24. Surah An-Noor

النورThe Light · 64 ayahsفی ظلال القرآن

Ayah 24:35

اَللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ مَثَلُ نُوْرِهٖ كَمِشْكٰوةٍ فِیْهَا مِصْبَاحٌ١ؕ اَلْمِصْبَاحُ فِیْ زُجَاجَةٍ١ؕ اَلزُّجَاجَةُ كَاَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّیٌّ یُّوْقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُّبٰرَكَةٍ زَیْتُوْنَةٍ لَّا شَرْقِیَّةٍ وَّ لَا غَرْبِیَّةٍ١ۙ یَّكَادُ زَیْتُهَا یُضِیْٓءُ وَ لَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ١ؕ نُوْرٌ عَلٰى نُوْرٍ١ؕ یَهْدِی اللّٰهُ لِنُوْرِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌۙ Open ayah 24:35 in the Quran reader

اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔ (کائنات میں) اس کے نور کی مثال ایسی ہے جیسے ایک طاق میں چراغ رکھا ہوا ہو ‘ چراغ ایک فانوس میں ہو ‘ فانوس کا حال یہ ہو کہ جیسے موتی کی طرح چمکتا ہوا تارا ‘ اور وہ چراغ زیتون کے ایک ایسے مبارک درخت کے تیل سے روشن کیا جاتا ہو جو نہ شرقی ہو نہ غربی ‘ جس کا تیل آپ ہی آپ بھڑکا پڑتا ہو۔ چاہے آگ ہیں کو نہ لگے ‘(اس طرح) روشنی پر روشنی (بڑھنے کے تمام اسباب جمع ہوگئے ہوں) ۔ اللہ اپنے نور کی طرف جس کی چاہتا ہے ‘ رہنمائی فرماتا ہے ‘ وہ لوگوں کو مثالوں سے بات سمجھاتا ہے ‘ وہ ہر چیز سے خوب واقف ہے

درس نمبر 154 ایک نظر میں اس سورة کے دونوں سابق اسباق میں انسان کی ان مادی خواہشات کا علاج کیا گیا تھا جو انسانی شخصیت کی طبیعی خواہشات ہیں اور انسانی شخصیت پر ان کی گہری گرفت ہے۔ مقصد یہ تھا کہ ان خواہشات کو پاک و صاف کیا جائے اور ان کو نورانی افق تک بلند کیا جائے۔ گوشت و پوست کی شہوتوں ‘ آنکھوں اور شرمگاہوں کی خواہشتات۔ ان باتوں کی تشیر اور تنقید۔ اس سلسلے میں پیاد ہونے والے غضب ‘ اشتعال اور دشمنی کے مسائل کو حل کیا گیا تھا اور ہدایات دی گئی تھیں۔ یہ حکم دیا گیا تھا کہ اسلامی معاشرے میں فحاشی کے پھیلانے سے اجتناب کیا جائے۔ عملی زندگی اور انسان کے اقوال میں فحاشی کی ممانعت کی گئی۔ ان امور کے انسداد کے سلسلے میں سزاد ہی میں بھی سخت تشدید کی گئی۔ حد زنا اور حد قزف کے سخت قوانین بنائے گئے۔ پھر بےخیر اور پاکدامن شادی شدہ عورتوں پر الزام اور بہتان کا نمونہ پیش کر کے سمجھا یا گیا۔ ان امور کے لیے انسدادی قوانین بھی بنائے گئے اور اخلاقی ہدایات بھی دی گیں۔ غض بصر اور استیذان کے قواعد نافذ کیے گئے۔ تمام ایسے امور سے منع کیا گیا جن سے فتنے میں پڑنے کے امکانات ہو سکتے تھے یا شہوت کے اندر ہیجان پیدا ہونے کا امکان تھا۔ پھر شادی کرنے کی ترغیب ‘ جسم فروشی کی ممانعت ‘ غلاموں کو آزاد کرنے کی ترغیب یہ سب امور اس بات سے تعلق رکھتے ہیں کہ گوشت اور خون کے ہیجانات کو فرد کیا جائے اور لوگوں کے اندر پاکیزگی کا شعور ‘ ضبط نفس اور صفائی اور نورانیت اور روحانیت کی طرف بڑھنے کا جذبہ پیدا کیا جائے۔ افک کے واقعہ کے بعد سوسائٹی کے اندر غیظ و غضب ‘ دشمنی اور کدورت کے جو آثار رہ گئے تھے ان سب کو منانے کی کوشش کی گئی اور نفوس مومنین کے اندر جو قلق اور بےچینی پیدا ہوگئی تھی اور جس کی وجہ سے اعلیٰ انسانی پیمانے متزلزل ہوگئے تھے ان کا علاج کیا گیا۔ حضرت محمد ﷺ کو پوری طرح اطمینان ہوگیا اور ان کی بےچینی دور ہوگئی۔ حضرت عائشہ ؓ نہ صرف راضی اور مطمئن ہوگئی بلکہ خوش ہوگئی۔ حضرت ابوبکر ؓ بھی مطمئن اور پر سکون ہوگئے۔ صفوان ابن معطل ایک عظیم بوجھ کے نیچے سے نکل آئے۔ تمام اہل اسلام کے شبہات دور ہوگئے اور جن لوگوں نے اس واقعہ میں غلط باتیں کی تھیں انہوں نے رجوع کر کے توبہ کرلی۔ سب لوگوں کے شبہات دور ہوگئے اور اللہ کے فضل و کرم اور ہدایت و رحمت کی بارش سب پر ہوگئی۔ اس تعلیم و تہذیب اور اس ہدایت و رہنمائی کے ذریعے نفس انسانی کو پاک و صاف کر کے منو کردیا گیا۔ اب اس کی نظریں اس نئی روشنی کی سمت میں بلند افق پر گئیں اور زمین و آسمان میں ہر سو اہل ایمان کو نور ربی نظر آنے لگا۔ اللہ نے اہل اسلام کو یہ استعداد دی کہ وہ آفاق کا ئنات میں سے اس نورانیت کو اخذ کرسکیں۔ درس نمبر 154 ایک نظر میں اس سورة کے دونوں سابق اسباق میں انسان کی ان مادی خواہشات کا علاج کیا گیا تھا جو انسانی شخصیت کی طبیعی خواہشات ہیں اور انسانی شخصیت پر ان کی گہری گرفت ہے۔ مقصد یہ تھا کہ ان خواہشات کو پاک و صاف کیا جائے اور ان کو نورانی افق تک بلند کیا جائے۔ گوشت و پوست کی شہوتوں ‘ آنکھوں اور شرمگاہوں کی خواہشتات۔ ان باتوں کی تشیر اور تنقید۔ اس سلسلے میں پیاد ہونے والے غضب ‘ اشتعال اور دشمنی کے مسائل کو حل کیا گیا تھا اور ہدایات دی گئی تھیں۔ یہ حکم دیا گیا تھا کہ اسلامی معاشرے میں فحاشی کے پھیلانے سے اجتناب کیا جائے۔ عملی زندگی اور انسان کے اقوال میں فحاشی کی ممانعت کی گئی۔ ان امور کے انسداد کے سلسلے میں سزاد ہی میں بھی سخت تشدید کی گئی۔ حد زنا اور حد قزف کے سخت قوانین بنائے گئے۔ پھر بےخیر اور پاکدامن شادی شدہ عورتوں پر الزام اور بہتان کا نمونہ پیش کر کے سمجھا یا گیا۔ ان امور کے لیے انسدادی قوانین بھی بنائے گئے اور اخلاقی ہدایات بھی دی گیں۔ غض بصر اور استیذان کے قواعد نافذ کیے گئے۔ تمام ایسے امور سے منع کیا گیا جن سے فتنے میں پڑنے کے امکانات ہو سکتے تھے یا شہوت کے اندر ہیجان پیدا ہونے کا امکان تھا۔ پھر شادی کرنے کی ترغیب ‘ جسم فروشی کی ممانعت ‘ غلاموں کو آزاد کرنے کی ترغیب یہ سب امور اس بات سے تعلق رکھتے ہیں کہ گوشت اور خون کے ہیجانات کو فرد کیا جائے اور لوگوں کے اندر پاکیزگی کا شعور ‘ ضبط نفس اور صفائی اور نورانیت اور روحانیت کی طرف بڑھنے کا جذبہ پیدا کیا جائے۔ افک کے واقعہ کے بعد سوسائٹی کے اندر غیظ و غضب ‘ دشمنی اور کدورت کے جو آثار رہ گئے تھے ان سب کو منانے کی کوشش کی گئی اور نفوس مومنین کے اندر جو قلق اور بےچینی پیدا ہوگئی تھی اور جس کی وجہ سے اعلیٰ انسانی پیمانے متزلزل ہوگئے تھے ان کا علاج کیا گیا۔ حضرت محمد ﷺ کو پوری طرح اطمینان ہوگیا اور ان کی بےچینی دور ہوگئی۔ حضرت عائشہ ؓ نہ صرف راضی اور مطمئن ہوگئی بلکہ خوش ہوگئی۔ حضرت ابوبکر ؓ بھی مطمئن اور پر سکون ہوگئے۔ صفوان ابن معطل ایک عظیم بوجھ کے نیچے سے نکل آئے۔ تمام اہل اسلام کے شبہات دور ہوگئے اور جن لوگوں نے اس واقعہ میں غلط باتیں کی تھیں انہوں نے رجوع کر کے توبہ کرلی۔ سب لوگوں کے شبہات دور ہوگئے اور اللہ کے فضل و کرم اور ہدایت و رحمت کی بارش سب پر ہوگئی۔ اس تعلیم و تہذیب اور اس ہدایت و رہنمائی کے ذریعے نفس انسانی کو پاک و صاف کر کے منو کردیا گیا۔ اب اس کی نظریں اس نئی روشنی کی سمت میں بلند افق پر گئیں اور زمین و آسمان میں ہر سو اہل ایمان کو نور ربی نظر آنے لگا۔ اللہ نے اہل اسلام کو یہ استعداد دی کہ وہ آفاق کا ئنات میں سے اس نورانیت کو اخذ کرسکیں۔ درس نمبر 154 تشریح آیات 35۔۔۔۔۔ تا۔۔۔۔ 45 (اللہ نورالسموات والارض۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نور علی نور) ” اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔ (کائنات میں) اس کے نور کی مثال ایسی ہے جیسے ایک طاق میں چراغ رکھا ہوا ہو ‘ چراغ ایک فانوس میں ہو ‘ فانوس کا حال یہ ہو کہ جیسے موتی کی طرح چمکتا ہوا تارا ‘ اور وہ چراغ زیتون کے ایک ایسے مبارک درخت کے تیل سے روشن کیا جاتا ہو جو نہ شرقی ہو نہ غربی ‘ جس کا تیل آپ ہی آپ بھڑکا پڑتا ہو۔ چاہے آگ ہیں کو نہ لگے ‘(اس طرح) روشنی پر روشنی (بڑھنے کے تمام اسباب جمع ہوگئے ہوں) ۔ یہ ایک ایسی مثال ہے جو انسان کے محدود ادراک کے لیے ایک غیر محدود ذلت کے تصور کو قریب کرتی ہے اور ایک نہایت ہی چھوٹے نور کی مثال کو پیش کیا جاتا ہے جس کو انسانی تصور سمجھ سکے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے اصل نور کا ادراک انسانی تصور کے لیے ممکن نہیں۔ نور کی ایک چھوٹی سی مثال پیش کی جاتی ہے جبکہ انسانی ادراک نور کے ان آفاق کا احاطہ نہیں کرسکتا جو اس کی حدود سے وراء ہیں۔ اس پری کائنات کی وسعتوں سے ہم اب ایک طاق کی طرف آتے ہیں ‘ جو ایک دیوار میں ہے جہاں چراغ رکھا جاتا ہے ‘ اس طرح اس کی رشنی پورے کمرے کو روشن کرتی ہے۔ چراغ طاق میں ‘ چراغ ایک فانوس میں ‘ یہ شیشہ اس چراغ کو ہوا سے بچاتا ہے ‘ اس طرح اس کا نور صاف ہوجاتا ہے اور نورانیت میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ یہ فانوس ایسا ہے جس طرح چمکتا ہوا تارہ ہوتا ہے۔ یہ فانوس بذات خود بھی صاف و شفاف و چمکدار پارے کی طرح ہے۔ یہاں مثال اور حقیقت کے درمیان ربط قائم ہوتا ہے۔ اصل اور نمونے کا فرق معلوم ہوجاتا ہے۔ تصور کو ایک چھوٹے سے فانوس سے ایک بڑے ستارے کی طرف لے جاتا ہے تاکہ انسانی سوچ کہیں اس چھوٹے سے نمونے تک ہی محدود ہو کر نہ رہ جائے۔ اس چھوٹے سے چراغ کی مثال تو اس حقیقت کی طرف اشارے کے لیے اختیار کی گئی ہے ‘ کوکب دری کی طرف اشارہ کر کے اب بیان پھر اسی چھوٹی سی مثال کی تشریح کی طرف آتا ہے۔ یوقد من شجرۃ مبرکۃ زیتونۃ (24 : 35) ” اور یہ چراغ زیتون کے ایک مبارک درخت سے روشن کیا جاتا ہے “۔ اس دور تک زیتون کے تیل کی روشنی تمام روشنیوں سے صاف ترین روشن تھی۔ لیکن یہ مثال صرف اس لیے نہیں دی گئی کہ زیتون کے تیل کی روشنی سب سے زیادہ صاف ہوتی ہے۔ بلکہ زیتون کے درخت کو جو اپنا تقدس حاصل ہے اس کی طرف اشارہ مطلوب ہے کہ یہ درخت وادی مقدس طویٰ میں پیدا ہوتا ہے۔ عربوں کے اندر جو زیتون آتا تھا وہ طور کی وادی مقدس سے آتا تھا۔ قرآن مجید میں اس درخت کی طرف اشارہ موجود ہے۔ وشجرۃ تخرج من طور سینا تنبت بالدھن و صبغ للاکلین ” اور وہ درخت جو طور سینا پر پیدا ہوتا ہے ‘ جو تیل پیدا کرتا ہے جو کھانے والوں کے لیے اچھا سالن ہے “۔ یہ نہایت ہی طویل العمر درخت ہوتا ہے اور اس درخت کے تمام حصے انسانوں کے لیے مفید ہوتے ہیں۔ اس کا تیل ‘ اس کی لکڑیاں ‘ اور اس کے پتے اور اس کے پھل سب کے سب مقید ہیں۔ اب بیان پھر اس چھوٹی سی مثال سے ذرا بلند ہوتا ہے اور اصل کی طرف ذہن کو موڑا جاتا ہے۔ یہ کوئی مخصوص درخت نہیں ہے۔ ” نہ شرقی ہے اور نہ غربی ہے “۔ اور نہ یہ محدود اور مشخص تیل ہے۔ یہ اپنی نوعیت کا کوئی اور ہی تیل ہے۔ یکاد زیتھا یضی ولو لم تمسسہ نار (24 : 35) ” اس کا تیل خود بخود بھڑک اٹھتا ہے ‘ اگرچہ اس کو آگ نہ لگائی گئی ہو “۔ یعنی اس کے اندر نورانیت کوٹ کوٹ بھری ہوئی ہے۔ نور علی نور ہے۔ لفظ نور علی نور سے ہم ذات باری کے اعلیٰ نورانیت کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ یہ وہ خدائی نور ہے جس سے اس پوری کائنات کی ظلمتیں دور ہوجاتی ہیں۔ یہ وہ نور ہے جس کی حقیقت تک انسانی دماغ نہیں پہنچ سکتا۔ بس یہ ایک کوشش ہے کہ دل اس کے ساتھ متعلق ہوں اور اس کے ادراک کے لیے سعی کریں اور اس کے دیکھنے کی امید رکھیں۔ (یھدی۔۔۔۔۔۔ علیم) (35) ” “۔ اللہ تعالیٰ اپنے نور کی طرف راہنمائی فرماتا ہے لیکن صرف اس شخص کو جو اپنے دل و دماغ کو اس نور کو قبول کرنے کے لیے کھولتا ہے۔ یہ نور تو زمین و آسمان میں عام ہے۔ زیمن و آسمان میں اس کے فیوض و برکات موجود ہیں۔ اور ہر وقت موجودرہتے ہیں۔ یہ نور کبھی ختم نہیں ہوتا ‘ مدھم نہیں پڑتا اور بند نہیں ہوتا۔ انسان جب بھی اس کی طرف متوجہ ہو ‘ اسے دیکھتا ہے اور بےراہ شخص جب بھی اس کی طرف رخ کرے وہ اس کی راہنمائی کرتا ہے۔ اور جب بھی کوئی اس نور سے رابطہ قائم کرے وہ اسے ہدایت دیتا ہے۔ اللہ کے نور کی اس آیت میں جو مثال دی گئی ہے یہ لوگوں کو سمجھانے کے لیے ہے۔ ” وہ لوگوں کو مثالوں سے سمجھاتا ہے “۔ اس لیے کہ وہ علیم ہے اور انسانی قوت مدرکہ کی حدود کو اچھی طرح جانتا ہے۔ ان مثالوں میں جو نور سمجھا یا گیا ہے وہ مطلق نور ہے۔ آسمانوں اور زمینوں میں عام ہے۔ آسمانوں اور زمین پر اس کا فیضان ہے اور یہ نور ان گھروں میں روشن اور چمکتا ہوا نظر آتا ہے جن میں لوگوں کے دل اللہ کے ساتھ لگے ہوئے ہوتے ہیں۔ جن میں اللہ کا ذکر جاری رہتا ہے۔ جو لوگ اللہ سے ڈرتے ہیں اور جن گھروں کے باشندے اللہ والے ہوتے ہیں اور جن کے دلوں میں دنیا کی ہر چیز سے اس نور سماوات کو ترجیح دی جاتی ہے۔
Ayahs 24:36–39

فِیْ بُیُوْتٍ اَذِنَ اللّٰهُ اَنْ تُرْفَعَ وَ یُذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ١ۙ یُسَبِّحُ لَهٗ فِیْهَا بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِۙ Open ayah 24:36 in the Quran reader

اس کے نور کی طرف (ہدایت پانے والے) ان گھروں میں پائے جاتے ہیں جنہیں بلند کرنے کا ‘ اور جن میں اپنے نام کی یاد کا اللہ نے اذن دیا ہے۔ ان میں ایسے لوگ صبح و شام اس کی تسبیح کرتے ہیں

رِجَالٌ١ۙ لَّا تُلْهِیْهِمْ تِجَارَةٌ وَّ لَا بَیْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ اِقَامِ الصَّلٰوةِ وَ اِیْتَآءِ الزَّكٰوةِ١۪ۙ یَخَافُوْنَ یَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِیْهِ الْقُلُوْبُ وَ الْاَبْصَارُۗۙ Open ayah 24:37 in the Quran reader

جنہیں تجارت اور خریدو فروخت اللہ کی یاد سے اور اقامت نماز و ادائے زکوۃ سے غافل نہیں کردیتی۔ وہ اس دن سے ڈرتے رہتے ہیں جس میں دل الٹنے اور دیدے پتھراجانے کی نوبت آجائے گی

لِیَجْزِیَهُمُ اللّٰهُ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَ یَزِیْدَهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 24:38 in the Quran reader

( اور وہ یہ سب کچھ اس لیے کرتے ہیں) تاکہ اللہ ان کے بہترین اعمال کی جزا ان کو دے اور مزید اپنے فضل سے نوازے ‘ اللہ جسے چاہتا ہے بےحساب دیتا ہے

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَعْمَالُهُمْ كَسَرَابٍۭ بِقِیْعَةٍ یَّحْسَبُهُ الظَّمْاٰنُ مَآءً١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَهٗ لَمْ یَجِدْهُ شَیْئًا وَّ وَجَدَ اللّٰهَ عِنْدَهٗ فَوَفّٰىهُ حِسَابَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ سَرِیْعُ الْحِسَابِۙ Open ayah 24:39 in the Quran reader

(والذین کفروا۔۔۔۔۔۔۔۔ واللہ سریع الحساب اوکظلمت۔۔۔۔۔۔۔۔ من نور (39 : 40) ”(اس کے برعکس) جنہوں نے کفر کیا ان کے اعمال کی مثال ایسی ہے جیسے دشت بےآب میں سراب کہ پیاسا اس کو پانی سمجھے ہوئے تھا ‘ مگر جب وہاں پہنچا تو کچھ نہ پایا ‘ بلکہ وہاں اس نے اللہ کو موجود پایا ‘ جس نے اس کا پورا پورا حساب چکا دیا ‘ اور اللہ کو حساب لیتے دیر نہیں لگتی۔

(فی بیوت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ والاصال رجال ۔۔۔۔۔۔۔ والابصار لیجز یھم اللہ۔۔۔۔۔۔۔۔ بغیر حساب ) (36 تا 83) یہاں اللہ کے نور کی تمثیل اور ان گھروں کی تمثیل میں ایک خاص تعلق ہے اور یہ قرآن کریم کے انداز بیان کافی کمال ہے۔ طاق کے اندر چراغ روشن ہے اور گھروں کے اندر دل مومن روشن ہے۔ اس طرح دونوں کے درمیان مشاکلت ہے۔ یہ گھر ایسے ہیں کہ اللہ نے حکم دینا ہے کہ ان کی دیواروں کو بلند کیا جائے اور ان کی تعمیر کی جائے۔ ان کو بلند کرنے کے اذن سے مراد ان کو تعمیر کرنے کا حکم دینا ہے کہ وہ اس حکم پر عمل کریں۔ چناچہ یہ گھر قائم کردیئے گئے ہیں ‘ بلند ہیں اور پاک اور ستھرے ہیں۔ ان کا منظر اس کائنات کے منظر لے مشابہ ہے جہاں نور ربی پھیلا ہوا ہے۔ ان گھروں کی بلندی اس لیے ہے کہ یہاں اللہ کا نام لیا جائے۔ ویذکر فیھا اسمہ (24 : 36) ” اس میں اللہ کا نام یاد کیا جائے “۔ اور یہ پاک دل اللہ کے ساتھ وابستہ ہوں ‘ اللہ کی تسبیح کرتے ہوں۔ اللہ سے ڈرنے والے ہوں۔ نماز بھی پڑھنے والے ہوں۔ اللہ کی راہ میں دینے والے بھی ہوں۔ (رجال لا تلھیھم۔۔۔۔۔۔۔۔ وایتآء الزکوۃ) (24 : 37) ” ان میں ایسے لوگ صبح و شام اس کی تسبیح کرتے ہیں جنہیں تجارت اور خریدو فروخت اللہ کی یاد سے اور اقامت صلوۃ سے اور زکوۃ ادا کرنے سے غافل نہیں کردیتی “۔ تجارت اور خریدو فروخت کمانے اور دولت جمع کرنے کے ذرائع ہیں۔ یہ ایسے لوگ ہیں کہ ان کاموں میں مشغول رہنے کے باوجود اللہ کے حقوق یعنی نماز اور بندوں کے حقوق کی ادائیگی یعنی زکوۃ سے غافل نہیں ہوتے۔ (یخافون۔۔۔۔۔ والابصار) (24 : 37) ” وہ اس دن سے ڈرتے رہتے ہیں جس میں دل الٹنے اور دیدے پتھرانے کی نوبت آجائے گی “۔ دل الٹے ہوں گے یعنی ان کے اندر خوف و ہر اس کی وجہ سے کوئی قرار نہ ہوگا ‘ اور یہ دل چونکہ اللہ سے ڈرنے والے ہیں اس لیے تجارت اور خیرد و فروخت انہیں اللہ کے ذکر سے روک نہیں سکتے۔ لیکن اس خوف کے ساتھ امید بھی وابستہ ہے۔ وہ مایوس نہیں ہوتے۔ وہ اللہ سے امیدیں باندھے ہوئے ہوتے ہیں۔ (لیجز یھم اللہ۔۔۔۔ من فضلہ) (24 : 38) ” تاکہ اللہ تعالیٰ ان کے بہترین اعمال کی جزا ان کو دے اور مزید فضل سے نوازے “۔ ان کی امید ناکام بھی نہیں رہتی ۔ اس لیے کہ واللہ یرزق من یشآء بغیر حساب (24 : 38) ” اللہ جسے چاہتا ہے بےحساب دیتا ہے “ کیونکہ اللہ کے فضل کے کوئی حدود وقیود نہیں ہیں۔ آسمانوں اور زمین کے اندر روشن ہونے والے اس نور کے بالمقابل ‘ اللہ کے ان گھروں میں پائے جانے والے اس نور کے بالمقابل اہل ایمان کے دلوں میں روشن نور کے بالمقابل ‘ یہاں قرآن مجید ظلمات اور تاریکیوں کے ایک جہان کو بھی پیش کرتا ہے۔ اس جہان میں کوئی روشنی نہیں ہے۔ اس جہان میں کوئی امن و سکون نہیں ہے۔ ہر طرف خوف کے سائے چھائے ہوئے ہیں۔ اس میں ہر طرف بر بادی ہی بربادی ہے۔ کوئی خیر نہیں ہے۔ یہ اہل کفر کا جہان ہے اور ایک کافر کی دنیا ہے۔ اس کے خدوخال اور نگ ڈھنگ کچھ یوں ہیں۔ (والذین کفروا۔۔۔۔۔۔۔۔ واللہ سریع الحساب اوکظلمت۔۔۔۔۔۔۔۔ من نور (39 : 40) ”(اس کے برعکس) جنہوں نے کفر کیا ان کے اعمال کی مثال ایسی ہے جیسے دشت بےآب میں سراب کہ پیاسا اس کو پانی سمجھے ہوئے تھا ‘ مگر جب وہاں پہنچا تو کچھ نہ پایا ‘ بلکہ وہاں اس نے اللہ کو موجود پایا ‘ جس نے اس کا پورا پورا حساب چکا دیا ‘ اور اللہ کو حساب لیتے دیر نہیں لگتی۔ یا پھر اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک گہرے سمندر میں اندھیرا ‘ کہ اوپر ایک موج چھائی ہوئی ہے ‘ اس پر ایک اور موج ‘ اور اس کے اوپر بادل ‘ تاریکی پر تاریکی مسلط ہے ‘ آدمی اپنا ہاتھ نکالے تو اسے بھی نہ دیکھنے پائے جسے اللہ نور نہ بخشے اس کے لیے پھر کوئی نور نہیں “۔ یہاں قرآن کریم نے اہل کفر کی زندگی اور ان کے نظریات اور سرگرمیوں کی تصویر کشی دو طرح کی ہے۔ یہ دو مشاہد ہیں جو بطور تمثیل دیئے گئے ہیں۔ پہلی تمثیل ہے ان کے اعمال کی۔ یہ اعمال ایسے نظر آتے ہیں جس طرح چٹیل وسعی ریگستان میں سراب نظر آتا ہے۔ یہ سراب ٹیلے پانی کی طرح دکھائی دیتا ہے۔ پیاسا اس کے پیچھے بھگتا ہے۔ وہ توقع تو یہ کرتا ہے کہ سراب تک پہنچ کر پانی پئے گا لیکن وہ اس بات سے غافل ہوتا ہے کہ وہاں تک پہنچ کر وہ وہاں کیا پانے والاہوتا ہے۔ یہاں منظر میں اچانک تبدیلی آجاتی ہے۔ یہ شخص جو سراب کے پیچھے بھاگ رہا ہے پیاسا ہے ‘ پانی کی تلاش میں ہے۔ اور غافل ہے اس معاملے سے جو اسے پیش آنے والا ہے۔ یہ جب منزل تک پہنچتا ہے تو وہاں اسے پانی نہیں ملتا۔ وہاں اسے وہ چیز ملتی ہے جس کے بارے میں اس نے کبھی سوچا بھی نہ تھا۔ اب یہ اس نئی حقیقت سے دو چار ہو کر خوفزدہ ہوجاتا ہے۔ امیدیں کٹ جاتی ہیں۔ وجد اللہ عندہ (24 : 39) ” وہاں اس نے اللہ کو موجود پایا “۔ وہ اللہ موجود ہے جس کا وہ منکر تھا اور یہ شخص اللہ وحدہ کا دشمن تھا۔ اس سراب میں اس کا منتظر اللہ تھا۔ اگر اس سراب میں یہ شخص اپنے کسی دنیاوی دشمن کو پائے تو پھر یہ سخت خوفزدہ ہوجائے لیکن یہ وہاں خالق کائنات کو پارہا ہے جو جبار ہے۔ بڑی قوت والا ہے اور سخت انتقام لینے والا بھی ہے۔ وہ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔ پانی کے بجائے اس کا وہاں حساب و کتاب شروع ہوجاتا ہے۔ فوقہ حسابہ واللہ سریع الحساب (24 : 39) ” جس نے اس کا پورا پورا حساب چکادیا اور اللہ کو حساب لینے میں دیر نہیں لگتی “۔ یہ منظر سرعت اور ستابی کے ساتھ اچانک سرپرائز کو پیش کرتا ہے اور سرعت اور سراب کے ساتھ ‘ جلدی سے حساب چکا نا اور اچانک خوف میں مبتلا ہونا ‘ فنی ہم آہنگی ہے۔ دوسرا منظر یہ ہے کہ اس میں جھوٹی روشنی کے بعد اندھیرے چھا جاتے ہیں ‘ یوں کہ ایک انسان سمندری جہاز میں ہے ‘ یہ جہاز سمندر کی ظالم لہروں میں گھرا ہوا ہے ‘ خوفناک موج کے اوپر موج اٹھ رہی ہے ‘ ان کے اوپر سیاہ بادل چھائے ہوئے ہیں۔ ایسا خوفناک اندھیرا ہوگیا ہے کہ کوئی شخص اگر اپنے ہاتھ کو دیکھنا چاہتا ہے تو وہ دیکھ نہیں سکتا ‘ شدت خوف اور شدت تاریکی کی وجہ سے ۔ کفر کیا ہے ‘ یہ دراصل امواج زندگی میں ایک گھمبیر اندھیرا ہے۔ یہ اندھیرا اللہ کے نور کو نظروں سے اوجھل کردیتا ہے۔ یہ اس قدر گہری گمراہی ہے کہ اس میں انسان کو ہاتھ کی طرح قریبی دلائل بھی نظر نہیں آتے۔ کفر اس قدر خوفناک صورت حال کا نام ہے کہ اس میں انسان کے لیے سکون وقرار نہیں ہوتا۔ ومن لم یجعل اللہ لہ نورا فما لہ من نور (24 : 40) ” جسے اللہ نور نہ بخشے اس کے لیے کوئی نور نہیں ہے “۔ اللہ کا نور کیا ہے ‘ وہ ہدایت جو اللہ دل مومن میں ڈال دیتا ہے وہ اللہ کا نور ہے۔ یہ ہدایت انسان کے دل کو کھول دیتی ہے اور انسان کی فطرت نو اس میں قدرت کے ساتھ ہم آہنگ ہوجاتی ہے۔ یوں انسانی قلب میں موجود نور الہی اس کائنات میں موجود نور الہی کے ساتھ یکجا ہوجاتا ہے اور جس شخص کا اتصال اس نور کائنات سے نہ ہوسکا تو وہ اندھیروں میں ہے اسے کچھ نظر نہ آئے گا۔ یہ ہمیشہ خوفناک حالات میں ہوگا جن میں کوئی امن نہ ہوگا۔ یہ شخص ایسی گمراہی میں پڑجائے گا جس سے اس کا نکلنا مشکل ہوگا اور اس کے اعمال کا انجام سراب ہوگا اور سراب کے پیچھے بھاگنے والا ظاہر ہے کہ ہلاک ہوجائے گا۔ کیونکہ کفار کے اعمال کے پیچھے کوئی نظر یہ اور کوئی نور نہیں ہوتا۔ نور ایمان کے بغیر کوئی عمل مقبول نہیں ہوتا اس لیے کوئی اصلاحی کام بغیر ایمان کے نہیں ہو سکتا۔ اللہ کی ہدایت ہی نور ہے اور اللہ کا ڈر ہی نور ہے۔ یہ تھے مناظر کفر و ضلالت اور مناظر تاریکی۔ اس کے بعد پھر اس کائنات میں ایمان اور نور کے مناظر آتے ہیں۔ یہاں پوری کائنات میں نور ہی کا عالم ہے۔ تمام موجودات اس نور میں تسبیح پڑھ رہی ہیں اور عالم نماز میں ہیں۔ انس ہوں ‘ جن ہوں ‘ زمین ہو یا افلاک ہوں۔ زندہ ہوں یا جمادات ہوں ‘ تمام کائنات تسبیح پڑھ رہی ہے اور تمام موجودات اس زمرے میں ہمقدم ہیں ‘ یوں کہ ایک دانا کا وجدان اس سے ارتعاش میں آجاتا ہے اور دل معرفت سے بھر جاتا ہے۔
Ayah 24:40

اَوْ كَظُلُمٰتٍ فِیْ بَحْرٍ لُّجِّیٍّ یَّغْشٰىهُ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ سَحَابٌ١ؕ ظُلُمٰتٌۢ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ١ؕ اِذَاۤ اَخْرَجَ یَدَهٗ لَمْ یَكَدْ یَرٰىهَا١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَجْعَلِ اللّٰهُ لَهٗ نُوْرًا فَمَا لَهٗ مِنْ نُّوْرٍ۠ Open ayah 24:40 in the Quran reader

یا پھر اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک گہرے سمندر میں اندھیرا ‘ کہ اوپر ایک موج چھائی ہوئی ہے ‘ اس پر ایک اور موج ‘ اور اس کے اوپر بادل ‘ تاریکی پر تاریکی مسلط ہے ‘ آدمی اپنا ہاتھ نکالے تو اسے بھی نہ دیکھنے پائے جسے اللہ نور نہ بخشے اس کے لیے پھر کوئی نور نہیں “۔

یہاں قرآن کریم نے اہل کفر کی زندگی اور ان کے نظریات اور سرگرمیوں کی تصویر کشی دو طرح کی ہے۔ یہ دو مشاہد ہیں جو بطور تمثیل دیئے گئے ہیں۔ پہلی تمثیل ہے ان کے اعمال کی۔ یہ اعمال ایسے نظر آتے ہیں جس طرح چٹیل وسعی ریگستان میں سراب نظر آتا ہے۔ یہ سراب ٹیلے پانی کی طرح دکھائی دیتا ہے۔ پیاسا اس کے پیچھے بھگتا ہے۔ وہ توقع تو یہ کرتا ہے کہ سراب تک پہنچ کر پانی پئے گا لیکن وہ اس بات سے غافل ہوتا ہے کہ وہاں تک پہنچ کر وہ وہاں کیا پانے والاہوتا ہے۔ یہاں منظر میں اچانک تبدیلی آجاتی ہے۔ یہ شخص جو سراب کے پیچھے بھاگ رہا ہے پیاسا ہے ‘ پانی کی تلاش میں ہے۔ اور غافل ہے اس معاملے سے جو اسے پیش آنے والا ہے۔ یہ جب منزل تک پہنچتا ہے تو وہاں اسے پانی نہیں ملتا۔ وہاں اسے وہ چیز ملتی ہے جس کے بارے میں اس نے کبھی سوچا بھی نہ تھا۔ اب یہ اس نئی حقیقت سے دو چار ہو کر خوفزدہ ہوجاتا ہے۔ امیدیں کٹ جاتی ہیں۔ وجد اللہ عندہ (24 : 39) ” وہاں اس نے اللہ کو موجود پایا “۔ وہ اللہ موجود ہے جس کا وہ منکر تھا اور یہ شخص اللہ وحدہ کا دشمن تھا۔ اس سراب میں اس کا منتظر اللہ تھا۔ اگر اس سراب میں یہ شخص اپنے کسی دنیاوی دشمن کو پائے تو پھر یہ سخت خوفزدہ ہوجائے لیکن یہ وہاں خالق کائنات کو پارہا ہے جو جبار ہے۔ بڑی قوت والا ہے اور سخت انتقام لینے والا بھی ہے۔ وہ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔ پانی کے بجائے اس کا وہاں حساب و کتاب شروع ہوجاتا ہے۔ فوقہ حسابہ واللہ سریع الحساب (24 : 39) ” جس نے اس کا پورا پورا حساب چکادیا اور اللہ کو حساب لینے میں دیر نہیں لگتی “۔ یہ منظر سرعت اور ستابی کے ساتھ اچانک سرپرائز کو پیش کرتا ہے اور سرعت اور سراب کے ساتھ ‘ جلدی سے حساب چکا نا اور اچانک خوف میں مبتلا ہونا ‘ فنی ہم آہنگی ہے۔ دوسرا منظر یہ ہے کہ اس میں جھوٹی روشنی کے بعد اندھیرے چھا جاتے ہیں ‘ یوں کہ ایک انسان سمندری جہاز میں ہے ‘ یہ جہاز سمندر کی ظالم لہروں میں گھرا ہوا ہے ‘ خوفناک موج کے اوپر موج اٹھ رہی ہے ‘ ان کے اوپر سیاہ بادل چھائے ہوئے ہیں۔ ایسا خوفناک اندھیرا ہوگیا ہے کہ کوئی شخص اگر اپنے ہاتھ کو دیکھنا چاہتا ہے تو وہ دیکھ نہیں سکتا ‘ شدت خوف اور شدت تاریکی کی وجہ سے ۔ کفر کیا ہے ‘ یہ دراصل امواج زندگی میں ایک گھمبیر اندھیرا ہے۔ یہ اندھیرا اللہ کے نور کو نظروں سے اوجھل کردیتا ہے۔ یہ اس قدر گہری گمراہی ہے کہ اس میں انسان کو ہاتھ کی طرح قریبی دلائل بھی نظر نہیں آتے۔ کفر اس قدر خوفناک صورت حال کا نام ہے کہ اس میں انسان کے لیے سکون وقرار نہیں ہوتا۔ ومن لم یجعل اللہ لہ نورا فما لہ من نور (24 : 40) ” جسے اللہ نور نہ بخشے اس کے لیے کوئی نور نہیں ہے “۔ اللہ کا نور کیا ہے ‘ وہ ہدایت جو اللہ دل مومن میں ڈال دیتا ہے وہ اللہ کا نور ہے۔ یہ ہدایت انسان کے دل کو کھول دیتی ہے اور انسان کی فطرت نو اس میں قدرت کے ساتھ ہم آہنگ ہوجاتی ہے۔ یوں انسانی قلب میں موجود نور الہی اس کائنات میں موجود نور الہی کے ساتھ یکجا ہوجاتا ہے اور جس شخص کا اتصال اس نور کائنات سے نہ ہوسکا تو وہ اندھیروں میں ہے اسے کچھ نظر نہ آئے گا۔ یہ ہمیشہ خوفناک حالات میں ہوگا جن میں کوئی امن نہ ہوگا۔ یہ شخص ایسی گمراہی میں پڑجائے گا جس سے اس کا نکلنا مشکل ہوگا اور اس کے اعمال کا انجام سراب ہوگا اور سراب کے پیچھے بھاگنے والا ظاہر ہے کہ ہلاک ہوجائے گا۔ کیونکہ کفار کے اعمال کے پیچھے کوئی نظر یہ اور کوئی نور نہیں ہوتا۔ نور ایمان کے بغیر کوئی عمل مقبول نہیں ہوتا اس لیے کوئی اصلاحی کام بغیر ایمان کے نہیں ہو سکتا۔ اللہ کی ہدایت ہی نور ہے اور اللہ کا ڈر ہی نور ہے۔ یہ تھے مناظر کفر و ضلالت اور مناظر تاریکی۔ اس کے بعد پھر اس کائنات میں ایمان اور نور کے مناظر آتے ہیں۔ یہاں پوری کائنات میں نور ہی کا عالم ہے۔ تمام موجودات اس نور میں تسبیح پڑھ رہی ہیں اور عالم نماز میں ہیں۔ انس ہوں ‘ جن ہوں ‘ زمین ہو یا افلاک ہوں۔ زندہ ہوں یا جمادات ہوں ‘ تمام کائنات تسبیح پڑھ رہی ہے اور تمام موجودات اس زمرے میں ہمقدم ہیں ‘ یوں کہ ایک دانا کا وجدان اس سے ارتعاش میں آجاتا ہے اور دل معرفت سے بھر جاتا ہے۔
Ayahs 24:41–43

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُسَبِّحُ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الطَّیْرُ صٰٓفّٰتٍ١ؕ كُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَهٗ وَ تَسْبِیْحَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 24:41 in the Quran reader

کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ کی تسبیح کررہے ہیں ‘ وہ سب جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور وہ پرندے جو پر پھیلائے اڑ رہے ہیں ؟ ہر ایک اپنی نماز اور تسبیح کا طریقہ جانتا ہے ‘ اور یہ سب جو کچھ کرتے ہیں اللہ اس سے با خبر رہتا ہے

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ اِلَى اللّٰهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 24:42 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کے لیے ہے اور اسی کی طرف سب کو پلٹنا ہے

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُزْجِیْ سَحَابًا ثُمَّ یُؤَلِّفُ بَیْنَهٗ ثُمَّ یَجْعَلُهٗ رُكَامًا فَتَرَى الْوَدْقَ یَخْرُجُ مِنْ خِلٰلِهٖ١ۚ وَ یُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ جِبَالٍ فِیْهَا مِنْۢ بَرَدٍ فَیُصِیْبُ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَصْرِفُهٗ عَنْ مَّنْ یَّشَآءُ١ؕ یَكَادُ سَنَا بَرْقِهٖ یَذْهَبُ بِالْاَبْصَارِؕ Open ayah 24:43 in the Quran reader

وللہ ملک السموت والارض ج والی اللہ المصیر ” “۔ لہذا ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنی تمام تر تو جہات اس کی طرف کردیں۔ اس کے سوا اور کوئی جائے پناہ نہیں ہے۔ اس سے بھاگنے کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ اس کے عذاب سے بچنے کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ اس کے مقابلے میں کوئی پناہ نہیں ہے اور سب نے اسی کی طرف جانا ہے۔ اب اس کائنات کے مناظر میں سے ایک دوسرا منظر۔ لوگ رات اور دن اس منظر کو دیکھتے ہیں اور غفلت کے ساتھ گزر جاتے ہیں ‘ حالانکہ یہ منظر دامن نظر کو پکڑ پکڑ کر کھینچتا ہے کہ ذرا دیکھو تو سہی ‘ دل میں سوچو تو سہی ‘ اللہ کی نشانیوں اور اس کی تخلیقات میں غور تو کرو۔ دلائل نور اور دلائل ہدایت پر غور تو کرو۔

(الم تر۔۔۔۔۔۔۔ یفعلون ) (41) ” اس وسیع کائنات میں انسان صرف منفرد نہیں ہے۔ اس کا ایک ماحول ہے جس میں وہ رہتا ہے۔ بڑا ہی وسیع ماحول ہے۔ اس کے دائیں اور بائیں ہر طرف اللہ کی بندگی ہورہی ہے۔ اس کے آگے اور پیچھے اور اوپر اور نیچے جہاں جہاں تک نظر جاسکتی ہے۔ پھر نظر کی حدود سے آگے جہاں جہاں تک خیال جاسکتا ہے ‘ اس وسیع کائنات میں انسان کے بھائی بند موجود ہیں۔ یہ مختلف شکلیں اور مختلف طبیعیتیں رکھتے ہیں۔ لیکن ایک بات میں سب ایک ہیں۔ یہ کہ یہ سب اللہ کی مخلوقات ہیں۔ یہ سب اللہ کے مطیع فرمان ہیں اور اللہ کی حمد اور تسبیح میں رطب اللسان ہیں۔ واللہ علیم بما یفعلون (24 : 41) ” اور یہ سب جو کچھ کرتے ہیں اللہ اس سے باخبر رہتا ہے “۔ قرآن کریم کا یہ مخصوص انداز استدلال ہے کہ وہ انسان کو اپنے ماحول کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ انسان کے ماحول میں ان سماوات میں جو اللہ کی تخلیق ہے یہ سب کی سب اللہ کی ثنا خواں ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اس کائنات کے مشاہد میں غور کرے کیونکہ انسان اپنے ماحول کو روز دیکھتا ہے۔ اور طول الفت کی وجہ سے اس کا دل و دماغ اس ماحول سے متاثر نہیں ہوتے۔ ڈرا دیکھو کہ بعض پرندے اس ہوا میں اڑتے ہیں اور ان کی اڑان صفوں کی شکل میں ہوتی ہے۔ یہ اپنی اس صف بندی اور منظم پرواز میں دراصل اللہ کی حمد بیان کررہے ہوتے ہیں اور نماز پڑھ رہے ہوتے ہیں۔ کل قد علم صلاتہ و تسبیحہ (24 : 41) ” ہر ایک اپنی نماز اور تسبیح کا طریقہ جانتا ہے “۔ لیکن انسان ہے کہ اس عقل و بینش کے ساتھ بھی اللہ کی تسبیح سے غافل ہے۔ حالانکہ وہ تمام مخلوقات سے زیادہ اس بات کا مکلف ہے کہ ہر وقت تسبیح اور نماز میں مصروف ہو۔ اس منظر میں وپری کائنات نہایت ہی خشوع سے سجدہ ریز نظر آتی ہے اپنے خالق کے آگے۔ تسبیح اور نماز میں کھڑی ہے۔ یہ بات تو فطرت کائنات ہے کہ وہ ایسا کرے اور اللہ کے نوامیس فطرت کی اطاعت کرتے ہوئے چلے۔ انسانی وجدان جب صاف اور شفاف ہوجاتا ہے اور جیسے وہ صبح و شام چڑیوں کو چہچہاتے سنتا ہے تو وہ یہ منظم دیکھ سکتا ہے کہ یہ کائنات پوری کی پوری حدی خواں ہے اور انسان اپنے کانوں سے اس کائنات کی آواز اور تسبیح سن سکتا ہے۔ اگر انسان کو معرفت کرو گار حاصل ہوجائے تو وہ پھر اس پوری کائنات کے ساتھ اس محفل اور مجلس صلوۃ و تسبیح میں ہم رنگ اور ہم آہنگ اور نغمہ سرا ہوجاتا ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے اپنے پائوں کے نیچے جب کنکریوں کی تسبیح سنی ‘ اور حضرت دائود جب زبور کے ساتھ رمزمہ سرا ہوتے تھے تو یہ پوری کائنات ان کے ساتھ روحانی نغمے گاتی تھی۔ وہ سنتے تھے اور ان کے ساتھ و حوش و طیور سب گاتے تھے۔
Ayah 24:44

یُقَلِّبُ اللّٰهُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّاُولِی الْاَبْصَارِ Open ayah 24:44 in the Quran reader

(الم تر ان اللہ۔۔۔۔۔۔۔ بالابصار) (43) ” کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ بادل کو آہستہ آہستہ چلاتا ہے ‘ پھر اس کے ٹکڑوں کو باہم جوڑتا ہے ‘ پھر اسے سمیٹ کر ایک کثیف ابر بنا دیتا ہے ‘ پھر تم دیکھتے ہو کہ اس کے خول میں سے بارش کے قطرے ٹپکتے چلے آتے ہیں اور وہ آسمان سے ‘ ان پہاڑروں کی بدولت جو اس میں بلند ہیں اولے برساتا ہے ‘ پھر جسے چاہتا ہے ان کا نقصان پہنچتا ہے اور جسے چاہتا ہے ان سے بچا لیتا ہے۔ اس کی بجلی کی چمک نگاہوں کو خیرہ کیے دیتی ہے “۔

یہ منظر نہایت ہی آرام سے اور طوالت کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔ دعوت دی جاتی ہے کہ اس منظر کے ہر جزء پر غور کرو۔ اس منظر کے اجزاء پھر جمع ہوتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اس پر گہرے مشاہدے اور غورو فکر کی وجہ سے انسانی احساس کو جگایا جائے اور اس گہری صنعت کاری کے اندر جو گہری بصیرت ہے اس کے بارے میں انسانی احساس کو تیز کیا جاتا ہے تاکہ انسان عبرت آموز نگاہوں سے اس منظر کو دیکھے۔ اللہ بادلوں کو چلاتے ہیں ‘ ایک علاقے سے دوسرے علاقے کیطرف۔ یہ بادل آسمان میں ٹکڑیوں کی شکل میں ہوتے ہیں۔ پھر یہ جمع ہوتے ہیں۔ اچانک ہم دیکھتے ہیں کہ تہوں کے اوپر تہیں جم جاتی ہیں۔ جب یہ اچھی طرح بوجھل ہوجاتے ہیں تو ان میں سے پانی نکلنا شروع ہوجاتا ہے۔ بارش کے موٹے موٹے قطرے تم گرتے دیکھتے ہو۔ یہ بادل بڑے بڑے پہاڑروں کی شکل میں آسمانوں میں نظر آتے ہیں۔ جب یہ بہت اوپر چلے جاتے ہیں تو ان میں برف جم جاتی ہے۔ یہ بادل پہاڑوں کی طرح خوب نظر آتے ہیں۔ جب طیارہ ان سے اوپر چلا جاتا ہے اس واقت فی الواقعہ یہ بادل پہاڑ نظر آتے ہیں۔ بڑے بڑے پہاڑ اور ان کے اندر بڑے بڑے نشیب و فراز ہوتے ہیں۔ یہ انداز تعبیر ایسا ہے کہ انسان نے اس کو اچھی طرح اس وقت سمجھا جب وہ طیارے پر سوار ہو کر بادلوں سے اوپر چلا گیا۔ بادلوں کے یہ پہاڑ ‘ اللہ کے احکام میں ‘ اللہ کے نظام میں بندھے ہوئے ہیں۔ یہ اس کے کائناتی ناموس کے مطابق کام کرتے ہیں۔ اللہ جس کو چاہتا ہے ان کے ذریعے پانی دے دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ‘ اس سے ان کا رخ پھیر دیتا ہے۔ اس منظر کا تکملہ یوں آتا ہے۔ یکاد سنا برقہ یذھب بالابصار (24 : 43) ” اس کی بجلی کی چمک نگاہوں کو خیرہ کیے دیتی ہے “۔ یہ منظر اس لیے لایا گیا ہے کہ کائنات کے نور اعظم کے ساتھ بجلی کا نور ایک ہوجائے۔ یہ قرآن کریم کا مخصوص انداز بیان ہے کہ وہ ہم جنس معانی کو ایک جگہ لاتا ہے کیونکہ یہ سورة ‘ سورة نور ہے۔ اب تیسرا کائناتی منظر گردش لیل و نہار کا منظر ہمارے سامنے ہے۔ یقلب اللہ الیل والنھار ان فی ذلک لعبرۃ لاولی الابصار ” رات اور دن کا الٹ پھیر وہی کررہا ہے۔ اس میں ایک سبق ہے آنکھوں والوں کے لیے “۔ گردش لیل و نہار کے نظام پر غور و فکر قرآن مجید کا ایک اہم موضوع ہے۔ رات اور دن کے بدلنے کا یہ نظام مسلسل چل رہا ہے اور اس کے اندر ایک لمحے کا تغیر و تبدل نہیں ہے۔ اس سے وہ ناموس ‘ کائنات اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے جو اس کائنات میں متصرف ہے۔ اس ناموس پر غورفکر سے اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ اللہ نے کس باریکی کے ساتھ اس نظام کو چلارہا ہے۔ قرآن کریم اپنے مئوثر انداز بیان کے ساتھ ان مناظر کے ان اثرات کو تازہ کردیتا ہے جو بالعموم مانوس ہونے کی وجہ سے مٹ گئے ہوتے ہیں۔ انسان پھر ان مناظر کو ایک نئے احساس کیساتھ دیکھتا ہے اور ہر بار اس سے بالکل نیا تاثر لیتا ہے۔ یہ سوچنا یوں ہے کہ اگر انسان گردش لیل و نہار کے اس نظام کو پہلی مرتبہ دیکھے تو اس کا تاثر کیا ہو۔ اس نظام میں صدیاں گزر جانے کے بعد بھی کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ تبدیلی اگر ہے تو صرف انسان کی نگاہ میں ہے۔ انسانی احساس اور ادراک گرش لیل و نہار کے مناظر کو دیکھتے بجھ سا گیا ہے جبکہ رات اور دن کے اس نظام نے اپنی خوبصورتی اور انوکھے پن میں سے کسی چیز میں کمی نہیں کی ہے۔ جب انسان اس کائنات پر سے غافلوں کی طرح گزر جاتا ہے تو وہ زندگی کی ایک بڑی مسرت کو گنوا دیتا ہے بلکہ اس کائنات کی حقیقی خوبصورتی اس کی نظروں سے اوجھل ہوجاتی ہے۔ وہ مناظر جو انسان کے سامنے اگر از سر نو پیش ہوں تو بہت ہی اثر انگیز ہوں اور حسین نظر آئیں۔ قرآن کریم کا کمال یہ ہے کہ وہہماری بجھی ہوئی حس کو تازہ کردیتا ہے اور ہمارے چھپے ہوئے شعور اور خوابیدہ احساسات کو تجدید بخشتا ہے۔ ہمارا ٹھنڈا دل گرم ہوجاتا ہے اور ہمارا کندوجدان تیز ہوجاتا ہے۔ پھر ہم اس کائنات کو یوں دیکھنے لگتے ہیں کہ گویا ہم نے اس کائنات کو پہلی مرتبہ دیکھا ہو۔ ہم پھر اس کائنات کے مظاہر پر غور کرتے ہیں اور اس کے سربستہ اور پوشیدہ کمالات کو معلوم کرنا شروع کردیتے ہیں۔ پھر ہمیں نظر آتا ہے کہ دست قدرت ہر جگہ کام کررہا ہے۔ ہمارے ماحول کی ہر چیز میں اس کی صنعت کاری ہے اور اس کائنات کی ہر چیز میں اس کے نشانات ہیں اور ہمارے لیے عبرتیں ہی عبرتیں ہیں۔ اللہ ہم پر احسان کرتا رہتا ہے کہ جب بھی ہم اس کائنات کے مناظر میں سے کسی منظر پر غور کرتے ہیں تو ہمیں ایک حیات تازہ مل جاتی ہے۔ ہمیں اس کائنات کی ہر چیز کے بارے میں ایک نیا احساس ملتا ہے اور یوں مسرت ملتی ہے کہ گویا ہم اس منظر کو پہلی بار دیکھ رہے ہیں۔ گویا اس احساس کے ساتھ ہم اس کائنات کو کئی مرتبہ اور بیشمار مرتبہ دریافت کرتے ہیں اور خوشی پاتے ہیں۔ اگر حساس نگاہوں سے دیکھا جائے تو یہ کائنات بہت ہی خوبصورت ہے اور ہماری فطرت ‘ فطرت کائنات کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ ہماری فطرت اس سر چشمے سے پھوٹی ہوئی ہے جس سے اس کائنات نے وجود اور فطرت اور ناموس فطرت اخذ کیا ہے۔ جب ہم اس کائنات کی روح کے ساتھ پیوستہ ہوجاتے ہیں تو ہمیں ایک عجیب اطمینان و سکون مل جاتا ہے ‘ نہایت ہی گہرا رابطہ اور خوشی ملتی ہے۔ انس اور طمانیت ملتی ہے۔ یوں جس طرح ایک شخص اپنے محبوب کو بلا واسطہ مل جاتا ہے۔ اس کائنات کی گہری معرفت کے نتیجے میں اس میں ہمیں اللہ کا نور نظر آتا ہے اور یہ ہے مفہوم اللہ کے نور سماوات والارض کا ۔ جب ہم اپنے وجود ‘ اپنے نفس اور اس کائنات کا گہرا مشاہدہ کرتے ہیں تو اس میں اللہ کا نور نظر آتا ہے اور ہم اس وقت اصل حقیقت سے مل چکے ہوتے ہیں اور ہمیں نظر آتا ہے کہ تدبیر کائنات کی حقیقت کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم بار بار ہمیں متوجہ کرتا ہے کہ ہم اس کائنات کے روز مرہ کے مناظر کو ذرا گہرے غور و فکر کے ساتھ دیکھیں۔ ہمارے احساس اور ہمارے تدبر کے لیے قرآن کریم بار بار اور مختلف قسم کے مناظر و مظاہر پیش کرتا ہے جو نہایت ہی خوبصورت ہوتے ہیں۔ قرآن دعوت دیتا ہے کہ ان مظاہرو مناظر پر سے غافل لوگوں کی طرح نہ گزر جائو ‘ آنکھیں بند کر کے کیونکہ اس دنیا میں تمہارا یہ سفر نہایت ہی با مقصد ہے۔ یہاں سے کچھ لے کر جائو لیکن انسان ہیں کہ خالی ہاتھ جارہے ہیں۔ مزید مشاہد قدرت پیش کئے جاتے ہیں اور ہمارے احساس کو مزید تیز کیا جاتا ہے کہ یہاں ایک ہی اصول پر یہ زندگی قائم ہے۔ اس کا ایک ہی مزاج ہے۔ اس کی ایک جیسی تخلیق کے بعد پھر زندگی کے بھی کئی مشاہد اور مظاہر ہیں اور اس میں تنوع ہے۔
Ayah 24:45

وَ اللّٰهُ خَلَقَ كُلَّ دَآبَّةٍ مِّنْ مَّآءٍ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰى بَطْنِهٖ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰى رِجْلَیْنِ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰۤى اَرْبَعٍ١ؕ یَخْلُقُ اللّٰهُ مَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 24:45 in the Quran reader

اور اللہ نے ہر جاندار ایک طرح کے پانی سے پیدا کیا۔ کوئی پیٹ کے بل چل رہا ہے تو کوئی دو ٹانگوں پر اور کوئی چار ٹانگوں پر۔ جو کچھ وہ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے ‘ وہ ہر چیز پر قادر ہے

(واللہ خلق۔۔۔۔۔۔۔۔ قدیر) (45) ” “۔ یہ ایک عظیم حقیقت ہے جس کو قرآن کریم نہایت ہی سادے الفاظ میں بیان کررہا ہے۔ یہ حقیقت کہ ہر زندہ مخلوق کو پانی سے پیدا کیا گیا ہے۔ یہ بتاتی ہے کہ حیات کے بنیادی عناصر ایک ہی ہیں اور یہ کہ زندگی کے قیام کا بنیادی عنصر پانی ہے۔ جدید سائنس بھی اس بات کی طرف جارہی ہے کہ زندگی کی اصل تخلیق پانی میں ہوئی۔ یعنی سمندر میں۔ یعنی ابتدائی حالت میں زندگی پانی میں تھی۔ اس کے بعد زندگی کے اندر رنگارنگی پیدا ہوئی۔ یہ تو ہے سائنس دانوں کی سوچ۔ ہماری سوچ مختلف ہے۔ ہم قرآنی حقائق کو سائنس کی خراوپر نہیں چڑھاتے۔ کیونکہ سائنس کے اصول اور معیار بدل جاتے ہیں جبکہ قرآن ناقابل تغیر اور آخری حقائق بتاتا ہے۔ ہم بس یہی کہتے ہیں کہ حیات کا اصل پانی ہے۔ اس لیے کہ قرآن یہ کہتا ہے۔ اگر چہ حیات کی شکلیں مختلف نظر آتی ہیں لیکن اس کا اصلی مادہ پانی ہی ہے۔ پانی ہی سے حیوان زمین پر چلنے لگا ہے۔ یخلق اللہ مایشآ ئ (24 : 45) ” اللہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے “۔ مختلف ہیئت اور مختلف شکل کے جانور پیدا کرتا ہے اور یہ اللہ کی مشیت ہے کہ وہ کیا پیدا کرتا ہے اور کس شکل میں پیدا کرتا ہے۔ ان اللہ علی کل شیء قدیر (24 : 45) ” بیشک اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے “۔ اگر ہم تمام زندہ چیزوں پر غور کریں تو دیکھیں گے کہ حیات کی اصل تو ایک ہے لیکن اس ایک ہی مادے سے اللہ نے کیا کیا چیزیں ‘ کس کس شکل پر بنائی ہیں۔ مختلف حجم والی مختلف رنگوں والی ‘ مختلف شکل و صورت والی۔ تو معلوم ہوتا ہے کہ ایک خالق اور مدبر ہے جو یہ رنگارنگی پیدا کررہا ہے اور جو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ اس گہرے مطالعے سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس کائنات کی کوئی چیز محض اتفاق سے بلا ارادہ اس طرح پیدا نہیں ہوگئی ہے بلکہ ایک تدبیر اور ارادے سے ایسا ہوا ہے۔ اگر تدبیر اور ارادہ خالق کو تسلیم نہ کیا جائے تو وہ کیا اتفاق ہے جس نے اسے پیدا کیا۔ پھر یہ عجیب اتفاق ہے کہ ہر چیز کے اندر خود بخود ایک تدبیر اور تقدیر پیدا ہوگئی۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ پوری کائنات اللہ کی کاریگری ہے جس نے ہر چیز کو اس کی تخلیق بخشی اور ہر چیز کو ہدایت ‘ وجدان اور شعور بخشا ہے کہ اس کا فرض منصبی کیا ہے۔
Ayah 24:46

لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اٰیٰتٍ مُّبَیِّنٰتٍ١ؕ وَ اللّٰهُ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 24:46 in the Quran reader

” ہم نے صاف صاف حقیقت بتانے والی آیات نازل کردی ہیں۔ آگے صراط مستقیم کی طرف ہدایت اللہ ہی جسے چاہتا ہے دیتا ہے

درس نمبر 155 ایک نظر میں سابق عظیم دور اور طویل سبق نور کے موضوع پر تھا اور یہ نور اس کائنات کے مظاہر میں سے بھی تھا۔ اب کلام کا رخ پھر اپنے اصل موضوع کی طرف آجاتا ہے ‘ یعنی وہ آداب جن پر قرآن کریم اسلامی سوسائٹی کی تعمیر چاہتا ہے۔ اور جن کے مطابق مسلمانوں کے ظاہرو باطن کو پاک کرنا مطلوب ہے۔ اور اسلامی سوسائٹی کو اس نور سے منور کرنا مطلوب ہے جس نور سے یہ پوری کائنات منور ہے ( گویا اسلامی نظام بھی ایک نور ہے کیونکہ اس کا نازل کرنے والا بھی ایک نور ہے) ۔ جو لوگ اللہ کے نور سے منور ہوں وہ کیسے ہوتے ہیں ‘ درس سابق میں اس کی ایک جھلک دکھائی گئی کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کو تجارت اور خریدو فروخت اللہ کے ذکر سے غافل نہیں کرسکتے اور وہ دنیاوی کاموں کی وجہ سے اقامت صلوۃ اور ادائے زکوۃ سے غافل نہیں ہوتے اور جو لوگ اس نور کائنات سے محروم تھے وہاں ان کی بھی ایک جھلک دکھائی گئی تھی کہ وہ جن دنیاوی مقاصد کے پیچھے رات اور دن بھاگ رہے ہیں وہ تو سراب ہے۔ حقیقت کچھ بھی نہیں۔ اور ان کی زندگی اس طرح ہے جس طرح موجوں میں گھری ہوئی کشتی جس کے اوپر گہرے بادل ہوں اور کچھ نظر نہ آرہا ہو۔ اب یہاں ان منافقین کا ذکر ہے جو اللہ کی روشن نشانیوں سے کوئی سبق لینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ وہ اسلام کو ظاہر کرتے ہیں لیکنوہ آداب مومنین کو نہیں اپناتے۔ مومنین تو وہ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کے لیے ہر وقت تیار ہوں ‘ اور نہایت ہی اطمینان ‘ سنجیدگی اور رضا مندی سے مطیع فرمان ہوں۔ یہاں ان کے اور مومنین صادقین کے ایمان کے درمیان موازانہ کیا جاتا ہے۔ اہل ایمان کے ساتھ اللہ نے یہ وعدہ کیا ہے کہ انہیں زمین کی خلافت دی جائے گی اور ان کا اقتدار اس زمین پر مستحکم کردیا جائے گا۔ یہ انعام ان کو اس لیے دیا جائے گا کہ وہ اللہ اور سول اللہ ﷺ کے ساتھ نہایت ہی ادب اور اطاعت کا تعلق رکھتے ہیں اور اللہ اور رسول اللہ ﷺ کا احترام کرتے ہیں۔ اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ان کا یہ تعلق اس حقیقت کے باوجود ہے کہ کافر اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے دشمن ہیں اور یہ کہ اہل کفر اللہ اور رسول اللہ ﷺ کو اس کرئہ ارض پر عاجز نہیں کرسکتے۔ کفار کا تو خود اپنا انجام برا ہونے والا ہے۔ درس نمبر 155 تشریح آیات 46۔۔ تا۔۔۔۔ 57 (لقد انزلنآ۔۔۔۔۔۔۔ مستقیم ) (46) اللہ کی بات صاف صاف حقیقت بتلانے والی ہے۔ ان سے اللہ کا نور معلوم ہوتا ہے۔ یہ ہدایت کے شر چشمے بتانے والی ہیں۔ ان آیات میں بتلایا گیا ہے کہ خیر کیا ہے اور شر کیا ہے۔ طیب کیا ہے اور خبیث کیا ہے۔ یہ آیات اسلامی نظام زندگی کو نہایت ہی مفصل طریقے سے کھول کھول کر بتاتی ہیں۔ یہ آیات زمین پر رائج کیے جانے والے احکام و قوانین کو بالکل ظاہر کر کے بتاتی ہیں کہ جب بھی لوگ اپنے فیصلے کرنا چاہیں تو احکام اور قوانین واضح ہوں۔ ان قوانین میں کسی فریق کی کوئی حق تلفی نہیں ہے۔ نہ ان میں حق و باطل کے درمیان کوئی التباس ہے ۔ نہ حلال و حرام کا التباس ہے ۔ ہر چیز واضح اور مفصل ہے۔ (واللہ۔۔۔۔۔۔۔ مستقیم) (24 : 46) ” اور اللہ جسے چاہتا ہے صراط مستقیم کی طرف ہدایت دے دیتا ہے “۔ اللہ کی مشیت بےقید ہے ‘ اس پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ ہاں اللہ نے ہدایت کے لیے ایک ضابطہ مقرر کیا ہوا ہے جو شخص اپنے نفس کو اس طریق ہدایت کی طرف متوجہ کردے وہ راہ ہدایت کو پالیتا ہے لیکن ہدایت کی راہوں پر چل نکلتا ہے۔ تو وہ اللہ کی مشیت کے مطابق ہدایت پا لیتا ہے اور جو شخص منہ موڑ لیتا ہے اور اس روشنی میں راہ نہیں ڈھونڈتا جو اس کائنات میں اللہ نے بکھیر رکھی ہے وہ ضلالت کے طریق پر چل نکلتا ہے۔ یہ ضلالت بھی اللہ کی مثیت کے مطابق ہی ہوتی ہے۔ اگلی آیات میں ایک ایسے فریق کا ذکر ہے جو مدینہ میں بہت ہی متحرک تھا۔ یہ فریق منافقین تھے جو بظاہر مسلمان تھے اور اسلامی طریقوں کے مطابق زندگی بسر کرتے تھے لیکن اندر تاریک تر تھا۔
Ayahs 24:47–50

وَ یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ بِالرَّسُوْلِ وَ اَطَعْنَا ثُمَّ یَتَوَلّٰى فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ١ؕ وَ مَاۤ اُولٰٓئِكَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 24:47 in the Quran reader

یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے اللہ اور رسول ﷺ پر اور ہم نے اطاعت کی ‘ مگر اس کے بعد ان میں سے ایک گروہ (اطاعت سے ) منہ موڑ جاتا ہے۔ ایسے لوگ ہر گز مومن نہیں ہیں

وَ اِذَا دُعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 24:48 in the Quran reader

جب ان کو بلایا جاتا ہے اللہ اور رسول ﷺ کی طرف تاکہ رسول ﷺ ان کے آپس کے مقدمے کا فیصلہ کرے تو ان میں سے ایک فریق کترا جاتا ہے

وَ اِنْ یَّكُنْ لَّهُمُ الْحَقُّ یَاْتُوْۤا اِلَیْهِ مُذْعِنِیْنَؕ Open ayah 24:49 in the Quran reader

البتہ اگر حق ان کی موافقت میں ہو تو رسول ﷺ کے پاس بڑے اطاعت کیش بنکر آجاتے ہیں۔

اَفِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ اَمِ ارْتَابُوْۤا اَمْ یَخَافُوْنَ اَنْ یَّحِیْفَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ وَ رَسُوْلُهٗ١ؕ بَلْ اُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ۠ Open ayah 24:50 in the Quran reader

کیا ان کے دلوں کو (منافقت کا ) روگ لگا ہوا ہے ؟ یا یہ شک میں پڑے ہوئے ہیں ؟ یا ان کو یہ خوف ہے کہ اللہ اور اس کا رسول ﷺ ان پر ظلم کرے گا ؟ اصل بات یہ ہے کہ ظالم تو یہ لوگ خود ہیں

(ویقولون۔۔۔۔۔۔۔ بالمئو منین واذا۔۔۔۔۔۔۔ معرضون وان۔۔۔۔۔۔ مذعنین افی ۔۔۔۔۔۔ اولئک ھم الظلمون ) (5047) ” ۔ “۔ جب صحیح ایمان دل میں بیٹھ جاتا ہے تو اس کے آثار عمل کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں۔ اسلام تو ایک متحرک نظریہ ہے اس کا کوئی منفی پہلو نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا نظریہ ہے کہ جب کسی انسان کے شعور میں یہ بیٹھ جائے تو یہ خود بخود حرکت پذیر ہوتا ہے اور خارج میں اس کے آثار نظر آنا شروع ہوجاتے ہیں۔ اسلام خود بخود اپنی ترجمانی اسلامی اعمال کے ذریعے کرنا شروع کردیتا ہے۔ خود اسلامی نظام زندگی کا طریق کار بھی یہی ہے کہ وہ ایک عملی نظام ہے ‘ وہ عمل اور تحریک کے ذریعے وجود میں آتا ہے یعنی اسلام ایک شعور ہے جو اپنے آپ کو عمل اور سلوک کے ذریعے ظاہر کرتا ہے۔ اور پھر درس پر مستقل دستور اور قانون کی شکل اختیار کر کے تہذیب کی شکل اختیار کرتا ہے۔ اس کی زندگی اس کے شعور اول پر موقوف ہے۔ اس شعور اور ایمان کو زندہ اور متحرک رکھنا ضروری ہے۔ لیکن جس مخلوق کا یہاں ذکر کیا جارہا ہے وہ کیسی مخلوق تھی وہ کہتے تو تھے امنا باللہ و بالرسول واطعنا (24 : 47) ” یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے اللہ اور رسول ﷺ پر اور ہمنے اطاعت قبول کی “۔ یہ بات وہ اپنے منہ سے کہتے تھے لیکن ان کے طرز عمل میں اس کے اثار نظر نہ آتے تھے۔ چناچہ وہ الٹے پائوں پھرجاتے تھے جو بات وہ زبان سے کہتے تھے ان کے اعمال اس کی تکذیب کرتے تھے۔ ومآ اولئک بالمئومنین (24 : 47) ” ایسے لوگ ہر گز مومن نہیں ہیں “۔ مومن تو وہ ہوتے ہیں جن کے اعمال ان کے اقوال کی تصدیق کرتے ہیں۔ ایمان کوئی کھیل تو نہیں ہے کہ ایک شخص بس ایمان کا اقرار کرلے اور اس کے بعد اس کی کوئی ذمہ داری نہ ہو۔ ایمان کے بعد اس کا نفس بھی ایمانی کیفیات میں رنگ جانا چاہیے۔ اس کا دل دماغ اور سوچ بھی ایمانی بن جائے ۔ اور اس کے بعد پھر لازم ہے کہ اس شخص کے اعمال بھی ایمانی ہوں اور جب ایمان کسی کیضمیر میں بیٹھ جائے تو پھر اس کے لیے ایمانی راہ سے پلٹنا ممکن ہی نہیں رہتا۔ یہ لوگ ایمان کا دعویٰ تو کرتے تھے لیکن عملاً یہ لوگ ایمان کے مفہوم اور مدلول کے خلاف ہوتے تھے جب ان سے کہا جاتا تھا کہ آئو اپنا فیصلہ اللہ اور رسول ﷺ کے قانون کے مطابق کریں اور اس شریعت کے مطابق جو حضرت محمد ﷺ پر نازل ہوئی تو وہ منہ موڑ لیتے ہیں۔ (واذا دعوآ۔۔۔۔۔۔۔ معرضون) (24 : 49) ” جب ان لوگوں کو بلایا جائے اللہ اور رسول کی طرف تاکہ رسول ان کے آپس کے مقدمے کا فیصلہ کرے تو ان میں سے ایک فریق کترا جاتا ہے۔ البتہ اگر حق ان کی موافقت میں ہو تو رسول ﷺ کے پاس بڑے اطاعت کیش بن کر آتے ہیں “۔ کیونکہ ان کو معلوم ہوتا تھا کہ اللہ اور رسول اللہ ﷺ کا حکم حق سے دورنہ تھا اور ہوائے نفس کے لیے رسول ﷺ کے ہاں کوئی دخل نہ ہوتا تھا اور اگر دشمنی بھی ہوتی تو رسول اللہ حق پر فیصلہ کرتے۔ اس لیے یہ لوگ جب جانتے تھے کہ ان کا موقف حق کے خلاف ہے تو یہ رسول اللہ ﷺ کے فیصلے سے دور بھاگتے تھے اور آپ کے سامنے آنے سے انکار کرتے تھے اور اگر وہ حقدار ہوتے تو بھاگ کر رسول اللہ ﷺ کے پاس بڑے برخوردار بن کر آتے تھے۔ خوشی خوشی سے کیونکہ ان کو یقین تھا کہ حضور ﷺ حق سے ادھر ادھر نہیں جاتے۔ اور شریعت کی عدالت میں کسی کی حق تلف نہیں ہوتی۔ یہ لوگ جو ایمان کا دعویٰ کرتے تھے اور پھر بھی یہ دو رخی اختیار کرتے تھے ‘ ہر دور میں اہل نفاق کو معلوم کرنے کے لی ایک اعلیٰ نمونہ اور معیار ہیں۔ یہ لوگ اس قدر جرأت نہیں رکھتے کہ جہراً اپن کفر کا اعلان کرسکیں بظاہر یہ لوگ مسلمان ہوتے ہیں ‘ لیکن وہ یہ بات پسند نہیں کرتے کہ معاشرے کے اندر اسلامی رنگ پیدا ہو اور اسلامی قوانین کے مطابق عدالتی نظام قائم ہو۔ جب ایسے لوگوں کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ شریعت کے مطابق فیصلے کے لیے آجائیں تو وہ اس سے اعراض کرتے ہیں اور عذرات پیش کرتے ہیں۔ ومآ اولئک بالمئو منین (24 : 47) ” یہ لوگ مومن نہیں ہیں “۔ اس لیے کہ ایمان اور اسلامی شریعت پر فیصلے کرنے سے انکار ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے الا یہ کہ اسلامی شریعت پر فیصلہ کرانا ان منافقین کے مفاد میں ہو ‘ تو یہ دوڑ کر آتے ہیں۔ اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے فیصلوں کے مطابق زندگی گزارنا ایمان کی علامت ہے۔ یہی وہ علامت ہے جس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ ایمان کی حقیقت دلوں میں بیٹھ گئی ہے اور اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے حوالے سے مسلمانوں کے لیے یہ رویہ اختیار کرنا لازمی ہے۔ اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے حکم کو وہی شخص رد کرسکتا ہے جو بےحد گستاخ اور نافرمان ہو۔ جن کی کوئی اسلامی تربیت نہ ہوئی ہو اور جس کا دل نور ایمان سے منور نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے اس فعل کے نتیجے میں ایسے سوالات کیے جاتے ہیں جن سے ان کے دلوں کی یہ بیماری ظاہر ہوجاتی ہے۔ ان سوالات میں تعجب کیا جاتا ہے کہ وہ کیوں شک میں پڑے ہوئے ہیں اور ان کا طرز عمل کیوں غلط اور قابل نفرت ہے۔ (افی قلوبھبم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ورسولہ) (24 : 50) ” کیا ان کے دلوں کو (منافقت کا ) روگ لگا ہوا ہے ؟ یا یہ شک میں پڑے ہوئے ہیں ؟ یا ان کو یہ خوف ہے کہ اللہ اور اس کا رسول ﷺ ان پر ظلم کرے گا ؟ “ پہلا سوال و اثبات کے لیے ہے یعنی درحقیقت یہ منافق ہیں اور یہ نفاق ہی کا اثر ہے۔ کوئی سلیم الفطرت شخص یہ نفاق نہیں کرسکتا کیونکہ یہ فطری فرائض ہیں اور ان کی فطرت صحت مند نہیں رہی ہے۔ درحقیقت انہوں نے ایمان کی حقیقت کو نہیں دیکھا اور یہ لوگ ابہام کی شاہ راہ پر گامزن ہیں۔ دوسرا سوال تعجب کے لیے ہے۔ تعجب یہ ہے کہ دعوائے ایمان کرتے ہوئے بھی ان کو اللہ کے فیصلوں میں شک ہے۔ کیا ان کو اس امر میں شک ہے کہ یہ احکام اللہ کی طرف سے آتے ہیں۔ یا ان کو اس معاملے میں شک ہے کہ اسلام عدل کا نظام قائم کرسکتا ہے یا نہیں۔ یہ دونوں باتیں مومنین کے طریقوں کے خلاف ہیں۔ تیسرا سوال اظہار نفرت اور اظہار تعجب دونوں کے لیے ہے۔ تعجب اور نفرت اس بات پر ہے کہ یہ لوگ شک کرتے ہیں کہ شاید اللہ اور رسول اللہ ﷺ ان پر ظلم کریں گے۔ یہ عجیب بات ہے کہ کوئی انسان اس بارے میں شک کرے یا یہ خوف کرے کہ اللہ انصاف نہ کرے گا۔ اللہ ہی تو ہے جو سب کا خالق اور سب کا رب ہے۔ لہٰذا وہ اپنی مخلوق کے درمیان فرق و امتیاز کس طرح کرسکتا ہے۔ اللہ کا حکم ایک ہوتا ہے اس کی ثہ میں کسی ظلم و زیادتی کا شائبہ تک نہیں ہوتا کیونکہ اللہ تو وہ منصف ہے جو کسی پر کسی طرح ظلم نہیں کرتا۔ اس کی تمام مخلوق اس کے سامنے برابر ہے لہٰذا وہ کسی ایک بندے کی مصلحت کے لیے کسی دوسرے بندے پر ظلم نہیں کرتا۔ اللہ کے سوا تمام دوسرے افراد اور اداروں کے احکام کے بارے میں یہ شک ہو سکتا ہے کہ وہ ظالمانہ ہوں کیونکہ اگر انسان خود اپنے لیے قانون سازی کررہا ہو تو اس سے یہ شک ہو سکتا ہے کہ قانون سازی کرنے والا انسان خود اپنے مفادات کا خیال رکھے۔ قانون سازی کرنے والا انسان ایک فرد ہو یا ایک ادارہ ہو ‘ یہ بدگمانی ہو سکتی ہے۔ جب ایک انسان اور فرد واحد حکمران ہو تو اس کے بارے میں یہ بات واضح ہے کہ وہ اپنے حق میں اور اپنی مصلحت کے لیے قانون سازی کرے گا۔ نیز اگر ایک حکومت دوسروں کے لیے قانون سازی کرے یا ایک طبقہ دوسروں کے لیے قانون سازی کرے یا ایک بلاک دوسرے بلاکوں کے لیے قانون سازی کرے تو قانون سازی کرنے والا اپنے مفادات کا خیال کرسکتا ہے۔ لیکن جب اللہ قانون سازی کرے تو اس میں کسی فرد ‘ کسی گروہ ‘ کسی طبقے۔۔۔۔۔ یا کسی بلاک کی حمایت کی کوئی بات نہیں ہوتی۔ یہ مطلق انصاف ہوتا ہے اور یہ خصوصیت یعنی بےقید عدل کی خصوصیت صرف اللہ کی قانون سازی میں ممکن ہے۔ اللہ کے فیصلے کے سوا کوئی دوسرا فیصلہ اس خصوصیت کا حامل نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ جو لوگ اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے حکم پر راضی نہیں ہوتے ‘ وہی ظالم ہیں۔ یہ لوگ زمین پر عدل مطلق کو جمنے نہیں دینا چاہتے۔ یہ لوگ سچائی کا اقتدار نہیں چاہتے۔ یہ لوگ اس بات میں یہ شک کرتے ہوئے نہیں ڈرتے کہ اللہ کے حکم میں کوئی ظلم ہوگا یہ کہ نہ ان کو اللہ کی عدالت میں شک ہے۔ بل اولئک ھم الظلمون (24 : 0 5) ” بلکہ یہ لوگ دراصل ظالم ہیں “۔ اس لیے عدل نہیں چاہتے۔ رہے وہ لوگ جو حقیقی مسلمان ہیں تو اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے حوالے سے ان کا رویہ بالکل مختلف ہے۔ جب ان کو بلایا جائے کہ آئو اللہ اور رسول اللہ کے حکم کے مطابق فیصلے کرائیں تو وہ بالکل مختلف بات کرتے ہیں۔ یہ قول مومنین کے لائق ہے اور یہ قول بتاتا ہے کہ ان کے دل ایمان سے روشن ہیں اور وہ چمک رہے ہیں۔
Ayah 24:51

اِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذَا دُعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ اَنْ یَّقُوْلُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 24:51 in the Quran reader

ایمان لانے والوں کا کام تو یہ ہے کہ جب وہ اللہ اور رسول ﷺ کی طرف بلائے جائیں تاکہ رسول ﷺ ان کے مقدمے کا فیصلہ کرے تو وہ کہیں کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی۔ ایسے ہی لوگ فلاح پانے والے ہیں

(انما کان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ھم المفلحون) (51) ” ان لوگوں کا رویہ یہ ہے کہ بلاچون و چرا اور بغیر کسی ذرہ بھر انحراف کے وہ سمع و اطاعت کرتے ہیں۔ یہ سمع و اطاعت وہ اس لیے کرتے ہیں کہ انہیں پورا اعتماد وپرا یقین ہے کہ اللہ اور رسول اللہ ﷺ کا فیصلہ ہی حقیقی فیصلہ ہے اور اس میں مطلق عدل و انصاف ہے۔ اس کے سوا جو کچھ بھی ہے وہ خواہشات نفسانیہ پر مبنی ہے۔ یہ سمع و اطاعت وہ اس لیے کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے آپ کو مکمل طور پر اللہ کے سامنے جھکا دیا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یہی اللہ زندگی بخشنے والا ہے ‘ یہی اللہ اس کائنات میں متصرف ہے اور ان کو اس بات پر اطمینان حاصل ہے کہ اللہ لوگوں کے لیے جو چاہتے ہیں وہی بہتر ہے بہ نسبت اس کے ‘ جو لوگ خود اپنے لیے چاہتے ہیں کیونکہ وہ ذات جس نے پیدا کیا وہ اپنی مخلوق کے بارے میں بہتر جانتی ہے۔ واولئک ھم المفلحون (24 : 51) ” ایسے ہی لوگ فلاح پانے والے ہیں “۔ یہ فلاح پانے والے اس لیے ہیں کہ ان کے امور کی تدبیر خالق کائنات ہی کرتا ہے اور ان کے باہم تعلق کو وہی منظم کرتا ہے۔ اپنے علم اور عدل کے ساتھ وہ ان کے درمیان وہی فیصلے کرتا ہے۔ اس لیے ان کو ان لوگوں سے بہتر ہونا چاہیے جو اپنے امور کے فیصلے خود کرتے ہیں یا ان جیسے افراد کرتے ہیں۔ یہ لوگ اور خود ان کے بھائی دوسرے بشر وہ علم و حکمت نہیں رکھتے جو اللہ رکھتا ہے۔ پھر وہ اس لیے بھی کامیاب ہوں گے کہ وہ ایک ہی منہاج پر چل رہے ہیں جس میں کوئی ٹیڑھ اور مقم نہیں ہے۔ وہ اپنے اس منہاج پر مطمئن ہیں۔ وہ اس منہاج پر چل رہے ہیں۔ ادھر ادھر نہیں بھٹکتے۔ لہٰذا ان کی قوتیں منتشر نہیں ہوتیں ‘ ان کی خواہشات کے اندر کوئی تضاد نہیں ہے۔ خواہشات اور مفادات کے ہاتھ میں ان کی نکیل نہیں ہوتی بلکہ ان کی نکیل اسلامی منہاج کے ہاتھ میں ہوتی ہے اور وہ ان کے آگے ہوتا ہے اور یہ اس کے پیچھے چلتے ہیں۔