10. Surah Yunus

يونسJonas · 109 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 10:78–89

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِتَلْفِتَنَا عَمَّا وَجَدْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا وَ تَكُوْنَ لَكُمَا الْكِبْرِیَآءُ فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا نَحْنُ لَكُمَا بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:78 in the Quran reader

وہ کہنے لگے کہ کیا تو اس لئے ہمارے پاس آیا ہے کہ جس طریقہ پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے اس کو ہم سے برگشتہ کر دے اور ملک میں تمہیں دونوں 1 ؎ کی سرداری ہوجاوے اور ہم تو تم پر ایمان لانے والے ہیں نہیں

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ ائْتُوْنِیْ بِكُلِّ سٰحِرٍ عَلِیْمٍ Open ayah 10:79 in the Quran reader

اور فرعون نے کہا کہ میرے پاس ہر ایک دانا جادوگر کو لائو۔

فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰۤى اَلْقُوْا مَاۤ اَنْتُمْ مُّلْقُوْنَ Open ayah 10:80 in the Quran reader

پھر جب اس کے پاس جادوگر آئے تو ان سے موسیٰ نے کہا ڈالو کیا ڈالتے ہو۔

فَلَمَّاۤ اَلْقَوْا قَالَ مُوْسٰى مَا جِئْتُمْ بِهِ١ۙ السِّحْرُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَیُبْطِلُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 10:81 in the Quran reader

پھر جب انہوں نے ڈالا تو موسیٰ نے کہا یہ جو کچھ تم لائے ہو جادو ہے اللہ ضرور اس کو ابھی بگاڑے دیتا ہے کیونکہ اللہ مفسدوں کے کام راست نہیں لاتا۔

وَ یُحِقُّ اللّٰهُ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُوْنَ۠ Open ayah 10:82 in the Quran reader

اور اللہ اپنے حکم سے حق کو حق ہی کرکے رہے گا۔ مجرم پڑے برا ماناکریں

فَمَاۤ اٰمَنَ لِمُوْسٰۤى اِلَّا ذُرِّیَّةٌ مِّنْ قَوْمِهٖ عَلٰى خَوْفٍ مِّنْ فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهِمْ اَنْ یَّفْتِنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ فِرْعَوْنَ لَعَالٍ فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ اِنَّهٗ لَمِنَ الْمُسْرِفِیْنَ Open ayah 10:83 in the Quran reader

پھر موسیٰ پر کوئی بھی ایمان نہ لایا مگر اس کی قوم کے کچھ لوگ (چونکہ) فرعون اور اس کے سرداروں سے ڈرتے تھے کہ ان کو تکلیف نہ دیں اور بیشک فرعون تو زمین پر بڑا سرکش اور حد سے گذرا ہوا تھا

وَ قَالَ مُوْسٰى یٰقَوْمِ اِنْ كُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللّٰهِ فَعَلَیْهِ تَوَكَّلُوْۤا اِنْ كُنْتُمْ مُّسْلِمِیْنَ Open ayah 10:84 in the Quran reader

اور موسیٰ نے کہا ٗ اے قوم اگر تم اللہ پر ایمان لائے ہو تو اسی پر بھروسہ بھی رکھو۔ اگر تم حکم بردار ہو۔

فَقَالُوْا عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْنَا١ۚ رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 10:85 in the Quran reader

تب انہوں نے کہا ہم نے بھروسہ اللہ ہی پر کرلیا ہے۔ اے رب ! ہم کو ظالم قوم کے ہاتھ میں نہ پھنسانا

وَ نَجِّنَا بِرَحْمَتِكَ مِنَ الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 10:86 in the Quran reader

اور ہم کو اپنی رحمت سے کافر قوم سے نجات دے

وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰى وَ اَخِیْهِ اَنْ تَبَوَّاٰ لِقَوْمِكُمَا بِمِصْرَ بُیُوْتًا وَّ اجْعَلُوْا بُیُوْتَكُمْ قِبْلَةً وَّ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:87 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی کی طرف وحی بھیجی کہ اپنی قوم کے لئے مصر میں گھر بناؤ اور اپنے گھروں کو ہی مسجدیں قرار دے لو اور (وہیں) نماز پڑھا کرو اور ایمانداروں کو بشارت دو

وَ قَالَ مُوْسٰى رَبَّنَاۤ اِنَّكَ اٰتَیْتَ فِرْعَوْنَ وَ مَلَاَهٗ زِیْنَةً وَّ اَمْوَالًا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۙ رَبَّنَا لِیُضِلُّوْا عَنْ سَبِیْلِكَ١ۚ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلٰۤى اَمْوَالِهِمْ وَ اشْدُدْ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْا حَتّٰى یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ Open ayah 10:88 in the Quran reader

اور موسیٰ نے کہا اے رب تو نے تو فرعون اور اس کے سرداروں کو دنیا کی زندگی میں کروفر اور بہت سے مال دے رکھے ہیں۔ اے رب ! اس لئے کہ وہ لوگوں کو تیری راہ سے روکیں۔ اے رب ! ان کے مالوں کو ملیامیٹ کر دے اور ان کے دلوں کو صدمہ کر دے سو وہ جب تک عذاب دردناک نہ دیکھیں گے ایمان نہ لائیں گے۔

قَالَ قَدْ اُجِیْبَتْ دَّعْوَتُكُمَا فَاسْتَقِیْمَا وَ لَا تَتَّبِعٰٓنِّ سَبِیْلَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 10:89 in the Quran reader

فرمایا اچھا تم دونوں کی دعا قبول کی گئی۔ سو سیدھے رہو اور ان لوگوں کی پیروی نہ کرو جو کہ نادان ہیں

1 ؎ یعنی تیری اور تیرے بھائی ہارون کی 12 منہ
Ayahs 10:90–92

وَ جٰوَزْنَا بِبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْبَحْرَ فَاَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ وَ جُنُوْدُهٗ بَغْیًا وَّ عَدْوًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَدْرَكَهُ الْغَرَقُ١ۙ قَالَ اٰمَنْتُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا الَّذِیْۤ اٰمَنَتْ بِهٖ بَنُوْۤا اِسْرَآءِیْلَ وَ اَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 10:90 in the Quran reader

اور بنی اسرائیل کو ہم نے بحر قلزم سے پار اتارا اور فرعون اور اس کے لشکر نے عداوت اور سرکشی سے ان کا پیچھا کیا 2 ؎ یہاں تک کہ جب وہ ڈوبنے کو ہوا تو کہنے لگا کہ مجھے یقین آگیا کہ بجز اس خدا کے جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے اور کوئی معبود نہیں اور میں بھی فرمانبرداروں میں سے ہوں

آٰلْئٰنَ وَ قَدْ عَصَیْتَ قَبْلُ وَ كُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 10:91 in the Quran reader

(فرشتہ نے کہا) اب یہ کہنے لگا اور اس سے پیشتر تو تو نافرمان اور مفسد تھا۔

فَالْیَوْمَ نُنَجِّیْكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُوْنَ لِمَنْ خَلْفَكَ اٰیَةً١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ عَنْ اٰیٰتِنَا لَغٰفِلُوْنَ۠ Open ayah 10:92 in the Quran reader

پس آج کے دن تیری لاش کو باہر ڈالتے ہیں تاکہ وہ تیرے پیچھے والوں کے لئے نشانی رہے اور بہت سے آدمی تو ہماری نشانیوں سے بیخبر ہیں

2 ؎ موسیٰ (علیہ السلام) کے قصہ میں بڑی غور طلب بات یہ بتلائی جاتی ہے کہ دنیا میں قوی بہیمیہ کے اثر سے خلاف فطرت اللہ افعال سرزد ہونے لگتے ہیں جو انجام کار انہیں کی بربادی اور عذاب اخروی کا باعث ہوجاتے ہیں اور اسی لئے حضرت انبیاء علیہم الاسلام یکے بعد دیگرے بھیجے گئے۔ انبیاء (علیہم السلام) کا وعظ و پند ہرچند نافع ہوا اور یہ ہونا بھی چاہیے تھا مگر جب تک افراد انسانیہ کو کوئی قوی محرک نہیں ابھارتا عموماً اثر نہیں ہوتا اور دنیا میں حکومت و سلطنت بھی ایک بڑا قومی محرک اور انقلاب عظیم ہے پھر جب سلطنت ہی اس بدکاری کی موید ہو تو جب تک اس سے بڑا محرک نہ پیدا کیا جاوے اصلاح ممکن نہیں اور وہ سلطنت سے بھی زیادہ محرک نبوت بصورت خلافت ہے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو عطا ہوئی۔ اب نبوت و سلطنت کی جو جنگ ہوئی اور آخرکار نبوت غالب آئی اس کا ان آیات میں ذکر ہے اور آنحضرت ﷺ اور ان کے معاصروں کو سنایا جاتا ہے کہ اب بھی نبوت بصورت خلافت جلوہ گر ہونی ہے اور یہ دوسری باری ہے اور اب پہلے سے بھی زیادہ ہے اس لئے کہ پہلے تو صرف فرعون اور اعمالیق وغیرہ اقوام مخصوصہ سے ہی مقابلہ تھا اب تو تمام دنیا اور سرسبز سلطنتوں سے مقابلہ ہے جو کفر و بت پرستی اور بدکاری کی حامی ہیں۔ اس لئے اس شریعت میں مسلمانوں پر قیام خلافت کا انتظام جہاد و سرگرمی بھی فرض ہوئی جس کے بڑے بڑے درجات بیان فرمائے۔ 12 منہ
Ayahs 10:93–97

وَ لَقَدْ بَوَّاْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ مُبَوَّاَ صِدْقٍ وَّ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ١ۚ فَمَا اخْتَلَفُوْا حَتّٰى جَآءَهُمُ الْعِلْمُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 10:93 in the Quran reader

اور ہم نے بنی اسرائیل کو عمدہ جگہ رہنے کو دی 3 ؎ اور اچھی چیزیں کھانے کو دیں۔ پس بنی اسرائیل نے جان بوجھ کر (دین میں) اختلاف ڈالا۔ قیامت کے دن آپ کا رب جن باتوں میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں

فَاِنْ كُنْتَ فِیْ شَكٍّ مِّمَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ فَسْئَلِ الَّذِیْنَ یَقْرَءُوْنَ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكَ١ۚ لَقَدْ جَآءَكَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَۙ Open ayah 10:94 in the Quran reader

ان کا فیصلہ کر دے گا۔ پھر اگر آپ کو اس چیز میں کہ جو ہم نے آپ کی طرف بھیجی ہے کچھ شک ہو تو ان لوگوں سے پوچھ دیکھو کہ جو آپ سے پہلے کتاب پڑھتے تھے اس کے پاس ان کے رب کی طرف سے حق آچکا۔ پس ہرگز شک کرنے والوں میں سے نہ ہونا

وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَتَكُوْنَ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 10:95 in the Quran reader

اور نہ ان لوگوں میں سے ہونا کہ جنہوں نے اللہ کی آیتیں جھٹلائیں ورنہ آپ خسارہ میں پڑجائے گا

اِنَّ الَّذِیْنَ حَقَّتْ عَلَیْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا یُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 10:96 in the Quran reader

جن لوگوں پر کہ ان کے رب کی بات 1 ؎ پوری ہوگئی وہ تو ایمان نہیں لائیں گے

وَ لَوْ جَآءَتْهُمْ كُلُّ اٰیَةٍ حَتّٰى یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ Open ayah 10:97 in the Quran reader

گو ان کے پاس اس طرح کے معجزے بھی آجاویں جب تک کہ عذاب الیم نہ دیکھ 2 ؎ لیں گے۔

3 ؎ شام کے ملک میں یہ ان بنی اسرائیل کو جو حضرت موسیٰ کے بعد تھے۔ 12 منہ
Ayahs 10:98–103

فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَ١ؕ لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 10:98 in the Quran reader

پھر کوئی گائوں بھی تو ایسا ہوتا کہ اس کا ایمان لانا اس کو نفع دیتا مگر یونس کی قوم جبکہ ایمان لائی تو زندگی دنیا میں ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب ہٹا لیا اور ایک مدت تک ہم نے رسایا بسایا

وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَاٰمَنَ مَنْ فِی الْاَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِیْعًا١ؕ اَفَاَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتّٰى یَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:99 in the Quran reader

اور اگر آپ کا رب چاہتا تو دنیا بھر کے سب لوگ ایمان ہی نہ لے آتے۔ پھر کیا آپ لوگوں پر زبردستی کریں گے کہ وہ ایمان لے آویں

وَ مَا كَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تُؤْمِنَ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ یَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِیْنَ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 10:100 in the Quran reader

اور کسی کے بھی بس میں نہیں کہ اللہ کے حکم کے بغیر ایمان لے آوے اور بےعقل لوگوں پر تو وہ خباثت ڈال دیا کرتا ہے

قُلِ انْظُرُوْا مَا ذَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا تُغْنِی الْاٰیٰتُ وَ النُّذُرُ عَنْ قَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 10:101 in the Quran reader

(اے رسول ! ) کہہ دو تو آسمانوں اور زمین میں کیا کچھ ہے اور بےایمان قوم کو معجزے اور ڈر سنانے والے کچھ فائدہ نہیں دیتے۔

فَهَلْ یَنْتَظِرُوْنَ اِلَّا مِثْلَ اَیَّامِ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ قُلْ فَانْتَظِرُوْۤا اِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ Open ayah 10:102 in the Quran reader

پھر کیا وہ انہیں لوگوں کے دنوں کا سا انتظار کر رہے ہیں جو ان سے پہلے ہو گذرے ہیں (اے نبی ! ) کہہ دو اچھا انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کر رہا ہوں۔

ثُمَّ نُنَجِّیْ رُسُلَنَا وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كَذٰلِكَ١ۚ حَقًّا عَلَیْنَا نُنْجِ الْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 10:103 in the Quran reader

پھر ہم اپنے رسولوں اور ایمانداروں کو بچا لیا کرتے ہیں۔ اسی طرح ہم پر ایمانداروں کا بچا لینا بھی لازم ہوتا ہے۔

حضرت یونس (علیہ السلام) کے واقعہ کی طرف بڑے عبرت آمیز الفاظ میں اشارہ کرتا ہے فلولا کانت قریۃ آمنت فنفعہا ایمانہا الخ لولا کو بعض نے کلمہ نفی سمجھا ہے۔ امام واحد کا اسی طرف رجحان ہے۔ ان کے نزدیک یہ معنی ہوئے فما کانت قریۃً آمنت فنفعہا ایمانہا الا قوم یونس کہ ان گمراہ بستیوں میں سے کوئی بھی ایسی بستی نہیں ہوئی کہ جو ایمان لاتی اور ان کا ایمان نفع دیتا بجز قوم یونس کے یہ استثنیٰ منقطع ہے۔ ادل سے بعض علماء اس کو کلمہ تحریص و تخصیص کہتے ہیں بمعنی ہلاان کے نزدیک یہ معنی ہوئے کہ کوئی ایسی بستی بھی ہوتی کہ جو ایمان لاتی اور اس کا ایمان نفع دیتا مگر قوم یونس کہ وہ ایمان لائی۔ یونس بن متی (علیہ السلام) جس کو عبرانی محاورہ میں یونہ کہتے ہیں۔ حضرت مسیح (علیہ السلام) سے تقریباً آٹھ سو باسٹھ برس پیشتر ملک یہود میں خاندان اسرائیل سے نمودار ہوئے۔ یہ نبی تھے۔ ان کو حکم ہوا تھا کہ تم ملک شام سے نینوہ میں جا کر لوگوں کو ہدایت کرو۔ بت پرستی اور قسم قسم کی بدکای سے روکو اور نہ مانیں تو کہہ دو کہ چالیس روز کے بعد شہر پر عذاب الٰہی نازل ہوگا۔ انہوں نے یہ خیال کرکے کہ خدا رحیم ہے وہ اپنی اس قدر مخلوق کو کا ہے کو ہلاک کرے گا ناخوش ہو کر نینوہ جانا پسند نہ کیا اور شہر یافہ میں آئے اور وہاں سے شہر ترسیس (یہ دونوں شہر ملک شام کے مغربی حصہ میں سمندر یعنی بحر روم کے کنارہ پر آباد ہیں اور نینوہ شام سے مشرق کی جانب موصل کے قریب دریائے 1 ؎ دجلہ کے کنارہ پر آباد تھا) کی طرف بھاگنا چاہا اذا ذھب مغاضبًا فظن ان لن نقدر علیہ سے اس طرف اشارہ ہے ایک جہاز میں سوار ہوئے جہاز پر ایک سخت طوفان آیا گو جہاز کا بوجھ ہلکا کیا گیا مگر تب بھی وہی حالت رہی تب قرعہ ڈالا تاکہ معلوم ہو کہ کس کے سبب سے یہ آفت آئی ہے۔ قرعہ حضرت یونس (علیہ السلام) کے نام پر نکلا ان سے پوچھا تو نے کیا کیا ؟ کہا میں آقا سے بھاگا ہوا ہوں۔ آخر ان کو دریا میں ڈال دیا اور سمندر کا تلاطم موقوف ہوا۔ ان کو ایک بڑی مچھلی نگل گئی جس کے پیٹ میں تین رات دن رہے۔ وہاں انہوں نے بڑے عجز و انکسار اور نہایت بیقراری کے ساتھ تہ در تہ اندھیریوں میں خدا تعالیٰ سے دعا کی فنادی فی الظلمات ان لا الہ الا انت سبحانک الخ مچھلی نے اللہ کے حکم سے ان کو خشکی پر اگل دیا (خدا نے وہاں پر ان کی غیبی سامان سے پرورش کی) جب تندرست ہو 1 ؎ ایک بڑا وسیع شہر دریائے دجلہ کے شرقی کنارے پر آباد تھا۔ اس کی شہر پناہ تین روز کی مسافت تھی۔ شہر موصل اس کے ایک محلہ میں آباد ہے۔ حضرت یونس (علیہ السلام) کی قبر یہیں ہے۔ شہر بابل کا پہلا بادشاہ بلس ہے۔ اس کے بڑے بیٹے نے نس نے تخت حکومت پر بیٹھ کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے دو ہزار انہتر برس پیشتر ملک اسیریہ میں شہر نینوہ کی بنیاد ڈالی۔ یہ خاندان بابل کہ جن کا لقب نمرود ہے جیسا کہ شاہان مصر کا فرعون اس عہد میں ہندوستان تک حکمران تھا۔ یونس (علیہ السلام) کے عہد تک اسی خاندان کی سلطنت تھی بعد میں ایرانیوں کے ہاتھ آئی۔ آج کل بابل اور نینوہ کے خرابات منزلوں تک دکھائی دیتے ہیں گئے تو پھر حکم ہوا کہ اٹھ نینوہ کو جا اور خدا کا حکم پہنچا۔ چناچہ یہ اب نینوہ کی طرف گئے اور چالیس روز بعد عذاب الٰہی آنے کا وعدہ کیا۔ جب لوگوں کو آثار قہر الٰہی معلوم ہونے لگے تو بہت سے ایمان لائے اور بادشاہ فقیر تک سب کھانا پینا چھوڑ کر ٹاٹ پہن کر گناہوں سے تائب ہو کر دعا اور گریہ وزاری میں مصروف ہوگئے جس کی برکت سے وہ عذاب ٹل گیا۔ اس کے بعد مدت تک وہ شہر رستا بستا رہا۔ متعناھم الی حین مگر یونس (علیہ السلام) اس عذاب کے ٹل جانے سے نہایت ناخوش تھے کہ میری بات جھوٹی پڑگئی اور خدا سے التجا کی کہ میں اسی لئے ترسیس کو بھاگا تھا کہ تو رحیم کریم غصہ کرنے میں دھیما ہے۔ اب مجھ کو موت دے۔ یونس (علیہ السلام) نے شہر کے باہر پورب کی طرف اپنے رہنے کے لئے چھپر بنا رکھا تھا تاکہ دیکھئے شہر کا کیا حال ہوتا ہے۔ خدا تعالیٰ نے وہاں کدو کی بیل یا ارنڈی کا ایک درخت پیدا کیا تھا جس کے سایہ میں یہ آرام پاتے تھے۔ وانبتنا علیہ شجرۃ من یقطین ایک روز کیڑے نے اس کو ایسا کاٹا کہ وہ سوکھ گیا اور دھوپ کا یونس (علیہ السلام) کو نہایت صدمہ ہوا۔ اس پر خدا نے کہا تو ایک اس درخت پر اتنا رنجیدہ ہے پھر مجھے کیا لازم تھا کہ نینوہ شہر پر کہ جہاں ایک لاکھ بیس ہزار آدمیوں سے زیادہ رہتے ہیں ٗ شفقت نہ کروں۔ بعض محققین کہتے ہیں کہ جب عذاب نہ آیا اور یونس (علیہ السلام) غصہ ہو کر بھاگے تب دریا میں مچھلی کے پیٹ میں جانے کا واقعہ پیش آیا تھا۔ ان تبوأ لقومکما بمصر بیوتا واجعلوا بیوتکم قبلۃ ابن انباری کہتے ہیں وجعلوا بیوتکم قبلۃ اے قبلا یعنی مساجد واطلق لفظ الواحدان والمراد الجمع خلاصہ یہ کہ بعض مفسرین بیوت یعنی مصر میں گھر بنانے اور قبلہ کرنے سے مراد نماز کی جگہ اپنے گھروں میں قائم کرنا لیتے ہیں کیونکہ فر عون کا خوف تھا اور بعض کہتے ہیں گھر بنانے کا حکم تھا۔ اول قوی ہے پر ان بیوت کے قبلہ بنانے سے کیا مراد ہے اس میں دو احتمال ہیں الاول المراد یجعل تلک البیوت قبلۃ ای متقابلۃ المقصود منہ حصول الجمیعۃ واعتضاد البعض بالبعض یعنی اپنے گھر قریب قریب آمنے سامنے بناؤ تاکہ ایک دوسرے سے قوت رہے۔ وقال آخرون المراد جعلو دور کم قبلۃ اے صلوا فی بیوتکم (کبیر) اور بعض کہتے ہیں کہ مراد صرف گھروں میں نماز پڑھنا تھا کیونکہ نماز کی جگہ کو عرب میں قبلہ کہتے ہیں کہ اس کے سامنے نماز پڑھی جاتی ہے لیکن قرآن سے یہ کہیں نہیں نکلتا کہ ان کو اپنے اپنے گھر قبلہ یعنی بیت المقدس یا کعبہ کی طرف بنانے کا حکم ہوا تھا اور جو کسی نے کہا ہے تو یہ اس کا قول ہے۔ پس یہود و نصاریٰ کا اس امر میں قرآن کو خلاف گو کہنا محض تعصب ہے۔
Ayahs 10:104–109

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْ دِیْنِیْ فَلَاۤ اَعْبُدُ الَّذِیْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لٰكِنْ اَعْبُدُ اللّٰهَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰىكُمْ١ۖۚ وَ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 10:104 in the Quran reader

کہو لوگو اگر تم کو میرے دین میں شک ہے تو (سن لو کہ) اللہ کے سوا جن چیزوں کو تم پوجتے ہو میں تو ان کے پوجنے کا نہیں بلکہ میں اللہ کو پوجوں گا کہ جو تمہاری جان قبض کرتا ہے اور مجھے حکم ہوا ہے کہ ایمان والوں میں سے ہو کر رہوں

وَ اَنْ اَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفًا١ۚ وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 10:105 in the Quran reader

اور یہ بھی (حکم ہوا ہے) کہ یکطرفہ ہو کر دین کی طرف رخ کئے رہو اور ہرگز مشرکوں میں سے نہ ہونا

وَ لَا تَدْعُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُكَ وَ لَا یَضُرُّكَ١ۚ فَاِنْ فَعَلْتَ فَاِنَّكَ اِذًا مِّنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 10:106 in the Quran reader

اور اللہ کے سوا ان چیزوں کو ہرگز نہ پکارنا کہ جو نہ تجھے نفع دے سکتی ہیں نہ نقصان۔ پھر اگر آپ نے ایسا کیا تو بیشک ظالموں میں سے ہوجاؤ گے

وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهٗۤ اِلَّا هُوَ١ۚ وَ اِنْ یُّرِدْكَ بِخَیْرٍ فَلَا رَآدَّ لِفَضْلِهٖ١ؕ یُصِیْبُ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 10:107 in the Quran reader

اور اگر اللہ آپ کو کوئی دکھ پہنچاوے تو بجز اس کے اور کوئی اس کا دور کرنے والا بھی نہیں اور اگر آپ کے لئے بہتری چاہے تو اس کے فضل کو کوئی روک بھی نہیں سکتا۔ اس کو اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے پہنچاتا ہے اور وہ غفور رحیم ہے۔

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ١ۚ فَمَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا یَهْتَدِیْ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْهَا١ۚ وَ مَاۤ اَنَا عَلَیْكُمْ بِوَكِیْلٍؕ Open ayah 10:108 in the Quran reader

کہو اے لوگو ! تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس حق آچکا۔ پھر جو کوئی ہدایت قبول کرتا ہے تو اپنے پہلے کو اور جو کوئی گمراہ ہوتا ہے تو اپنی خرابی کو اور (کہو) میں تمہارا ذمہ دار نہیں ہوں

وَ اتَّبِعْ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ وَ اصْبِرْ حَتّٰى یَحْكُمَ اللّٰهُ١ۖۚ وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ۠ Open ayah 10:109 in the Quran reader

اور جو کچھ آپ کی طرف وحی کیا گیا ہے اسی پر چلو اور صبر کرو یہاں تک کہ اللہ فیصلہ کرے اور وہ اچھا فیصلہ کرنے والا ہے۔

ترکیب : ان کنتم شرط فلا اعبد جواب۔ وان اقم معطوف ہے ان اکون پر مالا ینفعک لاتدع کا مفعول من دون اللّٰہ حال یا صفت بخیر یرد کا مفعول ثانی۔ تفسیر : توحید اور مسائلِ معاد پر ہر قسم کے دلائل قائم کرکے اب خاتمہ سورة میں حجت تمام کرتا ہے کہ قل یا ایہا الناس الخ کہ اے نبی لوگوں سے کہہ دو اگر اب بھی تمہیں میرے دین میں شک باقی ہے تو اس کی طمع نہ رکھنا کہ میں تمہارے دین کو اختیار کرلوں گا بلکہ مجھے توحید پر مستقیم رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔ پھر دین کے اصل الاصول اور اس کی پرستش کرنا خدا تعالیٰ کی صفات کمال کے ضمن میں بیان فرماتا ہے اور تبعاً ان کی بت پرستی پر بھی تعریض کرتا ہے کہ یہ چیزیں قابل پرستش نہیں ھوالغفور الرحیم تک صفت اول الذی یتوفکم یہ اس لئے بیان کیا کہ موت سے زیادہ کوئی مسئلہ انسان کے نزدیک مسلم الثبوت نہیں جس میں کسی کو بھی شک و شبہ نہیں اور جو نہایت خوفناک چیز ہے جو دارآخرت کی کلید ہے وہ اسی کے قبضہ قدرت میں ہے تو پھر اور کسی کی پرستش بےفائدہ بات ہے۔ قطع نظر اس بات کے (کہ جب ہم تنہا بیٹھ کر آج سے سو برس تک کا زمانہ گذشتہ خیال میں لاتے ہیں اور اس عہد کے نامور باکمال اہل مال باجمال لوگوں کے تذکرہ بھی دوسری آنکھ کے سامنے رکھ لیتے ہیں تو دل میں ایک دھواں سے اٹھتا ہے اور یہ عالم دریائِ رواں کی موج سا معلوم ہوتا ہے کہ یا رب اس عہد کے حسینوں اور شہ زوروں اور دولت مندوں ‘ رئیسوں ‘ امیروں ‘ غریبوں میں سے آج ایک بھی باقی نہیں کہ جس سے اس عہد کا حال پوچھتے) ہر رات کو اس کا نمونہ دیکھتے ہیں۔ سناٹا ہوتا ہے۔ کہیں سے آواز بھی نہیں آتی۔ بازار اور شہر اجاڑ معلوم ہوتے ہیں۔ اسی لئے یتوفیٰ مضارع کا صیغہ ذکر کیا۔ (2) نفع و نقصان دینے والا بجز اس کے اور کوئی نہیں اس عالم میں پتہ بھی اس کے حکم کے بغیر نہیں ہلتا۔ (3) غفور ہے بندوں کے گناہوں سے درگذر فرماتا ہے رحیم اپنی رحمت کا دسترخوان عام پھیلا رکھا ہے۔ اس کے بعد قل یا ایہا الناس قد جاء کم الحق میں اعلان عام کرتا ہے کہ حق آپ کا اب جو کوئی نہیں مانتا اپنا برا کرتا ہے اور جو مانتا ہے تو اپنا بھلا کرے گا۔ رسول کا کام خبر دینا ہے وہ کسی کا ذمہ دار نہیں اس کے بعد صبر کرنے اور وحی کی پیروی کرنے اور مدد غیبی کا انتظار کرنے کا حکم دے کر سورة تمام کردی۔