26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsفی ظلال القرآن

Ayahs 26:192–195

وَ اِنَّهٗ لَتَنْزِیْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:192 in the Quran reader

” یہ رب العالمین کی نازل کردہ چیز ہے

نَزَلَ بِهِ الرُّوْحُ الْاَمِیْنُۙ Open ayah 26:193 in the Quran reader

اس یلے کر امانت دار روح اتری ہے

عَلٰى قَلْبِكَ لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ Open ayah 26:194 in the Quran reader

تیرے دل پر ، تاکہ تو ان لوگوں میں شامل ہو ، جو (خدا کی طرف سے خلق خدا کو) متنبہ کرنے الے ہیں

بِلِسَانٍ عَرَبِیٍّ مُّبِیْنٍؕ Open ayah 26:195 in the Quran reader

، صاف صاف عربی زبان میں۔ “

درس نمبر 169 ایک نظر میں یہاں آ کر قصص کا اتختام ہوگیا ۔ یہ تمام قصص رسولوں اور ان کی رسالت کی مختصر کہانی پر مشتمل تھے۔ قوموں کی طر سے رسولوں کی تکذیب ہوتی رہی ، اقوام منہ موڑتی رہیں۔ انہوں نے چیلنج کیا۔ معجزات بھی آئے اور جب تکذیب پر تل گئے تو پھر اللہ کا عذاب آگیا۔ اس سورت کا پہلا سبق ایک افتتاحیہ تھا ، اس میں مشرکین مکہ کے حوالے سے حضور اکرم کو کہا گیا تھا۔ لعلک باخع ……بہ یستھزء ون (6) (26 : 3-6) ” اے محمد شاید تم اس غم میں اپنی جان کھو دو گے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے۔ ہم چاہیں تو آسمان سے ایسی نشانی نازل کرسکتے ہیں کہ ان کی گردنیں اس کے آگے جھک جائیں۔ ان لوگوں کے پاس رحمٰن کی طرف سے جو نئی نصیحت آتی ہے۔ یہ اس سے منہ موڑ لیتے ہیں۔ اب یہ جھٹلا چکے ہیں۔ عنقریب ان کو اس چیز کی حقیقت معلوم ہوجائے گی جس کا یہ مذاق اڑاتے ہیں۔ “ اس کے بعد قصص پیش کئے گئے اور یہ نمونہ تھے ان خبروں کے جن کے بارے میں مکذبین ہمیشہ مذاق کرتے چلے آئے تھے۔ جب قصص ختم ہوئے تو سیاق کلام پھر اپنے موضوع کی طرف آگیا۔ یعنی سورت کے محور کی طرف۔ یہ آخری سبق گویا پوری سو پر تبصرہ ہے اس میں تاکید کی جاتی ہے کہ یہ قرآن رب العالمین کی طرف سے ہے۔ ان قصص پر تو مدتیں گزر گئیں لیکن قرآن کریم میں ان واقعات کو پیش کیا جا رہا ہے۔ بنی اسرائیل کے علماء رسول اللہ کو بھی جانتے ہیں اور رسول اللہ پر نازل ہونے والے قرآن کو بھی جانتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے کیونکہ یہ وہی واقعات اور وہی رسول ہے جس کا ذکر پہلے نبیوں کی کتابوں میں مذکور ہے۔ لیکن مشرکین مکہ واضح دلائل دیکھتے ہوئے بھی ازروائے عناد تسلیم نہیں کرتے۔ وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ یہ سحر ہے یا شعر ہے۔ اگر یہ قرآن کسی عجمی پر نازل ہوتا اور وہ ان کے سامنے ان کی زبان میں اسے پیش کرتا تو پھر بھی یہ ایمان نہ لاتے کیونکہ یہ انکار اس لئے نہیں کرتے کہ ان کے پاس اس کی کوئی دلیل ہے بلکہ محض عناد کی وجہ سے یہ ایمان سے محروم ہیں۔ حضرت محمد ﷺ پر نازل شدہ اخبار کا بنوں کی طرف شیطانی القاء کی طرح نہیں ہیں۔ نہ یہ قرآن شعر کی کوئی قسم ہے ، کیونکہ اشعار کا ایک منہاج ہے جسے شعراء اچھی طرح جانتے ہیں اور شعرا تو ایک ایسا طبقہ ہے جو ہر وادی میں گھومتا ہے۔ یہ کسی خیال ، کسی جذبے اور سی بھی میلان کو موزوں کردیتے ہیں۔ کبھی اچھا ، کبھی برا رہا یہ کلام تو یہ اللہ کی طرف سے نازل ہوا ہے۔ مشرکین عرب کی نصیحت کے لئے اور یاد دہانی کے لئے کہ سنبھل جائیں قبل اس کے کہ کوئی عذاب ان کو آ لے اور قبل اس کے کہ وہ باتیں حقیقت ہو کر ان کے سامنے آجائیں جن کا یہ مذاق اڑاتے ہیں۔ وسیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون (26 : 228) ” اور ظلم کرنے والوں کو عنقریب معلوم ہوگا کہ وہ کس انجام سے دوچار ہوتے ہیں۔ “ ، صاف صاف عربی زبان میں۔ “
Ayahs 26:196–197

وَ اِنَّهٗ لَفِیْ زُبُرِ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 26:196 in the Quran reader

” اور اگلے لوگوں کی کتابوں میں بھی یہ موجود ہے

اَوَ لَمْ یَكُنْ لَّهُمْ اٰیَةً اَنْ یَّعْلَمَهٗ عُلَمٰٓؤُا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 26:197 in the Quran reader

کیا ان (اہل مکہ) کے لئے یہ کوئی نشانی نہیں ہے کہ اسے عملاء بنی اسرائیل جانتے ہیں ؟ “

وانہ لفی ……اسرآئیل (197) رسول اللہ ﷺ کی تعریف اور ذکر اور جو عقیدہ توحید اور نظریہ حیات آپ پیش فرماتے تھے۔ یہ دونوں امور کتاب سابقہ میں موجود تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اس آخری رسالت کا انتظار علمائے بنی اسرائیل بڑی بےصبری سے کرتے تھے اور وہ ” اس رسول “ کا انتظار کرتے تھے۔ پھر ان میں سے اکثر یہ کہا کرتے تھے کہ ” اس رسول “ کا زمانہ آگیا ہے اور وہ ایک دوسرے کے ساتھ اس کے بارے میں بات کرتے تھے۔ جیسا کہ حضرت سلمان فارسی ، عبداللہ ابن سلام اور دوسرے علماء بنی اسرائیل کی زبانی یہ باتیں معلوم ہوگئی ہیں۔ یہ مشرکین مکہ تو محض ہٹ دھرمی اور عناد کی وجہ سے نہیں مانتے۔ یہ بات نہیں ہے کہ ان کے سامنے دلائل پیش کرنے میں کوئی کمی رہ گئی ہے۔ اگر کوئی عجمی یہ قرآن لے کر آتا اور ان پر عربی زبان میں پڑھتا تو بھی یہ لوگ ایمان نہ لاتے ۔ نہ تصدیق کرتے اور نہ یہ تسلیم کرتے کہ یہ قرآن ان کی طرف اتارا گیا ہے۔ اس قدر معجزانہ دلیل کو بھی وہ مان کر نہ دیتے۔
Ayahs 26:198–199

وَ لَوْ نَزَّلْنٰهُ عَلٰى بَعْضِ الْاَعْجَمِیْنَۙ Open ayah 26:198 in the Quran reader

لیکن ان کی ہٹ دھرمی کا حال تو یہ ہے کہ) اگر ہم اسے کسی عجمی پر بھی نازل کر دیتے

فَقَرَاَهٗ عَلَیْهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ مُؤْمِنِیْنَؕ Open ayah 26:199 in the Quran reader

”(اور یہ (فصیح عربی کلام) وہ ان کو پڑھ کر سناتا تب بھی یہ مان کر نہ دیتے۔ “

ولو نزلنہ علی ……مومنین (199) ان الفاظ میں اللہ ﷺ کے لئے ایک گونہ تسلی ہی کہ آپ کے کام میں اور ہمارے کلام میں کوئی کوتاہی نہیں ہے۔ درحقیقت یہ لوگ سخت عناد اور ہٹ دھرمی میں مبتلا ہیں۔ اس لئے یہ فیصلہ کرچکے ہیں کہ نہیں مانیں گے اور یہ فیصلہ ان کے مقدر میں لکھا جا چکا ہے کہ یہ اپنے عناد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے نہ مانیں گے۔ یہ قضا و قدر کا فصلہ بن چکا ہے۔ یہ اس روش سے پھر نہیں سکتے۔ بس اب عذاب کا انتظار کریں کہ یہ غفلت میں ہوں اور مارے جائیں۔
Ayahs 26:200–201

كَذٰلِكَ سَلَكْنٰهُ فِیْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِیْنَؕ Open ayah 26:200 in the Quran reader

’ اسی طرح ہم نے اس (ذکر) کو مجرموں کے دلوں میں گزارا ہے۔

لَا یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ حَتّٰى یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَۙ Open ayah 26:201 in the Quran reader

’ وہ اس پر ایمان نہیں لاتے جب تک کہ عذاب الیم نہ دیکھ لیں۔ “

کذلک ……لا یشعرون (202) قرآن کریم ان کی جانب سے تکذیب کا نقشہ یوں کھینچتا ہے کہ یہ تکذیب ان کے ساتھ چپکی رہے گی اور یہ لوگ اسی طرح تکذیب کی حالت میں رہیں گے اور قرآن کریم کا انکار کرتے رہیں گے۔ ان کے دلوں کے اندر تکذیب کی رو گزار دی گئی ہے۔ تکذیب ان کے دل ہی میں جاری ہے۔ یہ ایسے ہی حالات میں ہوں گے کہ ان کو عذاب الیم پکڑے گا۔ یہ عذاب اچانک آئے گا ان کو اس کا کوئی احساس نہ ہوگا ان میں سے بعض تو ایسی ہی حالت میں رہے کہ واصل جہنم ہوئے یا مارے گئے اور جب عذاب دیکھیں گے تو کہیں گے۔
Ayahs 26:202–203

فَیَاْتِیَهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَۙ Open ayah 26:202 in the Quran reader

” پھر جب وہ بیخبر ی میں ان پر آپڑتا ہے

فَیَقُوْلُوْا هَلْ نَحْنُ مُنْظَرُوْنَؕ Open ayah 26:203 in the Quran reader

اس وقت وہ کہتے ہیں کہ ” کیا اب ہمیں کچھ مہلت مل سکتی ہے ؟ “

فیقولوا ھل نحن منظرون (204) یعنی کیا ہمیں دنیا میں ایک اور مہلت دے دی جائے گی تاکہ ہم اصلاح کرسکیں۔ اے کاش کہ ایسا ہوجائے۔ کفار مکہ بار بار مطالبہ کرتے تھے کہ تم جو عذاب الٰہی سے ڈراتے ہو اور اس کے قصے سناتے ہو ، لائو وہ عذاب کہ دیکھیں یہ مذہب کا مذاق اڑاتے تھے کیا یہ لوگ اس قدر بےباک اور مغرور ہوگئے ہیں اس لئے کہ یہ خوشحال ہیں۔ عیاشیوں نے ان کو غبی بنا دیا ہے اور یہ خدا کے عذاب کو بعید الوقوع قرار دیتے ہیں۔ ان کی حالت ہمیشہ کے کھاتے پیتے لوگوں کی سی ہے۔ ایسے لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ ہم ہمیشہ ایسے ہی رہیں گے۔ یہ حالات کے بدلنے کا تصور بھی نہیں کرتے۔ یہاں ان کو ایسی غفلت سے جگایا جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ اس وقت ان کی حالت ایسی ہوگی کہ یہ دنیا کا سب ساز و سامان بےکار ہوجائے گا اور کوئی شئے بھی ان کو فائدہ نہ دے سکے گی۔
Ayahs 26:204–207

اَفَبِعَذَابِنَا یَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 26:204 in the Quran reader

” تو کیا یہ لوگ ہمارے عذاب کے لئے جلدی مچا رہے ہیں ؟

اَفَرَءَیْتَ اِنْ مَّتَّعْنٰهُمْ سِنِیْنَۙ Open ayah 26:205 in the Quran reader

تم نے کچھ غور کیا ، اگر ہم انہیں برسوں تک عیش کرنے کی مہلت بھی دے دیں

ثُمَّ جَآءَهُمْ مَّا كَانُوْا یُوْعَدُوْنَۙ Open ayah 26:206 in the Quran reader

اور پھر وہی چیز ان پر آجائے جس سے انہیں ڈرایا جا رہا ہے

مَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یُمَتَّعُوْنَؕ Open ayah 26:207 in the Quran reader

تو وہ سامان زیست جو ان کو ملا ہوا ہے ، ان کی کس کام آئے گا ؟ “

افبعذابنا ……یمتعون (208) ایک طرف ان کی طرف سے عذاب کا مطالبہ اور اس میں شتابی ہے اور دوسری جانب عذاب کا نزول ہے۔ یوں نظر آتا ہے کہ یہ عیش و عشرت کی جو طویل زندگی وہ بسر کر رہے تھے وہ گویا تھی ہی نہیں۔ اس پوری زندگی میں انکے لئے کوء فائدہ نہ ہوگا اور نہ اس میں کوئی ایسا عمل ہوگا جس کی وجہ سے ان کے عذاب میں کوئی تخفیف ہو۔ ایک صحیح حدیث میں ہے ” کافر کو لایا جائے گا اور آگ میں اسے ایک غوطہ دیا جائے گا۔ پھر اس سے کہا جائے گا کہ تم نے اپنی زندگی میں کبھی کوئی بھلائی (اور آرام) دیکھا بھی ہے ؟ کیا تم نے کوئی خوشحالی دیکھی ہے ؟ وہ کہے گا نہیں خدا کی قسم پروردگار میں نے تو کچھ بھی نہیں دیکھا۔ اور پھر ایک ایسے شخص کو لایا جائے گا جو دنیا میں بدترین حالات میں تھا اور اسے جنت کا ایک رنگ دکھایا جائے گا۔ پھر اس سے کہا جائے گا۔ کیا تو نے برے دن بھی کبھی دیکھے ہیں ؟ تو وہ کہے گا خدا کی قسم اے رب ذوالجلال ! مجھ پر تو برے دن کبھی آئے ہی نہیں۔ (ابن کثیر) اس کے بعد ان کو ڈرایا جاتا ہے کہ یہ جو تمہیں خبردار کیا جا رہا ہے تو اس لئے کہ تم پر ہلاکت بڑی تیزی سے آرہی ہے اور اللہ کی رحمت کا تو یہ تقاضا ہے کہ کسی بستی کو اس وقت تک ہلاک نہ کرے جب تک رسول نہ آئے۔ یہ اللہ کی سنت ہے۔
Ayahs 26:208–209

وَ مَاۤ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْیَةٍ اِلَّا لَهَا مُنْذِرُوْنَ٥ۗۛۖ Open ayah 26:208 in the Quran reader

”(دیکھو) ہم نے کبھی کسی بستی کو اس کے بغیر ہلاک نہیں کیا کہ اس کے لئے خبردار کرنے والے

ذِكْرٰى١ۛ۫ وَ مَا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 26:209 in the Quran reader

حق نصیحت ادا کرنے کو موجود تھے اور ہم ظالم نہ تھے۔ “

وما اھلکنا من قریۃ الا لھا مذرون ، ذکری وما کنا ظلمین (209) اللہ تعالیٰ نے انسانوں سے یہ فطری عہد لیا ہے کہ وہ صرف اس کی بندگی کریں گے اور اسے وحدہ لاشریک سمجھیں گے۔ انسان کی فطرت از خود ایک خالق کائنات کے وجود کو تسلیم کرتی ہے بشرطیکہ اس کے اندر فساد اور انحراف پیدا نہ ہوجائے۔ (پارہ 9 ، ص ……) اور پھر اللہ نے اس کائنات میں دلائل کو ڈھیر لگا دیا۔ یہ تمام دلائل اس بات کی طرف راہنمائی کرتے ہیں کہ اس کائنات کا ایک خالق موجود ہے۔ اگر لوگ اس فطری عہد کو بھول جائیں اور دلائل ایمان پر غور نہ کریں تو پھر ان کے پاس ایک ڈرانے والا آتا ہے جو ان کو یہ فطری سبق یاد دلاتا ہے اور خواب غفلت سے ان کو جگاتا ہے۔ اس معنی میں رسالت ایک یاد دہانی اور سوئے ہئے لوگوں کو جگانے سے عبارت ہے اور یہ اللہ کا رحم و کرم ہے کہ اللہ نے اپنے اوپر پیغمبر بھیجنا لازم کردیا کہ ہم اس وقت تک عذاب نہیں دیتے جب تک رسول نہ بھیجیں۔ جب رسول آتا ہے اور لوگ پھر بھی نہیں مانتے ، نہیں یاد کرتے اور نہیں جاگتے تو یہ ان کی ناکامی ہوتی ہے اور وہ راہ ہدایت ترک کردیتے ہیں لہٰذا عذاب حق ہوجاتا ہے۔ قرآن کریم کے بارے میں ایک جدید بحث :
Ayahs 26:210–213

وَ مَا تَنَزَّلَتْ بِهِ الشَّیٰطِیْنُ Open ayah 26:210 in the Quran reader

” اس (کتاب مبین) کو شیاطین لے کر انہیں اترے ہیں

وَ مَا یَنْۢبَغِیْ لَهُمْ وَ مَا یَسْتَطِیْعُوْنَؕ Open ayah 26:211 in the Quran reader

نہ یہ کام ان کو سجتا ہے ، اور نہ وہ ایسا کر ہی سکتے ہیں

اِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُوْلُوْنَؕ Open ayah 26:212 in the Quran reader

وہ تو اس کی سماعت تک سے دور رکھے گئے ہیں۔ “

فَلَا تَدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتَكُوْنَ مِنَ الْمُعَذَّبِیْنَۚ Open ayah 26:213 in the Quran reader

” پس اے نبی اللہ کے ساتھ کسی دور سے معبود کو نہ پکارو ، ورنہ تم بھی سزا پانے والوں میں شامل ہو جائو گے

وما تنزلت ……لمعزولون (204) اس سے قبل قرآن کریم کے بارے میں کہا گیا تھا کہ یہ رب العالمین کی طرف سے ہے اور اسے روح الامین لے کر آتے ہیں اور اس کے بعد بات آگے نکل گئی کہ یہ لوگ تکذیب پر تل گئے ہیں اور اپنی نادانی سے عذاب کے آنے میں شتابی کر رہے ہیں۔ لیکن قرآن کے بارے میں وہ یہ الزام بھی لگاتے تھے کہ یہ شیاطین کی طرف سیالقائہوتا ہے۔ جس طرح کاہنوں پر شیاطین کچھ کلمات القا کرتے ہیں جن میں بعض خبریں غیب کی ہوتی ہیں اور جن کی وجہ سے وہ کہانت کی دکان چمکاتے ہیں۔ لیکن یہاں اس کی تردید کی جاتی ہے کہ ہر مذہب و ملت جانتی ہے کہ شیطان کا کیا کام ہوتا ہے جبکہ قرآن تو اصلاح اور ہدایت کا کام کرتا ہے اور شیطان ہر مذہب و ملت کے تصور کے مطابق برائی گمرایہ اور ضلالت کی دعوت دیتا ہے۔ پھر شیطانی قوتوں کے اندر یہ طاقت کہاں ہے کہ وہ قرآن نازل کرسکیں۔ اللہ کی جانب سینزول وحی اور قرآن کا انتظام نہایت محفوظ ہے۔ اس کو تو روح الامین ، رب العالمین کے حکم سے نہایت حفاظت اور امانت و دیانت سے لاتے ہیں۔ اب روئے سخن حضور اکرم کی طرف پھرجاتا ہے۔ آپ کو شرک سے ڈرایا جاتا ہے حالانکہ حضور اکرم ﷺ سے شرک کا وقوع ایک مستبعد امر ہے۔ دراصل حضور کو کہہ کرامت کو لایا جاتا ہے اور آپ کو یہ تلقین کی جاتی ہے کہ آپ اپنے قریبی لوگوں کو ڈرائیں۔ اللہ پر بھروسہ کریں۔ اللہ ہمیشہ آپ کی نگرانی اور نگہبانی کرتا ہے۔
Ayahs 26:214–215

وَ اَنْذِرْ عَشِیْرَتَكَ الْاَقْرَبِیْنَۙ Open ayah 26:214 in the Quran reader

اپنے قریب ترین رشتہ داروں کو ڈرائو

وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 26:215 in the Quran reader

اور ایمان لانے والوں میں سے جو لوگ تمہاری پیروی اختیار کریں۔

فلا تدع ……العزیز الرحیم (219) ان کے ساتھ تواضح سے پیش آئو لیکن اگر وہ تمہاری نافرمانی کریں تو ان سے کہہ دو کہ جو کچھ تم کرتے ہو ، اس سے میں بری الذمہ ہوں اور اس زبردست اور رحیم پر توکل کرو جو تمہیں اس وقت دیکھ رہا ہوں۔ جب تم اٹھتے ہو اور سجدہ گزار لوگوں میں تمہاری نقل و حرکت پر نگاہ رکھتا ہے۔ وہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے۔ “ اگر نبی کریم ﷺ بھی اللہ کے سوا کسی اور کو پکاریں تو وہ بھی معذبین میں سے ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ یہ محال ہے اور اللہ نے سجھانے کے لئے فرض کیا ہے تو پھر اور لوگکس باغ کی مولی ہیں۔ جو لوگ رات اور دن اللہ کے سوا اور دل کو پکارتے ہیں وہ کس طرح عذاب الٰہی سے بچ سکتے ہیں۔ لہٰذا اس معاملے میں کوئی رو رعایت نہیں ہیں۔ رسول بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ اگر اس نے اس عظیم جرم کا ارتکاب کیا تو ……بھی۔ رسول اللہ ﷺ کو عذاب سے ڈرانے کے بعد اب یہاں آپ کے رشتہ داروں کو ڈرانے کا حکم دیا جاتا ہے تاکہ دور سے لوگ زیداہ ڈر جائیں ، اگر رسول اللہ ﷺ کے قریبی رشتہ دار (مثلاً ابو طالب) ایمان نہ لائے اور شرک پر مرے تو معذبین میں سے ہوگا تو اور لوگوں کے لئے جاننا چاہئے کہ کوئی رعایت نہ ہوگی۔ بخاری اور مسلم شریف میں منقول ہے کہ یہ آیت نازل ہوئی تو آپ کوہ صفا پر چڑھے اور پکارا ” باصباحا “ تو سب لوگ جمع ہوگئے۔ ہر شخص دوڑ کر آپ کے پاس پہنچ گیا یا اس نے اپنا کوئی نمائندہ بھیج دیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یا نبی عبدالمطلب یا نبی مہرہ یا نبی لوئی دیکھو ! اگر میں ت میں یہ خبر دوں کہ پہاڑ کی اس طرف سے ایک لشکر تم پر حملہ آور ہونے والا ہے تو تم میری تصدیق کرو گے ؟ تو انہوں نے کہا ہاں۔ آپ نے فرمایا کہ میں تمہیں خبردار کرتا ہوں کہ میں تمہارے لئے ڈرانے والا ہوں اور ایک شدید عذاب تمہارے انتظار میں ہے اس پر ابولہب نے کہا ” تم پر ہلاکت ہو سارے دن کے لئے۔ “ کیا تم نے صرف اس بات کے لئے ہمیں بلایا اور اسی موقعہ پر یہ سورت بھی نازل ہوگئی۔ تبت یدا ابی لھب و تب امام مسلم نے اپنی سند ہے حضرت عائشہ سے نقل کیا ہے۔ انہوں نے فرمایا جب یہ آیت نازل ہوئی۔ وانذر عشیرتک الاقربین (62 : 312) ” اور اپنے قریب ترین رشتہ داروں کو ڈرائو “ تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوگئے اور فرمایا ” اے فاطمہ بنت محد ، اے صفیہ بنت عبدالمطلب ، اے اولاد عبدالمطلب میں تمہارے بارے میں اللہ کے ہاں کوئی اختیار نہیں کھتا۔ میرے مال کے بارے میں تم جو چاہتے ہو ، مجھ سے لے سکتے ہو۔ “ امامت رمذی نے اپنی سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ سے یہ نقل فرمایا ہے۔ کہتے ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی اور رسول اللہ ﷺ نے قریش کو بلایا تو آپ نے عام بات بھی کی اور خاص بات کی۔ فرمایا اے اہل قریش ، اپنے نفوس کو آگ سے بچائو ، ایاولاد کعب اپنے آپ کو آگ سے بچائو ، اے فاطمہ بنت محمد اپنے نفس کو آگ سے بچائو ، خدا کی قسم میرے پاس تمہارے لئے خدا کے ہاں کوئی اختیارات نہیں ہیں۔ میں تمہارا رشتہ دار ہوں۔ تو احادیث اور ان کے ساتھ دوسری احادیث ہیں۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس حکم کو اس طرح لیا اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو کس طرح خبردار کیا اور آخرت کے معاملے میں ان کو اپنے رب کے حوالے کردیا اور ان کے سامنے صاف صاف کہہ دیا کہ میری قرابت کسی کو وہاں کوء فائدہ نہ دے گی۔ اگر تمہارے لئے تمہارا عمل نافع نہ ہوا اور یہ کہ تمہارے لئے میرے پاس اللہ کے ہاں کوئی اختیارات نہیں ہیں۔ حالانکہ آپ اللہ کے رسول تھے۔ غرض یہ ہے اسلام اور اس کے صاف صاف تعلیم ، بالکل واضح اور دو ٹوک بات اور اللہ اور بندے کے درمیان ہر قسم کیواسطوں کی نفی۔ یہاں تک کہ رسول کریم ﷺ بھی واسطہ اور وسیلہ نہیں ہیں۔ پھر نبی ﷺ کو یہ تعلیم دی جاتی ہے کہ جن مومنین نے تمہاری دعوت کو قبل کرلیا ہے ان کے ساتھ تمہارا معاملہ کیسا ہوگا۔ واخفض جناحک لمن اتبعک من المومنین (62 : 12) ” اور ایمان لانے والوں میں سے جو لوگ تمہاری پیروی اختیار کریں ان کے ساتھ تواضح کے ساتھ پیش آئو۔ “ ‘ پروں کو ان کے لئے بچھانے سے مراد تواضع کرنا اور نرمی کرنا ہے۔ نہایت ہی مجسم اور حسی انداز میں بیان فرمایا کہ جب پرندہ اترتا ہے تو پروں کو پوری طرح بچھاتا ہے اور رفتار نرم کرتا ہے حضور اکرم نے اپنی پوری زنگدی میں اہل ایمان کے ساتھ یہی سلوک کیا۔ کیونکہ آپ کے اخلاق بعینہ قرآن تھے آپ کی زندگی قرآن کریم کا عملی ترجمہ تھی۔ اور جو لوگ آپ کی نافرمانی رتے ہیں ان کا معاملہ خدا پر چھوڑ دیں اور ان سے اپنی برأت کا اعلان کردیں۔
Ayah 26:216

فَاِنْ عَصَوْكَ فَقُلْ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تَعْمَلُوْنَۚ Open ayah 26:216 in the Quran reader

اگر وہ تمہاری نافرمانی کریں تو کہہ دیں کہ میں ان باتوں سے بری الذمہ ہوں جو تم کرتے ہو

فان عصوک قفل انی بربی مما تعلمون (62 : 612) ” ۔ “ یہ روش مکہ میں تھی ، اس وقت رسول اللہ ﷺ کو الل ہیک راہ میں لڑنے کی اجازت نہ تھی۔ اب قرآن کریم آپ کو اللہ کی طرف متوجہ کرتا ہے اور یہ تسلی دیتا ہے کہ اللہ بروقت آپ کا نگران ہے اور بہت قریب سے دیکھ رہا ہے۔
Ayahs 26:217–220

وَ تَوَكَّلْ عَلَى الْعَزِیْزِ الرَّحِیْمِۙ Open ayah 26:217 in the Quran reader

اور اس زبردست اور رحیم پر توکل کر

الَّذِیْ یَرٰىكَ حِیْنَ تَقُوْمُۙ Open ayah 26:218 in the Quran reader

جو تمہیں اس وقت دیکھ رہا ہوتا ہے جب تم اٹھتے ہو

وَ تَقَلُّبَكَ فِی السّٰجِدِیْنَ Open ayah 26:219 in the Quran reader

اور سجدہ گزار لوگوں میں تمہاری نقل و حرکت پر وہ نگاہ رکھتا ہے

اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 26:220 in the Quran reader

وہ سب کو سننے اور جاننے والا ہے۔ “

و توکل ……العلیم (62 : 22) ” ان کو ان کی نافرمانیوں کے اندر چھوڑ دیں اور ان کے اعمال سے اپنی برات کا اظہار کردیں اور اپنے رب پر اعتماد کرتے ہوئے اس کی طرف متوجہ ہوں اور ہر معاملے میں رب مکریم سے استعانت طلب فرمائیں۔ یہاں اللہ کی دو صفات بیان کی گئی ہیں جو اس سورت میں بار بار آتی ہیں یعنی صفت عزت اور صفت رحمت اس کے بعد قلب رسول اللہ ﷺ کو انس اور محبت کا شعور دیا جاتا ہے کہ تمہارا رب تمہیں اس وقت بھی دیکھ رہا ہے جب تم اکیلے نماز میں ہوتے ہو اور اس وقت بھی دیکھ رہا ہے جب تم نمازیوں کے اندر ہوتے ہو۔ یعنی وحدت کی حالت میں بھی تمہیں دیکھ رہا ہے اور اجتماعی حالت میں بھی اس کی نظر تم پر ہے۔ یعنی جب تم ساجدین یعنی اہل ایمان کے اندر ہوتے ہو ، ان کی تربیت کرتے ہو ، ان کی امامت کرتے اور انہیں خطبہ دیتے ہو ، اللہ آپ کی حرکات و سکناء کی نگرانی کر رہا ہے اور آپ کے دعوتی کام اور درپیش خطرات کو بھی دیکھ رہا ہے وہ سمیع و علم ہے۔ اس انداز تعبیر میں نبی ﷺ کے اندر یہ شعور پیدا کرنا مطلوب ہے کہ اللہ آپ کے قریب ہے ، دیکھ رہا ہے اور عنایات کر رہا ہے۔ یوں رسول اللہ یہ یقین رکھتے تھے کہ آپ اللہ کی حفاظت میں ہیں۔ اللہ کے جوار رحمت میں ہیں۔ چناچہ اس خوشگوار ماحول محبوت میں آپ زندگی بسر کرتے تھے۔ اس سورت کا یہ آخری سبق زیادہ تر قرآن کے بارے میں ہے۔ اس کے بارے میں ایک تاکید تو یہ کی گئی کہ یہ رب العالمین کی طر سے ہے۔ دوسری یہ کہ روح للامین اسے لے کر آئے تیسری یہ کہ اس کے نزول میں شیاطین کا کوئی دخل نہیں ہو سکتا اور یہاں پھر تاکید کی جاتی ہی کہ شیاطین حضرت محمد ﷺ پر کیسے اتر سکتے ہیں۔ حضرت محمد ﷺ تو سچے ، امین اور ایک پاک و صاف زندگی بسر کرنے والے ہیں۔ شیاطین تو جھوٹوں ، کذابوں ، بدکرداروں اور دھوکہ باز کاہنوں پر اترتے ہیں اور یہ تو کاہن اور گمراہ مذہبی پیشوا ہیں جو شیطانی باتیں لے کر اور ان میں رنگ بھر کر عوام کو گمراہ کرتے ہیں۔
Ayahs 26:221–226

هَلْ اُنَبِّئُكُمْ عَلٰى مَنْ تَنَزَّلُ الشَّیٰطِیْنُؕ Open ayah 26:221 in the Quran reader

” لوگو ، کیا میں تمہیں بتائوں کہ شیاطین کس پر اترا کرتے ہیں ؟

تَنَزَّلُ عَلٰى كُلِّ اَفَّاكٍ اَثِیْمٍۙ Open ayah 26:222 in the Quran reader

وہ ہر جعل ساز بدکار پر اترا کرتے ہیں۔

یُّلْقُوْنَ السَّمْعَ وَ اَكْثَرُهُمْ كٰذِبُوْنَؕ Open ayah 26:223 in the Quran reader

سنی سنائی باتیں کانوں میں پھونکتے ہیں اور ان میں سے اکثر جھوٹے ہوتے ہیں۔ “

وَ الشُّعَرَآءُ یَتَّبِعُهُمُ الْغَاوٗنَؕ Open ayah 26:224 in the Quran reader

” رہے شعراء تو ان کے پیچھے بہکے ہوئے لوگ چلا کرتے تھے

اَلَمْ تَرَ اَنَّهُمْ فِیْ كُلِّ وَادٍ یَّهِیْمُوْنَۙ Open ayah 26:225 in the Quran reader

کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ وہ ہر وادی میں بھٹکتے ہیں

وَ اَنَّهُمْ یَقُوْلُوْنَ مَا لَا یَفْعَلُوْنَۙ Open ayah 26:226 in the Quran reader

اور لکل باتیں کہتے ہیں جو کرتے نہیں ہیں۔ “

ھل انیئکم ……کذبون (041) عربوں میں کاہن ہوا کرت ی تھے ، ان کا دعویٰ یہ تھا کہ جن انہیں غیب کی خبریں دیتے ہیں اور لوگ ان کے ہاں جاتے تھے اور ان کی پیش گوئیاں سنتے تھے ان کاہنوں میں سے اکثر جھوٹے ہوتے تھے۔ ان کاہنوں کی تصدیق وہ لوگ کرتے تھے جو ہر قسم کے اوبام اور ہر قسم کے افسانوں پر یقین کرنے کے لئے تیار ہوتے تھے لیکن یہ کاہن بہرحال لوگوں کو کسی بھلائی کی طرف نہ بلاتے تھے اور نہ لوگوں کی قیادت راہ ایمان کی طرف کرتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ کا حال ان سے بہت مختف تھا۔ رسول اللہ کو قرآن کے ذریعہ ایک نہایت ہی ٹھوس نظام زندگی کی طرف بلاتے تھے۔ یہ کاہن قرآن کے بارے میں کبھی کہتے یہ شعر ہے اور حضور ﷺ کے بارے میں کہتے کہ آپ شاعر ہیں۔ لیکن وہ حیران تھے کہ یہ قرآن بہرحال ایک بےمثال کلام ہے ، لوگوں کے دلوں تک اثر جاتا ہے۔ لوگوں کے اندر ایک نیا شعور پیدا کرتا ہے اور اس کے اس قدر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں کہ عوام اسے رد نہیں کرسکتے۔ چناچہ اس سورت میں اس نکتے کی وضاحت کردی گئی کہ نبی ﷺ جو نظام پیش کر رہے ہیں اور قرآن کریم جو نظام پیش کر رہا ہے ، یہ کوئی شاعرانہ کلام اور سوچ نہیں ہے۔ قرآن کریم ایک ہی نظریہ اور ایک ہی منہاج پر اول سے آخر تک چل رہا ہے۔ اس کے سامنے ایک ہی متعین مقصد اور نصب العین ہے۔ وہاپین نصب العین کی طرف سیدھا آگے بڑھ رہا ہے اور رسول اللہ ﷺ کا بھی وہیمنہاج ہے۔ یہ نہیں ہے کہ آپ ٓج ایک بات کریں اور کل اسکے برعکس بات کریں۔ آپ کبھی بھی بدتے ہوئے میلانات و رجحانات اور وقتی خواہشات کے پیچھے نہیں پھرتے۔ ایک ہی دعوت ہے جسے آپ لے کر آئے ہیں اور وہی دے رہے ہیں۔ ایک ہی عقیدہ ہے جو آپ پیش فرما رہے ہیں اور آپ ایک ایسے منہاج کے مطابق کام کر رہے ہیں جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں ہے۔ جبکہ شعراء ایسے نہیں ہوتے۔ شعراء بدلتے ہوئے تاثرات اور وقتی جذبات کے اسیر ہوتے ہیں۔ ان پر ان کے شعور کی حکمرانی ہوتی ہے۔ جس طرح شعور ہوتا ہے اسی کا وہ انصار کردیتے ہیں ایک ہی وقت میں وہ ایک ہی حقیقت سیاہ دیکھتے ہیں تو اسے سیاہ کہہ دیتے ہیں اسی بات کو دو اگلے لمحے میں مفید دیکھتے ہیں تو اسے سفید کہہ دیتے ہیں۔ اگر کسی سے راضی ہوئے تو مدح کرتے ہیں اور اگر ناراض ہوئے تو مذمت کرتے ہیں۔ پھر ہر شاعر کا اپنا مزاج ہوتا ہے اور اس کی اپنی شاعری ہوتی ہے۔ پھر یہ شعراء اپنے لئے خود ایک جہاں پیدا کرتے ہیں اور اسی میں کم گشتہ ہوت یہیں۔ یہ بعض افعال اور بعض ذہنی نتائج تخلیق کرتے ہیں اور پھر ان کو حقائق مان کر خود ان سے متاثر ہوتے ہیں۔ اس لئے یہ عمل لوگ نہیں ہوتے کیونکہ یہ اپنی خیالی دنیا میں گم رہتے ہیں۔ لیکشن جو شخص ایک متعین دعوت لے کر اٹھتا ہے اس کا مزاج شاعرانہ نہیں ہوتا۔ متعین دعوت کا حامل تو اس دعوت کو عملاً دنیا میں قائم دیکھنا چاہتا ہے۔ کسی بھی داعی کا ایک متعین دف اور نصب العین وتا ہے۔ پھر ہر داعی نے اپنی دعوت کے قیام کے لئے ایک طریق کار متعین کردیا ہوتا ہے۔ وہ اس متعین راہ پر ایک متعین سمت کی طرف جاتا ہے۔ ادھر ادھر نہیں بھٹکتا ۔ اس کی نظریں تیز ہوتی ہیں۔ عقل زندہ ہوتی ہے وہ ادہام اور تحمیات کی دنیا میں نہیں رہتا۔ نہ وہ محض خیالی نقشہ پیش کر کرکے خوش ہوتا ہے وہ اپنے نقشے پر عملی دنیا تعمیر کرنا چاہتا ہے۔ لہٰذا رسولوں کے منہاج اور شعراء کے منہاج کے درمیان جوہری فرق اور دیئے ان دونوں کے اندر یقینا کوئی اشتراک نہیں ہے اور یہ بات کوئی زیداہ پچیدیہ بھی نہیں ہے کہ اسے نہ سجھا جاسکے۔
Ayah 26:227

اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ ذَكَرُوا اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّ انْتَصَرُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا١ؕ وَ سَیَعْلَمُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَیَّ مُنْقَلَبٍ یَّنْقَلِبُوْنَ۠ Open ayah 26:227 in the Quran reader

والشعرآء ……مالایفعلون (802) یہ لوگ چونکہ خواہشات نفس اور اپنے مزاج کے پیچھے چلتے ہیں لہٰذا اکثر بہکے ہوئے لوگ شعراء کے پیچھے چلتے ہیں کیونکہ اکثربہکے ہوئے لوگ بھی ہوائے نفس کے بندے ہوتے ہیں اور ایسے لوگوں کا کوئی متعین نصب العین نہیں ہوتا۔ یہ ذہنی شعور اور تخیل کی وادیوں میں بھٹکتے رہتے ہیں۔ تخیلات تصورات اور ادہام کی وادیاں بہت ہی وسیع ہوتی ہیں ، یہ اپنے تاثرات کے مطابق ان میں سے کسی وادی میں پھٹکتے رہتے ہیں جس وقت ان کا دل جس وادی سے متاثر ہوئے ، اس میں پھرنے لگتے ہیں۔ پھر یہ جو باتیں کرتے ہیں وہ غیر عملی ہوتی ہیں کیونکہ یہ ایسی دنیا میں زندہ ہوتے ہیں جو انہوں نے خود پیدا کی ہوئی ہوتی ہے۔ یہ نحیفات کی دنیا ہوتی ہے اور ان کے شعور میں ہوتی ہے۔ اس دنیا کو یہ کرہ ارض پر عملی دنیا سے دور رکھتے ہیں کیونکہ عملی حقائق چونکہ تلخ ہوتے ہیں اس لئے وہ ان کو پسند نہیں ہوتے۔ اس لئے وہ بہت سی باتیں بناتے ہیں لیکن ایسا کرتے نہیں۔ کیونکہ ان کی دنیا عمل کی نہیں بلکہ وہم و گمان کی دنیا ہوتی ہے۔ اس نظر آنے الی دنیا میں ان کی دنیا کا نام و نشان بھی نہیں ہوتا۔ اب اسلام کو دیکھو کہ وہ تو ایک عملی نظام زنگدی ہے اور اس کے ہر حکم کے لئے حکم یہ ہے کہ اسے عملاً قائم کیا جائے ۔ اسلام گویا ایک عظیم تحریک ہے جو ضمیر و وجدان کی دنیا میں بھی ہے۔ عقائد و تصورات کی دنیا میں بھی ہے اور پھر یہ تحریک عملی دنیا میں بھی ہے۔ لہٰذا اسلام کی دنیا شعراء کی دنیا سے بالکل مختلف ہے کیونکہ شاعر اپنے ذہن میں ایک سوچ کی تخلیق کرتا ہے اور اس میں گم ہوجاتا ہے جبکہ اسلام جو عقیدہ اپناتا ہے اسے عملی شکل دیتا ہے۔ گویا اسلام اعلیٰ تصورات کو عملی شکل دیتا ہے اور اعلیٰ تصورات کو عمل اور اخلاق میں ظاہر کرتا ہے۔ اسلام لوگوں کو یہ تعلیم دیتا ہے کہ عملی حقائق سے فرار اختیار نہ کرو اور وہ موہوم خیالات کی طرف نہ بھاگو۔ اگر کوئی عملی حقیقت تمہیں پسند نہیں ہے تو اس سے بھاگ کر تخیلات کے قلعوں میں پناہ نہ لو۔ بلکہ اس پر حملہ آور ہو جائو اور حالات اور واقعات کو اپنی منشا کے مطابق بدل کر رکھ دو لیکن شاعر صاحب کا یہ کام نہیں ہوتا۔ اسلام انسانوں کی پوری قوت کو مجتمع کر کے اعلیٰ قدروں کو عملی دنیا تعمیر کرنے پر صرف کرتا ہے وہ اپنی کسی قوت کو بھی موہوم تخیلات کی دنیا میں رہ کر برباد نہیں کرتا۔ یہاں تک تو اسلام شعر و فن کو رد کرتا ہے اگر وہ عملی نہ ہوں۔ لیکن اسلام شعر و فن کا مطلقاً خلاف نہیں ہے۔ جو لوگ قرآن مجید کے ان الفاظ کو پڑھتے ہیں اور سرسری طور پر پڑھتے ہیں وہ شاید یہ سمجھیں کہ قرآن شعر و سخن کے مطلقاً خلاف ہے۔ دراصل قرآن کریم اس منہاج کے خلاف ہے جس پر ہمیشہ شعر اور فن چل نکلتا ہے یعنی ایسا تخیلاتی اور وہمی منہاج جس کے اندر عمل کی کوئی صورت نہ ہو۔ تخیل اور مبالغہ ہی ہو۔ ظاہر ہے کہ وہم و خیال کی دنیا تو پھر بہت ہی وسیع ہے ، انسان اس کے اندر غرق ہوجاتا ہے لیکن جب انسان کا شعور پختہ ہوجاتا ہے اور اس کے تاثرات شعر و فن پختہ ہوجاتے ہیں تو وہ شعوری اور تخیلاتی دنیا میں بھی کام کرتے ہیں اور عملی دنیا میں بھی کام کرتے ہیں۔ ایسے عملی تخیلات پھر اخلاقی لحاظ سے بھی پاک ہوتے ہیں۔ اور جب کوئی صاحب فن اسلامی رنگ میں رنگا جاتا ہے تو وہ محض ادہام و تخیلات کی دنیا میں قید نہیں ہوتا وہ عمل اور حکمت کی دنیا میں آتا ہے اور اس کے خیالات پھر بہت ہی قیمتی صاف اور روایتی شعرا سے مختلف ہوتے ہیں۔ جب کسی کی روح میں ایک مستقل منہاج رچ بس جاتا ہے۔ اس کا ایک اسلامی نصب العین قرار پاتا ہے۔ پھر وہ دنیا کو اسلام نقطہ نظر سے دیکھتا ہے۔ اسلام کی روشنی میں دیکھتا ہے ۔ اسلام کے زاویہ سے دیکھتا ہے تو اس کا فن شعر سن بھی مختلفہو جاتا ہے ۔ ایسے معیار پر اسلام شعور و سخن اور فن کے خلاف نہیں رہتا جیسا کہ قرآن مجید کے ظاہری الفاظ سے نظر آتا ہے۔ قرآن کریم نے خود انسانی عقل ، سوچ اور خیال کو اس دنیا کے عجیب و غریب مظاہر اور حقائق کی طرف متوجہ کیا ہے۔ خود نفس انسانی کے اندر جو عجائبات ہیں ، جن میں انسانی تحمیات اور تمام نفسیاتی افعال شامل ہیں ، یہ غور کرنے کی دعوت دی ہے۔ شعر و سخن کا مواد تو انسان کے نفسیای افعال ہی سے بنتا ہے اور قرآن کے اندر جگہ جگہ اس کائنات کی عجیب تخلیق اور نفس انسانی کے عجیب افعال پر غور کرنے کی دعوت دی گئی ہے اور قرآن نے یہ دعوت ایسے اسلوب میں دی ہے کہ آج تک کوئی شاعر اس کمال اور بنلدی تک نہیں پہنچ سکا۔ اپنی خوبصورتی اپنی فصاحت اور قدرت تصور کے اعتبار سے یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم سابقہ عمومی تبصرے کے اندر استثناء پیدا کرتا ہے ۔ کیونکہ قرآن مطلقاً شعر و سخن او فن کے خلاف نہیں ہے۔

الا الذین ……(721) ” بجز ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کئے اور اللہ کو کثرت سے یاد کیا اور جب ان پر ظلم کیا گیا تو صرف بدلہ لے لیا اور ظلم کرنے والوں کو عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ وہ کس انجام سے دوچار ہوتے ہیں۔ “ لہٰذا اہل ایمان ان لوگوں میں داخل نہیں ہیں۔ یہ لوگ ایمان لائے تو ان کے دل و دماغ اسلامی عقیدہ اور ایمان سے بھرگئے۔ ان کی زندگی ایک منہاج پر رواں دواں ہوگئی۔ انہوں نے اپنی عمی زندگی میں نیک عمل کرنا شروع کردیا اور ان کی قوتیں اعمال صالحہ اور خوبصورت بھلائی کی راہ پر صرف ہونے لگیں۔ وہ صرف ادہام و تخیلات کی دنیا سے باہر آگئے اور انہوں نے اپنے فن کو بھی اپنے نظریہ کے لئے استعمال کیا۔ یعنی کسی نے ان پر ظلم کیا تو انہوں نے بدلہ لے لیا۔ یعنی میں سچائی کو انہوں نے عملاً قبول کیا اس کی حمایت میں ان کا فن بھی میدان میں آگیا۔ ایسے ہی اہل فن میں ، معرکہ توحید شرک کے ابتدائی دور میں ، رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں حضرت حسان ابن ثابت ، کعب ابن مالک ، عبد اللہ ابن رواحہ ؓ شعراء انصار میں سے تھے اور عبد اللہ ابن الزیسری ابوسفیان ابن الحارث ابن عبدالمطلب تھے۔ یہ دونوں ایام جاہلیت میں حضور اکرم کی جو بھی کرتے تھے۔ جب مسلمان ہوئے اور خوب ہوئے تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی نعت میں بھی خوب کمالات دکھائے اور اسلام کی مدافعت کی۔ صحیح حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت حسان ابن ثابت کو حکم دیا ” ان کی ہجو کرو اور جبرئیل تمہارے ساتھ ہیں۔ “ عبدالرحمٰن ابن کعب نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ نے شعراء پر اشعار میں بھی نازل کیا ہے جو کچھ نازل کیا ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” ایک مومن اپنی تولار سے بھی جہاد کرتا ہے اور اپنی زبان سے بھی جہاد کرتا ہے ، اس خدا کی قسم ، جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ جس چیز سے تم ان کو مارتے ہو وہ تیروں کی بارش ہے۔ “ (امام احمد) اسلامی شعر و فن کا تحقیق مختلف اسالیب میں ہو سکتا ہے۔ یعنی یہ ایک صورت جو ابتدائے اسلام میں وجود میں آئی اور اس وقت اس کی ضرورت بھی تھی لیکن اسلام تصور حیات کے مطابق شعر و سخن کے اور دائرے بھی بیشمار ہیں جن کی اسلام اجازت دیتا ہے۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ اسلامی فن وہی ہوگا جو اسلام کے دفاع میں ہو۔ یا براہ راست اس میں دعوت اسلامی موجود ہو۔ یا جس میں اسلام کی تعریف ہو ، پیغمبر اسلام کی تعریف ہو یا اکابر اسلام کی تعریف و تمجید ہو۔ یا اللہ کی حمد و ثنا ؟ یہ ضروری نہیں ہے کہ شعر اگر ان موضوعات پر ہو تو اسلامی ہے اور اگر ان پر نہ ہو تو اسلامی نہیں ہے۔ گردش لیل و نہار پر ایک شاعرانہ نظر ، اور مناظر کائنات پر ایک ایسی نظر جس کے ذریعے ایک مسلم کا شعور اور اس کا تخیل قدرت الہیہ کا احساس کرتا ہو ، حقیقی اسلامی فن ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک لمحہ جس میں انسان کے دل و دماغ پر اللہ کی حکمت روشن ہوجاتی ہے اور جس کے اندر انسان اس کائنات کے عجائبات کا احساس کرتا ہے۔ ایسے لمحات ہی میں اسلامی ادب کی تخلیق ہوتی ہے۔ اسلامی فن اور غیر اسلامی فن کے درمیان امتیاز اس سے ہوتا ہے کہ اسلام کا اپنا ایک تصور حیات ہے۔ اسلامی سوسائٹی کے اندر روابط کی ایک مخصوص شکل پائی جاتی ہے۔ اگر کوئی فن اسلامی تصورات ، اسلامی روابط کے اور اسلامی اخلاق کی اساس پر تخلیق ہوتا ہے تو وہ اسلامی ہے اور اسے اسلام پسند کرتا ہے ورنہ نہیں ہے۔ اور سورت کا خاتمہ اس دھمکی اور مجمل تہدید پر ہوتا ہے۔ وسیعلم الذین طلموآ ای منقلب ینقلبون (62 : 822) ” اور ظلم کرنے والوں کو عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ وہ کس انجام سے دوچار ہوتے ہیں۔ “ اس پوری سورت کا مضمون یہ رہا اور اس میں مشرکین کے عناد اور ہٹ دھرمی کی تصویر کشی کی گئی۔ یہ بتایا گیا کہ وہ اللہ کی وعید کے مقابلے میں سرکشی کرتے رہے بلکہ الٹا عالم غرور میں عذاب کے جلدی نزول کا مطالبہ کرتے رہے۔ نیز اس سورت میں ایسے تمام لوگوں پر نازل ہونے والے عذابوں کی تصویر کشی بھی کی گئی اور مختلف رسولوں کے انجام دکھائے گئے۔ اس لئے سورت کے آخر میں مجملاً نبی ﷺ کی مخالف قوتوں کو بھی سمجھا دیا گیا کہ تم بھی ذرا اپنی خیر منائو کہ تمہارا انجام کیا ہونے والا ہے۔ گویا کفار مکہ ذہنی دنیا پر یہ آخری ضرب ہے اور ایسے الفاظ میں ہے کہ فکر ہر کس بقدر ہمت اوست کے مطاق ہر شخص کا خیال اس کے معانی پہچان سکتا ہے۔ لہٰذا یہ مشرکین کے ایوان میں ایک زلزلہ ہے جو سورت کے آخر میں برپا کردیا گیا۔