23. Surah Al-Muminoon

المؤمنونThe Believers · 118 ayahsفی ظلال القرآن

Ayahs 23:102–104

فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 23:102 in the Quran reader

اس وقت جن کے پلڑے بھاری ہوں گے وہی فلاح پائیں گے

وَ مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فِیْ جَهَنَّمَ خٰلِدُوْنَۚ Open ayah 23:103 in the Quran reader

اور جن کے پلڑے ہلکے ہوں گے وہی لوگ ہوں گے جنہوں نے اپنے آپ کو گھاٹے میں ڈال لیا۔ وہ جہنم میں ہمیشہ رہیں گے

تَلْفَحُ وُجُوْهَهُمُ النَّارُ وَ هُمْ فِیْهَا كٰلِحُوْنَ Open ayah 23:104 in the Quran reader

آگ ان کے چہروں کی کھال چاٹ جائے گی اور ان کے جبڑے باہر نکل آئیں گے

فمن ثقلت۔۔۔۔۔۔ کلحون (102 : 104) یہ کہ تمام اعمال کو ترازو میں تولا جائے گا ‘ یہ بھی قرآن مجید کا ایک مخصوص انداز کلام ہے کہ وہ کسی بھی مفہوم کو حسی انداز میں پیش کرتا ہے تاکہ نہایت ہی مجرد معانی کو ہر شخص سمجھ جائے۔ نیز ان اعمال کے ساتھ ذرادیکھئے کہ ان کے چہروں پر سے آگ گوشت کو چاٹ جائے گی اور وہ اس طرح نظر آرہے ہو نگے جس طرح کسی مردے کے منہ کی ہڈیاں نظر آتی ہیں ‘ دانت نکلے ہوئے۔ یہ لوگ ہیں جن کا میزان اعمال ہلکا ہوگیا ہے۔ یہ ہار گئے ہیں سب کچھ ‘ اپنے نفسوں کو بھی ہار گئے ہیں۔ جب کوئی شخص اپنی جان ہی ہار جائے تو پھر وہ کس چیز کا مالک رہ جاتا ہے۔ اس کی ملکیت میں کیا چیز رہ جاتی ہے۔ وہ اپنے نفس کو ہار گیا۔ اس کی ذات چلی گئی ہے۔ گویا اس کا وجود ہی باقی نہیں رہا۔ اب حکایتی انداز کلام اچانک بدل جاتا ہے اور خطاب شروع ہوجاتا ہے۔ ان کی سرزنش کی جاتی ہے۔ جسمانی عذاب اس قدر درد ناک نہیں جس قدر یہ سرزنش اذیت ناک ہے۔ اب گویا ہم پھر ایک منظر میں دیکھ رہے ہیں کہ ان کی سرزنش کی جارہی ہے اور ان کو ملامت کی جارہی ہے۔
Ayah 23:105

اَلَمْ تَكُنْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَكُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 23:105 in the Quran reader

یا تم وہی لوگ نہیں ہو کہ میری آیات تمہیں سنائی جاتی تھیں تو تم انہیں جھٹلاتے تھے

الم تکن۔۔۔۔۔۔۔ تکذبون (105) ” جب انہوں نے یہ سوال سنا توانکو یہ خیال آیا کہ شاید ان کو بات کرنے کی اجازت ہے اور وہ جواب دے سکتے ہیں اور شاید اپنے گناہوں کا اعتراف انہیں کوئی فائدہ دے دے۔
Ayahs 23:106–107

قَالُوْا رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَیْنَا شِقْوَتُنَا وَ كُنَّا قَوْمًا ضَآلِّیْنَ Open ayah 23:106 in the Quran reader

وہ کہیں گے ‘” اے ہمارے رب ہماری بدبختی ہم پر چھا گئی تھی۔ ہم واقعی گمراہ لوگ تھے

رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا مِنْهَا فَاِنْ عُدْنَا فَاِنَّا ظٰلِمُوْنَ Open ayah 23:107 in the Quran reader

اے پروردگار ‘ اب ہمیں یہاں سے نکال دے۔ پھر ہم ایسا قصور کریں تو ظالم ہوں گے ؟

قالوا ربنا۔۔۔۔۔۔۔ ظلمون (107) ” “ یہ نہایت ہی تلخ اعتراف ہے اور ان کی بدبختی اس میں عیاں نظر آتی ہے۔ انہوں نے حدود سے تجاوز کیا اور سوئے ادب کا ارتکاب کیا کیونکہ ان کو صرف سوال کا جواب دینے کی اجازت تھی۔ بلکہ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ سوال ہی محض ذلیل کرنے کے لیے ہو۔ جواب مطلوب ہی نہ ہو۔ اس لیے ان کی اس درخواست کا جواب سختی سے دیا جاتا ہے کیونکہ درخواست ان سے طلب ہی نہ کی گئی تھی۔
Ayah 23:108

قَالَ اخْسَئُوْا فِیْهَا وَ لَا تُكَلِّمُوْنِ Open ayah 23:108 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ جواب دے گا ” دور ہو میرے سامنے سے ‘ پڑے رہو اسی میں اور جھ سے بات نہ کرو

قال۔۔۔۔۔۔ ولاتکلمون ” “۔ خاموش ہو جائو ‘ ایک ذلیل شخص کی طرح خاموشی اختیار کرو۔ جس عذاب میں تم لوگ پڑے ہوئے ‘ تم اس کے پوری طرح مستحق ہو۔ یہی تو ہیں آمیز پوزیشن تمہارے لیے بہتر ہے۔
Ayahs 23:109–110

اِنَّهٗ كَانَ فَرِیْقٌ مِّنْ عِبَادِیْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا وَ ارْحَمْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْنَۚۖ Open ayah 23:109 in the Quran reader

تم وہی لوگ تو ہو کہ میرے کچھ بندے جب کہتے تھے کہ اے ہمارے پروردگار ‘ ہم ایمان لائے ‘ ہمیں معاف کردے ‘ ہم پر رحم کر ‘ تو سب رحیموں سے اچھا رحیم ہے

فَاتَّخَذْتُمُوْهُمْ سِخْرِیًّا حَتّٰۤى اَنْسَوْكُمْ ذِكْرِیْ وَ كُنْتُمْ مِّنْهُمْ تَضْحَكُوْنَ Open ayah 23:110 in the Quran reader

تو تم نے ان کا مذاق بنا لیا۔ یہاں تک کہ ان کی ضد نے تمہیں یہ بھی بھلا دیا کہ میں بھی کوئی ہوں ‘ اور تم ان پر ہنستے رہے “۔

انہ کان۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تضحکون ” ‘ تمہارا جرم صرف یہی نہیں ہے کہ تم نے کفر کیا اور خود اپنی ذات کو کفر میں رکھا۔ اگر چہ یہ بھی جرم عظیم تھا مگر تم نے اس سے بھی عظیم تر جرم کیا ہے۔ وہ یہ کہ تم نے ایمان لانے والوں کے ساتھ مزاح کیا۔ جو ایمان لائے تھے اور رحمت رب کے طلبگار تھے تم ان کا مذاق اڑاتے تھے اور اس طرح اپنے آپ کو ذکر الہی اور نصیحت آموزی سے محروم کرتے تھے حالانکہ اس کائنات میں دلائل ایمان موجود تھے۔ آج دیکھو ‘ تمہارا مقام کیا ہے اور ان لوگوں کا مقام و مرتبہ کیا ہے جن سے تم مذاق کرتے تھے۔
Ayah 23:111

اِنِّیْ جَزَیْتُهُمُ الْیَوْمَ بِمَا صَبَرُوْۤا١ۙ اَنَّهُمْ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 23:111 in the Quran reader

آج ان کے اس صبر کا میں نے یہ پھل دیا ہے کہ وہی کامیاب ہیں “۔

انی جزیتھم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ھم لفآئزون ” اس سخت اور توہین آمیز جواب کے بعد ایک نئے سوال و جواب کا سلسہ شروع ہوتا ہے جبکہ اس سوال و جواب میں ان کے ساتھ نہایت ہی توہین آمیز سلوک کیا گیا اور ان کو لاجواب کردیا گیا ہے۔ اب نیا سوال یہ آتا ہے۔
Ayah 23:112

قٰلَ كَمْ لَبِثْتُمْ فِی الْاَرْضِ عَدَدَ سِنِیْنَ Open ayah 23:112 in the Quran reader

پھر اللہ تعالیٰ ان سے پوچھے گا ‘ بتائو زمین میں تم کتنے سال رہے

قل کم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عدد سنین۔ اللہ کو تو خوب معلوم ہے کہ انہوں نے کتنا عرصہ دنیا میں گزارا سے لیکن مقصد یہ بتانا ہے کہ دنیا کی یہ زندگی کس قدر مختصر ہے ‘ کس قدر حقیر ہے اور دنیا کے دن کس قدر چھوٹے ہیں۔ انہوں نے دنیا کی اس مختصر زندگی کے لیے آخرت کی دائمی زندگی کو خراب کیا۔ وہ تو آج محسوس کرتے ہیں کہ یہ دنیا کس قدر مختصر ہے۔ کس قدر معتبر ہے لیکن وہ مایوس ہیں اور ان کے سینے تنگ ہیں۔ اب ان کو کیا پڑی ہے کہ حساب کریں۔
Ayah 23:113

قَالُوْا لَبِثْنَا یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ فَسْئَلِ الْعَآدِّیْنَ Open ayah 23:113 in the Quran reader

وہ کہیں گے ” ایک دن یا دن کا بھی کچھ حصہ ہم ٹھہرے ‘ شمار کرنے والوں سے پوچھ لیجئے

قالوا لبثنا۔۔۔۔۔۔ العآدین۔ یہ اس شخص کا جواب ہے جو حد درجہ پریشان ‘ مایوس اور تنگ دل ہو۔ لیکن جواب نہایت ہی حقیقت پسندانہ ہے یہ کہ تم نے بہت ہی کم وقت گزارا ہے بہ نسبت اس کے جواب تم جہنم میں گزارو گے۔ اے کاش کہ دنیا میں تم صحیح اندازہ کرسکتے۔
Ayah 23:114

قٰلَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا لَّوْ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 23:114 in the Quran reader

ارشاد ہوگا تھوڑی ہی دیر ٹھہرے ہونا ‘ کاش تم نے یہ اس وقت جانا ہوتا

قل ان لبثتم۔۔۔۔ تعلمون۔ اب دوبارہ ان کی سرزنش کی جاتی ہے اور ساتھ ہی یہ بھی بتادیا جاتا ہے کہ بعث بعد الموت کی حکمت کیا ہے۔
Ayah 23:115

اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ Open ayah 23:115 in the Quran reader

کیا تم نے یہ سمجھ رکھا تھا کہ ہم نے تمہیں فضول ہی پیدا کیا ہے اور تمہیں ہماری طرف کبھی پلٹنا ہی نہیں ہے ؟ “

افحسبتم۔۔۔۔۔۔۔۔ لاترجعون ” معلوم ہونا چاہیے۔ حکمت تخلیق کا لازمی تقاضا ہے کہ بعث بعد الموت ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا قیام مقدر کردیا ہے۔ اس کے مقاصد تدبیر کائنات کا حصہ ہیں۔ قیامت تخلیق کا منطقی نتیجہ ہے۔ بعث کے ساتھ تخلیق کائنات اپنے کمال کو پہنچ جاتی ہے اور مقصد تخلیق پورا ہوجاتا ہے۔ اس حقیقت سے وہی لوگ غفلت کرسکتے ہیں جن کے دلوں پر پردے آگئے ہوں اور جن کی فطرت مسخ ہوچکی ہو ‘ جو حکمت الہیہ پر کبھی غورو فکر کرنے کی تکلیف ہی نہیں کرتے حالانکہ یہ حکمت اس کائنات کے اندر بکھری پڑی ہے۔ سورة کا خاتمہ عقیدہ توحید کے اعلان پر ہوتا ہے اور اعلان کردیا جاتا ہے کہ جن لوگوں نے شرک کیا وہ عظیم خسارے میں پڑگئے جبکہ اہل توحید فلاح پائیں گے۔ نبی ﷺ کو متوجہ کیا جاتا ہے کہ آپ اللہ سے مغفرت طلب کریں اور اللہ کی رحمت کے طلبگارہوں۔
Ayahs 23:116–118

فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِیْمِ Open ayah 23:116 in the Quran reader

پس بالا و برتر ہے اللہ ‘ پادشاہ حقیقی ‘ کوئی خدا اس کے سوا نہیں ‘ مالک ہے عرش بزرگ کا

وَ مَنْ یَّدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ۙ لَا بُرْهَانَ لَهٗ بِهٖ١ۙ فَاِنَّمَا حِسَابُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 23:117 in the Quran reader

اور جو کوئی اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو پکارے ‘ جس کے لیے اس کے پاس کوئی دلیل نہیں ‘ تو اس کا حساب اس کے رب کی پاس ہے۔ ایسے کافر کبھی فلاح نہیں پاسکتے

وَ قُلْ رَّبِّ اغْفِرْ وَ ارْحَمْ وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْنَ۠ Open ayah 23:118 in the Quran reader

اے نبی ﷺ کہو ‘ میرے رب درگزرفرما اور رحم کر ‘ تو سب رحیموں سے اچھا رحیم ہے

فتعلی اللہ۔۔۔۔۔۔۔ الرحمین اس سے پہلے قیامت کا منظر گزر چکا ہے۔ اس پر یہ تبصرہ ہوتا ہے ‘ نیز اس سے قبل کے مناظر میں بحث و مباحثہ اور دلائل و بینات کا مفعل ذکر ہوچکا تھا۔ یہ تبصرہ اس پوری سورة کا منطقی نتیجہ ہے کہ اللہ شرک سے پاک ہے۔ وہ مالک حق ہے اور وہی مقتدر اعلیٰ ہے اور اس کے سوا کوئی الہٰ نہیں ہے۔ بادشاہت اس کی ہے اور وہی بلندی کا مستحق ہے۔ وہ رب عرش عظیم ہے۔ اب جو لوگ اللہ کے سوا کسی اور شخصیت کی الوہیت اور حاکمیت کو مانتے ہیں ان کے پاس اس کا کوئی جواز نہیں ہے۔ نہ اس کائنات میں اس کا کوئی ثبوت ہے ‘ نہ انسانی فطرت اس کو مانتی ہے اور نہ انسانی عقل اس پر آمادہ ہوتی ہے۔ جو لوگ ایسا دعویٰ کریں گے ان کو اپنے رب کے سامنے حساب دینا ہوگا اور حساب کا نتیجہ یہی ہے کہ کافر کبھی فلاح نہیں پاتے۔ یہ اللہ کی سنت ہے اور یہ اٹل ہے۔ اس کے بالمقابل اہل ایمان فلاح پائیں گے اور یہ تقاضائے فطرت و تقاضے ئے ناموس کائنات ہے۔ اب کافروں کے پاس جو انعامات ہیں ‘ دنیا کا سازو سامان ہے اور دنیا کا اقتدار ہے جو بعض اوقات قائم ہوتا رہتا ہے تو یہ ان کی کامیابی نہیں ہے۔ یہ ان کے لیے فتنہ اور آزمائش ہے۔ اگر ان میں سے بعض اس دنیا میں بلاحساب چلے جائیں تو آخرت میں حساب ان کے لیے تیار ہے ‘ وہاں ان کو پورا پورا حساب دینا ہوگا۔ آخرت کا حساب اس تخلیق کا آخری منظر ہوگا۔ اللہ کی تخلیق کے نظام میں آخرت اس دنیا سے علیحدہ اور دور نہیں ہے۔ یہ اس دنیا کا آخری صفحہ ہے اور اس کا حصہ ہے۔ سورة مومنون کی آخری آیت میں نبی ﷺ کو اس طرف متوجہ کیا جاتا ہے کہ آپ ﷺ اللہ کی مغفرت اور اللہ کی رحمت کی طلب کرتے رہیں۔ وقل رب ۔۔۔۔۔۔۔ الرحمین (23 : 118) ” اور اے نبی ﷺ کہو ‘ میرے رب درگزر فرما اور رحم کر ‘ تو سب رحیموں سے اچھارحیم ہے “۔ دیکھئے سورة کا آغاز اور انجام ایک ہی مضمون پر ہوتا ہے۔ آغاز بھی اس مضمون سے ہے کہ مومنین کامیاب ہوئے اور کافرین خسارے میں پڑگئے۔ آغاز میں بھی یہ مضمون تھا کہ نماز میں خشوع و خضوع اختیار کیا جائے اور یہاں بھی اللہ کے سامنے دعاء اور طلب رحمت ہے۔ یوں سورة کا آغاز اور انجام یکساں ہوجاتے ہیں۔