Ayahs 23:63–67بل قلو بھم تھجرون (آیت نمبر 62 تا 67)
یعنی یہ لوگ جن حالات میں مشغول ہیں ان میں وہ اس لیے غرق نہیں ہیں کہ پیغبران کوا ان کی طاقت سے زیادہ احکام دیتے ہیں بلکہ اصل سبب یہ ہے کہ یہ لوگ غفلت میں ڈوبے ہوئے ہیں اور اس سچائی کی طرف متوجہ ہی نہیں ہیں جسے قرآن کریم پیش کرتا ہے بلکہ وہ ان دوسری راہوں پر بہتے چلے جاتے ہیں ۔ اور یہ راہیں اسلام سے متضادرا ہیں ہیں۔
ولھم اعمال من دون ذلک ھم لھا عملون (23 : 63) ” اور ان کے اعمال اس طریقے سے مختلف ہیں اور یہ لوگ وہ اعمال کرتے دلے جاتے ہیں “۔ اب اس منظر کو پیش کیا جاتا ہے کہ جب اللہ کا عذاب ان کو آلیتا ہے ۔ یہ عذاب بہت ہی تباہ کن ہے ، اچانک ہے دفعتہ ان کو گھیر لیتا ہے ۔
حتی اذا اخذنا متر فیھم بالعذاب اذا ھم یحشرون (23 : 63) ” یہاں تک کہ جب ہم ان کے عیاشوں کے عذاب میں پکڑ لیں گے تو پھر وہ ذکرانا شروع کردیں گے “۔ مالدار لوگوں کی روش ہمیشہ یہ ہوتی ہے کہ یہ لوگ بسا اوقات عیا شیوں ، مد ہوشیوں اور خر مستیوں میں بہت زیادہ غرق ہوتے ہیں اور یہ لوگ ان خر مستیوں کے انجام کی کوئی پرواہ نہیں کرتے۔ اب زرا ان کی حالت دیکھ لو کہ ان کو اچانک خدا کا عذاب آلیتا ہے اور وہ چیختے چلانے لگ جاتے ہیں ۔ اب وہ فریاد کرتے ہیں اور رحم کے طلبگا ہوتے ہیں ۔ ان کی یہ حالت اس لیے ہوتی ہے کہ عیاشی میں بدمت ، غافل ، اور متکبر اور مغرور تھے۔ اب اس شورو فغاں اور فریاد پر کچھ نرمی کرنے اور رحم کرنے کے بجائے ان کی تواضع زجرو توبیخ اور ڈانٹ ڈپٹ سے کی جاتی ہے۔
لا تنصرون (23 : 65) ” اب بند کرو ، اپنی فریاد و فغاں ، ہماری طرف سے اب کوئی مدد تمہیں نہیں ملتی “۔ یہ منظر سامنے ہے ۔ ان مجرموں کو ڈانٹ پلائی جارہی ہے ، ان کو کسی قسم کی امداد اور نرمی سے مایوس کن جواب دیا جارہا ہے اور ساتھ ان کو یاد دلانے جارہا ہے کہ وہ کس طرح غفلت میں غرق تھے اور دعوت اسلامی کے بارے میں ان کا ردعمل کیا تھا۔
قد کانت ایتی تتلی علیکم فکنتم علی اعقابکم تنکصون (23 : 66) ” میری آیات سنائی جاتی تھیں تو تم الٹے پائوں بھاگتے تھے “۔ یعنی الٹے پائوں ہٹ کر تم بھاگ جاتے تھے گویا جو کچھ پڑھ کر تمہیں سنایا جا رہا تھا وہ کوئی خطرناک بات تھی یا نہایت ہی مکروہ امر تھا جس سے علیحدہ ہونا ضروری تھا ۔ حق پر ایمان لانے سے وہ اپنے آپ کو بہت ہی برا سمجھتے تھے۔ نہ صرف یہ کہ وہ الٹنے پائوں پھر کر بھاگ جاتے تھے بلکہ وہ اپنی چو پا لوں میں رات کو جو مجالس منعقد کرتے تھے ان میں دعوت اسلامی کے بارے میں سخت نازیبا الفاظ استعمال کرتے تھے اور یہ ان کے لیے مذاق کا ایک موضوع تھا۔
یہ لوگ اپنی مجالس میں اسلام کے بارے میں نہایت ہی گھٹیا زبان استعمال کرتے تھے۔ یہ مجالس وہ خانہ کعبہ میں اپنے بتوں کے ارد گر بیٹھ منعقد کیا کرتے تھے۔ قرآن کریم ان کی مشغولیوں کی بہت ہی خوبصورت تصویر کشی کرتا ہے جبکہ اب عذاب آنے کے بعد وہ سخت فریاد کرتے ہیں اور مدد طلب کرتے ہیں۔ قرآن ان کو یاد دلاتا ہے کہ ذر ان مجالس کو تو یاد کرو۔ یہ تصویر کشی اس انداز میں کی جاتی ہے گویا یہ واقعہ ابھی ہو رہا ہے اور وہ رات دیکھ رہے ہیں اور ان ہی حالات میں زندہ ہیں ۔ قیامت کے مناظر کی ایسی تصویر کشی قرآن کا مخصوص اسلوب ہے ۔ (دیکھئے میری کتاب التصویر الغنی فی القرآن) ۔
مشرکین رسول اللہ ﷺ اور قرآن پر اپنی مجلسوں میں اعتراضات کرتے تھے اور ایام جاہلیت کے اخلاق کے مطابق اپنے اس رویہ پر فخر کرتے تھے ، وہ اس قابل ہی نہ تھے کہ وہ قرآن کی سچائی کو سمجھتے کیونکہ وہ بصیرت کے اندھے تھے ۔ حق قبول کرنا تو کجاوہ تو قرآن کے ساتھ مذاق کرتے تھے۔ نبی ﷺ پر الزامات لگاتے تھے ۔ یہی وجہ بات ہر زمانے میں ہوتی رہی ہے ۔ ہر جاہلیت میں یہی ہوتا ہے اور یاد رہے کہ عرب جاہلیت بھی دوسری جاہلیت میں سے ایک جاہلیت تھی اور نزول قرآن تک کئی جاہلتیں آتی رہیں اور اس کے بعد بھی آتی رہیں گی۔
قیامت کے اس منظر سے قرآن کریم ان لوگوں کو دنیا کی طرف منتقل کرتا ہے ۔ یہ از سر نو اب دنیا میں ہیں۔ اس منظر میں خود ان سے پوچھا جاتا ہے کہ انہوں نے یہ عجیب و غریب اور غیر معقول موقف کیوں اختیار کیا اور یہ کہ وہ کیا معقول وجہ ہے کہ یہ لوگ رسول امین ﷺ پر ایمان نہیں لاتے ۔ آخر وہ کیا شبہات ہیں جو ان کے دلوں میں خلجان پیدا کرے ہیں۔ اور ان کو راہ ہدایت سے روکتے ہیں وہ کیا دلائل ہیں جن کی وجہ سے وہ امراض کرتے ہیں اور اپنی مجالس میں بکواس کرتے ہیں حالانکہ دین اسلام ایک سیدھا سادھا دین حق صراط مستقیم ہے۔
Ayahs 23:68–70افلم یدبرو لنکبون (آیت نمبر 68 تا 74)
حضرت محمد ﷺ نے جو تعلیمات پیش کی ہیں اگر ان پر کوئی ذرا بھی غور کرے تو یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ ان سے منہ پھیرے کیونکہ اس کلام میں بہت ہی خوبصورتی ، بہت کی کمال ، بہت ہی جازبیت ہے۔ اس کی تعلیمات نہایت ہی فطری اور انسانی عقل و وجدان کے مطابق ہیں ۔ اس میں دل دماغ کی غذا موجود ہے ، ان کا رحجان بہت ہی تعمیری ہے۔ یہ جو نظام و قانون پیش کرتی ہیں وہ نہایت ہی مستحکم ہے ۔ ان پوری تعلیمات کو دیکھ رکر انسانی فطرت ان کو تسلیم کرتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ منکرین نے اس کلام پر تدبر ہی نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس سے منہ مورتے ہیں۔
افلم ید بر و القول (23 : 8 6) تو کیا انہوں نے کبھی اس کلام پر غور نہیں کیا۔
ام جاء ھم ھم الاولین (23 : 68) ” یا وہ کوئی ایسی بات لایا ہے جو کبھی ان کے اسلاف کے پاس نہ آئی تھی “۔ یا یہ بات کہ پغمبر کا بھیجنا ان کے اور ان کے آباء کی روایات میں کوئی مانوس بات نہیں ہے ۔ ان کی رویات میں بات نہیں ہے کہ کوئی رسول آئے یا ان کے سامنے کوئی کلمہ توحید جیسے افکار و نظریات پیش کرے۔ رسولوں کی تاریخ تو یہ بتاتی ہے کہ رسول پے در پے آتے ہیں اور تمام رسولوں نے یہی تعلیم دی ہے جو نبی آخر الزمان دے رہے ہیں اور ان رسولوں میں سے کئی کے بارے میں وہ معلومات بھی رکھتے ہیں۔
ام لم یعرفوا رسولھم فھم لہ منکرون (23 : 69) ” یا یہ اپنے رسول کبھی واقف نہ تھے اور اب یہ اس سے بد کتے ہیں “۔ یعنی ان کے امراض کا یہ سبب بھی نہیں ہوسکتا کہ جو رسول آیا ہے اس سے ان کی جان پہچان نہیں ہے ۔ وہ تو اس رسول کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ اس کی شخصیت کو جانتے ہیں۔ اس کے نصب کو جانتے ہیں ، وہ اس کی ذات وصفات سے اچھی طرح با خبر ہیں۔ وہ یقین سے جانتے ہیں کہ وہ صادق و امین ہیں اور رسالت سے پہلے ہی خود انہوں نے ان کو صادق وامین کے لقب سے نوازا تھا ۔
ام یقولون بہ جنۃ (23 : 70) ” یا یہ اس بات کے قائل ہیں کہ وہ مجنوں ہے “۔ ان میں سے بعض بیوقوف آپ پر یہ الزام لگاتے تھے لیکن یہ محض الزام تھا ، دل سے تو وہ بھی جانتے تھے کہ وہ عاقل اور کامل سے کیونکہ پوری زندگی میں انہوں نے اس کے حوالے سے کسی لغزش کا نہ سنا تھا۔
مذکورہ بالا شبہات میں سے کسی شبہ کی کوئی گنجائش تو نہ تھی تو پھر کیا وجہ ہے کہ یہ حق کو تسلیم نہیں کرتے ۔ اصل وجہ یہ ہے کہ ان میں سے اکثر لوگ سچائی کو ناپسند کرتے تھے کیونکہ جو سچائی آپ لائے تھے وہ ان سے وہ باطل اقدار چھین رہی تھی جن میں وہ زندگی بسر کرتے تھے جن کو وہ مقدس سمجھتے تھے اور یہ سچائی ان کی خواہشات نفس اور ان کی زندگیوں میں رچی بسی اور جمی ہوئی عادات کے خلاف تھی۔
بل جاء ھم بالحق و اکثر ھم للحق کرھون (23 : 70) بلکہ وہ حق لایا ہے اور حق ہی ان کی اکثریت کو ناگوار ہیـــ“۔ سچائی تو سچائی ہوتی ہے۔ وہ ان کی خواہشات کے ساتھ بدل نہیں سکتی۔ سچائی پر تو زمین و آسمان کا قیام ہے ۔ اس کائنات پر نافذ ہونے والا ناموس دراصل حق ہے۔ اسی ناموس اور اسی حق کے مطابق یہ کائنات اور اس کے اندر پائے جانے والی تما موجود ات چل رہی ہیں۔
ولو اتبع الحق فیھن (23 : 71) ” اور حق اگر ان کی خواہشات کے پیچھے چلتا تو زمین اور آسمان اور ان کی ساری آبادی کا نظام درہم برہم ہوجاتا۔ حق ایک ہے اور ثابت ہے۔ خواہشات تو ہر انسان کی جدا جدا ہوتی ہے ، بدلتی رہتی ہیں۔ یہ پوری کائنات حق پر چلتی ہے اور اسکی چالایک ہے۔ اس کا اصول اور ناموس نہیں بدلتا ۔ اور نہ کسی عارض خواہشات کے مطابق اس ناموس میں کوئی تبدیلی ہوتی ہے۔ اگر کائنات کا یہ نظام لوگوں کی تمنائوں اور بدلتی ہوئی خواہشات کے تابع ہوجائے اور لوگوں کی عارضی خواہشات کے پیچھے چلنے لگے تو دنیا کا یہ پورا نظام فساد پذیر ہوجائے۔ لوگوں کے حالات اور طریقے بگڑ جائیں ۔ اقدامات حیات اور حسن و فتح کے بدل جائیں۔ اگر کوئی خوش ہوتا ہے تو اقدار ہوتے ہن اور کوئی خفا ہوتا تو اقدار و پیمانے اور ہوتے۔ اسی طرح لوگوں کے پیمانے ان کی پسند ناپسند ، رغبت اور خوف ، خوشی اور غم کے مختلف حالات میں بھی بدلتے رہتے ہیں کیونکہ انسانی مزاج ایک حال میں نہیں رہتا۔ اس پر عوارض آتے رہتے ہیں جبکہ حق اپنی جگہ قائم رہتا اور یہ نظام کائنات اور اس کے مقاصد یہ تقاضا کرتے ہیں کہ ان کے نظام میں ثبات ، یکجہتی اور تسلسل قائم رہے اور نہایت ہی پختہ اور قابل تغیر ضوابط کے مطابق یہ کائنات چلے اور تغیرات اور بےیقینی سے اس کا نظام پاک ہو۔
اس کائنات کا نظام چونکہ حق پر ہے اور اس کو حق کے مطابق ہی چلایا جا رہا ہے ۔ چناچہ انسانی زندگی کو چلانے کے لیے بھی اللہ نے ایک سچائی پر مشتمل ضابطہ مقرر کردیا گیا ہے ۔ یہ ضابطہ بھی اس ذات نے مقرر کیا ہے جو اس پوری کائنات کو چلارہی ہے۔ جس طرح کائنات کا ضابطہ اٹل ہے اسی طرح یہ انسانی ضابطہ بھی اٹل ہے کیونکہ انسان بھی کائنات کا ایک جز ہے تاکہ انسانی طرز عمل اور اس کائنات کی رفتار کے درمیان ہم آہنگی ہو۔ اس لیے حق کا تقاضا یہ ہے کہ اس کائنات کا شارع ہی انسانی ضابطہ حیات کا شارع اور مصنف ہو تاکہ انسان کی چلت کائنات کی چلت کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔ اگر انسانوں کی زندگی کی ضابطہ بندی ان کی خواہشات پر چھوڑدی جائے تو انسانوں کی زندگی کا نظام فسا پذیر ہوجائے گا اور اس میں خلل واقع ہوجائے گا۔
Ayah 23:71ولو اتبع فیھن (23 : 71) ” اور حق کہیں ان کی خواہشات کے پیچھے تو زمین و آسمان اور ساری آبادی کا نظام درہم برہم ہوجا تا “۔ لہذا یہ نظام کلی طور پر حق کے تابع ہے حق کا مطیع فرمان ہے اور مدبر کائنات کی حیثیت کے مطابق چل رہا ہے ۔
یہ امت کے پاس یہ حق آیا ہے ‘ اس بات کی زیادہ مستحق ہے کہ وہ اس مطیع ہوجائے۔ ایک تو یہ کہ یہ ایک حق کی بات ہے ، دوسرے یہ کہ اس امت کے لیے یہ بہت بڑی اعزاز بھی ہے پھر یہ سچائی اس امت کی شناخت بھی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام نہ ہوتا تو اقوام عالم میں عربوں کی اور کیا شناخت ہوتی اور اسلام نہ ہوتا تو مسلمان ہوتے کہاں ؟
اسلام سے قبل تاریخ اقوام میں عربوں کا کوئی ذکر نہ تھا اور نہ ہی ان کا کوئی کردار تھا۔ پھر جب تک عرب قرآن کا دامن تھامے رہے ان کی آواز پوری کائنات میں گونج رہی تھی اور جب عربوں نے قرآن کو چھوڑا تو تاریخ میں ان کا کردار بھی گھٹتا گیا اور مٹتا گیا حتی کہ وہ قابل ذکر نہ ہی رہے اور نہ آئندہ کبھی وہ کوئی مقام حاصل کرسکتے ہیں الا یہ کہ وہ اپنے اصل عنوان کو اختیار کرلیں اور اپنی اصل شناخت کو اختیار کرلیں ۔ چونکہ ان لوگوں کو دعوت حق دی گئی اور نہوں نے اس کا انکار کیا اور الٹا داعی حق پر الزام شروع کردیا اور غلط موقف اختیار کیا تو اس مضمون کی منا سبت سے اب روئے سخن ان کے اس غلط موقف کی طرف پھرجاتا ہے ۔ ان کے اس غلط رویے کی مذمت کی جاتی ہے اور وہ رسول امین پر جو الزامات لگاتے تھے ان کی تردید کی جاتی ہے۔
Ayah 23:72ام تسئلھم خرجا (23 : 72) ” کیا تو ان سے کچھ مانگ رہا ہے “ کیا اس ہدایت وتعلیم کی کوئی بھاری فیس تم مانگ رہے ہو اور وہ اس کی ادائیگی کی استطاعت نہیں رکھتے اور اس سے بھاگ رہے ہیں۔ تم تو ان سے کچھ بھی طلب نہیں کرتے ہو کیونکہ تمہارا اجر تو اللہ ہے۔
فخراج ربک خیر وھو خیر الرزقین (23 : 72) ” تیرے لیے تو رب یکا دیا بہتر ہے اور وہ بہترین رازق ہے “۔ کوئی نبی لوگوں سے کسی معاوضے کا طلبگار نہیں ہوتا جبکہ انسان بہت ہی ضیعف ، فقیر اور محتاج ہوتے ہیں ۔ نبی تو اللہ سے متصل اور مربوط ہوتا ہے جس کے خزانوں میں کوئی کمی نہیں ہے بلکہ نبی کے معبین بھی اس دنیا کے مفادات میں سے کسی مفاد کے طلبگار نہیں ہوتے کیونکہ ان کی نظریں بھی اس اجر پر ہوتی ہیں جو اللہ کے ہاں ان کے لیے تیار ہے اور دنیا میں تو قلیل ہو یا کثیر ہو ، وہ اس پر راضی ہوتے ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ جب انسان کی روح اللہ سے مل جائے تو اس کے لیے پھر یہ کام پوری کائنات اور پر کہ کے برابر نہیں رہتی۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ آپ تو ان لوگوں کی رہنمائی اس نظام کی طرف کررہے ہیں جو نہایت ہی مستخکم ہے۔
Ayah 23:73وانک لتد عو ھم الی صراط مستقیم (23 : 73) ” اور تو ‘ تو ان کو سیدھے راستے کی طرف بلا رہا ہے “۔ آپ ان کو اس ناموس فطرت بلا رہے ہیں اور ان کو اس قافلہ کے ساتھ ہم آہنگ کررہے ہیں اور سیدھا خالق کائنات کی طرف لے جارہے ہیں۔
ان لوگوں کی حالت بی ایسی ہے جس طرح ان تمام لوگوں کی ہوتی ہے جو ایمان نہیں لاتے اور راہ راست سے بھٹک جاتے ہیں۔
Ayah 23:74وان الذین لا یومنون بالا خرۃ عن الصراط لنکبون (23 : 73) ” مگر جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے وہ راہ راست سے ہٹ کر چلنا چاہتے ہیں “۔ اگر یہ ہدایت پر ہوتے تو وہ اپنے دل دماغ اس زندگی پر غور کرتے ، جس کے نتیجے میں انسانی حتمی طور پر آخرت پر ایمان لاتا ہے۔ ایک ایسے جہان کا وہ ضرور قائل ہوجاتا ہے جس میں یہ زندگی اپنی نہایت ہی مکمل حالت میں ہوگی اور جس کے اندر لوگوں کے ساتھ مکمل انصاف ہوگا کیونکہ آخرت ناموس کائنات کا ایک آخری حلقہ ہے جس میں اللہ کی تدبیر کائنات اپنے اختتام کو پہنچے گی ۔
یہ لوگ جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے ، جو رراہ راست سے ہٹے ہوئے ہیں اگر ان کو بہت دولت دی جائے اور آزمایا جائے تو بھی وہ راہ راست پر نہیں آتے اور اگر ان کو مشکلات سے دو چار کر کے آزمایا جائے تو بھ راہ راست پر نہیں آتے۔ اگر ان کو نعمت سے نوازا جائے تو کہتے ہیں۔
انما نمدھم بہ من مال وبنین (55) نسارع لھم فی الخیرات (23 : 56) ” یہ جو ہم نے انہیں مال اور اولاد دے کر امداد کی ہے وہ اس لیے کہ ہم ان کے لیے بھلائی میں جلدی کرنے والے ہیں “۔ اور اگر ان پر عذاب آجائے تو بھی ان کے دل نرم نہیں ہوتے ، ان کے ضمیر نہیں جاگتے اور اس مصیبت کو دور کرنے کے لیے اللہ کے سامنے عاجزی نہیں کرتے کہ وہ ان کی اس مصیبت کو دور کرے۔ یہ اسی طرح رہیں گے یہاں تک کہ قیامت کے دن ان کو عذاب الہی آلے اور وہاں مایوس اور حیران رہ جائیں ۔
Ayahs 23:75–77ولو رحمنہم مبلسون (آیت نمبر 75 تا 77) ” ۔ ۔ “۔
یہ ہے بعض لوگوں کا مستقبل رویہ۔ یہ سخت دل لوگ ہوتے ہیں ۔ اللہ سے غافل ہوتے ہیں ، آخرت کی تکذیب کرتے ہیں ۔ مشرکین مکہ اسیے ہی لوگوں سے تھے جن سے حضور اکرم ﷺ کو سابقہ تھا۔
اگر کسی پر مصیبت آجائے اور وہ اللہ کے سامنے عاجزی اور تضرع کرنے لگے تو یہ رجوع الی اللہ کی دلیل ہوتا ہے ۔ یہ اس بات کی دلیل ہوتا ہے کہ ایسے شخص کے دل میں خدا کا شعور ہے اور یہ تصور بھی ہے کہ آخری سارا اللہ ہے۔ جو دل اس طرح اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے وہ نرم ہوتا ہے ، بیدار ہوتا ہے اور نصیحت اس کو فائدہ دیتی ہے ۔ یہ احساس انسان کو غفلت اور لغزش سے بچاتا ہے ۔ اسیے ہی لوگ مصائب اور مشکلات سے فائدہ اور نصیحت حاصل کرتے ہیں ۔ لیکن جب کو ئی اپنی گمراہی اور سرکشی میں بہت آگے چلا جائے اور اندھا ہوجائے تو اس شخص سے مایوس ہوجا نا چاہیے ۔ اس کی اصلاح کی پھر کوئی امید نہیں رہتی۔ اسے چھوڑ دیا جائے کہ وہ عذاب آخرت کا شکار ہو اور یہ آخرت بہت ہی اچانک ہوگی۔ اچانک ہر کسی کے سامنے آجائے گی اور تمام لوگ اس وقت حیران و پریشان ہوں گے اور اس بات سے مایوس ہوں گے کہ اب ہر کوئی خلاصی ممکن ہے۔
ایک بار پھر ان کے شعور اور وجدان کو جگانے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ النفس و آفاق میں دلائل ایمان کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے ۔ ایسے امور کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے جو پیش یا افتادہ ہیں۔
Ayah 23:78و ھو الذی تعقلون (78 تا 80) ”
انسان اگر اپنی تخلیق اور اپنی شکل و صورت ہی غور کرے ، اور اپنے مفاد اعضاء وجوارح پر غور کرے ، اپنے حواس اور اپنی پہچننا کوئی مشکل امر نہیں ہے۔ ان عجیب امور پر غور کرکے وہ خالق کائنات کی معرفت حاصل کرسکتا ہے کیونکہ اللہ کے علاوہ کون ہے جس نے یہ معجزے دکھائے ہیں ۔ اس کائنات میں بیشمار عجوبے ہیں ، چھوٹے بھی ہیں اور بڑے بھی۔
ذرا انسان صرف اپنی قوت سماعت ہی پر غور کرے۔ یہ قوت کس طرح کام کرتی ہے۔ کس طرح یہ آوازوں کو وصول کرتی ہے اور آوازوں سے معانی اخذ کرتی ہے۔ ذرا قوت باصرہ پر غور کرے۔ انسان کس طرح دیکھتا ہے۔ کس طرح آنکھ روشنی کو لیتی ہے اور تصاویر دیکھتی ہے ۔ پھر انسان کا دماغ اور اس کا ادراک ، اشیاء اور شکر کی قدرو قیمت کا تعین کرتا ہے ۔ مفہوم اور پیمانوں کا تعین کرتا ہے۔ غرض تمام مشاعر و مدرکات اور محسوسات پر اگر غور کیا جائے تو ہر ایک اعجوبہ ہے۔
صرف حواس خمسہ اور ان کے کام کرنے کے طریقے پر ہی اگر غور کیا جائے تو عالم بشریت کے اندر یہ ایک عظیم معجزہ ہے ۔ رہی ان قوتوں کی تخلیق اور پھر موجودہ انداز اور شکل و صورت پر ایمان کی ساخت اور پھر اس پوری کائنات کے ساتھ ان کی ہم اہنگی ، کہ اگر اس کائنات کی قوتوں اور انسانی قوتوں میں جو نسبتیں پائی جاتی ہیں ان میں سے ایک نسبت بھی اگر غائب ہوجائے تو پورا نظام ہی بگڑ جائے ، کان سن نہ سکے ، آنکھ دیکھ نہ سکے لیکن اللہ تعالیٰ کی قدرت مدبرہ نے ان کو ایسا بنا یا ہے۔ لیکن انسان ایسا نا شکرا ہے کہ وہ اللہ کے ان انعامات پر غور ہی نہیں کرتے۔
قلیلا ما تشکروں (23 : 78) ” تم میں سے کم لوگ ایسے ہیں جو شکر کرتے ہیں “ ۔ شکر تب ہی ہو سکتا ہے کہ انسان کسی نعمت کے بخشنے والے کے بارے میں جانتا ہو ۔ اس کی ذات وصفات کو جانتا ہو۔ پھر وہ اللہ وحدہ کی عبادت اور بندگی بھی کرتا ہو اور پھر وہ یہ بات بھی جانتا ہو کہ یہ قوتیں انسان کو اسی ذات و الاصفات نے دی ہیں جن کے ذریعے وہ اس کرہ ارض پر عیش و عشرت سے ہمکنار ہے اور ہر چیز استفادہ کررہا ہے۔
Ayah 23:79وھو الذی ذراکم فی الارض (23 : 79) ” وہی ہے جس نے تمہیں زمین میں پھلایا اور اس زمین پر اپنی طرف سے خلیفہ اور مختار بنایا۔ اور پھر تمہیں اس نے دیکھنے اور سننے کی قوت دی ، سوچنے کی قوت دی اور تمام دوسری صلاحتیں دیں جو یہاں فریضہ خلافت ارضی کی ادائیگی کے لیے ضروری تھیں ۔
والیہ تحشرون (23 : 79) ” اور اسی کی طرف سمیٹے جائو گے “۔ پھر وہاں وہ تم سے سے حساب و کتاب لے گا تم نے زمین پر فریضہ خلافت اللہ کی ہدایات کے مطابق ادا کیا یا نہیں۔ اچھے کا کیے یا برے کا کیے۔ ہدایت پر رہے یا ضلالت کی راہ اختیار کی ۔ کیونکہ تم کو عبث پیدا نہیں کیا گیا۔ اور نہ ہی اس زمین پر تمہیں شتر ہے مہار پیدا کرکے چھوڑ دیا گیا ہے۔ بلکہ تمہاری تخلیق ایک حکمت اور تدبیر کے تحت ہوئی ہے۔
Ayah 23:80وھو الذی یحی و یمیت (23 : 80) ” وہی ہے جو زندگی دیتا اور موت دیتا ہے “۔ موت اور حیات ایسے واقعات ہیں جو رات اور دن نمو دار ہوتے رہتے ہیں ۔ موت حیات کا مالک صرف اللہ ہے۔ انسان جو زیادہ ترقی یافتہ حیوان ہے اس بات پر قدرت نہیں رکھتا کہ زندگی پیدا کرسکے اور انسان کسی زندہ مخلوق سے زندگی چھین بھی سکتا۔ کیونکہ تم کو عبث پیدا نہیں کیا گیا۔ اور نہ ہی اس زمین پر تمہیں شتر بےمہار پیدا کرکے چھوڑ دیا گیا ہے ۔ بلکہ تمہاری تخلیق ایک حکمت اور تدبیر کے تحت ہوئی ہے۔
وھو الذی یحی و یمیت (23 : 80) ” وہی ہے جو زندگی دیتا اور موت دیتا ہے “۔ موت اور حیات ایسے واقعات ہیں جو رات اور دن نمودار ہوتے رہتے ہیں ۔ موت وحیات کا مالک صرف اللہ ہے۔ انسان جو زیادہ ترقی یافتہ ہیں جو رات اور دن نمودار ہوتے ہیں ۔ موت وحیات کا مالک صرف اللہ ہے۔ انسان جو زیادہ ترقی یافتہ حیوان ہے اس بات پر قدرت نہیں رکھتا کہ زندگی کا ایک خلیہ پیدا کرسکے اور انسان کسی زندہ مخلوق سے زندگی چھین بھی نہیں سکتا۔ کیونکہ جو ذات حیات عطا کرتی ہے وہی اس کی حقیقت کو جانتی ہے ۔ یہ اس ذات کی قدرت میں ہے کہ وہ زندگی بخشنے اور زندگی واپس لے۔ انسان کبھی اس بات کا سبب بن جاتا ہے کہ کسی زندگی چھن جائے لیکن در حقیقت انسان کسی سے اس کی زندگی چھین نہیں سکتا۔ حقیقت میں حیات و ممات اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ اس کے سوا کوئی بھی حیات و ممات کا وا اکدار ـ” مختار “ نہیں ہے۔
ولہ اختلاف الیل والنھار افلا تعقلون (23 : 80) ” گردش لیل و نہار کے قبضہ قدرت میں ہے “۔ وہی اس کا مالک ہے اور وہی اس کا مالک ہے اور وہی اس میں متصرف ہے ، جس طرح موت وحیات کا مالک وہی ہے۔ گردش لیل و نہار بھی ایک کائناتی سنت الہیہ ہے جس طرح موت وحیات کی کارکردگی اللہ کی سنت کے مطابق ہے ۔ وہ نفس انسانی ، جسم انسانی ، یہ کائنات اور یہ افلاک سب کے سب اسی سنت کے مطابق چل رہے ہیں۔ اگر اللہ کسی کے جسم سے حیات نکال دے تو اس کا جسم ٹھندا ہوجاتا ہے۔ اسی طرح اگر اللہ زمین سے روشنی واپس لے لے تو یہ تاریک رہ جائے ۔ یہاں اللہ نے زندگی پیدا کی اور روشنی پیدا کی اور ان دونوں سے زندگی کی گاڑی رواں دواں ہے ۔ اور یہ اس وقت تک چلتی رہے گی جب تک اللہ چاہے گا۔
افلا تعقلون (23 : 80) ” کیا تم عقل نہیں رکھتے “۔ کہ تم ان چیزوں کی حقیقت کو سمجھ سکو۔ یہ سب چیزیں تو وجود باری اور صنعت بار کے شواہد ہیں کہ وہ خالق و مدبر ہے اور وہ اس پوری کائنات کا چلا رہا ہے۔
Ayahs 23:81–82اب ان کے ساتھ سلسلہ کلام ختم کرکے اس پر ایک مثبت تبصرہ کیا جاتا ہے کہ بعث بعد الموت اور حساب و کتاب کے بارے میں ان لوگوں کے جو اقوال ہیں ایسے ہی مقولات سابقہ لوگوں کے بھی رہے ہیں ۔
بل قالو مثل اساطیر الا ولین (آیت نمبر 81 تا 82)
بادی النظر میں یہ بات نہایت مکروہ ہے ، اس لیے کہ ان آیات بینات اور ان دلائل اور دلائل کائنات کے باوجود لوگ جو ایسی باتیں کرتے ہیں وہ مکروہ باتیں ہیں۔ خود انسانی قوتیں ، انسان کی قوت سماعت ، اس کی قوت بینائی اور اس کی قوت غور و فکر اسے اس لیے دی گئی ہیں کہ وہ ایک ذمہ دار اور مسئول ہستی ہے ۔ وہ اپنے اعمال و افکار کے بارے میں ذمہ دار ہے۔ اگر وہ اچھے کام کرے گا تو اس کی جزاء کا مستحق ہوگا اور اگر برے کام کرے گا تو سزا کا مستحق ہوگا۔ دنیا میں صاف نظر آتا ہے کہ بعض اوقات انسان کو وہ جزاء ملتی ہے جس کا وہ مستحق ہوتا ہے اور بعض اوقات وہ سزا نہیں ملتی جس کا وہ سزا وار ہوتا ہے لہذا آخرت کا برپا ہونا عقلاً بھی لابدی ہے ۔
اللہ ہر وقت مارتا بھی رہتا ہے اور زندگی بھی عطا کرتا رہتا ہے ۔ اللہ کے لیے کوئی مشکل مسئلہ نہیں ہے کہ وہ دوبارہ کس طرح اٹھائے گا جبکہ اللہ ہر وقت مختلف چیزوں کو حیات دیتا رہتا ہے اور زندگی کا سیل رواں اس زمین پر جاری ہے۔
رہے اہل کفر تو نہ صرف یہ کہ ان کے قوائے مدرکہ بعث بعد الموت کا ادراک نہیں کرسکے اور اس میں پائے جانے والی اللہ کی حکمت کو سمجھ نہیں سکے بلکہ وہ اس عقیدے کے ساتھ مذاق کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمارے آباء و اجداد کو بھی قیام سے ڈریا جاتا رہے ہے لیکن ابھی تک تو یہ قیامت آئی نہیں ہے۔
Ayah 23:83لقد الا ولین (23 : 83) ” ہم نے یہ بھی وعدے بہت سنے ہیں اور ہم سے پلے باپ دادا بھی سنتے رہے ہیں ۔ یہ محض افسانہ ہائے پارینہ ہیں ــ“۔ لیکن بعث بعد الموت کے لیے تو ایک وقت مقرر ہے۔ یہ اللہ نے اپنی تدبیر اور اپنی حکمت سے مقرر کیا ہے۔ اس میں کوئی تقدیم و تاخیر نہیں ہوسکتی۔ یہ گھڑی وقت سے قبل نہیں آسکتی الا یہ کہ اللہ چاہے ، اگر چہ تمام مخلوق اس کا مطالبہ کردے یا غافلین کا کائی گروہ اس نظریہ سے مذاق ہی کرتا رہے۔
مشرکین عرب کے عقائد میں بڑا ہی اضطراب تھا۔ وہ اللہ کے وجود کا انکار نہ کرتے تھے۔ وہ اس بات کا انکار بھی نہ کرتے تھے کہ اللہ مالک سماوات والارض ہے۔ وہ مدبر سماوات ہے اور زمین اور آسمانوں کو تھامنے والا ہی ہے ۔ لیکن اس کے باوجود وہ دوسرے الہوں کو اللہ کے ساتھ شریک کرتے تھے۔ اور ان کا نظریہ یہ تھا کہ دوسرے الہوں کی بندگی وہ اس لیے کرتے ہیں کہ وہ انہیں اللہ کے قریب کرتے ہیں ۔ پھر وہ اللہ کی طرف بیٹیوں کی نسبت کرتے تھے حالانکہ اللہ ان باتوں سے پاک ہے جو یہ لوگ اللہ کی طرف نسبت کرتے تھے۔
یہاں اللہ تعالیٰ ان کے مسلمہ عقائد کا ذکر کے ان پر گرفت کرتے ہیں تاکہ ان کے عقائد کے اندر اضطراب پایا جاتا ہے ، اسے دور کردیا جائے اور انہیں اس عقیدہ توحید کی طرف لایا جائے جس کی طرف ان کے مسلمہ عقائد بھی راہنمائی کرتے ہیں بشرطیکہ وہ اپنی فطرت پر قائم ہوں اور انحراف نہ کریں۔
Ayahs 23:84–89قل لمن تسحرون (آیت نمبر 84 تا 89) ’ “۔
ان کے عقائد کے اندر جو اضطراب تھا وہ کسی عقلی دلیل پر مبنی نہ تھا نہ کسی منطق کا تقا ضا تھا۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جزیرہ العرب کے اندر مشرکین کے عقائد اور افکار کس قدر بگڑ گئے تھے حالانکہ وہ دین ابراہیم پر ہونے کا دعویٰ کرتے تھے۔
قل لمن تعلمون (23 : 84) ” ان سے کہو ، اگر تم جانتے ہو تو زمین اور اس کی ساری آبادی کس کی ہے ؟ یعنی زمین کا مالک کون ہے اور زمین کے اندر موجود آبادی کا مالک کون ہے ؟
سیقولون للہ (23 : 85) ” یہ ضرور کہیں گے کہ اللہ مالک ہے “ لیکن اپنے عمل میں وہ اس حقیقت ملحوظ نہیں رکھتے اور پھر بھی بندگی غیر اللہ کی کرتے ہیں ۔ لہذا ان سے کہو۔
قل افلا تذکرون (23 : 85) ” پھر تم ہوش میں کیوں نہیں آتے “۔ اس حقیقت کو اپنے طرز عمل میں کیوں نہیں لاتے۔
قل من رب العظیم (23 : 86) ” ان سے پوچھو ساتوں آسمانوں اور عرش عظیم کا مالک کون ہے “۔ یہ سوال اس کائنات کی ابوہیت کے بارے میں ہے کہ آسمانوں اور عرش عظیم کا متصرف کون ہے۔ سات آسمانوں سے مراد سات افلاک بھی ہوسکتے ہیں یا سات ستاروں کے مجموعے بھی ہو سکتے ہیں ۔ یا سات آسمان بھی ہو سکتے ہیں۔ اور سات جہاں بھی ہو سکتے ہیں یا کوئی سات فلکی مخلوق بھی ہو سکتے ہیں۔ غرض دراصل یہ ہے اور کنٹرول اور اقتدار اعلیٰ کے مفہوم کی طرف یعنی کون ہے جو سات آسمانوں اور عرش عظیم کا کنٹرولر ہے ؟
سیقو لون للہ (23 : 80) ” یہ ضرور کہیں گے کہ اللہ “ لیکن اس اقرار کے باوجود یہ لوگ رب عرش عظیم سے ڈرتے نہیں ۔ نہ رب سماوات سے ڈرتے ہیں بلکہ اس کے ساتھ پھر دوسروں کو شریک بھی کرتے ہیں ۔ ایسے بتوں کو جو زمین پر گرے ہوئے ہیں ۔
قل افلا تتقون (23 : 87) ” تو پھر تم ڈرتے کیوں نہیں “۔
قل من تعملون (23 : 88) ” ان سے کہو بتائو اگر تم جانتے ہو کہ ہر چیز پر اقتدار کس کا ہے اور کون ہے جو پناہ دیتا ہے اور اس کے مقابلے میں کوئی پناہ نہیں دے سکتا ؟ ” یہ سوال قبضے ، اقتدار اعلیٰ اور بادشاہت کے بارے میں ہے ، کہ کون ہے مقتدر اعلیٰ ؟ کو ہے جو سب چیزوں کا مالک ہے اور سب پر اس کا قبضہ و اقتدار ہے ۔ کون ہے جو ہر کسی کو پناہ دے سکتا ہے اور اس کے خلاف کوئی پناہ نہیں دے سکتا۔ وہ جس کو پناہ دے اس پر کوئی ہاتھ نہیں ڈال سکتا اور جس کو وہ پکڑنا چاہے کوئی نہیں ہے جو امت اللہ کو پکڑ سے بچاسکے۔
سیقلون اللہ (23 : 89) ” تو وہ ضرور کہیں گے کہ اللہ ہی ہے ــ“ اگر تم یہ باتیں تسلیم کرتے ہو تو پھر راہ ہدایت سے کیوں پھرے جارہے ہو۔ کیا جواز ہے پھر اس گمراہی کا ؟
فانی تسحرون (23 : 89) ’ پھر کہاں سے تم دھوکہ لگتا ہے ؟ “ حالانکہ اگر تم ان مذکورہ حقائق کو جانتے ہو تو تمہیں دھوکہ نہیں لگنا چاہیے ۔ حقیقت یہ کہ ان عقائد میں اضطراب اور یہ لوگ خبط میں بتلا ہیں۔
اب مناسب وقت آگیا ہے کہ ان کے شرکیہ عقائد کی تردید کردی جائے اور اللہ کی ذات سے اولاد کی نفی کردی جائے اور یہ فیصلہ سنادیا جائے کہ حقیقی عقائد وہی ہیں جو محمد ﷺ پیش کرتے ہیں۔
Ayahs 23:90–92بل اتینھم یشرکون (آیت نمبر 90 تا 92 ۔ ۔ یہ فیصلہ مختلف اسالیب میں آتا ہے ۔ ان کے ساتھ اس مباحثے کو ختم کردیا جاتا ہے اور یہ فیصلہ کردیا جاتا ہے کہ یہ جھوٹے ہیں۔
بل اتینھم بالحق اونھم لکذبون (23 : 90) ” جو امر حق ہے وہ ہم ان کے سامنے لے آئے ہیں اور کوئی شک نہیں ہے کہ یہ لوگ جھوٹے ہیں “۔ اس کے بعد ان کے جھوٹ کی تفصیل دی جاتی ہے
ما تخذ الہ (23 : 90) ” اللہ نے کسی کو اپنی اولاد نہیں بنایا ہے اور کوئی دوسراخدا اس کے ساتھ نہیں “۔ اور اس کے بعد پھر ان کے دعوے کے رو میں یہ دلیل دی جاتی ہے کہ ان کے عقیدئہ شرک میں کس قدر کمزوری ہے۔
اذ لذھب کل الہ بما خلق (23 : 90) ” تو ہر خدا اپنی مخلوق کو لے کر الگ ہوجاتا ہے “۔ وہ اپنی مخلوقات میں ایک مستقل خدا ہوتا اور وہ اپنی مخلوقات میں اپنے مخصوص قانون قدرت کے مطابق تصرفات کرتا ۔ اس طرح مختلف کائناتوں میں مختلف قوانین نظر آئے اور وہ یہ دوسرے خدا کے قوانین نظر آئے اور وہ دوسرے خدا کے قوانین اور سے علیحدہ نظر آتے۔ پھر تضاد کی صورت میں۔
ولعلا بعضھم علی بعض (23 : 90) ” پھر وہ ایک دوسرے پر چڑھ دوڑتے “ تضاد کی صورت میں بعض خدا بعض پر غالب ہوتے ۔ یوں آخر کا ایک ہی خدا متصرف اور مقتدر اعلیٰ رہتا اور دنیا میں آخر کا ایک ہی نظام چلتا کیونکہ ایک ملک میں دو مقتدر اعلی تو نہیں ہوسکتے۔
چونکہ کائنات میں اس قسم کا تضاد نہیں ہے ، اس کی وحدت ساخت ، اور اس کی حرکت کی یانگت اور اس کے ناموس اور قانون قدرت کی وحدت اس با کی دلیل ہے کہ اس کا مقتدر اعلیٰ ایک ہے کیونکہ اس کا ئنات کے اندر اور اس کے اجزاء کے اندر کوی تصادم نظر نہیں آتا۔ یہ کامل ہم آہنگی کے ساتھ چل رہی ہے اس لیے اس کا رب اور متصرف بھی ایک ہے ۔
سبحن اللہ عما یصفون (23 : 90) ” وہ بالا تر ہے ان باتوں سے جو یہ بناتے ہیں “۔ وہ عالم الغٰب ہے اور عالم شہادت ہے ۔ اس کے سوا کسی اور کی کوئی مخلوق نہیں ہے اس لیے اللہ پاک ہے اس شرک سے جو یہ لوگ تجویز کرتے ہیں۔
اب یہاں سے روئے سخن حضرت محمد ﷺ کی طرف پھرجاتا ہے۔ حکم دیا جاتا ہے کہ اے محمد ؐ اس بات سے اللہ کی پناہ طلب کریں کہ ایسے لوگوں کے ساتھ آپ ؐ شامل ہوجائیں اگرچہ الل نے یہ فیصلہ کردیا کہ ان لوگوں کو جو سزا ملنے والی ہے وہ اللہ آپ کو دکھائے گا ۔ بہر حال آپ شیطان کے وسوسوں سے پناہ مانگیں اور یہ لوگ جو باتیں بناتے ہیں ان پر صبر کریں ۔
Ayahs 23:93–98قل ربی ان یحضرون (آیت نمبر 92 تا 98)
جب ان لوگوں کو وہ عذاب دیا جائے گا جس کی دھمکی ان کو دی جارہی ہے تو ظاہر ہے کہ رسول اللہ ﷺ تو اس سے نجات پائیں گے لیکن پھر بھی حکم دیا جاتا ہے کہ اپنے آپ کو مزید محفوظ کرنے کے لیے دعا کرتے رہیں اور بعد کے آنے والے اہل ایمان کو بھی یہ ایک قسم کی تعلیم ہے کہ وہ اللہ کے عذاب اور شیطان کی چالوں سے مطمئن ہو کر نہ بیٹھ جائیں ۔ ہر وقت بیدار رہیں اور اللہ سے پناہ مانگتے رہیں۔
کہا جاتا ہے کہ اللہ اس بات پر قدرت رکھتا ہے کہ حیات محمد ؐ کے دوران ہی ان پر عذاب لے آئے۔
وانا علی ان لقدرون (23 : 90) ” اور یہ کہ ہم تمہاری آنکھوں کے سامنے وہ چیز لانے کی قدرت رکھتے ہیں جس کی دھمکی دے رہے ہیں “۔ اور غزوہ بدر میں اللہ نی نبی ﷺ کو اس کی ایک جھلکی دکھا بھی دی ۔ اس کے بعد فتح مکہ میں بھی ایک رنگ دکھایا گیا۔
ادفع یصفون (23 : 92) ” اے نبی ؐ ، برائی کو اس طریقے سے دفع کرو جو بہترین ہو ، جو کچھ باتیں وہ تم پر بناتے ہیں وہ ہمیں خوب معلوم ہیں “۔ اس سورة کے نزول کے وقت مکہ مکرمہ میں دعوت اسلامی کے لیے یہ منہاج اختیار کیا گیا تھا کہ برائی کا دفعیہ بھلائی کے ساتھ کیا جائے ۔ اللہ کا حکم آنے تک صبر کیا جائے اور معالات اللہ کے سپرد کردیئے جائیں۔
رسول اللہ ﷺ کی جانب سے یہ دعا کہ اے رب میں تجھ سے شیطان کی اکساہٹوں سے پناہ مانگتا ہوں ، جب کہ آپ خدا کی طرف سے حفاظت میں تھے اور معصوم تھے ، یہ بات زیادہ احتیاط اور زیادہ تقویٰ کے لیے ہے اور اللہ تعالیٰ سے زیادہ التجا اور امت کو تعلیم دینے کی خاطر ہے کیونکہ حضور ہی اپنی امت کے لیے اسوہ ہیں ۔ یہ دراصل امت کو تعلیم ہے کہ شیطان کو اکساہٹوں اور وسوسوں سے اللہ کی پناہ ہر وقت مانگتے رہو۔ بلکہ رسول اللہ ﷺ کو متوجہ کیا جاتا ہے کہ آپ ؐ شیطان کے قرب سے پناہ طلب کریں ۔ چناچہ کہا جاتا ہے۔
واعوذبک رب ان یحضرون (23 : 98) ” بلکہ میں تو اے رب ، اس سے بھی پناہ مانگتا ہوں کہ وہ میرے قریب آئیں “۔ یہ بھی احتمال ہے کہ وفات کے وقت حضور ﷺ اس بات سے پناہ مانگتے ہوں کہ شیطان اس وقت آموجود ہو۔ اس آیت کے بعد اگلی آیت جو اگلے سبق میں ہے اس طرف اشارہ بھی کرتی ہے ۔
حتی اذا جاء احدھم الموت (23 : 99) ” یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کو موت آجائے “۔ یہ قرآن کا انداز کلام ہے کہ ایک مفہوم سے دوسرامفہوم بڑی ہم آہنگی سے نکلتا چلا جاتا ہے۔
دحتی اذا۔۔۔۔۔۔۔۔ یبعثون (99 : 100) ”(یہ لوگ اپنی کرنی سے باز نہ آئیں گے) یہاں تک جب ان میں سے کسی کو موت آجائے گی تو کہنا شروع کرے گا کہ ” اے میرے رب ‘ مجھ یا سی دنیا میں واپس بھیج دیجئے جسے میں چھوڑ آیا ہوں ؟ امید ہے کہ اب میں نیک عمل کروں گا۔ ہر گز نہیں ‘ یہ تو بس ایک بات ہے جو وہ ہک رہا ہے۔ اب ان سب (مرنے والوں) کے پیچھے ایک برزخ حائل ہے دوسری زندگی کے دن تک “۔
اس آخری سبق میں بھی مشرکین کے برے انجام کی بات آگے بڑھ رہی ہے۔ اب یہ لوگ قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر میں ہیں۔ اس میں آغاز دنیا میں روح قبض کرنے کے وقت سے ہوتا ہے اور نفعع صور پر ختم ہوتا ہے۔ آخر میں سورة کے اختتام پر اصل مضمون کی طرف آتے ہوئے اس بات سے ڈرایا جاتا ہے کہ اللہ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو کیونکہ اللہ کے سوا کوئی الہٰ نہیں ہے۔ سورة کا خاتمہ اس ہدایت پر ہوتا ہے کہ خود حضور ﷺ اللہ کی مغفرت طلب فرمائیں۔
Ayah 23:99حتی اذا۔۔۔۔۔۔۔ رب ارجعون (23 : 99) لعلی اعمل۔۔۔۔۔ فیماترکت (23 : 100)
یہ منظر حالت نزع کا ہے۔ جب موت آتی ہے تو ہر شخص توبہ کرتا ہے۔ رجوع الی اللہ کرتا ہے ‘ یہ درخواست کرتا ہے کہ اے اللہ ایک موقعہ اور دیجئے ۔ ایک بار اور زندگی دیجئے تاکہ ہم ان کوتاہیوں کی تخصیح کرلیں اور جو اہل و عیال اور مال و دولت ہم نے چھوڑے ہیں ان میں تیری مرضی کا تصرف کریں۔ یہ ایک منظر ہے جسے سب دیکھ رہے ہیں اور مرنے والا یہ درخواست کررہا ہے اور جو اب بھی اعلانیہ آجاتا ہے۔
کلا انھا کلمۃ ھو قائلھا (23 : 100) ” ہر گز نہیں ‘ یہ تو بس ایک بات ہے جو وہ ہک رہا ہے “۔ یہ ایک بات ہے جو وہ کررہا ہے۔ اسکا کوئی مصداق وجود میں آنے والا نہیں ہے۔ یہ لفظ اور اس کا قائل قابل توجہ نہیں ہیں۔ یہ تو حالت خوف کی ایک چیخ ہے جو منہ سے نکل رہی ہے۔ یہ کسی اخصلاص پر مبنی نہیں ہے۔ نہ حقیقی توبہ ہے۔ مشکلات میں ہر کوئی یہ بات کرتا ہے۔ دل میں ایسی کوئی بات نہیں ہوتی نہ ارادہ ہوتا ہے۔
اب حالت نزع کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ یہ بات کہنے والے اور دنیا کے درمیان پر وہ حائل ہوجاتا ہے۔ معاملہ ختم ہوگیا۔ تعلقات ختم ہوگئے۔ دروازے بند ہوگئے اور پردے گر گئے۔
Ayah 23:100ومن ۔۔۔۔ یبعثون (23 : 100) ” “۔ برزخ یعنی پردہ حائل ہے۔ نہ وہ اہل دنیا سے ہوتے ہیں اور نہ اہل آخرت سے ہوتے ہیں۔ یہ اس برزخ کے عالم میں ہیں اور قیام قیامت تک یہ لوگ یہاں رہیں گے۔ اب سیاق کلام قیامت میں داخل ہوجاتا ہے جب کہ صور پھونکا جاتا ہے۔
Ayah 23:101فاذا۔۔۔۔۔ ولایتسآء لون (101) ۔ تمام رابطے کٹ جائیں گے۔ وہ اقدار ختم ہوجائیں گی جن کے مطابق وہ دنیا میں زندگی بسر کرتے تھے۔
فلآ۔۔۔۔۔ یومئذ (23 : 101) ” اس دن ان کے درمیان کوئی رشتہ نہ رہے گا “۔ اس قدر خوف چھا جائے گا کہ سب خاموش ہوں گے۔ چپ کھڑے ہوں گے ‘ کوئی بات ہی نہ کرے گا۔ اب یہاں نہایت سرعت اور اختصار کے ساتھ حساب و کتاب کا میزان پیش کیا جاتا ہے۔