس پر ایمان لاتے ہیں اور جانتے ہیں کہ مصلحتوں کے لحاظ سے ہر وقت میں یکے بعد دیگر خدا تعالیٰ انبیاء پر الہام کرتا آیا ہے۔ توریت کے بعد زبور اور پھر اور بہت سے نبیوں کی کتابیں اور ان کے بعد انجیل مقدس نازل ہوئی، ایک کتاب کافی نہ سمجھی گئی اور یہ بھی نہیں ہوا کہ ان کتابوں کو ایک ہی بار نازل کردیا ہو اور نہ وہ صرف ایمان ہی لاتے ہیں بلکہ اذا یتلٰی علیہم الخ وہ اس کے برحق ہونے کی گواہی بھی دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم تو اس پر پہلے ہی سے ایمان لائے ہوئے ہیں، کیونکہ پہلی کتابوں میں انہوں نے اس کی بابت پیشین گوئیاں دیکھی تھیں، پس اعتباران اہل علم کی شہادت کا ہے جو کلام الٰہی کے پہچاننے کا ملکہ رکھتے ہیں نہ کہ تم جاہلوں کا کہ تم کلام الٰہی کے اسلوب ہی سے واقف نہیں۔ پھر تمہارے شبہ کی کیا وقعت ہو ؟ قتادہ کہتے ہیں کہ یہ ان کی نسبت ہے کہ جو آنحضرت ﷺ کے مبعوث ہونے سے پہلے شریعت سابقہ پر عمل کرتے تھے، پھر جب آنحضرت ﷺ مبعوث ہوئے تو آپ پر بھی ایمان لائے۔ منجملہ ان کے سلمان اور عبداللہ بن سلام ؓ ہیں۔ مقاتل کہتے ہیں، چالیس عیسائیوں کی طرف اشارہ ہے کہ جن میں سے بتیس آدمی تو وہ ہیں کہ جو جعفر ؓ کے ساتھ کشتی میں سوار ہو کر حبشہ سے آئے تھے اور آٹھ شام سے آئے تھے اور رفاعہ بن قرطہ ؓ کہتے ہیں کہ دس آدمیوں کے بارے میں ہے کہ جن میں سے ایک میں بھی ہوں، مگر ان کی خصوصیت نہیں جس کسی میں یہ صفات پائے جاویں۔ (نیشاپوری) خدا تعالیٰ ان لوگوں کے حق میں خوشخبری دیتا ہے اور ان کے چند اوصاف بھی ذکر فرماتا ہے، خوشخبری یہ ہے اولئک یؤتون اجرھم مرتین کہ ان کو دگنا ثواب ملے گا اور دو چند بدلہ دیا جائے گا، پہلی شریعت پر عمل کرنے کا بھی اور اس شریعت پر عمل کرنے کا بھی یا ان کے ایمان لانے کا اور پھر شہادت دینے کا کیونکہ ان کو بڑی بڑی سختیاں پیش آئی ہیں جس پر انہوں نے صبر کیا۔ بما صبروا۔ یہ اول وصف تھا ویدرون بالحسنۃ السیئۃ یہ دوسرا وصف ہے کہ جو کوئی ان سے برائی کرتا ہے وہ اس کے در جواب اس سے بھلائی سے پیش آتے ہیں۔ گالی کے بدلے دعا دیتے ہیں۔ ومما رزقناھم ینفقون کہ اللہ کے دیے میں سے دیتے ہیں۔ خیرات و صدقات بھی کرتے ہیں، صرف زبانی جمع خرچ نہیں۔ یہ تیسرا وصف تھا۔ واذا سمعوا اللغوا اعرضوا عنہ اور جب جاہلوں ‘ کج بحثوں کی بےہودہ باتیں اور رکیک حجتیں اور بد زبانیاں سنتے ہیں تو کنارہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں، اچھا بھئی تمہارے اعمال تمہارے لیے اور ہمارے اعمال ہمارے لئے، ہم تم سے لڑنا تکرار کرنا نہیں چاہتے۔ یہ چوتھا وصف ہے۔ فرماتا ہے کہ یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کہ دور سے ان اجنبیوں کو کیوں ہدایت ہوگئی اور ان لوگوں کو کیوں نہ ہوئی کہ جن کی ہدایت کی تجھے بڑی کوشش ہے کس لیے کہ انک لاتہدی من احببت الخ ہدایت تیرے قبضہ میں نہیں، اللہ جس کو چاہے ہدایت دیتا ہے۔ زجاج کہتے ہیں تمام اہل اسلام متفق ہیں کہ یہ آیت ابی طالب 2 ؎ کے بارے میں ہے۔ آنحضرت ﷺ نے بہت کچھ چاہا کہ ایمان لاویں پر وہ ایمان نہ لائے۔ اس آیت اور اس آیت میں کچھ منافات نہیں وانک لاتہدی الی صراط مستقیم کیونکہ نفی جو ہے تو ایصال الی المقصود کی ہے اور اثبات جو ہے تو ارائۃ الطریق کا یعنی آپ رستہ بتاتے ہیں مگر اس پر چلنا اور مقصد تک پہنچنا اللہ کے بس میں ہے۔ 1 ؎ اہل کتاب کے علماء کی طرف اشارہ ہے وہ اپنی کتابوں میں آنحضرت ﷺ کا ذکر دیکھ کر حضرت ﷺ کے ظاہر ہونے سے پہلے اسلام کی طرف مائل تھے۔ 12 منہ 2 ؎ بخاری نے روایت کیا ہے کہ جب ابی طالب کا وقت وفات قریب پہنچا۔ تو آنحضرت ﷺ ان کے پاس آئے وہاں ابوجہل اور عبد اللہ بن ابی امیہ بھی موجود تھے آپ نے فرمایا اے چچا کلمہ لا الہ الا اللہ کہہ لے میں اس سے تیرے لیے اللہ کے ہاں سند پکڑوں گا۔ ان دونوں نے کہا اے ابی طالب کیا تو ملت عبد المطلب سے پھرتا ہے حضرت بار بار وہی فرماتے تھے اور وہ بھی وہی اپنی کہتے تھے یہاں تک کہ آخر میں مطالب نے یہی کہہ دیا کہ میں تو عبد المطلب کے مذہب پر ہوں اور کلمہ طیب نہ کہا۔ حضرت ﷺ کو رنج ہوا جس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ 12 منہ۔
Ayahs 28:57–59

وَ قَالُوْۤا اِنْ نَّتَّبِعِ الْهُدٰى مَعَكَ نُتَخَطَّفْ مِنْ اَرْضِنَا١ؕ اَوَ لَمْ نُمَكِّنْ لَّهُمْ حَرَمًا اٰمِنًا یُّجْبٰۤى اِلَیْهِ ثَمَرٰتُ كُلِّ شَیْءٍ رِّزْقًا مِّنْ لَّدُنَّا وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 28:57 in the Quran reader

اور (کفار مکہ) کہتے ہیں۔ اگر ہم آپ کے ساتھ ہدایت پر چلیں تو اپنے ملک سے اچکا لیے جاویں۔ کیا ہم نے ان کو حرم میں امن سے جگہ نہیں دے رکھی ہے کہ جس کی طرف ہر قسم کے میوے کھنچے چلے آتے ہیں جو ہماری طرف سے روزی ہے، لیکن ان میں سے اکثر نہیں جانتے

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْیَةٍۭ بَطِرَتْ مَعِیْشَتَهَا١ۚ فَتِلْكَ مَسٰكِنُهُمْ لَمْ تُسْكَنْ مِّنْۢ بَعْدِهِمْ اِلَّا قَلِیْلًا١ؕ وَ كُنَّا نَحْنُ الْوٰرِثِیْنَ Open ayah 28:58 in the Quran reader

اور ہم نے بہت سی ایسی بستیاں ہلاک کر ڈالیں کہ جو معیشت میں حد سے بڑھ کر اترا گئی تھیں سو (دیکھو) پھر ان کے گھر ہیں (کہ اجڑے پڑے ہیں) کہ جو ان کے بعد بہت ہی کم آباد ہوئے ہیں اور آخرکار ہم ہی (ان کے) وارث بنے

وَ مَا كَانَ رَبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرٰى حَتّٰى یَبْعَثَ فِیْۤ اُمِّهَا رَسُوْلًا یَّتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَا١ۚ وَ مَا كُنَّا مُهْلِكِی الْقُرٰۤى اِلَّا وَ اَهْلُهَا ظٰلِمُوْنَ Open ayah 28:59 in the Quran reader

اور آپ کا رب ایسا بھی نہ تھا کہ بستیوں کو بغیر اس کے کہ ان کی بڑی بستی میں رسول بھیجے جو ان کو ہماری آیتیں سنائے (یوں ہی) غارت کردے اور ہم بستیوں کو بغیر اس کے کہ وہاں کے لوگ نافرمان ہوجائیں۔ ہلاک نہیں کیا کرتے

ترکیب : معک نتبع سے متعلق نتخطف جواب شرط خطف ربودن اچکنا تمکن بمعنی نجعل اس لیے حرما کی طرف بنفسہ متعدی ہوا۔ امنا بمعنی مومن او ذا امن صفت ہے حرما کی یجبیٰ جملہ صفت ہے ثانیہ رزقا یجبیٰ کے معنی سے مفعول مطلق و قیل حال و کم فی موضع نصب با ھلکنا معیشتہا کا نصب بطرت ہے جس کا فاعل ضمیر قریۃً لان المعنی کفرت نعمھا اوجاوزت الحد۔ لم تسکن حال و العامل فیہ الاشارۃ الا قلیلا او زماناً قلیلا فمتاع الحیوۃ ای فالموتی متاع۔ تفسیر : مشرکین مکہ کا ایک اور شبہ تھا جس کو بعد وضوح دلائل کے پیش کیا کرتے تھے، اس کو خدا تعالیٰ یہاں نقل فرماتا ہے۔ وقالوا ان نتبع الہدیٰ معک کہ اگر ہم تیرے ساتھ ہدایت پر آجاویں تو لوگ ہم کو اسی جگہ سے مار کر نکال دیں، روایت ہے کہ حارث بن عثمان بن نوفل بن عبد مناف نے آنحضرت ﷺ سے کہا ہم جانتے ہیں جو کچھ آپ کہتے ہیں۔ حق ہے لیکن کیا کریں ہم کو خوف ہے کہ ہم کو عرب جلدی نکال دیں گے۔ ہمارے لیے جنگ پر یک بیک سب آمادہ ہوجائیں گے اور مکہ سے نکال دیں گے اور اکثر اہل دنیا حق معلوم ہوجانے پر بھی ایسے ایسے اغراض دنیا ویہ نظر کرکے دین حق قبول نہیں کیا کرتے، اس کا جواب دیتا ہے اور لم نمکن لھم حرمًا امنا الخ کہ کیا ہم نے ان کو حرم مکہ میں امن سے نہیں بسایا ہے ؟ عرب کی باہم مار دھاڑ ہوتی تھی، مگر حرم کے رہنے والوں کو کوئی نہیں چھیڑتا تھا۔ دوسرے باوجودیکہ خشک پہاڑوں میں واقع ہو مگر یجبٰی الیہ ثمرات کل شیئٍ ہر قسم کے پھل اور میوے وہاں باہر سے کھنچے چلے آتے ہیں۔ پھر جبکہ وہ مکہ میں بت پرستی کررہے ہیں، اس پر بھی ہم نے اسی جگہ کی بزرگی سے ان کو وہاں امن اور رزق دے رکھا ہے تو خدا پرستی میں یہ بات ان سے ہم کیوں دور کریں گے ؟ اور جو خدا پرستی میں کوئی مصیبت آوے اس کی برداشت کرکے دار آخرت کی نعمتیں حاصل کرنا ابدی جہنم میں جانے سے بہتر ہے، مگر عرب کے جاہلوں کو اول ان کے مسلمات ہی سے ساکت کیا، یہ جواب بعد میں دیا۔ بقولہ وکم اھلکنا من قریۃ بطرت معیشتہا الخ کہ تم ناز و نعمت کے بھروسے پر بھی نہ رہنا کیونکہ ہم نے بہت سے ایسے شہر ان کے کفر اور بدکاری کی وجہ سے ہلاک کردیے ہیں کہ جن کے سامان عیش حد سے زیادہ تھے اور وہ اس کی شکر گزاری نہ کرتے تھے، پھر ہلاک بھی ایسا کیا فتلک مساکنہم لم تسکن من بعد ھم الا قلیلا وکنا نحن الوارثین کہ ان کے مکانات خالی پڑے رہ گئے، پھر ان کے بعد ان میں کوئی آکر نہ بسا مگر کم مسافر یا کوئی وارد و صادر عارضی طور پر بابل اور نینویٰ کے خرابات ‘ کسریٰ کی عمارات ‘ صور و صیدا کے کھنڈر ‘ یمن میں عاد کے بلند محل عبرت کی نشانیاں ہیں، وہ سب مرگئے۔ آخر ہم ہی مالک رہے، کیونکہ فنائِ خلق کے بعد ہم ہی باقی رہتے ہیں۔ شبہ ہوتا تھا کہ اگر خدا کو یوں ہی شہروں کو غارت کردینا تھا تو نبی بھیجنے کی کیا ضرورت تھی ؟ دوم بہت سے ایسے شہر ہیں اور تھے کہ جو ہر طرح کی بدکاری میں مبتلا تھے۔ باوجودیکہ غارت نہ ہوئے۔ اس کا جواب دیتا ہے۔ وماکان ربک مہلک القری حتی یبعث فی امہا رسولا یتلوا علیہم اٰیتنا کہ ہماری شان یہ نہیں کہ کسی شہر یا گاؤں کو یونہی ہلاک 1 ؎ و برباد کردیں، بغیر اس کے کہ ان کے پاس ہمارا رسول آکر ان کو ہماری آیتیں سنائے۔ یعنی حجت تمام کئے بغیر ہلاک نہیں کرتے۔ رسول اللہ بھیج کر اپنے احکام سے مطلع کردیتے ہیں، اس پر بھی جب وہ نہیں مانتے تب غارت ہوتے ہیں، تاکہ بیخبر ی کا عذر باقی نہ رہے، اس لیے رسول بھیجے اور جہاں جب تک رسول نہیں آئے وہ لوگ غارت نہیں کئے گئے اور ہم ناحق کسی کو برباد نہیں کرتے۔ وماکنا مھلک القری الا و اھلہا ظٰلمون ہم جب ہی کسی بستی کو غارت کرتے ہیں کہ جب وہاں کے لوگ ظلم پر کمر باندھتے ہیں اس لیے حجت تمام کرنے کے لیے اہل مکہ تم میں رسول بھیجا۔ یہاں سے ثابت ہوا کہ نیک شہر برباد نہیں ہوتے اور وہ بربادی جب ہوتی ہے کہ جب رسول یا اس کا نائب احکام پہنچا دیتا ہے۔ پھر وہ نہیں مانتے، پھر تیسرا جواب اور دیتا ہے۔ وما اوتیتم من شیئٍ فمتاع الحیٰوۃ الدنیا الخ کہ جس دنیا اور اس کے لذائذ کے لیے تم دین قبول نہیں کرتے وہ بےحقیقت اور فانی ہے، ہاں وہ جو اللہ کے پاس ہے، بہتر اور باقی ہے۔ سرور جاودانی اسی عالم میں نصیب ہے، پھر جو کوئی بےبنیاد چیز کے لیے دائمی نعمت کو چھوڑے اس سے زیادہ کون بےعقل ہے ؟ اس لیے اخیر میں فرمایا۔ افلاتعقلون کہ تم کیوں عقل نہیں پکڑتے۔ بس عاقل وہی ہیں کہ دنیا کی بےثبات لذتوں سے منہ پھیر کر دار آخرت اور یاد الٰہی کی طرف متوجہ ہیں۔ متاع برتنے کی ضروری چیزیں کھانا کپڑا مکان بیوی اور زنیت اوپر کی آرائش اور تکلفات۔
Ayah 28:60

وَ مَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَمَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتُهَا١ۚ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 28:60 in the Quran reader

اور تم کو جو کچھ بھی دیا گیا ہے، سو وہ دنیا ہی کی زندگی کا اسباب اور اس کی آرائش ہے اور جو کچھ (نعمتیں) اللہ کے پاس (موجود) ہیں وہ ان سے بہتر اور باقی رہنے والی ہیں۔ پھر کیا تمہیں (اتنی بھی) عقل نہیں۔ 1 ؎

1 ؎ حیف ہے اول ان لوگوں کی عقل پر جو دنیا فانی کے لالچ میں آکر دین چھوڑ دیتے ہیں یا کسی گناہ اور بدکاری کو اختیار کرلیتے ہیں ہائے کے دن اور کے سال اس کو کیا پئیں گے نہیں دیکھتے کہ ان کے روبرو کیسے کیسے نازو نعم والے بدشاہ اور وبالیان ملک فارس میں مل گئی نہ آج نہ ان کے وہ رنگ محل ہیں نہ ہاتھی گھوڑے نہ زر و نقد نہ وہ عیش کے سامان نہ وہ حکومت و شوکت نہ وہ شراب اور اس کے طلائی گلاس نہ وہ مہر دیاں تبہ کا فقط ایک خاک کا ڈھیر ہے اور اس کے اردگرد حسرتوں کا انبار اور جہنم کی نار ہے۔ عبرت عبرت 12 منہ
Ayahs 28:61–69

اَفَمَنْ وَّعَدْنٰهُ وَعْدًا حَسَنًا فَهُوَ لَاقِیْهِ كَمَنْ مَّتَّعْنٰهُ مَتَاعَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا ثُمَّ هُوَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ مِنَ الْمُحْضَرِیْنَ Open ayah 28:61 in the Quran reader

پھر کیا وہ شخص کہ جس کو ہم نے (جنت کا) وعدہ دیا ہو، سو وہ اس کو پانے والا بھی ہو، اس کے برابر ہوسکتا ہے کہ جس کو ہم نے دنیا کی چند روزہ زندگی کے اسباب سے بہرہ مند کیا، پھر وہ قیامت کے دن پکڑا ہوا آئے۔

وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ فَیَقُوْلُ اَیْنَ شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ Open ayah 28:62 in the Quran reader

اور جس روز ان کو پکار کر کہے گا کہ کہاں ہیں ہمارے وہ شریک کہ جن کا تمہیں گھمنڈ تھا، وہ لوگ کہ جن پر الزام قائم ہوچکے گا،

قَالَ الَّذِیْنَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَغْوَیْنَا١ۚ اَغْوَیْنٰهُمْ كَمَا غَوَیْنَا١ۚ تَبَرَّاْنَاۤ اِلَیْكَ١٘ مَا كَانُوْۤا اِیَّانَا یَعْبُدُوْنَ Open ayah 28:63 in the Quran reader

کہیں گے اے ہمارے رب ! یہی ہیں وہ کہ جن کو ہم نے بہکایا تھا (اور) ان کو ہم نے گمراہ کیا تھا، جیسا کہ ہم خود گمراہ ہوئے تھے، ان کی ذمہ داری سے آپ کے حضور میں دست برداری کرتے ہیں۔ یہ ہم کو نہیں پوجا کرتے تھے

وَ قِیْلَ ادْعُوْا شُرَكَآءَكُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهُمْ وَ رَاَوُا الْعَذَابَ١ۚ لَوْ اَنَّهُمْ كَانُوْا یَهْتَدُوْنَ Open ayah 28:64 in the Quran reader

اور مشرکوں سے کہا جائے گا، تم اپنے معبودوں کو پکارو (کہ تمہاری مدد کریں) سو وہ ان کو پکاریں گے۔ پھر وہ ان کو جواب بھی نہ دیں گے اور عذاب دیکھیں گے۔ آرزو کریں گے۔ اے کاش ! یہ لوگ ہدایت پر ہوتے

وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ فَیَقُوْلُ مَا ذَاۤ اَجَبْتُمُ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 28:65 in the Quran reader

اور جب ان کو پکار کر پوچھے گا تم نے رسولوں کو کیا جواب دیا تھا۔

فَعَمِیَتْ عَلَیْهِمُ الْاَنْۢبَآءُ یَوْمَئِذٍ فَهُمْ لَا یَتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 28:66 in the Quran reader

پھر اس روز ان کو کوئی بات بھی نہ سوجھے گی۔ پھر وہ باہم بھی پوچھ گچھ نہ کرسکیں گے،

فَاَمَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَعَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ مِنَ الْمُفْلِحِیْنَ Open ayah 28:67 in the Quran reader

پھر جس نے (دُنیا میں) توبہ کی ہوگی اور ایمان بھی لایا ہوگا اور نیک عمل بھی کیا ہوگا پس امید ہے کہ وہ شخص فلاح کو پہنچے (کامیاب ہو)

وَ رَبُّكَ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ وَ یَخْتَارُ١ؕ مَا كَانَ لَهُمُ الْخِیَرَةُ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 28:68 in the Quran reader

اور (اے رسول ! ) آپ کا رب جیسا چاہتا پیدا کرتا اور جس کو چاہتا منتخب کرلیتا ہے۔ ان کو اس میں کچھ اختیار نہیں، اللہ پاک اور برتر ہے ان کے شریک کرنے سے

وَ رَبُّكَ یَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُوْرُهُمْ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ Open ayah 28:69 in the Quran reader

اور آپ کا رب خوب جانتا ہے جو کچھ ان کے سینوں میں مخفی ہے اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں۔

ترکیب : ھولاء مبتداء، موصوف الذی صلہ موصول صفت اغوینہم خبر کما غوینا صفت ویمکن ھولاء مبتداء الذین الخ خبر اغوینہم جملہ مستانفہ لو انہم کلمہ تسحر۔ اگر شرط ہو تو بارا دہ جواب محذوف۔ تفسیر : پھر دنیا کی نعمت اور آخرت کی مصیبت والے کا اس سے مقابلہ کرکے دکھاتا ہے کہ جس کے لیے حیات جاودانی اور سرور ابدی تیار رکھا ہے، اس کے جانے ہی کی دیر ہے، بقولہ افمن وعدًنہ وعد احسنا فہولا قیہ الخ کہ کیا دونوں شخص برابر ہوگئے ؟ ہرگز نہیں، بھلا کہاں وہ کہ اس کے لیے اس عالم میں بیشمار نعمتیں تیار کر رکھی ہوں اور وہ اس کو ملنے والی ہیں، اس کے برابر ہے کہ جس کو دنیا کی زندگانی کا اسباب عطا ہوا، لیکن قیامت کے روز اس کے لیے عذاب تیار ہے۔ ابن جریر نے مجاہد سے نقل کیا ہے کہ یہ آیت آنحضرت ﷺ اور ابی جہل کے بارے میں ہے اور دوسرے طریق سے منقول ہے کہ اس میں حمزہ ؓ اور ابوجہل کی طرف اشارہ ہے، افمن وعدنہ سے حمزہ ؓ کمن متعنہ سے ابوجہل۔ چونکہ تمثیل کے طور پر آخرت کا ذکر آیا تھا، اس لیے مسئلہ نبوت کو تمام کرکے مسئلہ آخرت ذکر فرمایا کہ وہاں مشرکوں سے یوں سوال ہوگا، من المفلحین تک۔ ویوم ینادیہم اب یہاں سے وہ قیامت کی بازپرس شروع کرتا ہے کہ ان سے کہا جائے گا بتاؤ کہاں ہیں وہ کہ جن کو تم نے میرا شریک سمجھ رکھا تھا ؟ اس کا جواب ان سے کچھ نہ بن آئے گا مگر وہ لوگ کہ جن کے گمراہ کرنے سے یہ بہکے تھے اور اس عدالت میں ان پر جرم ثابت ہو کر سزائے جہنم کا حکم ہوچکے گا اپنی برأت کے لیے یوں کہیں گے۔ یہ لوگ ان کو ہم نے گمراہ کیا، ہم نے ان پر کوئی جبر نہیں کیا تھا، جس طرح باتوں باتوں میں پہلوں نے ہم کو بہکایا تھا، اسی طرح ویسی ہی باتیں ان سے ہم نے بھی کیں، یہ آپ بہک گئے، ہم ان سے بری ہیں۔ یہ لوگ ہرگز ہم کو نہیں پوجتے تھے۔ قال الذین حق علیہم القول سے لے کر ماکانوا ایا نایعبدون تک کے یہی معنی ہیں۔ غرض یہ کہ جن کی تقلید کرکے آج یہ ان کو پوجتے ہیں، کل میدان قیامت میں ان کا ساتھ دینا تو درکنار ان سے بیزاری ظاہر کریں گے۔ وقیل ادعو شرکاء کم الخ یہاں سے ایک دوسرے عتاب کا بیان ہے کہ ان سے کہا جاوے گا اپنے معبودوں کو بلاؤ کہ وہ تمہاری فریاد رسی کریں، پھر وہ ان کے معبود انہیں، کچھ جواب نہ دیں گے۔ کقولہ تعالیٰ وقیل ادعوا شرکائکم فدعوھم فلم یستجیبوا لہم یہ اس لیے کہ ان کو اپنے معبودوں کی بےقدرتی اور بیزاری ثابت ہو کہ جن کو یہ آج پوج رہے ہیں، یعنی برے وقت وہ کچھ کام نہ آئیں گے، بلکہ وہ مصیبت دیکھیں گے۔ وراؤ ا العذاب پھر حسرت کریں گے۔ لو انھم کانوا یہتدون کہ کاش ہدایت پر ہوتے۔ بعض مفسرین کہتے ہیں لو شرطیہ ہے اور اس کا جواب محذوف ہے۔ ضحاک و مقاتل کہتے ہیں، یعنی المتبوع، والتابع یرون العذاب ولو انہم کانوا یھتدون فی الدنیا ما ابصر وہ فی الآخرۃ یہ تو ان پر توحید اختیار نہ کرنے سے الزام قائم ہوگا کہ جس کو رسولوں بغیر عقل سلیم بھی منواتی تھی، باقی دیگر احکام حلال و حرام جو رسولوں کے ذریعہ سے پہنچتے ہیں۔ ان پر عمل نہ کرنے پر خاص رسولوں کی بابت سوال ہوگا کہ تم نے ان کو کیا جواب دیا تھا۔ ویوم ینادیہم الخ یعنی ہمارے ایلچیوں کو کیوں نہیں مانا، فعمیت علیہم الانباء ان کو کچھ بھی جواب نہ آئے گا۔ فہم لایتساء لون کہ آپس میں پوچھ بھی نہ سکیں گے کہ پوچھ کر بتادیں، سخت ہیبت اور دہشت ہوگی۔ فاما من تاب الخ یہاں سے حشر کا فیصلہ بیان فرماتا ہے کہ جس نے کفر و شرک اور بدکاری سے توبہ کی اور ایمان لایا اور اچھے کام کئے ان کو فلاح اور نجات ہوگی۔ کلمہ عسٰی امید دلانے کے لیے ہے، حشر کا حال بیان کرکے مناسب ہوا کہ کفار کے اس شبہ کا بھی جواب دے کہ جو ان کو آنحضرت ﷺ کی نبوت میں تھا اس لیے کہ ابھی حشر میں انبیاء کے ماننے کی بابت سوال ہونے کا ذکر تھا جس کا یہ مطلب کہ آج تم نبوت میں یہ شبہ کرتے ہو، کل میدان حشر میں تمہارا نبوت کے نہ ماننے پر یہ حال ہوگا۔ شبہ یہ تھا کہ یہ قرآن کسی بڑے سردار پر کیوں نہ اترا ایسے غریب آدمی کو کیوں نبی کیا۔ لولا نزل ھذا القرآن علی رجل من القریتین عظیم، اس کا جواب دیتا ہے۔ و ربک یخلق 1 ؎ مایشاء ویختار کہ اللہ کو اختیار ہے جو چاہے پیدا کرے، جس کو چاہے برگزیدہ کرے، ان کا کچھ اختیار نہیں اور نہ ان کے معبودوں کا کہ جن کو وہ خدائی میں شریک کرتے ہیں۔ اللہ ان کے شریک کرنے سے پاک ہے وہ سب کچھ جانتا ہے، ظاہر کی باتیں بھی ‘ دل کے خیالات بھی، جب وہ علام الغیوب ہے تو اس مصلحت کو بھی وہی جانتا ہے کہ فلاں کو کیوں نبی کیا ؟ 1 ؎ 1 ؎ اور ممکن ہے کہ یہ جملہ وربک یخلق الخ ایک جدی دلیل ہو وہ شرک کے لیے کہ تیرا رب قادرہ عالم و متصرف ہے بہ خلاف ان کے معبودوں کے کہ وہ نہ اختیار رکھتے ہیں نہ قدرت نہ علم حشر میں خود ہوں گے اور کا کیا بھلا کرسکیں گے اور ربک بہ تعریض بھی ہے کہ تیرا رب ایسا ہے بہ خلاف ان کے معبودوں کے اور اس وہم کے دفع کی طرف بھی اشارہ ہے کہ خدا نے کسی کو نبی کسی کو کافر کسی کو جنتی کسی کو دوزخی کیوں بنایا۔ حشر کے ذکر پہ یہ شبہ پیدا ہوسکتا تھا اس کا جواب دیا کہ وہ قادرو خالق وعلیم ہے۔ 12 منہ
Ayahs 28:70–75

وَ هُوَ اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ لَهُ الْحَمْدُ فِی الْاُوْلٰى وَ الْاٰخِرَةِ١٘ وَ لَهُ الْحُكْمُ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 28:70 in the Quran reader

اور وہی اللہ ہے اس کے سوا کوئی (اور) معبود نہیں، اسی کی تعریف ہے دنیا اور آخرت میں اور اسی کے لیے فرمانروائی ہے اور اسی کے پاس تم کو پھر کر جانا ہوگا،

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللّٰهُ عَلَیْكُمُ الَّیْلَ سَرْمَدًا اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَنْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ یَاْتِیْكُمْ بِضِیَآءٍ١ؕ اَفَلَا تَسْمَعُوْنَ Open ayah 28:71 in the Quran reader

کہو بھلا دیکھو تو اگر اللہ تم پر رات کو قیامت تک دراز کردے تو کوئی اللہ کے سوا (اور) معبود ہے جو تم کو روشنی میں لائے، پھر کیا تم سنتے بھی نہیں۔

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللّٰهُ عَلَیْكُمُ النَّهَارَ سَرْمَدًا اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَنْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ یَاْتِیْكُمْ بِلَیْلٍ تَسْكُنُوْنَ فِیْهِ١ؕ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ Open ayah 28:72 in the Quran reader

کہو دیکھو تو (سہی) اگر تم پر اللہ قیامت تک دن کو دراز کرے تو کون معبود ہے، اللہ کے سوا جو تم کو رات میں لاوے جس میں تم آرام پاؤ۔ پھر کیا تم اس نعمت کو دیکھتے بھی نہیں

وَ مِنْ رَّحْمَتِهٖ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 28:73 in the Quran reader

اور اپنی رحمت ہی سے اس نے تمہارے لیے رات اور دن بنائے تاکہ تم اس میں آرام پاؤ اور اپنے رب کا فضل تلاش کرو اور تاکہ تم شکر کرو

وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ فَیَقُوْلُ اَیْنَ شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ Open ayah 28:74 in the Quran reader

اور جس دن ان سے پکار کر پوچھے گا کہ جن کو تم میرا شریک جانتے تھے وہ کہاں ہیں ؟

وَ نَزَعْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِیْدًا فَقُلْنَا هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ فَعَلِمُوْۤا اَنَّ الْحَقَّ لِلّٰهِ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 28:75 in the Quran reader

اور ہر گروہ میں سے ہم گواہی دینے والا الگ کرلیں گے، پھر ہم کہیں گے تم اپنی دلیل لاؤ تب ان کو معلوم ہوجائے گا کہ حق اللہ ہی کے لیے ہے اور جو کچھ وہ ڈھکوسلے بنایا کرتے تھے گئے گزرے ہوجائیں گے۔

ترکیب : سرمدًا یجوزان یکون حالاً من اللیل وان یکون مفعولا ثانیاً لجعل والی یتعلق بسرمدًا من الہ الخ جواب ہے ان جعل اللہ کا۔ تفسیر : و ربک یخلق مایشاء سے مبدء میں گفتگو شروع ہوگئی تھی، یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات میں اس لیے وھو اللہ لا الہ الا ھو سے اس کی تکمیل کی جاتی ہے گویا یہ بیان سابق کا تتمہ ہے اور قرآن مجید کی عادت ہے کہ کبھی مبدء میں گفتگو کرتا ہے۔ کبھی معاد میں ‘ کبھی نبوات و شرائع میں اور یہی باتیں مقصود بالذات بھی تھیں۔ فرمایا کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں دنیا و آخرت میں اپنی نعمتوں کے سبب وہی ستائش کا مستحق ہے اور فرمانروائی اسی کے لیے ہے اور اسی کے پاس لوٹ کر جاؤ گے اور کون ہے کہ جس میں یہ اوصاف ہیں ؟ مشرکین گرچہ دوسرے خدا کے قائل نہ تھے، مگر چونکہ اور چیزوں کو بھی خدائی میں شریک جانتے تھے اور نافع و ضار سمجھ کر ان کو پکارتے تھے اور نذر و نیاز کرتے تھے، اس لیے ان سے یہ کلام کیا گیا کہ خدا کی جو باتیں ہیں وہ تو اللہ ہی میں ہیں۔ ذکی کے لیے تو اسی قدر بس تھا مگر وہ پشت درپشت ایسے ناپاک اور ظلمانی خیالات کے رنگ میں ڈوبے ہوئے تھے، وہ اتنی بات سے کب سمجھتے ہیں، اس لیے ان کے معبودوں سے قدرت و اختیار نفع و ضرر پہنچانے کی نفی کی گئی اور سب سے پہلے ایک ایسی بات میں عاجزی ثابت کی کہ جس کی طرف انسان کو اشد ضرورت ہے اور بغیر اس کے کسی طرح چارہ نہیں۔ وہ کیا رات دن کا اپنے اندازہ خاص پر ہونا اور ان سے آرام اٹھانا ؟ پس فرماتا ہے قل ارئیتم ان جعل اللہ علیکم اللیل سرمدا الی یوم القیمٰۃ الخ کہ ان سے پوچھو اگر خدا تم پر رات کو اس قدر دراز کردے کہ قیامت تک صبح نہ ہو تو پھر تمہارے معبودوں سے کوئی ایسا ہے کہ صبح کردے ؟ اسی طرح اگر دن کو اس قدر بڑا کردے کہ قیامت تک شام نہ ہو تو پھر تمہارے معبودوں میں سے وہ کون سا ہے جو تمہارے آرام کے لیے رات پیدا کرے ؟ رات میں آرام پانا سکون طبع ہونا ایک طبعی بات ہے۔ رات کی درازی میں تو افلا تسمعون فرمایا تھا کیونکہ رات میں اندھیرا ہوتا ہے، دکھائی کم دیتا ہے، کانوں سے کام لیا جاتا ہے، اندھیرے میں آدمی سن سکتا ہے، دیکھ نہیں سکتا اور دن میں دیکھنا ہوسکتا ہے اور روشنی میں آنکھ زیادہ کام دیتی ہے، اس لیے یہاں افلا تبصرون فرمایا۔ ومن رحمتہ جعل لکم اللیل و النہار لتسکنوا فیہ ولتبتغوا من فضلہ لعلکم تشکرون فرماتا ہے اس کی عنایت ہے کہ اس نے تمہارے لیے رات اور دن کو بنایا۔ لتسکنوا تاکہ آرام پاؤ۔ سکون ملے، یہ رات کا فائدہ ہے۔ و لتبتغوا من فضلہ کہ اس کے فضل یعنی روزی کی تلاش کرو تجارت ‘ زراعت وغیرہ اسباب معاش میں مصروف ہو۔ یہ دن کا فائدہ ہے، کیونکہ دن میں انسان کاروبار کرتا ہے۔ ولعلکم تشکرون دونوں سے متعلق ہے۔ یہ چیزیں اس لیے بنائیں کہ تم شکر کرو۔ اب روزمرہ کی نعمت کی بےقدری اور ناشکری کو دیکھئے۔ اس برہان کے بعد حشر کے دن کا عجز بیان کرتا ہے۔ ویوم ینادیہم الخ کہ ان سے پکار کر کہا جاوے گا تاکہ ہر کوئی سنے اور ان کی رسوائی سب پر ظاہر ہو کہ وہ تمہارے معبود کہاں ہیں ؟ اور اس عدالت میں ہم ہر ایک امت میں سے گواہی دینے والا نبی یا اس کا نائب بلائیں گے جو گواہی دے گا کہ میں نے ان کو حکم پہنچادیا تھا۔ پھر خدا تعالیٰ ان مجرموں سے کہے گا کہ اب کوئی دلیل یا سند پیش کرو کیا خاک پیش کریں گے۔ پس ان پر ظاہر ہوجاوے گا کہ اللہ کا فرمان برحق ہے اور ہمارے جھوٹے ڈھکوسلے تھے کہ فلاں دیوی قیامت میں یہ کرے گی، دیوتا یوں کام آوے گا۔