26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsفی ظلال القرآن

Ayahs 26:78–82

الَّذِیْ خَلَقَنِیْ فَهُوَ یَهْدِیْنِۙ Open ayah 26:78 in the Quran reader

” جس نے مجھے پیدا کیا پھر وہی میری رہنمائی فرماتا ہے

وَ الَّذِیْ هُوَ یُطْعِمُنِیْ وَ یَسْقِیْنِۙ Open ayah 26:79 in the Quran reader

جو مجھے کھلاتا ہے اور پلاتا ہے

وَ اِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ یَشْفِیْنِ۪ۙ Open ayah 26:80 in the Quran reader

اور جب بیمار ہوجاتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے

وَ الَّذِیْ یُمِیْتُنِیْ ثُمَّ یُحْیِیْنِۙ Open ayah 26:81 in the Quran reader

جو مجھے موت دے گا اور پھر دوبارہ مجھ کو زندگی بخشے گا

وَ الَّذِیْۤ اَطْمَعُ اَنْ یَّغْفِرَ لِیْ خَطِیْٓئَتِیْ یَوْمَ الدِّیْنِؕ Open ayah 26:82 in the Quran reader

اور جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ روز جزا میں وہ میری خطا معاف فرما دے گا

الذی خلقنی فھو ……یوم الدین (82) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے یہاں اپنے رب کی جو حمد کی ہے اور اس میں وہ تفصیلات تک چلے گئے ہیں اور تصویر کشی کی ہے ، اس سے ہمیں یہ شعور ملتا ہے کہ آپ اپنی پوری شخصیت کے ساتھ معرفت رب میں ڈوبے ہوئے تھے اور ان کی پوری شخصیت کا خدا کے ساتھ رابطہ تھا۔ وہ نہایت ہی محبت سے اللہ کی طرف متوجہ ہوتے تھے اور حضرت اپنے رب کی حمد اس طرح کرتے تھے کہ گویا وہ اللہ کو دیکھ رہے ہوں اور وہ اپنے تمام احساسات ، تمام شعور اور وجدان کے ساتھ اور اپنے تمام اعضاء کے ساتھ اللہ کے فضل و کرم کو پا رہے تھے۔ قرآن کریم نے حضرت ابراہیم اور رب العالمین کے تعلق کو جس قدر دھیمے نغمے کے ساتھ یہاں بیان کیا ہے اس سے اس تعلق کی فضا ، اس کے آثار اور پر تو اچھی طرح واضح ہوتا ہے۔ میٹھا اور نرم نغمہ اور طویل اور وسیع اثرات۔ الذی خلقنی فھو یھدین (26 : 88) ” جس نے مجھے پیدا کیا پھر وہی میری راہنمائی فرماتا ہے۔ “ اس نے مجھے پیدا کیا ، وہی جانتا ہے اور میں نہیں جانتا کہ کہاں کہاں سے اجزائے جسم جمع ہوئے۔ میری ماہیت اور میری تشکیل سے وہی باخبر ہے۔ میرے فرئاض اور میرے شعور کی باریکیوں سے بھی وہی باخبر ہے۔ میرے مال اور میرے متال سیب ھی وہی خبردار ہے۔ فھو یھدین (26 : 88) ’ پھر وہی تو ہم جو میری راہنمائی فرماتا ہے۔ ‘ اپنی طرف راہنمائی جس راہ پر مجھے چلنا ہے اس کی نشاندہی ، جس نظام کے مطباق مجھے زندگی بسر کرنی ہے۔ اس کی نشاندہی ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) یہ احساس دے رہے ہیں کہ وہ اس طرح ہیں جس طرح پگھلا ہوا مادہ اس سے صانع ہو چاہتا ، بنا لیتا ہے۔ جس شکل و صورت میں چاہتا ہے مصنوعات تیار کرلیتا ہے یہ ہے مکمل اطاعت ، مکمل سپردگی ، مکمل اطمینان ، راحت ، سکون اور اعتماد ذات باری پر۔ والذی ھو یطمعنی ویسقین (26 : 89) و اذا مرضت فھو یشفین (26 : 8) ” جو مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی شفا دیتا ہے۔ “ یہ براہ راست کفالت ہے ، گہری شفقت ہے ، ساتھ رہنے والی محبت ہے اس کا احساس ابراہیم ہی کرسکتے ہیں۔ صحت میں اور مضر میں حضرت میں اور سفر میں ، ہر حال میں بلند آداب نبوت کے ساتھ ہو جانتے ہیں کہ مرض بھی تو اللہ کی مشیت سے آتی ہے۔ نہیں ، وہ اس کو اللہ کی طرف منسوب نہیں کرتے حالانکہ مرض و شفا دونوں اللہ کی طرف سے ہے۔ لیکن مرضت فھو یشفین (26 : 80) میں گہرا احترام محلوظ ہے۔ کرم کا مقام یطعمنی ویسقین (26 : 89) اور یشفین لکین ابتلا میں نعش کا اسناد خود اپنی طرف کرتے ہیں۔ یہ ہے مقام ابراہیم۔ والذین یمتنی ثم یحیین (26 : 81) ” جو مجھے موت دے گا اور دوبارہ زندگی بخشے گا۔ “ ہر مسلمان کا یہ ایمان ہے کہ موت کا فیصلہ اللہ کرتا ہے اور پھر ایک دن حساب و کتاب کے لئے اللہ ہی اٹھائے گا لہٰذا یہ مکمل تسلیم و رضا کا اظہار ہے ۔ والذین اطمع ان یغفرلی ……یوم الدین (26 : 82) ” اور جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ روز جزاء میں میری خطا معاف فرمائے گا۔ “ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جو نبی اور رسول ہیں ان کی منتہائے آرزو ہے کہ اللہ قیامت کے دن ان کی خطائیں معاف کر دے ، حالانکہ وہ پوری طرح عارف باللہ ہیں۔ وہ اللہ کی ذات کا گہرا شعور رکھتے ہیں اور ان کے نفس کی گہرائیوں میں رب کی معرفت رچی بسی ہے۔ وہ اپنے نفس کو پاک و صاف تصور نہیں کرتے۔ اس معرفت اور قرب کے ساتھ پھر بھی ڈرتے ہیں کہ ان سے کوئی خطا ہوئی ہو ، وہ اپنے اعمال پر بھروسہ نہیں کرتے نہ وہ اپنے اعمال کی اساس پر اپنے آپ کو مستحق نجات کہتے ہیں۔ وہ فضل ربی پر بھروسہ کرتے ہیں ، اللہ کی رحمت کے طلبگار ہیں اور یہ رحمت خداوندی ہے جس کے وہ امیدوار ہیں کہ عفو و درگزر ہوگا اور تب ان کی نجات ہوگی۔ تقویٰ اور خدا خوفی کا یہ پیغمبرانہ شعور ہے ، ادب و احترام پر مبنی شعور ہے ، نہایت احتیاط کا انداز ہے۔ اللہ کی عظمتوں اور اللہ کے انعامات کا یہ حقیقی شعور ہے۔ اس شعو کے مطابق عمل کی قیمت بہت ہی کم ہے اور مغفرت کی قیمت زیادہ ہے۔ یوں ذات باری کے بارے میں حضرت ابراہیم اپنے عقائد کے بنیادی عناصر ترکیبی یہاں بیان کرتے ہیں کہ رب العالمین وحدہ لاشریک ہے ، زمین پر انسان کی زنگدی کے چھوٹے چھوٹے معاملات میں بھی اللہ رب العالمین متصرف ہے۔ بعث بعد الموت اور حساب و کتاب میں صرف فضل الٰہی بندے کو بچا سکتا ہے۔ اعمال کے اعتبار سے بندہ و تقصیر ہی ہوتا ہے اور وہ یہ باتیں ہیں کہ مشرکین اور ارباہیم کی قوم ان کی منکر ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جو نہایت ہی حلیم الطبع اور اللہ کے سامنے گریہ و بکا کرنے والے ہیں وہ نہایت ہی خضوع و خشوع کے ساتھ اپنی ابراہیم جو نہایت ہی حلیم الطبع اور اللہ کے سامنے گریہ و بکا کرنے والے ہیں وہ نہایت ہی خضوع و خشوع کے ساتھ اپنی دعا کو آگے بڑھاتے ہیں۔
Ayahs 26:83–89

رَبِّ هَبْ لِیْ حُكْمًا وَّ اَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَۙ Open ayah 26:83 in the Quran reader

ابراہیم نے دعا کی ” اے میرے رب ، مجھے حکم عطا کر۔ اور مجھ کو صالحوں کے ساتھ ملا

وَ اجْعَلْ لِّیْ لِسَانَ صِدْقٍ فِی الْاٰخِرِیْنَۙ Open ayah 26:84 in the Quran reader

اور بعد کے آنے والوں میں مجھ کو سچی ناموری عطا کر

وَ اجْعَلْنِیْ مِنْ وَّرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِیْمِۙ Open ayah 26:85 in the Quran reader

اور مجھے جنت نعیم کے وارثوں میں شامل فرما

وَ اغْفِرْ لِاَبِیْۤ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الضَّآلِّیْنَۙ Open ayah 26:86 in the Quran reader

اور میرے باپ کو معاف کر دے کہ بیشک وہ گمراہ لوگوں میں سے ہے

وَ لَا تُخْزِنِیْ یَوْمَ یُبْعَثُوْنَۙ Open ayah 26:87 in the Quran reader

اور مجھے اس دن رسوا نہ کر جبکہ سب لوگ زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے

یَوْمَ لَا یَنْفَعُ مَالٌ وَّ لَا بَنُوْنَۙ Open ayah 26:88 in the Quran reader

جبکہ نہ مال کوئی فائدہ دے گانہ اولاد ،

اِلَّا مَنْ اَتَى اللّٰهَ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍؕ Open ayah 26:89 in the Quran reader

بجز اس کے کہ کوئی شخص قلب سلیم لئے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو۔ “

رب ھب ……سلیم (89) حضرت ابراہیم (علیہ الصلوۃ والسلام) کی اس دعا پر ذرا غور فرمائیں کہ اس میں اس دنیا کے اغراض میں سے کو یء غرض نہیں ہے۔ یہاں تک کہ یہ بھی نہیں کہا کہ اے اللہ ، مجھے صحت عطا کیجیے۔ یہ پوری دعا بلند مقاصد اور اعلیٰ اور پاکیزہ شعور کی تحریک ہے۔ یہ اس خدا رسیدہ دل کی دعا ہے جس کے پیش نظر اللہ کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اس کے ہاں اللہ کے سوا ہر چیز کو حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور معرفت کے جس مقام تک یہ دل پہنچا ہے اس کے آگے مزید کا طلبگار ہے اور ایک ایسے قلب سے نکلی ہوئی دعا بیم و رجا کی حالت میں ہے کیونکہ اس نے اللہ کے کرم دیکھے ہوئے ہیں اور مزید کا امیدوار ہے۔ رب ھب لی حکما (26 : 83) ” اے میرے رب ، مجھے حکم عطا کر “۔ اے اللہ مجھے ایسی حکمت عطا کر جس کی روشنی میں کھری اور کھوٹی قدروں کے درمیان تمیز کرسکوں تاکہ میں ایسے طرز عمل پر قائم رہوں جو مجھے باقی رہنے والی قدروں تک پہنچائے۔ والحقنی بالصلحین (26 : 83) ” اور مجھے صالحوں کے ساتھ ملا دے۔ “ یہ حضرت ابراہیم کی دعا ہے جو نبی اور رسول ہیں اور گڑگڑانے والے اور نہایت ہی حلیم الطبع ہیں۔ اس عظیم المرتبہ ابوالانبیاء کی تواضح قابل دید ہے۔ ان کی احتیاط قابل ملاحظہ ہے۔ کس قدر خدا خوفی ان کی باتوں میں اور سک قدر اعتراف تصور ہے۔ وہ ہر وقت ڈرتے ہیں کہ انسان کا دل کسی بھی وقت برائی کی طرف مائل ہو سکتا ہے اس لئے وہ صالحین کی محفل اور ماحول کے طلبگار ہیں وہ اللہ کی توفیق سے عمل صالح کیل ئے یا عمل صالح پر قائم رہنے کے آرزو مند ہیں۔ واجعل لی لسان صدق فی الاخرین (26 : 83) ” اور بعد میں آنے والوں میں مجھ کو سچی نامویر عطا کر۔ “ آپ کی دعا یہ ہے کہ میری شروع کی ہوئی دعوت توحید قیامت تک رہے۔ وہ کثرت اولاد کے لئے دعا نہیں کرتے بلکہ آپ کی دعا آنے والی نسلوں میں آپ کے نقش قدم پر چلنے والے مداحوں کیل ئے ہے کہ وہ آپ کی دعوت توحید کو قبول کریں۔ اور ” دین حنیف “ کو اپنائیں اور یہی دعا آپ نے قرآن مجید میں دوسرے مقامات پر بھی کی ہے۔ اس وقت جب آپ اور آپ کے بیٹے اسماعیل خانہ کعبہ کی بنیادیں اٹھا رہے تھے۔ ربنا واجعلنا ……الحیم (129) (2 : 128-129) ” اے رب ، ہم دونوں کو اپنا مسلم بنا ، مہاری نسل سے ایک ایسی قوم اٹھا جو تیری مسلم ہو ، ہمیں اپنی عبادت کے طریقے بتا اور ہماری کوتاہیوں سے درگزر فرما۔ تو بڑا معاف کرنے والا اور درگزر فرمانے والا ہے اور اے ہمارے رب ان لوگوں میں خود انہی کی قوم سے ایک ایسا رسول اٹھائیو ، جو انہیں تیری آیات سنائے اور ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دے اور ان کی زندگیاں سنوارے تو بڑا مقتدر اور حکیم ہے۔ “ اللہ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی یہ دعا قبول فرمائی۔ آپ کی دعوت کو پھیلایا اور آنے والے زمانوں میں ان کے لئے تمام لوگ کلمہ خیر کہنے والے ہوئے اور پھر آپ کی دعا کے مطابق نبی آخر الزمان پیدا ہوئے اور ہزارہا سال کے بعد یہ دعا پوری ہوئی۔ لوگوں کے حساب میں تو دنیا کے ہزارہا سال بہت طویل ہیں لیکن اللہ کے نزدیک ان کی کوئی نہیں ہے اور اللہ کی حکمت کا تقاضا یہ تھا کہ دعائے ابراہیمی اس قدر عرصہ کے بعد قبول ہو۔ واجعلنی من ورثۃ جنۃ النعیم (26 : 85) ” اور مجھے جنت نعیم کے وارثوں میں شامل فرما۔ “ اس سے قبل آپ نے دعا فرمائی تھی کہ مجھے صالحین کے گروہ میں شامل فرما اور عمل صالح کی توفیق دے کہ میں صالحین کی صفوں میں چلوں اور پھر اس جنت میں داخل ہو جائوں جس کی وراثت عباد صالحین کا حق ہے۔ واغفر لابی انہ کان من الضآلین (26 : 86) ” اور میرے باپ کو معاف کر دے۔ بیشک وہ گمراہ لوگوں میں سے ہے۔ “ باوجود اس کے کہ حضرت ابراہیم کو ان کے والد نے سختی سے ڈانٹا اور تہدید آمیز گفتگو کی لیکن انہوں نے اس گفتگو کے وقت بھی وعدہ کیا تھا کہ میں تیرے لئے دعا ہی کرتا رہوں گا۔ یہ اس وعدے کی وجہ سے والد کے حق میں دعا فرما رہے ہیں۔ بعد میں یہ بات قرآن نے بیان کردی کہ مشرکین کے لئے دعائے مغفرت کر ناجائز نہیں ہے۔ اگرچہ وہ قریبی رشتہ دار کیوں نہ ہوں اور قرآن کریم نے اس بات کی بھی صراحت کردی کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ کے لئے دعائے مغفرت اس لئے کی تھی کہ انہوں نے باپ کے ساتھ اس کا وعدہ کیا تھا۔ فلما تبین لہ انہ عدوللہ تبراء منہ ” جب اسے معلوم ہوگیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو اس نے باپ سے برأت کا اظہار کردیا۔ “ اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جان لیا کہ دریں راہ فلاں ابن فلاں چیزے نیست یہاں تو اخوت نظریاتی اخوتیں ہیں۔ اسلامی تربیت کے بنیادی عناصر میں سے ایک عنصر یہ ہے کہ اسلامی سوسائٹی میں پہلا آمیزہ اور رابطہ اور تعلق نظریاتی تعلق ہے اور سکی انسان اور انسان کے درمیان مضبوط تعلق صرف نظریات کا ہو سکتا ہے جب یہ تعلق کٹ جائے تو تمام تعلقات کٹ جاتے ہیں اور پھر انسان انسان سے دور ہوجاتا ہے۔ کوئی رابطہ اور تعلق نہیں رہتا۔ ولا تخزنی یوم یبعثون (26 : 88) یوم لاینفع مال ولابنون (26 : 88) الامن اتی اللہ بقلب سلیم (26 : 89) ” اور مجھے اس دن رسوا نہ کر جبکہ سب لوگ زندہ کر کے اٹھائیج ائیں گے جبکہ نہ مال کوئی فائدہ دے گا نہ اولاد ، بجز اس کے کہ کوئی شخص قلب سلیم لئے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو۔ “ ابراہیم (علیہ السلام) کی اس بات سے اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ قیامت کا دن کس قدر ہولناک ہوگا اور یہ کہ حضرت ابراہیم اللہ سے کس قدر حیا فرماتے ہیں اور اللہ کے سامنے شرمندہ ہونے سے کس قدر خائف ہیں اور یہ خوف اپنی تقصیر کی وجہ سے ہے کہ وہ ایک معزز نبی ہیں۔ نیز حضرت کی اس دعا سے ” جبکہ نہ مال کوئی فادئہ دے نہ اولاد ، بجز اس کے کہ کوئی قلب سلیم لے کر اللہ کے حضور حاضر ہو۔ “ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے یوم قیامت کی ذمہ داریوں کو کس قدر تفصیل کے ساتھ سمجھ لیا تھا۔ نیز آپ نے دنیاوی اقدار اور اسلامی اقدار کو بھی اچھی طرح سمجھ لیا تھا۔ کیونکہ یوم القیامہ میں وہی کامیاب ہوگا جو اخلاص کے ساتھ آئے اور اس کا دل اللہ کے لئے ہوجائے اور اس کے اندر دنیا کا کوئی بت یا مقصد نہ ہو۔ ہر بیماری سے پاک ہو ، ہر مفاد سے پاک ہو ، ہر قسم کی خواہشات اور انحرافات سے پاک ہو۔ اللہ کے سوا کسی اور الہ و معبود سے اس کا کوئی تعلق نہ ہو۔ یہ ہے قلب کی سلامتی جس کا اسلام اور قیامت میں کوئی وزن ہوگا۔ یوم لاینفع مال ولابنون (26 : 88) ” جبکہ نہ مال کوئی فائدہ دے گا نہ اولاد۔ “ دنیا کی کوئی قدر اور کوئی ترجیح اس دن مفید مطلب نہ ہوگی حالانکہ اس دنیا میں ان مطالب اور ترجیحات کے پیچھے انسان کتوں کی طرح دوڑتے ہیں لیکن آخرت کے ترازو میں یہ ترجیحات بےوزن ہیں۔ اب یہاں قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر آتا ہے۔ وہ دن جس سے حضرت ابراہیم اس قدر خائف ہیں تو وہ دیکھو وہ دن نمودار ہوا۔ حضرت ابراہیم ابھی ہاتھ اٹھائے ہوئے ہیں اور سدت بدعا ہیں کہ منظر پر اس دن کا نقشہ نمودار ہوتا ہے۔
Ayahs 26:90–102

وَ اُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 26:90 in the Quran reader

”(اس روز) پرہیز گاروں کیق ریب لے آئی جائے گی

وَ بُرِّزَتِ الْجَحِیْمُ لِلْغٰوِیْنَۙ Open ayah 26:91 in the Quran reader

اور دوزخ بہکے ہوئے لوگوں کے سامنے کھول دی جائے گیا

وَ قِیْلَ لَهُمْ اَیْنَمَا كُنْتُمْ تَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 26:92 in the Quran reader

ور ان سے پوچھا جائے گا کہ ” اب کہاں ہیں وہ جن کی تم خدا کو چھوڑ کر عبادت کرتے تھے ؟

مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ هَلْ یَنْصُرُوْنَكُمْ اَوْ یَنْتَصِرُوْنَؕ Open ayah 26:93 in the Quran reader

کیا وہ تمہاری کچھ مدد کر رہے ہیں یا خود اپنا بچائو کرسکتے ہیں ؟

فَكُبْكِبُوْا فِیْهَا هُمْ وَ الْغَاوٗنَۙ Open ayah 26:94 in the Quran reader

“ پھر وہ معبود اور یہ بہکے ہوئے لوگ ،

وَ جُنُوْدُ اِبْلِیْسَ اَجْمَعُوْنَؕ Open ayah 26:95 in the Quran reader

اور ابلیس کے لشکر سب کے سب اس میں اوپر تلے دھکیل دیئے جائیں گے

قَالُوْا وَ هُمْ فِیْهَا یَخْتَصِمُوْنَۙ Open ayah 26:96 in the Quran reader

وہاں یہ سب آپس میں جھگڑیں گے

تَاللّٰهِ اِنْ كُنَّا لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 26:97 in the Quran reader

اور یہ بہکے ہوئے لوگ (اپنے معبودوں سے) کہیں گے کہ ” خدا کی قسم ، ہم تو صریح گمراہی میں مبتلا تھے

اِذْ نُسَوِّیْكُمْ بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 26:98 in the Quran reader

جب کہ تم کو رب العالمین کی برابری کا درجہ دے رہے تھے

وَ مَاۤ اَضَلَّنَاۤ اِلَّا الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 26:99 in the Quran reader

، اور وہ مجرم لوگ ہی تھے جنہوں نے ہم کو اس گمراہی میں ڈالا

فَمَا لَنَا مِنْ شَافِعِیْنَۙ Open ayah 26:100 in the Quran reader

اب نہ ہمارا کوئی سفارشی ہے

وَ لَا صَدِیْقٍ حَمِیْمٍ Open ayah 26:101 in the Quran reader

اور نہ کوئی جگری دوست

فَلَوْ اَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:102 in the Quran reader

کاش ہمیں ایک دفعہ پھر پلٹنے کا موقع مل جائے تو ہم مومن ہوں

وازلفت ……من المومنین (98) جنت کو ایسے لوگوں کے بالکل قریب کر دیاج ائے گا جو خدا کے عذاب سے ڈرتے تھے اور جہنم پرت بھی پردہ اٹھا دیا جائے گا بہکے ہوئے سرکش گمراہوں کے لئے بالکل صاف صاف نظر آئے گی ، وہ لوگ جنہوں نے راستہ گم کردیا تھا اور اس دن کو جھٹلاتے تھے۔ اب وہ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ یہاں اب ان پر لعنت و ملامت ہوگی اور قبل اس کے کہ انہیں اس میں اوپر نیچے گرا دیا جائے۔ ان سے پوچھا جائے گا کہ یہ لوگ جن معبودوں کی بندگی کرتے تھے ، وہ کہاں ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قصے کی مناسبت سے یہاں یہ سوال لایا گیا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے ساتھ ایسا ہی مکالمہ کیا تھا کہ آیا یہ بت سنتے بھی ہیں یا نفع و نقصان ہی دے سکتے ہیں۔ اب قیامت میں ان سے کہا جائے گا۔ اینما کنتم تعبدون (26 : 92) من دون اللہ (26 : 93) ” کہ اللہ کے سوا تم جن کی پوجا کرتے تھے وہ کہاں ہیں۔ “ ھل ینصرونکم او ینتصرون (26 : 93) ” کیا وہ تمہارے کچھ مدد کرسکتے ہیں یا اپنا بچائو کرسکتے ہیں۔ “ اس کے بعد ان کا کوئی جواب سامنے نہیں آتا نہ ان کے جواب کا انتظار کیا جاتا ہے۔ یہاں تو محض سوال کرنا ہی مطلوب تھا ، صرف سوال ہی سے سرکوبی اور ملامت مطلوب تھی۔ فکبکبوا فیھا ھم والغاون (26 : 93) وجنود ابلیس اجمعون (26 : 95) ” پھر وہ معبود ، یہ بہکے ہوئے لوگ اور ابلیس کے لشکر سب کے سب اس میں اوپرتلے دھکیل دیئے جائیں گے۔ ‘ لفظ کمبکبوا کے تلفظ ہی سے اور اس کی صوتی شوکت سے ہی یہ تاثر ملتا ہے کس طرح انہیں دفع کیا جاتا ہے ، کس طرح جہنم کے دھانے سے نیچے بےرحمی کے ساتھ گرایا جاتا ہے ، بغیر کسی ترتیب اور رعایت کے یہ لوگ اوپر تلے کرتے ہیں اور اس پورے عمل سے ایک کبکبہ اور ایک غلفلہ بلند ہوتا ہے۔ جس طرح دریا کا کوئی بلند کنارہ گرتا ہے اور اس کے کرنے کی ڈوبی ہوئی آواز بلند ہوتی ہے۔ کبکبوا ایسا ہی لفظ ہے جس کے تلفظ ہی سے مفہوم ذہن کی طرف دوڑتا ہے۔ یہ چونکہ گمراہ اور سرکش تھے اس لئے ان کے ساتھ سب سرکش گرائے گئے اور شیطان کے لشکر کے لشکر لائے جاتے ہیں اور گرائے جاتے ہیں اور ان کے گرنے سے کبکبہ اور غلغلہ بلند ہوتا ہے۔ یہاں مخصوص مجرمین کو پہلے خصوصیت کے ساتھ گرایا جائے اور بعد میں عام گرانی شروع ہوگی۔ اب یہ لوگ جہنم میں پڑے ہیں مگر مکالمہ بھی سنائی دیتا ہے۔ یہ اپنے بتوں اور الموں کے بارے میں اب یوں تبصرے کرتے ہیں۔ تاللہ ان کنا لفی ضلل مبین (26 : 98) اذنسوبکم برب العلمین (26 : 98) ” یہ بہکے ہوئے لوگ ان مبعودوں سے کہیں گے خدا کی قسم ہم تو تصریح گمرایہ میں مبتلا تھے جبکہ تم کو رب العالمین کی برابری کا درجہ دے رہے تھے۔ “ تمہاری عبادت بھی رب العالمین کی عبادت کی طرح کرتے تھے۔ یا تو رب العالمین کے ساتھ تمہاری عبادت کرتے تھے یا اس سے الگ۔ اب تو یہ لوگ جہنم میں یہ بات کہہ رہے ہیں لیکن اس کا فائدہ کیا ہے ؟ یہ تو سب ذمہ داری ان لوگوں پر ڈال رہے ہیں جنہوں نے ان کو گمراہ کیا تھا۔ جنہوں نے ان کو گمراہ کیا اور راہ راست کی طرف آنے سے روک دیا لیکن جب یہ جہنم میں قرار پکڑیں گے تو ہوش آئے گا کہ اب تو وقت گزر گیا ہے ۔ اور یہ واویلا بعد از وقت ہے۔ اب اگر ہم ذمہ داریاں تقسیم بھی کردیں تو فائدہ کیا ہوگا۔ فما لنا من شافعین (26 : 100) ولا صدیق حمیم (26 : 101) ” اب نہ ہمارا کوئی سفارشی ہے اور نہ کوئی جگری دوست۔ “ اب نہ الہ ہیں جو سفارش کریں۔ نہ دوست ہیں جو کام آئیں۔ اگر سفارش نہیں ہے تو کیا ہم دنیا کی طرف لوٹ نہیں سکتے کہ وہاں دوبارہ جا کر درست رویہ اختیار کریں۔ فلو ان لنا کرہ فنکون من المومنین (26 : 102) ” کاش ہمیں ایک دفعہ پھر پلٹنے کا موقعہ مل جائے تو ہم مومن ہوں “۔ مگر یہ تو تمناہی تمنا ہوگی۔ نہ واپسی ہوگی ، نہ سفارش ہوگی۔ یہ ہوگا یوم الدین۔ اب آخری تبصرہ !
Ayahs 26:103–104

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:103 in the Quran reader

” یقینا اس میں ایکب ڑی نشانی ہے۔ مگر ان میں سے اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:104 in the Quran reader

اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب زبردست بھی ہے اور رحیم بھی۔ “

ان فی ……الرحیم (104) یہ وہی تبصرہ ہے جو اس سورت میں قوم عاد ، قوم ثمود اور قوم لوط کی تباہی کے واقعات کے بیان کے بعد آیا ہے۔ نیز یہ تبصرہ ان تمام معجزات کے بعد بھی آیا ہے۔ جو جھٹلانے والوں کو دکھائے گئے۔ قیامت کے مناظر میں سے یہ منظر ان مکذبین کے مناظر عبرت کے بالمقابل آیا ہے۔ جن کا تذکرہ اس سورت میں آیا ہے اور جن کو اس جہاں میں نیست و نابود کیا گیا ۔ یہاں قوم ابراہیم اور ان مشرک اقوام کے انجام کی تصویر کشی کی گئی تھی اور اس سورت کے تمام قصص سے یہی سبق دینا مطلوب ہے۔ قرآن کریم میں قیامت کے مناظر اسی طرح پیش کئے جاتے ہیں جس طرح گویا یہ افعال ہمارے سامنے واقع ہو رہے ہیں۔ ہمیں نظر آ رے ہیں۔ اس انداز بیان سے وہ انسانی شعور کا جزء بن جاتے ہیں۔ انسانی وجدان جاگ اٹھتا ہے جس طرح تاریخ میں انسانوں نے دیکھا کہ مکذبین کو مختلف عذابوں میں مبتلا کر کے نیست و نابود کیا گیا اور لوگ دیکھتے ہی رہے۔ اسی طرح قیامت کے مناظر ہوں گے۔
Ayahs 26:105–108

كَذَّبَتْ قَوْمُ نُوْحِ اِ۟لْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 26:105 in the Quran reader

” قوم نوح نے رسولوں کو جھٹلایا

اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ نُوْحٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ Open ayah 26:106 in the Quran reader

یاد کرو جب کہ ان کے بھائی نوح (علیہ السلام) نے ان سے کہا تھا ” کیا تم ڈرتے نہیں ہو

اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 26:107 in the Quran reader

میں تمہارے لئے ایک امانت دار رسول ہوں ،

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:108 in the Quran reader

لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو

درس نمبر 164 ایک نظر میں جس طرح سابقہ قصے میں گردش ایام کو پ یچھے کی طرف دوڑایا گیا تھا اور روئے سخن قصہ مسویٰ سے پیھچے قصہ ابراہیم کی طرف چلا گیا تھا۔ یہاں بھی قصہ ابراہیم سے آپ مزید پیچھے قصہ نوح کی طرف ہم جا رہے ہیں۔ یہاں دراصل تاریخی ترتیب قصص ملحوظ نہیں ہے۔ مقصد شرکیہ عقائد کے خلاف جدوجہد کے چند نمونے دینے ہیں۔ قصہ نوح بھی قصہ موسیٰ اور قصہ ابراہیم کی طرح کئی سورتوں میں آیا ہے۔ یہ قصہ اس سے قبل سورة اعراف میں آیا ہے۔ سورة اعراف میں نزول آدم کے بعد اتخصار کے ساتھ آیا تھا جس میں آپ نے قوم کو توحید کی طرف بلایا تھا اور قیامت کے دن کے عذاب عظیم سے ڈرایا تھا اور یہ بتایا تھا کہ قوم نوح نے اپنا نوح (علیہ السلام) سے کہا کہ وہ گمراہ ہوگ ئے ہیں۔ ان کو تعجب ہوا کہ اللہ ان کے طرف ان جیسا انسان کس طرح بھیج سکتا ہے کہ وہ دوسرے انسانوں کو ہدایت دے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ نے آپ کی قوم کو غقر کیا اور آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو نجات دی۔ یہ قصور سورة یونس میں بھی اختصار کے ساتھ پیش کیا گیا ہے ، یہ آپ کی راسلت کا آخری دور تھا ، جب آپ نے اپنی قوم کو چیلنج کیا۔ انہوں نے ان کی تکیذب کی۔ آپ اور آپ کے ساتھیوں کو کشتی کے ذریعے نجات ملی اور دور سے فریق کو غرق کردیا گیا۔ سورت ہود میں اس قصے کی تفصیلات دی گیء ہیں اس میں کشتی ، طوفان اور اپنے بیٹے کے بارے میں حضرت نوح کی دعا جو غرق ہوا اور پھر طوفان کے بعد کے واقعات اور وہ واقعات جو طوفان سے پہلے تبلیغ کے دوران ان کو پیش ائٓے۔ سورت المومنون میں بھی یہ قصہ آیا ہے۔ وہاں حضرت نوح اپنی قوم کو رب واحد کی بندگی کی دعوت دیتے ہیں جبکہ قوم یہ اعتراض کرتی ہے کہ تم تو ہم جیسے انسان ہو اور ہم پر فضیلت حاصل کرنے کے لئے یہ باتیں کرتے ہو۔ اگر اللہ کو کوئی نبی بھیجنا بھی تھا تو وہ فرشتے بھیج سکتا تھا انہوں نے آپ پر مجنوں ہونے کا الزام عائد کیا۔ وہاں پھر حضرت نوح رب کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور نصرت طلب کرتے ہیں اور وہاں پھر کشتی اور طوفان کی طرف ایک سرسری اشارہ ہوتا ہے۔ بالعموم قصہ نوح ، قصص عاد ، ثمود ، لوط اور الہ مدین کے قصے کے ساتھ آتا ہے۔ اس سورت میں بھی یہی صورت حال ہے۔ یہاں اس قصے میں جو بات کہی گئی ہے وہ یہ ہے کہ وہ قوم سے کہتے ہیں کہ خدا خوفی اختیار کرو ، یہ کہ وہ ان سے کسی اجر کے طلبگار نہیں ہیں اور یہ کہ ان کی قوم کے کبراء ان سے جو مطالبہ کرتے تھے کہ تمہارے پاس جو غریب اہل ایمان چپکے ہوئے ہیں ان کو دور کرو جس سے حضرت نوح انکار فرماتے تھے اور بعینہ یہی مطالبہ حضور اکرم سے بھی اہل مکہ کرتے تھے۔ اس کے بعد حضرت نوح دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ ان کے اور ان کی قوم کے تنازعہ کا فصلہ حق کے ساتھ فرما دے۔ اللہ ان کے اس سوال کو پورا کرتا ہے اور مکذبین کو ہلاک کرتا ہے اور اہل ایمان کو بچا لیتا ہے۔ درس نمبر 164 تشریح آیات 105………تا …………122 کذبت قوم نوح المرسلین (105) یہ تو قصے کا انجام بتا دیا ، قصے کا انجام پہلے لا کر پھر تفصیلات دی جاتی ہیں تاکہ قاری کو معلوم ہوجائے کہ روئے سخن کدھر ہے۔ سوال یہ ہے کہ قوم و نوح نے تو صرف نوح (علیہ السلام) کو جھٹلایا جبکہ قرآن کہتا ہے اس نے رسولوں کو جھٹلایا۔ رسالت اپنی حقیقت کے اعتبار سے دراصل ایک حقیقت ہے۔ تمام رسولوں کی دعوت یہی رہی ہے کہ اللو وحدہ لاشریک ہے اور صرف اسی کی بندگی کرنا چاہئے۔ جو شخص یا جو قوم ایک رسول کی تکذیب کرے وہ دراصل تمام رسولوں کی تکذیب کرتا ہے ۔ قرآن کریم اس مفہوم اور حقیقت کو مختلف مقامات پر دہراتا ہے۔ اور مختلف انداز اور اسالیب میں اس بات کو دہرایا جاتا ہے۔ اس لئے کہ یہ اسلامی نظریہ حیات کا ایک مسلمہ اصول ہے تمام رسولوں کی دعوت میں یہ اصول مسلم ہر ہے ہیں۔ اور اسی اصول پر انساینت کی تقسیم ہوتی رہی ہے۔ یعنی رسولوں کو ماننے والے ایک طرف اور نہ ماننے والے دورسی طرف تمام رسالتوں اور تمام زمانوں میں ایسا ہی ہوتا رہا ہے ۔ ایک مسلمان جب دیکھتا ہے تو ہر دین اور ہر عقیدے میں امت ایک ہی رہی ہے۔ ابتدائی تاریخ سے لے کر آج تک اور آخری دین توحید اسلام تک۔ ہر ملت اور ہر دین میں صنف مخلاف کافروں اور منکرین کی رہی ہے۔ اہل ایمان وہ ہیں جو رسولوں پر ایمان لاتے ہیں اور اہل کفر وہ ہیں جو انکار کرتے ہیں۔ اہل ایمان تمام رسولوں کا احترام کرتے ہیں اور ان پر ایمان لاتے ہیں کیونکہ منصب رسالت کی نوعیت اور حقیقت ایک ہے۔ ایک مسلم کے اندازے کے مطابق انسانیت کی تقسیم رنگوں ، علاقوں اور نسلوں کے مطابق نہیں کی جاسکتی۔ انسانیت کی تقسیم صرف اہل حق اور الہ باطل دو گروہوں کے درمیان ہوتی ہے اور آغاز انسانیت سے لے کر یہی تقسیم رہی ہے۔ لہٰذا اسلامی نقطہ نظر سے تاریخ کے لئے ایک ہی معیار اور ایک ہی رتازو ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک مسلم کی ذہنیت اور اس کی سوچ یہ ہوتی ہے کہ وہ رنگ و نسل اور قوم و وطن سے بالا ہو کر سوچتا ہے ۔ اس کے موجودہ روابط یا تاریخی روابط وہی ہوتے ہیں جو ایمانی اقدار پر مبنی ہوں۔ وہ ایمانی اقدار کیا صول پر سب کا محاسبہ کرتا ہے اور اپنی تمام اقدار اور افکار کو ایمان ہی کے معیار پر تولتا ہے اذ قال لھم ……اطیعون (108) ۔ “ یہ تھی حضرت نوح کی قوم ، جس نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی تکذیب کی۔ خود اپنی قوم نے ان کی تکذیب کی اور وہ خود ان کے بھائی تھے۔ حالانکہ اخوت کا تقاضا تو یہ تھا کہ یہ لوگ نوح کے ساتھ روا داری برتنے اور اطمینان سے ایمان لاتے اور تصدیق کرتے۔ لیکن ان کی قوم نے برادرانہ رواداری کا مظاہرہ بھی نہ کیا اور خود اپنے بھائی کی ہمدردانہ باتوں کا ان پر کوئی اثر نہ ہوا۔ الاتتقون (26 : 106) ” کیا تم ڈرتے نہیں وہ۔ “…… اور اس انجام سے نہیں ڈرتے ہو جو اس رویہ کا لازمی نتیجہ ہے جس پر تم ہو۔ اور تمہارے دل خوف اور خشیت محسوس نہیں کرتے۔ خدا خوفی کی طرف بلانا اسی سورت کا مخصوص مضمون ہے۔ یہی بات حضری موسیٰ نے فرعون سے کہی اور یہی بات نوح نے اپنی قوم سے کہی اور یہی بات ہر رسول نے اپنی اپنی قوم سے کہی۔ انی لکم رسول امین (26 : 108) ” میں تمہارے لئے ایک امانت دار رسول ہوں۔ “ جو نہ خیانت کرتا ہے نہ دھوکہ دیتا ہے اور نہ کوئی چیز چھپاتا ہے۔ نہ کوئی کمی کرتا ہے اور نہ بیشی اور مبالغہ کرت ا ہے۔ بس جو کچھ اللہ نے حکم دیا وہ پہنچاتا ہے۔ فاتقوا اللہ و اطیعون (26 : 108) ” لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ “ یوں حضرت نوح (علیہ السلام) ان کو خد خوفی کی دعوت دیتے ہیں اور یہاں وہ ڈرنے کی نسبت اللہ کی طرف کرتے ہیں اور اس طرح ان کو اطاعت اور تسلیم پر آمادہ کرتے ہیں۔ پھر حضرت نوح دنیا کے مقاصد کی طرف سے ان کو اطمینان دلاتے ہیں۔ یہ کہ دعوت الی اللہ کیت حریک کے ساتھ ان کے کوء یمقاصد وابستہ نہیں ہیں۔ وہ ان سے کوئی اجر طلب نہیں کرتے کہ تم اللہ کی طرف رجوع کرو گے تو مجھے یہ انعام بھی دو گے۔ میرا اجر تو صرف اللہ پر ہے جس نے مجھے یہ دعوت دینے پر مامور کیا ہے۔ لوگوں سے یہ کہنا کہ میں تم سے کوئی دنیاوی اجر طلب نہیں کرتا ، یہ بات ہر نبی نے کی ہے اور معلوم یہ ہوتا ہے کہ ہر دور میں تحریک اسلامی کی دعوت دینے والوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ تحریک کے ساتھ اپنے اغراض و مقاصد وابستہ نہ کریں کیونکہ ایک سچے داعی اور جھوٹے داعی میں فرق ہی یہ ہوتا ہے کہ ایک جھوٹا داعی مفادات کے لئے دعوت سے وابستہ ہوتا ہے۔ تمام انبیاء کے زمانے میں کاہن اور دوسرے مذہب راہنما لوگوں کے اموال باطل طریقے سے کھاتے تھے۔ ان کا کام ہی یہ ہوتا تھا کہ مختلف طریقوں اور حیلوں سے لوگوں کے مال بٹورنے کی کوشش کریں۔ اس کے مقابلے میں داعیان حق ہمیشہ مخلص ہوتے تھے۔ وہ اس ہدایت پر کوئی فیس طلب نہ کرتے تھے۔ وہ یہ کہتے تھے کہ ہمارا اجر اللہ رب العالمین پر ہے۔
Ayah 26:109

وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 26:109 in the Quran reader

” میں اس کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں۔ میرا اجر تو رب العالمین کے ذمہ ہے۔ “

وما اسئلکم ……رب العلمین (109) یہاں ان سے مکرر یہ مطالبہ کیا جاتا ہے کہ خدا سے ڈرو اور اطاعت اختیار کرلو ، ہم تم سے کوئی اجر نہیں چاہتے نہ کا حصول چاہتے ہیں۔
Ayah 26:110

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِؕ Open ayah 26:110 in the Quran reader

” پس تم اللہ سے ڈرو اور (بےکھٹکے) میری اطاعت کرو۔ “

فاثقوا اللہ و اطیعون (110) لیکن لوگ ان پر عجیب اعتراض کرتے ہیں اور انسانی تاریخ میں تمام رسولوں پر یہ اعتراض کیا گیا ہے۔
Ayah 26:111

قَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ لَكَ وَ اتَّبَعَكَ الْاَرْذَلُوْنَؕ Open ayah 26:111 in the Quran reader

’ انہوں نے جواب دیا ” کیا ہم تجھے مان لیں حالانکہ تیری پیروی رذیل ترین لوگوں نے اتخیار کی ہے۔ “

قالوا انومن لک و اتبع الارزذلون (111) ’ یہاں ارزلون سے مراد غرباء فقرئا ہیں اور یہی وہ لوگ ہوتے ہیں جو رسولوں کی پیروی اختیار کرتے ہیں۔ یہی لوگ ایمان لاتے اور استقامت بھی کرتے ہیں اور ان غرباء کو راہ ہدایت اختیار کرنے سے یہی بےکار کبرا روکتے ہیں اور یہ اس لئے روکتے ہیں کہ معاشرے میں ان کی پوزیشن اور ان کا مقام و مرتبہ کہیں آگے سے گر نہ جائے۔ غریب لوگ تو ہمیشہ دعوت پر لبیک کہتے ہیں اور کبرا محروم رہتے ہیں ان کا مقام و مرتبہ انہیں حق سے دور رکھتا ہے۔ وہ اپنی مصلحتوں ، جھوٹے حالات اور وہی روایات کے خول سے باہر نہیں آسکتے۔ پھر یہ کبرا اور معتربین عقیدہ توحید اختیار کر کے یہ پسند نہیں کرتے کہ عامتہ الناس اور جمہور کے ساتھ ان کا مقام اور مرتبہ برابر ہوجائے۔ کیونکہ اسلام میں داخل ہو کر نہ وہ خصوصی مراعات کا مطالبہ کرسکتے ہیں اور جھوٹے مرتبے کو قائم رکھ سکتے ہیں۔ جبکہ اسلامی معاشرے میں ایک ہی قدر ہے ” ایمان اور عمل صالح ‘ یہی کسی کو اٹھانی ہے اور سکی کو گراتی ہے اور اسلامی معاشرے میں ایک ہی میزان ہے ” عقیدہ اور درست عمل “۔ چناچہ حضرت نوح ان کو ایسا جواب دیتے ہیں جو ان ثابت شدہ قدروں کی تصدیق کرتا ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ رسول کا فریضہ کیا ہے اور کیا نہیں ہے۔ لوگ جو کچھ کرتے ہیں ان کا ذمہ دار سوال نہیں ہے ۔ حساب و کتاب لینے والا اللہ ہے۔
Ayahs 26:112–115

قَالَ وَ مَا عِلْمِیْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَۚ Open ayah 26:112 in the Quran reader

نوح نے کہا ” میں کیا جانوں کہ ان کے عمل کیسے ہیں

اِنْ حِسَابُهُمْ اِلَّا عَلٰى رَبِّیْ لَوْ تَشْعُرُوْنَۚ Open ayah 26:113 in the Quran reader

ان کا حساب تو میرے رب کے ذمہ ہے ، کاش تم کچھ شعور سے کام لو

وَ مَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الْمُؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 26:114 in the Quran reader

میر ایہ کام نہیں ہے کہ جو ایمان لائیں ان کو میں دھتکاردوں

اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌؕ Open ayah 26:115 in the Quran reader

میں تو بس ایک صاف صاف متنبہ کردینے والا آدمی ہوں۔ “

قال وما علمی ……نذیر مبین (115) یہ بڑے لوگ عوام کے بارے میں ہمیشہ یہی کہتے ہیں کہ ان کے اخلاق و عادات اعلیٰ معیار کے نہیں ہوتے اور نہ ہی اعلیٰ طبقات میں برداشت کئے جاتے ہیں کیونکہ یہ اعلیٰ طبقات کے لوگ بہت زیادہ حساس ہوتے ہیں اور ذوق لطیف رکھتے ہیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) ان سے کہتے ہیں کہ میں تو لوگوں سے ایمان لانے کے سوا کچھ مطالبہ نہیں کرتا اور یہ غریب لوگ جب ایمان لے آئے ہیں تو میں ان سے اب اور کیا مطالبہ کروں۔ اس سے قبل ان کے جو اعمال تھے وہ خدا ہی جانتا ہے۔ ان کی قدر و قیمت کا تعین اللہ کرے گا۔ اور اچھائیوں اور برائیوں پر جزا و سزاب ھی اللہ دے گا۔ اللہ ہر چیز کو جانتا ہے اور تمہاری حالت ہی ہے کہ وہ مانشعرون ” تم شعور نہیں رکھتے “ کہ اللہ کے ترازو میں کون وزن رکھتا ہے جہاں تک میرا تعلق ہے تو میرا فریضہ صرف کھلے اندازے ڈرانا ہے۔ جب حضرت نوح (علیہ السلام) نے واضح دلائل اور سیدھی منطق پیش کی اور اب وہ اس بات سے عاجز آگئے کہ حضرت نوح کے ساتھ مزید کوئی مکالمہ کرسکیں تو انہوں نے وہی ہتھیار استعمال کرنے کی دھمکی دی جس کو سرکش اور ظالم اور جابر ہمیشہ اختیار کرتے ہیں۔ یعنی حجت اور برہان کے مقابلے میں ڈنڈا۔ ہر زمان و مکان میں لاجوبا انسان کا یہی دستور ہوتا ہے کہ جب اس کے پاس دلیل کا توشہ ختم ہوتا ہے تو وہ ہتھیار نکالتا ہے۔