24. Surah An-Noor

النورThe Light · 64 ayahsفی ظلال القرآن

Ayahs 24:52–53

وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَخْشَ اللّٰهَ وَ یَتَّقْهِ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 24:52 in the Quran reader

اور کامیاب وہی ہیں جو اللہ اور رسول ﷺ کی فرماں برداری کریں اور اللہ سے ڈریں اور اس کی نافرمانی سے بچیں۔ یہی لوگ کامیاب ہیں

وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ لَئِنْ اَمَرْتَهُمْ لَیَخْرُجُنَّ١ؕ قُلْ لَّا تُقْسِمُوْا١ۚ طَاعَةٌ مَّعْرُوْفَةٌ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 24:53 in the Quran reader

یہ (منافق) اللہ کے نام سے کڑی کڑی قسمیں کھاکر کہتے ہیں کہ ” آپ حکم دیں تو ہم گھروں سے نکل کھڑے ہوں “۔ ان سے کہو ” قسمیں نہ کھائو ‘ تمہاری اطاعت کا حال معلوم ہے۔ تمہارے کرتوتوں سے اللہ بیخبر نہیں ہے

(ومن یطع۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الفآئزون) (52) آیت سابقہ میں موضوع سخن یہ تھا کہ اہل ایمان اللہ اور رسول ﷺ کے فیصلوں میں مطیع فرمان ہوتے ہیں۔ اب یہاں کہا جاتا ہے کہ اہل ایمان کا شیوہ یہ ہوتا ہے کہ وہ قانونی فیصلوں کے علاوہ بھی اللہ کے احکام ونواہی کی پابندی کرتے ہیں اور یہ اطاعت وہ قانونی گرفت کے خوف سے نہیں کرتے بلکہ اللہ کی گرفت کے خوف سے وہ یہ اطاعت کرتے ہیں۔ تقویٰ خشیت سے ذرا عام لفظ ہے کیونکہ خشیت اور خوف سے ڈر ! آگے بڑھ کر تقویٰ میں چھوٹے اور بڑے معاملات میں احتیاط کا شعور انسان کے اندر پیدا ہوجاتا ہے جبکہ خشیت میں خوف اور ڈر کا پہلو ہوتا ہے۔ جو شخص اللہ اور رسول اللہ ﷺ سے ڈرتا ہے اور اطاعت کرتا ہے تو وہی کامیات ہوتا ہے۔ یہ شخص دنیا اور آخرت میں نجات پالیتا ہے۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے اور اللہ اپنے وعدے کی مخالفت نہیں کرتا۔ اور ایسے لوگ یقیناً کامیابی کے زیل بھی قرار پاتے ہیں اور ایسے لوگوں کی زندگی کے اندر ایسے اسباب ہوتے ہیں جو ان کی کامیابی کا سبب بنتے ہیں کیونکہ جو شخص اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کرتا ہے وہ دراصل اللہ کے طے کردہ سیدھے منہاج پر چل رہا ہوتا ہے۔ یہ منہاج اس لیے کامیاب ہوتا ہے کہ یہ خود اللہ نے علم و حکمت کی بنیاد طے کیا ہوتا ہے۔ اس منہاج کا مزاج اور اس کی فطرت کے اندر یہ کامیابی مضمر ہوتی ہے۔ دنیا کی کامیابی بھی اور آخرت کی بھی۔ پھر اس نظام میں اللہ کا خوف اور تقویٰ وہ چوکیدار ہوتے ہیں جو اس نظام پر انسانوں کو چلاتے ہیں اور یہ نظام درست رہتا ہے۔ یہ جس جاوئہ مستقیم پر چل رہے ہوتے ہیں اس پر ہر جگہ دھوکہ دینے والی چیزیں ان کے لیے دامن گیر ہوتی رہتی ہیں لیکن یہ لوگ اپنی راہ سے انحراف نہیں کرتے۔ یہ آداب کہ انسان اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت ‘ خدا خوفی تقویٰ اور خشیت کے ساتھ کرے نہایت ہی بلند آداب زندگی ہیں۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسے انسانوں کے دل نور ربانی سے روشن ہیں۔ یہ دل اللہ سے ملے ہوئے ہیں اور ان کے شعور میں خوف خدا بسا ہوا ہے اور ان آداب سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دل نہایت ہی معزز اور سربلند ہیں۔ کیونکہ کوئی شریف آدمی یہ پسند نہیں کرتا کہ وہ اپنے جیسے انسانوں کے سامنے ذلیل و خوار ہو اس لیے ایک مومن کا ضمیر اس سے ابا کرتا ہے۔ حقیقی اطاعت تو ہے ہی وہی جس میں اطاعت کرنے والا اس نظر سے اطاعت کرے کہ وہ ذات کبریا کی اطاعت کررہا ہے کیونکہ ایک سچا مومن صرف اللہ کے سامنے اپنے سر کو جھکا سکتا ہے۔ اہل ایمان کے ان اچھے آداب اور اہل نفاق کے ان برے آداب کے درمیان اس تقابل کے بعد کہ مومنین وہ ہوتے ہیں جو صرف اللہ کے سامنے جھکتے ہیں اور منافقین وہ ہوتے ہیں جو دعوائے ایمان تو کرتے ہیں لیکن مومن نہیں ہوتے ‘ اب منافقین کے بارے میں بقیہ بات مکمل کی جاتی ہے۔
Ayah 24:54

قُلْ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ١ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْهِ مَا حُمِّلَ وَ عَلَیْكُمْ مَّا حُمِّلْتُمْ١ؕ وَ اِنْ تُطِیْعُوْهُ تَهْتَدُوْا١ؕ وَ مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 24:54 in the Quran reader

“۔ کہو ” اللہ کے مطیع بنو اور رسول ﷺ کے تابع فرمان بن کر رہو۔ لیکن اگر تم منہ پھیرتے ہو تو خوب سمجھ لو کہ رسول ﷺ پر جس فرض کا بار رکھا گیا ہے اس کا ذمہ دار ہو ہے اور تم پر جس فرض کا بار ڈالا گیا ہے اس کے ذمہ دار تم ۔ اس کی اطاعت کرو گے تو خود ہی ہدایت پائو گے ورنہ رسول ﷺ کی ذمہ داری اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے کہ صاف صاف حکم پہنچا دے “۔

(واقسموا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الاالبلغ المبین) (52 : 53) منافقین رسول اللہ ﷺ کے سامنے آکر قسمیں کھاتے تھے کہ اگر آپ ہمیں لڑنے کے لیے حکم دیں تو ہم ضرور نکلیں گے۔ حالانکہ اللہ خوب جانتا ہے کہ جھوٹے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس یقین دہانی کو نہایت ہی حقارت رد فرماتا ہے۔ قل لا تقسموا طاعۃ معروفۃ (24 : 53) ” ان سے کہو ‘ قسمیں نہ کھائو ‘ تمہاری اطاعت کا حال معلوم ہے “ ۔ سب لوگ جانتے ہیں کہ تم کیسی اطاعت کرتے ہو۔ اور اس اطاعت پر قسمیں اٹھانے کی اب ضرورت نہیں ہے۔ یہ بات ایسے شخص سے کہی جاتی ہے کہ جس کا جھوٹ معلوم ہو اور وہ مشہور جھوٹاہو۔ کہا جاتا ہے جی بس قسم نہ اٹھائو تم تو معروف و مشہور سچے ہو۔ قسم کی ضرورت ہی کیا ہے۔ اس مذاقیہ انداز کے بعد یہ بھی کہا جاتا ہے۔ ان اللہ خبیر بما تعملون (24 : 53) ” اللہ تمہارے تمام اعمال سے خبردار ہے “۔ لہٰذا تمہیں قسموں اور تاکیدات کی ضرورت نہیں ہے۔ اللہ کو تو علم ہے کہ اگر حکم دیا گیا تو نہ تم نکلو گے اور نہ لڑو گے “۔ چناچہ دوبارہ ان کو اطاعت کا حکم سنجیدگی سے دیا جاتا ہے۔ یعنی کہا جاتا ہے کہ حقیقی اطاعت کرو۔ وہ اطاعت نہ کرو جو تمہارے بارے میں معروف ہے۔ قل اطیعوا اللہ و اطیعوا الرسول (24 : 54) ” ان سے کہو اللہ کے مطیع بنو اور رسول ﷺ کے تابع فرمان ہو کر رہو “۔ اگر تم منہ موڑتے ہو اور اللہ و رسول ﷺ کے احکام کی مخالفت کرتے ہو اور ان کو نافذ نہیں کرتے تو فان تولوا فانما علیہ ماحمل (24 : 54) ” تو رسول پر جو فرض عائد ہے وہ اس کا ذمہ دار ہے “۔ یعنی اس کے ذمہ پیغام رسالت کی تبلیغ کرنا ہے اور یہ فرض اس نے بحسن و خوبی ادا کردیا ہے۔ وعلیکم ما حملتم (24 : 54) ” اور تم پر جو فرض عائد کیا گیا ہے اس کے ذمہ دار تم ہو “۔ اور تمہاری ذمہ داری یہ ہے کہ تم اطاعت کرو اور خلوص کے ساتھ ایمان لائو۔ تم نے اس سے منہ موڑ لیا ہے اور تم نے یہ ذمہ داری پوری پوری ادا نہیں کی ہے۔ وان تطیعوہ تھتدوا (24 : 54) ” اس کی اطاعت کرو گے تو خود ہی ہدایت پائوگے “ ۔ راہ راست پر آجائو گے اور ایک صحیح نظام کے تحت زندگی بسر کر کے دنیا و آخرت میں فلاح پائو گے۔ وما علی الرسول الا البلغ المبین (24 : 54) ” رسول کی ذمہ داری اس سے زیادہ کچھ نہیں کہ وہ صاف صاف حکم پہنچا دے “۔ رسول ﷺ سے یہ نہ پوچھا جائے گا کہ تم ایمان لائے تھے یا ‘ اگر تم منہ پھیر لو تو اس فعل کی وجہ سے رسول کو مجرم نہ گردانا جائے گا۔ تم مجرم ہو گے اور تمہیں ہی اس پر سزادی جائے گی۔ تم پر یہ فرد جرم عائد ہوگی کہ تم نے اللہ اور رسول اللہ کے احکام کی خلاف ورزی کی ہے۔ منافقین کے معاملے کی تشریح کے بعد ‘ اب سیاق کلام ان کو ایک طرف چھوڑ دیتا ہے۔ اور اب کلام کا رخ اطاعت کیش مومنین کی طرف پھرجاتا ہے۔ بیان کیا جاتا ہے کہ ان کی اس اطاعت کی جزاء کیا ہوگی یعنی قیامت کے انعامات و اکرامات سے ادھر اس جہان میں ان کا صلہ کیا ہوگا۔
Ayah 24:55

وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِی الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١۪ وَ لَیُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِیْنَهُمُ الَّذِی ارْتَضٰى لَهُمْ وَ لَیُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًا١ؕ یَعْبُدُوْنَنِیْ لَا یُشْرِكُوْنَ بِیْ شَیْئًا١ؕ وَ مَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 24:55 in the Quran reader

اس نے وعدہ فرمایا ہے تم میں سے ان لوگوں کے ساتھ جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں کہ وہ ان کو اسی طرح زمین میں خلیفہ بنائے گا جس طرح ان سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کو بنا چکا ہے ‘ ان کے لیے ان کے اس دین کو مضبوط بنیادوں پر قائم کر دے گا جسے اللہ تعالیٰ نے ان کے حق میں پسند کیا ہے ‘ اور ان کی (موجودہ ) حالت خوف کو امن سے بدل دے گا ‘ بس وہ میری بندگی کریں اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں اور جو اس کے بعد کفر کرے تو ایسے ہی لوگ فاسق ہیں

(وعد اللہ الذین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ھم الفسقون) (55) ” “۔ یہ وعدہ ہے امت محمدیہ کے ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے اور انہوں نے عمل صالح کیا۔ وعدہ یہ ہے کہ ان کو اس زمین پر اقتدار اعلیٰ دیا جائے گا اور جس دین اسلام کو اللہ نے ان کے لیے پسند کیا ہے اس کو غلبہ نصیب ہوگا۔ ان کی حالت خوف کو حالات امن و سکون سے بدل دے گا۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے اور اللہ کا وعدہ ہمیشہ سچ ہوتا ہے اللہ کا وعدہ ہمیشہ واقع ہوتا ہے اور اللہ کبھی اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔ سوال یہ ہے کہ وہ کس قسم کے مومن ہیں جن کے ساتھ اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ ان کو زمین پر اقتدار دیا جائے گا۔ اس ایمان کی حقیقت جس کے نتیجے میں اللہ کا یہ وعدہ ہے کہ مومنین کو زمین کا اقتدار اعلیٰ عطا کیا جائے گا ‘ ایک عظیم حقیقت ہے اور وہ حقیقت پوری انسانی زندگی کو اپنے گھیرے میں لے ہوئے ہے۔ یہ حقیقت جب کسی انسان کے دل میں بیٹھ جاتی ہے تو اس کا ظہور اور اعلان عملی شکل میں ہوتا ہے۔ اس شخص کی تمام سرگرمیاں اللہ کی طرف متوجہ ہوجاتی ہیں۔ یہ مرد مومن رضائے الہی کے لیے کام شروع کردیتا ہے۔ اللہ کی اطاعت اور اس کے احکام و قوانین کے سامنے چھوٹے اور بڑے معاملات میں سر تسلیم خم کردیتا ہے۔ پھر کسی معاملے میں اس کے نفس کی کوئی خواہش باقی نہیں رہتی۔ نہ اس کے دل میں کوئی شہوت ہوتی ہے نہ اس کی فطرت میں کوئی کجی رہتی ہے اور یہ مومن ان تمام باتوں میں اللہ اور رسول اللہ کی اطاعت شروع کردیتا ہے۔ یہ ایمان ایسا ہوتا ہے کہ جس کے اندر انسان پوری طرح غرق ہوجاتا ہے۔ اس کے خیالات اس ایمان میں ڈوبے ہوئے ہوتے ہیں ‘ اس کے دل کی دھڑکن ایمان ہوتی ہے۔ اس کی روح کی دلچسپیاں ایمانی معاملات میں ہوتی ہیں۔ اس کی فطرت کے میلانات اور اس کے جسم کی حرکات اور اس کے اعضا کی گردشیں ‘ اس کا اپنے رب کے ساتھ سلوک اور اس کا عوام الناس کے ساتھ برتائو سب کے سب اللہ کے رنگ میں رنگے جاتے ہیں اور یہ باتیں سب کی سب آیت استخلاف میں موجود ہیں۔ اللہ تعالیٰ خود بیان کرتے ہیں کہ اس اقتدار اعلیٰ کی اعطاء کب ہوگی۔ یعبدوننی لا یشرکون بی شیئا (24 : 55) ” وہ میری بندگی کریں اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں “۔ شرک کی کئی اقسام ہیں۔ اللہ کے سوا کسی اور کی طرف عقائد میں ‘ عمل میں ‘ شعور میں متوجہ ہونا بھی شرک ہے۔ معلوم ہوا کہ ایمان ایک مکمل نظام زندگی کا نام ہے۔ اس میں اللہ کے تمام احکام وا وا مرشامل ہیں۔ اور جب یہ تمام احکام انسانی زندگی میں عملاً قائم ہوں تو اقتدار اعلیٰ کے تمام اسباب فراہم ہوجاتے ہیں۔ تیاری مکمل ہوجاتی ہے ‘ وسائل فراہم ہوجاتے ہیں اور انسان پھر امانت کبریٰ اور اقتدار اعلیٰ کا بوجھ اٹھانے کے قابل ہوجاتا ہے یعنی زمین پر اللہ کے خلیفہ ہونے کی امانت اس کے سپرد ہوجاتی ہے۔ استخلاف فی الارض یا زمین کے اقتدار اعلیٰ کا مفہوم کیا ہے ؟ اس سیمراد صرف یہ نہیں ہے کہ کسی قوم کو حکومت ‘ اقتدار اور آرڈر نافذ کرنے کے اختیارات مل جائیں بلکہ اللہ کا خلیفہ ہونے کا مفہوم یہ ہے کہ ان قوتوں کو کوئی اصلاح ‘ تعمیر اور ترقی کے لیے استعمال کرے۔ اس کے ذریعے اس نظام زندگی کی راہ ہموار کرے جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کے لیے بھیجا ہے تاکہ تمام انسانیت اس راہ پر چل نکلے اور انسان اس کرئہ ارض پر وہ کمال حاصل کرے جو اللہ نے اس کے لیے مقدر کیا ہے اور جس کی وجہ سے انسان مکرم ہوا ہے۔ اللہ کا خلیفہ وہ نہیں ہے جو دنیا میں فساد اور تخریب کا کام کرے بلکہ وہ ہوتا ہے جو اس دنیا کی اصلاح ‘ تعمیر اور ترقی میں حصہ لے اور دنیا کو انصاف اور عدل دے یہ نہ ہو کہ وہ انسانوں پر ظلم کرے اور انسانیت کے معیار کو بلند کرنے کے بجائے گرائے۔ وہ انسانوں کے اندر پائے جانے والے نظام کی اصلاح کرنے کے بجائے ظلم کرے۔ وہ یہ نہ کرے کہ اچھے انسانوں کو مقام حیوانیت تک گرائے بلکہ جو انسان حیوانیت تک گر گئے ہیں ان کو اٹھائے۔ یہ اقتدار ‘ اقتدار اعلیٰ ہے جس کا وعدہ اللہ اہل ایمان سے کرتے ہیں کہ اللہ ان کو زمین میں اس قسم کا اقتدار دیتا رہا ہے تاکہ اس کرئہ ارض پر اللہ کی منشا کو پوراکریں اور اللہ کی منشا کیا ہے ؟ یہ کہ وہ یہاں انسانیت کو کمال انسانیت تک پہنچائیں ‘ جس کمال تک پہنچنا اللہ نے یوم تخلیق ہی سے اس کے لیے مقدر کردیا تھا ۔ مگر وہ لوگ جو زمین میں اقتدار پر آتے ہیں اور اس کی وجہ سے فساد پھیلاتے ہیں ‘ زمین میں سرکشی اور ظلم کو رائج کرتے ہیں اور انسانیت کو حیوانیت کے درجے تک گراتے ہیں تو یہ لوگ اللہ کی طرف سے اس زمین پر خلفاء نہیں بلکہ وہ شیطان کے پیروکار ہیں۔ ان کو یہ مقام بطور آزمائش دیا گیا ہے اور لوگوں پر ان کو بطور سزا مسلط کیا گیا ہے۔ ہم نے اس استخلاف کا جو مفہوم سمجھا ہے اس کی طرف خود اس آیت کے اندر اشارہ موجود ہے۔ کہا گیا ہے۔ ولیمکنن لھم دینھم الذی ارتضی لھم (24 : 55) ” ان کے لیے اس دین کو مضبوط بنیادوں پر قائم کردے گا جو اس نے ان کے لیے پسند کیا ہے “۔ اور دین تب متمکن ہو سکتا ہے کہ جب یہ مومنین کے دلوں کے اندر بیٹھ جائے۔ جب ان کی زندگی کے ہر عمل میں وہ مضبوطی سے نافذ ہوجائے۔ جب ان کی زندگیوں میں اور ان کے قلوب میں ایمان اچھی طرح بیٹھ جائے گا تو انہیں استخلاف فی الارض نصیب ہوگا۔ اللہ نے ان کے لیے جو دین پسند کیا ہے وہ زمین پر غالب ہوجائے اور ان کا دین جن باتوں کا حکم دیتا ہے ان میں اصلاح ‘ عدل اور انسانی خواہشات پر کنٹرول شامل ہیں۔ نیز زمین کے اندر جس قدر نعمتیں رکھی ہیں اس سے استفادہ اور ان کی تلاش بھی اس میں شامل ہے بشرطیکہ ان تمام سرگرمیوں میں انسان کی سمت اور قبلہ اللہ ہی ہو۔ ولیبدلنھم من بعد خوفھم امنا (24 : 55) ” اور ان کی موجودہ حالت خوف کو امن سے بدل دے گا “۔ مسلمان مکہ میں خائف تھے۔ امن وامان کی حالت نہایت مشکوک تھی۔ وہ ہر وقت مسلح رہتے تھے اور کسی وقت بھی ان کو اسلحہ رکھنے کی اجازت نہ تھی۔ یہاں تک کہ حضرت نبی ﷺ اور مسلمانوں کی ہجرت کے بعد بھی وہ اسلحہ بند رہتے تھے۔ ربیع ابن انس نے اس آیت کے بارے میں ابو العالیہ سے نقل کیا ہے کہ حضور اکرم ﷺ اور آپ ﷺ کے ساتھی مکہ میں دس سال سے زیادہ عرصہ صرف ایک خدا کی طرف دعوت دیتے رہے ‘ صرف اللہ وحدہ کی عبادت کی طرف بلاتے رہے اور ہر قسم کے شرک سے ممانعت کرتے رہے۔ یہ دعوت وہ چھپ کردیتے تھے ان کو ہر وقت خوف لاحق رہتا تھا۔ مسلمانوں کو جنگ کرنے کی ممانعت تھی۔ ہجرت کے بعد مدینہ میں ان کو لڑنے کی اجازت دی گئی تو مدینہ میں بھی وہ اکثر حالت خوف میں رہتے تھے۔ وہ صبح و شام اسلحہ بندرہتے تھے۔ اس قسم کی زندگی پر انہوں نے طویل عرصہ تک صبر کیا۔ صحابہ کرام میں سے ایک شخص نے کہا ‘ اے رسول اللہ ﷺ ‘ کیا ہم ہمیشہ اسی طرح خائف رہیں گے ؟ کیا ایسا دورنہ آئے گا کہ ہم اس میں اپنے اسلحہ کو رکھ دیں اور امن وامان سے رہیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” ذرا تھوڑا سا اور صبر کرو ‘ تم میں سے ایک شخص ایک عظیم مجمع میں ہوگا اور کسی کے پاس ایک چھوٹا سا لوہا بھی نہ ہوگا “۔ اس موقعہ پر اللہ نے یہ آیت نازل کی۔ نبی ﷺ کو جزیرۃ العرب پر غلبہ نصیب ہوا تو وہ ایمان لائے اور اسلحہ رکھ دیا۔ اس کے بعد اللہ نے نبی ﷺ کو اٹھا لیا تو مسلمان حضرت ابوبکر ؓ ‘ حضرت عمر ؓ اور حضرت عثمان ؓ کی امارت میں امن سے رہے۔ اس کے بعد وہ ان واقعات میں پڑگئے جن میں پڑگئے تو اللہ نے پھر ان کو خوف میں مبتلا کردیا تو انہوں نے دے ‘ شرطے وغیرہ اپنالیے۔ وہ بدل گئے تو اللہ نے بھی ان کو بدل دیا۔ ومن کفر بعد ذلک فائولئک ھم الفسقون (24 : 55) ” اور اس کے بعد جو کفر کرے تو ایسے لوگ ہی فاسق ہیں “۔ یہ لوگ اللہ کی شرائط کے ترک کرنے والے ہیں اور اسللہ سے کیے ہوئے عہد و پیمان کو توڑنے والے ہیں۔ اللہ کا وعدہ ایک بار پورا ہوگیا اور یہ قائم رہا اس وقت تک جب مسلمان اللہ کی شرائط کو پورا کرتے رہے یعنی یعبدوننی لا یشرکون بی شیئا (24 : 55) ” وہ میری بندگی کریں گے اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گے “۔ نہ ان کی خواہشات نفسانیہ ان کے لیے الہ ہوں گی۔ وہ شرک نہ کریں گے اور اللہ کی بندگی پر قائم رہیں گے۔ اللہ کا یہ وعدہ اب بھی ہر گروہ مومن کے لیے قائم ہے اور قیامت تک قائم رہے گا۔ کسی بھی وقت جب گروہ مومن اللہ کا خلیفہ نہیں ہوتا ‘ متمکن فی الارض نہیں ہوتا اور امن سے نہیں ہوتا تو وہ اس لیے کہ وہ اس وعدے اور اس پیمان کی وسیع تر شرائط کو پورا نہیں کررہا ہوتا۔ ایمان اور عہد الہی کے تقاضے وہ پورے نہیں کررہا ہوتا۔ لیکن جب امت آزمائش میں کامیاب ہوجاتی ہے اور امتحان پاس کرلیتی ہے یا خوف میں مبتلا ہوتی ہے تو اللہ سے امن طلب کرتی ہے۔ وہ ذلیل ہوتی ہے تو اللہ سے عزت طلب کرتی ہے۔ وہ پسماندہ رہ جاتی ہے تو خلافت فی الارض کی طلبگار ہوتی ہے ۔ یہ کام وہ ان وسائل کے ساتھ کرتی ہے جو اللہ نے تجویز کیے ہیں اور ان شرائط کے ساتھ کرتی ہے جو اللہ نے مقرر کی ہیں تو پھر اس وقت اللہ کا وہ وعدہ متحقق ہوتا ہے جو اٹل ہوتا ہے۔ پھر امت مسلمہ کی راہ میں دنیا کی کوئی قوت نہیں ٹھہر سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ اس وعدے کے بعد حکم دیا جاتا ہے۔ نماز قائم کرو ‘ زکوۃ دو اور اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کرو۔ اور مومن اور رسول اللہ ﷺ ان کفار سے ہر گز مرعوب نہ ہوں جو اللہ ‘ رسول اللہ اور دین اسلام کے خلاف جنگ کررہے ہیں۔
Ayahs 24:56–57

وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 24:56 in the Quran reader

نماز قائم کرو ‘ زکوۃ دو اور رسول ﷺ کی اطاعت کرو ‘ امید ہے کہ تم پر رحم کیا جائے گا

لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ١ؕ وَ لَبِئْسَ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 24:57 in the Quran reader

جو لوگ کفر کررہے ہیں ان کے متعلق اس غلط فہمی میں نہ رہو کہ وہ زمین میں اللہ کو عاجز کردیں گے۔ ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ بڑا ہی برا ٹھکانا ہے

(واقیمو الصلوۃ۔۔۔۔۔۔۔۔ ولبئس المصیر) (56 : 57) اللہ کی جانب تیاری کی یہ ہیں نہایت ہی مختصر شرائط۔ اتصال باللہ ‘ تعلق باللہ اور نماز کے ذریعہ دل کو درست کرنا اور اپنائے زکوۃ کے ذریعہ بخل اور دولت پرستی کے جذبات پر قابو پانا ‘ رسو اللہ ﷺ کی اطاعت کرنا ‘ نہایت ہی خوشدلی کے ساتھ۔ چھوٹے اور بڑے معاملات میں اللہ کے احکام کو نافذ کرنا اور زندگی کا وہ منبع اختیار کرنا جو اللہ نے زندگی گزارنے کے لیے تجویز کیا ہے۔ لعلکم ترحمون (24 : 56) ” امید ہے کہ تم پر رحم کیا جائے گا “۔ یعنی زمین میں تمہیں فساد خوف ‘ بےچینی اور گمراہی سے بچائے گا۔ اور آخرت میں غضب الہی ‘ عذاب الہی اور اللہ کے انتقام سے تمہیں بچائے گا۔ جب تم اپنے آپ کو اس طریقہ کار پر درست کرلو ‘ تو پھر تمہارے لیے کفار کی قوت سے ڈرنے کا کوئی موقع نہیں ہے۔ وہ اللہ کی زمین پر اللہ اور اللہ والوں کو عاجز نہیں کرسکتے۔ ان کی ظاہری قوت تمہاری راہ نہیں روک سکتی کیونکہ تمہارا ایمان قوی ہوگا۔ تمہارے ساتھ روحانی قوت بھی ہوگی۔ جب تم ایک مومن کی طرح کفر سے ٹکرائو گے تو تم عجیب و غریب خارق عادت معجزات صادر کرو گے۔ ان آیات میں اللہ نے جو وعدہ کیا ہے جو لوگ اس سے فائد اٹھانا چاہتے ہیں تو ان کو چاہیے کہ وہ عظیم ایمانی حقیقت اپنے اندر پیدا کرلیں۔ تاریخ انسانی میں اس وعدے کی ایک تعبیر تو ضروری ہے بشرطیکہ جو شخص اس کی تعبیر چاہتا ہے وہ اس وعدے کی شرائط پر عمل پیرا ہو۔ جب بھی ان شرائط کو مکمل کیا جائے گا بغیر کسی شک ‘ بغیر کسی دیر کے ‘ یہ وعدہ پورا ہوجائے گا۔ جب بھی امت مسلمہ نے اللہ کی راہ اور اللہ کے منہاج پر چلنا شروع کیا ہے یا کرے گی ‘ اور جب بھی اس نے اسلام نظام حیات کو اپنی زندگی کا حکمران تصور کیا ہے اور کرے گی اور جب بھی امت اس دین پر راضی ہوئی ہے اور ہوگی ‘ کہ اس کے تمام معاملات اسلامی نظام کے مطابق ہوں تو اللہ کا وعدہ متحقق ہوگیا ہے اور ہوگا۔ اس کو اقتدار اعلیٰ نصیب ہوا ہے اور ہوگا۔ جب بھی امت نے ان شرائط کی مخالفت کی ہے اور کرے گی تو وہ ذلیل ہوئی ہے اور ہوگی۔ وہ دوسری اقوام کی دم چھلابنی ہے اور بنی رہے گی۔ ذلیل ہوئی اور ہوگی۔ دنیا کی اقوام کے مقام قیادت سے اسے گرایا گیا ہے اور گرائی جائے گی۔ اس پر خوف طاری ہوا ہے اور ہوگا۔ دشمنوں نے اسے اچک لیا ہے اور اچک لیا جائے گا۔ خبردار ! یارکھو اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ اس کی شرائط معروف و معلوم ہیں۔ جو بھی چاہے شرائط پوری کر کے آزمالے اور جو اللہ کے ساتھ کیے ہوئے وعدوں کو پورا کرے گا تو اللہ سے زیادہ وعدہ پورا کرنے والا اور کوئی نہیں ہے۔
Ayahs 24:58–59

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِیَسْتَاْذِنْكُمُ الَّذِیْنَ مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ وَ الَّذِیْنَ لَمْ یَبْلُغُوا الْحُلُمَ مِنْكُمْ ثَلٰثَ مَرّٰتٍ١ؕ مِنْ قَبْلِ صَلٰوةِ الْفَجْرِ وَ حِیْنَ تَضَعُوْنَ ثِیَابَكُمْ مِّنَ الظَّهِیْرَةِ وَ مِنْۢ بَعْدِ صَلٰوةِ الْعِشَآءِ١ؕ۫ ثَلٰثُ عَوْرٰتٍ لَّكُمْ١ؕ لَیْسَ عَلَیْكُمْ وَ لَا عَلَیْهِمْ جُنَاحٌۢ بَعْدَهُنَّ١ؕ طَوّٰفُوْنَ عَلَیْكُمْ بَعْضُكُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 24:58 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ لازم ہے کہ تمہارے لونڈی غلام اور تمہارے وہ بچے جو ابھی عقل کی حد کو نہیں پہنچے ہیں ‘ تین اوقات میں اجازت لے کر تمہارے پاس آیا کریں : صبح کی نماز سے پہلے اور دوپہر کو جب کہ تم کپڑے اتار کر رکھ دیتے ہو ‘ اور عشاء کی نماز کے عبد۔ یہ تین وقت تمہارے لیے پردے کے وقت ہیں۔ ان کے بعد وہ بلا اجازت آئیں تو نہ تم پر کوئی گناہ ہے ‘ نہ ان پر۔ تمہیں ایک دوسرے کے پاس بار بار آناہی ہوتا ہے ‘ اس طرح اللہ تمہارے لیے اپنے ارشادات کی توضیح کرتا ہے ‘ اور وہ علیم و حکیم ہے

وَ اِذَا بَلَغَ الْاَطْفَالُ مِنْكُمُ الْحُلُمَ فَلْیَسْتَاْذِنُوْا كَمَا اسْتَاْذَنَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 24:59 in the Quran reader

اور جب تمہارے بچے عقل کی حد کو پہنچ جائیں تو چاہیے کہ اسی طرح اجازت لے کر آیا کریں جس طرح ان کے بڑے اجازت لیتے رہے ہیں ‘ اس طرح اللہ اپنی آیات تمہارے سامنے کھولتا ہے اور وہ علیم و حکیم ہے “۔

درس نمبر 156 ایک نظر میں اسلام ایک مکمل نظام زندگی ہے۔ وہ انسانی زندگی کے مختلف طور طریقوں کو منظم کرتا ہے۔ تمام تعلقات ‘ تمام رابطوں ‘ تمام حرکات و سکنات ‘ اور تمام مسائل میں انسانی زندگی کی تنظیم کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام روز مرہ کے انسانی آداب بھی سکھاتا ہے جس طرح وہ عمومی فرائض اور بڑے بڑے معاملات کی تعلیم دیتا ہے وہ ان تمام امور کے اندر نظم اور یکجہتی پیدا کرتا ہے اور زندگی کے تمام امور کو اللہ کی سمت موڑ دیتا ہے۔ یہ سورة اس امر کا ایک بہترین نمونہ ہے۔ اس سورة میں ایک طرف تو اسلام کے قوانین وحد ود بتائے گئے ہیں اور دوسری طرف ایک جگہ بسنے والے انسانوں کے باہم ملاقات کے آداب سکھائے گئے ہیں یعنی قانون اسپذان۔ اس کے ساتھ ساتھ اس پوری کائناپ پر غور و فکر کے خالص فلسفیانہ اور سائنسی مضامین بھی لائے گئے ہیں۔ پھر اس میں اسلامی انقلاب کو روبعمل لانے کا دائمی منہاج بھی دیا گیا ہے کہ جب بھی تم اس پر عمل کرو گے زمین کا اقتدار اعلیٰ تمہیں مل جائے گا۔ اس سبق میں یہ آداب بھی سکھائے جاتے ہیں کہ جب تم کسی کے گھر ملنے کے لیے جائو تو اجازت طلب کرنے کے آداب یہ ہیں۔ پھر مجلس رسول ﷺ کے آداب یہ ہیں۔ پھر یہ کہ ملاقات اور کھانے پینے اور ضیافت کرنے اور اس سے استفادہ کرنے کے آداب یہ ہیں۔ پھر باہم خطاب اور ہم کلام ہونے اور رسول اللہ ﷺ سے ہمکلام ہونے کے آداب یہ ہیں۔ یہ تمام آداب یہ اور ہدایات ایسی ہیں جن کا تعلق اسلامی سوسائٹی کی تنظیم اور تربیت سے ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ قرآن کریم اسلامی سوسائٹی کو چھوٹے بڑے تمام معاملات میں ترتیب دیتا ہے۔ درس نمبر 156 تشریح آیات 58۔۔ تا۔۔۔۔۔۔۔۔ 64 (یآیھا الذین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ واللہ علیم حکیم واذا بلغ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ واللہ علیم حکیم ” اس سورة میں گھروں میں داخلہ کے طریق کار پر اس سے قبل بحث ہوچکی ہے یعنی گھر میں داخلہ سے قبل طلب اجازت یہاں اب گھروں میں اندر آنے یا ان لوگوں کا ذکر ہے جن سے گھروں کے اندر پر دہ لازمی نہیں ہے جبکہ داخل ہونے کے احکام استیذان ان پر بھی لازمی ہیں۔ مثلا خدام ‘ غلام ‘ وہ لڑکے جو عورتوں کے معاملات سے ابھی تک اچھی طرح واقف نہیں ہیں وہ بلا روک ٹوک گھروں میں داخل ہوسکتے ہیں۔ الا یہ کہ تین اوقات میں یہ بھی نہیں آسکتے جن میں لوگ کپڑے اتار کر آرام کرتے ہیں۔ ان مخصوص اوقات میں ان لوگوں کو بھی اجازت سے اندر آنا چاہیے۔ وہ اوقات یہ ہیں ‘ یعنی نماز فجر سے پہلے جب لوگ عموماً سونے کے کپڑوں میں ہوتے ہیں یا انہوں نے یہ کپژے تبدیل نہیں کیے ہوتے اور باہر نکلنے کے کپژے نہیں پہنے ہوتے اور دوپہر کے وقت جب لوگ قیلولہ کرتے ہیں اور عادی لباس اتار کر آرام کرتے ہیں اور نماز عشاء کے بعد کے وقت جب سب لوگ آرام کرتے ہیں اور گھروں کے لباس میں ہوتے ہیں۔ یہ اوقات ” اوقات عورات “ ہیں یعنی ان اوقات میں لوگ کپڑے تار دیتے ہیں۔ ان اوقات میں خانگی نوکروں کے لیے لازم ہے کہ وہ گھر کے اندر اجازت لے کر جائیں اور ان نو عمر لڑکوں کے لیے بھی اجازت ضروری ہے جو اگر چہ بالغ نہ ہوئے ہوں لیکن سیانے ہوگئے ہوں۔ یہ اس لیے کہ ان کی نظریں اہل خانہ کے ننگے اجسام پر نہ پڑجائیں۔ یہ وہ آداب ہیں جن کے سلسلے میں آج کے دور جدید میں بھی خانگی زندگی میں عمل نہیں کیا جاتا اور یہ پابندیاں نہ کرنے کے نفسیاتی ‘ اعصابی اور اخلاقی اثرات کو اہمیت نہیں دی جاتی۔ لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ نوکروں کی نظریں مالکان خانہ پر نہیں پرتیں اور یہ کہ قبل از بلوغ مراھق لڑکے ایسی باتوں سے بیخبر ہوتے ہیں حالانکہ ماہرین نفسیات یہ کہتے ہیں کہ بچپن میں بچوں کی نظریں جن مناظر پر پڑتی ہیں بعد کے زمانے میں ان کا اثر بھی بچے کی زندگی پر پڑتا ہے اور ان کی وجہ سے وہ ایسی نفسیاتی اور اعصابی بیماریوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں جن کا علاج ہی نہیں ہوتا۔ یاد رہے کہ ہمارے دور میں علم النفس نے خوب ترقی کرلی ہے۔ اللہ علیم وخبیر ہے۔ اس نے اہل ایمان کو اس قسم کے بلند آداب سکھائے کیونکہ وہ ایک ایسی امت پیدا کرنا چاہتا تھا جس کے اعصاب صحیح و سلامت ہوں ‘ جس کا سینہ صحیح ہو ‘ جس کا شعور پاکیزہ ہو ‘ جس کے دل پاک ہوں اور جس کے تصورات صاف اور ستھرے ہوں۔ ان تین اوقات کو اس لیے مخصوص کیا گیا ہے کہ ان میں بالعموم لوگ لاپرواہی کی حالت میں ہوتے ہیں اور اس گمان پر کہ ان اوقات میں باہر کا کوئی آدمی اندر نہیں آتا ‘ لوگ تن ڈھاپننے کی پرواہ نہیں کرتے۔ اگر تمام اوقات میں ملازمین خانہ اور چھوٹے لڑکوں کے لیے اجازت لینے کو لازم کردیا جاتا تو اس پر عمل کرنے میں بڑی دقت ہوتی کیونکہ ملازم اور چھوٹے بچے ہر وقت آتے جاتے رہتے ہیں۔ طوفون علیکم بعضکم علی بعض (24 : 58) ” تمہیں ایک دوسرے کے پاس آنا جانا رہتا ہے “۔ یوں اللہ تعالیٰ نے پردہ داری کا بھی انتظام کردیا ‘ مشکل کو بھی دور کردیا اور مشقت اور حرج کو بھی دور کردیا۔ اگر دوسرے اجنبی بالغوں کی طرح ہر وقت ان کے لیے بھی اجازت لینا لازم کردیا گیا ہوتا تو اس میں تمہارے لیے مشکلات ہوتیں۔ چھوٹے لڑکے جب سن بلوغ کو پہنچ جائیں تو وہ بھی اجنبی لوگوں کے حکم میں آجائیں گے اور وہ اسی حکم میں آجائیں گے جو عام حالت استیذان میں لوگوں کے لیے مقرر ہے۔ آخر میں کہا جاتا ہے۔ واللہ علیم حکیم (24 : 58) ” اور اللہ علیم و حکیم ہے “۔ کیونکہ قانون سازی اور اخلاقی رویہ کے اثرات کے بارے میں انسانوں کے مزاج کو اللہ ہی جانتا ہے کہ ان کے لیے کیا مفید ہے اور کیا مفید نہیں ہے۔ اس سے پہلے یہ حکم آیا تھا کہ عورتیں اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں تاکہ اسلامی معاشرے کے اندر کوئی جنسی فتنہ نہ آئے۔ یہاں ایسی بوڑھی عورتوں کو اس سے مستثنیٰ کیا جاتا ہے جن کے اندر مردوں کے ساتھ معاشرت کی کوئی رغبت باقی نہیں رہی ہے اور ان کے اجسام کے اندر بھی ایسی کوئی فتنہ سامانی نہیں ہے۔
Ayah 24:60

وَ الْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَآءِ الّٰتِیْ لَا یَرْجُوْنَ نِكَاحًا فَلَیْسَ عَلَیْهِنَّ جُنَاحٌ اَنْ یَّضَعْنَ ثِیَابَهُنَّ غَیْرَ مُتَبَرِّجٰتٍۭ بِزِیْنَةٍ١ؕ وَ اَنْ یَّسْتَعْفِفْنَ خَیْرٌ لَّهُنَّ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 24:60 in the Quran reader

” اور جو عورتیں جوانی سے گزری بیٹھی ہوں ‘ نکاح کی امید دار نہ ہوں ‘ وہ اگر اپنی چادریں اتار کر رکھ دیں تو ان پر کوئی گناہ نہیں ‘ بشرطیکہ زینت کی نمائش کرنے والی نہ ہوں۔ تاہم وہ بھی حیا داری ہی برتیں تو ان کے حق میں اچھا ہے اور اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے

(والقواعد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سمیع علیم ) (60) یہ عورتیں جو جوانی گزار بیٹھی ہیں ‘ یہ اگر اپنے خارجی کپڑے اتار دیں تو ان کے لیے کوئی حرج نہیں ہے۔ ہاں ان پر بھی لازمی ہے کہ وہ اپنی عورات کو ظاہر نہ کریں اور نہ اپنی زینت کو ظاہر کریں۔ تاہم ان کے لیے بھی بہتر یہی ہے کہ وہ ڈھکی چھپی رہیں اور اپنے کشادہ کپڑے اوڑھے رہیں۔ اس کو زیادہ عفت مآبی سے تعبیر کیا گیا ہے یعنی عفت اور پاکیزگی کے لیے زیادہ قابل ترجیح امر ہے۔ کیونکہ تبرج اور اظہار زینت اور جنسی فتنے کے درمیان گہرا تعلق ہے اور حجاب اور پردے اور عفت و پاکیزگی کے درمیان گہرا تعلق ہے۔ یہ ہے اسلامی نظریہ پاکیزگی اور عفت۔ خلاصہ یہ کہ اسلام ان امور کو پردے میں رکھتا ہے جو دیکھنے والے کے لیے شہوت انگیز ہوں۔ واللہ سمیع علیم (24 : 60) ” اللہ سننے والا اور دیکھنے والا ہے “۔ وہ سب کچھ سنتا اور دیکھتا ہے۔ اسے وہ باتیں بھی معلوم ہیں جو زبان سے ادا ہوتی ہیں اور وہ بھی معلوم جو دلوں میں گزرتی ہیں۔ اسلامی احکام کا دار و مدار نیت اور ضمیر کے احساس پر ہوتا ہے۔
Ayah 24:61

لَیْسَ عَلَى الْاَعْمٰى حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْمَرِیْضِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ اَنْ تَاْكُلُوْا مِنْۢ بُیُوْتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اٰبَآئِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اُمَّهٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اِخْوَانِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَخَوٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَعْمَامِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ عَمّٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَخْوَالِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ خٰلٰتِكُمْ اَوْ مَا مَلَكْتُمْ مَّفَاتِحَهٗۤ اَوْ صَدِیْقِكُمْ١ؕ لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَاْكُلُوْا جَمِیْعًا اَوْ اَشْتَاتًا١ؕ فَاِذَا دَخَلْتُمْ بُیُوْتًا فَسَلِّمُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ تَحِیَّةً مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُبٰرَكَةً طَیِّبَةً١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 24:61 in the Quran reader

کوئی حرج نہیں اگر کوئی اندھا ‘ یا لنگڑا یا مریض (کسی کے گھر سے کھالے ) اور نہ تمہارے اوپر اس میں کوئی مضائقہ ہے کہ اپنے گھروں سے کھائو یا اپنے باپ دادا کے گھروں سے ‘ یا اپنی ماں نانی کے گھروں سے ‘ یا اپنے بھائیوں کے گھروں سے ‘ یا اپنی بہنوں کے گھروں سے ‘ یا اپنے چچائوں کے گھروں سے ‘ یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے ‘ یا اپنے ماموئوں کے گھروں سے ‘ یا اپنی خالائوں کے گھروں سے ‘ یا ان گھروں سے جن کی کنجیاں تمہاری سپرد گی میں ہوں ‘ یا اپنے دوستوں کے گھروں سے۔ اس میں بھی کوئی حرج نہیں کہ تم لوگ مل کر کھائو یا الگ الگ۔ البتہ جب گھروں میں داخل ہوا کرو تو اپنے لوگوں کو سلام کیا کرو ‘ دعائے خیر ‘ اللہ کی طرف سے مقرر فرمائی ہوئی ‘ بڑی بابرکت اور پاکیزہ۔ اس طرح اللہ تعالیٰ تمہارے سامنے آیات بیان کرتا ہے ‘ توقع ہے کہ تم سمجھ بوجھ سے کام لوگے “

اب قریبی رشتہ داوں اور دوستوں کے احکام (لیس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تعقلون ) (61) ” روایات میں آتا ہے کہ لوگ ان مذکورہ گھروں سے کھانا کھایا کرتے تھے۔ اس مقصد کے لیے وہ اجازت نہ لیا کرتے تھے۔ اپنے ساتھ وہ فقراء اندھوں ‘ لنگڑوں اور مریضوں کو بھی کھانا کھلاتے تھے۔ اب لوگوں نے یہ خیال کیا کہ مذکورہ بالا گھروں کے مالکوں سے بھی اجازت لینا ضروری ہے۔ یہ خیال مسلمانوں کے دلوں میں اس وقت پیدا ہوا جب یہ آیت نازل ہوئی۔ (ولاتاکلوا اموالکم بینکم بالباطل) ” اور آپس میں اپنے مال باطل طریقوں سے نہ کھائو “ اہل ایمان اس قدر حساس تھے کہ وہ ہر وقت سوچتے رہتے تھے کہ کہیں ان سے قرآن کی خلاف ورزی نہ ہوجائے۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما کر ان کو اجازت دے دی کہ ان گھروں سے وہ کھانا کھا سکتے ہیں۔ اس طرح اندھے ‘ لنگڑے اور مریض فقراء کو بھی مالکان سے کھانے کی حد تک اجازت لینے سے مستثنیٰ کردیا گیا اور قریبی رشتہ داروں کو اجازت دے دی گئی کہ وہ اکیلے یا ان غرباء کے ساتھ اپنے رشتہ دار کے ہاں کھانا کھالیں۔ یہ ایسے حالات ہیں کہ اہل خانہ بالعموم ایسے لوگوں کو کھانا کھتاے ہیں اور لوگوں کا عام رویہ ایسا ہی ہوتا ہے کہ وہ اس طرح کے گھروں سے کھانا کھاتے اور کھلاتے ہیں لیکن اس میں اسلامی معاشرے کے عمومی قواعد کا لحاظ رکھا جائے گا۔ یعنی لاضرر و لاضرار ” نہ نقصان دیتا ہے اور نہ نقصان اٹھاتا ہے “۔ اور لایحل ما امرء مسلم الا بطیب نفس ” حلال نہیں کسی مسلمان کا مال مگر اس کے دل کی خوشی کے ساتھ “۔ یہ آیت چونکہ ایک قانونی آیت ہے۔ اس لیے ہم اس کے طرز ادا پر قدرے بحث کریں گے۔ فقروں کی ترتیب اور تشکیل دینی ہے کہ مفہوم شیشہ کی طرف صاف صاف ذہن میں آجاتا ہے۔ نیز رشتہ داریوں کی ترتیب کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے۔ آغاز میں بیٹوں اور خاوند اور بیوی کے گھروں کا ذکر نہیں کیا گیا لیکن ان سے مضمون کا آغاز کیا گیا اور ان کو ” بیوتکم “” تمہارے گھروں “ کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے کیونکہ بیٹوں کے گھر اپنے گھر ہوتے ہیں اور بیوی کے لیے خاوند کا گھر اور خاوند کے لیے بیو کا گھر اپنا گھر ہوتا ہے۔ اس کے بعد آباء و اجداد کے گھر کا ذکر ہے۔ اس کے بعد ماں اور نانی کے گھروں کا ذکر ہے۔ اس کے بعد بھائیوں کے گھروں کا ذکر ہے۔ اس کے بعد بہنوں کے گھروں کا ذکر ہے۔ اس کے بعد چچائوں کے گھروں کا ذکر ہے۔ اس کے بعد پھوپھیوں کے گھروں کا ذکر ہے۔ اس کے بعد ماموں کے گھروں کا ذکر ہے۔ اس کے بعد خلائوں کے گھروں کا ذکر ہے اور اس کے عبد اس شخص کے حق کا ذکر ہے جو اموال پر خازن اور نگران ہے۔ اس کے لیے جائز ہے کہ وہ بقدر ضرورت مال زیر نگرانی سے کھائے۔ اس کے ساتھ دوستوں کے گھر کا بھی ذکر ہے کہ ایک دوست ‘ دوست کے گھر سے کھانا کھا سکتا ہے بشرطیکہ وہ دوست کے لیے اذیت اور ضرر کا باعث نہ بنے کیونکہ بسا اوقات دوست ‘ دوست کے گھر بغیر اجازت کے کھا پی سکتے ہیں۔ اب ان گھروں کے بیان کے بعد جن میں کھانا جائز ہے ‘ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ کھانا کس حال میں کھایا جائے۔ (لیس۔۔۔۔۔۔۔ اواشتاتا) (24 : 61) ” اس میں کوئی حرج نہیں کہ تم لوگ مل کر کھائو یا الگ الگ “۔ عربوں میں سے بعض لوگوں کا ایام جاہلیت میں رواج تھا کہ ان میں سے کوئی شخص بھی کسی ساتھی کے بغیر کھانا نہ کھاتا تھا۔ اگر کوئی مہمان یا ساتھی نہ ملتا تو وہ کھانا ہی نہ کھاتے تھے۔ اس رسم کو اللہ نے ختم کردیا کیونکہ بعض اوقات اس سے مشکلات پیدا ہوتی تھیں۔ معاملے کو آسان کردیا کہ کوئی اکیلے کھاتا ہے یا دوسروں کے ساتھ کھاتا ہے دونوں صورتیں مناسب ہیں۔ گھروں اور حالت طعام کے بیان کے بعد اب یہاں ان گھروں میں داخل ہونے کا طریقہ بتایا جاتا ہے جن میں کھانا کھانے کی اجازت دی گئی ہے۔ (فاذا۔۔۔۔۔۔۔ طیبۃ) (24 : 61) ” البتہ جب تم گھروں میں داخل ہوا کرو تو اپنے لوگوں کو سلام کیا کرو ‘ دعائے خیر اللہ کی طرف سے مقرر فرمائی ہوئی ‘ بڑی بابرکت اور پاکیزہ “۔ یہ ایک نہایت ہی لطیف تعبیر ہے اس قوی رابطے کی جو مذکورو بالا رشتوں کے اندر پایا جاتا ہے۔ یعنی اپنے نفسوں پر سلام کرو ‘ کیونکہ جو شخص اپنے رشتہ داروں یا دوستوں پر سلام کرتا ہے وہ دراصل اپنے اوپر سلامتی بھیجتا ہے اور جو سلام وہ کرتا ہے وہ اللہ کی طرف سے ہے۔ سلام کے اندر اللہ کی طرف سے ایک روحانی پھونک ہے اور دونوں فریقوں کے دریمان دین کا مضبوط رشتہ ہے ‘ دینی رشتہ جو سلام کی وجہ سے قائم ہوتا ہے۔ یہ نہایت ہی اٹوٹ رشتہ ہے۔ (کذلک۔۔۔۔۔۔ تعقلون) (24 : 61) ” اس طرح اللہ تعالیٰ تمہارے سامنے آیات بیان کرتا ہے توقع ہے کہ تم سمجھ بوجھ سے کام لوگے “۔ تمہیں یہ بات معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ کے طے کردہ نظام زندگی میں کس قدر حکمت پیش نظر رکھی گئی ہے اور کس قدر موزوں اور مقدمی نظام ہے۔
Ayah 24:62

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اِذَا كَانُوْا مَعَهٗ عَلٰۤى اَمْرٍ جَامِعٍ لَّمْ یَذْهَبُوْا حَتّٰى یَسْتَاْذِنُوْهُ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَاْذِنُوْنَكَ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ۚ فَاِذَا اسْتَاْذَنُوْكَ لِبَعْضِ شَاْنِهِمْ فَاْذَنْ لِّمَنْ شِئْتَ مِنْهُمْ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُمُ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 24:62 in the Quran reader

مومن تو اصل میں وہی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو دل سے مانیں اور جب کسی اجتماعی کام کے موقع پر رسول ﷺ کے ساتھ ہوں۔ تو اس سے اجازت لیے بغیر نہ جائیں۔ اے نبی ﷺ ‘ جو لوگ تم سے اجازت مانگتے ہیں وہی اللہ اور رسول ﷺ کے ماننے والے ہیں ‘ پس جب وہ اپنے کسی کام سے اجازت مانگیں تو جسے تو چاہو ‘ اجازت دے دیا کرو۔ اور ایسے لوگوں کے حق میں اللہ سے دعائے مغفرت کیا کرو ‘ اللہ یقیناً غفورورحیم ہے

(انما المئو منون الذین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غفور رحیم لاتجعلوا دعآ ئ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ واللہ بکل شیء علیم ) (62 : 64 ابن اسحاق نے اس آیت کی شان نزول میں یہ روایت نقل کی ہے کہ جنگ احزاب کے موقع پر جب قریش تمام اقوام کو جمع کر کے مدینہ پر چڑھا لائے تو حضور اکرم ﷺ نے اس کے دفاع میں مدینہ کے گرد خندق کھودنے کا حکم دیا۔ خندق کھودنے میں خود رسول اللہ ﷺ نے بھی کام شروع کیا تاکہ اہل ایمان جوش و خروش سے کام کریں۔ خندق کھودنے کے کام میں مسلمانوں نے خوب جوش و خروش سے کام کیا۔ آپ نے بھی ایک نمونہ اور مثال قائم کی اور انہوں نے بھی مثال قائم کردی۔ بعض منافقین نے اس کام میں رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں سے پیچھے رہنے اور سست روی اختیار کرنے کا مظاہرہ کیا۔ وہ چھوٹے بڑے کاموں کا بہانہ بنا کر نکل جاتے اور بعض رسول اللہ ﷺ سے اجازت لیے بغیر کھسک جاتے تھے جبکہ مسلمانوں کا عمل یہ تھا کہ جب ان کو کوئی ضروری کام پیش آتا تو وہ رسول اللہ ﷺ سے ذکر کرتے۔ آپ ﷺ اجازت دیتے اور وہ شخص کام کر کے جلدی واپس کام پر آجاتا۔ اور یہ رویہ مسلمان زیادہ ثواب کمانے کی غرض سے اختیار کرتے۔ اس موقع پر اللہ نے یہ آیات نازل کیں۔ انما الئو منون سے آخر تک سبب نزول جو بھی ہو ‘ بہر حال ان آیات کے اندر جماعت مسلمہ کے تنظیمی قواعد و آداب کا ذکر کیا گیا ہے اور مسلمانوں کے قائد کے احکام کے سلسلے میں آداب بتائے گئے ہیں۔ اور جب تک کوئی جماعت اپنے امیر کے ساتھ ایسے ہی اصولوں کی گہرے جذبات اور ضمیر کی گہرائیوں سے پابندی نہ کرے گی اس وقت تک جماعت کا نظم و نسق درست نہیں ہو سکتا۔ ان آداب کو جماعت مسلمہ کے اندر ایک پختہ روایت ‘ ایک معمول بہا عادت اور سخت قانون کی طرح جاری ہونا چاہیے۔ اگر ایسا نہ ہوگا تو وہ جماعت نہ ہوگی بلکہ منتشر افراد کا ایک انبوہ ہوگا۔ (واذا۔۔۔۔۔۔۔۔ یستأ ذنوہ) (24 : 62) ” اور جب کسی اجتماعی کام کے موقع پر رسول ﷺ کے ساتھ ہوں تو اس کی اجازت کے بغیر نہ جائیں “۔ امر جامع سے مراد وہ امر ہے ‘ جس میں تمام جماعت مسلمہ کا اشتراک ضروری ہو۔ کسی مشاورت کا موقع ہو یا جنگ کا موقع ہو۔ یا عام اجتماعی کاموں کا موقع ہو۔ ایسے مواقع پر اہل ایمان کا فرض ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے اجازت لے کر جائیں۔ آپ کے بعد اپنے امام اور اپنے انچارج سے اجازت لے کر جائیں تاکہ مسلمانوں کی زندگی اور ان کے ادارے منظم طریقے سے چل سکیں اور ان میں طوائف الملوکی نہہو اور کوئی بھی کام پورے نظم اور وقار کے ساتھ ہو۔ یہ لوگ جو اس قسم کا ایمان لاتے ہیں ‘ پھر اس قسم کے آداب پر عمل کرتے ہیں اور تحریک کی ڈیوتی سے صرف اس وقت رخصت مانگتے ہیں جب وہ مجبور ہوں۔ اپنے ایمان اور اپنی تربیت کی وجہ سے وہ ڈیوٹی چھوڑ کر نہیں بھاگتے جبکہ امت اور جماعت کو اجتماعی جدوجہد کی سخت ضرورت ہو لیکن قرآن مجید اجازت دینے اور نہ دینے کے فیصلے کا اختیار نبی ﷺ کو دیتا ہے۔ آپ ﷺ کے بعد یہ اختیار اب جماعت کے سربراہ کو حاصل ہے کہ وہ اجتماعی کاموں سے کسی کو مستثنیٰ کرتا ہے یا نہیں۔ (فاذا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ منھم) (24 : 62) ” پس جب وہ اپنے کسی کام سے اجازت مانگیں تو جسے تم چاہو اجازت دے دیا کرو “۔ اس سے قبل اللہ نے نبی ﷺ کو یہ تنبیہ فرمائی تھی کہ کیوں آپ نے ان منافقین کو اجازت دی۔ عفی اللہ عنک لم اذنت لھم حتی یتبین لک الخبیث من الطیب ” اللہ نے تمہیں معاف کردیا کہ کیوں تم نے ان کو اجازت دی تاکہ تم پر یہ امر واضح ہوجاتا کہ خبیث کون ہے ‘ اور پاک کون ہے “۔ یہاں یہ بات نبی ﷺ کے اختیار تمیزی پر چھوڑ دی گئی ہے کہ آپ کسی کو اختیار دیں یا نہ دیں۔ اس طرح مسلمانوں کے لیے ایک اور آسانی پیدا کردی گئی کیونکہ بعض اوقات نہایت ہی اہم ضروریات لاحق ہوجاتی ہیں اس لیے جماعت کی قیادت کو یہ اختیار دیا گیا کہ وہ موازنہ کرے کہ کسی کیلیے درپیش مہم میں جانا ضروری ہے یا کسی خصوصی ضرورت کے لئے پیچھے رہنا ضروری ہے۔ آخری اختیار قائد کو دے دیا گیا تاکہ وہ حالات کو پیش نظر رکھ کر فیصلہ کرے۔ یہاں بہر حال اس طرف اشارہ کردیا جاتا ہے کہ انفرادی ضرورتوں پر قابو پایا جائے ‘ مسائل کا حل نکالا جائے اور اجتماعی مہم کو ترجیح دی جائے۔ تاہم اگر کوئی شخص اپنی کسی جائز ضرورت کے لیے بھی پیچھے رہتا ہے تو یہ امر جائز ہونے کے باوجود بھی ایک قصور ہے اور اس پر اللہ سے مغفرت طلب کرنا ضروری ہے۔ واستغفر لھم اللہ ان اللہ غفوررحیم (24 : 62) ” اور ایسے لوگوں کے حق میں ‘ اللہ سے دعائے مغفرت کیا کرو ‘ اللہ یقیناً غفورورحیم ہے “۔ یوں ایک مومن کے ضمیر پر پابندی لگائی جاتی ہے کہ وہ اجازت طلب نہ کرے ‘ اگر کوئی بھی صورت نکلے تو وہ اپنے آپ کو عذر طلب کرنے سے بچانے کی کوشش کرے۔ نیز یہاں یہ بھی بتایدا گیا کہ جو لوگ اجازت طلب کرتے ہیں وہ درخواست استیذان نہایت ہی مئو دبانہ الفاظ میں پیش کریں اور عوام الناس کی طرح (یامحمد) یا (ابو القاسم) یا اور عوامی طریقے سے خطاب نہ کریں بلکہ مودبانہ الفاظ یارسول اللہ ‘ یانبی اللہ کے الفاظ سے مخاطب کریں۔
Ayah 24:63

لَا تَجْعَلُوْا دُعَآءَ الرَّسُوْلِ بَیْنَكُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا١ؕ قَدْ یَعْلَمُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ یَتَسَلَّلُوْنَ مِنْكُمْ لِوَاذًا١ۚ فَلْیَحْذَرِ الَّذِیْنَ یُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِهٖۤ اَنْ تُصِیْبَهُمْ فِتْنَةٌ اَوْ یُصِیْبَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 24:63 in the Quran reader

مسلمانو ‘ اپنے درمیان رسول کے بلانے کو آپس میں ایک دوسرے کا سابلانا نہ سمجھ بیٹھو۔ اللہ ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو تم میں ایسے ہیں کہ ایک دوسرے کی آڑ لیتے ہوئے چپکے سے سٹک جاتے ہیں۔ رسول ﷺ کے حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کو ڈرنا چاہیے کہ وہ کسی فتنے میں گرفتار نہ ہوجائیں یا ان پر دردناک عذاب نہ آجائے

لاتجعلوا دعآ الرسول بینکم کدعآء بعضکم بعضا (24 : 63) ” مسلمانو ‘ اپنے درمیان رسول کے بلانے کو آپس میں ایک دوسرے کا بلانا نہ سمجھ بیٹھو “۔ چاہیے کہ تمہارے دل رسول اللہ ﷺ کی محبت سے بھرے ہوئے ہوں۔ لہٰذا رسول اللہ ﷺ کے احترام میں مناسب ترین الفاظ کا انتخاب کرو۔ یہ قیادت کے لیے ایک نہایت ہی ضروری اصول ہے اس لیے کہ کسی مربی ‘ کسی استاد ‘ کسی قائد کا مناسب احترام لازم ہے اور کارکنوں کے شعور اور سلوک میں فائدہ کے احترام اور محبت ہو۔ ایک کارکن اپنے قائد کے ساتھ ضرورت سے زیادہ بےتکلف نہ ہو۔ اس کے بعد منافقین کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی اجازت کے بغیر کھسک جاتے ہیں اور ایک دوسرے کی اوٹ لے کر بھاگ جاتے ہیں۔ اگر وہ مسلمانوں اور رسول اللہ ﷺ کی نظروں سے اپنے آپ کو چھپاتے ہیں تو اللہ کی نظروں سے تو وہ چھپ نہیں سکتے۔ قد یعلم اللہ الذین یتسللون منکم لواذا (24 : 63) ” اللہ ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو تم میں سے ایسے ہیں کہ ایک دوسرے کی آڑ لیے ہوئے چپکے سے کھسک جاتے ہیں “۔ یہ اس شخص کی عجیب تصویر کشی ہے جو مجلس کی نظروں سے چھپ چھپا کر کھسک جاتا ہے۔ اس سے یہ ظاہر کرنا مطلوب ہے کہ یہ شخص سامنے آکر اجازت لے کر نہیں جاتا بلکہ چور کی طرح چھپ کر نکلتا ہے اور اس کی یہ حرکت شعور کے اندر اس شخص کے لیے حقارت پیدا کردیتی ہے۔ (فلیحذر الذین۔۔۔۔۔۔۔ عذاب الیم) (24 : 63) ” رسول کے حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کو ڈرنا چاہیے کہ وہ کسی فتنے میں گرفتار نہ ہوجائیں یا جو امر رسول ﷺ کی مخالفت کرتے ہیں ‘ جور سول اللہ ﷺ کے طریقوں سے مخالف طریقوں پر چلتے ہیں اور ذاتی کاموں اور ذاتی مفادات کے لیے اجتماعی ٹیموں کی صف سے چپکے سے نکل جاتے ہیں۔ ان کو اس بات سے ڈرنا چاہیے کہ ان کے اندر اختلافات پیدا ہو کر وہ فتنہ عظیم میں مبتلا نہ ہوجائیں۔ ان کی اقدار ہی نہ بدل جائیں ‘ حق و باطل میں تمیز نہ رہے اور ان کا نظام متزلزل نہ ہوجائے۔ ان کے اندر پاک لوگوں اور خبیث لوگوں کا متزاج ہوجائے ‘ جماعتی معاملات میں فتور پڑجائے اور جماعتی زندگی کی چولیں ڈھیلی ہو ئیں۔ اس طرح کہ کوئی شخص اپنے نفس کے بارے میں مطمئن نہ ہو۔ کوئی کسی حد پر نہ رکتا ہو۔ اور جماعت کے اندر سے خیر و شر کا معیار مٹ جائے۔ ایسے حالات تمام افراد جماعت کے لیے نقصان دہ ہوتے ہیں۔ او یصیبھم عذاب الیم (24 : 63) ” یا ان پر درد ناک عزاب آجائے “۔ چاہے یہ عذاب دنیا میں آجائے یا آخرت میں آئے۔ یہ عذاب اس لیے آئے گا کہ ان لوگوں نے حکم الہی کی مخالفت کی اور اس نظام کو ترک کردیا جسے اللہ نے ان کے لیے پسند فرمایا تھا۔ یہ تنبیہ اور شدید ڈر اوا یہاں ختم ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ سورة نور بھی ختم ہوتی ہے اور خاتمہ کلام پر لوگوں کو خبردار کیا جاتا ہے کہ اللہ تمہارے تمام کرتوتوں سے واقف ہے۔ جو اچھے کام کرتے ہیں ان کو بھی جانتا ہے اور جو انحراف کی راہوں پر چل نکلے ہیں ان کو بھی جانتا ہے اور ایک دن وہ تمہارے سامنے تمہارا مکمل نامہ اعمال پیش کردے گا۔
Ayah 24:64

اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قَدْ یَعْلَمُ مَاۤ اَنْتُمْ عَلَیْهِ١ؕ وَ یَوْمَ یُرْجَعُوْنَ اِلَیْهِ فَیُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 24:64 in the Quran reader

خبر دار رہو ‘ آسمان و زمین میں جو کچھ ہے اللہ کا ہے۔ تم جس روش پر بھی ہو اللہ اس کو جانتا ہے۔ جس روز لوگ اس کی طرف پلٹائے جائیں گے وہ انہیں بتا دے گا کہ وہ کیا کچھ کر کے آئے ہیں۔ وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے ‘

(الآ ان للہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بکل شیء علیم) (24 : 63) ” “۔ یوں اس سورة کا خاتمہ اس مضمون پر ہوتا ہے کہ اہل ایمان کی نظریں اللہ سے متعلق ہوجاتی ہیں اور ان کو اللہ کے خوف اور خثیت سے ڈرایا جاتا ہے کیونکہ صرف خدا اور خشیت الٰہی اور تقویٰ انسان کو درست رکھنے کی آخری گارنٹی ہے۔ اللہ نے جو احکام اور نواہی دیئے ہیں ان پر عمل کرانے کا یہ آخری نگران ہے جو ہر مومن کے دل میں بیٹھا ہوتا ہے۔ اس سورة میں جو اخلاق ‘ جو آداب اور جو قوانین وضع کیے گیے ہیں اور سب کو اسلامی نظام کا برابر حصہ بنایا گیا ہے ان کا محافظ تقویٰ اور خدا خوفی کو قرار دیا گیا ہے۔