Ayahs 17:53–56ترکیب : ایہم مبتدا اقرب خبرہ وھو استفہام والجملۃ فی موضع نصب بیدعون۔ وقیل۔ اولئک مبتدا الذین یدعون ای یدعونھم الکفار صفت یبتغون خبر ایھم بدل من واو یبتغون فعل الاول معناہ ان الھتھم اولئک یبتغون الوسیلۃ و ھی الی اللہ تعالیٰ و ایھم بدل ای یبتغی من ھو اقرب فھم و ازلف الوسیلۃ فکیف بغیر الاقرب اوضمن یبتغون معنی یحرصون ای یحرصوں ربھم یکون اقرب الی اللہ بالطاعۃ والصلاح۔
تفسیر : ثبوت معاد پر حجت قائم کر کے مسلمانوں کو تعلیم کرتا ہے کہ تم مخالفوں سے نرم اور اچھی باتیں کیا کرو کیونکہ سختی سے شیطان باہم عداوت و نفرت پیدا کردیتا ہے وہ انسان کا دشمن ہے اور وہ اچھی بات یہ ہے کہ تمہارا رب تم سے خوب واقف ہے اگر چاہے تم پر مہربانی کرے چاہے عذاب کرے۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ اچھی بات سے مراد نرمی سے کلام کرنا ہے پھر حضرت ﷺ کو فرماتا ہے کہ آپ ان کے ذمہ دار نہیں کہ وہ ہدایت پر آجائیں۔ مکہ میں جب یہ آیات نازل ہو رہی تھیں تب یہ حال تھا کہ غریب مسلمانوں پر چاروں طرف سے حملہ تھا اور حضرت ﷺ کے وعظ کا گھر گھر چرچا ہو رہا تھا۔ مشرکین مکہ یہود کے بہکانے سکھانے سے یہ بھی کہا کرتے تھے کیا خدا نے ہدایت کے لیے انہیں غریب مفلس لوگوں کو پسند کرلیا ہے اور پھر ہم میں محمد ﷺ میں کیا فضیلت ہے جو اس پر کتاب اتارتا ہے اور اس کو نبی کیا ہے ؟ اس کے جواب میں فرماتا ہے وربک اعلم الخ کہ ہر ایک بات کی مصلحت و حکمت خدا خوب جانتا ہے۔ آسمان و زمین کی کوئی بات اس سے مخفی نہیں تمہارے حال سے بھی واقف ہے۔ وہ مختار ہے جس کو چاہے فضیلت دے۔ خود انبیاء میں اس نے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی۔ دائود (علیہ السلام) کو زبور عطا کی، دائود و زبور کے ذکر میں یہود کو یہ بات بھی جتلانا مقصود ہے کہ یہ وہی نبی ہے جس کی دائود (علیہ السلام) نے خبر دی کہ جس کو شوکت و سلطنت بھی دی جائے گی۔ مشرکین دلائل توحید سن کر اپنے معبودوں کے فضائل بیان کیا کرتے تھے کہ وہ یوں کرسکتے ہیں اور یہ دے سکتے ہیں اس کے جواب میں فرماتا ہے کہ اچھا ان کو پکارو تو سہی دیکھیں وہ تمہاری کون سی مصیبت میں کام آتے ہیں ؟ مشرکین پیشتر ملائکہ یا انبیاء (علیہم السلام) یا صالحین کو پوجتے تھے اور انہیں کے نام کی مورتیں بنا رکھی تھیں۔ فرماتا ہے کہ جن کو تم پکارتے ہو ان کا خود یہ حال ہے کہ وہ اپنے رب کے لیے وسیلہ ڈھونڈتے ہیں۔ ایہم اقرب ان میں سے جو زیادہ قرب ہے اس کا یہ حال ہے اوروں کا تو کیا ذکر ہے اور اس کی رحمت کے امیدوار عذاب سے ڈرتے ہیں۔ پھر ان کو پکارنا عبث ہے۔ مشرکین مکہ اس پر یہ کہتے تھے کہ اچھا اگر یوں ہے تو پھر ہمارے شہر پر خدا بلا کیوں نہیں بھیجتا۔ اس کے جواب میں فرماتا ہے کہ شہر کی کیا خصوصیت ہے ہر ایک بستی قیامت سے پہلے ہلاک ہوجائے گی
اپنے اپنے موقع پر نیک موت سے برے عذاب سے۔ یا یہ معنی کہ جن بستیوں کا قیام سے پہلے ہلاک ہونا لکھا ہے وہ کتاب یعنی لوح محفوظ میں درج ہے اپنے وقت پر ہوگا گناہ کرنے سے ہم جلدی نہیں کرتے۔ واللہ اعلم۔
Ayah 17:57یبتغون اے یطلبون الی ربھم الوسیلۃ الی القربۃ وقیل الوسیلۃ الدرجۃ العلیا ایھم اقرب معناہ ینظرون ایھم اقرب الی اللہ فیوسلون بہ وقال الزجاج ایھم اقرب یبتغی الوسیلۃ الی اللہ تعالیٰ ویتقرب الیہ بالعمل الصالح (از معالم ناء) 12 منہ۔
1 ؎ بندہ اور اس کے مالک میں جو بڑا رابطہ اور قوی وسیلہ ہے۔ وہ بندے کا نیاز اور عبادت ہے۔ 12 منہ۔
Ayah 17:582 ؎ یعنی کفار و منکرین کجا ہر ایک بستی کو ان کی نافرمانی سے قیامت سے پہلے دنیا ہی میں غارت کرے گا یا کسی سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔ 12 منہ۔
Ayahs 17:59–60ترکیب : ان کذب فی موضع رفع فاعل منعنا وفیہ حذف تقدیرہ الا اھلاک المکذبین ونحن ما یزید اھلاک قریش فلذالم نرسل بالآیات المسئولۃ بہا 1 ؎۔ 1 ؎ ومانرسل بالآیات المقترحۃ الاتخویفالمن ارسلت نبی علیھم مما یعصبھا من العذاب المستاصل (ابوالمسعود) ۔
تفسیر : مشرکین مکہ جواب سے عاجز آ کر یہ بھی کہا کرتے تھے اگر آپ نبی ہیں تو کوہ صفا کو سونے کا بنا دیں اور مکہ کے پہاڑوں کو ہٹا دیں تاکہ کھیتی کیا کریں۔ اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی و ما منعنا الخ کہ ہم یہ بھی کرسکتے ہیں مگر یوں نہیں کرتے کہ پہلی امتوں میں بھی لوگوں نے انبیاء سے سوال کر کے معجزات طلب کئے تھے اور پہلے وعدہ کرلیا تھا کہ اگر ہماری خواہش کے مطابق معجزہ آئے گا تو ہم ایمان لائیں گے مگر پھر بھی ایمان نہ لائے اور عادت الٰہی جاری ہے کہ جو ہٹ کر معجزات طلب کرتے ہیں اور پھر بھی ایمان نہیں لاتے تو ہلاک ہوتے ہیں چناچہ قوم ثمود نے صالح (علیہ السلام) سے اونٹنی کا سوال کیا ان کے کہنے کے موافق اونٹنی پیدا ہوئی آخر ایمان نہ لائے بلکہ اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں تب ہلاک ہوئے۔ اس قسم کے معجزات خطرناک ہوتے ہیں۔ چناچہ فرماتا ہے ومانرسل بالآیات الاتخویفا اور ہم کو اہل مکہ کا ہلاک کرنا مقصود نہیں اس لیے ان کی یہ خواہشیں پوری نہیں کی جاتیں۔ اس تفسیر پر سلف سے خلف تک جمہور مفسرین متفق ہیں۔ پھر جو کوئی پادری اس آیت سے یہ ثابت کرے کہ آنحضرت ﷺ سے کوئی معجزہ صادر نہیں ہوا جیسا کہ پادری فنڈر نے کتاب میزان الحق میں لکھا ہے اور پھر ان کی تقلید نیچر مفسر نے کی ہے بڑی غلطی ہے۔ الآیات سے بواسطہ الف لام وہی آیات یعنی معجزات مقصود ہیں کہ جن کا مشرکین سوال کرتے تھے نہ کہ کل مفسرین کا اسی پر اتفاق ہے اور ابن عباس ؓ کا بھی یہی قول ہے جب مشرکین مکہ کی خواہش کے موافق معجزات کے بھیجنے سے صاف جواب ہوگیا تو ان کو اور بھی دلیری ہوئی اور کہنے لگے کہ آپ نبی نہیں اور ڈرانے بھی لگے اور ظلم و ستم کر کے چاہتے تھے کہ آپ وعظ نہ بیان فرمایا کریں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی یا یوں کہو کہ اس آیت میں آپ کی تسلی کردی گئی۔ واذ قلنا اور یاد کرو جب کہ ہم تم سے کہہ چکے ہیں کہ تمہارے رب کے قابو میں سب لوگ ہیں تو پھر تمہیں کسی کا کیا خوف ہے آپ بےخوف ہو کر حکم الٰہی بیان کیا
کریں۔ اس کے بعد وہ آنحضرت ﷺ کی معراج پر اور بھی مضحکہ کرتے تھے کہ ہمارے کہنے سے معجزہ تو دکھایا نہیں گیا آسمان پر چلے گئے۔ شباشب بیت المقدس پہنچ گئے، جنت دوزخ دیکھ آئے اور نیز قرآن پر ہنسی کرتے تھے کہ عجب کلام ہے جس میں دوزخیوں کے لیے آگ میں رہنا اور زقوم کا درخت کھانا مذکور ہے (اس پیڑ کو تلخ و بدمزہ ہونے کی وجہ سے شجرہ ملعونہ کہتے تھے اور قدیم عرب ایسی بری چیزوں کو ایسے ہی الفاظ سے تعبیر کیا کرتے تھے) اس کے جواب میں فرماتا ہے وماجعلنا الرویا التی الخ کہ ہم نے اس دریا کو اور شجرہ ملعونہ کو بھی ان کے لیے فتنہ یعنی آزمائش کی چیز کردیا۔ کم عقل ‘ بداعتقاد اس پر اعتراض کرتے ہیں۔ رؤیاء اور شجرہ ملعونہ سے کیا مراد ہے ؟ اکثر مفسرین کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ جبکہ مکہ میں تھے ایک خواب دیکھا تھا کہ میں مکہ چھوڑ کر ایک نئے شہر میں سکونت پذیر ہوا ہوں وہاں سے میرے دین کو ترقی ہوئی اور عالم میں آفتاب کے نور کی طرح بہت جلد پھیل گیا چونکہ یہ خواب مکہ میں مشہور ہوگیا تھا اس پر قریش مکہ تمسخر کرتے تھے یہی ان کے حق میں فتنہ یعنی گمراہی کا باعث ہوگیا جس کو خدا نے سچا کردیا اور شجرہ ملعونہ سے مراد زقوم کا پیڑ ہے چونکہ قرآن میں آچکا تھا کہ جہنمیوں کی یہ غذا ہوگا اس پر بھی قریش بہت تمسخر کیا کرتے تھے کہ آگ میں پیڑ ایک خلاف قیاس بات ہے تو ﷺ دیوانے ہیں حالانکہ وہ پیڑ بھی آگ کا ہوگا اور یوں بھی آگ میں ایک کیڑا رہتا ہے جس کو سمندر کہتے ہیں نباتات کیا بلکہ حیوانات بھی آگ میں ہوتی ہیں یہ بھی ان کے لیے فتنہ ہوگیا۔ اور ملعونہ اس لیے اس کو کہتے ہیں کہ بدمزہ ہے عرب بری چیز کو خبیث اور ملعون کہا کرتے ہیں بعض نے رؤیاء سے معراج سے مراد لی ہے واللہ اعلم۔
Ayahs 17:61–65ترکیب : ھذا منصوب بارایت والذی لغت لہ و المفعول الثانی محذوف تقدیرہ تفضیلہ۔ لاحتنکن جواب لئن۔ طینًا منصوب مبرع الخافض ای من طین۔ قال الواحدی لاحتنکن اصلہ من احتناک الجرادالزرع وھوان تستاصلہ باحنا کھا ثم استعمل علی الاستیلاء علی شیء و قیل ماخوذ من حنک الدابۃ اواجعل الرسن فی حنکھا والحنک ماتحت الذقن ودمنہ التحنیک الاستفراز والا زعاج والاستخفاف یقال افزہ واستفرہ ای ازعجہ واجلب قال الفراء وابوعبیدہ من الجلبۃ وقال الزجاج الاجلاب الجمع ای اجمع علیھم العساکر وقال ابن السکیت الاجلاب الاستعانۃ ای استعن علیھم لکل باتقدر والامر للتھدید۔
تفسیر : اب ان کی سرکشی کا سبب بیان فرماتا ہے کہ یہ شیطان کا اثر ہے جو بنی آدم پر چلا آتا ہے اور نیز اس قصہ میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ جس طرح شیطان آدم (علیہ السلام) کے مقابلہ میں مردود ہوا اب تم جو بنی آدم ہو کر شیطان کے بہکانے سے محمد ﷺ کا مقابلہ کرتے ہو گویا اپنے جدِاعلیٰ کی نسل سے نکل کر شیطانی لشکر میں داخل ہوتے ہو جو تمہارے مردود ہونے کا قوی سبب ہے۔ اس مناسبت سے اس قصد کو یہاں ذکر کیا گو اور مناسبتوں سے یہ قصہ سورة اعراف، بقرہ، حجر میں بھی مذکور ہوچکا ہے۔ خدا نے آدم کے لیے فرشتوں کو سجدہ تعظیمی کا حکم دیا۔ سب نے سجدہ کیا شیطان نے سجدہ سے انکار کیا۔ آدم (علیہ السلام) کو کمتر اور اپنے آپ کو بہتر سمجھ کر اس لیے کہا اسجد لمن خلقت طیناً اس کے بعد خدا تعالیٰ سے کہا کہ میں اس کی اولاد کو کہ جس کو تو نے مجھ پر فضیلت دی ہے اپنے قابو 1 ؎ میں کرلوں گا اگر تو نے مجھے قیامت تک مہلت دی۔ شیطان کو بنی آدم کی طینت معلوم ہوگئی ہوگی کہ وہ گمراہی کی طرف جلد دوڑیں گے جو اس نے اس زعم سے خدا تعالیٰ کے روبرو حسد میں بہہ کر یہ بات کہی الا قلیلا اس نے یہ سمجھ کر کہا کہ ان میں کچھ نیک بھی ہوں گے جن پر میرا قابو نہ چلے گا۔ احتناک کے معنی ستیاناس کردینا۔ کہتے ہیں احتنک فلان ماعند فلاں۔ یہ بھی معنی ہیں قابو میں کرلینا لگام دینا، ڈھٹی دینا، تب یہ الدابہ یحنکہا سے مشتق ہے مطلب یہ کہ ان کو بالکل قابو میں کرلوں گا چونکہ علم ازلی میں یہی تھا بھی اس لیے خدا تعالیٰ نے بھی فرما دیا اذھب اچھا کر مگر تیری اور تیرے متبعین کی کافی سزا جہنم ہوگی اور اس پر اس کو اجازت 2 ؎ دی کہ تو ان کو جس طرح چاہے بس میں کرلینا۔ خدا تعالیٰ نے چند چیزیں فرمائیں۔
اول استفزازء یقال افزئہ الخوف لاستفزء ای از عجہ وامتخفہ بصوتک یعنی اپنی آواز سے انہیں پھسلا لینا، شیطان کی آواز دل میں برے خیالات پیدا کرنا ہے۔ بعض کہتے ہیں جس قدر شہوت انگیز آوازیں ہیں راگ باجا، عورتوں کے زیور کی آواز سب شیطانی آواز ہے۔ دوم واجلب علیہم بخیلک و رجلک ان پر اپنا لشکر چڑھا لے جانا سوار بھی اور پیدل بھی۔ شیطان کے سوا اور پیدل یا تو انسانی سوار اور پیدل ہیں جو معصیت میں کوشش کرتے ہیں یا خود اس کے لشکر میں سوار اور پیدل ہوں یہ بطور تمثیل کے ہے یعنی خوب زور لگا۔ سوم شارکہم ان کے مال و اولاد میں شریک ہوجانا مال کی شرکت گناہ میں فضول خرچی میں خرچ کرنا، اچھی باتوں میں صرف کرنے سے روکنا، برے طور سے مال لینا، چوری سے، زنا سے، غصب سے، سود سے، فریب سے۔ اسی طرح اولاد 1 ؎ میں بھی شریک ہوتا ہے۔ چہارم و عدھم شیطانی وعدے دل میں لمبی چوڑی ناجائز آرزوئیں پیدا کرنا دنیا پر رغبت آخرت سے نفرت دلانا کہ میاں جو کچھ مزہ ہے یہیں ہے کیسی آخرت ؟ اس کے رد میں فرمایا کہ شیطانی وعدے دھوکے کی ٹٹیاں ہوتے ہیں ارمان دل میں ہی رہتے ہیں کہ موت آلیتی ہے۔ اس کے بعد یہ بھی خدا تعالیٰ نے شیطان سے کہہ دیا کہ ان عبادی میرے خالص بندوں پر تیرا کوئی قابو نہ ہوگا اور ان کی کارسازی کے لیے محمد ﷺ آپ کا رب کافی ہوگا۔ توقیق و عنایتِ الٰہی ہمیشہ ان کے سر پر سایہ افگن رہے گی۔ ان کی قوت بہیمیہ کا غلبہ نہ ہونے پائے گا اس میں کفار پر تعریض بھی ہے۔
1 ؎ بس میں کرلوں گا۔ 12 منہ
2 ؎ یہ اجازت تہدیدی ہے کہ جس طرح چور کہتے ہیں کہ تجھ سے جو کچھ ہو سکے کرلے کمند لگا کو مل دے پھر تو کیا کرسکتا ہے یہ ایک محاورے کی بات ہے۔
؎ ناجائز طور سے اولاد حاصل کرنا یعنی زنا سے یہ بھی شیطانی شرکت ہے۔ نیز اولاد کے برے نام رکھنا، اس کے ناک، کان چھیدنا اس کے سر پر غیر اللہ کے نام کی چوٹی رکھنا، بیڑیاں پہنانا وغیرہ، ذالک سب شرکت شیطانی ہے اسی طرح ان کو معبودوں پر چڑھانا مار ڈالنا برے کام سکھانا بھی شرکت شیطانی ہے۔ 12 منہ۔
Ayahs 17:66–70ترکیب : الا ایاہ استثناء منقطع وقیل متصل ان یخسف مفعول امنتم بکم حال ہے یایخسف کا صلہ جانب البر مفعول بہ الار جاء السوق والاجراء والتیسر بمعنی راندن۔ الحصب قال ابوعبیدہ والقنیبی ھوالرمی ریحًا شدید الحاصۃ التی ترمی بالحصاء الصفاء وقال الزجاج الحاصب القراب الذی فیہ حصاء وقیل الحصاء صب حجارۃ من السماء تارۃ مصدر یجمع علی تیرہ و تارات والفھا واویاء۔ القاصف الریح الشدیدہ التی تکسر بشدۃ من قصف الشیء یقصف من ضرب یضرب تبعانصیرا اومن تبعینًا بانکار مانزلنا۔
تفسیر : یہاں سے پھر دلائلِ توحید شروع کرتا ہے اور مشرکین کی عادات ناپسندیدہ کی برائی اور نیز یہ بات بھی بتلاتا ہے کہ خدا کے احسان یاد رکھا کرو اور پہلے جو فرماتا تھا کہ وہ بندوں کا کارساز ہے اب اس کارسازی کا جو نہایت بےبسی کی حالت میں ظہور پذیر ہوتی ہے اظہار فرماتا ہے۔ ربکم الذی انسان کے اوپر جو کچھ اس کے احسانات ہیں وہ بےانتہا ہیں ان میں سے وہ احسانات موقع بموقع بندوں کو یاد دلا کر اپنا وحدہ لاشریک ہونا ثابت کیا کرتا ہے۔ جو ان کے نزدیک زیادہ تر قابل التفات ہوتے ہیں۔ اس موقع پر عرب کو ان کے سفروحضر کے انعامات یاد دلاتا ہے عرب یا دریا میں سفر کرتے تھے یا خشکی میں اور اب بھی یہی حال ہے دریا کا سفر کشتی کے ذریعے سے ہوتا ہے خواہ وہ ہوائی ہو خواہ دخانی جو اس زمانہ میں ایجاد ہوتی ہیں اب سمندر کی ایسی پہاڑسی موجوں میں ایک تنکے کے برابر جہاز یا کشتی جو مسافروں یا تجارتی مال کو لے کر آتی جاتی ہے اس کو اسی کا ید قدرت چلاتا ہے۔ رحیما تک کا یہی مضمون ہے۔ واذا مسکم الضر یہ وہ حالت اضطراب بیان فرماتا ہے جو دریا میں کبھی کبھی پیش آجاتی ہے وہ یہ کہ طوفان میں مبتلا ہوجاتے ہیں سو ایسے موقع پر انسان اپنے فطری قاعدہ سے پھر اسی معبود برحق کی طرف التجا کرتا ہے اور سب فرضی معبودوں کو بھول جاتا ہے مگر جن کی فطرت میں فتور آگیا وہ اس حالت میں بھی اس کی طرف رجوع نہیں کرتے مگر عرب کے مشرک ایسا نہیں کرتے تھے وہ اس وقت خاص اللہ تعالیٰ کو پکارتے تھے مگر فلما نجکم الخ جب خشکی پر آتے تھے تو پھرجاتے تھے پھر اپنے معبودوں کی طرف رجوع کرتے تھے اس بات پر خدا تعالیٰ الزام دیتا ہے وکان الانسان کفورا کہ انسان بڑا ہی ناشکرا ہے افسوس ہے کہ آج کل عام لوگ اس بلا میں مبتلا ہیں مصیبت کا وقت بھول جاتے ہیں جب مصیبت خدا دور کردیتا ہے اور نعمت دیتا ہے تو بجائے شکر کے یہ ناشکری کرتے ہیں کہ فسق و فجور میں مبتلا ہوتے ہیں۔ بھانڈ رنڈیوں کے ناچ کراتے ہیں۔ اب اس بات پر تہدید فرماتا ہے کہ افامنتم الخ کیا تم کو اس بات سے پورا اطمینان ہوگیا کہ اس حالت میں خدا تم پر اور دوسری قسم کی بلا نہیں بھیج سکے گا زمین میں غرق نہیں کرسکتا یا آسمان سے پتھر نہیں برسا سکتا کہ تم کو پھر دریا کا سفر آئے اور پھر تم کو اسی بلا میں پھنسا کر ہلاک کر دے۔ بنی آدم کا تو یہ حال ہے اور ہمارا یہ حال ہے کہ ولقد کرمنا بنی آدم الخ ذات میں ‘ جسم میں ‘ صورت میں ‘ اوصاف میں ‘ علم میں اس کو مخلوقات پر عزت دی وحملنا ھم اور دریائی اور خشکی کے سفر میں سواری دی، دریا میں کشتی پر اور خشکی میں اونٹ گھوڑے گاڑی پر سوار ہوتے ہیں اور رزقنا ھم سفر وحضر میں عمدہ چیزیں کھانے کو دیں اور اپنی بہت سی مخلوقات پر ان کو بزرگی 1 ؎ بخشی۔
1 ؎ یہی بزرگی تو ہے جو دن بھر حضرت گھوڑے پر سوار ہوتے ہیں اور بیلوں کو گاڑی میں جو تتے ہیں اسی طرح اور چیزوں پر آپ حکومت کر رہے ہیں قوی باطنیہ کے روز سے جن اور فرشتوں سے بڑھ جاتے ہیں۔ 12 منہ
Ayahs 17:71–77ترکیب : یوم ندعوا مفعول اونصب اذکر محذوف کا اے اذکر یوم الخ یوم ندعوانصب یا باضمارا ذکر یا ظرف ولایظلمون۔
تفسیر : انسانوں کا باہمی فرق مراتب بیان فرما کر آخرت کا فرق مراتب جو حقیقی تفصیل ہے بیان فرماتا ہے یوم ندعوا کل اناس بامامہم یعنی یاد کرو اس دن کو کہ جس دن ہر ایک شخص اپنے پیشوا کے ساتھ بلایا جائے گا۔ امام لغت میں اس کو کہتے ہیں کہ جس کی پیروی اقتدار کی جاتی ہے ہدایت میں خواہ گمراہی میں۔ پس نبی امت کا امام ہے اور خلیفہ رعیت کا اور قرآن مسلمانوں کا امام ہے اور نمازیوں کا امام نماز پڑھانے والا ہے اور اسی طرح انسان کا دلی منشاء جو اس کو نیک یا بدکام پر تحریک کرتا ہے وہ بھی اس کا امام ہے اور اسی طرح گمراہی کے امام ہیں ہر ایک معنی کے لحاظ سے امام سے علماء نے مختلف مرادیں لیں ہیں۔ چناچہ ابوہریرہ ؓ نبی مراد لیتے ہیں کہ قیامت کو ہر ایک امت ان کے نبی کے نام سے پکاری جائے گی اور اسی طرح آئمہ کفر سے بھی کہیں گے یا امۃ محمد ﷺ یا امۃ موسیٰ ( علیہ السلام) یا امۃ فرعون وغیرذلک۔ پس ہر ایک امت کو اس کے پیشوا کے ساتھ حاضر کیا جائے گا۔ اہل جنت کے ساتھ جنت میں اور دوزخی کے ساتھ دوزخ میں جائیں گے۔ ضحاک کہتے ہیں کہ اس سے مراد کتاب ہے حسن دابوالعالیہ اعمال مراد لیتے ہیں۔ قتادہ نامہ اعمال، پھر نامہ اعمال کی کیفیت بیان فرماتا ہے کہ جن کو دائیں طرف سے ملے گا وہی اس کو خوشی سے پڑھیں گے گرچہ بائیں طرف والے بھی پڑھیں گے مگر چونکہ وہ اعمال برے دیکھ کر حسرت و رنج میں ہوں گے خوشی سے نہ پڑھیں گے۔ یہ خوش ہو کر پڑھیں گے درحقیقت انہیں کا پڑھنا ہے۔ پھر جو آخرت میں محروم رہیں گے ان کی محرومی کا سبب بیان فرماتا ہے۔ ومن کان کہ جو اس دنیا میں اندھا رہا اس نے حق نہ دیکھا صراط مستقیم نہ پایا وہ آخرت میں بھی نعمائِ الٰہی نہ دیکھے گا۔ اندھے ہونے سے مراد دل کا اندھا ہونا ہے نہ ظاہری آنکھوں کا۔ سو دل کے اندھے وہاں بھی الطافِ الٰہی سے اندھے رہیں گے کبھی خوشی اور حیات ابدی کا منہ نہ دیکھیں گے نہ اس تک پہنچیں گے، راہ گم کردہ ہوں گے۔
اس کے بعد دنیا میں دل کے اندھوں نے جو آنحضرت ﷺ کو دو بار بہکانا چاہا تھا سو اس کا بیان فرماتا ہے : (اول) وان کادوا الخ اس کی شان نزول میں مفسرین نے مختلف روایتیں لکھی ہیں جن سے یہ نکلتا ہے کہ کفار نے آنحضرت ﷺ کو کسی اپنی خواہش پر مجبور کرنا چاہا تھا کہ آپ ہمارے بتوں کی مذمت نہ کریں یا کچھ اور اس پر آپ نے قدرے سکوت کیا جس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ آپ کو بہکانا چاہتے تھے اگر آپ بہکتے تو آپ کو ہم دنیا و آخرت میں دوچند عذاب دیتے۔ خدا نے آپ کو محفوظ رکھا۔ (دوم) وان کادوالیستفزونک اس کا صحیح شان نزول یہی ہے کہ مشرکین مکہ کچھ فریب کر کے آنحضرت ﷺ کو ہجرت سے پیشتر مکہ سے نکال دینا چاہتے تھے آپ نہ نکلے۔ فرماتا ہے اگر وہ ایسا کرتے تو آپ کے بعد ان کو بھی وہاں زیادہ رہنا نصیب نہ ہوتا۔ انبیائِ قدیم کا یہی دستور چلا آتا ہے کہ نبی کے نکالنے کے بعد اس قوم کو بھی وہاں امن نصیب نہیں ہوا۔
Ayah 17:78ترکیب : الی غسق الخ متعلق ہے اقم کے قرآن الفجر معطوف الصلوٰۃ پر یا اس کا نصب علی الاعزاء ہے اے علیک قرآن الفجر نافلہ مصدر بمعنی تہجد اے تنفل نفلاو فاعلہ ھنا مصدر کا العاقبہ۔ مقاما منصوب ہے ظرف ہو کر۔
تفسیر : اقم الصلوٰۃ الٰہیات و معاد و نبوت کے مباحث کے بعد طاعت الٰہی کا حکم دیتا ہے اور نیز شیطان کی گمراہی اور بندے کی ناشکری اور قیامت میں نامہ اعمال کے دیے جانے اور کفار کا حضرت ﷺ کی طرف قصد بد کرنے کا اور آپ کو محفوظ رکھنے کا ذکر کر کے وہ عمل تعلیم فرماتا ہے جو شیطان کی گمراہی اور بندے کی ناشکری کی رسوائی اور کفار کے فریبوں سے بچاوے (یعنی نماز) اور نیز تیرہ حکموں کی تکمیل نماز بغیر ممکن نہیں۔ یہی وہ عمل ہے کہ جو انسان کی روح اور قوائے ملکیہ کو روشنی دے کر بندہ کو دار آخرت کا مشتاق کرتا ہے۔ تمام تفسیریں متفق ہیں کہ اس آیت میں نماز فرض مراد ہے یعنی نماز 1 ؎ پنجگانہ مگر دلوک 2 ؎ کے معنی میں اختلاف ہے۔ ابن مسعود ؓ اور نخعی و مقاتل بن حبان و ضحاک
1 ؎ اس میں ظہر، عصر، مغرب، عشاء چار نمازیں آگئیں، پانچویں صبح کی نماز قرآن الفجر میں مذکور ہوئی ہے۔ منہ 12۔
2 ؎ الدلوک الدلک ایک جگہ سے دوسری جگہ ٹلنا چونکہ ٹلنے میں ہاتھ ایک جگہ نہیں ٹھہرتا اس لیے اس کو دلک کہتے ہیں اور اسی جگہ سے اس کے معنی غروب کے
وسدی کہتے ہیں غروب آفتاب مراد ہے اور ابن عباس و ابن عمر و جابر ؓ وعطاء مجاہد و حسن و اکثر تابعین بلکہ جمہور اس کے معنی دن ڈھلنے کے لیتے ہیں۔ یہ لفظ دونوں معنوں کے لیے آیا ہے اخیر معنی بہت قرین قیاس اور مناسب مقام ہے اس تقریر پر جیسا کہ امام ازہری کہتے ہیں یہ معنی ہوں گے دن ڈھلنے سے شب کی سیاہی ہونے تک نماز قائم کر پس اس میں ظہر، عصر، مغرب، عشاء چار نمازیں آگئیں اور صبح کی نماز چونکہ ایک مہتم بالشان نماز تھی اس لیے اس کو قرآن الفجر سے بیان فرمایا اور چونکہ آنحضرت ﷺ پر نماز تہجد بھی فرض تھی (گو ابتدائِ اسلام میں امت پر بھی فرض تھی جیسا کہ سورة مزمل میں ہے) مگر امت پر نماز پنجگانہ سے فرضیت جاتی رہی استجاب رہ گیا جیسا کہ اخیر سورة مزمل سے سمجھا جاتا ہے۔ فاقر واماتیسرمن القرآن (اس لیے آپ کو فرمایا و من اللیل الخ کہ رات میں تہجد بھی پڑھو) نافلۃ لک زیادۃ لک یعنی یہ نماز تم پر زائد ہے یا یہ معنی کہ اس کا تم کو زائد نفع ہے کس لیے کہ آپ معصوم ہیں، گناہ سب بخشے گئے اب اس کا نفع ترقی درجات و مزید تقربات کا آپ کو ہے برخلاف امت کے کہ وہ گناہوں سے پاک نہیں اس بدلے میں ان کے گناہ معاف ہوں گے۔
Ayahs 17:79–82تہجدّ کی کیفیت : مجاہدوقتادہ کہتے ہیں نافلۃ کا لفظ حضرت ﷺ کے لیے بھی نفلی رہ جانے پر دلالت کرتا ہے مگر آپ ہمیشہ تہجد پڑھا کرتے تھے یہاں تک رات کو عبادت و نماز میں کھڑے رہتے تھے کہ پائے مبارک ورم کر آئے تھے۔ چناچہ ترمذی نے روایت کیا ہے کہ قیام شب سے آپ کے پائوں ورم کر آئے تھے۔ لوگوں نے عرض کیا کہ آپ کے گناہ معاف کئے پھر آپ اس قدر مشقت کیوں اٹھاتے ہیں ؟ فرمایا، افلا اکون عبدًا شکورًا کہ کیا میں اس کی شکرگزاری نہ کروں، شکرگزار بندہ نہ بنوں ؟ صحیح احادیث میں آنحضرت ﷺ کی نماز تہجد کی پوری کیفیت مذکور ہے کہ کبھی آدھی رات کے بعد اٹھ کر وضو کر کے نماز میں مصروف ہوتے، دو دو رکعت کی نیت باندھتے، کبھی چار چار کی اخیر وتر پڑھتے، صبح صادق سے قدرے پہلے اور کبھی دو رکعت پڑھ کر پھر لیٹ جاتے، پھر اٹھ کر دو رکعت پڑھتے اسی طرح رات گزاردیتے تھے پھر اس کی کیفیت اور دردوسوز کا تو کچھ بیان ہی نہیں ہوسکتا کہ جو آنحضرت ﷺ کو نماز میں ہوتا تھا۔ آنکھوں سے آنسو جاری اور دل سے عشق الٰہی کا دھواں اٹھتا تھا جس کا اثر نہ صرف گھر کے لوگوں پر پڑتا تھا بلکہ عرب اور عجم پر بھی پڑھا۔ تہجد کی نماز تمام انبیاء ِصالحین کا قدیم دستور ہے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بھی شب کو نماز پڑھتے، یادِ الٰہی کرتے تھے۔ ان کے پاکباز حواریوں کا بھی یہی دستور رہا ہے بعد میں یہ آزادی و بےقیدی پیدا ہوگئی پھر یورپ کے ملحدوں نے اس کو اور بھی ترقی دی افسوس۔ مالک نے عائشہ ؓ سے روایت کی ہے کہ آنحضرت ﷺ کی نماز تہجد رمضان و غیررمضان میں گیارہ رکعت سے زیادہ نہ ہوتی تھی۔ چار چار نفلوں کی نیت باندھتے تھے اور تین وتر پڑھتے تھے۔ اور ایک روایت میں تیرہ رکعت بھی آئی ہیں۔ چناچہ مالک نے اس کو زید بن خالد جہنی ؓ سے روایت کیا ہے۔
(1) غسق اللیل رات کی سیاہی اور اندھیرا قال الکسائی غسق اللیل غسوقاً الغسق بفتح السین اسم جس کے معنی سیلان کے ہیں۔ کہتے ہیں غسقت العین تفسق جبکہ آنکھ پانی سے بھر جائے بہنے والے کو غاسق کہتے ہیں اس لیے جہنمیوں سے جو پیپ بہے گی اس کو غساق کہتے ہیں۔ ابن عباس ؓ سے نافع بن ارزق نے اس کے معنی پوچھے، فرمایا رات کا اندھیرا چھا جانا۔ ازہری کہتے ہیں جب شفق غائب ہوجائے، غسق اللیل پایا گیا۔
(2) قرآن الفجر سے مراد نماز صبح ہے کبھی جز سے کل تعبیر ہوا کرتا ہے اس لیے نماز کو کبھی رکوع کبھی سجود کبھی تسبیح کہتے ہیں۔ نماز میں قرآن پڑھا جاتا ہے خصوصاً صبح کی نماز میں اس کا زیادہ تر اہتمام ہوتا ہے اس لیے اس کو قرآن الفجر سے تعبیر کیا۔
پھر قرآن الفجر کی نسبت فرماتا ہے ان قرآن الفجر کان مشہودا، مشہود کے معنی حاضر کیا گیا یا جس کے پاس لوگ جمع ہوں یا گواہی دیا گیا ان معنی کے لحاظ سے اس کی تفسیر میں مفسرین کے متعدد اقوال ہیں اور سب ٹھیک ہیں۔ ایک گروہ مفسرین کہتا ہے کہ صبح کی نماز میں
بھی لیے ہیں کیونکہ اس میں بھی ٹلنا ہے مگر یہاں زوال ہی کے معنی مراد ہیں اور اسی کو جمہور نے اختیار کیا ہے۔
ملائکہ رحمت آتے ہیں اور جمع ہوتے ہیں۔ رات کے فرشتے جو انسان کے محافظ اور اس کے اعمال کے نگران رہتے ہیں صبح کو جاتے ہیں اور دن کے آتے ہیں۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ اور نمازوں کی نسبت صبح کی نماز میں صالحین زیادہ جمع ہوتے ہیں کیونکہ اس وقت کاروبار دنیا بھی کم ہوتا ہے فرصت کا وقت ہوتا ہے اور نیز خواب شیریں سے بیدار ہو کر خدا پرستوں کی جماعت میں شامل ہونا اور خدا سے دعا مانگنا ‘ اس کی نعمتوں کا شکریہ بجا لانا ‘ بڑی عبادت ہے جس لیے اہتمام کیا جاتا ہے۔ بعض نے یہ فرمایا ہے کہ اس جماعت کے لوگوں کے لیے ملائکہ خدا کے آگے جا کر ان کے حاضر دربار ہونے کی گواہی دیا کرتے ہیں اور یہ بھی ہے کہ یہ نماز اس کے کمال وقدرت کی شہادت ہے کیونکہ رات کا جانا دن کا آنا ‘ ظلمت شب دور ہونا نور کا ظہور ہونا ‘ انسان جو عالم خواب میں اس جہان سے غافل تھا اس کا بیدار ہونا گویا خواب عدم سے بیدار ہونا صبح کو اٹھنا حشر کا نمونہ ہے۔ اس لیے بالخصوص اس نماز کو جماعت سے ادا کرنا اور اس میں زیادہ قرآن پڑھنا جس کے سننے کو ملائکہ حاضر ہوتے ہیں مسنون اور امرمؤکد ہے۔
(3) تہجد شب اخیر کی نماز کو کہتے ہیں فتہجد بہ ای بالقرآن کماقال قم اللیل الاقلیلا الی قولہ ورتل القران ترتیلا۔ ہجود لغت میں سونے کو کہتے ہیں اور ہاجد سونے والا چونکہ یہ نماز سو کر پڑھی جاتی ہے اس لیے اس کو تہجد کہتے ہیں اور مصلّی باللیل کو ہا جدو متھجد کہتے ہیں نماز تہجد کا وقت باتفاق جمہور علماء آدھی رات کے بعد سے لے کر صبح صادق تک ہے غالباً اول شب میں انسان سو جاتا ہے پھر بیدار ہو کر یہ نماز پڑھتا ہے۔ اس میں یہ شرط نہیں کہ ضرور اول شب میں سوئے اور جو نہ سوئے تو نماز تہجد نہ ہوگی۔
آپ ﷺ کو بالخصوص نماز تہجد کا حکم دینے کی وجہ بیان فرماتا ہے۔ عسٰی ان یبعثک ربک مقامًا محمودًا کہ خدا تعالیٰ عنقریب آپ کو شافع محشر بنا کر مقام محمود میں کھڑا کرنے والا ہے۔ یہ وہ کرامت و عزت ہے جو بنی آدم میں بجز آنحضرت ﷺ کے اور کسی کو نصیب نہیں اس لیے سب سے زیادہ آنحضرت ﷺ پر عبادت اور شب کا سوزوگداز بھی فرض ہے ؎
دلابسوز کہ سوزے تو کا رہا بکند
دعائِ نیم شبی دفع صدبلا بکند
مقام محمود : مقام محمود یحمدہ القائم فیہ وکل من عرفہ وھو مطلق فی کل مقام یتضمن کرامۃً (بیضاوی) یعنی مقام محمود وہ عمدہ جگہ ہے کہ جہاں کھڑا ہونے والا اور اس کو جاننے والا اس کی حمد اور تعریف کرے مطلقاً مقام محمود ہر عزت کی جگہ کو کہتے ہیں۔ مقام کو محمود اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس کی حمد کی جاتی ہے گو حمد اختیاری خوبیوں پر ہوتی ہے اور مقام کی خوبیاں اختیاری نہیں لیکن یا تو شرط اختیاری ہر جگہ نہیں یا حمد بمعنی مدح ہے یا یہ کہ وہ محمود فیہ ہے یعنی اس جگہ حمد کی جاتی ہے وہاں کھڑے ہونے والے کی یا کھڑا ہونے والا خدا تعالیٰ کی حمد کرتا ہے۔
آنحضرت ﷺ کی شفاعت کبرٰی : عرف شرح میں مقام محمود سے اس آیت میں کہ جہاں آنحضرت ﷺ کو کھڑا کرنے کا اللہ تعالیٰ وعدہ فرماتا ہے باتفاق تمام مفسرین وہ مقام مراد ہے کہ جہاں حضرت ﷺ قیامت کے روز عاصیوں کے لیے شفاعت کرنے کو کھڑے ہوں گے جس روز کہ حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک سب انبیاء نفسی نفسی کہیں گے اور کسی کو مجال نہ ہوگی کہ شفاعت کی کرسی پر بیٹھے۔ صحیح بخاری و دیگر کتب حدیث میں جو مختلف راویوں سے مروی ہے شفاعت کبرٰی کے بیان میں یوں وارد ہے کہ قیامت کے روز لوگوں پر سختی ہوگی تو آدم (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے کہ وہ شفاعت کریں مگر وہ عذر کریں گے یہاں تک کہ یکے بعد دیگر سب انبیاء اولوالعزم کے پاس آئیں گے۔ ابراہیم، موسیٰ دائود (علیہم السلام) مگر سب ہی تو عذر کریں گے اور کہیں گے کہ محمد ﷺ کے پاس جاؤ جن کے خدا نے اگلے پچھلے سب گناہ معاف کردیے آج بجز ان کے اور کوئی اس لائق نہیں تب وہ میرے پاس آ کر مجھ سے درخواست کریں گے۔ پھر میں خدا تعالیٰ کے پاس جا کر اس کے آگے سجدہ میں گر پڑوں گا اور بہت عرصہ تک سجدہ میں حمدوثناء کرتا رہوں گا۔ حکم ہوگا اے محمد سر اٹھا قل یسمع واشفع تشفع وسل تعطہ کہ کہہ تیرا کہا سنا جائے گا، شفاعت کر کہ تیری شفاعت قبول ہوگی مانگ دیا جائے گا۔ تب میں اس کی ثناء و صفت کر کے شفاعت کروں گا پھر ایک تعداد معین ہوگی کہ وہ جہنم سے میری شفاعت سے نکلیں گے باردگر پھر آ کر اسی طرح سجدہ میں گروں گا پھر اسی طرح حکم ہوگا پھر ایک جماعت کثیر بخشی جائے گی الغرض اسی طرح تین بار کروں گا کہ پھر وہی تو جہنم میں رہ جائیں گے کہ جو مطلق قرآن کے جہنم کے لیے سدا سدی کے لیے مقرر ہوچکے ہیں یعنی کافرو مشرک ؎
نماندبعصیاں کسے درگرو چوداردچنیں سید پیش رو
پہلے فرمایا تھا کہ وہ تم کو مکہ سے نکالنا چاہتے ہیں اس کے بعد فرمایا کہ اقم الصلوٰۃ نماز پڑھا کرو ان جاہلوں کی باتوں کی طرف التفات نہ کرو اللہ آپ کا حامی و ناصر ہے۔ اب پھر اس واقعہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے اس لیے فرماتا ہے یعنی جو اصل کام ہے یعنی نماز و عبادت اس کو بجا لاؤ اس سے غافل نہ رہو دین دنیا میں اس سے سرسبزی اور برتری ہے۔ رہا مکہ سے نکلنا اور قریش کا اس بات کے درپے ہونا یہ تو ایک امر مقدر ہے جس پر قضاء و قدر نے اسلام کی ترقی وابستہ کر رکھی ہے اس کے لیے اے نبی ! یہ دعا کیا کرو۔ وقل رب ادخلنی مدخل صدق واخرجنی مخرخ صدق یعنی تو اے اللہ مجھے مکہ سے سچائی سے نکال کر پھر میرے دل میں حبِّ وطن رہے اور ان مشرکوں کی طرف سے پھر تکالیف برداشت نہ کرنی پڑیں اور نیز سچائی کے ساتھ نکالنے سے یہ بھی مراد ہے کہ خاص تیرے ہی لیے اور تیری ہی راہ میں ہجرت ہو کسی دنیاوی غرض یا کسی جرم پر جلاوطنی نہ ہو اور مدینہ میں مجھے سچائی سے داخل کر اور چونکہ اس دین کا تمام دنیا پر پھیلنا ٹھہر چکا ہے اور پردیس میں قوت ہی نہیں رہتی اور نیز مدینہ کے متصل کسرٰی و قیصر کی حکومتیں اور دیگر قبائل شریر و سرکش بھی ہیں اس لیے یہ بھی دعا کرو واجعلنی من الدنک سلطانا نصیرا کہ مجھے اپنے ہاں کی قوت و شوکت بھی عطا کر۔ چناچہ آنحضرت ﷺ کو مدینہ میں حسب بشارت زبور خدا تعالیٰ نے وہ قوت و شوکت عطا کی کہ جس سے دنیا میں آسمانی سلطنت قائم ہوئی اور کسرٰی و قیصر کو مٹا دیا گیا کوئی شخص خدا کے دین کا مقابل نہ ہوسکا۔ ادخلنی مدخل صدق الخ میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ مجھے دنیا سے سچائی کے ساتھ نکال اور دارالخلد میں سچائی کے ساتھ داخل کر اور یہ بھی کہ خواص بشریہ سے نکال خواص ملکیہ میں داخل کرو غیر ذالک من الاسرار۔
آنحضرت ﷺ کی دعا قبول فرما کر ارشاد کرتا ہے وقل جاء الحق وزھق الباطل ان الباطل کان زھوقا کہ اب تاریکی کفر وبدکاری کا زمانہ گیا اور نوروصداقت کا زمانہ آگیا۔ حق سے مراد اسلام ہے اور باطل سے کفروبت پرستی و دیگر قبائح جو دنیا میں مروج تھے۔ صحیح بخاری و مسلم میں ہے کہ فتح مکہ کے دن جب آنحضرت ﷺ کعبہ میں داخل ہوئے تو کعبہ کے پاس جو تین سو ساٹھ بت رکھے تھے ان میں سے جس کی طرف لکڑی سے یہ آیت پڑھ کر اشارہ کرتے تھے وہ منہ کے بل گر پڑتا تھا فرماتا ہے کہ یہ باطل کا مٹنا اور حق کا آنا قرآن کے سبب سے ہے جس کو ہم نازل کر رہے ہیں ونزل من القرآن الخ کہ جس میں ایمانداروں کے لیے امراض باطنیہ و ظاہریہ سے شفا ہے اور ان کے لیے رحمت ہے اور بےانصافوں کو اس سے اور بھی نقصان ہوتا ہے جوں جوں وہ انکار کرتے ہیں خسارہ بڑھتا جاتا ہے۔
Ayahs 17:83–84ترکیب : ناء بالف بعد الھمزۃ ای بعد عن الطاعۃ وبقرء بھمزۃ بعد الالف دفیہ و جہان احد ہما ھو مقلوب نائے والثانی ھو بمعنی نھض الارحمۃ مفعول لہ والتقدیر حفظناہ علیک للرحمۃ من ربک رحمۃ کی صفت یا حال۔
تفسیر : قرآن سے ان ظالموں کو زیادہ خسارہ ہونے کا یہ سبب نہیں کہ قرآن میں کوئی نقص ہے بلکہ یہ سبب ہے کہ اذا انعمنا علی الانسان الخ انسان کی جبلی عادت ہے کہ جب اس پر انعامِ الٰہی ہوتا ہے، دولت و راحت ملتی ہے تو بجائے شکرگزاری و فرمانبرداری کے اکڑنے لگتا ہے، متکبر ہوجاتا ہے، نبی اور خدا تعالیٰ کی کتاب کو نہیں مانتا اس لیے خسارہ میں پڑتا ہے اور جب مصیبت آتی ہے تو بجائے صبر کے ناامید ہوجاتا ہے مگر خدا تعالیٰ اس پر بھی انتقام لینے میں جلدی نہیں کرتا بلکہ ہر ایک نیک و بد کو خواہ وہ کسی طریق پر کیوں نہ ہو مہلت دیتا ہے اس لیے آنحضرت ﷺ کو حکم دیتا ہے قل کل یعمل الخ کہ کہہ دو ہر ایک ہم میں سے اور تم میں سے اپنے اپنے طریقہ پر عمل کر رہا ہے کئے جائے لیکن ان میں سے دراصل کون نیک ہے اس کو خدا ہی جانتا ہے مرنے کے بعد معلوم ہوجائے گا۔ منجملہ اسباب خسران کے ایک یہ بھی تھا کہ وہ قرآن مجید پر ہمیشہ بیہودہ نکتہ چینیاں کیا کرتے تھے چناچہ ایک بار باہم مشورہ کیا کہ یہود اہل کتاب ہیں ان سے دریافت کر کے کوئی ایسی بات محمد ﷺ سے پوچھنی چاہیے کہ جس کا جواب نہ آسکے اس لیے یہود سے دریافت کیا انہوں نے کہا تین باتیں پوچھو اگر ان میں سے دو کا بھی جواب دے دیا تو جاننا کہ نبی ہے ورنہ نہیں اور یہ تین باتیں بتلائیں۔ اول روح سے سوال کرو، دوم اصحاب کہف کا حال پوچھو، سوم ذی القرنین کا حال پوچھو، وہ کون تھا اور کہاں کہاں گیا اور اس نے کیا کیا ؟ سب سے اول ویسئلونک عن الروح الخ یہ انہوں نے روح سے سوال کیا۔ فرمایا کہ اے نبی ! آپ سے روح سے سوال کرتے ہیں وہ کیا ہے چونکہ یہ بیکار سوال تھا اور نیز حقائقِ اشیاء بالخصوص روح کی حقیقت کا ادراک کرنا ہی ان کے فہم و استعداد سے باہر تھا اس لیے جواب میں فرمایا قل الروح من امرربی کہہ دو روح 1 ؎ ایک امررب ہے اس کے حکم سے بنی ہے، حادث ہے، قدیم ذاتی نہیں نہ خدا ہے نہ اس کا کوئی جز ہے بلکہ مخلوق ہے جس پر اور مخلوق کی طرح خدا کو اختیار وقدرت ہے من امر ربی سے یہ باتیں سمجھی جاتی ہیں اس قدر علم کافی ہے جواب شافی ہوگیا باقی رہا اس کی حقیقت کا ادراک کلی۔ سو روح کا تو کیا اور بھی لاکھوں چیزوں کا انسان کو ادراک کلی نہیں خاک پانی کی بھی حقیقت پوری نہیں بتلا سکتے کیونکہ و ما اوتیتم من العلم الاقلیلا کہ تم کو اے انسان یا اے سوال کرنے والو حقائق الاشیاء سے ادراک کا بہت ہی کم حصہ ملا ہے۔ روح کی حقیقت میں حکماء کا مباحثہ چلا آتا ہے اور ہر ایک قوم نے دورازکار خیالی گھوڑے دوڑائے ہیں اور اب تک بھی کوئی قطعی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ بھلا عرب کے جاہلوں سے بجز اس قدر جواب کے اور کیا کہا جاتا۔ اب اس بات کے ثبوت کے لیے پیغمبر (علیہ السلام) جو کچھ فرماتے ہیں وہ الہام اور وحی کے ذریعے سے ان کی خانہ ساز اس میں کوئی بات بھی نہیں فرمایا جاتا ہے۔ ولئن شئنا الخ کہ اگر ہم چاہتے تو قرآن مجید کو جو سرچشمہ علوم ہے محو کردیتے مگر ہمارا فضل ہے جو ایسا نہیں کیا یعنی یہ ہماری طرف سے ہے جس کے اٹھا لے جانے پر قادر ہیں۔
Ayahs 17:85–871 ؎ روح کو ایک گروہ عقلاء صرف یہی کہتا ہے کہ وہ خون کی لطیف بھاپ ہے جس کے زور سے ذی روح کی کل چل رہی ہے جب وہ نہیں تو سب کام بگڑ جاتا ہے اس ذی روح کے مرنے بعد پھر کچھ بھی باقی نہیں رہتا چناچہ یورپ کے دہری اور مادی لوگ اسی کے قائل ہیں جس لیے وہ کہتے ہیں کہ مرنے کے بعد ان پر نہ کوئی ثواب ہے نہ عذاب ہے کیونکہ وہ باقی تو رہی نہیں گر یہ خیال محض مغالطہ ہے جس کی غلطی کا اب یورپ کے حکماء پر بھی انکشاف ہو چلا ہے کیونکہ ایک جماعت حکماء قائل ہوگئی ہے کہ مرنے کے بعد روح ایک نورانی پیکر میں جو جسم اول سے مناسبت رکھتا ہے قائم رہتی ہے ہم کو پہلی باتیں سب یاد رہتی ہیں وہ رنج راحت بھی پاتی ہیں۔ حکمائِ یونان کا بھی یہی خیال ہے کہ اکثر اہل ادیان بھی اس کے قائل ہیں جزئیات احوال روح میں البتہ بڑا اختلاف ہے۔ ہنود کا ایک گروہ اس کو قدیم ذاتی کہتا ہے اسی طرح اس کے بقاء کی جانب بھی کلام ہے ‘ بعض ابدی ذاتی کہتے ہیں آریہ وغیرہ ‘ بعض زمانہ دراز تک بقا مانتے ہیں ہنود یہ بھی کہتے ہیں کہ ایک بدن کو چھوڑ کر جزاء و سزا بھگتنے کے لیے دوسرے جسم میں آتی ہے اور اس عالم عنصری کے میدان میں ٹھوکریں کھاتی پھرتی ہے۔ ان کے نزدیک گویا یہی عالم قدس ہے اسلام نے قرآن و احادیث میں روح کے متعلق دوسرے عالم میں ثواب و عذاب کی بہت تصریح فرمائی اور اصل حالات سے آگاہ کیا ہے۔