21. Surah Al-Anbiyaa

الأنبياءThe Prophets · 112 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 21:39–41

لَوْ یَعْلَمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا حِیْنَ لَا یَكُفُّوْنَ عَنْ وُّجُوْهِهِمُ النَّارَ وَ لَا عَنْ ظُهُوْرِهِمْ وَ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ Open ayah 21:39 in the Quran reader

کاش منکروں کو وہ وقت معلوم ہوجائے کہ جب وہ نہ اپنے مونہوں 1 ؎ (آگے) سے آگ دور کرسکیں گے نہ اپنی پشت (پیچھے) سے اور نہ ان کی مدد کی جائے گی

بَلْ تَاْتِیْهِمْ بَغْتَةً فَتَبْهَتُهُمْ فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ رَدَّهَا وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 21:40 in the Quran reader

بلکہ وہ گھڑی ان پر یک بیک آجائے گی پھر تو وہ ان کو بدحواس کر دے گی۔ پھر نہ تو اس کو ٹال سکیں گے اور نہ ان کو مہلت ملے گی

وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِیْنَ سَخِرُوْا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 21:41 in the Quran reader

اور (اے نبی ! ) آپ سے پہلے بھی رسولوں کے ساتھ تمسخر کیا گیا ہے۔ پھر جس عذاب کی بابت وہ ہنسی اڑایا کرتے تھے وہی ان پر آ پڑا۔

1 ؎ یعنی آگے پیچھے ہر طرف سے آگ گھیرے ہوگی نہ اس کو سامنے سے دور کرسکیں گے نہ پیچھے سے۔ 12 حقانی
Ayahs 21:42–43

قُلْ مَنْ یَّكْلَؤُكُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ مِنَ الرَّحْمٰنِ١ؕ بَلْ هُمْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّهِمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 21:42 in the Quran reader

(اے نبی ! ) ان سے پوچھو (تو سہی) رات اور دن میں رحمن کے عذاب سے تمہاری کون محافظت 1 ؎ کیا کرتا ہے (ان کو ڈرنا چاہیے تو کجا) بلکہ وہ تو اپنے رب کے ذکر سے بھی منہ موڑے ہوئے ہیں

اَمْ لَهُمْ اٰلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِّنْ دُوْنِنَا١ؕ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَ اَنْفُسِهِمْ وَ لَا هُمْ مِّنَّا یُصْحَبُوْنَ Open ayah 21:43 in the Quran reader

پھر کیا ہم سے ان کے معبود ان کو بچائے رکھتے ہیں وہ تو خود اپنی بھی (وقت پر) مدد نہیں کرسکتے اور نہ ان کا ہمارے مقابلہ میں ساتھ دے گا (وہ معبود کسی کو کیا دیکھتے ہیں)

1 ؎ الکلائۃ الحراستہ والحفظ یقال کلاہ الیہ کلاۃ ای حفظ و قری یکلوکو بفتح اللام واسکان واویصحبون قال ابن قتیبہ اے لایجیرھم ھم منااحدلان للخیر صاحب الجارو الغرب تقول صحبک اللہ اے حفظک۔ 12 منہ ترکیب : من استفہامیہ مبتداء یکلؤ کم ای یحفظکم خبر من الرحمن ای من باسہ موضع نصب میں یکلؤ سے ام استفہام انکاری لا یستطیعون جملہ مستانفہ یصحبون مازنی کہتا ہے یہ اصحبت الرجل اذامنعۃ سے ہے نہ صحبت سے بعض کہتے ہیں اس جگہ بمعنی نصرت و معونت ہے۔ تفسیر : پہلے فرمایا تھا کہ آخرت میں ان پر ہر طرف سے عذاب محیط ہوگا آگے سے اور پیچھے سے ‘ یہ اس کو دفع نہ کرسکیں گے۔ اب فرماتا ہے آخرت تو آخرت اگر دنیا میں ان پر رات دن میں کوئی بلا نازل ہوجائے تو یہ اس کو کب روک سکتے ہیں۔ پس اس دار دنیا میں بھی دن رات دن کی صدہا مصائب سے بجزرحمن کے اور کوئی ان کو محفوظ نہیں رکھ سکتا۔ یہ بات ان سے پوچھ دیکھو خود ان کو بھی اس کا اقرار ہے۔ لفظ رحمن میں اشارہ ہے کہ یہ محافظت محض اس کی رحمت کا مقتضٰی ہے ورنہ تمہارے اعمال تو ایسے نہیں۔ یہ جملہ گویا اگلے کلام کے لیے تمہید بھی ہے جو ان کو ہماری بلا سے محفوظ رکھ سکے ؟ پھر فرماتا ہے کہ وہ تو خود اپنی ہی حفاظت نہیں کرسکتے۔ وہ یہ سب کچھ جان بوجھ کر جو ہمارے سوا اوروں کو پوجتے ہیں گویا عمداً ہم سے اور ہماری یاد سے منہ پھیرتے ہیں۔ کماقال بل ھم عن ذکرالرحمن معرضون۔ اب ان کی اس بےاعتنائی کا سبب بیان فرماتا ہے کہ بل متعنا ھؤلائِ وآبائھم الخ ان کا یہ اعراض و تمرد کچھ نہیں بلکہ بات یہ ہے کہ ہم نے اس دار دنیا میں کہ جس کا فرش زمین اور جس کی چھت آسمان اور جس کی قندیلیں چاند اور سورج ہیں ‘ ان کو پشت در پشت اپنے کرم و فضل سے طرح طرح کی نعمتیں عطا کی ہیں کہ جن کو یہ برتتے برتتے یہ سمجھنے لگے کہ یہ سب ہماری ہی کوشش کا نتیجہ ہے اور سدا سے ہے اور ہمیشہ ہم یوں ہی کامیاب رہیں گے۔ الغرض ہماری نعمتیں کھا کھا کر مست و مغرور ہوگئے۔ سو ان کا یہ خیال غلط ہے وہ ہماری نافرمانی کر کے کبھی مجال نہ رہیں گے ہم ان کو مٹا ڈالیں گے اور اپنے پاکباز بندوں کو غالب کریں گے۔ افلا یرون انا ناتی الارض ننقصہا من اطرافہا سے یہ ہی مراد ہے کہ وہ مشرکین متمردین جو عذاب کے لیے جلدی کر رہے ہیں یہ نہیں دیکھتے کہ زمین یعنی ملک عرب کو اس کے کناروں سے لے کر کم کرتے چلے آتے ہیں کہ مکہ کے اردگرد دور دور تک بڑے بڑے سرکش مرتے جاتے ہیں اور اسلام پھیلتا چلا آتا ہے کفر کی زمین گھٹتی چلی جاتی ہے اسلام پھیلتا جاتا ہے۔ ابن عباس ؓ و مقاتل و کلبی کہتے ہیں ننقصہا سے مراد اسلام کے لیے شہروں کا فتح ہونا، عکرمہ کہتے ہیں لوگوں کے مرنے سے بستیوں کا برباد ہونا، اول قول قوی ہے مگر ایک شبہ ہوتا ہے کہ یہ سورة مکیہ ہے اور جہاد ہجرت کے بعد فرض ہوا تھا پھر زمین کفر کے کم کرنے کے اس وقت میں کیا معنی ؟ سیوطی (رح) نے اتقان میں کہا ہے کہ یہ آیات مدینہ میں ہیں تب شبہ نہیں رہا۔ فقیر کہتا ہے کہ اگر آیات مکیہ بھی ہوں تو کچھ شبہ نہیں۔ کس لیے کہ آنحضرت ﷺ جب مکہ میں تھے ہجرت سے ذرا پیشتر مدینہ اور اس کے نواح میں اسلام پھیل گیا تھا اسی طرح حبشہ میں اور دیگر قبائلِ عرب میں بھی۔ اس کے بعد فرماتا ہے کہ ان سے کہہ دو یہ جو کچھ میں تم سے کہتا ہوں اپنے گھر سے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے جو تمہارا منعم حقیقی ہے مگر جو لوگ بہرے ہوگئے ان کے کانوں میں حق باتوں کی رسائی نہیں وہ اس خوف آمیز پیغام کو سنتے ہی نہیں وہ دراصل بہرے نہیں ہوگئے تھے بلکہ اس وقت شنوائی کو عمداً حق بات سننے میں صرف نہیں کرتے تھے۔ گویا انہوں نے اس قوت سے جب اس کا اصلی کام نہ لیا تو کھو ہی دیا اس لیے بطور استعارہ کے ان کو بہرا کہا گیا اور اسی طرح جس قوت خداداد کو کوئی اس کے موقع پر استعمال نہیں کرتا تو اس کو اس قوت کا کم کردینے والا سمجھنا اور اس کو اس فاقدۃ القوت سے تعبیر کرنا عام محاورہ ہے اس لیے ان کو گونگا اندھا کہا جاتا ہے۔
Ayahs 21:44–45

بَلْ مَتَّعْنَا هٰۤؤُلَآءِ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى طَالَ عَلَیْهِمُ الْعُمُرُ١ؕ اَفَلَا یَرَوْنَ اَنَّا نَاْتِی الْاَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ اَطْرَافِهَا١ؕ اَفَهُمُ الْغٰلِبُوْنَ Open ayah 21:44 in the Quran reader

بلکہ ہم نے ان کو اور ان کے باپ دادا کو یہاں تک رسایا بسایا تھا کہ ان پر زمانہ دراز گزر گیا اس لیے اس رحمت کو رحمت خداداد نہیں سمجھتے پھر کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کو اس کے کناروں سے دباتے 2 ؎ چلے آتے ہیں پھر کیا وہی غالب رہیں گے ؟

قُلْ اِنَّمَاۤ اُنْذِرُكُمْ بِالْوَحْیِ١ۖ٘ وَ لَا یَسْمَعُ الصُّمُّ الدُّعَآءَ اِذَا مَا یُنْذَرُوْنَ Open ayah 21:45 in the Quran reader

(اے رسول ! ) آپ کہہ دیجئے میں تو تم کو صرف وحی سے ڈر سناتا ہوں (مگر تم بہرے ہو) اور بہروں کو جب کسی چیز سے ڈرایا جاتا ہے تو وہ (سرے سے) پکارنا ہی نہیں سنتے ڈرنا تو کجا۔

2 ؎ یہ پیشین گوئی ہے کہ کیا کفار مکہ نہیں دیکھتے کہ ارض یعنی زمین عرب کو چاروں طرف سے کم کرتے یعنی فتح کرتے ہوئے یا کھولتے ہوئے چلے آتے ہیں چناچہ ایسا ہی واقعہ بھی ہوا۔ اس آیت کے نازل ہونے کے وقت گرچہ ظہور و غلبہ اسلام نہیں ہوا تھا مگر جس کا ہونا یقینی ہوتا ہے اس کو ہوا ہی کہہ کر تعبیر کرتے ہیں۔ 12 منہ
Ayahs 21:46–47

وَ لَئِنْ مَّسَّتْهُمْ نَفْحَةٌ مِّنْ عَذَابِ رَبِّكَ لَیَقُوْلُنَّ یٰوَیْلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 21:46 in the Quran reader

اور اگر ان کو آپ کے رب کا عذاب ایک جھونکا بھی لگ جائے تو کہنے لگیں گے کہ ہائے خرابی ! بیشک ہم ہی ظالم تھے

وَ نَضَعُ الْمَوَازِیْنَ الْقِسْطَ لِیَوْمِ الْقِیٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْئًا١ؕ وَ اِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ اَتَیْنَا بِهَا١ؕ وَ كَفٰى بِنَا حٰسِبِیْنَ Open ayah 21:47 in the Quran reader

اور قیامت کے دن ہم انصاف کی ترازو میں قائم کریں گے۔ پھر کسی پر کچھ بھی ظلم نہ کیا جائے گا اور اگر رائی کے دانہ کے برابر بھی کسی کا عمل ہوگا تو اس کو بھی ہم لا موجود کریں گے۔ اور ہم حساب لینے کے لیے بس ہیں۔

1 ؎ نفح ومیدن بوسے خوش وپائے زون ناقہ وبہ شمشیر زون دو زویدن باد دواون چیزے نفح بشی اعطاہ قال الاصفی ماکان من الریاح نفح فھو و برد و ماکان نفخ فھو حرمن الصراح 12 منہ۔ ترکیب : ولئن شرط من عذاب ربک نفخۃ کی صفت۔ واصل النفح من الریح اللیۃ والمعنی ولئن مستہم شیء قلیل من عذاب اللہ لیقولن جواب الموازین جمع میزان موصوف القسط گومفرد ہے مگر مصدر ہے جو جمع کی صفت ہوسکتا ہے یا یہ تقدیر و ذات القسط تب بھی الموازین کی صفت ہوسکتا ہے مثقال منصوب خبر کان ہو کر ای وان کان العمل وزن مثقال۔ ثقل بمعنی بوجہہ سے مشتق ہے جس کے معنی وزن ہیں من خردل صفۃ ہے حبۃ یا مثقال کی۔ کفی بنا کی ترکیب : گزر چکی۔ تفسیر : ہاں اگر ان کو عذاب الٰہی کی کچھ ہوا بھی چھو جائے ذرا بھی عذاب نازل ہوجائے تو یہ بہرا پن سب جاتا رہے اور اپنے ظلم و ستم کا اقرار کرنے لگیں اور خیر یہ تو دنیا کا معاملہ ہے مگر آخرت میں تو وہ اپنے اعمال سے ہرگز بچ ہی نہ سکیں گے کیونکہ ونضع الموازین الخ وہاں اعمال کی ترازویں ہم قائم کریں گے ہر ایک کے لیے ایک ترازو ہوگی اور ترازو بھی کیسی عدل و انصاف کی۔ کسی پر کچھ ظلم نہ ہوگا کہ اس کے نیک اعمال کو دبا لیا جائے اور ناکردہ عمل اس پر لگائے جائیں بلکہ وان کان مثقال الخ اگر رائی کے دانہ برابر بھی کسی کا عمل ہوگا وہ بھی لایا جائے گا اور ہم خود حساب لیں گے۔ مجاہد کہتے ہیں اور ضحاک و قتادہ سے بھی یہی منقول ہے کہ یہ بطور تشبیہ کے ہے نہ یہ کہ حقیقت میں ترازو عمل تولنے کو کھڑی ہوں گی بلکہ مراد کہ حساب انصاف کے ساتھ لیا جائے گا کیونکہ دنیا میں محسوسات کا صحیح اندازہ اور انصاف و عدل کا وزن ترازو یا پیمانہ سے ہوتا ہے اس لیے قیامت میں اعمال کے موازنہ کو اس کے ساتھ تعبیر کیا۔ ابن جویبر نے ابن عباس ؓ سے بھی ایسا ہی نقل کیا ہے مگر ائمہ سلف فرماتے ہیں کہ جب تک لفظ کے حقیقی معنی بن سکتے ہیں مجاز کی کیا حاجت ؟ پس اگر قیامت میں اعمال تولنے کے لیے ترازو قائم ہو تو کیا بعید ہے ہاں یہ صحیح ہے کہ وہ ترازو دنیا کی ترازوئوں کی طرح نہ ہوگی بلکہ اعمال تولنے کے مناسب خواہ اعمال کو کسی شکل میں محسوس کر کے تولا جائے یا کوئی اور طریق جو خاص اس علام الغیوب کو معلوم ہے اور یہ اس لیے کہ میدان حشر میں سب کو اعمال کا اندازہ ہوجائے۔ خدا تعالیٰ پر ظلم کی تہمت نہ کوئی لگائے اور بہت سے صحیح احادیث سے کہ جن کو صحیحین میں شیخین نے بھی روایت کیا ہے اس قول سلف کی تائید ہوتی ہے۔ سوال : یہ آیت اس آیت کے مخالف اور صریح نقیض ہے فلا یقیم لہم یوم القیامۃ وزنا۔ جواب : اس آیت میں وزن نہ قائم کرنے سے مراد ان کے اعمالِ بد کی بےقدری مراد ہے۔ پہلے فرمایا تھا کہ قل انما انذرکم بالوحی اب اس بیان کو تمام کر کے جو دار آخرت و معاد سے متعلق تھا مسئلہ نبوت کو ثابت کرنے کے چند اولوالعزم انبیاء کے تذکرہ سے بیان فرماتا ہے تاکہ آنحضرت ﷺ کی تائید ہو اور مخالفوں کو اطمینان ہو کہ یہ الہام و نبوت کا سلسلہ دنیا میں ہم نے اے محمد ﷺ ! تم سے بہت پہلے سے جاری کر رکھا ہے۔ موسیٰ اور ہارون ( علیہ السلام) کو بھی ہم نے کتاب یعنی تورات دی تھی۔ یہ فیصلہ کرنے والی اور نور یعنی منور اور پرہیزگاروں کے لیے سمجھ کی چیز تھی۔ اعنی خدا ترسوں کے لیے۔ باوجود اس کے ان کی امت نے ان سے کیا کیا کیا اور اسی طرح یہ قرآن بھی سمجھانے کی مبارک کتاب ہے۔ پھر کیا اے لوگو ! تم اس کے بھی منکر ہو ؟ کتاب تو موسیٰ ( علیہ السلام) ہی کو دی تھی مگر نبوت اور اس کی ترویج و شہرت میں ہارون (علیہ السلام) بھی شریک تھے اس لیے ان کو بھی شامل کرلیا جس طرح کبھی امت کو شامل کرلیا جاتا ہے۔
Ayahs 21:48–67

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ الْفُرْقَانَ وَ ضِیَآءً وَّ ذِكْرًا لِّلْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 21:48 in the Quran reader

اور البتہ ہم نے موسیٰ اور ہارون کو (حق و باطل میں) فیصلہ کرنے والی اور روشنی دینے والی اور پرہیزگاروں کی فہمائش کرنے والی (کتاب) دی تھی

الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ وَ هُمْ مِّنَ السَّاعَةِ مُشْفِقُوْنَ Open ayah 21:49 in the Quran reader

ان پرہیزگاروں کے لیے جو اپنے رب سے غائبانہ ڈرتے ہیں۔ اور قیامت کا بھی وہ خوف رکھتے ہیں

وَ هٰذَا ذِكْرٌ مُّبٰرَكٌ اَنْزَلْنٰهُ١ؕ اَفَاَنْتُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ۠ Open ayah 21:50 in the Quran reader

اور یہ (قرآن) ایک مبارک پندنامہ ہے جس کو ہم نے نازل کیا ہے (اے لوگو ! ) پھر کیا تم اس کے بھی منکر ہو۔

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ رُشْدَهٗ مِنْ قَبْلُ وَ كُنَّا بِهٖ عٰلِمِیْنَۚ Open ayah 21:51 in the Quran reader

اور ہم نے ابراہیم کو (اول ہی سے) عقل سلیم عطا کی تھی اور ہم ان (کی صلاحیت) سے واقف تھے۔

اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖ مَا هٰذِهِ التَّمَاثِیْلُ الَّتِیْۤ اَنْتُمْ لَهَا عٰكِفُوْنَ Open ayah 21:52 in the Quran reader

جبکہ انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا کہ یہ مورتیں کہ جن پر تم جمے بیٹھے ہو کیا چیز ہیں !

قَالُوْا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا لَهَا عٰبِدِیْنَ Open ayah 21:53 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو انہیں کی عبادت کرتے پایا ہے۔

قَالَ لَقَدْ كُنْتُمْ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 21:54 in the Quran reader

ابراہیم نے کہا تم اور تمہارے باپ دادا صریح گمراہی میں پڑے ہوئے تھے۔

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا بِالْحَقِّ اَمْ اَنْتَ مِنَ اللّٰعِبِیْنَ Open ayah 21:55 in the Quran reader

انہوں نے کہا کیا تو ہمارے پاس حق بات لے کر آیا ہے یا تو دل لگی کرتا ہے۔

قَالَ بَلْ رَّبُّكُمْ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الَّذِیْ فَطَرَهُنَّ١ۖ٘ وَ اَنَا عَلٰى ذٰلِكُمْ مِّنَ الشّٰهِدِیْنَ Open ayah 21:56 in the Quran reader

ابراہیم نے کہا بلکہ تمہارا رب تو آسمانوں اور زمین کا رب ہے کہ جس نے ان چیزوں کو بنایا ہے اور میں اسی کا گواہ ہوں

وَ تَاللّٰهِ لَاَكِیْدَنَّ اَصْنَامَكُمْ بَعْدَ اَنْ تُوَلُّوْا مُدْبِرِیْنَ Open ayah 21:57 in the Quran reader

(آہستہ سے یہ کہا) کہ بخدا تمہارے گئے بعد میں تمہارے بتوں سے چال ہی کر کے رہوں گا۔

فَجَعَلَهُمْ جُذٰذًا اِلَّا كَبِیْرًا لَّهُمْ لَعَلَّهُمْ اِلَیْهِ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 21:58 in the Quran reader

سو ابراہیم نے بڑے بت کے سوا سب کو توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔ اس کو اس لیے رہنے دیا شاید کہ وہ اس کے طرف رجوع کریں۔

قَالُوْا مَنْ فَعَلَ هٰذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 21:59 in the Quran reader

جب وہ پھر کر آئے اور یہ حال دیکھا تو کہنے لگے کہ ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ کام کس نے کیا۔ بیشک وہ بڑا ہی ظالم ہے۔

قَالُوْا سَمِعْنَا فَتًى یَّذْكُرُهُمْ یُقَالُ لَهٗۤ اِبْرٰهِیْمُؕ Open ayah 21:60 in the Quran reader

آپس میں کہنے لگے ہم نے ایک جوان کو ابراہیم کہلاتا ہے

قَالُوْا فَاْتُوْا بِهٖ عَلٰۤى اَعْیُنِ النَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَشْهَدُوْنَ Open ayah 21:61 in the Quran reader

ان کا ذکر (ہجو) کرتے سنا ہے۔ وہ بولے پھر تو اس کو سب کے سامنے لاؤ تاکہ وہ بھی دیکھیں۔

قَالُوْۤا ءَاَنْتَ فَعَلْتَ هٰذَا بِاٰلِهَتِنَا یٰۤاِبْرٰهِیْمُؕ Open ayah 21:62 in the Quran reader

(پھر مجلس میں ابراہیم سے) پوچھا کہ اے ابراہیم کیا یہ حرکت ہمارے بتوں کے ساتھ تو نے ہی کی ہے۔

قَالَ بَلْ فَعَلَهٗ١ۖۗ كَبِیْرُهُمْ هٰذَا فَسْئَلُوْهُمْ اِنْ كَانُوْا یَنْطِقُوْنَ Open ayah 21:63 in the Quran reader

ابراہیم نے کہا بلکہ یہ تو ان کے اس بڑے نے کی ہے اگر وہ بول سکتے ہوں تو ان سے پوچھ دیکھو۔

فَرَجَعُوْۤا اِلٰۤى اَنْفُسِهِمْ فَقَالُوْۤا اِنَّكُمْ اَنْتُمُ الظّٰلِمُوْنَۙ Open ayah 21:64 in the Quran reader

پھر وہ اپنے دل میں نادم ہو کر کہنے لگے کہ بیشک سراسر تمہیں ناحق پر ہو

ثُمَّ نُكِسُوْا عَلٰى رُءُوْسِهِمْ١ۚ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ یَنْطِقُوْنَ Open ayah 21:65 in the Quran reader

پھر انہوں نے سر نیچا 1 ؎ کر کے کہا کہ تو خوب جانتا ہے کہ یہ بولا نہیں کرتے۔

قَالَ اَفَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُكُمْ شَیْئًا وَّ لَا یَضُرُّكُمْؕ Open ayah 21:66 in the Quran reader

ابراہیم نے کہا پھر کیا تم اللہ کے سوا اس چیز کو پوجا کرتے ہو جو نہ تمہیں کچھ نفع دے سکے اور نہ کچھ نقصان پہنچا سکتی ہے

اُفٍّ لَّكُمْ وَ لِمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 21:67 in the Quran reader

تف ہے تم پر اور تمہارے ان معبودوں پر کہ جن کو تم خدا کے سوا پوجا کرتے ہو پھر کیا تم کو کچھ بھی عقل نہیں !

تفسیر : یہ دوسرا قصہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ہے جس میں حضرت کا ابتدائِ عمر میں موحد ہونا اور اپنی قوم سے بت پرستی کی تحقیر کرنا اور جب وہ عید میں باہر گئے تھے بعد میں ان کے چھوٹے بتوں کو توڑ ڈالنا اور بڑے کا باقی رکھنا اس الزام دینے کے لیے کہ ان سے پوچھو پھر بت پرستوں کا اس بات سے ناراض ہو کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں پھینکنا اور رحمت الٰہی سے جو ہمیشہ اس کے پاکباز بندوں کے ساتھ رہتی ہے آگ کا سرد اور باغ ہوجانا مذکور ہے اس میں عرب کے مشرکین کی طرف سے تعریض بھی ہے کہ تم کیسے ابراہیم کے فرزند ہو اس نے تو بت پرستی کو یوں مٹایا اور تم خود بت پرستی میں مشغول ہو۔ اگر باپ دادا ہی کی تقلید کرتے ہو تو اپنے جدِامجد ابراہیم کی تقلید کرو۔ ولقد اتینا ابراھیم رشدہ من قبل رشد سے مراد نبوت جس پر جملہ کنابہ عالمین دلالت کرتا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ نبوت کے ساتھ اس کو مخصوص کیا کرتا ہے کہ جس کو جان لیتا ہے کہ یہ اس عہدہ کو بامانت و حفاظت سرانجام دے گا اور انجام دینے کے قابل ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد نور ہدایت اور باطنی روشنی ہے جس میں نبوت بھی آگئی۔ من قبل سے مراد یہ کہ موسیٰ ( علیہ السلام) سے پیشتر بعض کہتے ہیں لڑکپن کا زمانہ جبکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) غاریاتہ خانہ میں پوشیدہ تھے جب ہی سے آثار رشد ان میں نمایاں تھے کیوں نہ ہو ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات۔ تماثیل جمع تمثال آدمی یا دیگر حیوان یا کسی اور چیز کی صورت جسم دار خواہ پیتل کی ہو، پتھر لکڑی کی ہو جس کو ہندی میں مورت کہتے ہیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) شہر بابل یا آہواز کے باشندے تھے۔ اس عہد میں صابیوں کا مذہب مروج تھا جو ستاروں اور 1 ؎ یعنی شرمندہ ہو کر کہا۔ 12 منہ۔ دیگر پیکر نورانی کی پرستش کیا کرتے تھے اور ان کے مناسب ان کی مورتیں بنا کر ان کی پرستش کیا کرتے تھے خاص بابل میں ان کا ایک بڑا عالیشان مندر تھا جس کی بلندی اور دیگر عمارات کا حال سن کر حیرت ہوتی ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) لڑکپن سے ہونہار اور ابد تک موحد قوم کے پیش رو ہونے والے علم الٰہی میں مقرر ہوچکے تھے۔ ان کو اس بت پرستی سے نفرت ہوئی باپ اور دیگر اقارب سے اس امر میں مناظرے شروع ہونے لگے پہلے ستاروں کے طلوع و غروب سے ان کی الوہیت باطل کر کے قوم کو الزام دیا پھر کہہ اٹھے کہ میں تمہارے معبودوں کو بھی ٹھیک کروں گا چناچہ جب سب لوگ شہر سے باہر اپنی عید کے لیے گئے جو تو ان کے معبودوں کی پرستش میں ایک سالانہ بڑا بھاری جشن ہوا کرتا تھا۔ ابراہیم ( علیہ السلام) مرض کا عذر کر کے پیچھے رہ گئے ان کے بت خانہ میں جا کر ان کے چھوٹے چھوٹے بتوں کو توڑ ڈالا معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح ہنود کے ہاں چھوٹی چھوٹی مورتیں ہوتی ہیں ان کے ہاں بھی ویسی ہوں گی اور ایک مورت کو جو سب میں بڑی تھی رہنے دیا جب وہ لوگ واپس آئے یہ حال دیکھا تو بڑے طیش میں آئے۔ دریافت کرنے سے معلوم ہوا کہ یہ ابراہیم (علیہ السلام) کا کام ہے کیونکہ کسی نے کہا کہ آج قوم بھر میں وہی ان کی اہانت کیا کرتا ہے پھر اس کے سوا اور کون ایسا کرسکتا ہے۔ پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو مجلس قومی کے سامنے حاضر کیا گیا اور ان سے سوال کیا کہ یہ کام کس ظالم نے کیا۔ فرمایا کہ یہ تمہارے معبود ہیں اس میں ہر قسم کی قدرت ہے خود ان سے دریافت کرلو۔ الزام دینا مقصود تھا کہ یہ کیسے معبود ہیں کہ جن کو کسی نے توڑ ڈالا یہ کچھ نہ کرسکے اور نیز اب بیان بھی نہیں کرسکتے۔ ان میں باہم لڑائی ہوئی ہوگی ‘ بڑے نے چھوٹوں کو مار ڈالا 3 ؎ واضح ہو کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنے آپ کو بیمار کہنا اور بت شکنی کو بڑے بت کی طرف منسوب کرنا آفتاب کو ہذاربی کہنا یا مصر میں جا کر کافر بادشاہ کو خوف سے اپنی بیوی سارا کو بہن کہنا نسب آبائی کے لحاظ سے جھوٹ نہیں کہا جاسکتا ہے۔ یہ باتیں ازقسم تعریض وتوریہ ہیں مجازا جھوٹ کہو تو کہو ‘ سو یہ بھی ایسے اولوالعزم نبی کے لیے موجب استغفار تھا۔ لوط ( علیہ السلام) کو اپنی رحمت میں داخل کرنا اور صالحین میں سے ہونا فرمایا اب اس سے وہ قصہ جو تورات موجودہ میں ہے کہ لوط نے شراب پی کر اپنی دونوں بیٹیوں سے زنا کیا غلط ثابت ہوگیا ایسا نبی کہ جس کی امت اغلام کرنے سے ان کے روبرو غارت ہو آپ ایسا فعلِ بد کرسکتا ہے۔ 12 منہ
Ayahs 21:68–70

قَالُوْا حَرِّقُوْهُ وَ انْصُرُوْۤا اٰلِهَتَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ فٰعِلِیْنَ Open ayah 21:68 in the Quran reader

وہ (جل کر) کہنے لگے کہ اگر تمہیں کچھ کرنا ہو تو ابراہیم (علیہ السلام) کو جلا دو اور اپنے معبودوں کی مدد کرو

قُلْنَا یٰنَارُ كُوْنِیْ بَرْدًا وَّ سَلٰمًا عَلٰۤى اِبْرٰهِیْمَۙ Open ayah 21:69 in the Quran reader

(جب ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں ڈالا دیا تو) ہم نے آگ کو حکم دیا کہ اے آگ ابراہیم (علیہ السلام) پر سرد اور راحت ہوجا۔

وَ اَرَادُوْا بِهٖ كَیْدًا فَجَعَلْنٰهُمُ الْاَخْسَرِیْنَۚ Open ayah 21:70 in the Quran reader

اور انہوں نے تو ابراہیم (علیہ السلام) سے برا کرنا چاہا تھا پر ہم نے خود انہیں کو زیاں کار کردیا۔

اس پر اور بھی وہ نادم اور خجل ہوئے اور یہ مشورہ کیا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں جلا دو چونکہ ان وحشی قوموں میں سخت جرم کی ایسی ایسی وحشیانہ سزائیں تھیں آگ میں ڈالا اللہ تعالیٰ نے آگ کو ابراہیم (علیہ السلام) پر سرد اور راحت کردیا۔ صحیح سلامت اس میں سے نکل آئے تب تو اور بھی لوگوں کو حیرت ہوئی اور ان کے بھتیجے لوط (علیہ السلام) بھی ایمان لے آئے۔ ہاران حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا حقیقی بھائی تھا لوط ( علیہ السلام) اس کے بیٹے تھے ہاران اپنے باپ تارا کے روبرو جس کو آزر بھی کہتے ہیں وطن ہی میں مرگیا تھا ابراہیم (علیہ السلام) خداوند کے کہنے کے موافق روانہ ہوا اور لوط بھی اس کے ساتھ چلا 2 ؎ اور یہ ملک شام میں آیا کہ جن میں خدا نے پھلوں پھولوں اور انہار و اثمار و شادابی کی وجہ سے دنیا کے لیے برکت رکھی ہے۔ اس ملک میں خدا تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بہت برومند کیا۔ اسحاق ( علیہ السلام) بیٹا پیدا ہوا اور پھر اسحاق سے یعقوب نفع میں کیونکہ التجا بیٹے کے لیے کی تھی خدا نے پوتا بھی دیا اور پھر ان کی نسل میں سے انبیاء اور برگزیدہ لوگ پیدا کئے یہ نتیجہ ہے دنیا میں خدا پرستی 3 ؎ کا۔ اور لوط ( علیہ السلام) کو جھیل مردار کے پاس رہنے کا حکم ہوا وہاں کی بستیاں سدوم و امورہ وغیرہ کے بڑے ناپاک لوگ اغلامی تھے ان پر خدا کا قہر نازل ہوا لوط ( علیہ السلام) کو خدا نے وہاں سے سلامت نکالا۔
Ayahs 21:71–75

وَ نَجَّیْنٰهُ وَ لُوْطًا اِلَى الْاَرْضِ الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا لِلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 21:71 in the Quran reader

اور ہم ابراہیم (علیہ السلام) اور لوط کو بچا کر اس سرزمین کی طرف لے آئے کہ جس میں ہم نے جہان کے لیے برکت رکھی ہے۔ 1 ؎

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ١ؕ وَ یَعْقُوْبَ نَافِلَةً١ؕ وَ كُلًّا جَعَلْنَا صٰلِحِیْنَ Open ayah 21:72 in the Quran reader

اور ہم نے اسکو اسحاق اور کہن میں یعقوب عطا کئے اور ہر ایک کو ہم نے نیک بخت کیا تھا

وَ جَعَلْنٰهُمْ اَئِمَّةً یَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْهِمْ فِعْلَ الْخَیْرٰتِ وَ اِقَامَ الصَّلٰوةِ وَ اِیْتَآءَ الزَّكٰوةِ١ۚ وَ كَانُوْا لَنَا عٰبِدِیْنَۚۙ Open ayah 21:73 in the Quran reader

اور ان کو پیشوا بنایا تھا کہ ہمارے حکم سے رہنمائی کیا کرتے تھے اور ہم نے ان کو اچھے کام کرنے اور نماز قائم رکھنے اور زکوٰۃ دینے کا حکم دیا تھا اور وہ ہماری ہی بندگی کیا کرتے تھے۔

وَ لُوْطًا اٰتَیْنٰهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًا وَّ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْقَرْیَةِ الَّتِیْ كَانَتْ تَّعْمَلُ الْخَبٰٓئِثَ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمَ سَوْءٍ فٰسِقِیْنَۙ Open ayah 21:74 in the Quran reader

اور لوط کو ہم نے حکمت و علم عطا کیا تھا اور ہم ان کو اس بستی سے جو گندے کام کیا کرتی تھی (صحیح و) سلامت نکال لے آئے کیونکہ وہ لوگ بری قوم (اور) بدکار تھے۔

وَ اَدْخَلْنٰهُ فِیْ رَحْمَتِنَا١ؕ اِنَّهٗ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ۠ Open ayah 21:75 in the Quran reader

اور اس کو ہم نے اپنی رحمت میں لے لیا تھا کیونکہ وہ نیک بختوں میں سے ہے۔

1 ؎ یعنی ملک شام میں لے آئے جہاں باعتبار پیداوار کے بڑی برکت ہے اور ابراہیم (علیہ السلام) کا اصلی وطن ملک عراق تھا۔