17. Surah Al-Israa

الإسراءThe Night Journey · 111 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 17:88–93

قُلْ لَّئِنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَ الْجِنُّ عَلٰۤى اَنْ یَّاْتُوْا بِمِثْلِ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لَا یَاْتُوْنَ بِمِثْلِهٖ وَ لَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِیْرًا Open ayah 17:88 in the Quran reader

(اے نبی ! ) کہہ دو اگر سب آدمی اور سب جن مل کر بھی ایسا قرآن بنا لانا چاہیں (تو ایسا قرآن) نہ لاسکیں گے اگرچہ ان میں سے ایک دوسرے کی پشتی ہی پر کیوں نہ ہوں

وَ لَقَدْ صَرَّفْنَا لِلنَّاسِ فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ١٘ فَاَبٰۤى اَكْثَرُ النَّاسِ اِلَّا كُفُوْرًا Open ayah 17:89 in the Quran reader

اور ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے لیے ہر ایک قسم کی مثال بھی کھول کھول کر بیان کردی پر اس پر بھی اکثر لوگ انکار کئے بغیر نہ رہے

وَ قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْاَرْضِ یَنْۢبُوْعًاۙ Open ayah 17:90 in the Quran reader

اور کہہ دیا کہ ہم تمہیں ہرگز نہ مانیں گے جب تک کہ ہمارے لیے زمین سے کوئی چشمہ نہ جاری کر دو

اَوْ تَكُوْنَ لَكَ جَنَّةٌ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ عِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الْاَنْهٰرَ خِلٰلَهَا تَفْجِیْرًاۙ Open ayah 17:91 in the Quran reader

یا تمہارے لیے کھجوروں اور انگوروں کا کوئی باغ نہ ہو کہ پھر تم اس میں سے نہریں پھاڑ کر نکالا کرو

اَوْ تُسْقِطَ السَّمَآءَ كَمَا زَعَمْتَ عَلَیْنَا كِسَفًا اَوْ تَاْتِیَ بِاللّٰهِ وَ الْمَلٰٓئِكَةِ قَبِیْلًاۙ Open ayah 17:92 in the Quran reader

یا جیسا کہ تم گمان کرتے ہو ہم پر کوئی آسمان کا ٹکڑا نہ گرا دو یا تم اللہ اور فرشتوں کو روبرو نہ لا کھڑا کر دو

اَوْ یَكُوْنَ لَكَ بَیْتٌ مِّنْ زُخْرُفٍ اَوْ تَرْقٰى فِی السَّمَآءِ١ؕ وَ لَنْ نُّؤْمِنَ لِرُقِیِّكَ حَتّٰى تُنَزِّلَ عَلَیْنَا كِتٰبًا نَّقْرَؤُهٗ١ؕ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّیْ هَلْ كُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا۠ Open ayah 17:93 in the Quran reader

یا تمہارے لیے کوئی سنہری مکان نہ ہو یا تم آسمان میں نہ چڑھ جاؤ اور ہم تو تمہارے منتر کو ہرگز نہیں مانیں گے جب تک تم ہم پر کوئی ایسی کتاب نازل کرا دو کہ جس کو ہم خود پڑھ لیا کریں کہہ دو سبحان اللہ میں کیا ہوں مگر ایک آدمی اس کا بھیجا ہوا۔

ترکیب : لایاتون جواب لئن ای جواب قسم محذوف دل علیہ اللام الموطّیۃُ ولولاھی لکان جواب الشرط بلاجزم لکون الشرط ماضیا۔ بیضاوی۔ تفسیر : منجملہ ان باتوں کے کہ جن سے قرآن مجید پر اعتراض کیا کرتے تھے ان کی ایک یہ بات بھی تھی کہ وہ کہتے تھے کہ اس قرآن میں کون سی خوبی ہے ؟ اگر چاہیں تو ہم بھی کہہ سکتے ہیں اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی اور یہ بھی ہے کہ قرآن کی بابت فرمایا تھا کہ وہ ہماری طرف سے ہے اگر ہم چاہیں تو اس کو واپس لے جائیں پھر تمام مخلوق مل کر بھی زور لگائے تو ایسا قرآن نہ بنا سکے۔ کماقال قل لئن اجتمعت الخ کہ تم کیا اگر تمہارے ساتھ تمہارے وہ جن بھی شریک ہوں کہ جن سے تم مانگا کرتے ہو اور جن کے ذریعہ سے تمہارے کاہن غیب کی باتیں بتلا کر بڑے بڑے دعویٰ کیا کرتے ہیں وہ بھی شریک ہوں تو اس کا مثل نہ بنا سکیں گے۔ بلاغت و فصاحت کے معجزہ کے علاوہ اس میں روح کو زندہ کرنے والی انسان کے دل پر چوٹ مارنے والی اور سب علوم الہامیہ کے متعلق وہ وہ باتیں ہیں کہ جن کو کوئی نہیں بتا سکتا۔ مقدمہ تفسیر میں اس مسئلہ کی خوب شرح ہوچکی ہے۔ ابن اسحاق و ابن جریر نے سعیدیاعکرمہ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے آیت کے بارے میں یوں بھی نقل کیا ہے کہ سلام بن مشکم چند یہود کو ساتھ لے کر آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ آپ نے ہمارا قبلہ ترک کردیا اور یہ قرآن توریت کے برابر نہیں ایسا ہم بھی کرسکتے ہیں۔ پھر آپ کا اتباع کیونکر کریں۔ اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ شیبہ وعتبہ ربیعہ کے بیٹے اور ابوسفیان اور ولید بن المغیرہ و ابوجہل وغیرہ ہم کفار قریش نے آنحضرت ﷺ سے کہا کہ اگر تو خدا کا سچا رسول ہے تو مکہ خشک جگہ ہے یہاں کوئی پانی کا چشمہ جاری کر دے یا کوئی ایسا تروتازہ باغ انگوروں اور کھجوروں کا لگا دے کہ جس میں سے بڑی نہریں چلا کریں جیسا کہ عراق و شام ہے یا تو جیسا کہتا ہے کہ قیامت کو آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہو کر گرے گا تو اس کا کوئی ٹکڑا ہم پر بھی گرا دے یا ہمارے سامنے اللہ اور فرشتوں کو لا کہ ہم ان کو آنکھوں سے دیکھیں اور ان سے پوچھیں کہ محمد ﷺ کو تم نے رسول بنا کر بھیجا ہے یا کوئی سونے چاندی کا بنا ہوا مکان موجود کر کے دکھا دے یا تو تمہارے سامنے آسمان پر چڑھ جا اور وہاں سے کوئی لکھی ہوئی کتاب لا کہ جس کو ہم پڑھ لیں تب تو ہم تجھے مانیں گے ورنہ ہم تجھے نہیں مانتے اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی۔ وقالولن نومن الخ اس میں تعلیم کردی کہ ان سے کہہ دو سبحان اللہ یہ کیا لغو باتیں ہیں، تم نے کیا مجھ کو قادرمطلق سمجھ لیا ہے یا مجھے اس بات کا دعوٰی ہے تاکہ پھر تمہارے کہنے سے یہ باتیں کر دوں۔ میں تو آدمی ہوں خدا تعالیٰ کے حکم کے بغیر کچھ نہیں کرسکتا ہاں رسول ہوں ‘ احکام پہنچانے والا ہوں ‘ قرآن کو رقیہ یعنی منتر بتلایا ان پہلی باتوں کو اگر یہ سب کچھ بھی ہوجائے تو یہ تمہارے جادو منتر کا اثر سمجھا جائے گا بلکہ آسمان سے ہمارے اوپر بھی کوئی کتاب اتروا کہ ہم خود اس کو پڑھ لیں۔
Ayahs 17:94–96

وَ مَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ یُّؤْمِنُوْۤا اِذْ جَآءَهُمُ الْهُدٰۤى اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَبَعَثَ اللّٰهُ بَشَرًا رَّسُوْلًا Open ayah 17:94 in the Quran reader

اور لوگوں کو ایمان لانے سے جبکہ ان کے پاس ہدایت آگئی صرف یہی بات مانع آئی کہ کہنے لگا کیا اللہ نے آدمی کو رسول بنا کر بھیجا ہے

قُلْ لَّوْ كَانَ فِی الْاَرْضِ مَلٰٓئِكَةٌ یَّمْشُوْنَ مُطْمَئِنِّیْنَ لَنَزَّلْنَا عَلَیْهِمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَلَكًا رَّسُوْلًا Open ayah 17:95 in the Quran reader

(اے نبی ! ) کہہ دو اگر زمین پر فرشتے بستے ہوتے تو اطمینان سے چلتے پھر تے تو ہم ان پر آسمان سے فرشتے ہی رسول بنا کر بھیجتے

قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًۢا بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِعِبَادِهٖ خَبِیْرًۢا بَصِیْرًا Open ayah 17:96 in the Quran reader

(اور) کہہ دو میرے اور تمہارے درمیان اللہ بس ہے گواہی کے لیے کیونکہ وہ اپنے بندوں کو خوب جانتا دیکھتا ہے۔

ترکیب : الاان قالو اجملہ فاعل من فی الارض خبر کان ملائکہ موصوف یمشون ذی الحال مطمئننین حال سب اسم۔ لنزلنا جواب لو۔ تفسیر : عرب کے مشرکوں اور کافروں کا نبوت میں ایک یہ بھی بڑا شبہ تھا کہ نبی تو ہم جیسا ہی انسان ہے رسالت اور نبوت کے لیے تو ہم سے بالاتر اشخاص ہونے چاہییں جو کھانے پینے ‘ زن و فرزند کے جملہ علائق سے پاک و صاف ہوں اور وہ فرشتے ہیں خدا نے اگر اپنے پیغام پہنچانے تھے تو فرشتوں کو کیوں بنا کر نہ بھیجا۔ یہی وہ ایک بات ان کے دل میں کھٹکتی تھی جس سے وہ ایمان نہیں لاتے تھے۔ شبہ کا جواب دیتا ہے وما ممع الناس الخ کہ رسول ﷺ تو اسی قوم کا شخص ہونا چاہیے کہ جس کی طرف وہ بھیجا جاتا ہے کیونکہ ان کے تمام مفاسد اور موجود خرابیوں کو جن کی اصلاح کے لیے یہ بھیجا گیا ہے یہی خوب جان سکتا ہے اور نیز باہم دانست غیرجنس سے ممکن نہیں اور رسول کے لیے یہ بات ضروری ہے جس پر ہدایت کا مدار ہے اور نیز فرشتے بھی آتے تو انسان کی صورت میں ہی ہو کر آتے تاکہ ان سے کلام کریں، دکھائی دیں۔ سو ان پر بھی شبہ ہوتا کہ جانے یہ کون ہیں ؟ اس لیے فرماتا ہے لوکان فی الارض الخ کہ اگر زمین پر فرشتے بستے ہوتے تو ان کے پاس البتہ فرشتہ رسول ہو کر آتے۔ اس کے بعد فرمایا کہ کہہ دو میری رسالت کی خدا گواہی دے رہا ہے سو یہ کافی ہے۔ رہی ہدایت ‘ سو یہ اس کے ہاتھ ہے جس کو وہ چاہتا ہے وہی ہدایت پر آتا ہے اور جس کو ازل سے گمراہی نصیب ہے اس کو کون ہدایت کرسکتا ہے نہ انسان نہ فرشتہ مگر ان گمراہوں کا حشر میں یہ حال ہوگا ونحشرھم یوم القیامہ الخ کہ وہ منہ کے بل جائیں گے، اندھے گونگے بہرے ہوں گے۔ منہ کے بل چلنا محاورہ ہے سرنگوں اور ذلیل ہو کر چلنے سے ان کے دنیا کے تکبر کرنے کے بدلہ میں۔ اور حقیقت پر بھی محمول ہوسکتا ہے کیونکہ اللہ اس طرح چلانے پر بھی قادر ہے جیسا کہ بعض روایات میں آیا 1 ؎ ہے۔ دوزخیوں کا اور آیات سے دیکھنے والا ‘ سننے والا ‘ کہنے والا ہونا ثابت ہوتا ہے اور یہاں اس کے خلاف ہے۔ پس اس بہرے ‘ اندھے ‘ گونگے ہونے کے یہ معنی ہیں کہ خوشی کی چیز دیکھنے میں نہ آئے گی، نہ سننے میں نہ کہنے میں یا یہ حالت ان کی ابتدائِ حشر کے وقت ہو پھر حساب کے وقت یہ قوتیں دی جائیں۔ فرماتا ہے یہ سزا ان کے کفر اور ان کا حشر کے سبب سے ہے۔
Ayahs 17:97–98

وَ مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهُمْ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِهٖ١ؕ وَ نَحْشُرُهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ عُمْیًا وَّ بُكْمًا وَّ صُمًّا١ؕ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ كُلَّمَا خَبَتْ زِدْنٰهُمْ سَعِیْرًا Open ayah 17:97 in the Quran reader

اور جس کو اللہ ہدایت دے وہی ہدایت پر ہے اور جن کو وہ گمراہ کرے پھر ان کے سوا تم کو کوئی چارہ گر نہ ملے گا اور ہم ان کو قیامت کو منہ کے بل 1 ؎ اندھے گونگے بہرے کر کے چلائیں گے ان کا ٹھکانا جہنم ہے جب آگ بجھنے لگے گی تو ہم اور بھڑکا دیں گے۔

ذٰلِكَ جَزَآؤُهُمْ بِاَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ قَالُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا وَّ رُفَاتًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ خَلْقًا جَدِیْدًا Open ayah 17:98 in the Quran reader

یہ ہے ان کی سزا اس سبب سے کہ انہوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا اور کہہ دیا کہ کیا جب ہم ہڈیاں اور چورا ہوجائیں گے تو پھر نئے سرے سے پیدا کر کے اٹھائے جائیں گی۔

1 ؎ چناچہ ترمذی نے روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا ہے قیامت میں تین طور سے لوگ چلیں گے ایک پاپیادہ، دوم سوار ہو کر، سوم منہ کے بل۔ پوچھا گیا منہ کے بل کیونکر چل سکیں گے فرمایا جس نے پائوں کے بل چلایا کیا وہ منہ کے بل چلانے پر قادر نہیں۔ 12 منہ۔
Ayah 17:99

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ قَادِرٌ عَلٰۤى اَنْ یَّخْلُقَ مِثْلَهُمْ وَ جَعَلَ لَهُمْ اَجَلًا لَّا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ فَاَبَى الظّٰلِمُوْنَ اِلَّا كُفُوْرًا Open ayah 17:99 in the Quran reader

کیا وہ نہیں جانتے کہ جس اللہ نے آسمانوں اور زمین کو بنایا ہے وہ ان جیسے اور بھی بنا سکتا ہے اور ان کے (بارِدگر پیدا کرنے کے) لیے اس نے ایک میعاد مقرر کردی ہے جس میں کوئی بھی شک نہیں اس پر بھی ظالم انکار کئے بغیر نہ رہے

ترکیب : انتم مرفوع ہے فعل محذوف سے جس کی تفسیر تملکون ہے اذالا مسکتم جواب لو خشیۃ منصوب ہے مفعول لہ امسکتم کا ہو کر ھؤلاء۔ اشارہ ہے آیات کی طرف الثبور الھلاک والخسران، ان یستفزھم ای یقتلھم ویستاصلھم جمیعا ای فرعون مزالزمان و من کان معہ فی عسکرہ لاجمیع القوم۔ تفسیر : منکر حشر تعجب سے کہتے تھے کہ جب ہڈیاں ہو کر چورا چورا ہوجائیں گے بھلا پھر کیونکر باردگر زندہ ہوں گے۔ اس شبہ کا جواب مختلف طور سے قرآن میں دیا گیا ہے یہاں اپنی قدرت کاملہ کے اثبات سے دیتا ہے اور مسئلہ نبوت کے بعد اسی مناسبت سے مسئلہ حشر میں کلام ہوتا ہے۔ فقال اولم یروا کہ کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ نے زمین اور آسمانوں کو بنایا ہے پھر کیا وہ قادر تم کو دوبارہ پیدا نہیں کرسکتا اس پر بھی وہ ظالم نہیں مانتے۔ اس کے بعد دوسری دلیل بیان فرماتا ہے جس سے حشر کا مسئلہ بھی ثابت ہوتا ہے اور نبوت کا بھی جس میں پہلے کلام تھا فقال لو انتم کہ ان سے کہہ دو آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے میں دیکھو ہماری کیسی فیاضی ہے کہ ان کو وجود اور ان کے اندر کے رہنے والوں کو شب و روز بیشمار چیزیں عطا کرتے ہیں پھر مرنے کے بعد دوبارہ وجود عطا کرنا نعمائِ باقیہ دینے کے لیے ہماری فیاضی سے کیا بعید ہے۔ تم اپنے حال پر قیاس کرتے ہو ہاں تمہاری فطرت میں یہ بخل ہے کہ اگر تمہارے ہاتھ میں رحمت کے خزانے بھی آجائیں تو تم اس خوف سے کہ مبادا کم نہ ہوجائیں صرف کرنے سے ہاتھ روکو، بند کر کے رکھو اور ہمارے ہاں کس چیز کی کمی ہے، ہماری فیاضی ہمارے خزائن میں کمی نہیں کرتی نہ کسی فعل کے کرنے سے ہماری قوت کم ہوتی ہے۔ اپنے حال پر ہم کو قیاس نہ کرو۔ مسئلہ نبوت کا ثبوت اس طور پر ہے کہ ہم فیاض ہیں۔ انسان کی روحانی اور دارآخرت کی تعلیم کے بارے میں ہماری قدیم فیاضی ہے، دیکھو ولقد آتینا موسیٰ تسع آیات الخ۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو ہم نے نو نشانیاں یعنی معجزات عطا کئے تھے یدبیضا وغیرہ۔ اس سبب سے پھر موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے قصہ کا باردیگر ذکر کرنے کا موقع آیا اور اس ذکر میں یہ اشارہ ہے کہ محمد ﷺ کچھ نئے رسول نہیں ہیں جو تم کہتے ہو فرشتہ رسول کیوں نہ ہوا ان سے پہلے موسیٰ رسول ہوچکے ہیں اور چونکہ تم ان سے معجزات ایمان لانے کے لیے نہیں مانگتے بلکہ محض عنادوسرکشی سے سو یہ ہماری عادت نہیں ورنہ ہم نے پہلے کو کیا نومعجزے کھلے کھلے نہیں دیے تھے اور جس طرح تم محمد ﷺ سے مقابلہ کرتے ہو یہ بھی کچھ نئی بات نہیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) سے فرعون اور اس کے سرداروں نے کیا کچھ نہیں کیا ہے۔ پھر دیکھو کیا انجام ہوا کہ سب غرق ہوئے اور بنی اسرائیل کو زمین شام پر بسنے کا حکم ہوا چناچہ وہ بسے اور حاکم ہوئے۔ اشارہ ہے جس طرح اس جبار سے چشمہ ٔ نبوت بند نہ ہوسکا تم میں سے نہ ہو سکے گا اسی طرح اس نبی کے پیرو بھی ملک کے مالک ہوں گے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کی پیشین گوئی کے مطابق جیسا کہ تورات استثناء کے اٹھارہویں باب میں ہے حضرت ﷺ سے کمال مشابہت ہے اسی لیے موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر آیا اور نیز مکہ والے یہود سے پوچھ کر سوال کرتے تھے اس لیے ان باتوں کی تصدیق کے لیے فرمایا فسئل بنی اسرائیل کہ ان سے ہی پوچھ دیکھو اس کے بعد اصل قصہ کو تمام کرتا ہے کہ فرعون اور اس کے لشکر کو غرق کر کے ہم نے بنی اسرائیل سے کہہ دیا تھا کہ لو اب آرام سے زمین پر بسو۔ ملک میں پھیل کر عافیت سے رہو۔
Ayah 17:100

قُلْ لَّوْ اَنْتُمْ تَمْلِكُوْنَ خَزَآئِنَ رَحْمَةِ رَبِّیْۤ اِذًا لَّاَمْسَكْتُمْ خَشْیَةَ الْاِنْفَاقِ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ قَتُوْرًا۠ Open ayah 17:100 in the Quran reader

کہہ دو اگر میرے رب کی رحمت کے خزانے تمہارے ہاتھ میں ہوتے تو خرچ ہوجانے کے ڈر سے تم ان کو بند کر کے ہی رکھتے اور انسان بڑا تنگ دل ہے۔

1 ؎ قتور نفقہ برعیال تنگ کردن صافی۔
Ayahs 17:101–104

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسٰى تِسْعَ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ فَسْئَلْ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اِذْ جَآءَهُمْ فَقَالَ لَهٗ فِرْعَوْنُ اِنِّیْ لَاَظُنُّكَ یٰمُوْسٰى مَسْحُوْرًا Open ayah 17:101 in the Quran reader

اور البتہ موسیٰ کو ہم نے نو نشانیاں 2 ؎ کھلی ہوئی دی تھیں پھر بنی اسرائیل سے بھی پوچھ دیکھو جبکہ موسیٰ ان کے پاس آئے تو فرعون نے کہہ دیا کہ اے موسیٰ میں تو تجھے جادو کا مارا ہوا جانتا ہوں۔

قَالَ لَقَدْ عَلِمْتَ مَاۤ اَنْزَلَ هٰۤؤُلَآءِ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ بَصَآئِرَ١ۚ وَ اِنِّیْ لَاَظُنُّكَ یٰفِرْعَوْنُ مَثْبُوْرًا Open ayah 17:102 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا یہ تو تجھ کو معلوم ہوچکا ہے کہ یہ (معجزات) آسمانوں اور زمین کے مالک ہی نے لوگوں کو سجھانے کو اتارے ہیں اور میں تو اے فرعون تجھ کو ہلاک ہوا جانتا ہوں۔

فَاَرَادَ اَنْ یَّسْتَفِزَّهُمْ مِّنَ الْاَرْضِ فَاَغْرَقْنٰهُ وَ مَنْ مَّعَهٗ جَمِیْعًاۙ Open ayah 17:103 in the Quran reader

پس اس نے چاہا کہ ان کو زمین سے اکھیڑ دے تب تو ہم نے اس کو اور اس کے ساتھ والوں سب کو ڈبو دیا۔

وَّ قُلْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ لِبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اسْكُنُوا الْاَرْضَ فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ جِئْنَا بِكُمْ لَفِیْفًاؕ Open ayah 17:104 in the Quran reader

اور اس کے بعد ہم نے بنی اسرائیل سے کہہ دیا کہ (اب زمین پر آرام سے) بسو۔ پھر جب آخرت کا وعدہ آئے گا تو ہم تم سب کو سمیٹ کرلے آئیں گے۔

2 ؎ ترمذی نے روایت کیا ہے کہ دویہودیوں نے آ کر آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو وہ نو نشانیاں کون سی دی تھیں ؟ آپ نے جواب شافی دیا، ان کو بیان کردیا انہوں نے ہاتھ پائوں چوم لیے اور کہا تو بیشک نبی ہے فقیر کہتا ہے کہ ان نشانیوں سے مراد جو یہود نے پوچھی تھیں احکام عشرہ تھے جو توریت میں موجود ہیں جیسا کہ آنحضرت ﷺ کے جواب سے ظاہر ہوتا ہے کہ شرک نہ کرو الخ اور یہاں تو معجزات مراد ہیں۔ 12 منہ۔
Ayah 17:105

وَ بِالْحَقِّ اَنْزَلْنٰهُ وَ بِالْحَقِّ نَزَلَ١ؕ وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۘ Open ayah 17:105 in the Quran reader

اور ہم نے اس (قرآن) کو سچائی سے نازل کیا اور وہ سچائی ہی سے نازل ہوا اور آپ کو جو ہم نے بھیجا ہے تو خوشی اور ڈر سنانے کو

ترجمہ ترکیب : لفیفا حال ہے ضمیر کم سے اے حمیعا وقرانا منصوب بفعل مقدر ای اقرانک قرانا وقیل مضمر یفسرہ مابعدہ وھو فرقناہ بالتخفیف عندالجمہور وقریٔ مشددا یبکون حال من یخرون۔ تفسیر : فاذاجاء الخ مگر جب آخرت کا وعدہ آئے گا تو ہم تم سب کو جمع کر کے لے آئیں گے وعدالاخرہ سے بعض کہتے ہیں وہ دوسرا وعدہ مراد ہے جس کا ذکر اول سورة میں تھا یعنی تم دو بار سرکشی کرو گے اور دو بار تم پر آفت آئے گی۔ اب یہاں بتلایا جاتا ہے کہ بربادی کے بعد تم کو پھر ہم ایک جگہ جمع کریں گے چناچہ بابل کی اسیری کے بعد پھر بنی اسرائیل مجتمع ہوئے۔ بعض مفسرین کہتے ہیں یہاں سے جداگانہ کلام مسئلہ حشر کی بابت شروع ہے۔ وہ کہتے تھے کہ جب ہڈیوں کا چورا ہوجائے گا ہم کیوں کر زندہ ہوں گے اس کے جواب میں فرماتا ہے کہ جب آخرت کا وعدہ آئے گا تو تمہارے مختلف اجزاء کو جمع کر کے لے آئیں گے اور تم تو کیا تمہارے اگلے پچھلوں کو بھی سمیٹ لے آئیں گے۔ وبالحق انزلناہ الخ یہاں سے پھر ان کے شبہات کا جواب ہے جو وہ قرآن مجید کی بابت کیا کرتے تھے اس قرآن کو سچائی سے ہم نے نازل کیا ہے کسی اور نے نہیں نہ اس کو محمد ﷺ نے آپ بنا لیا ہے اور سچائی سے نازل ہوا نہ اس میں کوئی بات غلط اور جھوٹ ہے نہ اس کے نازل ہونے میں کوئی آمیزش وہم و شیطان ہوئی ہے پھر جو ایسی کتاب کو بھی نہ مانے تو وہ محض بدنصیب ہے۔ اے پیغمبر ! آپ ایسے بدنصیبوں ‘ ازلی اندھوں پر کیا غم کھاتے ہیں۔ وما ارسلناک الامبشر اونذیرا آپ کو تو صرف ہم نے اسی لیے بھیجا ہے کہ نیکوں کو ان کی حیات ابدی کا مژدہ سنا دیں اور بدوں کو ان کے انجامِ بد سے ڈرا دیں اور اس قرآن کو ہم نے یکبارگی اسی لیے نازل نہیں کیا کہ ان پر بار نہ ہوجائے بلکہ وقرانا فرقناہ خود ہم نے اس کو تھوڑا کر کے اس مصلحت سے نازل کیا ہے کہ لتقراء علی الناس علی مکث الخ آپ لوگوں کو ٹھہر ٹھہر کر ان کی حاجات و ضروریات دینیہ کا لحاظ کر کے سنا دیں ‘ یکبارگی نازل کرنے میں یہ بات کہاں۔ عرب کے لوگ بیشتر بےپڑھے لکھے تھے یکبارگی اتنی بڑی کتاب کی ان سے محافظت بھی نہ ہوسکتی لامحالہ اس میں تحریف و تبدیل ہوجاتی اور نیز ان کو تدریجاً نیکی طرف لانا مصلحت اور اثرپذیر تھا۔ سب احکام کی دفعۃً تعمیل کا حکم دینا ان پر شاق ہوجاتا اور حضرات انبیاء (علیہم السلام) پر آگے بھی جو کچھ کتابیں اور صحیفے نازل ہوئے اس کے یہی معنی ہیں کہ حسب ضرورت عباد وقتاً فوقتاً الہام ہوا اس کو جمع کرلیا وہ ایک کتاب یا صحیفہ ہوگیا۔ یہ نہیں کہ لکھی لکھائی کوئی کتاب آسمان پر سے نبی پر آپڑی ہو یا فرشتہ نے لا کردی ہو جیسا کہ مشرکین طلب کرتے تھے۔ تھوڑا تھوڑا الہام ہونے میں یہ مصلحتیں ہیں۔ اس پر یہ شبہ کرنا کہ اور مصنفوں کی طرح سوچ سوچ کر تصنیف کرتے تھے محض نادانی ہے کیونکہ ایک بار لکھی لکھائی کتاب آنے میں تو اور بھی صدہا شبہات پیش آتے اور نیز الہام کے معنی بھی پائے نہ جاتے کیونکہ الہامی وہ حالت ہے کہ بشر بشریت کے خواص سے علیحدہ ہو کر ملکیت کے سلسلہ میں منسلک ہوجائے اور حجاب جسمانی اٹھ جانے کے بعد یا بذریعہ ملک مقرب کہ جس کو ناموس اکبر کہتے ہیں یا بلاذریعہ اس نبی کے دل پر صرف مطالب مع الفاظ القاء ہوں۔ 2 ؎ اہل کتاب کے باانصاف اور باعلم لوگ جن کو نبی آخرالزماں ﷺ کا مبعوث ہونا کتب سابقہ سے معلوم تھا ان کا یہ حال تھا کہ جب قرآن ان کے سامنے پڑھا جاتا ہے تو خوف خدا سے روتے اور سجدے میں گر پڑتے ہیں۔ یہ نجاشی حبشہ کے عیسائی بادشاہ کی طرف اشارہ ہے۔ 12 منہ۔
Ayah 17:106

وَ قُرْاٰنًا فَرَقْنٰهُ لِتَقْرَاَهٗ عَلَى النَّاسِ عَلٰى مُكْثٍ وَّ نَزَّلْنٰهُ تَنْزِیْلًا Open ayah 17:106 in the Quran reader

اور قرآن کے پارہ پارہ ہم نے اس لیے کئے کہ آپ لوگوں کو ٹھہر ٹھہر کر سنا دیں اور اسی لیے اس کو تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا ہے۔

1 ؎ قرآن کے یکبارگی نازل نہ ہونے کی وجہ۔
Ayahs 17:107–109

قُلْ اٰمِنُوْا بِهٖۤ اَوْ لَا تُؤْمِنُوْا١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهٖۤ اِذَا یُتْلٰى عَلَیْهِمْ یَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ سُجَّدًاۙ Open ayah 17:107 in the Quran reader

کہہ دو تم اس پر ایمان لاؤ یا نہ لاؤ (مگر) جن کو اس سے 1 ؎ پہلے علم دیا گیا ہے تو جب ان کو قرآن پڑھ کر سنایا جاتا ہے تو وہ منہ کے بل سجدے میں گر پڑتے ہیں

وَّ یَقُوْلُوْنَ سُبْحٰنَ رَبِّنَاۤ اِنْ كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُوْلًا Open ayah 17:108 in the Quran reader

اور کہتے ہیں پاکی ہے ہمارے رب کو بیشک ہمارے رب کا وعدہ پورا ہو کر رہے گا

وَ یَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ یَبْكُوْنَ وَ یَزِیْدُهُمْ خُشُوْعًا۩ Open ayah 17:109 in the Quran reader

اور منہ کے بل (سجدہ میں) گر کر روتے جاتے ہیں اور وہ ان کو عاجزی میں اور بڑھاتا ہے۔

ان شبہات کا جواب دے کر آنحضرت ﷺ کو تسلی دی جاتی ہے اور شان بےنیازی بھی ظاہر فرمائی جاتی ہے قل آمنوابہ اولا تؤمنوا الخ کہ آپ ان سے کہہ دیں تم اس پر ایمان لاؤ یا نہ لاؤ تمہارے ایمان لانے سے اس کی شان نہیں بڑھ جانے کی اور ایمان نہ لانے سے اس کی خوبی میں کوئی فرق نہ آئے گا تم جاہل، بےعقل ہو۔ ہاں جو اہل علم ہیں جن کو پہلے سے علم دیا گیا (یعنی کتاب جیسا کہ زید بن عمرو بن نفیل اور سلمان و ابوذر وغیرہ جو ؓ انبیائِ سابقین کی خبروں کی وجہ سے منتظر تھے کہ کب اخیر نبی آتا ہے یا یہ مراد کہ جن کی روحانیت میں ازل سے علم و ادراک ودیعت رکھا گیا ہے) وہ اس کی بےانتہا خوبیاں دیکھ کر اس پر ایمان ہی لاتے ہیں اور جب اس کو سنتے ہیں تو روح کو حرکت دینے والے مضامین سن کر سجدہ میں گر پڑتے ہیں اور سجدہ میں اللہ کی تسبیح کر کے کہتے ہیں کہ جو کچھ ہمارے رب نے قرآن میں (خصوصاً دارِآخرت کی بابت) وعدے کئے ہیں وہ قطعًا ہو کر رہیں گے اور یہ کیفیت ان کے قرآن کے سننے سے اور زیادہ ہوتی ہے ویزید ھم القرآن خشوعاً و تضرعا لربہم اعتبار ان کا ہے اور جو ازلی گمراہ ہیں انہوں نے نہ مانا تو کیا ہمیشہ ازلی بدنصیب انبیاء کی کتابوں کا انکار ہی کرتے آئے ہیں یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اس آیت کو سن کر سجدہ کرنا چاہیے اس جگہ علماء کے نزدیک سجدہ واجب ہے۔ قرآن نازل کرنے اور نبی کے مبعوث کرنے سے مقصود ا صلی اللہ کی عبادت ہے اور عبادت کا لبِّ لباب ہے جس میں بندہ اپنے مالک کے آگے دل سے گریہ وزاری کرتا ہے کبھی زمین پر سر نیاز رکھتا ہے کبھی ہاتھ اٹھاتا ہے کبھی دل کو اس طرف لگا کر مراقبہ کرتا ہے اور زبان سے بھی کلمات حمد و ثنائِ باری ذکر کرتا جاتا ہے اس مجموعہ کو شرع اسلام میں نماز کہتے ہیں اس کے ادا کرنے کا حکم دیتا ہے اور اس کا طریقہ بھی تعلیم فرماتا ہے۔
Ayahs 17:110–111

قُلِ ادْعُوا اللّٰهَ اَوِ ادْعُوا الرَّحْمٰنَ١ؕ اَیًّا مَّا تَدْعُوْا فَلَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى١ۚ وَ لَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَ لَا تُخَافِتْ بِهَا وَ ابْتَغِ بَیْنَ ذٰلِكَ سَبِیْلًا Open ayah 17:110 in the Quran reader

کہہ دو اللہ کو پکارو خواہ رحمان کو پکارو جس نام سے پکارو سب اسی کے عمدہ نام ہیں اور اپنی نماز نہ تو چلا کر پڑھا کرو اور نہ چپکے سے ہی پڑھو بلکہ درمیانی طریقہ اختیار کرلو

وَ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَّ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ شَرِیْكٌ فِی الْمُلْكِ وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ وَلِیٌّ مِّنَ الذُّلِّ وَ كَبِّرْهُ تَكْبِیْرًا۠ Open ayah 17:111 in the Quran reader

کہو سب خوبیاں اللہ کو سزاوار ہیں نہ جس نے کوئی اولاد جنائی اور نہ اس کی حکومت میں اس کا کوئی شریک ہے اور نہ اس لیے کہ وہ کمزور ہے اور نہ اس کا کوئی مددگار ہے اور اس کی بڑائی بیان کرتے رہو۔

فقال قل ادعواللہ او ادعوالرحمن الخ کہ اے پیغمبر ! لوگوں سے کہہ دو خواہ اللہ کے لفظ سے دعا کرو یا رحمن کے ‘ اللہ کہو یا رحمن کہہ کے دعا مانگو جس نام سے اس کو پکارو گے سب اس کے اچھے نام ہیں اللہ کے نام میں جو اسم ذاتی ہے اس کے جلال و جبروت کی تجلی ہے محض ذات کی طرف بلالحاظ صفات متوجہ ہونا اعلیٰ درجہ کے عرفاء کا مرتبہ ہے اور یہ مشکل ہے اور یہ مرتبہ نصیب نہ ہو تو اس کے صفات کے ساتھ اس کو پکارو اور صفات میں صفت رحمت تمہارے حال کے زیادہ تر مناسب ہے اور لفظ رحمن سے وہ زیادہ سمجھی جاتی ہے اسی لیے جس طرح لفظ اللہ عرب میں اس کے لیے مخصوص تھا اسی طرح لفظ رحمن بھی بلا اضافۃ اسی پر اطلاق کیا جاتا ہے اس جملہ کی بابت ایک روایت بھی مروی ہے کہ ایک بار آنحضرت ﷺ یا اللہ یارحمن کہہ رہے تھے مشرکین میں سے کسی نے یہ اعتراض کیا کہ ہم کو تو دو خدائوں کی عبادت سے منع کرتے ہیں اور آپ دو کے نام پکارتے ہیں اور کسی نے یہ کہا، رحمن جو یمامہ میں کاہن ہے اس کو پکارتے ہیں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ یہ سب اللہ ہی کے نام ہیں اس کے ہر نام سے اس کو پکارو یہ ممکن ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ان حمقاء کے جواب میں یہ آیت پڑھی ہو جس کو نازل ہونے سے تعبیر کردیا گیا۔ خدا تعالیٰ کے باعتبار اس کی صفات کے بہت سے نام ہیں جیسا کہ ترمذی نے روایت کیا ہے۔ اللہ الذی لا الہ الاھو الرحمن الرحیم، الملک، القدوس، السلام، المؤمن، المہیمن، العزیز، الجبار، المتکبر، الخالق، الباری، المصور، الغفار، القہار، الوہاب، الرزاق، الفتاح، العلیم، القابض، الباسط، الخافض، الرافع، المعز، المذل، السمیع، البصیر، الحکم، العدل، اللطیف، الخبیر، الحکیم، العظیم، الفغور، الشکور، العلی، الکبیر، الحفیظ، المقیت، الحسیب، الجلیل، الکریم، الرقیب، المجیب، الواسع، الحکیم، الودود، المجید، الباعث، الشہید، الحق، الوکیل، القوی، المتین، الولی، الحمید، المحصی، المبدیٔ، المعید، المحی، الممیت، الحی، القیوم، الواجد، الماجد، الواحد، الصمد، القادر، المقتدر، المقدم، المؤخر، الاوّل، الاخر، الظاہر، الباطن، الولی، المتعالی، البر، التواب، المنعم، العفو، الرئوف، مالک الملک، ذوالجلال والاکرام، المقسط، الجامع، الغنی، المغنی، الضار، النافع، النور، الہادی، البدیع، الباقی، الوارث، الرشید، الصبور، الستار۔ یہ ننانویں نام ہیں ان کے علاوہ اور بھی نام قرآن و احادیث سے ثابت ہیں جیسا کہ رب العالمین المبین۔ انسان کی فطری عادت ہے کہ جس کو اس نے نہ آنکھ سے دیکھا ہو نہ ہاتھ سے چھوا ہوا نہ زبان سے چکھا ہو نہ ناک سے سونگھا ہو جب کبھی خیال کرتا ہے تو اس کو انہیں چیزوں پر قیاس کرتا ہے جو اس کے دیکھنے میں آئی ہیں لیکن یہ ادراک ناقص خدا تعالیٰ اور اس کی صفات تک بھی نہیں پہنچتا۔ اسی لیے عوام اپنی خیالی صفات اس میں ثابت کر کے ان صفات سے اس کو موسوم کرنے لگتے ہیں اور درحقیقت وہ صفات اس کے لیے عیب اور اس کے تقدس کے منافی ہوتے ہیں اس لیے اسماء کے ساتھ حسنیٰ کی قید بھی آیت میں بڑھا دی گئی کہ اچھے نام اور ناموں کا اچھا ہونا اس کے اوصاف حمیدہ کے لحاظ سے انبیاء (علیہم السلام) کے فرمانے پر موقوف ہے اس لیے اہل اسلام کے علماء متفق ہیں کہ خدا پاک کے نام توقیفی ہیں یعنی اسی قدر ناموں سے اس کو موسوم کرنا چاہیے جو شرع سے ثابت ہیں اس کے علاوہ اور ناموں سے پکارنا ممنوع ہے۔ ہاں اگر اس کے اسماء مبارک عرب کے سوا اور زبانوں میں وہی نام ہیں جو اس کے ان اسماء حسنیٰ کا ترجمہ ہیں تو شاید ان سے پکارنے کی یا ان کے اطلاق کرنے کی اس پر بوقت ضرورت اجازت ہو جیسا کہ فارسی کا لفظ خدا جو اللہ کا ترجمہ ہے علمائِ اسلام اس کا استعمال کرتے آئے ہیں اس کے بعد اس کو اس کے ناموں سے کس طرح پکارا جائے اس کا بھی ذکر کرتا ہے۔ فقال ولاتجہر بصلوتک ولاتخافت بہاوابتغ بین ذالک سبیلا کہ نہ نماز پکار کر پڑھو نہ آہستہ بلکہ درمیان درمیان مگر اس میں کلام ہے کہ صلوٰۃ سے کیا مراد ہے ؟ جلالین وغیرہ تفسیروں میں یوں لکھا ہے، بقراء تک فیہا یسمعک المشرکون فیبو وا ویسبوا القرآن ومن انزلہ کہ مراد یہ ہے کہ نماز میں جو قرآن پڑھا جاتا ہے (جس کا پیشتر حصہ دعا ہے جیسا کہ سورة فاتحہ) اس کو نہ پکار کر پڑھ کہ مشرکین سن کر گالیاں دینے لگیں نہ آہستہ بلکہ درمیان درمیان اور اس تفسیر کی بخاری کی روایت بھی تائید کرتی ہے کہ اس آیت کے نازل ہونے کا یہ سبب ہے کہ حضرت ﷺ مکہ میں مخفی رہتے 1 ؎ تھے مگر جب صحابہ ؓ کے ساتھ نماز پڑھتے تھے تو قرآن کو بلند آواز سے پڑھتے تھے جس کو سن کر مشرکین آنحضرت ﷺ اور قرآن اور اس کے نازل کرنے والوں کو گالیاں دیا کرتے تھے اور بخاری کی ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ یہ آیت دعا کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ ابن جریر نے بھی ابن عباس ؓ سے اس کو دعا کے باب میں نازل ہونا بتلایا ہے۔ حافظ ابن حجر کہتے ہیں دونوں روایتوں میں خلاف نہیں کیونکہ دعا سے وہی دعا مراد ہے جو نماز کے اندر ہے چناچہ ابن مرو ویہ نے ابوہریرہ ؓ کی روایت میں اس کی تصریح بھی کردی ہے۔ الحاصل نماز میں جو قرآن پڑھا جاتا ہے یا اور کچھ ادعیہ وغیرہ اس کو متوسط درجہ کی آواز سے پڑھنا چاہیے۔ بعض کہتے ہیں مراد یہ ہے کہ نہ سب نمازوں کو ظاہر آواز میں پڑھو جیسا کہ صبح و مغرب و عشاء کی نماز کیوں کہ ان وقتوں میں مشرکین اپنے کاروبار میں مصروف یا سونے کھانے میں مشغول رہتے ہیں نہ سب کو مخفی آواز میں جیسا ظہر و عصر کی نماز پس بعض کو پکار کر بعض کو آہستہ سے پڑھو۔ اس کو آیت ادعواربکم تضرعًا وخفیۃ اور اذکر ربک فی نفسک سے منسوخ کہنا غلطی ہے۔ اس کے بعد حمد کرنے کا حکم دیتا ہے اور اس آیت میں اپنا اوصاف رذیلہ سے پاک ہونا بھی بتلاتا ہے۔ بقولہ و قل الحمد اللہ الذی الخ کہ ستائش اللہ کو زیبا ہے جو نہ اولاد رکھتا ہے جیسا کہ مشرکین و نصاریٰ کہتے ہیں نہ اس کا کوئی خدائی میں شریک ہے جیسا کہ لوگوں کا انبیاء و اولیاء و ملائکہ و صالحین وغیرہم کی نسبت خیال ہے نہ اس کو کسی کی مدد و اعانت کی حاجت ہے جیسا کہ مشرکین اپنے معبودوں کو اس کا کارکن سمجھتے ہیں اور اس کی بڑائی بہت بڑھ کر بیان کر ‘ وہ سب بری باتوں سے پاک اور برتر ہے۔ اللہ اکبر کبیرا والحمدللہ کثیرا سبحان اللہ بکرۃ واصیلا۔ کس لطف کے ساتھ کلام تمام کیا ہے۔ سبحان اللہ۔ 1 ؎ ترمذی نے ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ آنحضرت ﷺ مکہ میں پوشیدہ رہتے تھے اور جب صحابہ ؓ کے ساتھ نماز پڑھتے تو قرآن مجید کو پکار کر پڑھتے مشرکین سن کر قرآن اور اس کے نازل کرنے والے کو اور جو اس کو لے کر آیا سب کو گالیاں دیتے تھے۔ تب یہ آیت نازل ہوئی کہ نہ تو اے نبی ! قرآن کو بلند آواز سے پڑھ کہ مشرکین سن کر گالیاں بکیں نہ آہستہ کہ تیرے اصحاب کو بھی سنائی نہ دے۔ اس کے درمیان درمیان پڑھ۔ اس روایت کو ترمذی نے حسن صحیح کہا ہے۔ 12 منہ۔