10. Surah Yunus

يونسJonas · 109 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 10:40–46

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یُّؤْمِنُ بِهٖ وَ مِنْهُمْ مَّنْ لَّا یُؤْمِنُ بِهٖ١ؕ وَ رَبُّكَ اَعْلَمُ بِالْمُفْسِدِیْنَ۠ Open ayah 10:40 in the Quran reader

اور کچھ تو ان میں سے اس کو مانتے ہیں اور کچھ ان میں سے اس کو نہیں مانتے اور آپ کا رب تو مفسدوں کو خوب جانتا ہے

وَ اِنْ كَذَّبُوْكَ فَقُلْ لِّیْ عَمَلِیْ وَ لَكُمْ عَمَلُكُمْ١ۚ اَنْتُمْ بَرِیْٓئُوْنَ مِمَّاۤ اَعْمَلُ وَ اَنَا بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:41 in the Quran reader

اور اگر آپ کو جھٹلائیں تو کہہ دو میرا عمل میرے لئے اور تمہارا عمل تمہارے لئے۔ جو کچھ میں کر ہا ہوں تم اس کے ذمہ دار نہیں اور نہ جو کچھ تم کر رہے ہو اس کا میں ذمہ دار ہوں

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُوْنَ اِلَیْكَ١ؕ اَفَاَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ وَ لَوْ كَانُوْا لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 10:42 in the Quran reader

اور کچھ ان میں سے آپ کی طرف کان بھی لگایا کرتے ہیں۔ پھر کیا آپ بہروں کو بھی سنا سکتے ہیں اور گو وہ عقل بھی نہ رکھتے ہوں

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّنْظُرُ اِلَیْكَ١ؕ اَفَاَنْتَ تَهْدِی الْعُمْیَ وَ لَوْ كَانُوْا لَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 10:43 in the Quran reader

اور ان میں سے بعض ایسے بھی ہیں کہ آپ کو تاکا کرتے ہیں۔ پھر کیا آپ ایسے اندھوں کو بھی راہ دکھا سکتے ہیں جو دیکھ ہی نہ سکتے ہوں۔

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَظْلِمُ النَّاسَ شَیْئًا وَّ لٰكِنَّ النَّاسَ اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 10:44 in the Quran reader

بیشک اللہ تو کسی شخص پر کچھ بھی ظلم نہیں کرتا لیکن لوگ اپنی جانوں پر آپ ہی ظلم کر رہے ہیں

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ كَاَنْ لَّمْ یَلْبَثُوْۤا اِلَّا سَاعَةً مِّنَ النَّهَارِ یَتَعَارَفُوْنَ بَیْنَهُمْ١ؕ قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِلِقَآءِ اللّٰهِ وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِیْنَ Open ayah 10:45 in the Quran reader

اور جس روز کہ وہ ان کو (دوبارہ زندہ کرکے) جمع کرے گا تو گویا کہ (خیال کریں گے) کہ دنیا میں وہ کچھ بھی نہ رہے تھے مگر دن کی ایک گھڑی۔ پھر آپس میں ایک دوسرے کو پہچانیں گے بھی جنہوں نے اللہ کے سامنے جانے کو جھٹلایا وہ تو خرابی میں پڑگئے اور وہ ہدایت پر آنے والے بھی نہ تھے

وَ اِمَّا نُرِیَنَّكَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّكَ فَاِلَیْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ اللّٰهُ شَهِیْدٌ عَلٰى مَا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 10:46 in the Quran reader

اور اگر ہم آپ کو جس کا آپ اس میں سے وعدہ کر رہے ہیں۔ کچھ دکھا بھی دیں (تو یہ بھی ہوسکتا) یا آپ کی عمر پوری کردیں پھر آنا تو سب کو ہمارے پاس ہے۔ پھر جو کچھ وہ کر رہے ہیں اس پر اللہ آپ گواہ ہے

ترکیب : کان مخففۃ من المثقلۃ واسمہا محذوف ای کانہم لم یلبثوا خبر ‘ ساعۃ ظرف لہ ‘ من النہار صفۃ لساعۃ واما فیہ ادغام نون ان الشرطیۃ فی ما الزائدۃ و جواب الشرط محذوف قداک۔ تفسیر : باوجود ایسے دلائلِ قاہرہ وبراہین باہرہ کے ان کے منکرین میں سے کچھ تو دل میں ایمان لاتے ہیں اور کچھ نہیں۔ یہ حالت بھی ان کی اللہ سے مخفی نہیں کہ دل میں قائل مگر عناد یا کسی غرض دنیا سے اظہار نہیں کرتے۔ پھر جب عناد اور ضد کی یہ نوبت ہے تو اے نبی ! ان سے کہہ دو اگر میں ناحق پر ہوں تو تمہیں میرے اعمال سے کیا ٗ پھر کس لئے ایذا دیتے ہو یعنی جاہلوں سے اعراض کرنا چاہیے اور اس بات کا اے نبی ! کچھ ملال نہ کیجئے گا کہ وہ کیوں ایمان نہیں لائے۔ کس لئے کہ وہ اس کے قابل ہی نہیں خدا نے ان کو حواس سلیمہ آنکھ ‘ کان دیے تھے مگر ضد اور شقاوت ازلی نے نکما کردیا۔ ومنہم من یستمعون الخ کا یہی مطلب ہے خدا نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ انہوں نے خود اپنی جان پر ظلم کیا۔ اب یہ اس دنیا کی راحت اور حشمت اور مال و اسباب پر نازاں ہو کر حق سے اندھے بہرے بنے ہیں مگر حشر کے روز یہ دنیا کا جینا وہاں کے ابدی عذاب کے مقابلہ میں ایک ساعت کے برابر معلوم ہوگا۔ پھر آنحضرت ﷺ کو تسلی دیتا ہے کہ یہ بات کچھ آپ ہی کی امت پر منحصر نہیں ٗہمیشہ یوں ہی ہوتا آیا ہے۔ رسولوں کی نافرمانی کرنے والے برباد ہوئے ہیں۔ اس پر کافر کہتے تھے کہ اچھا وہ وقت کب آئے گا۔ اب کے جواب میں کہا ٗ کہہ دو کہ میرے اختیار میں نہیں جب اللہ چاہے گا آئے گا تقدیم و تاخیر اس میں کچھ نہ ہوگی۔
Ayahs 10:47–49

وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلٌ١ۚ فَاِذَا جَآءَ رَسُوْلُهُمْ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 10:47 in the Quran reader

اور ہر قوم کا ایک رسول ہوا ہے۔ پھر جب ان کے پاس ان کا رسول 1 ؎ آئے گا تو ان کا انصاف سے فیصلہ کیا جائے گا اور ان پر (کچھ بھی) ظلم نہ کیا جاوے گا

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 10:48 in the Quran reader

اور وہ پوچھتے ہیں کہ وعدہ کب ہوگا اگر تم سچے ہو

قُلْ لَّاۤ اَمْلِكُ لِنَفْسِیْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ لِكُلِّ اُمَّةٍ اَجَلٌ١ؕ اِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ فَلَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ Open ayah 10:49 in the Quran reader

تو (بتاؤ سو) کہہ دو مجھے تو اپنے نقصان و نفع کا بھی اختیار نہیں مگر جس قدر کہ خدا چاہتا ہے ہر قوم کا ایک وقت مقرر ہے جب ان کا وقت آجاتا ہے تو پھر تو نہ ایک ساعت کی دیر کرسکتے ہیں اور نہ جلدی۔

1 ؎ آیت کے یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ ہر قوم کا ایک رسول ہے۔ پھر جب قیامت میں رسول آئے گا۔ اس کے روبرو ان کا فیصلہ انصاف سے کیا جاوے گا اور ظلم نہ ہوگا۔ 12 منہ
Ayahs 10:50–60

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُهٗ بَیَاتًا اَوْ نَهَارًا مَّا ذَا یَسْتَعْجِلُ مِنْهُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 10:50 in the Quran reader

(سو اے پیغمبر ! ان سے) کہہ دو دیکھو تو سہی اگر اس کا عذاب تم پر شباشب یا دن میں نہیں آپڑے (تو کون روک سکتا ہے) تو گنہگار اس کے لئے کیا جلدی مچا رہے ہیں۔

اَثُمَّ اِذَا مَا وَقَعَ اٰمَنْتُمْ بِهٖ١ؕ آٰلْئٰنَ وَ قَدْ كُنْتُمْ بِهٖ تَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 10:51 in the Quran reader

کیا جب آہی پڑے گا تب اس پر ایمان لاؤ گے (کہا جاوے گا) کیا اب ایمان لاتے ہو اور تم تو اس کی جلدی کرتے تھے۔

ثُمَّ قِیْلَ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ذُوْقُوْا عَذَابَ الْخُلْدِ١ۚ هَلْ تُجْزَوْنَ اِلَّا بِمَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ Open ayah 10:52 in the Quran reader

پھر تو ظالموں کو یہی کہا جاوے گا کہ عذاب دائمی کا مزہ چکھو۔ صرف تم کو اسی کی سزا دی جاتی ہے کہ جو تم کیا کرتے تھے

وَ یَسْتَنْۢبِئُوْنَكَ اَحَقٌّ هُوَ١ؔؕ قُلْ اِیْ وَ رَبِّیْۤ اِنَّهٗ لَحَقٌّ١ؔؕۚ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ۠ Open ayah 10:53 in the Quran reader

اور آپ سے پوچھتے ہیں کیا یہ وعدہ حق ہے۔ کہہ دیجئے مجھے اپنے رب کی قسم البتہ وہ برحق ہے اور تم اس کو روک نہ سکو گے

وَ لَوْ اَنَّ لِكُلِّ نَفْسٍ ظَلَمَتْ مَا فِی الْاَرْضِ لَافْتَدَتْ بِهٖ١ؕ وَ اَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ١ۚ وَ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 10:54 in the Quran reader

اور اگر ہر ایک شخص کے لئے کہ جس نے ظلم کیا ہے جتنا کچھ زمین پر ہے سب ہو تو وہ تاوان میں دے ڈالے گا (تاکہ عذاب سے بچے) اور جب عذاب دیکھیں گے تو دل میں بڑے نادم ہوں گے اور ان میں انصاف سے فیصلہ کیا جاوے گا اور ان پر کچھ (بھی) ظلم نہ کیا جاوے گا۔

اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 10:55 in the Quran reader

دیکھو جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اللہ ہی کا ہے۔ سن رکھو اللہ کا وعدہ بیشک سچا ہے لیکن ان میں سے اکثر جانتے بھی نہیں۔

هُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 10:56 in the Quran reader

وہی زندہ کرتا اور مارتا ہے اور اسی کے پاس پھر کر جاؤ گے۔

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَتْكُمْ مَّوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ شِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِ١ۙ۬ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:57 in the Quran reader

لوگو ! تمہارے پاس تمہارے رب کے ہاں کی نصیحت اور دلی امراض کی شفا اور ایمانداروں کے لئے ہدایت اور رحمت آچکی ہے۔

قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَ بِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْیَفْرَحُوْا١ؕ هُوَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ Open ayah 10:58 in the Quran reader

کہہ دو اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے پس اسی پر خوش ہونا چاہیے جس کو وہ جمع کر رہے ہیں۔ یہ اس سے بہت بہتر ہے

قُلْ اَرَءَیْتُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ لَكُمْ مِّنْ رِّزْقٍ فَجَعَلْتُمْ مِّنْهُ حَرَامًا وَّ حَلٰلًا١ؕ قُلْ آٰللّٰهُ اَذِنَ لَكُمْ اَمْ عَلَى اللّٰهِ تَفْتَرُوْنَ Open ayah 10:59 in the Quran reader

کہ دیکھو تو سہی اللہ نے جو کچھ تمہارے لئے روزی اتاری ہے تم نے اس میں سے کچھ حرام بنا رکھے ہیں اور کچھ حلال کہہ دو کیا تم کو اللہ نے اجازت دی تھی یا یوں ہی اللہ پر بہتان باندھتے ہو

وَ مَا ظَنُّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَشْكُرُوْنَ۠ Open ayah 10:60 in the Quran reader

اور جو اللہ پر بہتان لگاتے ہیں وہ قیامت کے دن کو کیا سمجھے ہوئے ہیں۔ بیشک اللہ تو لوگوں پر بڑا فضل کرتا ہے لیکن اکثر آدمی شکر نہیں کرتے۔

ترکیب : ماذا امر ترکیبہ فی البقرۃ عند قولہ ماذا ینفقون وقیل ماذا اسم واحد مبتداء ویستجعل خبر وقد ضعف وفیہ مافیہ ھو مبتدا حق خبرہ والجملۃ منصوب یَسْتَنْبِؤُنَکَ الا ستباء طلب کردن خبر۔ تفسیر : قل اریتم سے لے کر معجزین تک یہ بات بتلاتا ہے کہ وہ وقت اچانک آجاوے گا ٗ پھر تم کیا کرسکو گے اس وقت کا ایمان لانا بھی فائدہ نہ دے گا۔ ولوان سے لے کر لایظلمون تک یہ ظاہر کرتا ہے کہ حشر کے دن تمہارا مال و اسباب دنیاوی کچھ کام نہ آوے گا۔ تم یہ چاہو گے دنیا بھر کا مال لے کر ہم کو چھوڑ دے۔ الا ان سے لے کر ترجعون تک یہ ظاہر کرتا ہے کہ تمہارے یہ مال و اسباب بھی سب اسی کے دیے ہوئے ہیں جس پر تم نازاں ہو اور وہ قادر مطلق ہارتا جلاتا ہے۔ اس کا وعدہ کسی مالی یا بدنی زور سے روکا نہیں جاسکتا۔ یا ایہا الناس سے یجمعون تک یہ مطلب کہ اے لوگو ! تمہارے مال و دولت سے تو ہزار درجہ بہتر تمہارے پاس خدا کی ہدایت و رحمت اور دلوں کے امراض ‘ شکوک و حب شہوات کی شفا ایمانداروں کے لئے رحمت و ہدایت آچکی یعنی قرآن جو سرور دائمی کا وسیلہ ہے تم کو اسے غنیمت جاننا چاہیے اور اس پر خوش ہونا چاہیے۔ مال فانی ہے۔ یہ باقی قل ارایتم سے لے کر لایشکرون تک ان کی بدعقلی اور ناشکری پر تنبیہ کرتا ہے کہ خدا کے حکم کے بغیر تم نے بہت سی پاک چیزوں کو بتوں کے تقرب کے لئے حرام کر رکھا ہے۔ یہ خدا پر بہتان ہے اور بہتان باندھنے والوں کو قیامت میں سزا ہے۔ جانے وہ اس کو کیا سمجھے ہوئے ہیں۔ اللہ کا اپنے بندوں پر فضل و کرم ہے جو ایسی کتاب نازل کرتا ہے جس میں شفاء ہے پھر بندے بڑے ناشکرے ہیں۔
Ayah 10:61

وَ مَا تَكُوْنُ فِیْ شَاْنٍ وَّ مَا تَتْلُوْا مِنْهُ مِنْ قُرْاٰنٍ وَّ لَا تَعْمَلُوْنَ مِنْ عَمَلٍ اِلَّا كُنَّا عَلَیْكُمْ شُهُوْدًا اِذْ تُفِیْضُوْنَ فِیْهِ١ؕ وَ مَا یَعْزُبُ عَنْ رَّبِّكَ مِنْ مِّثْقَالِ ذَرَّةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ وَ لَاۤ اَصْغَرَ مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْبَرَ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 10:61 in the Quran reader

اور آپ جس کسی حال میں ہوں اور قرآن کی کوئی سی آیت بھی پڑھ کر سنا رہے ہوں اور (لوگو) تم کوئی سا کام بھی کر رہے ہو (ہر حال میں) جبکہ تم اس کام میں مشغول ہوتے ہو ہم تمہیں دیکھتے رہتے ہیں اور آپ کے رب پر ذرہ بھر بھی کوئی چیز مخفی نہیں رہتی نہ زمین میں نہ آسمان میں اور ذرہ سے بھی کم چیز ہو یا زیادہ ہو سب کھلے 1 ؎ دفتر میں درج ہے۔

1 ؎ کتاب مبین سے مراد لوح محفوظ ہے، وہ علم الٰہی کا دفتر ہے اور مبین یعنی واضح اور صاف کوئی ابہام نہیں ہوتا یعنی علم الٰہی سے کوئی چیز باہر نہیں۔ بڑی سے بڑی ہو یا چھوٹی سے چھوٹی اور نہ انسان کا کوئی حال اس سے مخفی ہے۔ 12 منہ ترکیب : فی شان خبر کان وما تتلوا نافیۃ منہ ای الشان اور اللہ من قرآن مفعول تتلوا۔ اذا ظرف لشہود من مثقال فی موضع رفع یعزبای یغیب بضم الزاء و کسرھا ولا اصغر والا اکبر بفتح الراء فی موضع جر صفۃ لذرۃ او لمثقال ویقران بالرفع حملا علی موضع من مثقال شرکاء مفعول یدعون و مفعول یتبع محذوف دل علیہ ان یتبعون الخ ان العزۃ مستانف والوقف علی قولھم لازم ان عندکم ان معنی بہذا یتعلق بسلطان الذین مبتداء و خبرہ لایفلحون متاع خبر مبتداء محذوف۔ تفسیر : مخالفین کے اعتقادات فاسدہ اور خیالاتِ کا سدہ کا براہین قاہرہ و دلائلِ باہرہ سے ابطال کرکے ایک ایسی بات فرماتا ہے کہ جس سے مطیع کو خوشی و سرور اور عاصی کو خوف پیدا ہوجاوے کہ ماتکون فی شان الی قولہ کتاب مبین کہ ہم کو تمہاری ہر ایک بات معلوم ہے اور موجودات میں سے کوئی چیز ہم سے مخفی نہیں۔ نیک کا بدلہ نیک اور بد کو سزا ضرور دیں گے (الشان الخطب والجمع الشیون تقول العرب ماشان فلان ای ماحالہ) ماتتلوا اور ماتکون میں آنحضرت ﷺ کی طرف خطاب ہے اور ولا تعلمون میں عام امت کی طرف وما تتلوا منہ کی ضمیر میں تین احتمال ہیں۔ اول شان کی طرف پھرائی جائے کیونکہ تلاوت قرآن حضرت ﷺ کی شان ہے۔ منجملہ اور شانوں یعنی حالات۔ دوم یہ کہ قرآن کی طرف راجع ہو یعنی قرآن میں سے جو یا جس قدر قرآن آپ پڑھتے ہیں کیونکہ قرآن کا اطلاق کل اور بعض پر ہوتا ہے۔ سوم یہ کہ اللہ کی طرف رجوع ہو کہ اللہ کی طرف سے جو قرآن پڑھتے ہیں اذ تفیضون (الا فاصۃ الدخول فی العمل علی جہۃ الانصاب الیہ وھوالانبساط فی العمل یقال افاض القوم فی الحدیث اذا اندفعوا فیہ وقدا فاضوا من عرفۃ اذا دفعوا منہ بکثرتہم فتفرقوا) ولا العروب اصل الغروب من العبد یعنی اس کے معنی دور اور غائب ہونے کے ہیں اور اسی لئے جس کے اہل و عیال بعید ہوتے ہیں اس کو باب میں عزب کہتے ہیں۔ کسائی نے بعزب کو بکسر الزاء باقی نے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس کے بعد اپنے مخلصین صادقین کا رتبہ بیان فرماتا ہے بقولہ الا ان اولیاء اللّٰہ الخ علم اشتقاق میں یہ بات مانی گئی ہے کہ ول ی کا مادہ قریب کے معنی میں مستعمل ہوتا ہے اور ولی کی جمع اولیاء آتی ہے جس طرح نبی کے انبیاء لغوی معنی سے دلی قریب کو کہتے ہیں۔ آدمیوں میں بھی اہل قرابت کو ولی کہتے ہیں۔ بولتے ہیں یہ اس کا ولی ہے۔ ولی اللہ کا قریب لیکن اللہ تعالیٰ کی کسی سے نہ رشتہ کی قرابت ہے نہ جسمانی کیونکہ وہ جسم بلکہ مکان سے بھی پاک ہے۔ پس اس کی قرابت جو ہے تو روحانی ہے جس کی تفسیر خود اس نے اپنے کلام پاک میں متعدد مقامات پر اور خاص اس جگہ آپ فرما دی والذین آمنوا کانوا یتقون کہ جو ایمان اور تقویٰ کے زیور سے آراستہ ہیں یعنی جن کی قوت نظریہ اور عملیہ مکمل ہیں اس لحاظ سے ہر مومن دیندار کو ولی اللہ کہا جاسکتا ہے اور کبھی اس پر ایک اور قید بڑھائی جاتی ہے۔ وہ یہ کہ اس کی روح پر اس کے تقرب اور اس کے ذکر و فکر سے ایک نورانیت خاص ہوتی ہے پھر اس کے مراتب بیشمار ہیں۔ یہاں تک کہ جب اس کے دل اور روح پر اس کی محبت کا استیلا ہوجاتا ہے تو اس کو محویت کا ایسا مرتبہ حاصل ہوتا ہے کہ جس میں فنا فی اللہ اور بقاء باللہ ہوجاتا ہے مگر خواہ یہ کسی مرتبہ میں پہنچے اور کوئی حالت کشف و کرامت و ظہور خرق عادات اس پر طاری ہو یہ بندگی کے حلقہ سے باہر نہیں ہوتانہ تقویٰ کالباس اس کے تن سے جدا ہوتا ہے پھر وہ جو آج کل بےنماز ‘ شراب خوار ‘ بھنگ نوش ‘ ملحد منش صوفیائِ کرام کے بہروپ میں دنیا کو ٹھگتے پھرتے اور خدائی اختیارات کے مدعی ہوتے ہیں۔ کہیں بیٹے بانٹتے پھرتے ہیں ‘ کہیں جاہ و اقبال عمر و دولت دیتے ہیں۔ کسی سے لیتے ہیں اور پھر سینکڑوں ڈھلمل یقین ان کے مرید ہو کر ان کی پرستش کرتے اور ہزاروں افسانے ان کے مشہور و معروف کرتے ہیں محض ایک شیطانی دام ہے ؎
Ayahs 10:62–65

اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ Open ayah 10:62 in the Quran reader

دیکھو اللہ کے دوستوں پر نہ کچھ خوف ہے اور نہ کچھ غم کریں گے

الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَؕ Open ayah 10:63 in the Quran reader

(یہ وہ لوگ ہیں) جو ایمان لائے اور پرہیزگاری کرتے رہے۔

لَهُمُ الْبُشْرٰى فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِ١ؕ لَا تَبْدِیْلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُؕ Open ayah 10:64 in the Quran reader

انہیں کے لئے دنیا میں بھی خوشخبری ہے اور آخرت میں بھی۔ اللہ کی باتیں بدلتیں نہیں۔ یہ ہے بڑی کامیابی

وَ لَا یَحْزُنْكَ قَوْلُهُمْ١ۘ اِنَّ الْعِزَّةَ لِلّٰهِ جَمِیْعًا١ؕ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 10:65 in the Quran reader

اور آپ ان کی باتوں سے غمگین نہ ہوا کریں کیونکہ عزت تو سب اللہ ہی کے لئے ہے۔ وہ سنتا ‘ جانتا ہے۔

اولیاء اللہ کے لئے لاخوف علیہم ولاھم یحزنون فرماتا ہے کہ بعد مردن نہ ان کو کسی مصیبت آیندہ کا خوف ہوگا نہ کسی گذشتہ بات پر حزن (غم) ہوگا اور نیز استغراق اور قرب الٰہی کی وجہ سے ان کے دل ایسے ہوجاتے ہیں کہ جس میں خوف و حزن کے لئے جگہ ہی باقی نہیں رہتی۔ کیسی ہی مصائب پیش آئیں اور کتنی ہی سختیاں آجائیں مگر وہ محو تماشای جمالِ با کمال ہیں۔ اس لذت کے آگے وہ خبر بھی نہیں ہوتے۔ قرون ثلاثہ کے بعد حضرت محبوب سبحانی سیدنا عبدالقادر جیلانی اور حضرت خواجہ معین الدین چشتی اور حضرت خواجہ بہاء الدین نقشبندی وغیرہم بہت سے اس امت مرحومہ میں گذرے ہیں کہ جو انبیائِ بنی اسرائیل کے خرق عادات و کرامات میں ہم پلہ تھے اور ہمیشہ کم زیادہ ایسے ہوتے رہیں گے۔ یہ بھی آنحضرت سرور کائنات (علیہ السلام) کا ایک فیض جاری ہے۔ منکر کی آنکھیں نہ ہوں تو کوئی کیا کرے اسی پر بس نہیں بلکہ لہم البشرٰی فی الحیوۃ الدنیا والآخرۃ اس میں چند اقوال ہیں : (1) بشریٰ سے مراد وہ جنت کی خوش خبری ہے جو ان کو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب اور انبیاء (علیہم السلام) کی معرفت دی ہے جیسا کہ فرماتا ہے یبشرھم ربہم برحمۃ منہ و رضوان۔ (2) یہ کہ موت کے وقت ان کو ایک خوشی اور فرحت حاصل ہوگی کہ آج قفس تاریک سے طائرِ روح باغ خلد میں جاتا ہے۔ آج محبوب حقیقی اپنے پاس بلاتا ہے قال تعالیٰ تتنزل علیہم الملائکۃ ان لا تخافوا ولا تحزنوا وابشروا بالجنۃ (3) یہ کہ خلق خدا خصوصاً ایمانداروں کے دلوں میں ان کی محبت اور ذکر خیر اور عزت و عظمت پیدا کی جاتی ہے کیونکہ جو محبوب حقیقی کے قریب ہوجاتا ہے۔ اس پر بھی اسی محبوبیت کا اثر ڈالا جاتا ہے۔ اسی لئے آپ دیکھئے کہ حضرت محبوب سبحانی وغیرہ اولیاء اللہ کی محبت و عظمت کیسی امت کے دل میں پھیلائی گئی ہے سینکڑوں اس حرص میں مرگئے ہوں گے مگر یہ مرتبہ بجز محبوبان خدا کسی کو نصیب ہوتا ہے ! اس کے بعد وہ جو مخالفین اپنی شوکت وہیبت سے آنحضرت ﷺ کو دھمکاتے تھے اس کی نسبت فرماتا ہے ولایحزنک قولہم آپ ان کی باتوں سے غم نہ کیجئے۔ کس لئے کہ ان العزۃ للّٰہ جمیعا کہ عزت و آبرو اسی کے ہاتھ میں ہے۔ اس نے بڑے بڑے مشرکوں کو خاک میں ملایا ہے۔ پھر الا ان الخ سے اس بات کی تائید کرتا ہے کہ کار شیطان میکند نامش ولی گر ولی انیست لعنت برولی
Ayahs 10:66–70

اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا یَتَّبِعُ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ شُرَكَآءَ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَ Open ayah 10:66 in the Quran reader

دیکھو آسمانوں اور زمین والے سب اللہ کے (محکوم) ہیں اور وہ جو اللہ کے سوا اور معبودوں کو پوجتے ہیں محض خیالات کی پیروی کرتے ہیں اور وہ محض اٹکلیں دوڑاتے ہیں۔

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ النَّهَارَ مُبْصِرًا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ Open ayah 10:67 in the Quran reader

وہی ہے جس نے تمہارے آرام کے لئے رات بنائی اور دیکھنے کے لئے دن بنا دیا البتہ اس قوم کے لئے جو سن سکتی ہے

قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا سُبْحٰنَهٗ١ؕ هُوَ الْغَنِیُّ١ؕ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ اِنْ عِنْدَكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍۭ بِهٰذَا١ؕ اَتَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 10:68 in the Quran reader

اس میں بڑی (بڑی قدرت کی) نشانیاں ہیں۔ وہ کہتے ہیں اللہ نے بیٹا بنا لیا حالانکہ وہ پاک (اور) بےنیاز ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اسی کا ہے (پھر بیٹے کی کیا ضرورت) تمہارے پاس اس کی کوئی دلیل تو ہے نہیں۔ کیا بےجانے بوجھے اللہ پر جھوٹ بولتے ہو

قُلْ اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا یُفْلِحُوْنَؕ Open ayah 10:69 in the Quran reader

(اے نبی ! ) کہہ دو ضرور جو لوگ اللہ پر جھوٹ بناتے ہیں فلاح کو نہیں پائیں گے۔

مَتَاعٌ فِی الدُّنْیَا ثُمَّ اِلَیْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ نُذِیْقُهُمُ الْعَذَابَ الشَّدِیْدَ بِمَا كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ۠ Open ayah 10:70 in the Quran reader

کچھ دنیا میں برکت لینا ہے پھر تو ان سب کو ہمارے پاس پھر کر آنا ہے۔ پھر تو ہم ان کو ان کے کفر کی وجہ سے عذاب شدید کے مزے چکھا دیں گے۔

آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اسی کا ہے وہی رات دن کو گردش دے رہا ہے پھر اور کون ہے کہ جس کے اختیار میں عزت و ذولت ہو اور اس کے ضمن میں یہ بھی جتلاتا ہے کہ ہم ہی آسمانوں اور زمین کی چیزوں کے مالک اور غنی یعنی بےپروا ہیں کسی کے کسی بات میں محتاج نہیں اور خالق لیل و نہار بھی ہم ہی ہیں تو پھر جو تم اس کے سوا اور معبودوں کو پوجتے ہو۔ علاوہ بدعقل ہونے کے ذلیل بھی ہو جو مالک کو چھوڑ کر غلام کے آگے ہاتھ جوڑتے ہو اور ان معبودوں کو بجز غلام اور مخلوق اور بندہ ہونے کے اس کے ساتھ فرزندی یا برادری یا شرکت کی کوئی بھی نسبت نہیں۔ کس لئے کہ کم سے کم رات دن کا تمہارے فوائد کے لئے بنانا بھی کسی کے ہاتھ میں نہیں۔ جو تم نے اپنے خیال فاسد سے بعض شخصوں کی نسبت تجویز کر رکھے ہیں جیسا کہ عرب ملائکہ کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے اور نصاریٰ مسیح (علیہ السلام) کو اس کا بیٹا۔ جب آسمان و زمین سب کچھ اس کے ہیں تو بیٹے کی ضرورت کیا ہے۔ اس اعتقاد پر کوئی بھی دلیل ان کے پاس نہیں۔ محض قیاسی ڈھکوسلے ہیں اور ایسے مفتریوں کی سزا جہنم ہے۔ ان کو آخرت میں فلاح نہیں۔ اولیاء اللہ کے مراتب بیان کرنے کے بعد ہونے سے پاکی اور استغناء ظاہر کرنا یہ بات بتلاتا ہے کہ محبت اور برگزیدگی سے بیٹا اور شریک نہیں ہوجایا کرتا۔
Ayahs 10:71–77

وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ نُوْحٍ١ۘ اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ اِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَیْكُمْ مَّقَامِیْ وَ تَذْكِیْرِیْ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَعَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْتُ فَاَجْمِعُوْۤا اَمْرَكُمْ وَ شُرَكَآءَكُمْ ثُمَّ لَا یَكُنْ اَمْرُكُمْ عَلَیْكُمْ غُمَّةً ثُمَّ اقْضُوْۤا اِلَیَّ وَ لَا تُنْظِرُوْنِ Open ayah 10:71 in the Quran reader

ان کو نوح کا حال سنا دو جبکہ اس نے اپنی قوم سے کہا بھائیو ! اگر تم پر میرا کھڑا 1 ؎ ہونا اور اللہ کی نشانیوں سے سمجھنا بھی شاق گذرتا ہے (تو لو) میں نے بھی اللہ ہی پر بھروسہ کرلیا ہے۔ پھر تم اور تمہارے معبود مل کر (میرے مارنے کا) پکا ارادہ کرلیں اور تمہارا وہ ارادہ تم میں سے کسی پر مخفی بھی نہ رہے۔ پھر مجھ سے جو کچھ کرنا ہے کرلو اور مجھے مہلت بھی نہ دو ۔

فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَمَا سَاَلْتُكُمْ مِّنْ اَجْرٍ١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ١ۙ وَ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 10:72 in the Quran reader

پھر اگر نہ مانا تو میں نے تم سے کچھ اجرت بھی نہیں مانگی ہے۔ میری اجرت تو اللہ ہی پر ہے اور مجھے حکم ہوا ہے کہ فرمانبرداروں میں ہو کر رہوں۔

فَكَذَّبُوْهُ فَنَجَّیْنٰهُ وَ مَنْ مَّعَهٗ فِی الْفُلْكِ وَ جَعَلْنٰهُمْ خَلٰٓئِفَ وَ اَغْرَقْنَا الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ۚ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُنْذَرِیْنَ Open ayah 10:73 in the Quran reader

پھر اس کو جھٹلا دیا۔ پس ہم نے نوح کو اور جو کشتی میں اس کے ساتھ تھے ان کو تو بچا لیا اور ان کو جانشین بھی کیا اور ان سب کو کہ جنہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا تھا غرق کردیا۔ پھر دیکھو جن کو ڈر سنایا گیا تھا ان کا کیا انجام ہوا۔

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ رُسُلًا اِلٰى قَوْمِهِمْ فَجَآءُوْهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَمَا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا بِمَا كَذَّبُوْا بِهٖ مِنْ قَبْلُ١ؕ كَذٰلِكَ نَطْبَعُ عَلٰى قُلُوْبِ الْمُعْتَدِیْنَ Open ayah 10:74 in the Quran reader

پھر نوح کے بعد ہم نے اور رسول ان کی قوم کی طرف بھیجے۔ پھر وہ ان کے پاس معجزات لے کر آئے لیکن جس کو وہ اول بار جھٹلا چکے تھے کا ہے کو ماننے لگے تھے ہم اس طرح سرکشوں کے دلوں پر مہر لگا دیا کرتے ہیں۔

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ مُّوْسٰى وَ هٰرُوْنَ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ بِاٰیٰتِنَا فَاسْتَكْبَرُوْا وَ كَانُوْا قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 10:75 in the Quran reader

پھر ان کے بعد ہم نے موسیٰ اور ہارون کو فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس اپنی نشانیاں دے کر بھیجا۔ پھر انہوں نے تکبر کیا اور وہ بھی ایک نافرمان قوم تھی

فَلَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوْۤا اِنَّ هٰذَا لَسِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 10:76 in the Quran reader

پھر جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق آچکا تو کہنے لگے کہ یہ تو صریح جادو ہے۔

قَالَ مُوْسٰۤى اَتَقُوْلُوْنَ لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَكُمْ١ؕ اَسِحْرٌ هٰذَا١ؕ وَ لَا یُفْلِحُ السّٰحِرُوْنَ Open ayah 10:77 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا جب تمہارے پاس حق بات آچکی تو اس کی نسبت کہتے ہو کیا یہ جادو ہے۔ حالانکہ جادوگروں کو کامیابی نہیں ہوا کرتی۔

1 ؎ وعظ کرنے کے لئے یہ معنی ہوسکتے ہیں کہ میرا رہنا۔ 12 منہ ترکیب : اذ طرف والعامل فیہ بناء والجملۃ بدل من نباء نوح فعلی اللہ جواب۔ کان کبر فاجمعوا معطوف علیہ اتقولون اس کا مفعول سحر محذوف الکبریا اسم تکون لکما خبرہ ما جئتم بہ السحر ما استفہامیہ مبتداء وجئتم خبر والسحر بدل منہ اور ما کو خبریہ کہا جاوے تو یہ موصولہ جئتم صلہ یہ سب مبتداء السحر خبر جملہ محلا منصوب قال کا مفعول ہو کر ملائہم الضمیر عائد الی الذری ولم یونث لان الذریۃ قوم فھومذکر وقبل یرجع الی القوم ان یفتنہم بدل من فرعون تقدیرہ علی خوف من فتنۃ فرعون ان تبوآ تفسیر ہے اوحینا کی قبلۃ مفعول اجعلوا ای مصلی تصلون فیہ لتامنوا من الخوف دکان فرعون منعھم من الصلوٰۃ۔ (جلالین) تفسیر : توحید و رسالت و معاد و نبوت کے مسائل کو دلائلِ شافیہ و حجِ کا فیہ سے ثابت کرکے اور نیز مخالفین کے شکوک و شبہات کا عمدہ طور سے رد کرکے انبیائِ سابقین کے حالات بیان کرنا شروع کرتا ہے۔ ان چند فوائد کے لئے : (1) یہ کہ ایک قسم کے کلام سے مخاطب کے دل پر قدرے ثقل پیدا ہوجاتا ہے۔ پھر جب ایک فن سے دوسرے فن کی طرف یا ایک اسلوب سے دوسرے اسلوب کی طرف انتقال ہوتا ہے تو رفع ملال ہوتا ہے اور قرآن مجید کی ہر جگہ یہ عادت ہے۔ (2) یہ کہ آنحضرت (علیہ السلام) و صحابہ کرام کو ان واقعات کے سننے سے تسلی ہو کہ پہلے بھی منکرین اہل ایمان کے ساتھ ایسا کرتے آئے ہیں۔ کفار و اشرار کو عبرت ہو کہ پہلے بھی انبیاء کے مقابلہ سے ہلاک ہوئے ہیں۔ ہم کو بھی ڈرنا اور بچنا چاہیے۔ (3) اس میں آنحضرت ﷺ کا اعجاز ظاہر کرنا مقصود ہے کہ باوجود نہ لکھے پڑھے ہونے کے ایسے شہر پر جہالت و بت پرستی کا رہنے والا انبیائِ سابقین کے ایسے صحیح صحیح حالات مع نتائج بیان کرے جو اصل سے سرمو تفاوت نہ ہو پورا اعجاز ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کے قصہ سے ابتداء کرتا ہے جو سب کے جدِّ امجد اور آدم ثانی ہیں کہ ان کی قوم کی نافرمانی سے ان پر طوفان آیا۔ پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات ذکر کرتا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات بیان فرما کر آنحضرت ﷺ کو مخاطب کرکے سامعین سے فرماتا ہے کہ ان باتوں میں شک ہو تو جو تم سے پہلے لوگ یہود و نصاریٰ کتاب پڑھتے ہیں ان سے پوچھ دیکھو۔ گو حضرت ﷺ کو اس میں کچھ بھی شک نہ تھا نہ صحابہ کو اور اسی لئے آنحضرت ﷺ نے کسی اہل کتاب سے ان کی تصدیق 3 ؎ کے لئے سوال بھی نہیں کیا اور کیونکر کرتے حالانکہ آپ کی نسبت بعد کے 1 ؎ نوشتہ تقدیر کہ یہ جہنمی ہیں 12 منہ 2 ؎ یعنی ہر ایک قسم کے معجزات دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں گے۔ یہاں تک کہ ان پر عذاب الیم آجاوے تب مجبوراً ایمان لائیں گے مگر اس وقت کا ایمان کیا ! اس وقت کسی قوم کے ایمان نے نفع نہیں دیا ہاں یونس کی قوم کے ایمان نے البتہ عذاب آنے کے بعد نفع دیا۔ 12 منہ 3 ؎ امام فخر الدین رازی اپنی تفسیر کی پانچویں جلد صفحہ 39 مطبوعہ استنبول میں فرماتے ہیں وقد تقرر ان ما فی ایدیھم من التوراۃ والانجیل فالکل مصحف محرف الخ کہ اہل کتاب سے اگر حضرت کو پوچھنے کا حکم ہوتا تو اس سے بھی آپ کا شبہ اگر ہوتا رفع نہ ہوتا کیونکہ یہود پاس جو تورات و انجیل تھی تو محرف کتابیں تھیں 12 منہ جملہ میں فرما دیا فلاتکونن من الممترین ولا تکونن من الذین کذبوا بایات اللہ لیکن جن لوگوں کو شک تھا جیسا کہ کفار قریش و دیگر عرب ان کے اطمینان کے لئے ارشاد ہوا۔ اس سے خاص آنحضرت ﷺ کا سوال کرنا یا یقرون الکتاب سے توریت وانا جیل موجودہ کی اصلیت ثابت کرنا جیسا کہ بعض پادریوں اور ان کے کاسہ لیسوں کے رسائل میں دیکھا جاتا ہے محض نافہمی اور سراسر جہالت ہے ان الذین حقت الخ سے لے کر اخیر تک ان واقعات کے نتائج بیان کرتا ہے کہ وہ لوگ یوں ہلاک ہوئے اور برباد ہوئے اور کفار یوں ایمان نہیں لاتے کہ ان پر نوشتہ ازلی غالب آگیا ہے یعنی ان کی تقدیر میں گمراہی ہے۔ اس لئے ان قصص کو سن کر عبرت نہیں کرتے اور ایمان بھی لاتے ہیں تو عذاب کے وقت مگر اس وقت کا ایمان بجزقوم یونس کے اور کسی کو فائدہ مند نہ ہوا۔ اس کے بعد آنحضرت ﷺ کو تسلی دیتا ہے کہ ایمان لانا یا نہ لانا تقدیری بات ہے۔ آپ کی خواہش تو دنیا بھر کو ایماندار بنا دینے کی ہے مگر جن کی تقدیر میں ایمان نہیں وہ کیونکر ایمان لاسکتے ہیں۔ ان پر تقدیری خباثت پڑی ہوئی ہے۔ پھر حکم دیتا ہے کہ آسمان اور زمین کے عجائبِ قدرت کو دیکھو اور غور کرو مگر نہیں کرتے ان کو خدا کے نذیر رسول اور حوادث دہر اور اس کی آیات قدرت اور آیات کتاب کچھ بھی مفید نہیں۔ اب ان اندھوں کو پہلی غارت شدہ قوموں کے عذاب ہی کا انتظار ہے اور ایسے وقت ہم رسول اور اس کے پیروئوں کو بچا لیتے ہیں اور یہ بچا لینا ہمارا کام ہے اور مشرکین ہلاک ہوتے ہیں۔