25. Surah Al-Furqaan

الفرقانThe Criterion · 77 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 25:35–44

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ جَعَلْنَا مَعَهٗۤ اَخَاهُ هٰرُوْنَ وَزِیْرًاۚۖ Open ayah 25:35 in the Quran reader

اور البتہ ہم نے موسیٰ کو بھی کتاب دی اور ان کے ساتھ ان کے بھائی ہارون کو بھی وزیر بنا کر بھیجا تھا۔

فَقُلْنَا اذْهَبَاۤ اِلَى الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ؕ فَدَمَّرْنٰهُمْ تَدْمِیْرًاؕ Open ayah 25:36 in the Quran reader

سو اس نے کہہ دیا کہ تم دونوں ان لوگوں کی طرف جاؤ کہ جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں۔ (وہ گئے انہوں نے نہ مانا) تو ہم نے ان کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا

وَ قَوْمَ نُوْحٍ لَّمَّا كَذَّبُوا الرُّسُلَ اَغْرَقْنٰهُمْ وَ جَعَلْنٰهُمْ لِلنَّاسِ اٰیَةً١ؕ وَ اَعْتَدْنَا لِلظّٰلِمِیْنَ عَذَابًا اَلِیْمًاۚۖ Open ayah 25:37 in the Quran reader

اور قوم نوح کو بھی (ہلاک کیا) جبکہ انہوں نے رسولوں کو جھٹلایا تو ہم نے ان کو بھی غرق کردیا اور ان کو لوگوں کے لیے عبرت کی نشانی بنا دیا اور ہم نے ظالموں کے لیے عذاب الیم تیار کر رکھا ہے

وَّ عَادًا وَّ ثَمُوْدَاۡ وَ اَصْحٰبَ الرَّسِّ وَ قُرُوْنًۢا بَیْنَ ذٰلِكَ كَثِیْرًا Open ayah 25:38 in the Quran reader

اور عادوثمود اور کنوئیں والوں کو بھی (ہلاک کیا) اور بہت سے قرنوں کو بھی جو اس کے درمیان تھے

وَ كُلًّا ضَرَبْنَا لَهُ الْاَمْثَالَ١٘ وَ كُلًّا تَبَّرْنَا تَتْبِیْرًا Open ayah 25:39 in the Quran reader

اور اس میں سے ہر ایک کو مثالیں دے دے کر سمجھا دیا تھا (آخر) ہر ایک کو ہم نے ہلاک کردیا۔

وَ لَقَدْ اَتَوْا عَلَى الْقَرْیَةِ الَّتِیْۤ اُمْطِرَتْ مَطَرَ السَّوْءِ١ؕ اَفَلَمْ یَكُوْنُوْا یَرَوْنَهَا١ۚ بَلْ كَانُوْا لَا یَرْجُوْنَ نُشُوْرًا Open ayah 25:40 in the Quran reader

اور بیشک (کفار مکہ) اس بستی پر سے بھی گزرے ہیں کہ جس پر بہت بری طرح سے (پتھر) برسائے گئے تھے۔ پھر کیا انہوں نے اس کو دیکھا نہ ہوگا بلکہ وہ مر کر زندہ ہونے کی امید ہی نہیں رکھتے تھے (اس لیے ایمان نہیں لائے)

وَ اِذَا رَاَوْكَ اِنْ یَّتَّخِذُوْنَكَ اِلَّا هُزُوًا١ؕ اَهٰذَا الَّذِیْ بَعَثَ اللّٰهُ رَسُوْلًا Open ayah 25:41 in the Quran reader

اور (اے نبی ! ) یہ جب آپ کو دیکھتے ہیں تو ایسے تمسخر ہی کرتے ہیں کہ کیا یہ وہی ہے کہ جس کو اللہ نے رسول بنا کر بھیجا ہے۔

اِنْ كَادَ لَیُضِلُّنَا عَنْ اٰلِهَتِنَا لَوْ لَاۤ اَنْ صَبَرْنَا عَلَیْهَا١ؕ وَ سَوْفَ یَعْلَمُوْنَ حِیْنَ یَرَوْنَ الْعَذَابَ مَنْ اَضَلُّ سَبِیْلًا Open ayah 25:42 in the Quran reader

اس نے تو ہم کو ہمارے معبودوں سے منحرف کر ہی دیا ہوتا اگر ہم ان پر جمے نہ رہتے اور ان کو جبکہ عذاب دیکھیں گے تو آپ معلوم ہوجائے گا کہ کون راہ راست سے دور تھا

اَرَءَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ١ؕ اَفَاَنْتَ تَكُوْنُ عَلَیْهِ وَكِیْلًاۙ Open ayah 25:43 in the Quran reader

(اے نبی ! ) تم نے اس کو بھی دیکھا کہ جس نے اپنی خواہش نفسانی کو اپنا خدا بنا رکھا ہے پھر کیا آپ اس کے ذمہ دار ہوسکتے ہیں۔

اَمْ تَحْسَبُ اَنَّ اَكْثَرَهُمْ یَسْمَعُوْنَ اَوْ یَعْقِلُوْنَ١ؕ اِنْ هُمْ اِلَّا كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ سَبِیْلًا۠ Open ayah 25:44 in the Quran reader

(اے نبی ! ) کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ان میں سے اکثر سنتے یا سمجھتے ہوں گے۔ وہ کچھ بھی نہیں سمجھتے مگر جیسا کہ چار پائے بلکہ وہ (تو ان سے بھی زیادہ) راہ بھولے ہوئے ہیں۔

ترکیب : ہارون بدل من اخاہ وزیرا مفعول ثان بجعلنا وقوم یجوزان یکون معطوفا علی دمرنا یا مفعول اذکر محذوف۔ علی ہذا القیاس عادا و ثمودا الخ، تفسیر : جبکہ توحیدِ و نفی انداد و اثبات نبوت میں کلام ہوچکا اور منکرین کے شبہات رد کردیے گئے اور قیامت کا حال اور منکرین کا وبال بھی بیان ہوچکا تو مجملاً انبیاء (علیہم السلام) کا ذکر کرتا ہے تاکہ معلوم ہو کہ ان کے دشمنوں پر آخر کار کیا کیا بلائیں نازل ہوئیں کیونکہ آپ کی تسلی کے لیے پہلے فرمایا تھا وکذالک جعلنا لکل نبی عدوًا اور قرآن کا یہی طریقہ ہے کہ ایسے موقعوں پر قصص انبیاء بیان ہوتے ہیں اور یہی سبب ہے کہ ان کے تذکرہ بار بار آتے ہیں۔ فقال ولقد اتینا موسیٰ الخ سب سے پہلے موسیٰ کا ذکر کیا کیونکہ ان کی نبوت اور کتاب اہل کتاب میں بہت مشہور تھی کہ دیکھو موسیٰ ( علیہ السلام) کے ساتھ لوگوں نے کیا کیا تھا اور ان کو کس قدر معجزات دیے گئے اور ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) ان کے وزیر بھی تھے۔ آخر فرعونیوں نے نہ مانا ہلاک ہوئے اور ان سے پیشتر قوم نوح کو دیکھو کہ انہوں نے نہ صرف نوح ( علیہ السلام) کی تکذیب کی تھی بلکہ عموماً رسولوں کے منکر تھے آخر غرق ہوئے۔ پھر قوم عادوثمود کو دیکھو کہ حضرت ہود و صالح ( علیہ السلام) کے انکار اور مقابلہ سے ان پر کیا ماجرا گزرا۔ پھر اصحاب الرس کو غور کرو۔ ابوعبیدہ ؓ کہتے ہیں رس کنوئیں کو کہتے ہیں۔ اس کے معنی لغت میں دفن کے ہیں۔ یقال رس المیت اذادفن (کبیر) ابو مسلم کہتے ہیں ایک ملک کا نام رس ہے اصحاب الرس اس ملک یا وادی کے رہنے والے یا کنوئیں والے اس وادی میں کنواں ہونا ان کے لیے اس عہد میں اس نام کے ساتھ منسوب ہونے کا سبب ہوگیا۔ مفسرین کا اختلاف ہے کہ یہ کس نبی کی امت تھی ؟ اکثر یہی کہتے ہیں کہ یہ ایک بت پرست قوم تھی جن کے بہت سے کنوئیں تھے ان سے زراعت کرتے اور مویشی کو پانی پلایا کرتے تھے ان کی ہدایت کو حضرت شعیب (علیہ السلام) بھیجے گئے انہوں نے ان سے بہت سرکشی کی اور ایذائیں دیں آخر قہر آسمان سے ہلاک ہوئے۔ اس تقدیر پر یہ جگہ عرب کے شمال و مغرب میں شام سے ملحق ہے اور دیگر روایات بھی ہیں والعلم عنداللہ اس کے درمیان اور بہت سے قرن یعنی زمانہ گزر گئے ہیں جن میں انبیا آئے اور لوگوں نے انکار کیا ‘ بلا میں مبتلا ہوئے۔ پھر فرماتا ہے ولقد اتوا کہ یہ قریش مکہ اس گائوں پر سفر شام میں گزر چکے ہیں کہ جس پر پتھر برسے تھے یعنی حضرت لوط (علیہ السلام) کی بستیاں جھیل مردار کے کنارہ جو الٹی پڑی ہیں جن کو سفر شام میں آتے جاتے یہ لوگ دیکھتے ہیں اور عبرت نہیں کرتے۔ جب کفاران سب باتوں سے عاجز آجاتے تھے تو آنحضرت ﷺ سے تمسخر اور ٹھٹھا کرتے تھے کہ کیا اس کو اللہ نے رسول بنا کر بھیجا ہے یعنی کسی سردار دولت مند کو بنانا تھا اس نے تو ہم کو ہمارے معبودوں سے روک ہی دیا ہوتا اگر ہم ان پر جمے نہ رہتے۔ فرماتا ہے ان کو عذاب الٰہی کے وقت معلوم ہوجائے گا کہ وہ گمراہ تھے یا راہ پر۔ پھر فرماتا ہے ان کمبختوں نے اپنی خواہشوں کو اپنا معبود بنا لیا ہے جو خواہش کہتی ہے اس پر چلتے ہیں۔ پھر ان کے آپ ذمہ دار نہیں آپ جانتے ہیں کہ یہ سنتے سمجھتے ہیں ؟ گو ظاہر میں یہ ہے مگر حسن باطن نہیں یہ تو چارپایوں سے بھی بدتر ہیں کیونکہ وہ مکلف نہیں۔
Ayahs 25:45–52

اَلَمْ تَرَ اِلٰى رَبِّكَ كَیْفَ مَدَّ الظِّلَّ١ۚ وَ لَوْ شَآءَ لَجَعَلَهٗ سَاكِنًا١ۚ ثُمَّ جَعَلْنَا الشَّمْسَ عَلَیْهِ دَلِیْلًاۙ Open ayah 25:45 in the Quran reader

(اے مخاطب) کیا تو نے اپنے رب کی طرف نہیں دیکھا کہ وہ کیونکر سایہ کو بڑھاتا 1 ؎ اور اگر چاہتا تو اس کو ٹھیرا رکھتا پھر اس کے آفتاب کو رہبر بنا دیا

ثُمَّ قَبَضْنٰهُ اِلَیْنَا قَبْضًا یَّسِیْرًا Open ayah 25:46 in the Quran reader

پھر ہم اس کو آہستہ آہستہ اپنی طرف سمیٹتے ہیں

وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ لِبَاسًا وَّ النَّوْمَ سُبَاتًا وَّ جَعَلَ النَّهَارَ نُشُوْرًا Open ayah 25:47 in the Quran reader

اور اسی نے تو تمہارے لیے رات کو لباس اور نیند کو راحت بنا دیا اور دن چلنے پھرنے کے لیے (بنایا)

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ الرِّیٰحَ بُشْرًۢا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهٖ١ۚ وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً طَهُوْرًاۙ Open ayah 25:48 in the Quran reader

اور وہی تو ہے کہ جو اپنی رحمت (بارش) سے پیشتر خوشخبری لانے والی ہوائیں چلایا کرتا ہے اور ہم نے آسمان سے پاکیزہ پانی اتارا

لِّنُحْیَِۧ بِهٖ بَلْدَةً مَّیْتًا وَّ نُسْقِیَهٗ مِمَّا خَلَقْنَاۤ اَنْعَامًا وَّ اَنَاسِیَّ كَثِیْرًا Open ayah 25:49 in the Quran reader

تاکہ اس سے مرے ہوئے خشک شہر کو زندہ کریں اور اس کو اپنی پیدا کی ہوئی چیزوں چارپایوں اور بہت سے آدمیوں کو پلائیں

وَ لَقَدْ صَرَّفْنٰهُ بَیْنَهُمْ لِیَذَّكَّرُوْا١ۖ٘ فَاَبٰۤى اَكْثَرُ النَّاسِ اِلَّا كُفُوْرًا Open ayah 25:50 in the Quran reader

اور ہم نے اس کو ان میں بانٹ دیا تاکہ سمجھیں پس بہت سے آدمی تو ناشکری کئے بغیر نہ رہے

وَ لَوْ شِئْنَا لَبَعَثْنَا فِیْ كُلِّ قَرْیَةٍ نَّذِیْرًا٘ۖ Open ayah 25:51 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہتے تو ہر گائوں میں ایک ڈر سنانیوالا کھڑا کردیتے پس

فَلَا تُطِعِ الْكٰفِرِیْنَ وَ جَاهِدْهُمْ بِهٖ جِهَادًا كَبِیْرًا Open ayah 25:52 in the Quran reader

(اے نبی) کافروں کا کہا نہ مانو اور قرآن سے ان کا مقابلہ بڑے زور سے کرتے رہو۔

1 ؎ یہ بھی مراد ہوسکتا ہے کہ ظل سے مراد سایہ الٰہی ہو وہ کسی قوم اور کسی شخص کے لیے خدا نے کیسا دراز کیا ہو ؟ مگر بقاء اسی کو ہے اس کو ٹھہرا نہیں رکھتا وہ پھر ڈھلنے لگتا ہے اور آفتاب عنایت و اقبال اس کی دلیل ہوتا ہے انسان کی عمر بھی ایک سایہ ہے باوجود درازی کے کس طرح سے ڈھلتی ہے اور یہ بیخبر غافل ہے۔ 12 منہ ترکیب : اناسی اصلا اناسین جمع انسان کسر حان و سراحین ابدلت النون فیہ یاء وادغمت وقیل جمع انسی علی القیاس صرفناہ الضمیر للماء۔ تفسیر : ان کے شبہات رد کر کے اور اس کجروی کا نتیجہ امم گزشتہ کے حالات میں بیان فرما کر اب یہ چند دلائل توحید اور کمال قدرت پر بیان فرماتا ہے : فقال الم ترابی ربک کیف مدالظل الخ یہ (1) دلیل ہے کہ اپنے خدا کی قدرت دیکھو کہ اس نے اس عالم حسی میں نورانی اجسام پیدا کئے۔ چاند ‘ سورج ‘ ستارے ‘ آگ وغیرہ جن کی روشنی دوسری اشیائِ مظلمہ پر پڑ کر ان کو بھی روشن کردیتی ہے یہ ایک بات ہوئی جس میں قدرت کا کامل نمونہ ہے کس لیے کہ اگر صانع عالم کوئی قادر مختار نہیں اور طبائع یا مادہ ہی سب کچھ کرتا ہے تو پھر یہ ترجیح بلامرجح کیسی کہ بعض اجسام منور اور منور بھی ایسے کہ جن کے نور کا انعکاس دوسرے اجسام پر پڑتا ہے اور یہ ان کا ظل ہے اور بعض غیر منور اس میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ کفار مکہ یا دیگر حساد نبوت پر یا آنحضرت ﷺ کی نبوت پر کلام کرتے ہیں کہ ان میں کیا خصوصیت تھی کہ ان کو نبی بنایا گیا اور پھر باغ یا دولت ثروت یا ملائکہ ساتھ رہنے کی ظاہری خصوصیت بھی نہیں دکھائی گئی ان کا یہ اعتراض بیجا ہے جب اجسام میں اس نے ایسی ایسی خصوصیات ممیزہ پیدا کردی ہیں تو نفوس بشریہ میں نورانی و ظلمانی خصوصیات پیدا کرنے سے اس کو کون مانع ہے اور کون پوچھنے والا ہے۔ پھر اس ظل کو بھی ایک حالت پر نہیں رہنے دیا کما قال ولوشاء لجعلہ ساکنا بلکہ اول مدالظل اس کو پھیلاتا دراز کرتا ہے۔ یہ دوسری بات ہوئی ثم جعلنا الشمس علیہ دلیلا اگرچہ اور چیزوں کے بھی سائے اور ظل ہیں کیونکہ اس عالم میں اور بھی نورانی نیرات و جواہر ہیں مگر آفتاب سے سب کم ہیں سایہ کے بڑھنے گھٹنے کا نمونہ آفتاب ہے اس کے ظل میں یہ بات سب سے زیادہ نمایاں ہے۔ یہ تیسری بات ہوئی یہ بھی اس کی قدرت کمال کا پورا نمونہ اور بڑی علامت ہے ثم قبضناہ الینا قبضا یسیرا پھر انبساط کے بعد جہاں تک اس کا بسط مقدر کر رکھا تھا اس ظل کو ہم تھوڑا تھوڑا کر کے نیست و نابود بھی کردیتے ہیں۔ اس کو اس کی حد مقرر تک جو انتہا کی حد ہے پہنچا دیتے ہیں۔ جس طرح ہر شے کے وجود کا انبساط اس کی طرف سے ہے اس طرح انتہٰی اور زوال کا بھی وہی مرجع ہے۔ اس بات کے بتلانے کے لیے قبضناہ الینا فرمایا۔ یہ چوتھی بات بھی بڑی نشانی اس کے کمال وقدرت کی ہے جو عالم کی حدوث اور زوال پر دال ہے اس میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ تمام اشیاء کے وجود اور ان کے حقائق یہ سب اس کے وجود حقیقی کے ظل یعنی پر توے ہیں پھر ان کا دراز کرنا عالم عدم سے فضائِ وجود خارجی میں لانا ہے۔ سو یہ اسی کا فعل ہے اگر وہ چاہتا ہے تو ٹھہرا دیتا فضائِ وجود خارجی میں نہ آنے دیتا یا آنے کے بعد ترقی اور کمال تک نہ پہنچنے دیتا۔ اس بات پر ہم نے آفتاب عقل کو دلیل بنا دیا ہے وہی کہتی ہے کہ یہ اس کے اظلال ہیں۔ پھر ہر ایک کو رفتہ رفتہ فنا کرتے ہیں اور وہ دراصل معدوم محض نہیں ہوتے بلکہ سایہ کی طرح سمٹ کر ہمارے پاس آتے ہیں جس طرح کہ سایہ سمٹ کر جس کا سایہ ہوتا ہے اس کے پاس آجاتا ہے لیکن اس مشاہدہ ذات میں دو مرتبہ ہیں عارفین مقام مشاہدہ و نور عقل سے چل کر مشاہدہ صفت کی طرف آتے ہیں پھر وہاں سے مشاہدہ نور ذات کا کرتے ہیں یہ ایک مرتبہ ہے دوسرا مرتبہ یہ ہے کہ اول ہی مرتبہ میں مشاہدہ نورذات کا حاصل ہو پھر اس کے بعد صفات کا پھر فعل کا مشاہدہ امت کے نفع کے لیے کیا جاوے سو یہ مرتبہ خاص خاتم النبین کا ہے اس لیے حضرت ﷺ کو الم تر الیٰ ربک میں مشاہدہ ذات کی طرف پھر کیف مدالظل سے مشاہدہ افعال کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ وھو الذی جعل لکم اللیل (2) خدا نے تمہاری راحت کے لیے رات اور کام کاج کے لیے دن بنایا والسبات الراحتہ و منہ یوم السبت ای یوم الراحتہ لفراغہ فیہ من الاشغال۔ صاحب کشاف کہتے ہیں السبات الموت والمسبوت المیت۔ رات آتی ہے تو گویا قیامت آگئی سب سو جاتے ہیں گویا مرجاتے ہیں ‘ کوچہ و بازاروں میں سناٹا ہوتا ہے پھر صبح ہوتی ہے تو گویا حشر کا دن برپا ہوجاتا ہے۔ بستروں سے کیا اٹھتے ہیں گویا قبروں سے اٹھتے ہیں۔ اس لیے جعل النہار نشورا فرمایا۔ (3) والذی ارسل الریاح بشرا جمع بشیر رحمت سے مراد بارش یعنی اللہ وہ قدیر و مدبر ہے کہ بارش آنے سے پہلے ایک ایسی ہوا چلاتا ہے جو بارش کی خوشخبری دیا کرتی ہے وہ بادلوں کے آنے کا سبب ہوتی ہے پھر بادلوں سے پاک اور ستھرا پانی ہم اتارتے ہیں جس سے خشک زمین کو جو بمنزلہ مردہ کے ہوتی ہے شادابی سے حیات بخشتے ہیں اور اس پانی کو چارپائے اور انسان پیتے ہیں۔ یہ بھی ہمارا ہی فعل ہے ورنہ یہ باتیں ازخود تو ہو نہیں سکتیں اور کوئی کر نہیں سکتا ولقدصرفناہ بینہم پھر اس پانی کو تم میں تقسیم کردیتے ہیں ایک کے قبضے میں نہیں رکھتے تاکہ تم سمجھو لیکن اکثر لوگ ناشکری کئے بغیر نہیں رہتے ولو شئنا الخ یعنی جس طرح ہم نے باران رحمت کو عام کردیا ہر جگہ برساتے ہیں اسی طرح نبوت کو بھی جو بارش روحانی ہے عام کرسکتے تھے ہمارے ہاں کچھ بات نہ تھی۔ ہر گائوں میں رسول بھیج دیتے جیسا کہ منکرین نبوت اس کی استدعا کرتے ہیں مگر حکمت الٰہی کے خلاف تھا۔ انتظام عالم میں خلل آجاتا۔ پس اے نبی ! ان کے کہنے پر التفات نہ کرو۔ جاھدہم بہ جھادًا کبیرًا جہاں تک ہوسکے ان کے سمجھانے میں کوشش کرو۔
Ayahs 25:53–59

وَ هُوَ الَّذِیْ مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ هٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَّ هٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ١ۚ وَ جَعَلَ بَیْنَهُمَا بَرْزَخًا وَّ حِجْرًا مَّحْجُوْرًا Open ayah 25:53 in the Quran reader

اور وہی تو ہے کہ جس نے دو دریائوں کو باہم ملایا یہ ایک تو (ان میں سے) شیریں خوشگوار ہے اور یہ ایک کھاری کڑوا اور ان دونوں میں ایک پردہ اور مستحکم آڑبنا دی

وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ مِنَ الْمَآءِ بَشَرًا فَجَعَلَهٗ نَسَبًا وَّ صِهْرًا١ؕ وَ كَانَ رَبُّكَ قَدِیْرًا Open ayah 25:54 in the Quran reader

جو باہم ملنے نہیں دیتی اور اسی نے انسان کو پانی میں سے پیدا کیا پھر اس کے لیے رشتہ نسب و دامادی قائم کیا اور آپ کا رب تو ہر چیز پر قادر ہے

وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُهُمْ وَ لَا یَضُرُّهُمْ١ؕ وَ كَانَ الْكَافِرُ عَلٰى رَبِّهٖ ظَهِیْرًا Open ayah 25:55 in the Quran reader

اور وہ اللہ کو چھوڑ کر ان معبودوں کو پوجتے ہیں کہ جو ان کو نہ نفع دے سکتے ہیں اور نہ ضرر اور کافر تو رب کے مقابلہ میں کمر باندھے ہوئے ہیں

وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًا Open ayah 25:56 in the Quran reader

اور (اے نبی ! ) آپ کو تو ہم نے محض خوشخبری اور ڈر سنانے کے لیے بھیجا ہے۔

قُلْ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ اِلَّا مَنْ شَآءَ اَنْ یَّتَّخِذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِیْلًا Open ayah 25:57 in the Quran reader

(ان سے) کہہ دو میں اس پر تم سے کوئی اجرت تو نہیں مانگتا مگر یہی کہ جو چاہے اپنے رب کی طرف کا رستہ اختیار کرلے۔

وَ تَوَكَّلْ عَلَى الْحَیِّ الَّذِیْ لَا یَمُوْتُ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِهٖ١ؕ وَ كَفٰى بِهٖ بِذُنُوْبِ عِبَادِهٖ خَبِیْرَا٤ۚۛۙ Open ayah 25:58 in the Quran reader

اور (اے نبی ! ) تم اپنے اس زندہ خدا پر بھروسہ رکھو کہ جس کو کبھی موت نہیں اور اس کی ستایش کے ساتھ تسبیح کرتے رہو اور اس کا اپنے بندوں کے گناہوں سے خبردار ہونا بس کرتا ہے

اِ۟لَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١ۛۚ اَلرَّحْمٰنُ فَسْئَلْ بِهٖ خَبِیْرًا Open ayah 25:59 in the Quran reader

وہی تو ہے کہ جس نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان میں ہے سب کو چھ دن میں بنا دیا پھر تخت (حکومت) پر قائم ہوا وہ رحمن ہے پس اس کی شان تو کسی خبردار سے پوچھئے

ترکیب : بینہما ظرف لجعل علی ربہ متعلق ہے ظہیرًا سے خبر کان، الامن شاء استثنیٰ من غیر الجنس الرحمن مبتداء فسئل بہ خبر۔ تفسیر : : وھوالذی مرج البحرین الخ (4) یہ دلیل ہے کہ اس نے دو قسم کے دریا رواں کئے۔ یا یوں کہو دو دریا کو باہم ملایا۔ ایک ان میں سے نہایت شیریں ‘ خوشگوار اور دوسرا کھاری تلخ اور باہم ملنے نہیں پاتے ان میں قدرتی حد فاصل رکھی ہوئی ہے۔ زمین کے دریا رواں جب سمندر میں گرتے ہیں اور یہ دریا شیریں ہوتے ہیں تو دور تک دونوں کی دو دو دھاریں نظر آتی ہیں باہم اختلاط پر امتیاز معلوم ہوتا ہے ان میں سمندر کی دھار کھاری اور زمین کے دریائِ رواں کی دھار شیریں ہوتی ہے سمندر میں پڑنے سے دونوں سمندر ہوگئے اور سمندر کو عرب بحر کہتے ہیں۔ اصل المرج الار سال والخلط ومنہ قولہ تعالیٰ فہم فی امرمریج ان دونوں دریائوں سے اس طرف بھی اشارہ ہوسکتا ہے کہ انسان مجمع البحرین ہے اس کے اندر دو دریا ایسے ہیں ایک قوائے ملکوتیہ کا دریا جو درحقیقت نہایت شیریں اور خوشگوار اور دوسرا قوائے حیوانیہ کا دریا جو تلخ ہے۔ ان دونوں کے درمیان حد فاصل عقل کامل ہے۔ (5) وھو الذی خلق من الماء بشرا کہ اس نے ایک پانی سے یعنی منی سے بشر پیدا کردیا وہی مرد کی ایک منی ہے کہ اسی سے مرد پیدا کرتا ہے اور اسی سے عورتیں اور رب قادر ہے۔ نسبا اے ذونسب و المراد والذکو رینسب الیھم فیقال فلان بن فلان ذوات صہرا ای اناثا یصا ہرون۔ یا یوں کہو انسان کو بنا کر اس کی قرابت و مودت کے دو طریقہ رکھے۔ ایک نسب دوسرا صہر یعنی دامادی فجعلہ اے فجعل لہ نسباو صہرا۔ ویعیدون من دون اللہ الخ دلائلِ توحید کے بعد کفار کے اس طریقہ کی مذمت کرتا ہے جو بت پرستی کے لیے ان میں جاری تھا کہ ایسی نکمی چیزوں کو پوجتے ہیں کہ جو ان کو نہ کچھ نفع دے سکتی ہیں نہ ضرر اور (کافر جس سے مراد اکثر کے نزدیک ابوجہل ہے) اپنے رب سے پیٹھ پھیرے ہوئے ہے جو ایسی باتیں کرتا ہے۔ ابو مسلم کہتے ہیں ظہیرا اس جگہ ان کے اس قول سے ماخوذ ہے ظہرفلان بحاجتی اذا نبذھا وراء ظہرہ و مومن قولہ تعالیٰ و اتخذتموہ وراء کم ظہریا یعنی اس کے معنی پیٹھ پیچھے ڈالنے اور پیٹھ پھیرنے کے ہیں گرچہ ظہیر بمعنی معاون بھی ہوسکتا ہے جس کے یہ معنی ہوں گے کہ کافر اپنے اس رب کا جس کو خدا کے سوا پوجتا ہے مددگار ہے خود اس کو گھڑ کر ہاتھ سے یا خیالات سے بناتا ہے ایسا خدا بھی کوئی خدا ہے جس کا مددگار اس کا عابد ہو۔ پھر فرماتا ہے وما ارسلناک الخ یعنی اے نبی ! اگر یہ ہدایت پر نہ آئیں تو آپ کا کچھ بھی ذمہ نہیں کیونکہ آپ کا کام خوشخبری اور خوف دلانا ہے سو آپ کرچکے۔ پھر فرماتا ہے کہ ان حمقاء سے کہہ دو کہ میں تم سے اس بات میں کچھ مانگتا تو نہیں یہی چاہتا ہوں کہ تم کو راہ راست نصیب ہو یعنی بےغرض خیرخواہ ہوں پھر ایسے شخص سے سرتابی کرنا کس عقل کا مقتضٰی ہے ؟ اس لیے آپ کو تسلی دیتا ہے کہ آپ خدا حی لایزال پر توکل کریں اور اس کی ثناء و صفت کیا کریں۔ وہ اپنے بندوں کے گناہوں سے واقف ہے آپ سمجھ لے گا وہ کہ جس نے چھ روز میں آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی سب چیزوں کو بنا دیا پھر تخت حکومت پر قائم ہوا یعنی مخلوقات کو پیدا کر کے ان پر حکمرانی شروع کی اور وہ کون ہے ؟ رحمان خبیر یعنی بڑے خبردار سے پوچھو یا یوں کہو رحمن خبردار ہے اس سے پوچھو ان جملوں میں خدا تعالیٰ کی صفات اس طرز پر ثابت کئے کہ جس سے ضمناً ان کے بتوں کی خدائی بھی باطل ہوگئی کہ وہ نہ حی ہیں نہ موت سے بری ہیں نہ وہ بندوں کے گناہوں سے واقف ہیں نہ انہوں نے کوئی چیز پیدا کی ہے اور چھ روز سے یہ بھی بتلا دیا کہ آپ جلدی نہ کریں خدا نے باوجود قدرت کے چھ روز میں مخلوق پیدا کی آپ کا دین بھی بتدریج جاری ہوگا۔ واذاقیل لہم یعنی آپ سے کیا برگشتہ ہیں وہ رحمان سے بھی برگشتہ ہیں جو سجدہ نہیں کرتے۔
Ayah 25:60

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اسْجُدُوْا لِلرَّحْمٰنِ قَالُوْا وَ مَا الرَّحْمٰنُ١ۗ اَنَسْجُدُ لِمَا تَاْمُرُنَا وَ زَادَهُمْ نُفُوْرًا۠۩ Open ayah 25:60 in the Quran reader

اور جب ان (منکرین) سے کہا جاتا ہے کہ رحمن کو سجدہ 1 ؎ کرو تو کہتے ہیں کیا ہے رحمن کیا تو جس کو کہے گا اس کو ہم سجدہ کریں گے اور یہ نام تو ان کو اور بھی بدکاتا 1 ؎ ہے۔

1 ؎ بعض کہتے ہیں کفار نہیں جانتے تھے کہ رحمن اللہ کا نام ہے مگر یہ ٹھیک نہیں کیونکہ لفظ عوتی ہے بلکہ تکبراً خدا سے انکار کرتے تھے اور اس کے لیے سجدہ کرنے سے نفرت کرتے تھے کیونکہ بت پرستی کی عادت تھی۔ 12 منہ۔ اس مقام پر سجدہ واجب ہے۔ ضحاک کہتے ہیں اس موقع پر آنحضرت ﷺ اور خلفار اربعہ و عثمان بن مظعون و عمر بن عبسہ ؓ نے جو سجدہ کیا تو مشرکین مسجد کے کنارے جا کر ہنسنے لگے پس زادھم نفورا سے یہ مراد ہے (ک) 12۔ منہ
Ayahs 25:61–62

تَبٰرَكَ الَّذِیْ جَعَلَ فِی السَّمَآءِ بُرُوْجًا وَّ جَعَلَ فِیْهَا سِرٰجًا وَّ قَمَرًا مُّنِیْرًا Open ayah 25:61 in the Quran reader

اس کی ذات بڑی بابرکت ہے کہ جس نے آسمان میں برج بنائے اور ان میں چراغ (آفتاب) اور چمکتا ہوا چاند بھی بنایا۔

وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ خِلْفَةً لِّمَنْ اَرَادَ اَنْ یَّذَّكَّرَ اَوْ اَرَادَ شُكُوْرًا Open ayah 25:62 in the Quran reader

اور وہ ہی تو ہے کہ جس نے رات اور دن بنائے جو ایک دوسرے کے پیچھے لگا ہوا ہے۔ یہ اس کے لیے جو آیات پر غور کر کے سمجھنا یا شکر کرنے کا ارادہ کرے۔

تفسیر : تبارک الذی الخ یہ جواب ہے ان کے اس قول کا وما الرحمن کہ کیا ہے رحمن ! وہ بابرکت ہے کہ جس نے آسمان میں برج بنائے اور اس میں سراج یعنی آفتاب بنایا ہے جو تمام دنیا کا چراغ ہے اگر یہ نہ ہوتا تو اندھیرا ہوجاتا اور رات کے لیے بھی اس نے چاند چمکتا بنایا ہے۔ مطلب یہ کہ رحمان وہ ہے کہ جس نے دنیا کا گھر بنایا اور اس گھر میں آفتاب و ماہتاب کی قندیلیں روشن کیں اور اس گھر میں تمہارے لیے ہر ایک قسم کا سامان معیشت بہم پہنچایا۔ پھر کہتے ہو کہ رحمان کون ہے اور اس کے سجدہ کرنے سے نفرت کرتے ہو ؟ اور اس پر بس نہ کیا بلکہ اس نے رات دن بنائے جو ایک کے بعد دوسرا آتا ہے رات کے بعد دن اور دن کے بعد رات یا یوں کہو ایک دوسرے کے مخالف ہے یہ مجاہد وقتادہ وکسائی کا قول ہے۔ یقال لکل شی ئٍ اختلفا ھمالفان فقولہ خلفتہ ای مختلفین ھذا اسود وھذا بیض و ھذا طویل وھذا قصیر اگر ہمیشہ رات یا دن ہوتا تو نظام عالم نہ رہتا۔ فرماتا ہے یہ شکر کرنے والوں اور سمجھنے والوں کے لیے ہے جعل فی السماء بروجا آسماں میں تاروں کے اجتماع سے مختلف صورتیں پیدا ہوگئیں کہیں شیر کی ‘ کہیں ترازو کی کہیں بیل کی ‘ کہیں مچھلی کی ‘ وغیرہ اور آسمان کو حکماء نے بارہ حصوں میں خیالی طور پر اس طرح سے تقسیم کیا ہے کہ جس طرح خربوزہ کی قاشیں اور ہر ایک حصہ کا نام برج رکھا ہے اور جن برج میں صور مذکورہ میں سے جو کسی کی صورت آگئی ہے اس کو اس کے نام سے نامزد کردیا ہے۔ جس میں شیر کی صورت ہے اس کو برج اسد کہتے ہیں جس میں مچھلی کی اس کو برج حوت علی ہذالقیاس اور یہ بات عرب میں ہمیشہ سے مسلم چلی آتی تھی وعباد الرحمن الخ یہاں سے ان پر تعریض کرتا ہے کہ تم رحمان کو کیا جانتے ہو تم تو شیطان کے بندے بنے ہوئے ہو۔ دیکھو رحمان کے بندے یہ لوگ ہیں جن میں یہ خوبیاں پائی جاتی ہیں یہاں سے پھر احکام اور قوت عملیہ کی تکمیل کا مسئلہ اس خوبی اور مناسبت سے شروع کرتا ہے۔
Ayahs 25:63–64

وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا Open ayah 25:63 in the Quran reader

اور رحمٰن کے (خاص) بندے تو وہی ہیں جو زمین پر جھک کر چلتے ہیں اور جب ان سے جاہل مٹ بھیڑ ہوجاتے ہیں تو سلام کہتے (اور الگ ہوجاتے ہیں)

وَ الَّذِیْنَ یَبِیْتُوْنَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَّ قِیَامًا Open ayah 25:64 in the Quran reader

اور وہ جو اپنے رب کے آگے سجدہ اور قیام ہی میں رات گزارتے ہیں

عباد الرحمن کے چند اوصاف حمیدہ ذکر کرتا ہے جس سے عام مسلمانوں کو بھی ان اوصاف کو حاصل کرنے کی ترغیب دلانی مقصود ہے کہ خالی باتیں بنانے سے رحمان کا بندہ خاص نہیں بنتا جب تک کہ ان باتوں کو اپنے میں پیدا نہ کرے اور یوں تو رحمان کے سبھی بندے ہیں مگر مراد خالص اور اچھے اور مقبول بندے ہیں۔ صفت اول (1) الذین یمشون الخ کہ جو زمین پر اکڑتے اور اتراتے ہوئے نہیں چلتے بلکہ تواضع اور فروتنی سے۔ (2) واذا خاطبہم الجاھلون جب جاہلوں سے ہمکلامی کا اتفاق پڑتا ہے تو سلام کہتے ہیں یعنی تسلیم اختیار کرتے ہیں۔ یا یہ کہ سلامتی اور سکوت طلب کرتے ہیں جیسا کہ کہتے ہیں معاف کیجیے ان سے الجھتے الجھتے جھگڑتے نہیں۔ کس لیے کہ سفہاء کی باتوں سے درگزر کرنا اور مقابلہ نہ کرنا عقلاً و شرعاً بہتر ہے اور اس میں سلامتی اور حفظ آبرو بھی ہے۔ یا یہ کہ سلام تودیع کہتے ہیں یعنی سلام کرکے رخصت اور الگ ہوجاتے ہیں سب سے مطلب یہ ہے کہ جہل و فساد کے مقابلہ میں حلم اختیار کرتے ہیں۔ (3) یہ کہ یہ تو ان کا دن کا اور باہمی تمدن کا برتاؤ تھا۔ اب خدا سے معاملہ اور شب کی کیفیت یہ ہے یبیتون لربہم الخ کہ تمام رات یا اس کا بڑا حصہ خدا کی یاد میں صرف کرتے ہیں نماز پڑھتے ہیں جس میں سجدہ اور قیام بھی ہے۔ حسن کہتے ہیں اللہ کے سامنے کھڑے رہتے ہیں اور نیاز کے ساتھ اس کے آگے سر رکھ دیتے ہیں آنکھوں سے آنسو جاری ہوتے ہیں یہ نماز تہجد کی طرف اشارہ ہے جو اسلام کا شیوہ خاص ہے۔
Ayahs 25:65–66

وَ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ١ۖۗ اِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًاۗۖ Open ayah 25:65 in the Quran reader

اور وہ دعا کرتے رہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! ہم سے جہنم کا عذاب دور رکھیو کیونکہ دوزخ کا عذاب بڑی سخت آفت ہے۔

اِنَّهَا سَآءَتْ مُسْتَقَرًّا وَّ مُقَامًا Open ayah 25:66 in the Quran reader

وہ تو بہت ہی بڑا ٹھکانا اور بہت برا مقام ہے

(4) والذین یقولون ربنا اصرف الخ یعنی اس عبادت پر ان کو غرور نہیں بلکہ عذاب جہنم سے ڈرتے اور یہ دعا کرتے رہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! ہم سے عذاب جہنم کو دور رکھیو کیونکہ وہ درد ناک عذاب ہے اور جہنم بری جگہ ہے۔ (5) والذین اذا انفقوا الخ کہ خرچ کرنے میں درمیانہ روی کرتے ہیں نہ اسراف ہے نہ اقتار 1 ؎ کھانے پینے ‘ لباس ‘ مکان سب میں درمیانہ روی مستحسن ہے بعض کہتے ہیں گناہ کے کام میں صرف کرنا اسراف ہے اور حق اللہ میں دست کشی کرنا اقتار یعنی تنگدلی ہے۔ (6) والذین لایدعون الخ کہ وہ ہر حال میں شرک سے بچتے ہیں خدا کا کسی کو شریک نہیں سمجھتے اور کسی کو ناحق قتل بھی نہیں کرتے۔ جن مواقع میں قتل کی رخصت ہے جیسا کہ خون کے بدلہ میں خونی کا خون کرنا یا عین جنگ میں دشمن کا قتل کرنا وہاں تو وہ ہاتھ نہیں روکتے باقی دیگر مواضع میں جن کا خدا نے حکم نہیں دیا اور جان کا مارنا حرام کیا ہے وہاں ہاتھ روکتے ہیں یہ نہیں کہ آپس کی خانہ جنگیوں میں یا راہزنی اور چوری وغیرہ امور میں مار ڈالتے ہوں۔ رحم اور عدل دونوں کی رعایت رکھتے ہیں۔ (7) اور نہ وہ زنا کرتے ہیں پھر فرماتا ہے ومن یفعل ذالک یلق اثاما کہ جو ایسے کام کرے گا وہ اس کا برا بدلہ بھی پائے گا ان الاثام والاثم واحد و المراد ھہنا جزاء الاثام۔ یضاعف لہ العذاب یوم القیامۃ ان کو قیامت میں دو چند عذاب دیا جائے گا ایک شرک کا دوسرا ان گناہوں کا ویخلد فیہ مہانا اور اس عذاب میں ہمیشہ خوار و ذلیل ہو کر رہے گا۔ بخاری و مسلم نے ابن مسعود ؓ سے روایت کی ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ کونسا گناہ بڑھ کر ہے فرمایا کہ تو کسی کو اللہ کا شریک بناوے حالانکہ اس نے تجھے پیدا کیا۔ میں نے کہا پھر کونسا ہے ؟ فرمایا پھر یہ کہ تو اپنے لڑکے کو اس خوف سے مار ڈالے کہ تجھے اس کو اپنے ساتھ کھلانا پڑے گا (عرب میں ایسا بھی ہوتا تھا) پھر عرض کیا پھر کونسا ؟ فرمایا ہمسایہ کی بیوی سے زنا کرنا اس کی تصدیق میں خدا تعالیٰ نے یہ آیات نازل کیں والذین لایدعون مع اللہ الہا آخر الایہ یعنی یہ آیات حدیث کی تائید کرتی ہیں اور مواقعِ تائید میں آیات کا پیش کرنا متقدمین میں نزول سے تعبیر ہوتا ہے بخاری وغیرہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ اس آیت کے بعد مشرکین نے کہا ہم نے تو اور معبودوں کو بھی پوجا اور ناحق قتل بھی کیا اور حرام کاری بھی کی ہے پس ہمارے مغفرت کا کیا طریق ؟ تب یہ آیت نازل ہوئی الامن تاب وامن و عمل صالحا کہ جس نے توبہ کی اور ایمان لا کر عمل صالح کئے فاولئک یبدل اللہ سیئاتہم حسنات اللہ ان کے گناہان سابقہ کو مٹا کر یہ نیک کام ان کے نامہ اعمال میں لکھ دے گا اور ممکن ہے کہ اپنے فضل سے ان کی حقیقت بدل دے۔ ؎ ہر کہ درسایہ حمایت اوست، گنہش طاعت لست دشمن دوست۔
Ayahs 25:67–71

وَ الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَنْفَقُوْا لَمْ یُسْرِفُوْا وَ لَمْ یَقْتُرُوْا وَ كَانَ بَیْنَ ذٰلِكَ قَوَامًا Open ayah 25:67 in the Quran reader

اور وہ جو جب خرچ کرتے ہیں تو نہ فضول خرچی کرتے ہیں اور نہ تنگدلی اور ان کا خرچ کرنا اعتدال پر ہوتا ہے۔

وَ الَّذِیْنَ لَا یَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ وَ لَا یَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ لَا یَزْنُوْنَ١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ یَلْقَ اَثَامًاۙ Open ayah 25:68 in the Quran reader

اور وہ جو اللہ کے سوا کسی اور معبود کو نہیں پکارتے اور نہ اس جان کو قتل کرتے ہیں کہ جس کو اللہ نے حرام کردیا ہے مگر حق سے اور نہ وہ زنا کرتے ہیں اور جو ایسا کرتا بھی ہے تو سزا کا مستحق ٹھہرتا ہے۔

یُّضٰعَفْ لَهُ الْعَذَابُ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ یَخْلُدْ فِیْهٖ مُهَانًاۗۖ Open ayah 25:69 in the Quran reader

اس کے لیے قیامت میں دو چند عذاب ہوگا اور اس میں وہ سدا خوار ہو کر پڑا رہے گا۔

اِلَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَاُولٰٓئِكَ یُبَدِّلُ اللّٰهُ سَیِّاٰتِهِمْ حَسَنٰتٍ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 25:70 in the Quran reader

مگر جو توبہ کرے اور ایمان لاوے اور اچھے کام بھی کرے سو اللہ ان کی برائیوں کو نیکیوں سے بدل دیا کرتا ہے اور اللہ غفور الرحیم ہے

وَ مَنْ تَابَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَاِنَّهٗ یَتُوْبُ اِلَى اللّٰهِ مَتَابًا Open ayah 25:71 in the Quran reader

اور جس نے توبہ کرلی اور نیک کام بھی کرنے لگا تو وہ (دراصل) اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے

1 ؎ اقتار وقتور تنگ دلی ‘ کنجوسی۔