26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsفی ظلال القرآن

Ayahs 26:155–156

قَالَ هٰذِهٖ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَّ لَكُمْ شِرْبُ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍۚ Open ayah 26:155 in the Quran reader

صالح نے کہا ” یہ اونٹنی ہے ، ایک دن اس کے پینے کا ہے اور ایک دن تم سب کے پانی پینے کا

وَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَكُمْ عَذَابُ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 26:156 in the Quran reader

اس کو ہرگز نہ چھوڑنا ورنہ ایک بڑے دن کا عذاب تم کو آ لے گا۔ “

قال ھذہ ……یوم عظیم (161) یہ معجزانی اونٹنی اس شرط پر آئی کہ جو محدود آغوشی کی سہولتیں انہیں حاصل تھیں وہ ایک دن کے لئے ناقہ کے لئے وقف ہوں گی اور دوسرا دن ان کے لئے اور انکے مویشیوں کے لئے ہوگا۔ نافقہ کے دن میں یہ دخل اندازی نہ کریں گے اور نہ ناقہ ان کے دن پانی پینے گی۔ دونوں دنوں کا پانی اکٹھا نہ ہوگا۔ نہ ان کا ان ناقہ کے دن سے ملے گا اور نہ ناقہ کا ان کے دن سے۔ تو صالح (علیہ السلام) نے ان کو ڈرایا کہ اس کے ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ نہ کرو گے۔ ورنہ ایک عظیم عذاب تم پر نازل ہوجائے گا۔ ان سرکشوں کے لئے یہ معجزہ کوئی مفید ثابت نہ ہوا۔ ان کے دلوں کے اندر ایمان بھی نہ داخل ہوا ، ان کی روحانی دنیا پر ظلمتیں چھائی رہیں لیکن پانی ان کے لئے نصف ہوگیا۔ باوجود تاکید و وصیت کے ان سے نہ رہا گیا۔ انہوں نے وعدہ خلافی کردی۔
Ayah 26:157

فَعَقَرُوْهَا فَاَصْبَحُوْا نٰدِمِیْنَۙ Open ayah 26:157 in the Quran reader

’ مگر انہوں نے اس کو چیں کاٹ دیں اور آخر کار پچھتاتے رہ گئے۔ “

فعقروھا فاصبحوا ندمین (157) ’ عقر کے عنی ذبح کرنے کے ہوتے ہیں اور جن لوگوں نے یہ کام کیا ، یہ وہی تھے جو زمین میں فساد کرتے تھے اور اصلاح نہ کرتے تھے۔ ان کو حضرت صالح نے خوب ڈرایا تھا مگر وہ حضرت صالح کی نسیبات کو خاطر میں نہ لائے۔ اس جرم کا عذاب پوری قوم کو ملا اور سب پکڑے گئے۔ یہ لوگ آخر کار عذاب دیکھ کر نادم ہوگئے تھے لیکن وقت کے بعد ندامت کا فائدہ ہی کیا ہوتا ہے۔ وقت کے بعد ایمان اور تصدیق کا کیا فائدہ۔
Ayahs 26:158–159

فَاَخَذَهُمُ الْعَذَابُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:158 in the Quran reader

” عذاب نے انہیں آ لیا۔ “ ’ یقینا اس میں ایک نشانی ہے ، مگر ان میں سے اکثر لوگ ماننے والے نہیں

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:159 in the Quran reader

’ اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب زبردست بھی ہے اور رحیم بھی۔ “

فاخذھم العذاب ط یہاں اس عذاب کی تفصیلات نہیں دی گئیں کیونکہ اس سورت میں تمام قصص کو اختصار کے ساتھ لانا مقصود تھا۔ اور اب آخری سبق :
Ayahs 26:160–164

كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطِ اِ۟لْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 26:160 in the Quran reader

’ لوط کی قوم نے رسولوں کو جھٹلایا۔

اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ لُوْطٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ Open ayah 26:161 in the Quran reader

یاد کرو جب کہ ان کے بھائی لوط نے ان سے کہا تھا ” کیا تم ڈرتے نہیں ؟

اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 26:162 in the Quran reader

’ میں تمہارے لئے ایک امانت دار رسول ہیں

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:163 in the Quran reader

لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔

وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:164 in the Quran reader

میں اس کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں ، میرا اجر تو رب العالمین کے ذمہ ہے۔ “

درس نمبر 167 تشریح آیات 160…………تا ……………175 کذبت قوم ……رب العلمین (140) قصہ عوط یہاں لایا گیا ہے حالانکہ تاریخی اعتبار سے اس کا زمانہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا زمانہ ہے۔ لیکن اس سورت میں قصص کی تاریخی ترتیب کا لحاظ نہیں رکھا گیا۔ یہاں اصل بات یہ دکھائی مطلب ہے کہ تمام انبیاء کی دعوت ایک ہی رہی ہے۔ طریقہ کار بھی سب کا ایک ہی رہا ہے اور جھٹلانے والوں کا انجام بھی ایک ہی رہا ہے۔ یعنی مکذبین کو ہلاک کیا گیا اور مومنین کو عذاب سے بچایا گیا۔ حضرت لوط (علیہ السلام) بھی دعوت کا آغاز اسی طرح کرتے ہیں جس طرح حضرت نوح ، حضرت ہود اور حضرت صالح (علیہ السلام) کرتے ہیں۔ قوم کی سرکشی اور عیاشی پر گرفت کرتے ہیں۔ ان کو خدا خوفی ایمان اور اطاعت رسول کی طرف بلاتے ہیں اور یہ اعلان بھی کرتے ہیں کہ اس ہدایت اور راہنمائی پر وہ ان سے کوئی مالی معاوضہ نہیں مانگتے۔ اس کے بعد حضرت ان کو نسبہ کرتے ہیں کہ تم جس بدی میں مبتلا ہو ، اس کا ارتکاب انسانی تاریخ میں نہیں کیا گیا۔
Ayahs 26:165–166

اَتَاْتُوْنَ الذُّكْرَانَ مِنَ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 26:165 in the Quran reader

” کیا تم دنیا کی مخلوق میں سے مردوں کے پاس جاتے ہو

وَ تَذَرُوْنَ مَا خَلَقَ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ عٰدُوْنَ Open ayah 26:166 in the Quran reader

اور تمہاری بیویوں میں تمہارے رب نے تمہارے لئے جو کچھ پیدا کیا ہے اسے چھوڑ دیتے ہو ؟ بلکہ تم لوگ تو حد سے ہی گزر گئے ہو۔ “

اتاتون الذکران ……قوم عدون (160) قوم لوط وادی اردن کی کئی بستیوں میں آباد تھی۔ یہ لوگ جس جرم کے عادی تھے وہ عمل قوم لوط کے نام سے مشہور ہے۔ یعنی مردوں کی ہم جنس پرستی اور عورتوں سے جنسی تعلق کو ترک کرنا۔ یہ نہایت ہی مکروہ فطری بےراہ روی تھی کیونکہ مرد اور عورتوں کو اللہ نے پیدا کیا ہے اور ہر ایک کے اندر ایک دوسرے کے لئے جابیت رکھی ہے۔ یہ اللہ کا ایک تخلیقی راز ہے۔ اس طرح اللہ نے انسانی زندگی کے تسلسل کا انتظام کیا۔ نسل کشی کا یہ انتظام اللہ نے مرد اور عورت کے درمیان ملاپ کے ذریعہ سے جاری کیا۔ یہ نظام بھی اللہ کے اس نظام کا ایک حصہ ہے جو اس نے اس پوری کائنات میں جاری فرمایا ہے۔ جس نے اس کائنات کے ہر شخص اور ہر چیز کو باہم مربوط کردیا ہے اور اس طرح اس کائنات میں جاری فرمایا ہے ۔ جس نے اس کائنات کے ہر شخص اور ہر چیز کو باہم مربوط کردیا ہے اور اس طرح اس کائنات کا ہر شخص اور ہر چیز ایک دوسرے کے ساتھ حالت تعاون میں ہے۔ رہی یہ حرکت کہ مرد ، مرد کے ساتھ جنسی تعلق قائم کریں تو یہ تعلق بےتعلق بےمقصد اور غیر پیداواری ہوگا اور اس سے کوء قمصد پورا نہ ہوگا اور یہ عمل فطرت کے قانون اور فطرت کے نظام دونوں کے خلاف ہوگا جن کے مطابق یہ کائنات چل رہی ہے۔ تعجب یہ ہے کہ بعض بےذوق لوگوں کو اس عمل میں لذت ملتی ہے حالانکہ حقیقی لذت وہ ہوتی ہے جس میں مرد اور عورت کا القاء ہو اور اس کے نتیجے میں مقاصد فطرت بھی پورے ہوں۔ لہٰذا عمل قوم لوط فطرت سے کھلا انحراف ہے۔ لہٰذا اس قوم کی سزا یہی تھی کہ یا تو دوبارہ آجائیں یا ان کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے۔ کیونکہ ایسے لوگ قافلہ انسانیت اور گروہ انسانیت سے نکل گئے ہیں اور اب انہوں نے وہ مقصد پورا کرنا چھوڑ دیا ہے جس کے لئے اللہ نے ان کو پیدا کیا تھا۔ یہ کہ سابقہ لوگوں کے فطری عمل سے یہ پیدا ہوئے اور انہوں نے اپنے فطری عمل سے آنے والی اقوام کو پیدا کرنا تھا۔ جب حضرت لوط نے ان کو دعوت دی کہ وہ اس غیر فطری بےراہ روی کو ترک کردیں اور اس بات پر انہوں نے ان کی سرزنش کی کہ انہوں نے اس کو راہ کو ترک کردیا جو رب نے ان کے لئے پیدا کیا ہے۔ انہوں نے فطرت کے خلاف بغاوت کردی ہے اور اللہ کی تخلیق فطرت کو رد کردیا ہے اور یہ معلوم ہوا کہ وہ اپنی اس روش کو چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہیں اور اللہ کی سنت اور فطرت کی طرف لوٹنے کو تیار نہیں ہیں۔
Ayah 26:167

قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ یٰلُوْطُ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُخْرَجِیْنَ Open ayah 26:167 in the Quran reader

” اگر تو ان باتوں سے باز نہ آیا تو جو لوگ ہماری بستیوں سے نکالے گئے ہیں ان میں تو بھی شامل ہو کر رہے گا۔ “

قالوا لئن ……المخرجین (167) حضرت لوط ان لوگوں میں باہر سے آ کر بس گئے تھے۔ یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ عراق سے آئے تھے۔ جب حضرت ابراہیم نے اپنے باپ اور اپنی قوم کو چھوڑ دیا اور اپنے ملک کو بھی چھوڑ دیا اور دریائے اردن عبور کر کے اس کے اس پار آباد ہوگئے تھے۔ حضرت لوط ان لوگوں میں آ کر آباد ہوگئے تھے اور بعد میں اللہ نے حضرت لوط کو انہی کی طرف نبی بنا کر بھیج دیا تھا تاکہ قوم لوط کے اندر جو برے کام راہ پا گئے تھے ، اس کی اصلاح فرما میں اب جبکہ وہ حضرت کی بات نہیں مانتے تو یہ دھمکی دیتے ہیں کہ اگر وہ باز نہ آئے تو اسے ملک سے نکال دیں گے یعنی وہ تو اس فعل سے باز نہیں آسکتے۔ لوط ہی دعوت کا کام بند کردیں۔ چناچہ حضرت لوط ان کی دھمکی کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اعلان کرتے ہیں کہ وہ تمہارے عمل کو نہایت ہی مکروہ عمل سمجھتے ہیں۔ یہ بہت بڑی گندگی اور گراوٹ ہے۔
Ayah 26:168

قَالَ اِنِّیْ لِعَمَلِكُمْ مِّنَ الْقَالِیْنَؕ Open ayah 26:168 in the Quran reader

” اس نے کہا ” تمہارے کرتوتوں پر جو لوگ کڑھ رہے ہیں ، میں ان میں شامل ہوں

قال انی لعملکم من القالین (168) ۔ “ الفلی کے معنی ہوتے ہیں شدید نفرت ، حضرت لوط (علیہ السلام) یوں اظہار نفرت کر کے ان کے منہ پر تھوکتے ہیں اور اس کے بعد رب تعالیٰ کی طرف دست بدعا ہوتے ہیں کہ اے اللہ مجھے ان لوگوں سے نجات دے۔
Ayah 26:169

رَبِّ نَجِّنِیْ وَ اَهْلِیْ مِمَّا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 26:169 in the Quran reader

” اے پروردگار مجھے اور میرے اہل و عیال کو ان کی بدکرداریوں سے نجات دے۔ “

رب نجی و اھلی مما یعملون (169) حضرت جس قسم کے معاشرے میں فرائض سر انجام دے رہے تھے وہ ان کے لئے عذاب تھا ، وہ ان لوگوں کے ساتھ نہ چل سکتے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ ان لوگوں کا عمل فطرتاً بھی مردود ہے۔ لیکن ادائیگی فرض کے لئے ان میں رہ رہے تھے۔ چناچہ انہوں نے دعا کی کہ انہیں اس معاشرے سے نجات مل جائے ۔ رب تعالیٰ نے دعا قبول کرلی۔
Ayahs 26:170–171

فَنَجَّیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 26:170 in the Quran reader

” آخر کار ہم نے اسے اور اس کے سب اہل و عیال کو بچا لیا ،

اِلَّا عَجُوْزًا فِی الْغٰبِرِیْنَۚ Open ayah 26:171 in the Quran reader

بجز ایک بڑھیا کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں تھی۔ “

فنجینہ واھلہ اجمعین الا عجوزاً فی الغبرین (171) یہ بوڑھی عورت کون تھی۔ یہ ان کی بیوی تھی۔ دوسری سورتوں میں تصریح آئی ہے۔ یہ بھی بڑی مگر وہ عورت تھی کہ یہ ان لوگوں کی حمایت میں تھی جو یہ مکروہ فعل کرتے تھے اور ان کی مددگار تھی۔
Ayahs 26:172–175

ثُمَّ دَمَّرْنَا الْاٰخَرِیْنَۚ Open ayah 26:172 in the Quran reader

” پھر باقی ماندہ لوگوں کو ہم نے تباہ کر دیا

وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَّطَرًا١ۚ فَسَآءَ مَطَرُ الْمُنْذَرِیْنَ Open ayah 26:173 in the Quran reader

اور ان پر برساتی ایک برسات بڑی ہی بری بارش تھی ، جو ان ذرائے جانے والوں پر نازل ہوئی۔ “

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:174 in the Quran reader

’ یقینا اس میں ایک نشانی ہے مگر ان میں سے اکثر لوگ ماننے الے نہیں

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:175 in the Quran reader

اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب زبردست بھی ہے اور رحیم بھی۔ “

ثم دمرنا……المنذرین (173) بعض لوگ کہتے ہیں کہ ان کے گائوں دھنس گئے اور پانی کے نیچے آگئے۔ ان گائوں میں سے ایک گائوں ” سدوم “ بھی تھا۔ آثا رقدیر کے ماہرین کہتے ہیں کہ یہ گائوں بحر مروار کے پانی کے نیچے موجود ہے۔ بعض علمائے طبقات الارض کا یہ نظریہ ہے کہ سحر مردار کے نیچے ایسے گائوں کے کھنڈرات ہیں جو کسی وقت آبادی سے بھرے ہوئے تھے۔ آثار قدیمہ کے ماہرین نے اس دریا کے پاس ایک قلعے کے آثار دریافت کئے ہیں اور اس قلعے کے قریب ہی ایک مذبح ہے جس کے اوپر قربانیاں دی جاتی تھیں۔ بہرحال قرآن کریم نے حضرت لوط کے گائوں کی کہانی اسی رطح پیش فرمائی ہے اور سابقہ اقوام کی خبروں کے سلسلے میں قرآن کریم ہی حقیقی اور سچا ماخذ ہے۔ کیونکہ اللہ کی کتابوں میں سے یہی محفوظ ہے۔ آخر میں وہی تبصرہ انہی الفاظ میں جو ہر قصے کے بعد آیا ہے۔
Ayahs 26:176–180

كَذَّبَ اَصْحٰبُ لْئَیْكَةِ الْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 26:176 in the Quran reader

” اصحاب الایکہ نے رسولوں کو جھٹلایا۔

اِذْ قَالَ لَهُمْ شُعَیْبٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ Open ayah 26:177 in the Quran reader

یاد کرو جب کہ شعیب نے ان سے کہا تھا ” کیا تم ڈرتے نہیں

اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 26:178 in the Quran reader

میں تمہارے لئے ایک امانت دار رسول ہوں۔

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:179 in the Quran reader

لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔

وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:180 in the Quran reader

میں اس کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں۔ میرا اجر تو رب العالمین کے ذمہ ہے۔ “

درس نمبر 168 تشریح آیات 176……تا……191 کذب اصحب……رب العلمین (180) یہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کا قصہ ہے۔ تاریخی اعتبار سے یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے کا واقعہ ہے۔ یہاں یہ قصہ بھی دوسرے قصص کی طرح محض عبرت اور نصیحت حاصل کرنے کے لئے آیا ہے۔ اصحاب ایک غالباً اہل مدین ہی کا نام ہے ایک ایک گہرے سائے والے ایسے درخت کو کہتے ہیں جو دہرا ہوگیا ہو اور مدین کے گائوں کو شاید ایسے بڑے بڑے درختوں نے گھیرا ہوا تھا۔ مدین حجاز اور فلسطین کے درمیان خلیج عقبہ کے کنارے تھا۔ ان کے سامنے حضرت شعیب نے وہی نظریہ حیات پیش کیا جو ہر رسول پیش کرتا چلا آ رہا ہے کہ اللہ کو ایک سمجھو ، میری دعوت قبول کرو ، میں اس پر تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا۔ اس اصل دعوت کے پیش کرنے کے بعد پھر اہل مدین کے لئے دعوت کا مخصوص حصہ پیش کیا جاتا ہے۔
Ayahs 26:181–183

اَوْفُوا الْكَیْلَ وَ لَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُخْسِرِیْنَۚ Open ayah 26:181 in the Quran reader

” ٹھیک بھرو اور کسی کو گھاٹا نہ دو ۔

وَزِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِیْمِۚ Open ayah 26:182 in the Quran reader

صحیح ترازو سے تولو

وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَۚ Open ayah 26:183 in the Quran reader

اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دو ۔ زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھرو۔ “

او فوا الکیل ……منسدین (182) جس طرح سورت اعراف اور ہود میں تفصیلات دی گئی ہیں کہ یہ لوگ ناپ اور تول میں مطلف تھے۔ یہ لوگ لیتے وقت جبراً لوگوں سے زیادہ لیتے تھے اور دیتے وقت یہ جبریا انکل سے کم دیتے تھے۔ لیتے وقت کم قیمت دیتے تھے اور دیتے وقت بہت مہنگے داموں فروخت کرتے تھ۔ معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں کی بستی کسی ایسے تجارتی شاہراہ پر تھی۔ جہا سے قافلے گزرتے تھے۔ یہ لوگ ان تجارتی قافلوں پر اپنی مرضی نافذ کرتے تھے۔ ان کے رسول ان کو یہ تعیم دیتے تھے کہ عدل اور انصاف کے ساتھ معاملہ کرو ، کیونکہ صاف اور سھترے عقیدے کا لازمی تقاضا ہے کہ معاملات میں بھی اچھائی اختیار کرو۔ یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ اچھا عقیدہ اچھا عمل اختیار کرنے کا حکم نہ دے اور حق انصاف اور عدل کے بارے میں نظریہ خاموش ہوجائے ۔ اب حضرت شعیہ (علیہ السلام) ان کے دلوں میں تقویٰ اور خدا خوفی کا جوش پیدا کرتے ہیں۔ وہ ان کو یاد دلاتے ہیں کہ ایک ذات ایسی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا ہے۔ یہ ذات تمام نسلوں کی پیدا کرنے والی ہے۔
Ayah 26:184

وَ اتَّقُوا الَّذِیْ خَلَقَكُمْ وَ الْجِبِلَّةَ الْاَوَّلِیْنَؕ Open ayah 26:184 in the Quran reader

’ اور اس ذات کا خوف کرو جس نے تمہیں اور گزشتہ نسلوں کو پیدا کیا۔ “

واتقوا الذی خلقکم والجبلۃ الاولین (184) ’ اس بات کا تو ان کے پاس کوئی جواب نہ تھا بس انہوں نے آسان الزام لگا دیا کہ آپ پر جادو چل گیا ہے۔ اس لئے آپ غلط ملط باتیں کرتے ہیں اور واہیات کہہ رہے ہیں۔
Ayah 26:185

قَالُوْۤا اِنَّمَاۤ اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِیْنَۙ Open ayah 26:185 in the Quran reader

’ انہوں نے کہا ” تو محض ایک سحر زدہ آدمی ہے

قالوآ انما انت من المسخرین (185) اور اگر آپ سحر زدہ نہیں ہیں تو پھر بھی ہم تیری رسالت کو نہیں مانتے اس لئے کہ تو تو ہماری طرح کا ایک آدمی ہے۔ رسول کوئی بشر نہیں ہو سکتا ، لہٰذا تو جھوٹا ہے۔
Ayah 26:186

وَ مَاۤ اَنْتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا وَ اِنْ نَّظُنُّكَ لَمِنَ الْكٰذِبِیْنَۚ Open ayah 26:186 in the Quran reader

” اور تو کچھ نہیں ہے مگر ایک انسان ہم ہی جیسا ، اور ہم تو تجھے بالکل جھوٹا سمجھتے ہیں۔ “

وما انت الا بشر مثلنا وان نظنک لمن الکذبین (186) ہاں اگر تم سچے ہو تو جس عذاب سے ہمیں ہر وقت ڈراتے ہو وہ لے کر آئو اور آسمان کا کوئی ٹکڑا یا تار اہم پر لا کر گرا دو ۔ یا آسمان کے ٹکڑے ٹکڑے کر دو اور ہم پر گرا دو ۔ “
Ayah 26:187

فَاَسْقِطْ عَلَیْنَا كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَؕ Open ayah 26:187 in the Quran reader

” اگر تو سچا ہے تو ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا دے

فاسقط علینا کسفاً من السمآء ان کنت من الصدیقین (187) یہ ایک ایسے شخص کا چیلنج ہے جو نہایت ہی سرکش ، مغرور اور لاپرواہ ہے۔ مکہ مکرمہ میں مشرکزین بھی للہ ﷺ سے ایسے ہی مطالبہ کرتے تھے۔
Ayah 26:188

قَالَ رَبِّیْۤ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 26:188 in the Quran reader

” شعیب (علیہ السلام) نے کہا ” میرا رب جانتا ہے جو کچھ تم کر رہے ہو۔ “

قال ربی اعلم بما تعملون (188) اور اس کے بعد پھر سیاق کلام میں جلد ہی فیصلہ چکا دیا جاتا ہے۔
Ayah 26:189

فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَهُمْ عَذَابُ یَوْمِ الظُّلَّةِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 26:189 in the Quran reader

’ انہوں نے اسے جھٹلا دیا آخر کار چھتری والے دن کا عذاب ان پر آگیا اور وہ بڑے ہی خوفناک دن کا عذاب تھا۔ “

فکذبوہ فاخذھم ……یوم عظیم (189) ’ ان کے بعد عذاب کے بارے میں روایات مختلف ہیں۔ بعض روایات میں یہ آیا ہے کہ اس قدر گری ہوئی کہ دم گھٹ کر مرنے لگے۔ اس کے بعد انہیں ایک بادل سا نظر آیا۔ اس کی طرف لپکے کہ سایہ لیں تو وہ اس قدر ٹھنڈا تھا جس طرح برف ۔ پھر یہ بادل ایک کڑک کی شکل اختیار کر گیا اور ان کو ہلاک کر کے رکھ دیا ۔ اس حوال ی سے ان کے عذاب کو بادل کے ٹکڑے کے دن سے تعبیر کیا گیا۔ اور اب وہی تبصرہ اور سبق آتا ہے جو تمام قصص کے بعد اس پوری سورت میں دہرایا گیا ہے۔
Ayahs 26:190–191

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:190 in the Quran reader

” یقینا اس میں ایک نشانی ہے ، مگر ان میں سے اکثر ماننے الے نہیں

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:191 in the Quran reader

اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب زبردست بھی ہے اور رحیم بھی۔ “

ان فی ذلک ……(191) یہاں آ کر اس سورت کے قصص ختم ہوجاتے ہیں اور اگلا سبق اس پوری سورت کے مضامین پر ایک تبصرہ ہے۔