Ayah 24:26(الخبیثت۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ورزق کریم) (24 : 26) ” خبیث عورتیں خبیث مردوں کے لیے ہیں اور خبیث مرد خبیث عورتوں کے لیے۔ پاکیزہ عورتیں پاکیزہ مردوں کے لیے ہیں لور پاکیزہ مرد پاکیزہ عورتوں کے لیے۔ ان کا دامن پاک ہے ان باتوں سے جو بنانے والے بناتے ہیں ‘ انکے لیے مغفرت ہے اور رزق کریم “۔ حضرت محمد ﷺ کو حضرت عائشہ ؓ سے بےحد محبت تھی۔ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے نبی کے لیے کس طرح چن سکتا تھا اگر وہ پاک نہ ہوتیں۔ یہ پاک لوگ اپنی فطرت کے اعتبار سے ان باتوں سے پاک ہیں اور ان کی طرف جن گندی باتوں کی نسبت کی جاتی ہے ‘ وہ ان سے مبراء ہیں۔
ان کے لیے رزق کریم ہے قیامت میں اور گناہوں سے مغفرت ہے یعنی ان کی چھوٹی موٹی کو تاہیاں اللہ کے ہاں معاف ہوجاتی ہیں۔ ان آیات پر افک کے واقعات اب اختتام پذیر ہوتے ہیں۔ ان واقعات کی وجہ سے امت مسلمہ نہایت ہی مصیبت میں گھر گئی تھی۔ اس واقعہ کے نتیجے میں نبی اکرم ﷺ اور ان کے گھر کی طہارت اور عزت کا مسئلہ در پیش تھا۔ اور بڑی بڑی جنگوں کی آزمائشوں کے ساتھ ساتھ ‘ داخلی محاذ کو مضبوط بنانے کے لیے یہ بھی اللہ کی طرف سے ایک آزمائش تھی جس میں سے ابتدائی اسلامی جماعت کو گزارا گیا۔
Ayahs 24:27–29درس نمبر 153 ایک نظر میں
جیسا کہ ہم نے اس سے قبل کہا ہے کہ اسلام ایک پاکیزہ معاشرہ تشکیل دینے میں صرف سخت سزائوں پر ہی اکتفا نہیں کرتا بلکہ اسلام سب سے پہلے جرائم کے لیے انسدادی اور امتناعی تدابیر اختیار کرتا ہے۔ نیز اسلام انسان کی فطری خواہشات کو نہ دباتا ہے اور نہ ان کی بیح کئی کرتا ہے بلکہ وہ انسان کی فطری خواہشات کے لیے بھی ایک نہایت ہی پاکیزہ اور نارمل ماحول فراہم کرنا ہے جس میں کوئی جعلی اکساہٹ نہ ہو۔
اس سلسلے میں اسلام کے نظام تربیت کا بنیادی اصول سدباب کا ذریعہ ہے۔ اسلام بدراہ ہونے کے دروازے ہی بند کردیتا ہے اور ان اسباب کو ختم کرتا ہے جو انسان کو بدراہ کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں یا فتنے کے اسباب فراہم کرتے ہیں یا جن کی وجہ سے انسان کے جذبات میں اشتعال پیدا ہوتا ہے۔ دوسری طرف اسلام لوگوں کو فطری تشفی کے اسباب بھی فراہم کرتا ہے ‘ قانون کے دائرے کے اندر اندر۔
اسلام فیملی اور گھروں کی چار دیواری کا بےحد احترام کرتا ہے۔ چناچہ پہلا اصول یہ طے کیا جاتا ہے کہ کسی کے گھر کے اندر اہل خانہ کی اجازت کے بغیر کوئی داخل نہ ہو۔ یہ محض اس لیے کہ آنے والے کی آنکھیں کوئی ایسا منظر نہ دیکھ لیں جس کو اہل خانہ خفیہ رکھنا چاہتے ہیں۔ اب اگر کوئی شخص اچانک داخل ہوتا ہے اور اہل خانہ غافل ہیں تو وہ اس منظر کو پسند نہ کریں گے۔ نیز اسلام یہ حکم بھی دیتا ہے کہ تمام مرد اور عورتیں نظریں نیچی رکھیں اور زیب وزینت کے ساتھ عورتیں باہر نہ نکلیں۔
اس کے ساتھ اسلام فقراء اور مساکین کو شادی کرنے کے مواقع فراہم کرتا ہے کیونکہ فحاشی کے خلاف بہترین ہتھیار یہ ہے کہ تمام لوگوں کو شادی کے محفوظ قلعے کے اندر داخل کردیا جائے۔ نیز یہ بھی حکم دیا جاتا ہے کہ لونڈیوں کو بھی بد کرداری پر مجبور نہ کرو کیونکہ لونڈیوں کے ذریعہ فحاشی کو بڑی آسانی کے ساتھ پھیلایا جاسکتا ہے۔
درس نمبر 153 تشریح آیات
27۔۔۔۔ تا۔۔۔۔۔۔ 34
(یآیھا الذین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تکتمون) (27 : 29) ”
گھروں کو اللہ نے انسانوں کے لیے جائے سکون بنایا ‘ لوگ کام کاج کرکے ان کی طرف لوٹتے ہیں۔ ان کی روح کو وہاں سکون ملتا ہے اور ان کے نفوس کو وہاں آرام ملتا ہے۔ یہاں وہ اپنے خفیہ اور پوشیدہ امور کے بارے میں مطمئن ہوتے ہیں ‘ ان کی عزت یہاں محفوظ ہوتی ہے اور یہاں وہ آرام کر کے اپنے اعصاب کو تسکین پہنچاتے ہیں۔
ایک گھر میں اس قسم کا آرام اور سکون تب ہی مل سکتا ہے جب کوئی غیر شخص چار دیواری کی حرمت پر ہاتھ نہ ڈالے اور اہل خانہ نہایت امن و سکون سے رہیں ‘ الا یہ کہ باہر کوئی شخص ان کی اجازت سے گھر کے اندر داخل ہو۔ اور اس وقت داخل ہو جس وقت وہ چاہیں اور ایسے حالات میں داخل ہو جن میں اہل خانہ اجازت دیں۔
اب اگر کسی کو کسی کے گھر میں داخل کی اجازت دے دی جائے اور اس کی نظریں کسی ایسے منظر کو دیکھ لیں جو دونوں کے لیے فتنہ ہو اور اچانک داخلہ اس شخص کے لیے اس فتنہ کا باعث بن جائے تو اس طرح معاشرے میں فحاشی پھیلنے کا امکان پیدا ہوجاتا ہے۔ بع ضاوقات ایسی نظروں کا تکرار پھر ابتلاء بن جاتا ہے۔ اگر چہ پہلی نظر میں ملاقات بعض اوقات بلاقصد و ارادہ ہوتی ہے لیکن بعد میں فتنہ بن جاتی ہے۔ جب فریقین ایک قدم اور آگے بڑھتے ہیں تو اس کے نتیجے میں فساد اور فحاشی اور بےراہ روی پیدا ہوجاتی ہے۔
جاہلیت کے دور میں دوسرے کے گھر لوگ اچانک داخل ہوجاتے تھے۔ پہلے الٓنیوالا آجاتا اور پھر کہتا میں آگیا ہوں ۔ بعض اوقات یوں ہوتا کہ صاحب خانہ اپنے اہل و عیال کے ساتھ ایسی حالت میں ہوتا کہ ایسے حالات میں باہر سے داخل ہونا معیوب ہوتا لیکن وہ پروانہ کرتے۔ بعض اوقات یوں ہوتا کہ گھر میں عورت ننگی ہے یا اس کے ستر کے مقامات ننگے ہیں۔ یا مرد اس طرح ہے۔ اس سے صاحب خانہ کو اذیت پہنچتی اور دوسرے کے گھر کا امن و سکون تباہ ہوجاتا۔ جبکہ بعض اوقات ایسا بےہنگم واقعہ فتنے کا بعث بن جاتا ہے آنکھ ایسا منظر دیکھ لیتی جس سے فتنہ اٹھ کھڑا ہوتا۔
ان تمام امور کو مدنظر رکھتے ہوئے قرآن کریم نے مسلمانوں کو ان آداب کا پابند کردیا کہ کسی کے گھر کے اندر بغیر اجازت کے داخل ہونا ممنوع ہے۔ مناسب ہے کہ باہر سے سلام کیا جائے تاکہ ان کو پتہ چل جائے کہ فلاں صاحب آنا چاہتے ہیں۔ نیز اس انداز سے ایک قسم کی مانوسیت بھی پیدا ہوجاتی ہے۔
(یآیھا الذین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ علیٰ اھلھا) (24 : 27) ” اے لوگوجو ایمان لائے ہو ‘ اپنے گھروں کے سوا دوسرے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو جب تک کہ گھو والوں کی رضا نہ لے لو اور گھر والوں پر سلام نہ بھیج لو “۔ یہاں اذن و اجازت کے لفظ کی تعبیر لفظ ” انس “ سے کی گئی ہے۔ اس انداز تعبیر سے اجازت کے مہذب ترین طریقے کی طرف اشارہ ہے۔ نیز اس طرف اشارہ ہے کہ آنے والے کو نہایت ہی مہذب انداز میں آنا چاہیے۔ لوگوں کے ساتھ وہنہایت انس و محبت سی اور مہذب طریقے سے بات کرے تاکہ وہ اس کے استقبال کے لیے تیار ہوں۔ یہ ایک نہایت ہی لطیف اور دقیق اخلاقی اصول ہے لوگوں کی سہولت کے لیے اور ان کے گھروں میں ان کی عزت و وقار کو بحال کرنے کے لیے اور اس لیے کہ رات دن اہل خانہ آنے جانے والوں سے تنگ ہی نہ ہوجائیں کہ ایک آرہا ہے اور دوسرا جارہا ہے اور وہ بھی بلااجازت۔
اجازت کے نتیجے میں اب صورت حالات یہ ہوگی کہ یا تو اس میں کوئی گھر میں ہوگا اور اجازت دے دے گا تو یہ شخص گھر کے اندر چلا جائے گا اور اگر کوئی نہیں ہوگا تو پھر اس شخص کے لیے اندر جانے کی اجازت نہیں ہے۔
(فان لم۔۔۔۔۔۔۔۔ لکم) (24 : 28) ” اگر وہاں کسی کو نہ پائو تو داخل نہ ہو جب تک کہ تم کو اجازت نہ دی جائے “
اگر اندر اہل خانہ سے کوئی موجود ہو تو صرف اجازت طلب کرنے ہی سے داخلے کی اجازت نہیں ہوجاتی جب تک کوئی صریح اجازت نہ دے۔ اگر اندر والے اجازت نہ دیں تو بغیر کسی جھجک کے واپس ہوجانا چاہیے۔ اور انتظار نہیں کرنا چاہیے۔
(وان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لکم) (24 : 28) ” اگر تم سے کہا جائے کہ واپس ہو جائو تو واپس ہو جائو۔ یہ تمہارے لیے زیادہ پاکیزہ طریقہ ہے “۔ یعنی واپس ہو جائو بغیر کسی تلخی کے ۔ بغیر اس تاثر کے کہ اہل خانہ نے تمہارے ساتھ کوئی زیادتی کی ہے ‘ یا تم سے کوئی نفرت کی ہے کیونکہ اہل خانہ کے اپنے اسرار اور اعذار ہوتے ہیں۔ اس لیے یہ حق ان کو دینا ضروری ہے کہ اس وقت وہ مہمان کا استقبال کرسکتے ہیں یا نہیں۔
واللہ بما تعملون علیم (24 : 28) ” اور جو کچھ تم کرتے ہو ‘ اللہ خو جانتا ہے “۔ اللہ تو دلوں کے خفیہ بھیدوں کو جاننے والا ہے ‘ یا یہ کہ دلوں میں جو جذبات و خیالات ہیں ان سے بھی وہ باخبر ہے۔
رہے وہ مقامات جو مقامات عامہ ہیں مثلاً ہوٹل ‘ سرائے اور ضافت کے گھر ہاسٹل وغیرہ جو پرائیویٹ رہائش گاہوں سے علیحدہ ہوں تو ان میں بغیر اجازت کی داخل ہونا جائز ہے جب اجازت کا کوئی سبب موجود نہ ہو۔
(لیس علیکم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لکم) (24 : 29) ” البتہ تمہارے لیے اس میں کوئی مضائقہ نہیں کہ ایسے گھروں میں داخل ہو جائو جو کسی کے رہنے کی جگہ نہ ہوں اور جن میں تمہارے فائدے کی کوئی چیزہو “۔
واللہ یعلم ما تبدون وما تکتمون (24 : 29) ” تم جو کچھ ظاہر کرتے ہو اور جو کچھ چھپاتے ہو ‘ سب کی اللہ کو خبر ہے “ ۔ اصل بات یہ ہے کہ اللہ تمہارے ظاہرو باطن کو جانتا ہے اور وہ تمہارے انگران ہے۔ تمہارے دلی خیالات سے وہ باخبر ہے کہ تمہارے دلی ارادے کیا ہیں۔ لہذا اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں تمہارے لیے ایک نہایت ہی مہذب انداز زندگی تجویز کرتا ہے۔ اس کا وہ نگراں بھی ہے اس کا مطالبہ یہ ہے کہ تم قلبی اطاعت کرو۔
واقعہ یہ ہے کہ قرآن کریم ایک مکمل نظام حیات ہے اس لیے وہ انسانی زندگی کے ایک نہایت ہی جزئی مسئلے کو اس قدر تفصیل سے لیتا ہے۔ کیونکہ اس نظام کا موضوع انسانی زندگی کا طرز عمل ہے خواہ وہ جزنی ہو یا تفصیلی۔ اس طرح اسلام نظام کے اصول و فروع کے درمیان ا کی توازن قائم کردیا جاتا ہے۔ امسیدذن کا قانون گھروں کو امن و سکون کی جگہ بنانے کی ایک تدبیر ہے۔ یہ تدبیر کرنا مقصود ہے کہ کسی گھر کے باشندے کو اچانک کسی ناپسند یدہ صورت حال سے دو چار ہوھنا نہ پڑے کیونکہ جب اچانک کوئی در آئے تو معلوم نہیں ہوتا کہ اندر کے لوگ کس حال میں ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ کسی کا سرکھلا ہو یا کسی ستر کھلاہو ” عورات “ کے لفظ سے وسیع تر مفہوم مراد ہے۔ اس سے صرف بدنی برہنگی ہی مراد نہیں ہے۔ اس سے کھانے پینے کے انتظامات ‘ لباس ‘ سازوسامان ‘ نشست و برخاست کے مقامات و اثاث الیت بھی مراد ہے جس کے بارے میں اہل بیت یہ نہیں چاہتے کہ جگہ اور حالات کی تیاری کے بغیر کوئی اندر آجائے اور اندر کی کیفیت کو وہ کم تر نفسیاتی حالات میں پائے۔ مثلاً کم لوگ اس بات کو پسند کریں گے کہ کوئی اندر آئے اور اندر کوئی رورہا ہو یا کوئی اندر آئے اور گھر والا غصے میں ہو۔ یا وہ کسی ایسے درد اور دکھ میں مبتلاہو جسے وہ عوام سے خفیہ رکھنا چاہتاہو۔ یہ سب عورات ہیں۔
اس ایک ” ادب “ کے ذریعے قرآن مجید بیشمار فوائد کو سمیٹ لیتا ہے۔ بعض کو ہم جانتے ہیں اور بعض کو جانتے بھی نہیں ہیں۔ پھر اہم بات یہ کہ اچانک نظر بازی سے بھی انسان بچ سکتا ہے جس کے نتیجے میں ناجائز خواہشات کے ابھرنے کے مواقع ہوتے ہیں اور بعد میں پھر یہ تعلقات برے تعلقات کی شکل اختیار کرتے ہیں۔ غرض نظروں کے بہکنے اور دلوں کی اچانک کشش کو قابو میں رکھنے کے لیے ادب قرآنی نہایت ہی مفید اور اہم ذریعہ اصلاح ہے۔
اس کی حقیقت اور اہمیت صرف وہ لوگ جانتے ہیں جن کے اندر سب سے پہلے یہ ادب اترا اور اس کا آغاز رسول اللہ ﷺ نے اپنے عمل سے کیا۔
امام ابو دائود اور نسانی نے ابو عمر اوزاعی کی حدیث نقل کی ہے۔ وہ قیس ابن سعد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہماری رہائش گاہ پر تشریف لائے اور باہر سے کہا ” السلام علیکم “ تو سعد نے نرمی سے وعلیکم السلام کہا۔ قیس کہتے ہیں : میں نے سعد سے کہا کیا تم رسول اللہ ﷺ کو اجازت دینا نہیں چاہتے ہو۔ تو اس نے کہا چھوڑو ہم پر زیادہ سے زیادہ سلام کہہ دیں۔ رسول اللہ ﷺ نے دوسری بار کہا ” السلام علیکم ورحمتہ اللہ “ تو سعد نے پھر چپکے سے کہا وعلیکم السلام۔ اس کے بعد پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” السلام علیکم ورحمتہ اللہ “ اور پھر آپ لوٹ گئے۔ سعد گھر سے نکلے اور آواز دی حضور ﷺ میں سن رہا تھا اور سلام کا جواب بھی آہستگی سے دے رہا تھا۔ مقصد یہ تھا کہ آپ کثرت سے ہم پر سلام کہہ دیں ۔ کہتے ہیں حضور اکرم ﷺ آپ کے ساتھ لوٹ آئے۔ سعد نے حکم دیا کہ حضور اکرم ﷺ کے لیے غسل کا پانی تیار کرو۔ آپ ﷺ نے غسل کیا۔ اس کے بعد سعد نے اون کا ایک پھولدار کپڑا حضور ﷺ کو پیش کیا۔ یہ زعفران یا درس گھاس سے رنگا ہوا تھا۔ حضور ﷺ نے اسے اوڑھا۔ پھر حضور ﷺ نے ہاتھ اٹھائے اور یہ دعا کی۔
الھم اجعل صلاتک ورحمتک علی آل سعد ابن عبادۃ۔۔ ” اے اللہ ‘ اپنا کرم اور رحمت ڈال دے آل سعد ابن عبادہ پر “۔ ابو دائود نے عبد اللہ ابن بشر کی حدیث نقل کی ہے۔ کہتے ہیں جب رسول اللہ ﷺ کسی قوم کے دروازے پر آتے تو دروازے کے سامنے منہ کر کے نہ کھڑے ہوتے یا اس کے دائیں طرف یا بائیں طرف کھڑے ہوتے اور فرماتے السلام علیکم۔۔۔ السلام علیکم۔ ان دنوں گھروں میں پردے نہ ہوتے تھے۔
ابو دائود نے حضرت ہذیل سے روایت کی ہے کہ ایک آدمی آیا (عثمان کہتے ہیں سعد تھا) تو وہ نبی ﷺ کے دروازے پر کھڑا ہوگیا اور داخلہ کی اجازت چاہنے لگا۔ تو وہ دروازے کے سامنے منہ کر کے کھڑا ہوگیا۔ (عثمان نے کہا دروازے کے سامنے) ۔ اس پر نبی ﷺ نے اسے طریقہ بتایا اور کہا اس طرح کھڑے ہو جائو۔ کیونکہ اجازت طلب کرنے کا حکم اس لیے دیا گیا ہے کہ تم اندر کچھ دیکھ نہ سکو۔
صحیحین میں ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا اگر تمہارے گھر کے اندر کوئی شخص بغیر اجازت کے اندر آجائے اور تم ان پر ایک پتھر پھینکتے ہو اور اس سے اس کی آنکھ پھوٹ جاتی ہے تو تم پر کوئی جرم عائد نہ ہوگا۔
ابودائود نے حضرت ربعی سے روایت نقل کی ہے کہ بنی عامر کے ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے اندر آنے کی اجازت چاہی۔ جبکہ حضور ﷺ اپنے گھر میں تھے۔ تو اس نے کہا کیا میں ” گھس جائوں “ تو حضور ﷺ نے اپنے خادم سے کہا نکلو اور اس شخص کو اندر آنے کی اجازت طلب کرنے کا طریقہ سکھائو۔ اس سے کہو کہ تم یوں کہو ” السلام علیکم “ ۔ کیا میں داخل ہو جائوں۔ حضور ﷺ کی اس بات کو اس شخص نے سن لیا تو کہا ” السلام علیکم “ کیا میں داخل ہو جائوں “۔ تو اس کو نبی ﷺ نے اجازت دے دی اور وہ اندر آیا۔
ہیشم نے کہا ہے کہ مغیرہ نے کہا اور مغیرہ نے کہا مجاہد نے کہا ‘ عمر ایک ضرورت سے آئے اور اسے گرمی نے تنگ کر رکھا تھا وہ قریش کی ایک عورت کے خیموں کے سامنے آئے اور کہا ” السلام علیکم “ کیا میں اندر آجائوں “۔ تو اس نے کہا ” سلامتی کے ساتھ داخل ہو جائو “ ۔ حضرت عمر ؓ نے پھر اجازت چاہی۔ اس نے بھی پھر یہی جواب دیا حالانکہ وہ اس کے قدموں کے پاس کھڑا تھا۔ پھر حضرت عمر ؓ نے کہا تم اس طرح کہو ” ” ادخل “ داخل ہو جائو۔ اس پر اس عورت نے کہا ” داخل ہو جائو “ تو بعد وہ اندر آئے۔
عطا ابن ابی رباح نے حضرت ابن عباس سے نقل کیا ہے۔ کہتے ہیں میں نے کہا کیا میں اپنی یتیم بہنوں سے بھی اجازت طلب کروں جو میرے ہی گھر میں میری نگرانی میں ہیں۔ تو آپ نے فرمایا ‘ ہاں۔ میں نے پھر اس پر یہ سوال کیا تا کہ مجھے سا میں رخصت دے دی جائے۔ اس پر اس نے کہا تم اس بات کو پسند کرتے ہو کہ اسے ننگی حالت میں دیکھو۔ تو میں نے کہا ‘ نہیں۔ تو اس نے کہا پھر اجازت طلب کرو۔ تو میں نے پھر اس سے بحث کی تو انہوں نے کہا کہ کیا تم اللہ کے حکم کی اطاعت چاہتے ہو یا نہیں۔ میں نے کہا ہاں۔ ” تو پھر اجازت چاہو “ انہوں نے کہا۔
اور حدیث صحیح میں آتا ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کوئی اپنے گھر بھی رات کے وقت اچانک نہ جائے۔ بعض روایات میں آتا ہے۔ لیلا یتخونھم اور ایک دوسری حدیث میں آتا ہے کہ حضور اکرم ﷺ دن کے وقت مدینہ پہنچ گئے تو مدینہ کے سامنے آپ نے اونٹوں کو بٹھا دیا۔ آپ نے فرمایا انتظار کرو عشاء تک یعنی دن کے آخری حصے تک تاکہ ایسی عورت جس کے بال بکھیرے ہوں وہ بال سنوار لے۔ اور ایسی عورت جس کے بال صاف نہ ہوں وہ صاف کرلے۔
اسلام نے نہایت ہی مہذب طریقے مسلمانوں کو سکھائے اور رسول اللہ ﷺ کے صحابہ پر ان سے تجربہ کرایا۔ یہ آداب بلند ان کو دیئے جو نہایت ہی روشن اور نور ربی سے منور تھے۔
آج ہم بھی مسلمان ہیں لیکن ایسے معاملات کے بارے میں ہمارا احساس غلیظ ہے۔ ہم اجڈ ہوگئے ہیں۔ ایک شخص اپنے بھائی کے گھر جاتا ہے اور تیر کی طرح اندر گھس جاتا ہے اور رات اور دن کے کسی بھی وقت اس کا جی چاہے گھس جاتا ہے۔ وہ بار بار گھنیٹاں بجاتا ہے۔ اور تب چھوڑتا ہے کہ کوئی بادل نخواستہ اٹھے اور اس کے لیے دروازے کھولے۔ بعض اوقات گھر میں ٹیلیفون بھی ہوتا ہے۔ یہ بڑی سہولت سے آنے کی اجازت طلب کرسکتا ہے ‘ وقت مقرر کرسکتا ہے۔ لیکن ہم نے اسلام کے نظام استیذان کو ترک کردیا ہے اور وقت بےقوت ہم دوسرے کے ہاں وارد ہوجاتے ہیں اور اب تو ہم نے بغیر ملاقات چلے جانے کو معیوب سمجھ لیا ہے۔ اگر چہ اہل بیت نہ چاہتے ہوں۔ ہمارا رویہ یہ ہوتا ہے کہ جب ہم آگئے تو ہمیں گھس جانا ہی ہے۔ بغیر کسی باک اور انتظار کے۔
ہم مسلمان ہیں لیکن ہم اس وقت اپنے بھائیوں کو ڈسٹرب کردیتے ہیں جب وہ کھانا کھانے بیٹھے ہوتے ہیں۔ اب اگر وہ بھائی کھانا پیش نہیں کرتا تو ہم خفا ہوجاتے ہیں۔ ہم رات دیر تک ملنے چلے جاتے ہیں۔ اگر وہ اپنے ہاں رات گزار نے کی دعوت نہیں پیش کرتا تو ہم خفا ہوجاتے ہیں اور ہم اس معاملے میں کسی کا کوئی عذر سننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ یہ محض اس لیے ہوتا ہے کہ ہم اسلامی آداب کے رنگ میں رنگے ہوئے نہیں ہیں۔ ہم اپنی خواہشات کو اس ضابطے کے تابع کرنا نہیں چاہتے جو رسول اللہ ﷺ لائے ہیں۔ اور ہم دراصل ایک غلط جاہلی رواج کے غلام بن گئے ہیں جس پر اللہ کی جانب سے کوئی دلیل نہیں ہے۔
پھر زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ ہم ان لوگوں کو دیکھتے ہیں جنہوں نے اسلام قبول نہیں کیا۔ وہ بعض ایسے آداب پر عمل پیرا ہیں جو ہمارے دین جیسے ہیں۔ اور وہ ایسے ہی آداب ہیں جو ہمارے دین نے ہمیں سکھائے ہیں۔ ہم ان غیر مسلموں کو دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں کہ انہوں نے ہمارے دین کے آداب اپنا رکھے ہیں اور ہمیں اپنے دین کا پتہ نہیں ہے۔ الٹے ہم ان سے متاثر ہوجاتے ہیں اور ان کو نادر آداب سمجھتے ہیں۔ اس مقام پر پہنچ کر بھی ہم اپنے دین کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے اور مطمئن ہیں کہ ہم مسلمان ہیں۔
گھروں میں داخل ہونے کی اجازت کے آداب کے بعد جس کے ذریعے امتناعی اور احتیاطی تدابیر اختیار کی گئی ہیں کہ کوئی نظر کے فتنے میں نہ پڑجائے اور اس کے برے نتائج برآمد ہوں۔ اب اہل ایمان کو عمومی تلقین کی جاتی ہے کہ وہ اپنی نظروں کی حفاظت کریں کیونکہ نظر بازی ہی انسان کو گمراہی اور بےراہ روی تک لے جاتی ہے۔
(قل للمئو منین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بما یصنعون وقل۔۔۔۔۔۔ تفلحون ) (30 : 31) ” اے نبی ﷺ مومن مردوں سے کہو کہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں ‘ یہ ان کے لیے زیادہ پاکیزہ طریقہ ہے ‘ جو کچھ وہ کرتے ہیں اللہ اس سے باخبر رہتا ہے ۔ اور اے نبی ﷺ ‘ مومن عورتوں سے کہہ دو کہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں ‘ اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں ‘ اور اپنا بنائو سنگھار نہ دکھائیں۔ بجز اس کے جو خود ظاہر ہوجائے ‘ اور اپنے سینوں پر اپنی اوڑھنیوں کے آنچل ڈالے رہیں۔ وہ اپنا بنائو سنگھار ظاہر کریں مگر ان لوگوں کے سامنے : شوہر ‘ باپ ‘ شوہروں کے باپ ‘ اپنے بیٹے ‘ شوہروں کے بیٹے ‘ بھائی ‘ بھائیوں کے بیٹے ‘ بہنوں کے بیٹے ‘ اپنے میل جول کی عورتیں ‘ اپنے لونڈی غلام ‘ وہ زیر دست مرد جو کسی اور قسم کی غرض نہ رکھتے ہوں ‘ اور وہ بچے جو عورتوں کی پوشیدہ باتوں سے ابھی واقف نہ ہوئے ہوں۔ وہ اپنے پائوں زمین پر مارتی ہوئی نہ چلا کریں کہ اپنی جو زینت انہوں نے چھپارکھی ہو ‘ اس کا لوگوں کو علم ہوجائے۔ اے مومنو ‘ تم سب مل کر اللہ سے توبہ کرو ‘ توقع ہے کہ فلاح پائو گے “۔
ان آیات کا نصب العین یہ ہے کہ ایک نہایت ہی پاک و صاف سوسائٹی قائم کی جائے جس کی حالت یہ نہ ہو کہ ہر جگہ اور ہر وقت شہوت ہی کا ہیجان ہو اور ہر وقت گوشت و پوست کی لذت اندوزی کے سامان ہوں ‘ کیونکہ ایسے اقدامات جن سے ہر وقت جنسی ہیجان پیدا کیا جاتا ہے اور اس کے نتیجے میں اس قدر جنسی پیاس پیدا ہوجاتی ہے کہ وہ پھر کبھی بجھتی نہیں۔ ایک نظر بد یا فتنہ انگیز ادا یا زیب وزینت کی نمائش اور عریانی جسم کی نمائش دوسروں کے جذبات میں آگ لگا سکتی ہے اور انسان کی خوابیدہ حیوانیت کو نہ صرف جگا دیا جاتا ہے بلکہ دوسرے کے اندر بےچینی پیدا کردی جاتی ہے۔ دوسرے فریق کو پھر اپنے اوپر قابو نہیں رہتا۔ یا تو پھر انسان بےقید شہوت رانی کا شکار ہوتا ہے اور یا پھر اس کے اعصاب اور نفسیات کے اندر ہیجانی امراض پیدا ہوجاتی ہیں اور اس طرح ایک انسان عذاب میں مبتلا ہوجاتا ہے۔
اسلام جو پاک اور صاف ستھری سوسائٹی تعمیر کرنا چاہتا ہے اس کے قیام کے لیے وہ پہلی تدبیر یہ اختیار کرتا ہے کہ جذبات کو ہیجان سے بچایا جائے۔ وہ فریقین کے اندر پائے جانے والے فطری میلان کو اپنی جگہ باقی رکھتا ہے اور اپنے فطری انداز کے مطابق اس فطری جذبہ کو محفوظ اور تعمیری انداز دیتا ہے۔
انسانیت پر ایک دور ایسا بھی آیا کہ نظریہ اباحیت پھیل گیا۔ حنین کے درمیان آزادانہ گفتگو ‘ آزادانہ اختلاط ‘ گپ شپ کو عام کردیا گیا ‘ یہاں تک کہ بچوں کو جنسی تعلیم دی جانے لگی اور خفیہ ترین باتوں سے پردہ اٹھا دیا گیا۔ یہ باتیں اور اقدامات اسی نظریہ کے تحت کیے گئے کہ یہ امور جنسی میلان اور جنسی جذبات کو دبانے کے نقصانات سے بچاتے ہیں اور لوگوں کو یہ مواقع ملتے ہیں کہ وہ آزادانہ طور پر جو چاہیں جنسی معاہدے کریں۔ یہ اجازت ان نظریات نے اس لیے دی کہ لوگ جنسی میدان میں تشدد اور دوسری غلط کاریاں نہ کریں۔
یہ جنسی آزادی اس وقت رائج ہوئی جب انسان کے بارے میں خالص مادی نظریات رائچ ہوئے اور انسان کو محض حیوان قرار دیا گیا۔ خصوصاً فرائیڈ کے جنجسی خیالات کی ترویج کے بعد۔ لیکن میں نے خود ان نظریات کو ایک ایسے ملک میں دیکھا جس میں مکمل اباحیت تھی اور جس میں مذہبی ‘ اخلاقی اور انسانی قیود میں سے کوئی قید نہ تھی لیکن میں نے مشاہدہ کیا کہ یہ تمام نظریات محض مفروضے ہیں اور ایسے ممالک کے حالات ان کی پوری پوری تکذیب کرتے ہیں۔
ایے ممالک کا ہم نے ملاحظہ کیا ہے جن میں جسمانی ملاپ ‘ عریانی اور جنسی بےراہ روی پر کوئی قید و بند نہیں ہے۔ وہاں اس کی تمام ممکن شکلیں جائز ہیں لیکن ان ممالک میں جنسی تعلقات نہ مہذب ہو سکے ‘ نہ ان کے اندر کوئی باقاعدگی پیدا ہوئی بلکہ جنسی پیاس جنون کی حد تک بڑھ گئی اور اس قدر بڑھی کہ تسکین کا نام و نشان ختم ہوگیا۔ ان ممالک میں جنسی اور نفسیاتی بیماریوں کا طوفان لڈ آیا اور ایسے مسائل دیکھنے میں آئے جو جنسی محرومی سے پیدا ہوتے ہیں۔ یہ مسائل ان معاشرو وں میں بکثرت پائے جاتے ہیں جن میں جنسی انار کی پر کوئی قید نہیں ہے۔ یہ مسائل محض اس لیے پیدا ہوئے کہ ایسے ممالک میں کوئی جنسی قید اور ضابطہ نہ تھا۔ جنسی دو ستیاں بغیر کسی رکاوٹ کے آزاد تھیں اور جنسی تعلقات اور ملاپ مویشیوں کی طرح راستوں میں دیکھا جاتا تھا۔ جنسی حرکات اور نظربازیاں تو بالکل معمولی چیز تھیں۔ ان ممالک کے تفصیلی واقعات اور تفصیلی حرکات پر بحث کا یہاں موقع نہیں ہے۔ تفصیلات کے لیے دیکھئے محمد قطب کی کتاب (الانسان بین المادیہ والاسلام) باب مسائل جنس۔ مزید تفصیلات میری زیر طبع کتاب (امریکا التی رابت) میں دیکھئے۔
مرد اور عورت کے اندر ایک دوسرے کے لیے کشش ایک فطری امر ہے اور یہ انسان کے اندر تخلیقی طور پر ودیعت کی گئی ہے کیونکہ اس کرئہ ارض پر زندگی کے تسلسل کا دار و مدار اسی پر ہے۔ انسان نے اس زمین پر منصب خلافت ارضی کی ذمہ داریوں کو وپرا کرنا ہے۔ اس ذمہ داری کا بڑا اور اہم حصہ یہاں زندگی کے تسلسل کو قائم رکھنا ہے۔ اس لیے یہ کشش ایک دائمی کشش ہے۔ بعض اوقات یہ کشش سو جاتی ہے۔ پھر جاگ اٹھتی ہے۔ جو نہی یہ جاگتی ہے تو یہ فرد تب ہوتی ہے جب جنبن کے درمیان ملاپ ہو کر تسکین ہوجائے۔ اگر یہ جسمانی تسکین نہ ہو تو اس کا اثر انسانی اعصاب پر پڑتا ہے اور ایسے حالات میں انسان پر شدید گھٹن محسوس کرتا ہے۔ پھر انسان کو ایک نظر بھی اکساتی ہے ‘ ایک حرکت بھی اکساتی ہے۔ ایک معمولی سی ہنسی بھی ابھارتی ہے۔ محض گپ شپ کے نتیجے میں انسان بےقابو ہوجاتا ہے اور ایک خوبصورت آواز بھی تڑپا دیتی ہے لہٰذا محفوظ طریقہ یہ ہے کہ سوسائٹی کے اندر انسان کو ایسے مواقع سے محفوظ رکھا جائے تاکہ اس کا جنسی ملان طبعی حدود کے اندر رہے اور جائز اور قدرتی ذرائع سے اس کی تسکین کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ اسلام یہی منہاج اختیار کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسلام انسان کی قوتوں کو دوسری تعمیری سمتوں کی طرف بھی موڑ دیتا ہے۔ زندگی کے دوسرے کام ایسے ہوتے ہیں جو جسم و جان اور خون اور پوست کے اس ملاپ سے زیادہ اہم ہوتے ہیں ‘ لہٰذا انسان کے سامنے صرف شہوانی تسکین ہی واحد مقصد نہیں رہتا۔ زیر تفسیر آیات میں اسلام کی ایسی ہی پالیسیوں کو جاری کیا گیا ہے یعنی ایسے مواقع کم کیے جائیں جن میں ہیجان پیدا ہوتا ہو۔ لوگوں کو اعلیٰ مقاصد میں مصروف کیا جائے اور پھر فریقین کے لیے جائز تسکین کے مواقع پیدا کیے جائیں۔
Ayah 24:30(قل للمئو منین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بما یصنعون) (24 : 30) ” “۔ مردوں کی طرف سے غض بصر ایک نفسیاتی ادب اور تہذیب ہے اور دوسرے انسانوں کے اندر فطری محاسن اور جسمانی محاسن اور چہرے کے محاسن کی تلاش ہر انسان کے اندر ایک فطری داعیہ ہوتا ہے۔ اس طرح ایک مومن اپنے اس داھیہ پر قابو پاتا ہے۔ نیز یہ غلط روی کے پہلے دریچے کی بندش کا اقدام ہے۔ اگر غض بصر سے کام نہ لیا جائے تو انسانی نظر انسان کو فتنے میں ڈال سکتی ہے۔ گویا زہریلے تیر سے بچنے کی یہ پہلی کوشش ہے۔
جب انسان اپنی نظروں پر قابو پالے تو اس کے نتیجے میں اس کی شرمگاہ خود بخود زیر کنٹرول ہوگی۔ غض بعر کے نتیجے میں بےراہ روی کے اس دوسرے مرحلے میں داخل ہونے ہی سے انسان بچ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ غض بعر اور حفظ فروج کو ایک ہی آیت میں لایا گیا ہے۔ کیونکہ غض بصر سبب ہے اور حفظ فرج مسبب ہے۔ بلکہ عالم ضمیر اور عالم واقعہ دونوں میں یہ پہلا اور دوسرا قدم ہیں اور ایک دوسرے کے قریب قریب ہیں۔
ذلک ازکی لھم ” یہ ان کے لیے پاکیزہ طریقہ ہے “۔ یہ ان کے جذبات کے لیے پاکیزہ طریقہ ہے ‘ اس طریقے سے وہ برائی میں مبتلا ہونے سے بچ جائیں گے اور ان کا میلان اپنے جائز راہ تک محدود ہوگا۔ اللہ ہی ہے جو تمہیں یہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا حکم دیتا ہے۔ یہ فطری اور نفسیاتی تعلیم و تربیت ہے۔ اللہ تمہاری تمام حرکات سے واقف ہے اور وہ علیم وخبیر ہے۔
Ayah 24:31(وقل۔۔۔۔۔۔ فروجھن) (24 : 31) ” “۔ وہ اپنی بھوکی نظروں کو آزاد نہ چھوڑیں نہ وہ درد یدہ نگاہوں سے مردوں کو دیکھیں۔ نہ اچانک ان پر نگاہ ڈالیں اس طرح کہ مردوں کے خوابیدہ میلانات کے اندر اشتعال پیدا ہوجائے اور وہ اپنی شرمگاہوں اور غیر قانونی اور غیر جائز مردوں کے لیے مباح نہ کردیں۔ اپنے فطری میلانات کو جائز طریقے سے استعمال کر کے حلال بچے پیدا کریں اور یہ نہ ہو کہ حرام بچے پیدا ہوں اور عاشرے کے لیے وہ شرم کا باعث ہوں اور عاشرہ ان کے لیے شرمشار کنندہ ہو۔
(ولا۔۔۔۔۔ منھا) (24 : 31) ” “۔ زینت اور بنائو اور میک اپ عورتوں کے لیے جائز ہے کیونکہ یہ ان کی فطرت کا تقاضا ہے۔ ہر عورت کی یہ فطری خواہش ہوتی ہے کہ وہ بہت ہی خوبصورت نظر آئے۔ ہر زمانے میں زینت کے معیار بھی بدل جاتے ہیں لیکن زینت کا داعیہ فطرت کے اندر موجود ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ عورت اپنے آپ کو زیادہ سے زیادہ خوبصورت بنائے۔
اسلام عورت کی اس فطرت کو بھی جڑ سے اکھاڑ کر نہیں پھینکتا۔ وہ اسے تسلیم کرتا ہے لیکن اسلام اس کی تنظیم اور ضابطہ بندی ضرور کرتا ہے۔ اسلام یہ چاہتا ہے کہ یہ زیب وزینت صرف ایک مرد یعنی اپنے خاوند اور شریک حیات کے لیے مخصوص ہوجائے اور اس زینت کو صرف وہ دیکھے۔ اس میں اس کے ساتھ کوئی شریک نہ ہو۔ ہاں بعض مجارم بھی اس زینت میں شریک ہو سکتے ہیں جن کا ذکر بعد میں آتا ہے اور جن سے یہ توقع نہیں ہوتی کہ عورت ان کے لیے شہوت انگیز ہوگی۔
رہی وہ زینت جو چہرے پر ہے یا جو ہاتھوں پر ہے تو اس کا ظہور جائز ہے۔ کیونکہ چہرے اور ہاتھوں کا کھولنا عورتوں کے لیے مباح ہے۔ حضور ﷺ نے اسماء بنت ابوبکر سے یہ فرمایا ” اسماء عورت جب حیض کی حد تک پہنچ جائے تو یہ جائز نہیں ہے کہ اس کے ” ان “ مقامات کے سوا کوئی جگہ کھلی ہو۔ آپ نے اس وقت چہرے اور ہاتھوں کی طرف اشارہ فرمایا۔
ولیضربن بخمر ھن علی جیو بھن (24 : 31) ” “۔ جب اس شگاف کو کہتے ہیں جو قمیض میں سینے پر ہوتا ہے۔ اور ” خمار “ اس چادر کو کہتے ہیں جو سر پر اوڑھی جاتی ہے تاکہ اس سے سینہ چھپ جائے اور وہ بھوکی نظروں سے اوجھل رہے اور اچانک نظر سے بھی یہ مقامات بچ جائیں۔ متقی لوگ تو اس اچئتی نظر کو طول نہیں دیتے نہ دو بارہ نظر ڈالتے ہیں لیکن اس نظر سے بھی بعض اوقات بڑے فتنے پیدا ہوجاتے ہیں۔ اگر ان مقامات کو کھلا رکھا جائے جن سے جنسی میلان کا تعلق ہے۔ اللہ تعالیٰ اس معاملے میں کسی انسان کو آزمانا نہیں چاہتا کیونکہ اللہ کو معلوم ہے کہ انسان کے لیے یہ ایک عظیم فتنہ ہے۔
اور وہ مومن عورتیں جو اللہ کی طرف سے یہ ممانعت پار ہی تھیں اور ان کے دل اللہ کے نور سے منور تھے انہوں نے ان احکام کی تعمیل میں ذرہ برابر بھی ہچکچاہٹ سے کام نہیں لیا۔ اگر چہ ان کی فطری رغبت اور خواہش یہی تھی کہ وہ ایسے جمال و کمال کا اظہار کریں جس طرح ہر عورت کی یہ فطری خواہش ہوتی ہے۔ جاہلیت میں یہ رواج تھا جس طرح آج کی جدید جاہلیت کا رواج ہے کہ عورتیں مردوں کے درمیان سینہ تان کر پھرتی تھیں اور ان کے سینہ پر کچھ نہ ہوتا تھا۔ بعض اوقات تو اس کی گردن اور بالوں کی لٹیں بھی کھلی ہوتی تھیں اور کان کی بالیاں بھی کھلی ہوتی تھیں۔ جب اللہ کی طرف سے یہ حکم آیا کہ وہ اپنے سینوں پر اوڑھنیاں لٹکائیں اور اپنی زینت کے صرف ان حصوں کو ظاہر کریں جو ظاہر ہوں تو انہوں نے اس حکم کی تعمیل میں مطلق تامل نہ کیا۔ اس کے بارے میں حضرت عائشہ ؓ کا قول خوب و ضاحت کرتا ہے کہ اللہ دور اول کی مہاجر عورتوں پر رحم فرمائے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی۔
ولیضربن بخمرھن علی جیوبھن (24 : 31) ” “۔ تو جب ان کے مرد عورتوں کے پاس گئے اور انہوں نے ان پر یہ آیت تلاوت کی تو ایک انقلاب آگیا۔ ایک شخص اپنی بیوی ‘ بہن ‘ اور لڑکی کے سامنے یہ تلاوت کرتا یا دوسری قریبی رشتہ دار عورتیں کے سامنے ‘ تو ان عورتوں نے اپنی نقش و نگار والی ریشمی چادروں کو پھاڑا اور سر پر اوڑھ لیا۔ یہ انہوں نے ایمان اور تصدیق کے جذبہ سے کیا۔ (یعنی اللہ کا جو حکم آیا انہوں نے اس پر عمل کیا) ۔ اور وہ عورتیں رسول اللہ ﷺ کے پیچھے صفوں میں یوں کھڑی نظر آتی تھیں کہ گویا ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہیں۔
اسلام نے اسلامی معاشرے کا ذوق ہی بدل دیا اور اس معاشرے میں لوگوں کے جمالی احساسات ہی بدل گئے۔ اب جمال اور حسن کی حیوانی ادائیں مطلوب اور مستحسن نہ رہیں بلکہ حسن و جمال کا ایک انسانی اور مہذب رنگ ڈھنگ اور معیار قائم ہوگیا جس میں عریانی معیار حسن نہ رہی۔ جہاں تک عریانی کا تعلق ہے یہ حسن و جمال کا حیوانی معیار ہے۔ انسان اس کی طرف تب مائل ہوتا ہے جب اس کے احساسات حیوانی بن جائیں۔ اگرچہ یہ عریاں جمال بہت ہی اعلیٰ درجے کا حسن پیش کرتا ہو۔ سنجیدگی اور وقار کا جمال تو وہی پاکیزہ جمال ہے جو اسلام نے پیش کیا ہے۔ اس سے ذوق ترقی پاتا ہے اور وہ انسان کے لائق ہوتا ہے۔ یہ ظاہری بھی ہوتا ہے ‘ اور تصوراتی بھی ہوتا ہے۔
آج بھی اسلام سچی مومنہ عورتوں کی تربیت اسی انداز سے کرتا ہے اگرچہ آج کا ماحول بہت ہی بدل گیا ہے۔ عمومی طور پر لوگوں کا ذوق گر گیا ہے اور اس میں حیوانی رنگ کا غلبہ ہے۔ آج کے جمالیاتی مظاہر میں عریانی اور حیوانی رنگ ڈھنگ اپنے عروج پر ہے لیکن ہماری مومنہ عورتیں آج بھی اپنے مقامات کشش اور مقامات فتنہ کو چھپاتی ہیں۔ وہ یہ جہاد ایسے ماحول میں گر رہی ہیں جہاں عریانی ہی عریانی ہے۔ عورتوں کی حالت یہ ہے کہ وہ مردوں کو دعوت نظارہ دے رہی ہیں اور اس طرح پکار رہی ہیں اور دعوت دے رہی ہیں جس طرح حیوان حیوان کو پکارتا ہے۔ یہ پردہ سنجیدگی اسلامی فرد اور ایک معتدل اسلامی سوسائٹی کے لیے بےحیائی سے بچائو کی واحد تدبیر ہے۔ لیکن جہاں فتنے اور فحاشی اور بےراہ روی کا ڈر نہ ہو وہاں اسلام کشف و ظہور ‘ زینت کی ممانعت نہیں کرتا۔ چناچہ وہ مرد جن کا میلان بالعموم محرم عورتوں کی طرف نہیں ہوتا ‘ ان کے سامنے اظہار زینت کی ممانعت نہیں ہے۔
آبائ ‘ ابنائ ‘ سسر ‘ خاوند کے بیٹے ‘ بھائی بھتیجے ‘ بھانجے اور مومن عورتیں ان احکام سے مستثنیٰ ہیں۔
اونسا ئھن (24 : 31) ” ان کی عورتیں “ یعنی مومن عورتیں۔ رہیں غیر مومن عورتیں تو وہ مستثنیٰ نہیں ہیں۔ یہ اس لیے کہ ہو سکتا ہے کہ غیر مسلم عورتیں اپنے خاوندوں کے سامنے یا بھائیوں کے سامنے یا لڑکوں کے سامنے مسلمان عورتوں کی خفیہ زیب وزینت کی داستانیں سنائیں۔ صحیحین میں ہے۔
لاتباشر المر اۃ المر اۃ تنقھا لزو جھا کا نہ پر اھا ” کوئی عورت دوسری عورت کے سامنے ننگی نہ ہو کہ وہ اس کا بیان اپنے خاوند سے اس طرح کرے کہ گویا وہ اسے ننگا دیکھ رہا ہے “۔ لیکن مسلمان عورتیں اس سے اس لیے مستثنیٰ ہیں کہ وہ امین ہیں۔ ان کا دین اور ان کا اخلاص ان کو اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ وہ ایک مسلم عورت کی جسمانی ساخت اور زیب وزینت کا بیان اپنے خاوندوں کے سامنے کریں۔ اور اس سے وہ بھی مستثنیٰ ہیں۔
اوما ملکت ایمانھن (24 : 31) ” وہ جو تمہارے مملوک غلام ہیں “۔ ان کے بارے میں دو اقوال ہیں۔ ایک یہ کہ اس سے مراد صرف لونڈیاں ہیں دوسرا یہ کہ غلام اور لونڈیاں دونوں اس حکم میں شامل ہیں کیونکہ ایک غلام بالعموم اپنی مالکہ کی طرف شہوانی نظروں سے نہیں دیکھتا۔ لیکن پہلی رائے درست ہے کیونکہ غلام بھی بہر حال انسان ہے اور سیدہ کی زیب وزینت کے مقامات دیکھ کر اس کے اندر بھی شہوانی ہیجان پیدا ہو سکتا ہے۔ اگر چہ وہ معاشرتی اعتبار سے ایک فردوتر مقام رکھتا ہو اور اس سے وہ زیر دست مرد بھی مستثنیٰ ہیں جو کسی اور قسم کی غرض نہ رکھتے ہوں۔ یعنی
اوالتبعین غیر اولی الاربۃ من الرجال (24 : 31) ” اور وہ زیر دست مرد جو کسی اور قسم کی غرض نہ رکھتے ہوں “۔ یا وہ کسی سبب سے عورتوں کی خواہش ہی نہ رکھتے ہوں مثلاً وہ نامرد ہوں ‘ یا احمق ہوں یا مجنوں ہوں یا اور کوئی ایسی وجہ ہو جس کی بنا پر وہ عورت کو نہ چاہتے ہوں اور کسی فتنہ اور بےراہ روی کا کوئی خطرہ نہ ہو۔
اوالطفل الذین لم یظھروا علی عورت النسآ ئ (24 : 31) ” اور وہ بچے جو عورتوں کی پوشیدہ باتوں سے ابھی واقف نہ ہوئے ہوں “۔ وہ بچے کہ اگر وہ عورت کو ننگا دیکھ لیں تو اس کے اندر جسمانی خواہش پیدانہ ہو۔ اگر انکے اندجنسی شعور پیدا ہوگیا ہو ‘ اگرچہ وہ بالغ نہ ہوئے ہوں تو ان سے پردہ ضروری ہے اور وہ اس استثناء میں داخل نہیں ہیں۔
یہ سب خاوندوں کے علاوہ ہیں۔ ان کے لیے یہ اجازت ہے کہ یہ اگر عورت کے ناف کے نیچے اور گھٹنے کے اوپر کے حصے ‘ کے ماسوا کسی جگہ کو دیکھ لیں ‘ جب کہ ان لوگوں سے ایسا کوئی ڈر نہ ہو کہ یہ کسی فتنے میں مبتلا ہوں گے۔ رہا خاوند تو تو اس کے لیے اجازت ہے کہ وہ اپنی بیوی کے جسم کا ہر حصہ دیکھ سکے۔
پردہ کے ان احکام سے مراد اور مقصود یہ تھا کہ کوئی بےراہ روی اور فحاشی میں مبتلا نہ ہو اس لیے اب یہاں ایسی حرکات کی بھی ممانعت کردی گئی ہے جس سے کوئی فتنے میں پڑسکتا ہے ‘ جن کی وجہ سے شہوت کا ہیجان پیداہو سکتا ہے اور جن کی وجہ سے خفیہ جذبات بھڑک سکتے ہیں اگرچہ عملا وہ عورتیں پردے میں ہوں۔
ولا یضربن بارجلھن لیعلم ما یخفین من زینتھن (24 : 31) ” اور وہ اپنے پائوں کو زمین پر مارتی ہوئی نہ چلیں کہ اپنی زینت جو انہوں نے چھپار کھی ہو اس کا لوگوں کو علم ہوجائے “۔ یہ آیت نفس انسانی کی تشکیل ‘ اس کے تاثر اور انفعال اور جنسی معاملات میں اس کے رد عمل کی گہرائی تک اتر جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسانی سوچ اور تصور بعض اوقات ایک منظر کے دیکھنے سے بھی زیادہ متاثر کردیتی ہے۔ کئی لوگ ایسے حساس ہوتے ہیں کہ عورت کے جسم کو دیکھنے کے مقابلے میں اس کے جوتوں ‘ اس کے کپڑوں اور اس کے زیورات کو دیکھ کر ہی متاثر ہوتے ہیں۔ نیز بعض افراد کو عورت کا خیال زیادہ متاثر کرتا ہے بہ نسبت اس کے کہ وہ ان کے سامنے ہو۔ امراض نفسی کے علماء کے ہاں ان امور کے بارے میں بڑی ہی معلومات ہیں۔ اس طرح دور سے گھنگرئوں کی آواز اور عطر کی خوشبو بھی انسانی حواس کے اندر ہیجان پیدا کردیتی ہے اور ان کے اعصاب پر اس کے اثرات ہوتے ہیں۔ بعض اوقات یہ اثرات اس قدر شدید ہوتے ہیں کہ انسان کا اپنے اوپر قابو نہیں رہتا۔ قرآن کریم ان تمام تاثرات کے راستے بند کرتا ہے کیونکہ قرآن کا نازل کرنے والا وہی ہے جو انسان کا خالق ہے۔ وہی ہے جو اپنی مخلوقات کے بارے میں سب سے اچھی طرح جانتا ہے۔ وہ نہایت ہی گہرائی کے ساتھ خبر دار ہے۔
اور آخر کار تمام نیکیوں کا سرچشمہ آتا ہے ‘ کہ لوگوں کا تعلق بالل مضبوط ہونا چاہیے اور توبہ و استغفار کا دروازہ بھی ان کے لیے کھلا چھوڑا جاتا ہے۔ یعنی وہ گناہ اللہ معاف کردے گا جو نزول قرآن سے قبل تم لوگوں سے صادر ہوتے رہے ہیں۔
(وتوبوآ۔۔۔۔۔۔۔ تفلحون) (24 : 31) ” اے مومنو ‘ تم سب مل کر اللہ سے توبہ کرو ‘ توقع ہے کہ فلاح پائو گے “۔ چناچہ اس فقرے کے ذریعے اللہ کی نگرانی کا احساس دلایا جاتا ہے اور اللہ کی عظمت ‘ اس کی مہربانی کی اہمیت بتائی جاتی ہے کیونکہ شیطان کی اس کشمکش کے مقابلے میں وہی مدد گا رہے اور اس کا خوف اور اس کی نگرانی کا شعور ہی انسان کو ان خرابیوں سے بچا سکتا ہے۔
یہاں تک اس مسئلے کا انسدادی علاج کیا گیا تھا لیکن انسان کی جنسی خواہش دراصل ایک حقیقی خواہش ہے جو انسان کے اندر رکھی گئی ہے ۔ اس لیے جنسی تشفی کے حقیقی علاج یعنی مثبت علاج کی بھی ضرورت ہے۔ یہ مثبت علاج ویں ہوگا کہ معاشرے میں شادی کو آسان کردیا جائے اور اس معاملے میں معاونت کی جائے اور شادی اور جائز تعلق کے مقابلے میں تمام دوسرے ذرائع اور تعلقات کے معاملے میں سختی کی جائے۔
Ayahs 24:32–33(وانکحوا الایامی۔۔۔۔۔۔۔۔ واسع علیم ولیستعفف الذین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غفور رحیم ) ”
جنسی میلان کی تسکین کا بہترین طریقہ شادی ہے۔ اس گہری خواہش کے اندر فطرت اور قدرت کا یہی راز ہے کہ لوگ نسل انسانی کے تسلسل کے مشکل کام کو خوشی خوشی سرانجام دیں۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم شادی کی راہ میں آنے والی تمام رکاوٹیں دور کردیں تاکہ زندگی فطری انداز کے مطابق سادگی سے چلتی رہے۔ کسی خاندان کی تشکیل کے لیے پہلی رکاوٹ مالی رکاوٹ ہے اس طرح لوگ محفوظ اور قلعہ بند نہیں ہو سکتے۔ اسلام چونکہ ایک مکمل نظام زندگی ہے اس لیے وہ عفت اور پاکیزگی کو تب ہی لازم کرتا ہے جب اس کے لیے اسباب بھی فراہم کر دے اور سوسائٹی کے تمام افراد کو فراہم کردے تاکہ جو لوگ معتدل اور فطری راستے سے انحراف کرتے ہیں وہ اس کے لیے مجبور نہ ہوں بلکہ ان کے سامنے جنسی تسکین کا صحیح راستہ موجود ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام حکم دیتا ہے کہ ایسے نوجوانوں کے لیے شادی کی راہ ہموار کی جائے جو شادی شدہ نہ ہوں۔
(وانکحوا۔۔۔۔۔۔۔۔ واسع علیم) (24 : 32) ” تم میں سے جو لوگ مجروہوں اور تمہارے لونڈی غلاموں میں سے جو صالح ہوں ‘ ان کے نکاح کردو۔ اگر وہ غریب ہوں تو اللہ اپنے فضل سے ان کو غنی کردے گا ‘ اللہ بڑی وسعت والا اور علیم ہے “۔ اور ایامیٰ وہ لوگ ہیں جن کا جوڑ نہ ہو یعنی عورت کا خاوند نہ ہو اور مرد کی بیوی نہ ہوائو وہ مجروہوں۔ یہاں مراد وہ لوگ ہیں جو آزاد ہیں۔ اس کے بعد غلاموں کا ذکر خصوصیت سے کردیا گیا ہے۔
(والصلحین۔۔۔۔۔۔ وامآ ئکم) (24 : 32) ” اور تمہارے لونڈی اور غلاموں میں سے جو صالح ہوں “۔ لیکن یہ لوگ ایسے ہیں جن کی مالی حالت اچھی نہیں ہوتی۔
ان یکونوا فقرآء یغنھم اللہ (24 : 32) ” یہ غریب ہوں تو اللہ اپنے فضل سے ان کو غنی کر دے گا “۔ یہ حکم اسلامی سوسائٹی کے لیے ہے کہ وہ شادی کا انتظام کردے اور جمہور علماء اس طرف گئے ہیں کہ یہ مستحب امر ہے۔ کیونکہ حضور ﷺ کے دور میں ایسے مجرد لوگ تھے جنہوں نے شادی نہ کی تھی۔ اگر یہ حکم فرض ہوتا تو حضور اکرم ﷺ ضرور ان کی شادی کا انتظام فرماتے۔
ہمارا خیال یہ ہے کہ یہ حکم واجبی ہے ‘ اس معنی میں نہیں کہ کسی مجرد کو شادی پر مجبور کیا جائے بلکہ اس معنی میں کہ اسلامی سوسائٹی کے لیے واجب ہے کہ جو لوگ شادی کرنا چاہتے ہیں۔ ان کی اس معاملے میں اعانت کی جائے تاکہ وہ شادی کے قلبعے میں محفوظ ہو سکیں۔ فحاشی اور بدکاری میں مبتلا ہونے سے یہ عملی بچائو ہے اور صرف اس صورت میں معاشرے کو بعدعملیوں سے بچایا جاسکتا ہے۔ اگر معاشرے کو بد عملی سے بچانا فرض ہے تو اس فرض کے لیے ضروری تدابیر اختیار کرنا بھی فرض ہوگا۔
اس سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ اسلام چونکہ ایک مکمل اور مربوط نظام زندگی ہے اس لیے وہ ایک ایسا اقتصادی نظام زندگی وضع کرتا ہے کہ اس میں ہر شخص کے لیے معاشی جدوجہد کرنے کے مساوی مواقع موجود ہوں تاکہ کسی شخص کو اپنی ضرورت کے لیے بیت المال کا محتاج نہ ہونا پڑے۔ بعض استثنائی حالات میں بیت المال کو بھی امداد کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ اسلامی اقتصادی نظام میں بیناید اصول تو یہ ہے کہ ہر شخص اپنے کسب سے کھائے۔ سوسائٹی پر جو فریضہ عائد ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ وہ سب کے لیے کام کے مواقع فراہم کرے۔ رہی یہ بات کہ لوگوں کو بیت المال سے امدادی جائے تو یہ محض استثنائی صورتوں میں ہوتا ہے۔
اگر لوگ اسلامی نظام کے مطابق سعی کرتے ہیں اور زندگی گزارتے ہیں اور پھر بھی ایسے حالات آجائیں کہ اسلامی معاشرے میں محض معاشی مجبوری کی وجہ سے مجرد نوجوان ‘ مرد اور عورتیں پائی جاتی ہوں تو پھر اسلامی سوسائٹی اور اسلامی حکومت پر فرض ہے کہ ایسے لوگوں کو مالی امداد دے۔ یہی حکم غلام مردوں اور لونڈیوں کا بھی ہے کہ ان کے مالکان کا یہ فرض ہے کہ وہ ان کی شادی کا انتظام کریں اگر وہ ایسا کرسکتے ہوں۔
اسلامی سوسائٹی کا یہ بھی فرض ہے کہ دیکھے کہ اگر لوگ شادی کرنا چاہتے ہیں ‘ مرد ہوں یا عورتیں ہوں لیکن ان کی راہ میں غربت رکاوٹ بنی ہوئی ہے تو سوسائٹی ان رکاوٹوں کو دور کرے کیونکہ رزق اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اللہ ان کو غنی کرسکتا ہے بشرطیکہ وہ مفت کا طریقہ اختیار کریں۔
(ان یکونوا۔۔۔۔۔۔ من فضلہ) (24 : 32) ” اگر وہ غریب ہیں تو اللہ اپنے فضل سے ان کو غنی کردے گا “۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” تین افراد ایسے ہیں کہ اللہ پر ان کا حق ہے کہ اللہ ان کی مدد کرے۔ مجاہد فی سبیل اللہ کی اللہ مدد کرتا ہے۔ وہ غلام جو اپنے آپ کو آزاد کرنے کے لیے مالی ادائیگی کا معاہدہ کرتا ہے اور وہ شادی کرنے والا جو اپنے آپ کو بری راہوں سے بچانے والا ہو “۔ (ترمذی و نسائی)
اور جب تک مجرد لوگوں کے حالات درست نہیں ہوتے اور اسلامی سوسائٹی ان کے لیے کوئی انتظام نہیں کرتی ‘ اللہ ان کو حکم دیتا ہے کہ وہ عفت اور پاکیزگی کا دامن تھامے رکھیں۔
(ولیستعفف۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ من فضلہ) (24 : 33) ” اور جو لوگ نکاح کا موقعہ نہ پائیں انہیں چاہیے کہ عفت مآبی اختیار کریں یہاں تک کہ اللہ اپنے فضل سے ان کو غنی کر دے “۔ اللہ تعالیٰ کسی ایسے شخص پر تنگی نہیں کرتا ‘ کیونکہ اللہ تو وسیع علم رکھتا ہے۔
واللہ واسع علیم ” اللہ بڑی وسعت والا اور علیم ہے “۔ یوں اسلام اس مسئلے کا نہایت ہی عملی حل تلاش کرتا ہے۔ ہر شخص جو شادی کرسکتا ہے اس کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ شادی کرے۔ اگر چہ وہ مالی لحاظ سے کمزور ہو کیونکہ مالی مسئلہ حل کرنے والا اللہ ہے “۔
اس وقت اسلامی نظام میں مجبوراً غلامی کا ادارہ موجود تھا اور غلاموں کے اندر چونکہ اخلاقی قدریں کمزور ہوتی ہیں اس لیے اسلامی معاشرے کے اندر موجود غلام معاشرے کے اندر اعلیٰ اخلاقی معیار کے قیام میں رکاوٹ بن رہے تھے۔ غلامی کا ادارہ اسلام نے ابتداء میں اس لیے قائم رکھا ہوا تھا کہ اہل کفر کے ہاں غلام موجود تھے اور جو مسلمان ان کے ہاتھ آجاتے تھے وہ بھی غلام بنا لیے جاتے تھے ۔ موجودہ پوزیشن کو سامنے رکھتے ہوئے اسلام نے جنسی مسئلہ کو حل کرنے کی سعی کی یعنی یہ کہ غلاموں کی شادیاں کی جائیں۔ خود غلامی کو اپنے طور پر ختم کرنے کے لیے مکاتبت کا طریقہ نکالا یوں کہ اگر کوئی غلام مالی معاوضہ ادا کرنے کی پیشکش کرے تو مالک پر اسے قبول کرنا لازم ہے۔
(والذین۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خیرا) (24 : 33) ” اور تمہارے مملوکوں میں سے ہر مکاتبت کی درخواست کریں ‘ ان سے مکاتبت کرلو ‘ اگر تمہیں معلوم ہو کہ ان کے اندر بھلائی ہے “۔ اس کے بارے میں فقہاء کی آزاء مختلف ہیں کہ آیا یہ واجب ہے یا نہیں۔ یعنی اگر غلام پیشکش کرے تو مکاتبت کرنا لازم ہے یا مالک کے اختیار میں ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ واجب ہے کیونکہ وجوب کا قول ہی اسلام کی مجموعی پالیسی کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ اسلام انسان کو ایک مکرم مخلوق سمجھتا ہے اور غلام کا وجود شرافت انسانی کے خلاف ہے۔ معاہدہ کرنے کے بعد غلام جو کمائے گا وہ مالک کا ہوگا تاکہ معاوضہ معاہدہ کی رقم کی ادائیگی ہو سکے اور اسی طرح زکوۃ کی مد سے بھی ایسے غلام کی امداد ضروری ہوجاتی ہے تاکہ جلد از جلد یہ غلام آزادی حاصل کرسکے۔
(واتو۔۔۔۔۔ اتکم) (24 : 33) ” اور اس کو اس مال میں سے دو جو اللہ نے تمہیں دیا ہے “۔ اس شرط پر کہ مالک یہ سمجھے کہ اس میں بھلائی ہے۔ خیر سب سے پہلے اسلام ہے۔ اس کے بعد خیر یہ ہے کہ غلام کمان ی کی صلاحیت رکھتا ہو۔ یہ نہ ہو کہ آزادی کے بعد وہ لوگوں سے بھیگ مانگتا پھرے۔ بعض اوقات وہ اخلاق سے گرے ہوئے ذرائع معیشت بھی اختیار کرسکتا ہے جن سے وہ صرف اس قدر کما سکتا ہو جس سے اس کی زندگی قائم رہ سکے۔ اسلام چونکہ ایک مکمل اور ہم آہنگ نظام ہے اس لیے وہ حقیقی صورت حال کو بھی پیش نظر رکھتا ہے اس کا مقصد صرف یہ نہیں ہے کہ یہ شعور ہوجائے کہ ایک غلام آزاد ہوگیا۔ محض عنوان اور نام اسلام میں اہمیت نہیں رکھتا۔ اسلام حقیقت ۔۔۔۔۔۔ کو دیکھتا ہے کہ آیا فی الواقع یہ غلام آزادی کے بعد معاشرے کے اندر کوئی تعمیری کردار ادا کرسکے گا یا نہیں۔ یہ اس وقت ممکن ہے جب یہ شخص کچھ کما سکے ۔ لوگوں پر بوجھ نہ بن جائے اور نہ گندے وسائل رزق اختیار کرے۔ وہ ایسی چیزیں فروخت کرنا شروع کردے جو آزادی سے بھی زیادہ قیمتی ہیں۔ (مثلاً عصمت فروشی) جبکہ اسے آزاد اس لیے کیا جارہا ہے کہ اس سے معاشرہ پاک ہو نہ یہ کہ اس کے ذریعہ معاشرہ گندہ ہو اور اس کا یہ فعل معاشرے کے لیے زیادہ سخت مصیبت ہو۔ (دور جدید میں بین الاقوامی معاہدات کی وجہ سے چونکہ غلامی ختم ہوگئی ہے اس لیے اب عملاً اسلام میں بھی غلامی نہیں رہے گی) ۔
اسلامی معاشرے میں غلامی سے بھی خطرناک بیماری اس بات کو سمجھا جاتا ہے کہ غلاموں کو عصمت فروشی کے لیے استعمال کیا جائے۔ اہل جاہلیت میں یہ رواج تھا کہ جس کی کوئی لونڈی ہوتی وہ اسے یہ پیشہ کرنے دیتا اور اس پر ٹیکس عائد کردیتا اور یہ پیشہ آج تک دنیا میں ذرائع ہے۔ اسلام نے چونکہ اسلامی سوسائٹی کو ہر قسم کے زنا سے پاک کرنے کا حکم دیا ھتا اس لیے ‘ اس قسم کے زنا کا ذکر قرآن نے خصوصیت کے ساتھ کیا۔
(ولا تکرھوا۔۔۔۔۔۔۔ غفور رحیم) (24 : 33) ” اور اپنی لونڈیوں کو اپنے دنیوی فائدوں کی خاطر قحبہ گری پر مجبور نہ کرو جبکہ وہ خود پاکدامن رہنا چاہتی ہوں۔ اور جو کوئی ان کو مجبور کرے تو اس جبر کے بعد اللہ ان کے لیے غفور و رحیم ہے “۔ اس آیت کے ذریعے ان لوگوں کو منع کردیا گیا جو اپنی لونڈیوں کو اس پیشہ پر مجبور کرتے تھے اور ان کو تنبیہ کردی گئی کہ وہ اس قسم کے خبیث ذریعوں سے دنیا کی دولت جمع نہ کریں۔ جن لونڈیوں کو اس طرح مجبور کردیا گیا ہو ان کے ساتھ وعدہ کیا کہ ان کے گناہ بخش دیئے جائیں گے کیونکہ اس صورت میں وہ مجبور تھیں۔ سعدی کہتے ہیں کہ یہ آیت عبد اللہ ابن ابی ابن السلول کے بارے میں نازل ہوئی۔ یہ منافقین کا رئیس تھا۔ اس کی ایک لونڈی تھی جس کا نام ” معاذہ “ تھا۔ اس کا قاعدہ یہ تھا کہ اس کا کوئی مہمان آتا تو یہ اس لونڈی کو اس کے پاس بھیج دیتا ‘ جس میں اس کے دو مطلب ہوتے۔ ایک یہ کہ وہ شخص کوئی انعام دے اور دوسرا یہ کہ اس طرح وہ مہمان کا اکرام کرتا تھا۔ یہ لونڈی حضرت ابوبکر ؓ کے پاس آئی اور اس نے اس بات کی شکایت کی۔ حضرت ابوبکر ؓ نے اس لونڈی کو اپنے قبضہ میں لے لیا۔ اس پر عبد اللہ ابن ابی ابن السلول نے اپنی قوم کو پکارا کہ کون ہے جو ہمیں محمد ﷺ سے چھڑائے۔ اب اس نے ہماری مملوکات پر ہاتھ ڈالنا شروع کردیا ہے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
یہ اقدام کہ لونڈیوں کو بدکاری کے لیے استعمال نہ کیا جائے اسلامی نظام کے ان اقدامات میں سے ایک ہے ‘ جن کے ذریعے اسلامی عاشرے کو بدکاری سے پاک کیا گیا تھا اور جنسی تسکین کے تمام غیر فطری اور گندے راستوں کو بند کردیا گیا تھا اس لیے کہ بدکاری کا پیشہ اگر موجود ہو تو کئی لوگ اس کی سوہلت کی وجہ سے اس میں مبتلا ہوسکتے ہیں۔ اگر یہ نہ ہوگا تو لوگ پھر شادی کر کے پاک زندگی گزارنا چاہیں گے۔
بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس پیشے کی موجودگی شرفاء کے گھروں میں امن وامان کی ضمانت ہے۔ کیونکہ اگر نکاح مشکل ہوجائے تو پھر انسان اس گندے راہ ہی سے اپنی فطری ضرورت پوری کرسکتا ہے۔ اگر یہ راستہ جائز نہ رکھا جائے تو پھر بھیڑیئے شریف لوگوں کی عزت سے کھیلنے لگیں گے۔
جو لوگ اس لائن پر سوچتے ہیں وہ دراصل سبب اور مسبب کے تعلق کو الٹ رہے ہیں۔ ہونا یہ چاہیے کہ لوگوں کے جنسی میلانات کو پاک رکھا جائے اور انہیں اس طرح منظم کیا جائے کہ وہ سلسلہ حیات کے تسلسل کا سبب بنیں۔ یہ فریضہ ہر سوسائٹی اکہو کہ وہ اپنے اندر ایسا معاشی نظام جاری کرے جس کے ذریعہ سے ہر شخص اس قابل ہو کہ وہ شادی کے بندھن میں باندھا جاسکے۔ اگر پھر بھی کسی کے لیے نکاح میں مشکلات ہوں تو ایسے واقعات کا خصوصی علاج کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح کوئی بھی اس گندے پیشے پر مجبور نہ ہوگا اور صورت حال یہ نہ ہوگی کہ ہر جگہ گندگی پائی جائے ‘ گلی گندگی کا ایک ڈھیر ہو اور اس پر سے جو کوئی گزرے وہاں گندگی ڈال دے اور سوسائٹی اسے دیکھ رہی ہو۔
کسی ملک کا اقتصادی نظام ہی ایسی گندگیوں کو ختم کرسکتا ہے اس طرح کہ ایسی گندگی کسی جگہ جمع نہ وہ۔ یہ صورت نہ ہو کہ محض اقتصادی وجوہات سے اس گندگی کے لیے جواز فراہم ہو۔ انسانوں کے لیے غلاظت کے ڈھیر فراہم ہوں۔
یہ ہے وہ پالیسی جو اسلام معاشرے کی تطہیر کے لیے استعمال کرتا ہے۔ جس کی وجہ سے کسی بھی معاشرے میں ایک عظیم انقلاب برپا ہوجاتا ہے۔ زیمن آسمان میں بدل جاتی ہے اور تمام انسانوں کی نظر بلند مقاصد کے لیے بلند افق پر ہوتی ے۔ وہ اللہ کے نور سے دیکھتے ہیں اور اس سے ان کے آفاق روشن ہوتے ہیں۔
Ayah 24:34اس سبق پر اب یہ آخری تبصرہ آتا ہے جو اس کے موضوع کے ساتھ خوب متناسب ہے۔
(ولقد۔۔۔۔۔۔ للمتقین) (34)
یہ آیات ایسی ہیں جو بات کو کھول کھول کر بتاتی ہیں۔ ان کے اندر کوئی پیچیدگی اور مشکل نہیں ہے کہ ان کو سمجھا نہ جاسکے۔ یا ان کے اندر جو مستحکم نظام زندگی تجویز ہوا ہے وہ کسی کی سمجھ میں نہ آئے۔ یہ نظام ایسا ہے کہ اس کی صحت پر گزری ہوئی اقوام کے تجربات بھی شہادت دیتے ہیں اور قرآن کریم نے ایسی اقوام کی تاریخ بیان بھی کی ہے۔ پھر دنیا میں ہر انسان یہ خواہش رکھتا ہے کہ ایک اعلیٰ ترقی یافتہ اور پاک و صاف سوسائٹی قائم ہو جو خدا خوفی پر مبنی ہو۔ اسلام ایسا ہی نظام زندگی ہے۔
اس پورے سبق میں جو فیصلے اور جو احکام وارد ہوئے ہیں وہ اس لقیب اور تبصرے کے ساتھ ہم آہنگ ہیں جن کا مقصد یہ ہے کہ انسانوں کے دلوں کے اندر خدا کا خوف اور خدا سے تعلق پیدا کیا جائے۔