25. Surah Al-Furqaan

الفرقانThe Criterion · 77 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 25:72–77

وَ الَّذِیْنَ لَا یَشْهَدُوْنَ الزُّوْرَ١ۙ وَ اِذَا مَرُّوْا بِاللَّغْوِ مَرُّوْا كِرَامًا Open ayah 25:72 in the Quran reader

اور جو جھوٹی 1 ؎ گواہی نہیں دیتے۔ اور وہ جو کبھی بیہودہ جگہ پر گزر ہوجائے تو مونہہ پھیر کر گزر جائیں

وَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ لَمْ یَخِرُّوْا عَلَیْهَا صُمًّا وَّ عُمْیَانًا Open ayah 25:73 in the Quran reader

اور وہ جب ان کو ان کے رب کی آیات سے سمجھایا جاتا ہے تو ان پر بہرے اندھے بن کر نہیں گر پڑتے (بلکہ غور کرتے ہیں)

وَ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَ ذُرِّیّٰتِنَا قُرَّةَ اَعْیُنٍ وَّ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا Open ayah 25:74 in the Quran reader

اور وہ جو دعا کیا کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! ہم کو ہماری بیویوں اور اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا کر اور ہم کو پرہیز گاروں کا پیشوا بنا دے

اُولٰٓئِكَ یُجْزَوْنَ الْغُرْفَةَ بِمَا صَبَرُوْا وَ یُلَقَّوْنَ فِیْهَا تَحِیَّةً وَّ سَلٰمًاۙ Open ayah 25:75 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں کہ جن کو ان کے صبر کے بدلہ میں جنت کے بالاخانے دے دیے جائیں گے اور ان کا وہاں دعا وسلام کے ساتھ استقبال کیا جائے گا

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ حَسُنَتْ مُسْتَقَرًّا وَّ مُقَامًا Open ayah 25:76 in the Quran reader

وہ وہاں سدا رہا کریں گے (جنت میں وہ) بہت عمدہ ٹھہرنے کی جگہ اور خوب ہی مقام ہے

قُلْ مَا یَعْبَؤُا بِكُمْ رَبِّیْ لَوْ لَا دُعَآؤُكُمْ١ۚ فَقَدْ كَذَّبْتُمْ فَسَوْفَ یَكُوْنُ لِزَامًا۠ Open ayah 25:77 in the Quran reader

(اے نبی) کہہ دے میرے رب کو بھی تمہاری کچھ پروا نہیں اگر تم اس کو نہ پکارو البتہ تم جھٹلا تو چکے ہو (پھر دیکھو) ابھی سزا ہوتی ہے۔

1 ؎ وہ جھوٹے کام میں شامل نہیں ہوتے۔ (7) والذین لایشہدون الزور الخ زور کے معنی ہیں جھوٹی گواہی یعنی جھوٹی گواہی کے پاس بھی نہیں جاتے اور مواضع کذب بھی مراد ہوسکتی ہیں اور ہر نازیبا مجلس بھی مراد ہوسکتی ہے جو خلاف شرع شریف ہے جیسا کہ ناچ رنگ کی مجلسیں اور کھیل اور تماشوں کے مجامع۔ اس طرح کفار و مشرکین و مبتدعین کے میلے اور تیوہار ان سب سے اجتناب کرنا عبادالرحمن کی شان ہے، و اذا مرواباللغو مرواکراما اور جو کہیں ایسے بیہودہ مواقع کے پاس سے گزرنے کا اتفاق بھی ہو تو اعراض کر کے گزر جاتے ہیں منہ ڈہانک کر آنکھ بند کر کے گزرنا ان کی طرف متوجہ نہ ہونا بزرگانہ گزرنا ہے۔ (9) والذین اذا ذکرو الخ کہ جب ان کو آیات الٰہی سنائی جاتی ہیں تو ان پر اندھے بہرے ہو کر نہیں گر پڑتے جیسا کہ منافقین دکھانے کے لیے ایسا کرتے ہیں۔ بلکہ بصیرت اور سمجھنے اور سننے کی حالت میں ان پر گر پڑتے ہیں ان سے اعراض نہیں کرتے۔ (9) والذین یقولون الخ کہ اپنی اولاد اور ازواج کے لیے بھی دعا کیا کرتے ہیں کہ ان کو اصلاح و دینداری میں ایسا کر کہ ان سے ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہو ویں اور اپنے خاندان اور کنبے کے ہم بزرگ رہبر بن جاویں۔ یہ بڑی نعمت ہے کہ انسان کے زن و فرزند اس کے موافق ہوں اور دین میں معین یا یہ معنی کہ مر کر یہ ہم سے ملیں اور ہماری آنکھیں دار آخرت میں ان سے ٹھنڈی ہوں۔ اب عباد الرحمن کی جزا فرماتا ہے اولئک یجزون الغرفۃ الخ کہ یہ لوگ جنت میں بلند محلوں کی کھڑکیوں میں بیٹھیں گے اور اس میں ہمیشہ رہا کریں گے۔ قل مایعبوابکم ربی وہ جو رحمان کے سجدہ کرنے سے نفرت کرتے ہیں ان سے عتاب کیا جاتا ہے کہ کہہ دو کہ میرے رب کو بھی تمہاری کچھ پروا نہیں جو تم اس کو نہیں پکارتے تم تو جھٹلا چکے عنقریب تم پر عذاب آتا ہے۔