12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 12:76–104

فَبَدَاَ بِاَوْعِیَتِهِمْ قَبْلَ وِعَآءِ اَخِیْهِ ثُمَّ اسْتَخْرَجَهَا مِنْ وِّعَآءِ اَخِیْهِ١ؕ كَذٰلِكَ كِدْنَا لِیُوْسُفَ١ؕ مَا كَانَ لِیَاْخُذَ اَخَاهُ فِیْ دِیْنِ الْمَلِكِ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١ؕ نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَآءُ١ؕ وَ فَوْقَ كُلِّ ذِیْ عِلْمٍ عَلِیْمٌ Open ayah 12:76 in the Quran reader

پس اس کے بھائی کے اسباب سے پہلے ان کے اسباب دیکھنے شروع کئے پھر اس کے بھائی کے اسباب میں سے اس کو نکالا ہم نے یوسف کو ایسی تدبیر بتائی تھی (ورنہ) بادشاہ مصر کے قانون سے تو وہ اپنے بھائی کو ہرگز نہ لے سکتا تھا مگر یہ کہ اللہ چاہے 2 ؎ ہم جس کو چاہتے ہیں بلند مرتبہ کرتے ہیں اور ہر ایک دانا سے بڑھ کر دوسرا دانا ہے۔

قَالُوْۤا اِنْ یَّسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ اَخٌ لَّهٗ مِنْ قَبْلُ١ۚ فَاَسَرَّهَا یُوْسُفُ فِیْ نَفْسِهٖ وَ لَمْ یُبْدِهَا لَهُمْ١ۚ قَالَ اَنْتُمْ شَرٌّ مَّكَانًا١ۚ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا تَصِفُوْنَ Open ayah 12:77 in the Quran reader

وہ بولے اگر اس نے چوری کی تو اس کا بھائی بھی پہلے چوری کرچکا ہے پس یوسف نے اس بات کو دل میں مخفی رکھا اور ان سے ظاہر نہ کرکے کہا تم بڑے خانہ خراب ہو۔ اور اللہ خوب جانتا ہے جو تم کہہ رہے ہو۔

قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الْعَزِیْزُ اِنَّ لَهٗۤ اَبًا شَیْخًا كَبِیْرًا فَخُذْ اَحَدَنَا مَكَانَهٗ١ۚ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:78 in the Quran reader

بولے اے عزیز ! اس کا باپ بہت بوڑھا ہے پس آپ اس کی جگہ ہم میں سے ایک کو رکھ لیں البتہ آپ کو ہم نیک دیکھتے ہیں۔

قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ اَنْ نَّاْخُذَ اِلَّا مَنْ وَّجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهٗۤ١ۙ اِنَّاۤ اِذًا لَّظٰلِمُوْنَ۠ Open ayah 12:79 in the Quran reader

اس نے کہا اللہ کی پناہ کہ ہم بجز اس کے کہ جس کے پاس ہم نے اپنا اسباب پایا کسی اور کو پکڑیں ‘ جب تو ہم بڑے ظالم ہیں۔

فَلَمَّا اسْتَیْئَسُوْا مِنْهُ خَلَصُوْا نَجِیًّا١ؕ قَالَ كَبِیْرُهُمْ اَلَمْ تَعْلَمُوْۤا اَنَّ اَبَاكُمْ قَدْ اَخَذَ عَلَیْكُمْ مَّوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ وَ مِنْ قَبْلُ مَا فَرَّطْتُّمْ فِیْ یُوْسُفَ١ۚ فَلَنْ اَبْرَحَ الْاَرْضَ حَتّٰى یَاْذَنَ لِیْۤ اَبِیْۤ اَوْ یَحْكُمَ اللّٰهُ لِیْ١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ Open ayah 12:80 in the Quran reader

پھر جی کہ اس سے ناامید ہوگئے تو اس سے الگ ہو کر خفیہ مشورہ کرنے لگے۔ ان میں سے سب سے بڑے نے کہا کیا تمہیں معلوم نہیں کہ تمہارے باپ نے تم سے اللہ کی قسم لے لی ہے اور پہلے بھی تم نے یوسف کے امر میں کچھ کمی نہیں کی ہے۔ سو میں تو یہاں سے ٹلنے کا نہیں جب تک کہ میرا باپ مجھے اجازت نہ دے گا یا اللہ میرے لیے کوئی حکم نہ دے اور وہ بہتر حکم دینے والا ہے۔

اِرْجِعُوْۤا اِلٰۤى اَبِیْكُمْ فَقُوْلُوْا یٰۤاَبَانَاۤ اِنَّ ابْنَكَ سَرَقَ١ۚ وَ مَا شَهِدْنَاۤ اِلَّا بِمَا عَلِمْنَا وَ مَا كُنَّا لِلْغَیْبِ حٰفِظِیْنَ Open ayah 12:81 in the Quran reader

تم اپنے باپ کے پاس جاکر کہو کہ اے باپ آپ کے بیٹے نے چوری کرلی اور ہم نے تو وہی کہا جو ہمیں معلوم تھا اور ہم کو غیب کی خبر نہ تھی (کہ وہ چوری کرے گا)

وَ سْئَلِ الْقَرْیَةَ الَّتِیْ كُنَّا فِیْهَا وَ الْعِیْرَ الَّتِیْۤ اَقْبَلْنَا فِیْهَا١ؕ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 12:82 in the Quran reader

اور آپ اس گائوں سے بھی پوچھ لیجیے کہ جہاں ہم تھے اور اس قافلہ کو بھی کہ جس میں ہم واپس آئے ہیں اور ہم بیشک سچیّ ہیں۔

قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًا١ؕ فَصَبْرٌ جَمِیْلٌ١ؕ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّاْتِیَنِیْ بِهِمْ جَمِیْعًا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 12:83 in the Quran reader

کہا (نہیں) بلکہ تم نے دل سے ایک بات گھڑلی ہے۔ سو صبر ہی بہتر ہے۔ اللہ سے امید ہے کہ وہ ان سب کو میرے پاس لادے کیونکہ وہ جاننے والا ‘ حکمت والا ہے۔

وَ تَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰۤاَسَفٰى عَلٰى یُوْسُفَ وَ ابْیَضَّتْ عَیْنٰهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِیْمٌ Open ayah 12:84 in the Quran reader

اور اس نے ان سے منہ پھیرلیا اور کہنے لگا ہائے یوسف ! اور غم سے اس کی آنکھیں سفید ہوگئیں۔ پس وہ سخت غمگین ہوگیا۔

قَالُوْا تَاللّٰهِ تَفْتَؤُا تَذْكُرُ یُوْسُفَ حَتّٰى تَكُوْنَ حَرَضًا اَوْ تَكُوْنَ مِنَ الْهٰلِكِیْنَ Open ayah 12:85 in the Quran reader

بیٹوں نے کہا خدا کی قسم ! تم تو سدا یوسف کو یاد کرتے رہو گے یہاں تک کہ نکمے ہوجاؤ یا ہلاک ہوجاؤ گے۔

قَالَ اِنَّمَاۤ اَشْكُوْا بَثِّیْ وَ حُزْنِیْۤ اِلَى اللّٰهِ وَ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:86 in the Quran reader

وہ کہنے لگے میں تو اپنی پریشانی اور غم کا گلہ اللہ ہی سے کرتا ہوں اور خدا کی طرف سے میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔

یٰبَنِیَّ اذْهَبُوْا فَتَحَسَّسُوْا مِنْ یُّوْسُفَ وَ اَخِیْهِ وَ لَا تَایْئَسُوْا مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یَایْئَسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 12:87 in the Quran reader

(کہا) اے بیٹو ! جاؤ یوسف اور اس کے بھائی کو تلاش کرو اور اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہوجاؤ کیونکہ اللہ کی رحمت سے ناامید بجز کافر قوموں کے اور کوئی نہیں ہوتا۔

فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلَیْهِ قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الْعَزِیْزُ مَسَّنَا وَ اَهْلَنَا الضُّرُّ وَ جِئْنَا بِبِضَاعَةٍ مُّزْجٰىةٍ فَاَوْفِ لَنَا الْكَیْلَ وَ تَصَدَّقْ عَلَیْنَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَجْزِی الْمُتَصَدِّقِیْنَ Open ayah 12:88 in the Quran reader

پھر جبکہ یوسف کے بھائی اس کے پاس آئے تو کہنے لگے اے عزیز ! ہم پر اور ہمارے گھر پر سختی آپڑی اور ہم کھوٹے دام لے کر آئے ہیں سو ہم کو پورا پیمانہ بھر دیجیے اور ہم پر خیرات کیجیے کیونکہ اللہ خیرات دینے والوں کو بدلہ دیا کرتا ہے۔

قَالَ هَلْ عَلِمْتُمْ مَّا فَعَلْتُمْ بِیُوْسُفَ وَ اَخِیْهِ اِذْ اَنْتُمْ جٰهِلُوْنَ Open ayah 12:89 in the Quran reader

یوسف نے کہا تم نے یوسف اور اس کے بھائی سے کیا کیا تھا معلوم بھی ہے جواب انجان ہورہے ہو۔

قَالُوْۤا ءَاِنَّكَ لَاَنْتَ یُوْسُفُ١ؕ قَالَ اَنَا یُوْسُفُ وَ هٰذَاۤ اَخِیْ١٘ قَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَیْنَا١ؕ اِنَّهٗ مَنْ یَّتَّقِ وَ یَصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:90 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ کیا تو ہی یوسف ہے۔ کہا میں ہی یوسف ہوں۔ اور یہ میرا بھائی ہے اللہ نے ہم پر بڑا کرم کیا البتہ جو ڈرتا ہے اور صبر کیا کرتا ہے تو اللہ بھی نیکوں کا بدلہ ضائع نہیں کرتا۔

قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ اٰثَرَكَ اللّٰهُ عَلَیْنَا وَ اِنْ كُنَّا لَخٰطِئِیْنَ Open ayah 12:91 in the Quran reader

وہ کہنے لگے بخدا بیشک اللہ نے تم کو ہم پر بزرگی دی اور مقرر ہم ہی خطا وار تھے۔

قَالَ لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَ١ؕ یَغْفِرُ اللّٰهُ لَكُمْ١٘ وَ هُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ Open ayah 12:92 in the Quran reader

یوسف نے کہا آج کے دن تم پر کوئی الزام نہیں اللہ تم کو معاف کرے اور وہ سب سے زیادہ رحیم ہے۔

اِذْهَبُوْا بِقَمِیْصِیْ هٰذَا فَاَلْقُوْهُ عَلٰى وَجْهِ اَبِیْ یَاْتِ بَصِیْرًا١ۚ وَ اْتُوْنِیْ بِاَهْلِكُمْ اَجْمَعِیْنَ۠ Open ayah 12:93 in the Quran reader

جاؤ میرا یہ کرتا میرے باپ کے منہ پر ڈال دو کہ وہ بینا ہوجائے اور میرے پاس اپنے سب کنبے کو لے آئو۔

وَ لَمَّا فَصَلَتِ الْعِیْرُ قَالَ اَبُوْهُمْ اِنِّیْ لَاَجِدُ رِیْحَ یُوْسُفَ لَوْ لَاۤ اَنْ تُفَنِّدُوْنِ Open ayah 12:94 in the Quran reader

اور جبکہ قافلہ رو انہ ہوا تو ان کے باپ نے کہا البتہ مجھ کو یوسف کی بو آرہی ہے۔ اگر مجھے دیوانہ نہ بنائو۔

قَالُوْا تَاللّٰهِ اِنَّكَ لَفِیْ ضَلٰلِكَ الْقَدِیْمِ Open ayah 12:95 in the Quran reader

انہوں نے کہا اللہ کی قسم ! تم اپنی کسی پرانی دھن میں مبتلا ہو۔

فَلَمَّاۤ اَنْ جَآءَ الْبَشِیْرُ اَلْقٰىهُ عَلٰى وَجْهِهٖ فَارْتَدَّ بَصِیْرًا١ۚ قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ١ۙۚ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:96 in the Quran reader

پھر جبکہ اس کے پاس خوشخبری دینے والے نے آکر قمیص اس کے منہ پر ڈال دی تو بینا ہوگیا۔ کہنے لگا کہ کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں اللہ کی طرف سے وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔

قَالُوْا یٰۤاَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَاۤ اِنَّا كُنَّا خٰطِئِیْنَ Open ayah 12:97 in the Quran reader

عرض کرنے لگے اے باپ ! ہمارے گناہ معاف کرا دیجیے بیشک ہم ہی خطا وار تھے۔

قَالَ سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 12:98 in the Quran reader

کہا عنقریب اپنے رب سے تمہارے لیے معافی مانگوں گا۔ البتہ وہ غفور رحیم ہے۔

فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰى یُوْسُفَ اٰوٰۤى اِلَیْهِ اَبَوَیْهِ وَ قَالَ ادْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِیْنَؕ Open ayah 12:99 in the Quran reader

پھر جبکہ وہ یوسف کے پاس آئے تو اس نے اپنے ماں باپ کو اپنے پاس جگہ دی اور کہا مصر میں داخل ہوجاؤ اللہ نے چاہا تو امن سے رہو گے۔

وَ رَفَعَ اَبَوَیْهِ عَلَى الْعَرْشِ وَ خَرُّوْا لَهٗ سُجَّدًا١ۚ وَ قَالَ یٰۤاَبَتِ هٰذَا تَاْوِیْلُ رُءْیَایَ مِنْ قَبْلُ١٘ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّیْ حَقًّا١ؕ وَ قَدْ اَحْسَنَ بِیْۤ اِذْ اَخْرَجَنِیْ مِنَ السِّجْنِ وَ جَآءَ بِكُمْ مِّنَ الْبَدْوِ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ نَّزَغَ الشَّیْطٰنُ بَیْنِیْ وَ بَیْنَ اِخْوَتِیْ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَطِیْفٌ لِّمَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 12:100 in the Quran reader

اور اس نے اپنے ماں باپ کو تخت پر اونچا بٹھایا اور سب اس کے آگے سجدے میں گر پڑے اور یوسف نے کہا اے ابا جان ! یہ ہے میرے پہلے خواب کی تعبیر اور میرے رب نے اسے سچا کردکھایا اور اس نے مجھ پر بڑی عنایت کی جبکہ مجھ کو قید سے نکالا اور تم کو باہر سے لے آیا (اور مجھ سے ملایا) بعد اس کے کہ شیطان نے مجھ میں اور میرے بھائیوں میں رنجش پیدا کردی تھی۔ بیشک میرا رب جس کے لیے چاہتا ہے بڑی مہربانی فرماتا ہے کام بنا دیتا ہے کیونکہ بہتر جاننے والا حکیم ہے۔

رَبِّ قَدْ اٰتَیْتَنِیْ مِنَ الْمُلْكِ وَ عَلَّمْتَنِیْ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ١ۚ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١۫ اَنْتَ وَلِیّٖ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ تَوَفَّنِیْ مُسْلِمًا وَّ اَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَ Open ayah 12:101 in the Quran reader

یوسف نے دعا کی اے رب ! تو نے مجھ کو حکومت میں بھی ایک حصہ عطا فرمایا اور خواب کی تعبیر دینے کا علم بھی سیکھایا۔ (اے) آسمانوں اور زمین کے بنانے والے تو ہی دنیا اور آخرت میں میرا کار ساز ہے۔ مجھے فرمانبرداری کی حالت میں موت دے اور نیکوں میں ملا دے۔

ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهِ اِلَیْكَ١ۚ وَ مَا كُنْتَ لَدَیْهِمْ اِذْ اَجْمَعُوْۤا اَمْرَهُمْ وَ هُمْ یَمْكُرُوْنَ Open ayah 12:102 in the Quran reader

یہ غیب کی خبریں ہیں جو (اے نبی ! ) آپ کی طرف ہم وحی کرتے اور آپ تو وہاں موجود نہ تھے جبکہ (یوسف کے بھائیوں نے) اپنا ارادہ مصم کرلیا تھا (کہ ان کو کنویں میں ڈال دو ) اور وہ تدبیریں کررہے تھے

وَ مَاۤ اَكْثَرُ النَّاسِ وَ لَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 12:103 in the Quran reader

ہر چند آپ کتنا ہی چاہیں (لیکن) اکثر لوگ ایمان لانے کے نہیں

وَ مَا تَسْئَلُهُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 12:104 in the Quran reader

اور آپ اس پر ان سے کچھ مزدوری بھی تو نہیں مانگتے۔ یہ تو صرف تمام عالم کے لیے نصیحت ہے

2 ؎ تو اور کوئی سامان بنیامین کے روکنے کا کردیتا 12 منہ
Ayahs 12:105–110

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ اٰیَةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ یَمُرُّوْنَ عَلَیْهَا وَ هُمْ عَنْهَا مُعْرِضُوْنَ Open ayah 12:105 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین میں بہت سی ایسی نشانیاں ہیں جن کو 1 ؎ وہ مشاہدہ کرکے منہ پھیر لیتے ہیں (جن پر منہ موڑ کر چلتے ہیں)

وَ مَا یُؤْمِنُ اَكْثَرُهُمْ بِاللّٰهِ اِلَّا وَ هُمْ مُّشْرِكُوْنَ Open ayah 12:106 in the Quran reader

اور ان میں سے اکثر ایسے بھی ہیں کہ جو اللہ کو مانتے ہیں اور شرک بھی کرتے جاتے ہیں

اَفَاَمِنُوْۤا اَنْ تَاْتِیَهُمْ غَاشِیَةٌ مِّنْ عَذَابِ اللّٰهِ اَوْ تَاْتِیَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 12:107 in the Quran reader

کیا وہ اس سے نڈر ہوگئے کہ ان پر عذاب الٰہی آکر چھا جائے یا یکایک ان پر قیامت آجاوے اور ان کو خبر بھی نہ ہو۔

قُلْ هٰذِهٖ سَبِیْلِیْۤ اَدْعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ١ؔ۫ عَلٰى بَصِیْرَةٍ اَنَا وَ مَنِ اتَّبَعَنِیْ١ؕ وَ سُبْحٰنَ اللّٰهِ وَ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 12:108 in the Quran reader

کہہ دو میرا اور میرے پیرو وں کا بصیرت کے ساتھ راستہ ہے میں لوگوں کو اللہ کی طرف بلا رہا ہوں اور اللہ ان کے شرک ٹھہرانے سے پاک ہے اور میں تو شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ اِلَیْهِمْ مِّنْ اَهْلِ الْقُرٰى١ؕ اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ وَ لَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ اتَّقَوْا١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 12:109 in the Quran reader

اور (اے نبی ! ) آپ سے پہلے بھی تو ہم نے بستیوں کے رہنے والے آدمی ہی بھیجے تھے جن کی طرف ہم وحی کیا کرتے تھے۔ پھر وہ زمین پر پھر کر کیوں نہیں دیکھتے کہ ان سے پہلوں کا کیا انجام ہوا اور وہ آخرت تو ان لوگوں کے لیے بہتر ہے جو پرہیز گاری کرتے رہے پھر تم کیوں نہیں سمجھتے۔

حَتّٰۤى اِذَا اسْتَیْئَسَ الرُّسُلُ وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوْا جَآءَهُمْ نَصْرُنَا فَنُجِّیَ مَنْ نَّشَآءُ١ؕ وَ لَا یُرَدُّ بَاْسُنَا عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 12:110 in the Quran reader

(منکروں کو ہم نے) یہاں تک ڈھیل دی تھی کہ رسول بھی ناامید ہوچکے تھے اور خیال کرنے لگے تھے کہ ان سے غلط وعدے کئے گئے (تب) فوراً ان پر ہماری مدد پہنچی پھر جس کو ہم نے چاہا بچا لیا اور ہمارے عذاب کو نافرمان قوم سے کوئی بھی دفع نہیں کرسکتا

1 ؎ یمرون علیہا کا لفظی ان پر سے گزرنا ہے مگر مراد مشاہدہ کرنا ہے یعنی ہمارے آسمان اور زمین میں بیشمار نشان قدرت ہیں جن کو دیکھ کر ایمان نہیں لاتے بلکہ منہ پھیر لیتے ہیں اور توجہ نہیں کرتے 12 منہ
Ayah 12:111

لَقَدْ كَانَ فِیْ قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لِّاُولِی الْاَلْبَابِ١ؕ مَا كَانَ حَدِیْثًا یُّفْتَرٰى وَ لٰكِنْ تَصْدِیْقَ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ تَفْصِیْلَ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 12:111 in the Quran reader

البتہ ان لوگوں کے حالات میں بڑی عبرت ہے (قرآن) سمجھنے والوں کے لیے کوئی بنائی ہوئی بات تو ہے نہیں بلکہ وہ اپنے سے پہلی چیزوں 2 ؎ کی تصدیق اور ہر چیز کی تفصیل اور ہدایت اور رحمت ہے ایمان دارو وں کے لیے۔

2 ؎ یعنی اگلی کتابوں کی جو آسمانی ہیں اصول دین اور دیگر امور میں ان کی تصدیق کرتا ہے 12 منہ