12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 12:36–44

وَ دَخَلَ مَعَهُ السِّجْنَ فَتَیٰنِ١ؕ قَالَ اَحَدُهُمَاۤ اِنِّیْۤ اَرٰىنِیْۤ اَعْصِرُ خَمْرًا١ۚ وَ قَالَ الْاٰخَرُ اِنِّیْۤ اَرٰىنِیْۤ اَحْمِلُ فَوْقَ رَاْسِیْ خُبْزًا تَاْكُلُ الطَّیْرُ مِنْهُ١ؕ نَبِّئْنَا بِتَاْوِیْلِهٖ١ۚ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:36 in the Quran reader

اور اتفاقاً اس کے ساتھ قید خانہ میں دو جوان اور بھی داخل ہوئے ان میں سے ایک نے کہا کہ میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ انگور کا شیرہ نچوڑ رہا ہوں اور دوسرے نے کہا میں دیکھتا ہوں کہ اپنے سر پر روٹی رکھی ہوئے ہوں جس میں سے پرندے کھا رہے ہیں ہم کو اس کی تعبیر بتلاؤ کیونکہ ہم تجھے نیک 3 ؎ سمجھتے ہیں۔

قَالَ لَا یَاْتِیْكُمَا طَعَامٌ تُرْزَقٰنِهٖۤ اِلَّا نَبَّاْتُكُمَا بِتَاْوِیْلِهٖ قَبْلَ اَنْ یَّاْتِیَكُمَا١ؕ ذٰلِكُمَا مِمَّا عَلَّمَنِیْ رَبِّیْ١ؕ اِنِّیْ تَرَكْتُ مِلَّةَ قَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 12:37 in the Quran reader

یوسف نے کہا جو کھانا تمہیں دیا جاتا ہے وہ ابھی آنے نہ پائے گا کہ اس کے آنے سے آگے میں تمہیں تعبیر دے دوں گا تعبیر دینا بھی منجملہ ان چیزوں کے ہے جو میرے رب نے مجھے سکھائی ہیں کیونکہ میں نے اس قوم کا مذہب ترک کردیا جو اللہ پر ایمان نہیں رکھتے اور وہ آخرت کے بھی منکر ہیں

وَ اتَّبَعْتُ مِلَّةَ اٰبَآءِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ١ؕ مَا كَانَ لَنَاۤ اَنْ نُّشْرِكَ بِاللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ ذٰلِكَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ عَلَیْنَا وَ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 12:38 in the Quran reader

اور میں اپنے باپ دادا ابراہیم واسحٰق ویعقوب کے مذہب کا تابع ہوگیا ہمیں جائز نہیں کہ اللہ کے ساتھ کسی کو بھی شریک کریں اللہ کے فضل سے ہے اور جو ہم پر اور لوگوں پر بھی ہے لیکن اکثر آدمی شکر نہیں کرتے

یٰصَاحِبَیِ السِّجْنِ ءَاَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَیْرٌ اَمِ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُؕ Open ayah 12:39 in the Quran reader

اے قید یو ! کیا چند متفرق معبود بہترین یا اکیلا اللہ جو زبردست ہے۔

مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلَّاۤ اَسْمَآءً سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ١ؕ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ١ؕ اَمَرَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ١ؕ ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:40 in the Quran reader

تم اس کے سوا کچھ نہیں پاؤ گے چند ناموں کو جو تم نے اور تمہارے بڑوں نے مقرر کرلیے ہیں جن پر خدا نے کوئی بھی سند نازل نہیں کی ہے حکومت بجز خدا کے کسی کی نہیں جس نے حکم کردیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی بھی عبادت نہ کر وہی سیدھا دین ہے لیکن اکثر انسان جانتے نہیں

یٰصَاحِبَیِ السِّجْنِ اَمَّاۤ اَحَدُكُمَا فَیَسْقِیْ رَبَّهٗ خَمْرًا١ۚ وَ اَمَّا الْاٰخَرُ فَیُصْلَبُ فَتَاْكُلُ الطَّیْرُ مِنْ رَّاْسِهٖ١ؕ قُضِیَ الْاَمْرُ الَّذِیْ فِیْهِ تَسْتَفْتِیٰنِؕ Open ayah 12:41 in the Quran reader

(اس نصیحت کے بعد کہا) اے قیدیو تم میں سے ایک تو اپنے آقا کو (بدستور) شراب پلائے گا اور لیکن دوسرا سو وہ سولی پر لٹکایا جائے گا پھر پرندے اس کے سر کو نوچیں گے جس بات کو پوچھتے ہو وہ تو فیصل ہوچکی۔

وَ قَالَ لِلَّذِیْ ظَنَّ اَنَّهٗ نَاجٍ مِّنْهُمَا اذْكُرْنِیْ عِنْدَ رَبِّكَ١٘ فَاَنْسٰىهُ الشَّیْطٰنُ ذِكْرَ رَبِّهٖ فَلَبِثَ فِی السِّجْنِ بِضْعَ سِنِیْنَؕ۠ Open ayah 12:42 in the Quran reader

اور ان دونوں میں سے جس کو یوسف نے بچنے والا سمجھا تھا اس نے یہ کہہ دیا کہ تو اپنے آقا سے میرا بھی ذکر کردینا پھر اس کو اپنے آقا کے پاس ذکر کرنے سے شیطان نے غافل کردیا تب چند برس یوسف قید خانہ میں بند رہے

وَ قَالَ الْمَلِكُ اِنِّیْۤ اَرٰى سَبْعَ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَّ سَبْعَ سُنْۢبُلٰتٍ خُضْرٍ وَّ اُخَرَ یٰبِسٰتٍ١ؕ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَاُ اَفْتُوْنِیْ فِیْ رُءْیَایَ اِنْ كُنْتُمْ لِلرُّءْیَا تَعْبُرُوْنَ Open ayah 12:43 in the Quran reader

اور بادشاہ نے کہا میں نے دیکھا (خواب میں) کہ سات موٹی گائے ہیں جن کو سات دبلی گائے کھارہی ہیں اور سات سبز خوشہ ہیں اور سات خشک اے درباریو میرے خواب کی تعبیر دو ۔ اگر تمہیں خواب کی تعبیر دینی آتی ہے

قَالُوْۤا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍ١ۚ وَ مَا نَحْنُ بِتَاْوِیْلِ الْاَحْلَامِ بِعٰلِمِیْنَ Open ayah 12:44 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ ایک پریشان خواب ہے اور پریشان خوابوں کی تعبیر ہمیں نہیں آتی

3 ؎ اصلی خواب میں جس کو رویا صادقہ کہتے ہیں انسان کی روح کو عالم غیب کی چیزیں جو ہنوز عالم ظہور میں نہیں آئیں دکھائی دے جاتی ہیں لیکن قوت متوہمہ ان معانی مجردہ کو ان کے مناسب اشکال میں ڈھال کر دکھاتی ہے پھر اس کے حل کا نام تعبیر ہے۔ یہ کام اسی سے عمدہ بن سکتا ہے جس کو عالم قدس سے مناسبت ہوتی ہے اور اس مناسبت کے آثار چہرے پر بھی نمودار ہوتے ہیں۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے نورانی چہرے سے انہوں نے سمجھ لیا کہ یہ بھی انہیں مقدس لوگوں میں سے ہے اس لئے ان سے تعبیر پوچھی 12 منہ
Ayahs 12:45–47

وَ قَالَ الَّذِیْ نَجَا مِنْهُمَا وَ ادَّكَرَ بَعْدَ اُمَّةٍ اَنَا اُنَبِّئُكُمْ بِتَاْوِیْلِهٖ فَاَرْسِلُوْنِ Open ayah 12:45 in the Quran reader

اور وہ شخص کہ جو ان دونوں میں سے بچ گیا تھا اور جس کو عرصہ کے بعد یاد 1 ؎ آیا کہنے لگا اس کی تعبیر میں تمہیں بتاتا ہوں تم مجھ کو (قید خانہ تک) جانے دو

یُوْسُفُ اَیُّهَا الصِّدِّیْقُ اَفْتِنَا فِیْ سَبْعِ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَّ سَبْعِ سُنْۢبُلٰتٍ خُضْرٍ وَّ اُخَرَ یٰبِسٰتٍ١ۙ لَّعَلِّیْۤ اَرْجِعُ اِلَى النَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:46 in the Quran reader

وہاں جا کر یوسف سے کہا اے سچے یوسف اس کی تعبیر بتا کہ سات موٹی گایوں کو سات دبلی گائے کھارہی ہیں اور سات ہری بالیں ہیں اور سات خشک تاکہ میں لوگوں کے پاس لوٹ کر جائوں کہ انہیں معلوم ہو

قَالَ تَزْرَعُوْنَ سَبْعَ سِنِیْنَ دَاَبًا١ۚ فَمَا حَصَدْتُّمْ فَذَرُوْهُ فِیْ سُنْۢبُلِهٖۤ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّا تَاْكُلُوْنَ Open ayah 12:47 in the Quran reader

یوسف نے کہا کہ تم سات برس تک لگا تار کھیتی کرو گے پھر جو فصل کاٹو تو اس کو اس کے خوشوں میں لگا رہنے دو تاکہ وہ خراب نہ ہو مگر تھوڑا سا اور جس کو کھائو

1 ؎ حضرت یوسف کا تعبیر دینا عرصہ کے بعد یاد آیا تب اس نے دربار سے عرض کیا کہ مجھے اجازت دو کہ میں قید خانہ میں جا کر ایک قیدی سے تعبیر لوں 12 منہ
Ayahs 12:48–50

ثُمَّ یَاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ سَبْعٌ شِدَادٌ یَّاْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّا تُحْصِنُوْنَ Open ayah 12:48 in the Quran reader

پھر اس کے بعد سات برس سخت آئے گے کہ جو ذخیرہ ان کے لیے جمع کر رکھا تھا اس کو کھا جاویں گے مگر قدرے قلیل کہ جو احتیاط 2 ؎ سے رکھا ہوگا۔

ثُمَّ یَاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَامٌ فِیْهِ یُغَاثُ النَّاسُ وَ فِیْهِ یَعْصِرُوْنَ۠ Open ayah 12:49 in the Quran reader

پھر اس کے بعد ایک ایسا سال آوے گا کہ جس میں لوگوں کے لیے بارش ہوئی اور اس میں انگور کا شیرہ نچوڑیں گے

وَ قَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِیْ بِهٖ١ۚ فَلَمَّا جَآءَهُ الرَّسُوْلُ قَالَ ارْجِعْ اِلٰى رَبِّكَ فَسْئَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ الّٰتِیْ قَطَّعْنَ اَیْدِیَهُنَّ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ بِكَیْدِهِنَّ عَلِیْمٌ Open ayah 12:50 in the Quran reader

اور تعبیر سننے کے بعد بادشاہ نے کہا اس کو (یوسف کو) میرے پاس لے آؤ پھر جب یوسف کے پاس ایلچی پہنچا تو کہا اپنے آقا کے پاس جا کر پوچھ کہ ان عورتوں کا کیا حال ہے کہ جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے البتہ میرا رب ان کے مکر سے خوب واقف ہے

2 ؎ یعنی وہ جو تخم ریزی کیلئے رکھ چھوڑو گے یا جو بڑی احتیاط سے جمع رکھا جاتا ہے۔ 12 منہ 2 ؎ حساب کتاب سے بھی واقف ہوں یا یہ کہ حفاظت کے طریقے خوب جانتا ہوں۔ 12 منہ
Ayahs 12:51–54

قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ اِذْ رَاوَدْتُّنَّ یُوْسُفَ عَنْ نَّفْسِهٖ١ؕ قُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا عَلِمْنَا عَلَیْهِ مِنْ سُوْٓءٍ١ؕ قَالَتِ امْرَاَتُ الْعَزِیْزِ الْئٰنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ١٘ اَنَا رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ وَ اِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 12:51 in the Quran reader

بادشاہ نے پوچھا اس وقت تمہارا کیا حال تھا (یعنی) اصل کیا بات تھی جبکہ یوسف 1 ؎ کو پھسلایا تھا انہوں نے جواب دیا کہ حاشا اللہ ہم کو اس میں کوئی برائی معلوم نہیں ہوئی عزیز کی بیوی نے کہا اب تو سچی بات ظاہر ہی ہوگئی بات یہ تھی کہ میں نے ہی اس کو پھسلانا چاہا تھا اور وہ سچا ہے۔

ذٰلِكَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآئِنِیْنَ Open ayah 12:52 in the Quran reader

یوسف ( علیہ السلام) نے کہا یہ اس لیے تاکہ معلوم ہوجاوے کہ میں نے عزیز کی غائبانہ خیانت نہیں کی تھی اور کہا اللہ دغابازوں کے فریب کو سر سبز نہیں کیا کرتا

وَ مَاۤ اُبَرِّئُ نَفْسِیْ١ۚ اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَةٌۢ بِالسُّوْٓءِ اِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّیْ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 12:53 in the Quran reader

اور میں کچھ اپنی نفس کی پاکی بھی بیان کرتا نہیں کیونکہ نفس تو برائیاں کھاتا ہی رہتا ہے ہاں مگر جس پر میرا رب ہی مہربانی کرے کیونکہ میرا رب غفور رحیم

وَ قَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِیْ بِهٖۤ اَسْتَخْلِصْهُ لِنَفْسِیْ١ۚ فَلَمَّا كَلَّمَهٗ قَالَ اِنَّكَ الْیَوْمَ لَدَیْنَا مَكِیْنٌ اَمِیْنٌ Open ayah 12:54 in the Quran reader

اور بادشاہ (فرعون) نے کہا اس کو یوسف کو میرے پاس لے آؤ تاکہ اس کو خاص اپنے پاس رکھوں گا پھر جبکہ اس سے باتچیت کی اور قابلیت معلوم ہوئی تو حکم دیا کہ تو آج سے ہمارا منفرد اعتبار دار مصاحب ہے

1 ؎ عورتوں کو بلا کر اصل مقدمہ کی تحقیق کرنی شروع کی۔ عورتوں نے یوسف کی پاکدامنی کی شہادت دی۔ 12 منہ
Ayahs 12:55–58

قَالَ اجْعَلْنِیْ عَلٰى خَزَآئِنِ الْاَرْضِ١ۚ اِنِّیْ حَفِیْظٌ عَلِیْمٌ Open ayah 12:55 in the Quran reader

یوسف نے کہا کہ مجھ کو زمین کے خزانوں پر مقرر کردیجئے کیونکہ میں خوب حفاظت کرنیوالا خبردار 2 ؎ بھی ہوں

وَ كَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِ١ۚ یَتَبَوَّاُ مِنْهَا حَیْثُ یَشَآءُ١ؕ نُصِیْبُ بِرَحْمَتِنَا مَنْ نَّشَآءُ وَ لَا نُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:56 in the Quran reader

اور ہم نے اسی طرح سے یوسف کو زور آور کیا کہ جہاں چاہے وہاں رہے ہم اپنی رحمت جس کو چاہتے ہیں پہنچاتے ہیں اور نیکوں کا بدلہ ضائع نہیں کیا کرتے

وَ لَاَجْرُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ۠ Open ayah 12:57 in the Quran reader

اور جو ایمان لائے اور پرہیز گاری کرتے رہے ان کے لیے آخرت کا اجر اس سے بھی بہتر ہے۔

وَ جَآءَ اِخْوَةُ یُوْسُفَ فَدَخَلُوْا عَلَیْهِ فَعَرَفَهُمْ وَ هُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ Open ayah 12:58 in the Quran reader

اور (جبکہ کنعان میں بھی قحط پڑا تو) یوسف کے بھائی (مصر میں) اس کے پاس گئے سو اس نے تو ان کو پہچان لیا اور وہ اس کو نہ پہچانتے تھے

2 ؎ حساب کتاب سے بھی واقف ہوں یا یہ کہ حفاظت کے طریقے خوب جانتا ہوں۔ 12 منہ
Ayahs 12:59–62

وَ لَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ قَالَ ائْتُوْنِیْ بِاَخٍ لَّكُمْ مِّنْ اَبِیْكُمْ١ۚ اَلَا تَرَوْنَ اَنِّیْۤ اُوْفِی الْكَیْلَ وَ اَنَا خَیْرُ الْمُنْزِلِیْنَ Open ayah 12:59 in the Quran reader

اور جب ان کا سامان تیار کردیا تو کہا تم اپنے سوتیلے 1 ؎ بھائی کو بھی میرے پاس لے کر آئو ‘ پیمانہ بھر کردیتا ہوں اور بڑا مہمان نواز ہوں۔

فَاِنْ لَّمْ تَاْتُوْنِیْ بِهٖ فَلَا كَیْلَ لَكُمْ عِنْدِیْ وَ لَا تَقْرَبُوْنِ Open ayah 12:60 in the Quran reader

پھر اگر تم اس کو میرے پاس نہ لاؤ گے تو نہ تمہیں میرے ہاں سے پیمانہ ملے گا اور نہ تم میرے پاس آنا۔

قَالُوْا سَنُرَاوِدُ عَنْهُ اَبَاهُ وَ اِنَّا لَفٰعِلُوْنَ Open ayah 12:61 in the Quran reader

وہ بولے ہم اس کے باپ سے اس کے لیے ڈھب لگاتے ہیں اور ہم یہ کر کے ہی رہیں گے

وَ قَالَ لِفِتْیٰنِهِ اجْعَلُوْا بِضَاعَتَهُمْ فِیْ رِحَالِهِمْ لَعَلَّهُمْ یَعْرِفُوْنَهَاۤ اِذَا انْقَلَبُوْۤا اِلٰۤى اَهْلِهِمْ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 12:62 in the Quran reader

اور یوسف نے اپنے ملازموں سے کہہ دیا کہ ان کی جمع پونچی ان کے اسباب میں رکھ دو تاکہ وہ اپنے گھر جا کر اس کو دریافت کرلیں ‘ شاید کہ وہ پھر بھی آئیں۔

1 ؎ سوتیلے بھائی بنیامین جو یوسف (علیہ السلام) کے حقیقی بھائی تھے 12 منہ
Ayahs 12:63–66

فَلَمَّا رَجَعُوْۤا اِلٰۤى اَبِیْهِمْ قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مُنِعَ مِنَّا الْكَیْلُ فَاَرْسِلْ مَعَنَاۤ اَخَانَا نَكْتَلْ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ Open ayah 12:63 in the Quran reader

پھر جبکہ وہ اپنے باپ کے پاس (کنعان میں) پہنچے تو کہنے لگے کہ ابا جان ہمارا پیمانہ 2 ؎ بند ہوگیا سو آپ ہمارے ساتھ ہمارے بھائی کو بھیج دیجئے کہ ہم پیمانہ لائیں اور ہم اس کے نگہبان بھی ہیں۔

قَالَ هَلْ اٰمَنُكُمْ عَلَیْهِ اِلَّا كَمَاۤ اَمِنْتُكُمْ عَلٰۤى اَخِیْهِ مِنْ قَبْلُ١ؕ فَاللّٰهُ خَیْرٌ حٰفِظًا١۪ وَّ هُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ Open ayah 12:64 in the Quran reader

اس نے کہا (خوب) میں تمہارا اس پر ویسا ہی اعتبار کروں جیسا کہ اس سے پہلے اس کے بھائی پر کرچکا ہوں ‘ اللہ ہی خوب حفاظت کرنے والا ہے اور وہ سب سے زیادہ مہربان ہے

وَ لَمَّا فَتَحُوْا مَتَاعَهُمْ وَجَدُوْا بِضَاعَتَهُمْ رُدَّتْ اِلَیْهِمْ١ؕ قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مَا نَبْغِیْ١ؕ هٰذِهٖ بِضَاعَتُنَا رُدَّتْ اِلَیْنَا١ۚ وَ نَمِیْرُ اَهْلَنَا وَ نَحْفَظُ اَخَانَا وَ نَزْدَادُ كَیْلَ بَعِیْرٍ١ؕ ذٰلِكَ كَیْلٌ یَّسِیْرٌ Open ayah 12:65 in the Quran reader

اور پھر جب انہوں نے اپنا اسباب کھولا تو اپنی جمع پونجی اس میں واپس دھری ہوئی پائی تو کہنے لگے کہ ابا جان ہم کو کچھ نہیں چاہیے لو ہمارا روپیہ بھی ہمیں واپس دیا گیا اور ہم اپنے کنبہ کو پالیں گے (مصر سے غلہ لاکر) اور اپنے بھائی کی حفاظت رکھیں گے اور ایک اونٹ کا بوجھ اور زیادہ لیں گے یہ تو تھوڑا ہی سا پیمانہ تھا۔

قَالَ لَنْ اُرْسِلَهٗ مَعَكُمْ حَتّٰى تُؤْتُوْنِ مَوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ لَتَاْتُنَّنِیْ بِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ یُّحَاطَ بِكُمْ١ۚ فَلَمَّاۤ اٰتَوْهُ مَوْثِقَهُمْ قَالَ اللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوْلُ وَكِیْلٌ Open ayah 12:66 in the Quran reader

اس نے کہا میں اس کو تمہارے ساتھ ہرگز نہ بھیجوں گا جب تک کہ تم مجھے اللہ کا عہد نہ دو گے کہ ضرور ہم اس کو تمہارے ہی پاس لے آویں گے مگر یہ کہ تم کو گھیر لیا جائے۔ پھر جب انہوں نے اس کو قول وقرار دیا تو اس نے کہا ہماری باتوں کا اللہ شاہد ہے

2 ؎ یعنی غلہ جو پیمانہ سے دیا جاتا ہے ہندوستان میں غلہ تل کردیا جاتا ہے۔ ان ملکوں میں پیمانہ ہے۔ 12 منہ
Ayahs 12:67–75

وَ قَالَ یٰبَنِیَّ لَا تَدْخُلُوْا مِنْۢ بَابٍ وَّاحِدٍ وَّ ادْخُلُوْا مِنْ اَبْوَابٍ مُّتَفَرِّقَةٍ١ؕ وَ مَاۤ اُغْنِیْ عَنْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ١ؕ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ١ۚ وَ عَلَیْهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ Open ayah 12:67 in the Quran reader

اور اس نے (چلتے وقت) کہا بیٹو ! (مصر میں) ایک دروازہ سے داخل نہ ہونا بلکہ الگ الگ 1 ؎ دروازوں سے داخل ہونا اور میں تم سے اللہ کی کوئی بات (بلا) دفع نہیں کرسکتا حکم تو اللہ ہی کا چلتا ہے۔ اسی پر میرا بھروسہ ہے اور اسی پر ہر ایک بھروسہ کرنے والے کو بھروسہ کرنا چاہیے

وَ لَمَّا دَخَلُوْا مِنْ حَیْثُ اَمَرَهُمْ اَبُوْهُمْ١ؕ مَا كَانَ یُغْنِیْ عَنْهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ اِلَّا حَاجَةً فِیْ نَفْسِ یَعْقُوْبَ قَضٰىهَا١ؕ وَ اِنَّهٗ لَذُوْ عِلْمٍ لِّمَا عَلَّمْنٰهُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 12:68 in the Quran reader

اور جبکہ وہ (مصر میں) اسی طرح داخل ہوئے کہ جس طرح ان کے باپ نے حکم کیا تھا تو خدا کے مقابلہ میں یہ ان کے لیے کچھ بھی کام نہ آیا۔ وہ صرف یعقوب کے دل کا ایک ارمان تھا کہ جس کو اس نے پورا کیا اور وہ تو ہمارے سکھلانے سے علم والا تھا لیکن اکثر آدمی جانتے نہیں

وَ لَمَّا دَخَلُوْا عَلٰى یُوْسُفَ اٰوٰۤى اِلَیْهِ اَخَاهُ قَالَ اِنِّیْۤ اَنَا اَخُوْكَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 12:69 in the Quran reader

اور جبکہ وہ یوسف کے پاس گئے تو اس نے اپنے بھائی کو اپنے پاس جگہ دے کر کہا کہ میں تیرا بھائی ہوں پس جو کچھ یہ کرتے رہے اس پر غم نہ کر۔

فَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ جَعَلَ السِّقَایَةَ فِیْ رَحْلِ اَخِیْهِ ثُمَّ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌ اَیَّتُهَا الْعِیْرُ اِنَّكُمْ لَسٰرِقُوْنَ Open ayah 12:70 in the Quran reader

پھر جبکہ یوسف نے ان کا سامان تیار کردیا تو اپنے بھائی کے اسباب میں کٹورا رکھ دیا۔ پھر ایک پکارنے والے نے پکار کر کہا کہ اوقافلہ والو ! تم مقرر چور ہو

قَالُوْا وَ اَقْبَلُوْا عَلَیْهِمْ مَّا ذَا تَفْقِدُوْنَ Open ayah 12:71 in the Quran reader

وہ ان کی طرف پھر کر پوچھنے لگے کہ کیا گم ہوگیا ؟

قَالُوْا نَفْقِدُ صُوَاعَ الْمَلِكِ وَ لِمَنْ جَآءَ بِهٖ حِمْلُ بَعِیْرٍ وَّ اَنَا بِهٖ زَعِیْمٌ Open ayah 12:72 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ ہم کو بادشاہ کا کٹورا نہیں ملتا اور جو اس کو لادے گا ایک اونٹ بھر کر غلہ پائے گا اور میں اس کا ضامن ہوں۔

قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ عَلِمْتُمْ مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِی الْاَرْضِ وَ مَا كُنَّا سٰرِقِیْنَ Open ayah 12:73 in the Quran reader

(یوسف کے بھائیوں نے کہا) بخدا تم جان چکے ہو کہ ہم ملک میں فساد کرنے نہیں آئے ہیں۔ اور نہ ہم کبھی کے چور ہیں۔

قَالُوْا فَمَا جَزَآؤُهٗۤ اِنْ كُنْتُمْ كٰذِبِیْنَ Open ayah 12:74 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ پھر بھلا اگر تم جھوٹے نکلو تو چور کی کیا سزا ؟

قَالُوْا جَزَآؤُهٗ مَنْ وُّجِدَ فِیْ رَحْلِهٖ فَهُوَ جَزَآؤُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 12:75 in the Quran reader

وہ بولے جس کی خورجی میں سے وہ نکل آئے تو اس کی سزا یہی ہے کہ وہی اس کے بدلہ میں لیا جائے ‘ ہم بےانصافوں کو یوں سزا دیا کرتے ہیں۔

1 ؎ نظرِ بد کے لحاظ سے بھی ایک دروازہ سے داخل ہونے کو منع کیا کیونکہ سب خوبصورت تھے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ سب کے سب کے مل کر جانے میں خواہ مخواہ ایک چرچا ہوگا اور جو کچھ یوسف (علیہ السلام) ان سے سلوک کریں گے اس میں غمازوں کو موقع ملے گا کیونکہ مصری لوگ پردیسیوں سے گونہ نفرت رکھتے اور ان کا سلطنت سے مستفید ہونا پسند نہیں کرتے تھے۔ 12 منہ