17. Surah Al-Israa

الإسراءThe Night Journey · 111 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 17:13–17

وَ كُلَّ اِنْسَانٍ اَلْزَمْنٰهُ طٰٓئِرَهٗ فِیْ عُنُقِهٖ١ؕ وَ نُخْرِجُ لَهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ كِتٰبًا یَّلْقٰىهُ مَنْشُوْرًا Open ayah 17:13 in the Quran reader

اور ہم نے ہر آدمی کا عمل اس کی گردن میں باندھ دیا ہے۔ اور قیامت کے دن اس کو کتاب بنا کر نکال لیں گے جس کو وہ کھلی ہوئی پائے گا

اِقْرَاْ كِتٰبَكَ١ؕ كَفٰى بِنَفْسِكَ الْیَوْمَ عَلَیْكَ حَسِیْبًاؕ Open ayah 17:14 in the Quran reader

(کہیں گے) اپنی کتاب پڑھ آج اپنا حساب لینے کے لیے تو ہی کافی ہے

مَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا یَهْتَدِیْ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْهَا١ؕ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى١ؕ وَ مَا كُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا Open ayah 17:15 in the Quran reader

جو کچھ ہدایت پر چلتا ہے تو اپنے ہی لیے ہدایت پر چلتا ہے اور جو کوئی بہکا تو اپنی ہی خرابی کے لیے بہکتا ہے اور کسی کا بوجھ کوئی دوسرا نہیں اٹھانے کا اور ہم ایسے نہیں تھے کہ کسی کو بےرسول بھیجے عذاب دینے لگتے

وَ اِذَاۤ اَرَدْنَاۤ اَنْ نُّهْلِكَ قَرْیَةً اَمَرْنَا مُتْرَفِیْهَا فَفَسَقُوْا فِیْهَا فَحَقَّ عَلَیْهَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنٰهَا تَدْمِیْرًا Open ayah 17:16 in the Quran reader

اور ہم جب کسی بستی کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں تو وہاں کے دولت مندوں کو کوئی حکم دیتے ہیں پھر وہ تو وہاں بدکاری کرنے لگتے ہیں تب ان پر حجت تمام ہوجاتی ہے پھر تو ہم اس کو غارت ہی کر ڈالتے ہیں

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْۢ بَعْدِ نُوْحٍ١ؕ وَ كَفٰى بِرَبِّكَ بِذُنُوْبِ عِبَادِهٖ خَبِیْرًۢا بَصِیْرًا Open ayah 17:17 in the Quran reader

اور نوح کے بعد ہم کتنے ایک قرنوں کو ہلاک کرچکے ہیں اور آپ کا رب اپنے بندوں کے گناہوں کی خبرداری اور دیکھنے کو بس ہے۔

ترکیب : یلقاہ جملہ کتابا کی صفت جو حال ہے مفعول محذوف سے وھوضمیر الطائر یا مفعول ہے امرنا جواب ہے اذاکا۔ کم اس جگہ خبر یہ ہے محل نصب میں اھلکنا سے بربک میں ب زائدہ ہے جیسا کہ بنفسک میں اور جس طرح حسیبًا تمیز ہے من نفسک کی اسی طرح خبیرًا بصیرًا تقدیم خبیرًا کی اس کے متعلق کے تقدم سے ہے۔ قال القراء انما یجوزا دخال الباء فی المرفوع اذایذم اویمدح بہ صاحبہ مثل کفاک بہ واکرم بہ رجلا ولایقال قام باخیک و انت ترید قام اخوک۔ تفسیر : ہر شے کی تفصیل کے بعد انسان کی آنے والی حالت کا بیان کرنا اس دعوے کی دلیل بیان کردینا ہے کیونکہ یہ ایک بڑی اہم بات ہے جو کتب سابقہ میں بھی نہ تھی اس لیے فرماتا ہے وکل انسان الزمناہ طائرہ فی عنقہ عرب میں اپنے ہر کام کا نیک و بدانجام طائر یعنی پرندوں کی پرواز سے معلوم کرتے تھے۔ اگر دائیں سے اڑا تو خیر اور بائیں سے اڑا تو شر وغیرہ ذلک۔ پھر جب اس کا استعمال زیادہ ہوا تو ہر خیروشر کو طائر کہنے لگے تسمیۃ الشیء باسم لازمہ اس کی نظیر سورة یٰسٓ میں ہے تطیرنا بکم الی قولہ طائرکم معکم پس آیت کے یہ معنی ہوئے کہ ہر ایک آدمی کا عمل نیک یا بد اس کی گردن میں باندھ دیا ہے جو کچھ یہ کرتا ہے وہ اس کے ساتھ لازم ہو رہا ہے یا جو کچھ نیکی بدی سعادت نحوست اس کی تقدیر میں ہے اس کے لیے لازم ہو رہی ضرور پیش آ کر رہے گی اور پھر قیامت کے دن ونخرج لہ یوم القیمٰۃ کتابًا یلقاہ منشورا یہی نیک و بد عمل جو دنیا میں اس کے گلے کا ہار تھا ایک کتاب بن کر ظاہر ہوگی جو اس کے تمام اعمال نیک وبد کا ایک روزنامچہ ہوگا۔ حکم ہوگا کہ اس کو پڑھ۔ دیکھ تو نے دنیا میں کیا کیا تھا ؟ اس میں ہر ہر بات ہوگی۔ اسی کو قرآن میں اور احادیث میں اکثر بلفظ کتاب ذکر کیا ہے پھر اس کی تفصیل ہے کہ اہل خیر کو یہ کتاب دائیں طرف سے اور بدوں کو بائیں طرف سے ملے گی۔ مگر اس سے مراد دنیا کی طرح کوئی مجلد کتاب شیرازہ بندھی پٹھے لگی ہوئی نہیں بلکہ اس کے اعمال کا صحیح اندازہ جو ہر ایک پر واضح کیا جائے گا اس کے پڑھنے سے یہی مراد ہے پھر جب یہ حالت ہے تو من اھتدیٰ لنفسہ الخ ہر ایک کو ہدایت کی طرف توجہ کرنی چاہیے کیونکہ اس کی برائی بھلائی کا یہی ذمہ دار ہے اور کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا، اپنی کرنی آپ ہی بھرنی اور اسی لیے حجت تمام کرنے کے لیے دنیا میں رسول بھیجے گئے پس کسی کو عذاب نہ ہوگا جب تک کہ رسول کی معرفت اس پر حکم نہ ظاہر کیا جائے۔ وماکنا معذبین الخ احکام شرعی کے لیے تو رسول انسانی ضروری ہیں اور توحید و خدا پرستی کے لیے رسول عقل بھی کافی ہے۔ واذا اردنا سے دنیا میں جو بلائیں رسولوں کے خلاف کرنے سے آئی ہیں ان کا ذکر کرتا ہے کہ جب قضاء و قدر میں کسی قوم یا شہر کے برباد ہونے کے دن 1 ؎ قریب آجاتے ہیں تو پیشتر امرنا مترفیہا وہاں کے سرداروں 2 ؎، دولت مندوں کو رسولوں یا ان کے نائبوں کی معرفت سمجھایا جاتا ہے، الٹی وہ نافرمانی کرتے ہیں تو برباد ہوجاتے ہیں۔ بعضے کہتے ہیں کہ امرنا کے معنی یہ ہیں کہ ازلی نوشتہ کے موافق وہ خدا کی طرف سے برائی پر مامور ہوتے ہیں اس کے بعد فرماتا ہے کہ نوح (علیہ السلام) کے عہد سے لے کر اب تک دیکھو کسی قدر قرون ‘ امم یعنی قومیں ہلاک ہوئی ہیں۔ 1 ؎ ہمارے عہد میں جو اسلامی حکومتیں زائل ہوئیں اور اور جو بری حالت میں ہیں ایسی آیت کے موافق وہاں کے امراء عیاشی ‘ شراب خواری ‘ بےدینی ‘ غفلت میں مبتلا ہوئے اور ہلاک ہوگئے شہر برباد ‘ سلطنت غارت الامان الامان ! 2 ؎ کیونکر عوام انہیں کے تابع ہوتے ہیں اور اکثر یہی زیادہ بدکار اور احمق اور عیاش بھی ہوتے ہیں اسی لیے ان کا سمجھنا مقدم ہوا۔ 12 منہ۔
Ayahs 17:18–22

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهٗ فِیْهَا مَا نَشَآءُ لِمَنْ نُّرِیْدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهٗ جَهَنَّمَ١ۚ یَصْلٰىهَا مَذْمُوْمًا مَّدْحُوْرًا Open ayah 17:18 in the Quran reader

جو کوئی دنیا چاہتا ہے تو ہم اس کو سردست دنیا میں سے بھی جس قدر چاہتے ہیں دے دیتے ہیں پھر تو اس کے لیے ہم نے جہنم تیار کر رکھی ہے جس میں وہ ذلیل و خوار ہو کر گرے گا۔

وَ مَنْ اَرَادَ الْاٰخِرَةَ وَ سَعٰى لَهَا سَعْیَهَا وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓئِكَ كَانَ سَعْیُهُمْ مَّشْكُوْرًا Open ayah 17:19 in the Quran reader

اور جو آخرت چاہتا ہے اور اس کے لیے اس کے موافق کوشش بھی کرتا ہے اور وہ مومن بھی ہے تو انہیں لوگوں کی کوشش مقبول ہوگی۔

كُلًّا نُّمِدُّ هٰۤؤُلَآءِ وَ هٰۤؤُلَآءِ مِنْ عَطَآءِ رَبِّكَ١ؕ وَ مَا كَانَ عَطَآءُ رَبِّكَ مَحْظُوْرًا Open ayah 17:20 in the Quran reader

ہم ہر ایک کو دیے جاتے ہیں ان کو بھی اور ان کو بھی اپنی عنایت سے اور آپ کے رب کی بخشش کسی پر بند نہیں ہے۔

اُنْظُرْ كَیْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ وَ لَلْاٰخِرَةُ اَكْبَرُ دَرَجٰتٍ وَّ اَكْبَرُ تَفْضِیْلًا Open ayah 17:21 in the Quran reader

دیکھو ہم نے ایک کو دوسرے پر کیسی فضیلت دے رکھی ہے اور آخرت کے تو بڑے درجے اور بڑی فضیلت ہے

لَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتَقْعُدَ مَذْمُوْمًا مَّخْذُوْلًا۠ Open ayah 17:22 in the Quran reader

(اے انسان) اللہ کے ساتھ اور کوئی معبود نہ بنانا ورنہ تو پشیمان و خوار ہو کر بیٹھے گا۔

ترکیب : من مبتداء اور یہ شرط ہے اور عجلنا اس کا جواب لمن یرید بدل ہے من سے باعادہ جار یصلہا حال ہے جہنم سے یا ضمیر لہ سے مذمومًا حال ہے فاعل یصلی سے جو ضمیر ہے اور اسی طرح مدحورا ھولاء ہؤلاء بدل ہے کلا سے وحرہ حرہ طردہ من باب خضع، محظورا 3 ؎ ممنوعا یقال حظرہ یحظرہ حظرا منعہ۔ تفسیر : پہلے فرمایا تھا ہم خبیر وبصیر ہیں ہر ایک کی نیت جانتے اور اس کے ظاہر حال کو دیکھتے ہیں اس کے بعد دنیا میں جو کچھ لوگ کر رہے ہیں اور جس جس چیز پر مر رہے ہیں اس کا بیان اور انجام فرماتا ہے تاکہ خبیر وبصیر ہونے کی تصریح ہوجائے۔ دنیا میں دو قسم کے آدمی ہیں ایک وہ کہ جن کا دارآخرت پر یقین نہیں اور جو کچھ ہے بھی تو اس کے نزدیک دنیا ہی مقدم ہے اسی کے حاصل کرنے کو وہ اصلی مقصد جانتا ہے اس 3 ؎ الحضر الحجر ذد ضدالاباحتہ و حظرہ فہومحظور والحظار والحظیرۃ تعمیل للابل من شجر لتقیہا البرد والریح 12 حقانی۔ کے مقابلہ میں اس کو دار آخرت کی ذرا بھی پروا نہیں جیسا کہ فرماتا ہے من کان یرید العاجلۃ یعنی جو عاجلہ دنیا اور اس کے فوائد ہی چاہتا ہے تو ہم بھی اس کو جلد یہیں بدلہ دیتے ہیں عجلنالہ فیہا مگر یہ نہیں کہ جو کچھ وہ چاہتا ہے وہی اس کو مل جاتا ہے بلکہ ما نشاء جس قدر ہم کو دینا منظور ہوتا ہے اور یہ بھی سب کے لیے نہیں بلکہ لمن نرید جس کو ہم چاہتے ہیں ورنہ سینکڑوں نے بےدینی اختیار کی کوئی برا کام دنیا کے حاصل کرنے میں اٹھا نہیں رکھا مگر پھر بھی وہی افلاس ‘ وہی تنگدستی، بےدینوں کے لیے یہ بڑی تہدید ہے مگر اس چند روزہ عیش کے بعد تو ثم جعلنا لہ جہنم یصلاھا مذمومًا مدحورًا وہ جہنم میں جائے گا اور دنیا میں عمر رائیگاں کرنے پر ندامت اٹھائے گا، ذلیل ہوگا۔ دوم وہ کہ جن کو مد نظر دار آخرت ہے و من اراد الاخرۃ مگر اس میں دو شرط ہیں، وسعی لہا سعیہا کہ اس کے موافق کوشش بھی کرے یہ نہیں کہ ارادہ کر کے چپ بیٹھ رہے اور کوشش اسی کے مطابق ہو کیونکہ بہت سے لوگ دار آخرت کی کوشش تو کرتے ہیں لیکن عناصر اور سیاروں اور بزرگوں کی عبادت کو آخرت کا ذریعہ جانتے ہیں اور اسی طرح نکمی ریاضتیں بھی کرتے ہیں کوئی رات دن گنگا میں رہتا ہے، کوئی پہاڑ پر سے گرتا ہے، کوئی حلال چیزیں کھانی چھوڑ کر جسم کو ہلاک کرتا ہے۔ سو یہ کوشش اور یہ رستہ دار آخرت کا نہیں۔ ترسم نرسی بکعبہ اے اعرابی کیں رہ کہ تو میروی بہ ترکستان ست بلکہ پیغمبر (علیہ السلام) کے فرمودہ کے موافق ہونا چاہیے۔ دوم یہ کہ وھو مومن اس کو ایمان بھی ہو۔ اللہ اور اس کے رسول کی دل سے تصدیق ہو کیونکہ یہ اصل اور بنیاد ہے، یہ نہیں تو کچھ بھی نہیں وہ خدا کی جماعت میں داخل نہیں پس اولئک کان سعیہم مشکورا ان کی کوشش کارآمد ہوگی ان کو دار آخرت اور حیات ابدی نصیب ہوگی۔ رہی دنیا سو کلاً نمد ھؤلاء وھولاء من عطاء ربک ہم اپنی عنایت سے ہر ایک فریق کو دنیا میں دیتے ہیں، دین وتقویٰ سے دنیا فوت نہیں ہوتی اور زیادہ دنیا ملنے سے خدا کے ہاں کوئی زیادہ عزت بھی حاصل نہیں ہوتی۔ ؎ چہ دشمن بریں خوان یغماچہ دوست، انظر کیف فضلنا الخ دیکھو دنیا میں ایک کو دوسرے پر کیسی فضیلت دے رکھی ہے، بہت سے احمق و جاہل مالدار اور دانا خوار اور بہت سے کفار محتاج، اہل ایمان اہل ثروت اور کہیں بالعکس باعث فضیلت۔ آخرت کے درجات میں انہیں کی زیادہ رغبت کرنی چاہیے وہیں کی فضیلت فضیلت حقیقی ہے وللاآخرۃ اکبر درجات و اکبر تفضیلا چونکہ دارآخرت کے لیے اصل اصول توحید ہے اس لیے حکم دیتا ہے لاتجعل الخ کہ خدا کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ بنانا ورنہ ذلیل و خوار ہوگا۔
Ayahs 17:23–30

وَ قَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا١ؕ اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَاۤ اَوْ كِلٰهُمَا فَلَا تَقُلْ لَّهُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنْهَرْهُمَا وَ قُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِیْمًا Open ayah 17:23 in the Quran reader

اور آپ کے رب نے قطعی حکم دے دیا ہے کہ اس کے سوا اور کسی کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ سے نیک سلوک کرنا اگر تیرے سامنے ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچیں تو نہ ان کو ہوں کہنا اور نہ ان کو جھڑکنا اور ان سے ادب سے بات کرنا

وَ اخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَ قُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًاؕ Open ayah 17:24 in the Quran reader

اور ان کے آگے مہربانی سے جھکے رہنا اور ان کے لیے دعا کرتے رہنا کہ اے رب ! جس طرح انہوں نے مجھے چھوٹے سے کو پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم کر۔

رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا فِیْ نُفُوْسِكُمْ١ؕ اِنْ تَكُوْنُوْا صٰلِحِیْنَ فَاِنَّهٗ كَانَ لِلْاَوَّابِیْنَ غَفُوْرًا Open ayah 17:25 in the Quran reader

تمہارا رب خوب جانتا ہے جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اگر تم سعادت مند ہو (اس پر بھی کوئی فروگذاشت ہوگئی تو) وہ توبہ کرنے والوں کو بخشنے والا ہے۔

وَ اٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَ الْمِسْكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ وَ لَا تُبَذِّرْ تَبْذِیْرًا Open ayah 17:26 in the Quran reader

اور اہل قرابت اور غریب اور مسافر کا حق ادا کرتے رہنا اور مال کو بیہودہ نہ اڑانا

اِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ كَانُوْۤا اِخْوَانَ الشَّیٰطِیْنِ١ؕ وَ كَانَ الشَّیْطٰنُ لِرَبِّهٖ كَفُوْرًا Open ayah 17:27 in the Quran reader

کیونکہ بیہودہ اڑانے والے شیطانوں کے بھائی ہیں اور شیطان تو اپنے رب کا ناشکرا ہے

وَ اِمَّا تُعْرِضَنَّ عَنْهُمُ ابْتِغَآءَ رَحْمَةٍ مِّنْ رَّبِّكَ تَرْجُوْهَا فَقُلْ لَّهُمْ قَوْلًا مَّیْسُوْرًا Open ayah 17:28 in the Quran reader

اور جو تجھے ان لوگوں سے منہ پھیرنا پڑے اپنے رب کے فضل و کرم کے انتظار میں کہ جس کی تجھے امید ہے تو ان سے نرم بات کہنا

وَ لَا تَجْعَلْ یَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَ لَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا Open ayah 17:29 in the Quran reader

اور نہ تو اپنے ہاتھ کو سکیڑ کر گردن میں باندھ اور نہ اس کو بالکل کھول ہی دے کہ تو پشیمان ہو کر تہی دست ہو کر بیٹھ رہے

اِنَّ رَبَّكَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِعِبَادِهٖ خَبِیْرًۢا بَصِیْرًا۠ Open ayah 17:30 in the Quran reader

(اے رسول ! ) آپ کا رب جس کے لیے چاہتا ہے روزی فراخ کردیتا ہے اور وہی نپی تلی روزی دیتا ہے کیونکہ وہ اپنے بندوں کے حال سے خبردار اور (ان کے حال کو) دیکھ رہا ہے۔

ترکیب : الامخفف ان لایھ تفسیر ہے قضی کی وبالوالدین معطوف ہے الاتعبدوا پر ای قضی بالوالدین تقدیرہ و بان تحسنوا بالوالدین احسانا، امایبلغن اما ان ماتھا ان شرطیہ مازائدہ تاکید کے لیے یبلغن فعل شرط فلا تقل جواب۔ اُف اسم الفعل الذی ھوالتضجرو ھو مبنی علی الکسر لالتفاء الساکنین وتنوینہ فی قرأۃ نافع وحفص للتنکیر و من فتح طلب التخفیف مثل رب و من اتبع و من لم ینوں اراد التعریف۔ جناح الذل بالضم ضد العزو بالکسر ضدالصعوبۃ ھوالانقیاد وجعل للذل جناحاً کمافی قول لبید۔ وغداۃ ریحٍ قد کشفت وقرۃٍ اذا اصبحت بیدالشمال زمامہا للشمال یدوللقرۃ رمام تفسیر : دارِآخرت کی سعی کا مجملاً ذکر ہوا ہے اب یہاں اس کی تفصیل کرتا ہے کہ دارآخرت کا یہ رستہ ہے اور اس کوشش اصلی یہ ہے۔ اول حکم : سب سے اول بات دارآخرت کے لیے یہ ہے کہ منعم کا شکر کرے اور اپنے محسن کے ساتھ ادب اور سلوک سے پیش آئے اور منعم حقیقی اللہ تعالیٰ ہے، اسی نے ہم کو پیدا کیا ہے اسی نے بیشمار نعمتیں عطا کی ہیں اور پھر اس جہان میں بھی اسی سے امید ہے۔ وہ کسی کے احسان اور خدمت کا تو محتاج نہیں اس کی شکرگزاری اور لحاظ اور حق پرورش ہے تو یہی ہے کہ اس کے ساتھ کسی کو خدائی میں شریک نہ کرے خالص عبادت اسی کی کرے سب سے اول حکم یہی دیا وقضٰی ربک الاتعبد والا یاہ اب لطف ِ کلام دیکھو کہ ربک کا لفظ فرمایا حق جتلانے کے لیے اور امر کی جگہ قضٰی تاکید کا کلمہ فرمایا یعنی حکم قطعی دے دیا اور نیز اسی حکم کو اس سے پہلے آیت میں لاتجعل مع اللہ الہًا آخر کے ساتھ بھی ذکر دیا تھا اب یہاں اور بھی تاکید فرما دی۔ دوسرا حکم : خدا تعالیٰ کے بعد دنیا میں اس کے وجود کا سبب مجازی اور منعم اور محسن ماں باپ ہیں جو اس کی بےچینی سے بےتاب ہوجاتے ہیں اور کھانے پینے میں اپنے نفس سے اس کو زیادہ عزیز رکھ کر آپ نہیں کھاتے اس کو کھلاتے ہیں اور اس کے بچپن میں اس کی پرورش میں بلاغرض جان و مال کو صرف کرنا اپنی راحت سمجھتے ہیں اس لیے دوسرا حکم وبالوالدین احسانًا کہ ماں باپ کے ساتھ احسان کیا کرو۔ احسان کا لفظ ایسا وسیع المعنی ہے کہ جس میں سب کچھ آگیا مگر اس کی کسی قدر شرح بھی فرماتا ہے۔ (1) اما یبلغن الخ کہ اگر تیری زندگی میں تیرے ماں باپ بڑھاپے کو پہنچیں تو یہ زمانہ بڑی بےکسی کا ہوتا ہے اور نیز اس کے سب اقتدار اور زور و قوت بھی جاتے رہتے ہیں اور نیز بڑھاپے میں اس سے بچوں کی سی بےمعنی باتیں بھی سرزد ہونے لگتی ہیں پس تجھ کو ان سے ہوں یا اف کہنا نہ چاہیے، نہ جھڑکنا چاہیے۔ فائدہ : دلالۃ النص کے طریق پر اس سے ہر ایک قسم کی ایذا اور تکلیف دینا ماں باپ کو سمجھا گیا وعلیہ الجمہور۔ (2) وقل لہما ان سے نرم اور ادب سے کلام کر۔ (3) واحفض ان کے آگے جھک یعنی ہر قسم کی دل سے فرمانبرداری و تواضع کر۔ (4) وقل رب ان کے لیے دعائے خیر کرو۔ بارہا تجربہ میں آیا ہے کہ جس نے ماں باپ کو ستایا وہ دنیا میں بھی ناشاد و نامراد رہا جو انامرگ مرا ہے اور جس نے عزت و توقیر و احسان کیا ہے اس کو شادوخرم دیکھا گیا۔ فائدہ : ماں باپ کی ان باتوں میں فرمانبرداری نہیں کہ جن سے خدا کی گناہ گاری ہوتی ہے کیونکہ ماں باپ سے اللہ کا حق اور مرتبہ مقدم ہے پھر یہ نہیں کہ تم یہ سب باتیں ظاہر داری کے طور پر کرو بلکہ دل سے اور اخلاص سے کیونکہ ربکم اعلم بمافی نفو سکم الخ تمہارا رب تمہارے دلوں کی باتوں کو خوب جانتا ہے کہ اگر تم نیک بختی اختیار کرو گے اور ایسی حالت میں بشریت سے گر تم سے کچھ خدمت گزاری میں کبھی فروگذاشت ہوجائے گی اور اپنی دلی نیک بختی سے تم اس کی طرف رجوع کرو گے تو وہ رجوع کرنے والوں کے لیے معاف کرنے والا ہے۔ فائدہ : اوّاب بروزن فعال اوب بمعنی رجوع سے مبالغہ کا صیغہ۔ تیسرا حکم : وآت ذا القربی حقہ والمسکین وابن السبیل کہ اور جس قدر قرابت دار ہیں، بھائی، بہن، ماموں، چچا، خالہ، پھوپھی وغیرہ ہ ان کا حق بھی ادا کر، حق ادا کرنا بھی بڑا عام لفظ ہے جس میں ہر ایک قسم کا حق آگیا اگر محتاج ہیں تو ان کی مال سے مدد کر اور نہیں ہیں تو ادب، اخلاص، ہمدردی، صلہ رحمی کر اور انہیں پر منحصر نہ رکھ بلکہ ہر ایک مسکین یعنی محتاج کے ساتھ نیک سلوک کر خواہ قرابت دار ہوں کوئی غیر ہو بلکہ پردیسیوں، مسافروں کا بھی تجھ پر حق ہے ان کے ساتھ بھی نیک سلوک کر ضیافت کر نقد دے اترنے کو آرام سے جگہ دے، نرم کلام کر۔ اس تیسرے حکم میں تین حکم ہیں۔ چوتھا حکم : یہ سب خدمت گزاری مال سے ہوا کرتی ہیں اس لیے مال کی بابت حکم دیتا ہے۔ ولا تبذر الخ کہ ہم نے ایسے کارخیروں میں صرف کرنے کو کہا ہے، اڑا دینے کا حکم نہیں دیا۔ لغویات میں مال برباد نہ کر ‘ بےضرورت مکانات بنانا ‘ اسباب خریدنا ‘ گھوڑے وغیرہ اشیائے بےضرورت مول لینا سب میں تبذیر ہے اسی طرح بیاہ شادی ‘ دعوت، مہمانی کھانے پینے میں بھی اعتدال سے بڑھنا تبذیر ہے اور ناچ رنگ ‘ آتش بازی وغیرہ تو اور بھی ممنوع ہے۔ سائلوں اور حقداروں کے دینے کا حکم دینا تھا اور ایسا بھی ہوتا ہے کہ پاس کچھ نہیں ہوتا وہ طلب کرتے ہیں، سخت سست بھی کہنے لگتے ہیں، اس وقت آدمی کو غصہ آجاتا ہے، برابھلا کہنے لگتا ہے، سو اس سے بھی منع کرتا ہے اور ایسی حالت میں کیا کرنا چاہیے، اس کی تعلیم دیتا ہے۔ و اما تعرضن الخ کہ اگر تیرے پاس کچھ دینے کو نہیں اور تجھ کو خدا سے امید ہے کہ آئے گا ایسی حالت میں ان سے تو جو منہ پھیرے تو ان کو سخت بات نہ کہہ بلکہ نرم بات کہ بھائی اللہ کا فضل ہے برکت ہے یا وہ دے گا تو دوں گا یا اللہ تجھے غنی کرے۔ پانچواں حکم : ولاتجعل یدک الخ میانہ روی کر نہ تو ہاتھ کو سکیڑ کر سمیٹ کر مٹھی بند کر کے گلے میں ہاتھ رکھ لے (یہ کنٹرپنے کے معنی میں محاورہ ہے) اور نہ ہاتھ کو بالکل کھول کہ سب کچھ ایک روز دے کر خود محتاج ہوجائے آپ مانگتا پھرے کیونکہ دنیا میں فقیر بھی خدا نے پیدا کئے ہیں تیرا کام نہیں کہ سب کو غنی کرے، غنی اور فقیر وہی کرتا ہے اور اس کی مصلحت وہی جانتا ہے۔ انہ کان بعبادہ الخ بعض ایسے بھی فقیر ہیں کہ اگر ان کے پاس دولت ہو تو آفت برپا کریں۔
Ayah 17:31

وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَوْلَادَكُمْ خَشْیَةَ اِمْلَاقٍ١ؕ نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَ اِیَّاكُمْ١ؕ اِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْاً كَبِیْرًا Open ayah 17:31 in the Quran reader

اور مفلسی کے ڈر سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرنا اور ہم ان کو بھی روزی دیتے ہیں اور تم کو بھی بیشک ان کا قتل کرنا بڑا گناہ ہے۔

1 ؎ الاملاق الافتقار۔ ترکیب : خشیۃ املاق مفعول لہ۔ املاق فقر۔ الخطاء بکسر الخاء و سکون الطاء والھمز مصدر خطی و جاء بکسر الخاء وفتح الطاء من غیر ھمز ھوالاثم یقال خطی خطاء کا ثم اثما لاتقف الماضی منہ قفا اے متبع و یقرء بضم القاف واسکان الفاء مثل تقم وماضیہ قاف یقوف اذا تبتع کل اولئک مبتدأو اولئک اشارۃ الی السمع و البصر والفوا دوان کان الاشارۃ باولئک فی الاکثرالی من یعقل و لکن قد جاء لمن لایعقل۔ سیئۃ 1 ؎ بضم الھاء والھمزۃ بالاضافۃ ای سییء بعض المذکور المنہی عنہ مکروہ عنداللہ۔ پس سیئہٗ کان کا اسم مکروھًا خبر جملہ خبر کل ذالک نافع ابن کثیر الوعمرو نے سَیِۃٌ پڑھا ہے۔ تفسیر … چھٹا حکم : ولاتقتلو اولادکم اپنی اولاد کو افلاس کے خوف سے قتل نہ کرو۔ عرب میں دستور تھا کہ لڑکیوں کو پیدا ہوتے ہی مار ڈالا کرتے تھے۔ یہ سمجھ کر کہ لڑکیاں کچھ کما نہیں سکتیں، لڑکے کما سکتے ہیں کہ وہ ان کے ساتھ لوٹ مار میں شریک ہوتے تھے اور نیز مفلسی میں اہل کفؤ اس لڑکی سے نکاح نہیں کرتے تھے غیر کفوء میں دی جاتی تھی یہ بڑی عار کی بات تھی۔ اس بد رسم کو کس لطف کے ساتھ منع فرماتا ہے۔ اول تو لفظ اولاد کہہ کر شفقت دلائی۔ دوم نخن نرزقہم الخ کہ تم کیوں رزق کی فکر کرتے ہو، رزق تو ہم دیتے ہیں ان کو بھی اور تم کو بھی۔ سوم ان قتلھم کہ ان کا قتل کرنا بڑا گناہ ہے۔ 1 ؎ وکل ذالک ایٰ الاشیاء الاخیرۃ المنہی عنہا من قولہ تعالیٰ ولاتقف الخ سیئۃ مکروہ عبداللہ قال فی الکشاف السیئۃ فی حکم الاسماء بمنزلۃ الذنب والاثم زال عنہ حکم الصفات۔ فلا اعتبار بتا نیثہ ولافرق بین من قرأ السیئۃ و من قرأ السیتہ الاتری انک تقول الزنا سیئۃ کما تقول السرقہ سیئۃ فلاتفرق بین اسنادھا الی مذکر و مونث انتہٰی۔ 12 منہ
Ayah 17:32

وَ لَا تَقْرَبُوا الزِّنٰۤى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً١ؕ وَ سَآءَ سَبِیْلًا Open ayah 17:32 in the Quran reader

اور زنا کے پاس بھی نہ جاؤ کیونکہ وہ بےحیائی (کا کام) ہے اور بہت ہی برا طریقہ ہے

ساتواں حکم : ولاتقربوا لزنٰی کہ زنا کے پاس بھی نہ جائو، زنا کی قباحت میں سلف سے خلف تک عقلاء کو اتفاق ہے اس میں یہ چند قباحت ہیں۔ (1) انساب کا خلط ملط ہونا یہ نہیں معلوم ہوتا کہ یہ کس کا بیٹا ہے پھر باہمی حصہ ترکہ میں خرابی آتی ہے۔ (2) عورت کو شرعی یا عرفی طور پر اگر ایک شخص خاص سے تعلق نہ ہو جس کو نکاح کہتے ہیں تو اس کے پاس آنے والوں میں باہمی قتال وجدال کی نوبت آئے گی جیسا کہ مشاہدہ میں آتا ہے اور یہ بات تخریب عالم کا باعث ہے۔ (3) عورت سے مقصود صرف شہوت رانی ہی نہیں بلکہ باہم مل کر خانہ داری کے امور میں ایک دوسرے کا معین ہونا ‘ مرد کما کر لائے ‘ عورت دردمندی اور کفایت کے ساتھ اس کو گھر میں اٹھائے۔ دونوں مل کر بچوں کی تعلیم و تربیت میں کوشش کریں اور نیز بیماری اور پیری میں بھی ایک دوسرے کا ساتھ دے ہر ایک کو دوسرے کے ساتھ کمال درجہ کی درمندی ہو اور یہ بات جب تک ممکن نہیں کہ عورت کی نظر ایک ہی شخص پر رہے اوروں سے علاقہ نہ رکھے اور یہ بغیر اس کے کہ زنا کو حرام کیا جائے ممکن نہیں۔ (4) اگر زنا کا دروازہ کھل جائے تو انسان اور بہائم میں کیا فرق رہے، جس عورت کو چاہے رکھے اور نیز باہم الفت و محبت کبھی پیدا نہ ہو۔ ان سب باتوں کے لحاظ سے شرع نے زنا کو حرام کیا اور یہاں تک تاکید کے لفظ استعمال کئے کہ اس کے پاس جانے کی بھی ممانعت کردی یعنی اس کے اسباب 2 ؎ سے بھی روکا اور اس کی ان قباحتوں کی طرف ان الفاظ میں اشارہ فرمایا۔ انہ کان فاحشۃ وساء سبیلا۔ 2 ؎ زنا کے بہت سے اسباب ہیں۔ نامحرم عورتوں سے تخلیہ کرنا، ان سے ہنسی مذاق کرنا ‘ ان سے رسم ملاقات بڑھانا، لگاوٹ کی باتیں کرنا، فحش تصاویر دیکھنا، فساق کے عشق آمیز افسانے سننا، اس قسم کی نظم و نثر کا عادی ہونا ‘ تھیٹروں اور ناجائز مجامع میں جانا ‘ راگ و باجے سننا ‘ ناچ دیکھنا دکھانا وغیرہ۔ 12 منہ
Ayah 17:33

وَ لَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ١ؕ وَ مَنْ قُتِلَ مَظْلُوْمًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِیِّهٖ سُلْطٰنًا فَلَا یُسْرِفْ فِّی الْقَتْلِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ مَنْصُوْرًا Open ayah 17:33 in the Quran reader

اور جس جان کا قتل کرنا اللہ نے حرام کردیا ہے اس کو ناحق قتل نہ کرنا اور جو کوئی ظلم سے مارا جائے تو ہم نے اس کے وارث کو اختیار دے دیا ہے (قصاص و معاف کرنے کا اس کو چاہیے) کہ قصاص لینے میں زیادتی نہ کرے کیونکہ انصاف سے قصاص لینے میں ہی جیت ہے

آٹھواں حکم : ولاتقتلوا النفس التی حرم اللہ الخ کہ جن جانوں کا قتل کرنا شرع نے حرام کیا ہے ان کو ناحق قتل نہ کرو انسان خدا تعالیٰ کا مظہر اور اس کی خدائی کا آئینہ ہے اس کے قتل کا ارادہ کرنا خدائی کا مقابلہ کرنا ہے۔ پس یہ نہایت سنگین جرموں پر قتل کیا جاتا ہے۔ بضرورت اور وہ دو صورتیں ہیں ایک یہ کہ خدائی جرائم کا ارتکاب کرے، مرتد ہوجائے، بغاوت کر کے امن عام میں خلل انداز ہو یا نکاح کرنے کے بعد بھی حرام کاری کرے۔ ان صورتوں میں انسان کی حرمت جاتی رہتی ہے اس کی طرف التی حرم اللہ الخ میں اشارہ کردیا وہ احادیث صحیحہ جن میں مرتد اور باغیوں اور رجم کا ذکر ذکر ہے گویا اسی جملہ کی شرح میں۔ دوسری یہ کہ یہ کسی کو مار ڈالے اس کے بدلے میں اس کو مارا جائے جس کو قصاص کہتے ہیں چونکہ یہ بات قتل عمدہی میں ہے جو عرب میں کثیرالوقوع تھا اس لیے اولاً تو اس کی طرف الابالحق میں اشارہ کیا پھر ومن قتل مظلومًا فقد جعلنا لولیہ سلطانا فلا یسرف فی القتل میں اس کی صراحت کردی کہ جو مظلوم مارے جائیں اس کے وارث کو شرع نے قدرت دی ہے کہ اس قاتل کو مار سکتا ہے یہی قتل بالحق ہے مگر اس میں اسراف نہ ہو اس کے عوض اس کی قوم کے سردار کو نہ مارے نہ اس کو جلا کر یا اور بری طرح سے قتل کرے جو اس کے ورثاء میں اشتعال کا باعث ہو۔ فائدہ۔ شرع میں انسان کا قتل ان چند صورتوں میں جائز ہے۔ (1) یہ کہ مرتد ہو۔ (2) باغی ہو۔ انماجزاء الذین الایہ میں اس حکم کی تصریح ہے۔ (3) یہ کہ نکاح کرنے کے بعد زنا کرے۔ اس کا حکم احادیث مشہورہ سے ثابت ہے۔ (4) کفار و مشرکین کا قتل کرنا نہ مطلقاً بلکہ اس وقت کہ ان سے قاعدہ شرعیہ کے موافق جنگ قائم ہو کما قال قاتلو الذین لایؤمنون باللہ ولابالیوم الآخر وقال اقتلو ھم حیث وجدتموھم۔ (5) قصاص میں آئمۃ مجتہدین نے احادیث و قیاس سے تارک الصلوٰۃ ‘ اغلامی ‘ ساحر چارپائے سے مباشرت کرنے والے کا بھی قتل جائز رکھا۔ توریت میں بھی قتل انسان بہت سی صورتوں میں جائز قرار دیا گیا ہے۔
Ayahs 17:34–36

وَ لَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیْمِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ حَتّٰى یَبْلُغَ اَشُدَّهٗ١۪ وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِ١ۚ اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُوْلًا Open ayah 17:34 in the Quran reader

اور جب تک یتیم اپنی جوانی کو نہ پہنچے اس کے مال کے پاس بھی نہ جانا لیکن اس طریق سے کہ جو بہتر ہو اور عہد کو پورا کیا کرو کس لیے کہ عہد سے پرسش ہوگی

وَ اَوْفُوا الْكَیْلَ اِذَا كِلْتُمْ وَ زِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِیْمِ١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْلًا Open ayah 17:35 in the Quran reader

اور جب ناپ کردینا ہو تو پورا پیمانہ دیا کرو اور تولنے میں برابر کے تول تولو (کیونکہ) یہ عمدہ بات ہے اور (اس کا) انجام بھی اچھا ہے

وَ لَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ اِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ وَ الْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰٓئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُوْلًا Open ayah 17:36 in the Quran reader

اور اس بات کے پیچھے نہ پڑا کرو جس کا تمہیں علم بھی نہ ہو۔ کیونکہ کان اور آنکھ اور دل ہر ایک سے پرسش ہوگی

نواں حکم : مال یتیم سے بچنا ولاتقربوامال الیتیم مگر جائز طریقہ سے لینا درست ہے۔ مزدوری میں، تجارت میں، اجرت نگرانی میں اگر محتاج ہو۔ دسواں حکم : و اوفوا بالعہد ہے عہد جس سے کرو اس پر قائم رہو۔ وہ عہد ہی غلط ہیں جن کو شرع نے معتبر نہیں رکھا یعنی معصیت پر عہد کرنا۔ گیارہواں حکم : و اوفو الکیل کہ ناپ تول کرلیتے دیتے وقت کم زیادہ نہ کرو۔ معاملات میں دغابازی نہ کرو۔ بارہواں حکم : و لا تقف اس کے معنی میں مفسرین کے چند اقوال ہیں۔ (1) اس میں ان باطل خیالات کی پیروی سے ممانعت ہے جو عوام میں غلطی سے مشہور ہوجاتے ہیں۔ (2) محمد بن حنفیہ (رح) سے منقول ہے کہ اس کے معنی جھوٹی گواہی کے ہیں۔
Ayahs 17:37–40

وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا١ۚ اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا Open ayah 17:37 in the Quran reader

اور زمین پر اکڑتا ہوا نہ چلنا کیونکہ نہ تو زمین کو پھاڑ ہی ڈالے گا اور نہ بلندی میں پہاڑوں کو پہنچے گا

كُلُّ ذٰلِكَ كَانَ سَیِّئُهٗ عِنْدَ رَبِّكَ مَكْرُوْهًا Open ayah 17:38 in the Quran reader

ان میں سے ہر ایک بات تیرے رب کے نزدیک ناپسند ہے۔

ذٰلِكَ مِمَّاۤ اَوْحٰۤى اِلَیْكَ رَبُّكَ مِنَ الْحِكْمَةِ١ؕ وَ لَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتُلْقٰى فِیْ جَهَنَّمَ مَلُوْمًا مَّدْحُوْرًا Open ayah 17:39 in the Quran reader

یہ بیان اس حکمت میں کا ہے کہ جس کو آپ کے رب نے آپ کی طرف وحی کیا ہے اور اللہ کے ساتھ اور کسی کو معبود نہ ٹھہرانا ورنہ تو ملزم راندہ درگاہ بنا کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا

اَفَاَصْفٰىكُمْ رَبُّكُمْ بِالْبَنِیْنَ وَ اتَّخَذَ مِنَ الْمَلٰٓئِكَةِ اِنَاثًا١ؕ اِنَّكُمْ لَتَقُوْلُوْنَ قَوْلًا عَظِیْمًا۠ Open ayah 17:40 in the Quran reader

(اے مشرکو ! ) کیا تم کو تمہارے رب نے بیٹوں کے لیے مخصوص کرلیا ہے اور فرشتوں کو بیٹیاں بنا لیا ہے یہ تو تم بہت ہی بڑی بات کہتے ہو۔

تیرہواں حکم : ولاتمش فی الارض مرحًا کہ تکبر نہ کر زمین پر اکڑ کر نہ چل کیونکہ تو عاجز ہے کچھ زمین کو پھاڑ نہ ڈالے گا۔ بلند ہو کر پہاڑوں کے برابر نہ ہو سکے گا۔ ان میں سے ان مکروہ چیزوں کو سیئہ فرماتا ہے اور جو اوامر ہیں ان کی نسبت فرماتا ہے ذلک مما اوحٰی الیک ربک من الحکمۃ یا یہ جملہ سب باتوں کی طرف اشارہ ہے۔ ان احکام میں جو کچھ اسرار رکھے گئے ہیں جن سے انسان کی روح اور اس کے اخلاق کی صفائی اور تدبیر منزل اور انتظام عالم کی خوبی وابستہ ہے اور پھر ان کے بیان اور ترتیب میں جو کچھ لطف رکھا گیا ہے اگر اس پر کوئی مطلع ہوجائے گا تو اس کو حکمت الہٰیہ کے جواہر اور الہام ربانی کے وہ نادر موتی کہے گا جو بنی اسرائیل کے احکام عشرہ سے بدرجہا بہتر ہیں جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو لوحوں پر کندہ کر کے عطا ہوئے تھے۔ ان احکام کی ابتداء بھی توحید سے ہوئی تھی اور اخیر میں بھی اسی بات کی تاکید کے لیے اعادہ فرمایا ولاتجعل مع اللہ الہًا آخر اور اس کے بعد اس بات سے بھی منع کیا جو عرب کے مشرکین کرتے تھے۔ وہ یہ کہ فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں سمجھ کر ان کو کاروبار خدائی میں شریک جانتے تھے۔ اس بات کو کس لطف کے ساتھ رد کرتا ہے۔ افاصفاکم ربکم بالنبین واتخذمن الملائکۃ انثًا کہ کیا تم کو خدا نے بیٹے دیے اور اپنے لیے بیٹیاں پسند کیں بھلا یہ کیسی لغوبات ہے ؟ ان سب باتوں کی طرف اشارہ کر کے فرماتا ہے۔ و لقد صرفنا الخ کہ قرآن میں ہم نے ہر ایک قسم کی بات وعظ و پند احکام دنیا و آخرت بیان کردیے تاکہ وہ سمجھیں اور غور کریں مگر ان ازلی بدبختوں کو تو اس سے اور زیادہ نفرت ہوتی ہے۔ اس کے بعد پھر شرک کا رد اور توحید کا اثبات کرتا ہے اور اس بات کو قرآن میں باربار اس لیے ذکر کیا گیا کہ اس عہد میں شرک و بت پرستی کا دریا موجیں مار رہا تھا پس فرماتا ہے لو کان معہ الھۃ کہ اگر اس کے ساتھ تمہارے قول کے موافق اور بھی خدا ہوتے تو عرش والے تک یعنی مالک اصلی تک لڑنے کے لیے کوئی رستہ نکالتے ‘ مقابلہ کرتے جیسا کہ متعدد بادشاہوں میں ہوتا ہے یا یہ معنی کہ خود ان کو اس تک رسائی کرنے کے لیے حاجت پڑتی پھر وہ تمہیں کیا دیتے لیتے۔ سبحانہ و تعالیٰ الخ میں اپنی پاکی بیان فرماتا ہے اور تسبیح لہ الخ میں ظاہر کرتا ہے کہ آسمان اور زمین اور ان کے اندر کی ہر چیز اس کی تسبیح یعنی پاکی اور کبریائی بیان کرتی ہے، ذی روح تو زبان سے اور جمادات زبان حال سے کہ ان کا وجود اور ان کی ہر حالت اس کی یکتائی پر دلیل ہے مگر تم غور نہیں کرتے ان کی تسبیح نہیں سمجھتے 2 ؎۔ تمہارا یہ جرم اس قابل تھا کہ دنیا میں تمہیں ہلاک کیا جاتا مگر وہ حلیم و غفور ہے۔ صحیح بخاری میں عبداللہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک سفر میں پانی نہ تھا ایک برتن لائے جس میں کسی قدر پانی تھا حضرت ﷺ نے اس میں ہاتھ ڈال دیا تو آپ کی انگلیوں سے پانی نکلتا تھا جیسا کہ چشمہ سے نکلتا ہے کہ تمام لشکر نے وضو کیا اور ہم کھانے کی تسبیح سنا کرتے تھے اور وہ کھایا جاتا تھا۔ جمادات میں بھی خدا تعالیٰ نے ایک طرح کا علم رکھا ہے جس کو وہی جانتا ہے۔ 12 منہ۔ 2 ؎ یعنی ان میں غوروفکر کا مادہ قدرت نے نہیں دیا اس لیے جب اے نبی قرآن پڑھتے ہیں وہ سمجھتے اور غور نہیں کرتے اس حالت کو پردہ ڈالنے سے تعبیر کیا ہے اور اسی کو ان کے دلوں پر حجاب ڈالنے اور کان میں ثقل پیدا کردینے سے۔ 12 منہ۔
Ayahs 17:41–43

وَ لَقَدْ صَرَّفْنَا فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لِیَذَّكَّرُوْا١ؕ وَ مَا یَزِیْدُهُمْ اِلَّا نُفُوْرًا Open ayah 17:41 in the Quran reader

اور ہم نے اس قرآن میں طرح طرح سے بیان کیا تاکہ وہ سمجھیں حالانکہ ان کو تو اس سے نفرت ہی بڑھتی جاتی ہے۔

قُلْ لَّوْ كَانَ مَعَهٗۤ اٰلِهَةٌ كَمَا یَقُوْلُوْنَ اِذًا لَّابْتَغَوْا اِلٰى ذِی الْعَرْشِ سَبِیْلًا Open ayah 17:42 in the Quran reader

(اے نبی ! ) کہہ دو اگر اس کے ساتھ اور بھی معبود ہوتے جیسا کہ وہ کہتے ہیں تب تو انہوں نے عرش کے مالک تک کوئی رستہ نکال لیا ہوتا

سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یَقُوْلُوْنَ عُلُوًّا كَبِیْرًا Open ayah 17:43 in the Quran reader

وہ پاک ہے اور جو کچھ وہ کہتے ہیں اس سے (اس کی ذات) بہت ہی بالاتر ہے

ترکیب : صرفنا اے بیّنا ضروبًا من کل مثل۔ ویمکن ان تکون فی زائدۃ کما فی قولہ تعالیٰ واصلح لی فی ذریتی۔ لو کان شرط اذا لاتبغوا الخ، جواب والمعنی یطلبوا الی من ھو مالک الملک سبیلا بالمفازۃ 1 ؎ کمایفعل الملوک بعضھم مع بعض اوبالتقرب الطاعۃ لہ تعالیٰ لعلھم بقدرتہ تعالیٰ و عجز ھم کقولہ اولئک الذین یدعون یبتغون الیٰ ربھم الوسیلۃ۔ بیضاوی۔ تفسیر : ابن عباس ؓ کہتے ہیں جس کو آنکھ سے نہ دیکھے ‘ کان سے نہ سنے، دل میں یاد نہ رکھے اس کی گواہی نہ دے۔ (3) بعض کہتے ہیں کہ اس میں کسی پر تہمت لگانے کی ممانعت ہے کیونکہ تہمت میں بلاتحقیق باتیں ہوا کرتی ہیں۔ (4) بعض کہتے ہیں اس میں جھوٹ کی ممانعت ہے۔ (5) بعض کہتے ہیں کہ کسی کی غیبت اور طوفانی و شیطانی باتوں سے ممانعت ہے مگر سب معنی صحیح ہیں مآل کار سب کا یہ ہے کہ جو بات اچھی طرح معلوم نہ ہو اس پر کوئی حکم نہ لگائے اس میں سب اقوال آگئے۔ 1 ؎ المفازۃ المطالبۃ وللمانعۃ والمغابۃ۔ 12 منہ
Ayah 17:44

تُسَبِّحُ لَهُ السَّمٰوٰتُ السَّبْعُ وَ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهِنَّ١ؕ وَ اِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِهٖ وَ لٰكِنْ لَّا تَفْقَهُوْنَ تَسْبِیْحَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ حَلِیْمًا غَفُوْرًا Open ayah 17:44 in the Quran reader

ساتوں آسمان اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے سب اسی کی پاکی بیان کر رہے ہیں اور ایسی کوئی بھی چیز نہیں جو اس کی حمد کے ساتھ تسبیح نہ کرتی ہو لیکن تم ان کی تسبیح (ف) کرنے کو نہیں سمجھتے۔ بیشک وہ بڑا تحمل کرنے والا (اور) بڑا ہی بخشنے والا ہے۔

(ف) تسبیح خدا تعالیٰ کا جملہ عیوب اور خصائصِ حدوث و امکان سے پاک اور منزہ ہونا بیان کرنا خواہ زبان سے خواہ دلالۃ حال سے تحمید اس کے کمال اور اوصاف حمیدہ کو بیان کرنا سبحان اللہ بحمدہ کہنا مومن اور ملائکہ تو قال اور حال سے اس کی تسبیح و تقدیس کرتے ہیں کفار اور دیگر اشیاء آسمانوں اور زمین کی علویات و سفلیات ‘ نباتات ‘ جمادات و لالۃِ حال سے تسبیح وتحمید بیان کر رہے ہیں ان کی بناوٹ بآواز بلند کہہ رہی ہے کہ ان کا بنانے والا سب عیبوں سے پاک اور سب خوبیوں سے موصوف ہے مگر اس بات کو وہی سمجھتا ہے جو مخلوق کی آفرنیش اور اس کی تراش اور حالات وجود و بقا میں تامل کرتا ہے اس لیے وہ لوگ جو لذات و شہوات میں غرق ہیں غوروتامل کا دروازہ ان پر بند ہے وہ اس بات کو کیا جانیں۔ 12 منہ
Ayahs 17:45–52

وَ اِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ جَعَلْنَا بَیْنَكَ وَ بَیْنَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ حِجَابًا مَّسْتُوْرًاۙ Open ayah 17:45 in the Quran reader

اور (اے نبی ! ) جب آپ قرآن پڑھتے ہیں تو ہم آپ کے اور ان کے درمیان جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ایک گاڑھا پردہ ڈال دیتے ہیں

وَّ جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ وَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا١ؕ وَ اِذَا ذَكَرْتَ رَبَّكَ فِی الْقُرْاٰنِ وَحْدَهٗ وَلَّوْا عَلٰۤى اَدْبَارِهِمْ نُفُوْرًا Open ayah 17:46 in the Quran reader

اور ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال 2 ؎ دیے ہیں تاکہ قرآن نہ سمجھ سکیں اور ان کے کانوں میں بھی گرانی ڈال دی ہے (تاکہ اس کو نہ سن سکیں) اور جب آپ قرآن میں رب کا تنہا ذکر کرتے ہیں تو وہ پیٹھ پھیر کر نفرت سے بھاگ پڑتے ہیں۔

نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَسْتَمِعُوْنَ بِهٖۤ اِذْ یَسْتَمِعُوْنَ اِلَیْكَ وَ اِذْ هُمْ نَجْوٰۤى اِذْ یَقُوْلُ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا Open ayah 17:47 in the Quran reader

ہم خوب جانتے ہیں جس لیے وہ اس کو سنتے ہیں تاکہ آپ کی طرف کان لگاتے ہیں اور جبکہ وہ سرگوشی کرتے ہیں جبکہ ظالم کہتے ہیں کہ (بس) تم تو ایک جادو کے مارے ہوئے کے پیچھے چلے جا رہے ہو۔

اُنْظُرْ كَیْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَبِیْلًا Open ayah 17:48 in the Quran reader

دیکھو آپ کی کیسی کیسی صفتیں بیان کرتے ہیں سو وہ تو گمراہ ہوگئے پھر وہ رستہ نہیں پاسکتے

وَ قَالُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا وَّ رُفَاتًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ خَلْقًا جَدِیْدًا Open ayah 17:49 in the Quran reader

اور وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ کیا جب ہم مر کر ہڈیوں اور چوراہو جائیں گے تو کیا ہم نئے سرے سے زندہ ہو کر اٹھائے جائیں گے

قُلْ كُوْنُوْا حِجَارَةً اَوْ حَدِیْدًاۙ Open ayah 17:50 in the Quran reader

(سو اے نبی ! ان سے) کہہ دو خواہ تم پتھر ہوجاؤ یا لوہا

اَوْ خَلْقًا مِّمَّا یَكْبُرُ فِیْ صُدُوْرِكُمْ١ۚ فَسَیَقُوْلُوْنَ مَنْ یُّعِیْدُنَا١ؕ قُلِ الَّذِیْ فَطَرَكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ١ۚ فَسَیُنْغِضُوْنَ اِلَیْكَ رُءُوْسَهُمْ وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هُوَ١ؕ قُلْ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ قَرِیْبًا Open ayah 17:51 in the Quran reader

یا اور کوئی شے جو تمہارے دلوں میں پڑی ہو (تب بھی زندہ کئے جاؤ گے) اس پر وہ کہیں گے کہ ہم کو کون دوبارہ جلائے (اٹھائے) گا کہہ دو وہی جس نے تم کو اول بار پیدا کیا ہے پھر تو آپ کے آگے سر ہلا ہلا کر یہ کہیں کہ وہ کب ہوگا۔ کہہ دو شاید وہ وقت بھی بہت ہی قریب آگیا ہو

یَوْمَ یَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِیْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَ تَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا۠ Open ayah 17:52 in the Quran reader

جس روز کہ وہ تمہیں بلائے گا تو تم (خوف کے مارے) اس کی حمد کرتے ہوئے چلے آؤ گے اور گمان کرو گے کہ بہت ہی کم ٹھہرے تھے۔

ترکیب : مستورا و ساترا۔ بما یستمعون بہ ای بسببہ من الھزاء اذ ھم بدل من اذ قبلہ یوم یدعوکم ظرف لیکون بحمدہ فی موضع الحال۔ تفسیر : آسمانوں اور زمین کی چیزوں کی تسبیح تو تم اے مشرکین سمجھتے ہی نہ تھے۔ تمہاری سمجھ میں تو قرآن مجید بھی نہیں آتا جو خاص تمہاری زبان فصیح میں نازل ہوا ہے۔ واذاقرأت الخ اور یہ نہ سمجھنا قرآن کا اس لیے ہے کہ جب تم اے نبی ! قرآن پڑھتے ہو تو ان کی ازلی گمراہی کے پردے بیچ میں حائل ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے مضامین میں غوروتامل نہیں کرسکتے اور جو کوئی ان کو دوسرا سمجھائے تو سنتے بھی نہیں۔ اور ان کے حواس باطنیہ کے ماؤف ہونے پر یہ دلیل ہے کہ جب قرآن میں توحید کا ذکر اور شرک کی برائی سنتے ہیں تو بدک کر بھاگ جاتے ہیں۔ یہ مکہ کے مشرکوں کا حال بیان ہو رہا ہے۔ اور یہ سچ ہے کہ جب انسان پر گمراہی اور بدبختی سوار ہوتی ہے تو نہ اس کا دل و دماغ درست رہتا ہے نہ عقل کتنا ہی سمجھاؤ نہیں سمجھتا اور اسی کو پردے اور حجاب سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اول تو مکہ کے مشرک حضرت ﷺ سے قرآن سنتے ہی نہ تھے اور جو کبھی مجلس میں ٹھہر گئے تو اس غرض سے کچھ اس میں سے یاد کریں تاکہ پھر اس پر تمسخر اور ہنسی کریں اور پھر آپس میں دس دس پانچ پانچ جمع ہو کر سرگوشیاں کرتے اور یہ کہتے تھے کہ یہ لوگ جو اس نبی کے تابع ہو رہے ہیں احمق ہیں۔ یہ تو خود جادو کا مارا ہوا ہے کسی نے اس پر سحر کردیا ہے اس لیے ایسی ایسی نئی نئی باتیں کرتا ہے، دیوانہ ہوگیا ہے۔ نحن اعلم سے لے کر رجلا مسحورا تک میں یہی ذکر ہے۔ اس پر خدا تعالیٰ آنحضرت ﷺ کو تسلی دیتا ہے کہ دیکھو یہ بدنصیب تم پر کیا بےاصل عیب لگاتے ہیں اور کوئی بات تو عیب کی ملتی نہیں انظر الخ وقالوا سے ان کی دوسری بات اور بیان فرماتا ہے کہ جس پر وہ بدکتے تھے وہ یہ کہ جب حضرت ﷺ فرماتے تھے کہ مر کر پھر قیامت میں زندہ ہوں گے تو وہ کہتے کہ جب ہم مٹی میں مل جائیں گے ہڈیوں کا چورا ہوجائیں گے تو پھر کیونکر زندہ ہوسکتے ہیں۔ اس کے جواب میں فرماتا ہے کہ تمہارے نزدیک جو چیز قابل حیات نہیں لوہا یا پتھر یا کوئی اور چیز اگر تم وہ بھی ہوجاؤ جس نے تم کو اول بار پیدا کیا وہ دوبارہ پھر پیدا کرنے پر قادر ہے پھر جب وہ قیامت میں بارگاہ عدالت میں طلب کرے گا تو تم زندہ ہو کر اس کے خوف کے مارے تسبیح و تہلیل کرتے ہوئے، جرم کا انکار و بت پرستی سے برأت ثابت کرتے ہوئے فوراً حاضر ہوجاؤ گے اور یہ سمجھو گے کہ دنیا میں یا مرنے کے بعد حشر تک قبروں میں بہت کم ٹھہرے تھے وہ عرصہ دراز اس عدالت آسمانی کے خوف سے بہت ہی کم معلوم ہوگا اور یہ انسان کی جبلی بات ہے کہ مصیبت کے وقت راحت کا زمانہ دراز بہت ہی کم معلوم ہوا کرتا ہے اس میں اشارہ ہے کہ جس دنیاوی سامان و عیش پر آج فدا ہو اس کی یہ حقیقت ہے۔