Ayahs 21:76–80ترکیب : جس طرح لوطا مفعول تھا ائتیا محذوف کا جس کی تفسیر اتینا مذکور ہے اسی طرح نوحا و دائود و سلیمان ہیں اور ممکن ہے کہ ان کو اذکر محذوف کا مفعول کہا جاوے اذ نفشت ظرف ہو یحکمان کا مع داؤد والعامل فی مع یسبحن اور یہ حال ہے الجبال سے والطیر معطوف ہے الجبال پر وقیلھی بمعنی مع الریح منصوب ہے سخرنامقدر سے عاصفہ حال ہوا الریح سے تجری دوسرا حال من منصوب ہے سخرنا سے۔
تفسیر : :۔ یہ تیسرا قصہ حضرت نوح ( علیہ السلام) کا ہے کہ جب ان کی قوم نے ان کو سخت تکلیف پہنچائی اور انہوں نے ہم کو کرب عظیم میں پکارا
تو اس کو اور اس کے کنبے کو کشتی میں سوار کر کے اس بلائے عظیم سے نجات دی باقی تمام قوم پر قہر الٰہی ٹوٹ پڑا سب کے سب پانی میں ڈوب گئے۔ اے محمد ﷺ ! پہلی امتوں نے اپنے انبیاء کو ایسی ایسی تکلیفیں دی ہیں آخر اس کے وبال میں پکڑے گئے تمہارے مخالف اس مہلت پر نازاں نہ ہوں۔
یہ چوتھا قصہ حضرت دائود اور سلیمان (علیہ السلام) کا ہے ان کے قصہ میں ایک تو یہ بات بتلانی مقصود ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نسل میں سے ایسے ایسے برگزیدہ اور صاحب تخت و تاج پیدا ہوئے یہ سب ان کی خدا پرستی کا پھل ہے کہ جن کے ساتھ ان کے معاصروں نے یہ بدسلوکیاں کیں تھیں کہ ان کو آگ میں ڈال دیا تھا۔ دوسری بات یہ کہ کفار قریش جو اپنی تھوڑی سی آسودگی پر یہ غرور اور سرکشی کرتے یہ ان کی کم حوصلگی ہے ورنہ دائود اور سلیمان ( علیہ السلام) جیسوں کو دیکھو کہ خدا تعالیٰ نے ان کو کیسی ثروت اور حکومت دی تھی ہوا اور پہاڑ اور پرند تک اور جن و شیاطین تک بھی ان کے زیر حکم تھے۔ اس پر بھی وہ ایسے خدا ترس ‘ خدا پرست ‘ با انصاف تھے کہ جس کی ادنیٰ نظیریہ ہے کہ دائود (علیہ السلام) سے باوجود یہ کہ باپ اور بزرگ تھے ایک فیصلہ میں غلطی ہوئی جو بکریوں کے کھیت میں نقصان کردینے کے متعلق تھا مگر سلمان ( علیہ السلام) کے کہنے کو مان گئے اور سلیمان ( علیہ السلام) کو دیکھو کہ انہوں نے اس غلط فیصلہ میں جو ایسے بڑے معزز باپ سے سرزد ہوگیا تھا ان کی پیروی نہ کی۔ پھر اے لوگو ! تم اپنے جہلا باپ دادا کی لکیر کے ناحق کیوں فقیر بنے بیٹھے ہو کیا ان سے غلطی اور سوئِ فہمی ممکن نہ تھی ؟ اب پیشتر وہ بکریوں کے چرنے کا فیصلہ ذکر فرماتا ہے پھر جو ان کو نعمتیں عطا ہوئی تھیں ان کو ذکر کرتا ہے۔ فقال اذ نفشت ابن السکیت کہتے ہیں نفش شب میں بکریوں کا چرواہے بغیر ازخود چرنا۔ وہ قصہ جیسا کہ ابن مسعود ‘ شریح و مقاتل رحمہم اللہ نے نقل کیا ہے یوں ہے کہ دائود (علیہ السلام) کے عہد حکومت میں ایک رات کسی چرواہے کی بیخبر ی میں بکریاں کسی کے انگوری کھیت میں جا پڑیں۔ بکریوں نے انگور کی کونپلیں کھا لیں خوشوں کو خراب کردیا صبح کو یہ مقدمہ حضرت دائود ( علیہ السلام) کے سامنے پیش ہوا حضرت نے اس کے نقصان کا اندازہ لگایا تو اس قدر قیمت ہوئی کہ جس قدر بکریوں کی مالیت تھی اس لیے وہ بکریاں اس کے تاوان میں کھیت والے کو دلا دیں۔ فریقین باہر آئے تو ان سے سلیمان ( علیہ السلام) نے پوچھا سن کر کہا کہ فریقین کے حق میں اس سے بہتر اور فیصلہ ہونا چاہیے تھا۔ یہ خبر دائود ( علیہ السلام) کو پہنچی انہوں نے سلمان ( علیہ السلام) کو بلا کر پوچھا فرمایا بکریاں کھیت والے کو دیجئے اور چرواہے کو کہئے کہ جتنی مدت تک کہ پھر اسی طرح اس کا باغ درست ہو وہ تیری بکریوں کا دودھ اور اون وغیرہ کا نفع لے گا اور تو اتنے دنوں اس کی کھیت کو درست کرے گا پھر جب ویسا ہی ہوجائے تو تیری بکریاں تجھ کو واپس ملیں گی اس پر فریقین راضی ہوگئے۔ دائود (علیہ السلام) نے اس کو بہت پسند کیا 1 ؎۔ اب دائود پر جو انعام ہوئے تھے ان کو بتلاتا ہے : (1) پہاڑ اور پر ندان کے ساتھ تسبیح کیا کرتے تھے مقاتل کہتے ہیں کہ
1 ؎ داؤد (علیہ السلام) کا یہ فیصلہ وحی والہام پر مبنی نہ تھا بلکہ اجتہاد پر اور اجتہاد شرع میں درست اور سند ہے لیکن مجتھد سے بحیثیت اجتہاد خواہ وہ کوئی ہو غلطی ممکن ہے یا یوں کہو دائود ( علیہ السلام) سے بھی غلطی نہیں ہوئی مگر سلیمان ( علیہ السلام) کو ان سے بہتر بات معلوم ہوگئی۔ ہماری شرع میں اگر یہ حادثہ واقع ہو تو اس کی نسبت حسن بصری (رح) فرماتے ہیں کہ یہی حکم سلیمانی جاری ہوگا کیونکہ یہ آیت محکمہ ہے اور بہت علماء کہتے ہیں اجماع سے منسوخ الحکم ہے پھر اس میں امام شافعی (رح) فرماتے ہیں اگر یہ واقعہ دن میں ہو تو بکریوں کے مالک کو کچھ دینا نہیں پڑتا کیونکہ ان میں کھیت کی حفاظت کھیت والے کے ذمہ ہے ہاں اگر رات میں ہو تو تاوان دینا ہوگا۔ امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ خواہ دن کا واقعہ ہو یا رات کا جب تک چرواہے کی بکریوں کے چھوڑنے میں کوئی تعدی یا خفا نہ ہوگی تاوان نہ لازم ہوگا کیونکہ صحیح حدیث میں آگیا ہے العجماء جرجہاجبار۔ ک 12 منہ
جب دائود (علیہ السلام) جنگل میں جا کر زبور پڑھتے اور روتے تھے تو ان کے ساتھ پہاڑ اور پرند بھی تسبیح و تہلیل کرنے لگتے تھے۔ کلبی کہتے ہیں کہ پہاڑوں کا ان کی آواز تسبیح سے گونج اٹھنا اور پرند کا جھنڈ باندھ کر ان کے گرداگرد ان کے حمد وثناء آہ و بکا میں شریک ہونا ان کا تسبیح کرنا ہے اور ایسا واقعہ ہوتا تھا۔ (2) دائود (علیہ السلام) کو زرہ بنانی سکھائی۔ ان سے پیشتر کوئی زرہ بنانا نہ جانتا تھا۔ یہ بھی حروب وجدال میں بڑی کارآمد چیز ہے خدا نے یہ نعمت بندوں کو دائود (علیہ السلام) کے ذریعہ سے عطا فرمائی۔ آج کل قسم قسم کی توپیں اور بندوقیں اور آلات آتش فشاں انسان کے مارنے کے اسباب ہیں مگر محفوظ رکھنے کا کوئی نہیں۔ اس لیے فرماتا ہے لتحصنکم اس پر شکر کرنا چاہیے۔ کماقال فہل انتم شاکرون۔
اس کے بعد ان نعمتوں کا ذکر کرتا ہے جو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو دی گئی تھیں : (1) ولسلیمان الریح عاصفۃ کہ سلیمان کے لیے ہوا مسخر ہوئی اس کے حکم یا مرضی کے موافق شام کے ملک کی طرف چلا کرتی تھی۔ سورة ص میں اسی امر کو یوں بیان فرمایا ہے فسخر نالہ الریح تجری بامرہ رخائً حیث اصاء و الشیاطین کل بناء غواص و آخرین مقرنین فی الاصفاد، سورة سباء میں یوں آیا ولسلیمن الریح غدوھا شہر ورواحہا شہر کہ سلیمان ( علیہ السلام) کے لیے ہوا تابع کردی تھی جس کی صبح و شام کی رفتار ایک مہینہ کا رستہ تھا۔ سورة ص میں ہوا کو نرم اور سورة انبیاء میں تندوتیز فرمایا اس وجہ سے کہ ہوا تو تیز تھی مگر سلیمان ( علیہ السلام) کی مرضی کے موافق نرم نرم بھی چلتی تھی کہ جس میں تکلیف نہ ہو ‘ ہموار چلتی تھی ان آیات میں یہ ذکر نہیں کہ سلیمان (علیہ السلام) کسی تخت پر مع اپنے مصاحبوں کے بیٹھتے تھے اور وہ تخت ایسا اور ایسا تھا جو ہوا پر اڑا کرتا تھا۔ مہینے بھر کا رستہ آدھے دن میں طے کرتا تھا اور سلمان ( علیہ السلام) اصطخریا اور کسی مشرقی صوبہ سے صبح کو سوار ہوتے تھے تو دوپہر تک شام اور خاص یروسلم میں جا پہنچتے تھے۔ البتہ مفسرین اسلام اور مؤرخین یہود کے ہاں یہ روایات مشہور اور مسلم ہیں اور اگر ایسا ہو بھی تو عقلاً کچھ ممنوع نہیں کیونکہ اول تو حضرت سلیمان ( علیہ السلام) نبی تھے ان کے معجزہ سے ایسا ہونا ممکن ہے دوم ہر زمانہ میں ایسے ایسے عجائب وغرائب صنائع اختراع ہوئے ہیں کہ جو ان صنائع کے صفحہ عالم سے محو ہوجانے کے بعد وہ افسانہ دوراز عقل معلوم ہوتا ہے۔ آج کل ہوائی جہاز کی رفتار کو دیکھئے پھر کیا ممکن نہیں کہ اس عہد میں اسی قسم کی سواری ایجاد ہوئی ہو۔
جو لوگ معجزات و خرق عادات کو قصہ و کہانی جانتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ آیات میں صرف ہوا کا مسخر ہونا مذکور ہے جو سلیمان (علیہ السلام) کے جہازی بیڑے کی طرف اشارہ کرتا ہے جو جیرام شہر صور کے بادشاہ نے بیت المقدس کی تعمیر کے لیے لکڑیاں پہنچانے کے لیے بنوایا تھا جیسا کہ اول کتاب السلاطین کے 5 باب میں مذکور ہے اور تجری بامرہ الی الارض التی بارکنافیہا اس پر صاف دلیل ہے کیونکہ لبنان کی طرف سے سمندر کی راہ سے وہ بیڑا یروسلم کی طرف آیا کرتا تھا۔ (2) شیاطین یعنی جن حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کے تابع تھے جو بہت سے سرکشی کی وجہ سے بیڑیوں میں قید رہتے تھے اور ان میں سے بہت کو مختلف کاموں پر لگا رکھا تھا کہ بعض سمندر میں غوطہ لگا کر موتی نکالا کرتے تھے اور عمارت اور دیگر بھاری بھاری کاموں پر بھی مامور تھے جیسا کہ سورة سباء میں ہے ومن الجن من یعمل بین یدیہ باذن ربہ۔ اور یہ قوم جن محض خدا تعالیٰ کی قدرت سے سلیمان (علیہ السلام) کے بس میں تھی جیسا کہ فرماتا ہے وکنا لہم حافظین جبکہ قوم جن کا وجود انسان سے جداگانہ مقدمہ تفسیر میں ثابت ہوچکا اور یہ بھی کہ اپنے مادہ کی وجہ سے وہ انسان سے قوی ہیں تو پھر خدا کی قدرت و عنایت سے ان کا کسی بابرکت انسان کے بس میں ہوجانا اور کام کرنا کیا محال ہے ؟ صدہا عجائب کار عاملان جن کے لوگوں نے دیکھے ہیں مگر وہی نئی روشنی کے لوگ اس کی بھی یہ توجیہ کرتے ہیں کہ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کی عملداری نہر فرات سے لے کر فلسطینیوں کی زمین تک اور مصر کی سرحد تک تھی اور دریا کے اس پار تفسح سے لے کر غرہ تک سب بادشاہوں یعنی بااختیار رئیسوں پر اس کی حکومت تھی جیسا کہ اول کتاب السلاطین کے 4 باب میں ہے اور عمالیق قوم کو ان کی سرکشی اور تنومندی اور قوت کی وجہ سے کبھی جن کے ساتھ کبھی شیاطین کے ساتھ تعبیر کیا جاتا تھا جیسا کہ آج کل بھی بڑے اور سرکش آدمی کو شیطان اور بڑے قوی کو جن کہا کرتے ہیں۔ بس اس سے یہی لوگ مراد ہیں۔ فائدہ : یہ باتیں صاف صاف بائبل میں نہیں مگر کچھ حرج نہیں کیونکہ کتب موجودہ میں بہت سی باتیں نہیں۔ دیکھو اول کتاب التواریخ کے اخیر میں یہ لکھا ہے کہ دائود بادشاہ کے اعمال اول و آخر دیکھ وہ سب سموئیل غیب بیں کی تواریخ میں اور ناتن نبی کی تواریخ میں اور جادو غیب میں کی تواریخ میں یعنی اس کی ساری حکومت اور زور کا تذکرہ اور جو جو زمانے اس پر اور اسرائیل پر اور زمین کی ساری مملکتوں پر گزر گئے ان کا سب حال لکھا ہے۔ اب فرمائیے کہ وہ سب کتابیں کہاں ہیں ؟ پس جس علام الغیوب کے علم میں وہ سب احوال ہیں اس نے ان میں سے بعض اپنے رسول ﷺ پر بھی الہام کئے۔
Ayah 21:813 ؎ یعنی ملک شام و فلسطین 13 منہ
2 ؎ عاصفۃ شدیدۃ الھبوب و خفیفہ یقال اعصفت الریح اذا اشدت 12 منہ۔
Ayah 21:823 ؎ الخوض غوطہ نعان ورآب 12 منہ
Ayahs 21:83–84حضرت ایوب ( علیہ السلام) کا قصہ : یہ ایوب (علیہ السلام) کا پانچواں قصہ ہے جس میں یہ بات پاکبازوں اور خدا کے راستبازوں کو بتلائی جاتی ہے کہ دنیا دارالمصائب ہے یہاں بڑے بڑے برگزیدے آزمائے گئے ہیں۔ ان پر طرح طرح کی مصیبتیں پڑی ہیں ایوب ( علیہ السلام) کو دیکھو مال و اسباب پر مصیبت آئی ‘ فقیر ہوگئے پھر تمام اولاد بیٹے اور بیٹیاں دفعتاً مرگئے پھر خود بھی مرض جذام میں مبتلا ہوگئے لوگ گھن کھانے لگے گاؤں سے نکال دیے گئے ‘ باہر ایک جھونپڑی میں رہتے تھے بیوی کہیں سے…محنت و مزدوری کر کے لاتیں اور ان کو کھلاتی تھیں اس پر بھی انہوں نے صبر کیا۔
اس آزمائش کی بابت کتاب ایوب 1 ؎ میں بھی اور ہمارے ہاں کی روایات میں بھی یوں بیان ہوا ہے کہ شیطان نے خدا تعالیٰ سے کہا کہ ایوب کی جو تو تعریف کرتا ہے اس کا سبب یہی ہے کہ اس کو تو نے بہت سی نعمت عطا کر رکھی ہے اگر اس پر مصیبت آوے اور پھر تیری شکایت نہ کرے تب جانوں کہ صابر و شاکر ہے۔ خدا تعالیٰ نے شیطان کو اختیار دیا ایوب ( علیہ السلام) کے سات بیٹے اور تین بیٹیاں تھیں اور مال کا یہ حال کہ سات ہزار بھیڑیں اور تین ہزار اونٹ اور پانچ سو جوڑیاں بیلوں کی اور پانچ سو گدھیاں تھیں۔ پس ایک روز ایسا ہوا کہ سب بہن بھائی ایک مکان میں دعوت کھا رہے تھے اور مواشی چرا گاہ میں چر رہے تھے اور بیل جوتے جا رہے تھے۔ ناگاہ سبا کے لوگ آگرے اور گدھوں کو چھین لے گئے اور آدمیوں کو قتل کر گئے اور اسی دن آسمان سے آگ کا شعلہ آیا اس نے بھیڑوں اور نوکر چاکروں کو ہلاک کیا اور کسدی اونٹ لے گئے اور نوکروں کو مار گئے اور ایک زور کی آندھی آئی مکان گرگیا ۔ سب بیٹے بیٹیاں دب کر مرگئے۔ قاصدوں نے یکے بعد دیگرآکر ایک ہی وقت میں ایوب ( علیہ السلام) کو اس حادثہ کی خبر دی کسی نے اولاد کی ہلاکت کی ‘ کسی نے اونٹوں کی ‘ کسی نے بکریوں کی۔ ایوب ( علیہ السلام) نے سن کر سجدہ کیا اور کہا میں ماں کے پیٹ سے ننگا نکلا تھا اور ننگا ہی قبر میں جائوں گا ‘ اسی نے دیا تھا ‘ اسی نے لے لیا۔ اس کے بعد شیطان نے کہا اب بھی ایوب جو شکر و صبر کرتا ہے تندرستی کی نعمت ان کو حاصل ہے اگر یہ نہ ہو تب شکر و صبر کرے تو معلوم ہو اس پر بھی خدا تعالیٰ نے شیطان کو اجازت دی۔
1 ؎ صاحب معالم و تلک حجتنا کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ ایوب (علیہ السلام) رومی تھے اور تیسری پشت بنی عبص بن اسحاق (علیہ السلام) سے جا ملتے ہیں مگر صاحب انوار التنزیل نے سورة جن میں اذکر عبدنا ایوب کی تفسیر میں لکھا ہے کہ ایوب اسحاق (علیہ السلام) کا پوتا اور عبص کا بیٹا ہے بعض نے لوط (علیہ السلام) کا نواسہ بتایا ہے۔
تب شیطان نے حضرت ایوب ( علیہ السلام) پر اثر کیا جس کی وجہ سے تمام بدن پر پھوڑے نکلے اور ٹھیکرا لے کر کھجلانے لگے اور تمام بدن خراب ہوگیا پھوٹ نکلا ان مصیبتوں پر حضرت ایوب ( علیہ السلام) نے صبر کیا لوگوں کے طعن وتشنیع کی بھی تکلیفیں اٹھائیں۔ دوستوں کی بےمہری دیکھی۔ تب ایک روز حضرت ایوب ( علیہ السلام) خدا تعالیٰ کے سامنے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے کہ اے میرے معبود ! اپنے بندے پر رحم کر ‘ میرے زخمی دل کو دیکھ ‘ مجھ سے لوگ نفرت کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ جیسا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے و ایوب اذنادی ربہ انی مسنی الضر خدا تعالیٰ نے ایوب ( علیہ السلام) پر رحمت کی اس کو آگے کی نسبت دونی دولت عنایت کی و اتینہ و اھلہ مثلہم معہم مقائل وقتادہ و ابن عباس و ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے ایوب ( علیہ السلام) کے مرے ہوئے کنبے کو زندہ کردیا اور سات بیٹے اور تین بیٹیاں بعد میں پیدا ہوئیں جیسا کہ ظاہر آیت میں سمجھا جاتا ہے۔ عکرمہ کہتے ہیں اس کے یہ معنی کہ ہم نے ایوب ( علیہ السلام) کو اس کا کنبہ دیا یعنی سات بیٹے اور تین بیٹیاں تندرست ہونے کے کے بعد پیدا ہوئیں اور اس کے بعد ایوب ایک سو چالیس برس تک زندہ رہے۔ اپنی چار پشت کو دیکھا (جیسا کہ کتاب ایوب کے 43 باب درس 15۔ 16 اس میں تصریح ہے مثلہم معہم ہوا۔ حضرت ایوب کو توریت میں۔ پھر اس میں بھی بڑا اختلاف ہے کہ حضرت ایوب ( علیہ السلام) کس زمانہ میں تھے وہب بن منبہ کہتے ہیں کہ ایوب رومی تھے انوص کے بیٹے عیص بن اسحاق کی نسل سے اور ان کی بیوی حضرت یوسف (علیہ السلام) کی حقیقی پوتی تھیں جن کا نام رحمۃ تھا چونکہ عرب میں بنی اسماعیل جا بسے تھے اور ایوب (علیہ السلام) کی قرابت ان سے بہت قریبہ تھی ان کے ہم زبان بھی تھے اس لیے ان کا عرب میں مبعوث ہونا من قومہ کے برخلاف نہیں کہا جاسکتا۔ اب یہ متعین نہیں کہ عرب میں کس بستی میں رہتے تھے ؟ ان کی ایام مصیبت کی تعداد کسی نے سات برس کسی نے کم زیادہ بیان کئے ہیں والعلم عنداللہ تعالیٰ ۔
Ayahs 21:85–86ذی الکفل کا حال : اس کے بعد خدا تعالیٰ اسماعیل و ادریس و ذی الکفل (علیہم السلام) کا ذکر فرما کر ارشاد فرماتا ہے کہ ہر ایک ان میں سے صابر تھا ان پر بھی بڑی بڑی تکلیفیں دنیا میں نازل ہوئی ہیں۔ اسماعیل و ادریس ( علیہ السلام) کا حال اور ان کے مصائب تو ناظرین کو ہماری کتاب کے متعدد مقامات سے معلوم ہوگئے ہوں گے ہاں ذی الکفل کا بتلانا ضرور ہے۔ زجاج کہتے ہیں لغت میں کفل حصہ کو بھی کہتے ہیں اور اس کپڑے کو بھی جو اونٹ کے چوتڑوں پر پڑا رہتا ہے۔ اب اس میں اختلاف ہے کہ یہ بزرگ کون ہیں اور ان کو ذی الکفل کیوں کہتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ ذی الکفل سے مراد زکریا ہیں بعض کہتے ہیں یوشع بعض کہتے ہیں الیاس۔ قوی تر یہ ہے کہ یہ الیسع کے شاگرد اور ان کے قائم مقام ہیں اور ذی الکفل ان کو اس لیے کہتے ہیں کہ انہوں نے انتظام نبی اسرائیل کا تکفل کرلیا تھا یعنی اپنے ذمہ لے لیا تھا یا غرباء و مساکین کا تکفل کیا کرتے تھے اس لیے اس لقب سے مشہور ہوگئے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد یا ہو ہے جو حضرت الیسع کے حکم سے بنی اسرائیل کا بادشاہ ہوا تھا جس نے بنی اسرائیل کی بت پرستی دور کی اس کا اس نے تکفل کیا تھا یہ نیک بندہ بادشاہ تھا نبی نہ تھا واللہ اعلم۔
Ayahs 21:87–931 ؎ اذ وہب مغاضبا سے اگر یہ یہی مراد لیا جائے کہ خدا سے خفا ہو کر چل دیے تھے تو یہ خفگی باہمی محبت میں بیگانوں کے پیار سے زیادہ مرتبہ کہتی ہے اور فطن ان لن نقدر علیہ کے یہ معنی کہ اس خفگی میں ان کا یوں جانا گویا ان کا یہ سمجھ لینا ہے کہ ہم سے بھاگ کر چلے آئے ہیں ہم ان کو پکڑ نہ سکیں گے نہ یہ کہ درحقیقت انہوں نے ایسا گمان بھی کرلیا تھا کیونکہ وہ نبی تھے صفات باری خدا تعالیٰ سے واقف تھے ایسی باتیں عشق و محبت کی باہمی معاملات ابر رموز ہیں ایسی چھیڑ چھاڑ کا حل دفتر عشق سے ہوسکتا ہے عقل کے قانون میں اس کی گنجائش نہیں اس لیے حضرت ذی النون ( علیہ السلام) پر تنبیہ کی گئی مچھلی کے پیٹ میں جا پڑے آخر اس حالت بےکسی میں اس معبود حقیقی کے سوا اور کوئی فریادیں نہ دکھائی دیا اور فریاد فریاد کرنے لگے قصور کے معترف ہوئے دریا رحمت جوش میں آگیا باہمی ملاپ ہوگیا۔ مصیبت سے رہائی ہوئی۔ عاشقان خدا اس کی بےنیازی سے لرزتے رہتی ہیں۔ 12 منہ
ذوالنون : یہ نواں قصہ یونس (علیہ السلام) کا ہے نون مچھلی کو کہتے ہیں کیونکہ مچھلی نے ان کو لقمہ کرلیا تھا اس لیے ان کا لقب ذوالنون ہوا۔ ذھب مغاضبا خفا ہو کر گئے ‘ خدا سے خفا نہ ہوئے تھے بلکہ قوم۔ سے فظن ان لن نقدر علیہ نقدر یہاں بمعنی القضاء ہے یعنی یونس کو یہ گمان تھا کہ ہم اس پر سختی نہ کریں گے یہ سمجھ کر قوم سے چلے گئے تھے ان کا مختصر حال یہ ہے کہ یہ شہر نینوا کی طرف بھیجے گئے تھے وہاں کے لوگ بت پرست اور بدکار تھے جب ان کی ہدایت کو قبول نہ کیا تو عذاب الٰہی ان پر نازل ہونے کی ان کو خبر دی گئی انہوں نے بغیر حکم الٰہی اس کا وقت بھی مقرر کردیا وہاں کے لوگوں کو عذاب کے آثار معلوم ہونے لگے سربصحرا خدا کی جناب میں توبہ وگریہ کرنے کو نکل کھڑے ہوئے ان سے وہ عذاب ٹل گیا۔ حضرت کو وعدہ پر عذاب نہ آنے کے سبب شرمندگی ہوئی اور وہاں سے چل نکلے۔ راستہ میں دریا تھا کشتی سے باہر دریا میں گرگئے ‘ مچھلی نے لقمہ کرلیا۔ ان اندھیروں میں خدا سے دعا کی۔ فی ظلمات ایک مچھلی کا اندھیرا دوسرا دریائے شور کا تیسرا رات کا من الظلمین جو کہا ترک اولی کے لیے نہ کہ درحقیقت ان سے ظلم سرزد ہوا تھا کیونکہ انبیاء (علیہم السلام) معصوم ہیں۔ و زکریا : یہ دسواں قصہ حضرت زکریا (علیہ السلام) کا ہے۔ بیٹے کے لیے دعا کی خدا نے یحییٰ (علیہ السلام) بیٹا دیا۔ والتی احصنت فرجہا یہ یہ گیا رہواں قصہ حضرت مریم کا ہے جعلنہا وابنہا آیۃ للعلمین میں تصریح ہے کہ مسیح (علیہ السلام) بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے جس لیے ان کو قدرت حق کی نشانی جہان کے لیے فرمایا گیا ورنہ معمولی ولادت نشانی یا معجزہ نہیں ہوسکتی تم سے وہ بیگانہ نہیں تم اور وہ ایک ہی گروہ کے لوگ ہو سب کا اصول ایک ہی ہے ان سے تمہیں کو فخر کرنا چاہیے نہ کہ ان کو جو باوجود ترک اتباع کے ان کی طرف منسوب ہیں جیسا کہ یہود و نصاری ان بزرگوں کے حالات بیان فرما کر مسلمانوں کو بتایا جاتا ہے۔ ان ھذا امتکم امۃ واحدۃ صاحب کشاف کہتے ہیں امۃ بمعنی ملت اور یہ اشارہ ہے ملت اسلام کی طرف یعنی ملت اسلام وہ ملت ہے جس پر تم کو قائم رہنا چاہیے جس کو ایک ملت کے ساتھ تعبیر کیا جاتا ہے یعنی اس میں کچھ اختلاف نہیں مراد یہ کہ تم کو اختلافات پیدا کرنے نہ چاہییں اور میں تمہارا معبود ہوں میری عبادت کرو۔ ایک حدیث میں جس کو محدثین نے صیح مان لیا ہے یوں آیا ہے کہ آنحضرت (علیہ السلام) پیشین گوئی کے طور سے فرماتے ہیں کہ میری امت میں بہتر (72) فریق ہوجائیں گے بجز ایک فریق کے سب ہلاک ہوں گے یعنی آخرت میں اپنے عقائدِ فاسدہ کی سزا پاویں گے لوگوں نے پوچھا کہ وہ ایک فریق کونسا ہے فرمایا وہ کہ جس طریق پر میں ہوں اور میرے اصحاب۔ چناچہ چند روز کے بعد ایسا ہی ہوا اور یہ کچھ ضرور نہیں کہ بہتر (72) فریق ایک ہی زمانہ میں موجود ہوجاویں بلکہ جب کبھی ہوں۔ بعض کہتے ہیں انبیاء (علیہم السلام) کا ذکر فرما کر یہ بات بتلاتا ہے کہ یہ سب لوگ اصول دین میں تمہارے ہی لوگ ہیں ایک طریقہ کے یعنی ان کا اور تمہارا طریقہ جدا نہیں۔ ہاں پچھلوں نے تفریق کردی اور اختلاف ڈال دیا ہے
Ayahs 21:94–104جس کے بعد بطور معیار کے فرماتا ہے فمن یعمل من الصلحت کہ جو کوئی ایمان لائے گا اور پھر نیک کام کرے گا خواہ کوئی ہو اس کی کوشش کا قطعاً بدلہ ہم دیں گے پھر فرماتا ہے و حرام علی قریہ حرام خبر ہے اس کا متبداء یا انہم لایرجعون ہے یا کچھ اور۔ اول صورت میں بعض علمائے نے لاکو زائد نہیں مانا ہے تب یہ معنی ہوں گے کہ ان کا عدم رجوع حرام یعنی ممتنع ہے تب رجوع کرنا ان پر واجب یعنی ضرور ہے اور آخرت کی طرف
اھلکناھا ‘ اکثر مفسرین لاکو زائد کہتے ہیں تب یہ معنی کہ ان پر رجوع کرنا دنیا میں باردگر آنا حرام کردیا ہے یا یہ کہ ان کی تقدیر میں شرک و معاصی سے باز آنا حرام تھا اس لیے وہ غارت ہوئے۔ جمہور کا قول بہت ٹھیک ہے کہ ان کو باردگر دنیا میں آنا تدارک مافات کے لیے حرام ہے پھر اس کی غایت فرماتا ہے کہ کب تک ؟ حتی اذافتحت یاجوج وماجوج یا جوج وماجوج جو دو قومیں بند ہیں (دیوار سے) ان کے کھلنے تک اور اس وقت تک کہ وعدہ قیامت قریب آلگے اور لوگوں کی آنکھیں اس سخت وقت میں خوف و دہشت سے رحمت کے انتظار میں اوپر کی طرف لگ جاویں اور کافر یہ کہنے لگیں کہ ہائے خرابی ہم بدکار تھے یعنی قیامت تک وہ دنیا کی طرف رجوع نہ کریں گے۔ بعض مفسرین لکھتے ہیں کہ حتی اذافتحت یا جوج ماجوج الخ حرام کی غایت نہیں بلکہ مستقل کلام ہے اور حتی کسی محذوف مناسب کی غایت ہے قیام الدین و غیر یا اور یہاں سے مسئلہ معاو شروع ہوتا ہے یعنی یہ حضرات انبیاء (علیہم السلام) دنیا میں لوگوں کی رہنمائی کو آئے تھے کہ دارآخرت میں عذاب سے بچیں۔ نعیم باقیہ حاصل کریں اور یہ دنیا ایک وقت معین تک باقی ہے پھر فنا ہوجائے گی فنا کی ابتداء اور علامت خروجِ یا جوج وماجوج ہے اس کے بعد وعدہ حق بہت قریب آلگے گا ‘ قیامت برپا ہوجائے گی اور اس روز گنہگاروں کی آنکھیں دہشت یا انتظار رحمت میں اوپر لگی ہوں گی اور اپنے گناہوں کا آپ اقرار کریں گے حقیقت حال کھل جائے گی بت اور بت پرست جہنم میں پھینک دیے جائیں گے وہاں روئیں پیٹیں ‘ چیخیں چلائیں گے مگر بےسود نیکوں کو ہر مصیبت سے محفوظ رکھ کر نعمائِ ابدیہ سے سرفراز کیا جائویگا۔ یاجوج و ماجوج کا مفتوح ہونا یعنی دیوار سے کھولا جانا قرب قیامت میں ہوگا وہ دیوار ٹوٹ جائے گی یہ قوم بدکار پھیل پڑے گی۔ ہر بلندی سے اترتے آنا محاورہ ہے دوڑتے ہوئے آنے سے۔ یہ جملہ یا جوج و ماجوج کے ذکر میں تبعاً آگیا۔ اس قوم کا قریب قیامت میں ظاہر ہونا اس آیت اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہے اور کتاب حزقیل کی 39 فصل میں مصرحاً مذکور ہے۔
Ayahs 21:105–112ولقد کتبنافی الزبور سعید بن جبیر و مجاہد و کلبی و مقاتل و ابن زید کہتے ہیں زبور سے مراد وہ کتابیں جو دنیا میں انبیاء پر نازل ہوئیں اور ذکر سے مراد لوح محفوظ کہ جہاں سے نقل ہو کر یہ کتابیں آئیں یعنی دونوں جگہ ہم نے لکھ دیا کہ زمین کے نیک بندے وارث ہوں گے۔ زمین سے مراد جنت کی زمین کہ وہاں بجز ان کے اور کوئی آدم (علیہ السلام) کے ورثہ میں مالک نہ ہوگا۔ سو یہ بات کل آسمانی کتابوں میں ہے۔ اس تقدیر پر یہ آیت بیان سابق کا تتمہ یا تاکید ہوگی۔ قتادہ و شعبی کہتے ہیں زبور سے مراد قرآن و ذکر سے مراد تورات ہے۔ سو ان دونوں میں بھی یہ بات مذکور ہے زبور سے مراد دائود کی کتاب بھی ہوسکتی ہے۔ ارض میں مفسرین کے چند اقوال ہیں (1) جنت کی زمین جیسا کہ بیان ہوا (2) دنیا کی زمین یعنی ملک کا مالک ہم نیک بندوں کو کریں گے جیسا کہ قرآن مجید میں آیا ہے وعد اللہ الذین امنوا الی قولہ لیستخلفنہم فی الارض الآیہ۔ اس میں اسلام کے غلبہ اور ظہور کی طرف ایما ہے اور مخالفوں کے لیے تحدید کہ تمہارے سامنے یہ نہ مٹے گا اور بعض کہتے ہیں کہ ارض سے ارض مقدسہ بیت المقدس اور ملک شام مراد ہے۔ سو اس نے اپنے وعدہ کے موافق ایسا ہی کیا کہ مسلمانوں کے قبضہ میں کردیا اور اب تک ہے اور کسری و قیصر کی سلطنت بھی ان کے قبضہ میں آئی۔ قریشِِ مکہ جو اپنی سرداری اور جماعت پر نازاں تھے ان کو یہ سنایا گیا۔ 7 ر 3 زبور کے 9 اور گیارہویں درس میں بھی یہی مضمون ہے اور بہت سے مقامات عہد جدید و عہد قدیم سے بھی ثابت ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ اس میں عبادت کرنے والوں خدا ترسوں کے لیے مژدہ رسانی ہے کہ خدا پرستوں پر دنیا میں بھی فضل ہوتا ہے۔ آخر کار ملکوں کے مالک بنائے جاتے ہیں اور مصائب سے بھی محفوظ رہتے ہیں آخرت میں تو پھر سب ہی کچھ ہے اور اے محمد ﷺ ! تم کو اس تمام عالم کا ہادی بنا کر اس لیے رحمت و شفقت کی نظر سے بھیجا ہے کہ میرے بندوں کو جو تاریکی میں پڑے ہیں مطلع کردو اور منجملہ اور پیغاموں کے سب سے مؤکد حکم توحید کا ہے سو وہ پہنچا دو کہ انما یوحی الخ پھر اگر وہ اس کو نہ مانیں تو کہہ دو تم پر بلا مقرر آنے والی ہے لیکن اس کا وقت خدا ہی کو معلوم ہے کیونکہ وہ چھپی اور کھلی ہر ایک بات کو جانتا ہے اور جو یہ مہلت ہے سو چند روزہ ہے تمتع دنیا کے لئے۔