Ayah 23:27فاوحینا مغرقون آیت نمبر (27) ”
یوں سنت الہیہ نے زندگی کی ترقی اور نشونما کی راہ سے یہ روڑا ، قوم نوح کا روڑا دور کیا۔ تاکہ اسانی زندگی شاہراہ ترقی پر آگے بڑھے ۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کے زمانے میں انسانیت کی نشو نما کا آغاز ہوا تھا ، اور آغاز کے ساتھ ہی اس میں ٹھہرائو اور جمود پیدا کیا جس طرح کسی نازک پودے کو زمین سے نکلتے ہی آفات سماوی یا اور کوئی مشکلات درپیش ہوجائیں اور وہ مرجھاجائے اور خشک ہوجائے جبکہ وہ ناتواں ہو۔ ان مشکلات کو دور کرنے کے لیے طوفان ایک بہترین علاج تھا۔ یاد رہے کہ طوفان زمین کو دھوا ڈالتا ہے اور طوفان زمین کو دھو ڈلتا ہے اور طوفان کے بعد اس زمین فصل اگتی ہے ۔ اسی طرح زمین کو قوم نوح کی گندگی سے پاک کردیا گیا تاکہ اس کہ اس کرئہ ارض پر درست زندگی کا آغاز از سر نو کیا جائے اور انسانی زندگی بحسن و خوبی شاہراہ ترقی پر گامزن ہو سکے۔
فا و حینا الیہ ان اصنع الفلک با عیننا (23 : 27) ”“ ہم نے اس پر وحی کی کہ ہماری نگرانی اور ہماری وحی کے مطابق کشتی تیار کر “۔ یہ کشتی طوفان سے نجات کا ذریعہ تھی اور پھر ان لوگوں کے بچنے کی تدبیر بھی تھی جو ایمان لاچکے تھے تاکہ آئندہ کے لیے نسل کی بقا کا سامان ہو جس طرح چیزکا بیچ محفوظ کرکے بویا جاتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی مثیت یہ تھی کہ حضرت نوح یہ کشتی اپنے ہاتھ سے تیار کریں۔ اس میں یہ سبق تھا کہ انسان نے اس زمین پر زندگی اسباب و وسائل کے مطابق گزارنی ہے اور زندگی بسر کرنے کے لیے ہر انسان نے پوری پوری جدو جہد کرنی ہے تا کہ وہ اپنے رب کی طرف سے امداد کا مستحق ہوجائے کیونکہ اللہ کی امداد صرف ان لوگوں کو ملتی ہے جو ان تھک جدو جہد کرتے ہیں ، ان کو نہیں ملتی جو ہر وقت عیش و عشرتم میں مگن رہتے ہیں اور آرام کی زندگی بسر کرتے ہیں ۔ وہ لوگ جو صرف دوسروں کا انتظار کرتے اور اس کے سوا کسی اور چیز کے لیے جدو جہد نہیں کرتے۔ حضرت نوح کے بارے میں اللہ کی اسکیم یہ تھی کہ وہ انسانوں کے آدم ثانی ہوں۔ اس لیے آپ کو یہ سبق دیا گیا کہ آپ اپنی زندگی کے لیے اسباب و وسائل خود اختیار کریں۔ اللہ کی نگرانی تمہارے شامل حال رہے گی۔ اللہ آپ کو وسائل اختیار کرنے کی تعلیم بہر حال دے رہا ہے۔ یہ کشتی تیار کریں تاکہ اس کے ذریعہ سے اللہ کی مثیت پوری ہو۔ اس کرئہ ارض کی صفائی کے اس عمل کے آغاز کے لیے اللہ نے نوح کے لیے ایک علامت مقرر فرمادی تھی۔
وو حینا فاز جاء امرنا و فار التنور (23 : 27) ” پھر جب ہمارا حکم آجائے اور وہ تنور ابل پڑے “۔ یعنی تنور سے پانی ابل پڑے تو یہ ہوگی طوفان آنے کی علامت اور تب حضرت نوح کا فرض ہوگا کہ وہ جلدی سے کشتی پر سوار ہوں اور اپنے ساتھ کشتی میں زندگی کا تخم بھی سوار کرلیں۔
فاسلک فیھا من کل زوجین ائنین (23 : 27) ” تو ہر قسم کے جانوروں میں سے ایک ایک جوڑا لے اس میں سوار ہو جائوـ“۔ یعنی تمام حیوانات ، تمام پرندے نباتات وغیرہ سے جو اس وقت انسان کو معلوم تھے اور جن سے بنی نوع انسان استفادہ کرتا تھا۔
واھلک الا من سبق علیہ القول منھم (23 : 27) ” اور اپنے اہل و عیال کو بھی ساتھ لے سوائے ان کے جن کے خلاف پہلے ہی فیصلہ ہو چکاہیـ“۔ اور یہ فیصلہ ان لوگوں کے بارے میں تھا جنہوں نے کفر کیا تھا اور حضرت نوح کی تکذیب کی تھی۔ اور ان کے بارے میں فیصلہ ہوچکا تھا کہ ان کو ہلاک کردیا جائے کیونکہ انہوں نے اللہ کی آیات کی تکذیب کی تھی اور مکذبین کے بارے میں یہ اللہ کی سنت ہے کہ انہیں ہلاک کردیا جاتا ہے۔
حضرت نوح (علیہ السلام) کو آخری حکم دیا گیا کہ وہ اب ان لوگوں کے ساتھ کوئی مباحثہ اور مجادلہ نہ کریں اور نہ کسی کو بچانے کی کوشش کریں اگر چہ ان میں سے کوئی قریبی رشتہ دار ہو کیونکہ اللہ نے سب کافروں کی ہلاکت کا فیصلہ کرلیا ہے۔
والا تخاطبنی فی الذین ظلموا انھم مغرقون (23 : 27) ” اور ظالموں کے بارے میں مجھ سے نہ کہنا ، یہ اب غرق ہونے والے ہیں “۔ کیونکہ اللہ کی سنت کسی دوست یا رشتہ دار کی رد رعایت نہیں کرتی۔ اس کی راہ بالکل سیدھی ہے ۔ اس میں کوئی ٹیڑھ نہیں ہے۔
اس کے بعد جو کچھ ہوا اس کی تفصیلات یہاں نہیں دی جاتیں کیونکہ یہ کہہ دیا گیا کہ یہ سب کے سب غرق ہونے ہونے والے ہیں ۔ اب حضرت نوح کو بتایا جاتا ہے کہ وہ اللہ کے انعامات پر شکر کس طرح ادا کریں گے کس طرح اللہ کی حمد پڑھیں گے اور کس طرح اللہ سے ہدایت کے طلبار گار ہوں گے۔
Ayahs 23:28–29فاذ المننزلین 28) تا (29
اس طرح آپ اللہ کی حمد کریں ، اللہ کی طرف متوجہ ہوں ، اللہ کی صفات بیان کریں اور نشانات اہلیہ کا اعتراف سیکھیں اور سکھائیں ۔ یہ ہے اللہ کی تعلیم اپنے بندوں کے لیے۔ اللہ پہلے نبیوں کو سکھاتا ہے اور عوام الناس کو تعلیم دیتے ہیں اور یہ نبی ہمیشہ عوام کے لیے نمونہ بن جاتے ہیں۔
اب اس پورے قصے ، پر ایک تبصرہ کیا جاتا ہے تاکہ اس قصے کے مختلف مراحل میں جو سبق ہے اور جو حکمتیں ہیں انسان ان پر غور کریں۔
Ayah 23:30ان …. لمبتلین (آیت نمبر) ابتداء بہت سی قسمیں ہیں ، بعض آزمائشیں صبر کے لیے ہیں بعض آزمائشیں شکر کے لیے ہوتی ہیں۔ بعض آزمائشیں اجر کے لیے ہوتی ہے ۔ قصہ نوح میں آنے والوں کے لیے ہر قسم کی آزمائش اور نصیحت ہے۔
اب ایک دوسری رسالت کا منظر اور تکذیب کے نتائج جبکہ دعوت بھی ایک ہے اور رسالت بھی دی ہے۔
Ayahs 23:31–41ثم انشانا ۔۔۔۔ للقوم الطلمین (آیات نمبر 31 تا 41)
اس سورة میں قصص نہ محض قصہ گوئی کے لیے لائے گئے ہیں اور نہ ان کی تفصیلات دی گئی ہیں ، بلکہ یہاں مقصد یہ بتا تا ہے کہ تمام پغمبروں نے ایک ہی دعوت پیش کی اور تمام رسولون کی اقوام نے ان کے ساتھ ایک ہی جیسا سلوک کیا۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں بات کی ابتداء حضرت نوح (علیہ السلام) کے قصے سے کی گئی اور انجام حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) پر ہوا۔ جبکہ خطاب رسول آخر زمان کو تھا۔ رسولوں کے طویل سلسلے کے نام یہاں نہیں دیئے گئے کیونکہ تمام رسولوں کا معاملہ دراصل ایک ہی جیسا تھا ، مقصد یہ تھا کہ ان کا کلمہ ایک ہی تھا ، ان کی دعوت ایک تھی اور اس کے ساتھ عوام کا سلوک بھی ایک ہی تھا ، یہی تھا اس سورة کا مقصد۔
ثم انشانا من بعدھم قرنا اخرین (23 : 31) ” اس کے بعد ہم نے دوسرے دور کی قوم اٹھائی “۔ یہاں یہ نہیں بتایا گیا کہ کہ قوم کون تھی۔ راجح قول یہ ہے کہ یہ حضرت ہود (علیہ السلام) کی قوم تھی۔
فارسلنا تتقون (23 : 32) ” پھر ان میں خود انہی کی قوم کا ایک رسول بھیجا ( جس نے انہیں دعوت دی ) کہ صرف اللہ کی بندگی کرو تمہارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے کیا تم ڈرتے نہیں ہو ؟ “ یہ بھی وہی دعوت ہے جو حضرت نوح (علیہ السلام) نے پیش کی تھی اور الفاظ بھی ایک ہی ہیں۔ حلان کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی زبان اور تھی اور زیر بحث رسول کی زبان اور تھی کیونکہ ان دونوں رسولون کے درمیان ــ” قروم “ کا فرق تھا۔
اس قوم کا جواب کیا تھا ؟ وہی جواب یعنی انکار و قال الملا من قومه الذين کفروا و کذبوا بلقاء الاخرة و اترفنهم في الحيوة الدنيا ما هذا الا بشر مثلکم ياکل مما تاکلون منه و يشرب مما تشربون (23 ؛ 33) ولئن لخسرون (23 : 34) اس کی قوم کے جن سرداروں نے ماننے سے انکار کیا اور آخرت کی پیشی کو جھٹلایا ، جن کو ہم نے دنیا کی زندگی میں آسودہ کر رکھا تھا وہ کہنے لگے ــ” یہ شخص کچھ نہیں ہے ، مگر ایک بشر تم ہی جیسا ، جو کچھ تم کھاتے ہو ، یہی وہ کھاتا ہے اور جو کچھ تم پیتے ہو ، وہی یہ پیتا ہے۔ اب اگر تم اپنے ہی جیسے ایک بشر کی اطاعت قبول کرلی تو تم گھاٹے ہی میں رہے “۔
یہ وہی اعتراض ہے جو تمام امتوں نے پیش کیا کہ یہ رسول تو تم جیسا بشر ہے۔ یہ اعتراض اس لیے پیدا ہوا کہ کسی بھی معاشرے کے کھانے پیتے لوگوں کا تعلق خدا سے نہیں رہتا ، اس لیے وہ نہیں سمجھ سکتے کہ ایک انسان کا تعلق خدا سے کیسے قائم ہو سکتا ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ معاشی خوشحالی انسان کی فطرت کو بگاڑ دیتی ہے دماغ موٹا کردیتی ہے۔ دل کے دروازے بند کردیتی ہے ۔ اور عیاش لوگوں کے دل پتھر بن جاتے ہیں۔ ان کے اندر احساس نہیں رہتا۔ اس لیے وہ کسی بات سے متاثر ہوتے ہیں اور نہ مان کردیتے ہیں ۔ یہ وجہ ہے کہ خوشحال لوگ ہمیشہ تحریک اسلامی کی مخالفت کرتے ہیں اور اس لیے اسلام عیاشی کی مخالفت کرتا ہے اور اپنا اجتماعی نظام اس طرح تشکیل دیتا ہے جس میں مترفین کے لیے کوئی گنجائش نہیں رہتی ، کیونکہ یہ لوگ معاشرے کی سراند ہورتے ہیں ، پورے ماحول کو متفعن کردیتے ہیں اور معاشرے کو اس قدر گندا کردیتے ہیں کہ اس کے اندر گندے کیڑے پیدا ہوجاتے ہیں اور ایسے معاشرے کو بالاخر یہ گندے کیڑے چاٹ جاتے ہیں ۔
اس پر مستزاد یہ کہ وہ بعث بعد الموت کے قائل نہیں تھے وہ کہتے تھے کہ موت کے بعد اور مٹی ہوجانے کے بعد انسانوں کو کس طرح اٹھایا جائے گا۔ یہ تو بعید از امکان ہے اور جس بات کی اطلاع یہ رسول دے رہا ہے ، یہ عجیب ہے۔
ابعد مخرجون (23 : 35) ھیات توعدون (23 : 36) ان ھی بمبعوثین (23 : 37) ” یہ تمہیں اطلاع دیتا ہے کہ جب تم مرکر مٹی ہو جائو گے اور ہڈیوں کا پنجر بن کر رہ جائو گے اس وقت تم (قبروں سے) نکالے جائو گے ؟ بعید ، بالکل بعید ہے یہ وعدہ جو تم سے کیا جارہا ہے ، زندگی کچھ نہیں ہے مگر بس یہی ہم کو مرنا اور جینا ہے اور ہم ہر گز اٹھائے جانے والے نہیں ہیں ۔ یہ شخص خدا کے نام پر محض جھوٹ گھڑرہا ہے اور ہم کبھی اس کے ماننے وانے نہیں ہیں “۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم سوچ رکھنے والے لوگ آخرت کی زندگی کی حقیقت کو نہیں سمجھ سکتے۔ زندگی کے گہرے حقائق پر نہ ہو انہوں نے غور کیا ہے اور نہ اس کے پچیدہ نظام کی کوشش کی ہے اور نہ یہ لوگ ایک اعلیٰ اور ارفع زندگی کی ترجیحات کو سمجھتے ہیں ۔ زندگی کے یہ اعلیٰ مقاصد ہے کہ اس دنیا میں پورے نہیں ہوسکتے۔ اس دنیا میں نہ بھلائی کو اس پوری جزا ملتی ہے اور نہ شر کو اس کی پور سز املتی ہے ۔ یہ جزا و سزا آخرت میں مکمل طور پر ملیں گی۔ آخرت میں اہل ایمان اعلیٰ ترین معیاری زندگی تک پہنچیں گے جہاں نہ خوف ہوگا اور نہ تھکاوٹ ہوگی ۔ اسی طرح اہل کفر اور پسمانگی اختیار کرنے والے بھی نہایت ہی ذلیل ترین زندگی تک پہنچیں گے جس میں ان کی انسانیت تباہ ہوگی اور وہ وہاں لکڑیوں کی طرح جلتے اور جلائے جاتے رہیں گے ۔ نہ ان کے لیے اس سزا میں کمی ہوگی اور نہ اہل ایمان کے لیے جزاء میں کمی ہوگی ۔
اس قسم کے مترفین ان اعلیٰ مقاصد اور ایسے گہرے معانی کو سمجھ ہی نہیں سکتے۔ تعجب ہے کہ یہ لوگ خود اپنی اس موجودہ زندگی کے مختلف ادوار اور مراحل پر غور نہیں کرتے جو ابھی ابھی اسی سورة میں ان کے سامنے رکھے گئے ہیں ۔ یہ اس عجیب و غریب خود کار نظام تخلیق سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کرسکتے۔ اسی نظام جیسے ایک خود کار نظام کے ذریعے اللہ مٹی اور ہڈیوں کے پنجر کو پھر زندہ کردے گا۔ اس لیے ان کو اس رسول کی اس اطلاع پر تعجب ہوتا ہے کہ ان کو قبروں سے نکا لا جائے گا۔ اب وہ نہایت ہی کبرو غرور سے اپنی حکمت و دانائی کا اظہار کرتے ہیں کہ یہی زندگی اور یہی موت ہے۔ ایک نسل مرتی ہے اور دوسری نسل زندہ رہتی ہے ۔ جو مر گئے اور مٹی بن گئے اور ہڈیاں رہ گئے تو یہ بات بعید از امکان ہے وہ دوبارہ واپس ہوجائیں گے۔ یہ اطلاع جو یہ رسول دے رہا یہ اور ہم سے دوبارہ اٹھائے جانے کا وعدہ کر رہا ہے بعید از امکان ہے۔
یہ لوگ اپنی اس جہالت پر ہی نیں رکتے کہ یہ بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی کہ موت کے بعد دوبارہ اٹھایا جائے گا بلکہ یہ اس سے بھی آگے بڑھ کر اپنے رسول پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ یہ رسول اپنی جانب سے اللہ پر افتراء باندھتا ہے حالانکہ وہ اللہ کو جانتے ہی نہیں ۔ وہ صرف اس وقت اللہ کا نام لے رہے ہیں اور یہ نام بھی اس لیے لے رہے ہیں کہ رسول پر الزام لگائیں۔
ان ھو بمومنین (23 : 38) ” یہ شخص خدا کے نام پر جھوٹ گھڑتا رہا ہے اور ہم کبھی اس کی بات ماننے واہے نہیں ہیں “ ایسے حالات میں یہ رسول ﷺ اس کے سوا اور کیا کرسکتا ہے کہ وہ اپنے رب سے نصرت طلب کرے جس طرح اس سے قبل حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنے رب سے نصرت طلب کی تھی۔ حضرت نوح کی دعائے نصرت بھی یہی تھی۔
قال رب کذبون (23 : 39) رسول نے کہا پروردگار ان لوگوں نے میری جو تکذیب کی ہے اس پر اب تو میری نصرت فرما “۔ اللہ کی طرف سے دعا قبول ہوتی ہے۔ اس قوم کی مہلت ختم ہوجاتی ہے۔ کیونکہ اس میں کوئی بھلائی باقی نہیں رہی ہے یہ لوگ غفلت ، تکذیب اور عناد میں مبتلا ہیں۔
قالا عما غثاء (23 : 30) ” جواب میں ارشاد ہوا ، قریب ہے وہ وقت جب یہ اپنے کیے پر پچھتائیں گے “۔ لیکن اس وقت ان کی یہ ندامت ان کی کوئی فائدہ نے دے گی۔
فاخذتھم غثاء (23 : 31) ” آخر ٹھیک ٹھیک حق کے مطابق ایک ہنگامہ عظیم نے ان کو آلیا اور ہم نے ان کو کچرا بنا کر پھینک دیا “۔ غثاء اس کو ڑے کرکٹ کو کہتے ہیں جس سیلاب بہا کر پھینک دیتا ہے اور اس میں کوئی چیز کام کی نہیں ہوتی۔ یہ کچرا کسی کام کا نہیں ہوتا اور ہر قسم کی گندگی اور بیکار چیزوں کا ڈھیر ہوتا ہے۔ یہ لوگ چونکہ ان انسانی اوصاف سے دستبردار ہوگئے تھے جن کی وجہ سے وہ انسان بکرم تھے ، وہ اپنے وجود دنیاوی اور وجود اخروی کی حکمت کو نہیں پا رہے تھے اور انہوں نے اپنے خالق کے ساتھ تمام روابط کاٹ دیئے تھے ، وہ اپنے وجود دنیاوی اور وجود اخروی کی حکمت کو نہیں پار ہے تھے اور انہوں نے اپنے خالق کے ساتھ تمام روابط کاٹ دیئے تھے اس لے ان میں کوئی ایسی بات باقی نہیں تھی جن کی وجہ سے ان کی تکریم ہوتی اور اس دنیا میں وہ باقی رہتے۔ لہذا وہ سیلاب کے کوڑے کرکٹ کی طرح بہادیئے ہیں۔ اس طرح کردیئے گئے کہ کوئی ان کو پوچھنے والا نہ تھا۔ یہ قرآن کا منفرد انداز کلام ہے جو کسی حقیقت کا اظہار نہایت ہی وقت کے ساتھ کرتا ہے ۔
ان لوگوں کے مزید توہین کے لیے اللہ کی جانب سے ان کی ملک بدری کا حال بتانے کے لیے یہ فقرہ کافی ہے کہ یہ اللہ کی رحمت سے دور کردیئے گئے ۔
فبعد اللقوم الظلمین (23 : 31) ” دور ہو ظالم قوم ! “ زندگی سے دور ، ذکر خیر سے بھی دور ، عالم واقعہ بھی دور اور عالم ضمیر سے بھی دور
اس کے بعد سیاق کلام مضمون کو آگے بڑھاتا ہے ۔ منظر پر اقوام آتی ہیں اور جاتی ہیں۔
Ayahs 23:42–44ثم انشانا لا یو منون (آیت نمبر 42 : 44)
یہاں پر دعوت اسلامی کی پوری تاریخ کا خلاصہ بیان کردیا جاتا ہے اور اس خلاصے میں اللہ کی اس سنت کو بھی بیان کردیا جاتا ہے جو اس کائنات میں جاری وساری ہے ۔ اس تاریخ کا اغاز قوم نوح اور قوم ہود ” عاد “ سے ہوا اور اختتام حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ہوا۔ درمیان کے قرون کا یہ خلاصہ تھا اور سنت الہیہ یہ ہے :
ما تسبقا یستاخرون (23 : 33) ” جس قوم کے پاس بھی اس کا رسول آیا اس نے اسے جھٹلادیا۔ اور جب بھی اقوام نے رسولوں کی تکذیب کی۔
کلما کذبوہ (23 : 33) ” جس قوم کے پاس بھی اس کا رسول آیا اس نے سے جھٹلا یا “۔ اور جب بھی اقوام نے رسولوں کو جھٹلادیا اللہ نے ان اقوام کو پکڑا۔ یہی اللہ کی سنت پوری انسانی تاریخ میں جاری رہی ہے۔
فاتبعنا بعضھم بعضا (23 : 33) ” ہم ایک کے بعد ایک قوم کو ہلاک کرتے چلے گئے “۔ اور نا کی بلاکتوں کے بعد صرف عبرت ہی باقی رہی اور کچھ بھی نہ رہا۔
وجعلنھم احادیث (23 : 33) ” حتیٰ کہ بس ان کو افسانہ بنا کر رکھ چھوڑا “۔ لوگوں کے اندر ان کی عبرت انگیز کہانیاں ہی رہ گئیں۔ یہ تخلیص بھی ایک توہین آمیز ملک بدری اور پھٹکار پر ختم ہوتی ہے کہ دور ہوجائیں ایسے نالائق۔
فبعد القوم لل یومنون (23 : 33) ” پھٹکاران لوگوں پر جو ایمان نہیں لاتے “۔
اس کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کی ایک تخلیص دی جاتی ہے اور یہ روئیداد بھی اسی ہدف کی طرف اسی انداز میں یوں بڑھتی ہے۔
Ayahs 23:45–48ثم ارسلنا من المھلکین (آیت نمبر 45 تا 48)
اس خلاصہ میں بھی ان کا یہ اعتراض نمایاں ہو کر سامنے آتا ہے کہ یہ رسول ہم جیسے انسان اور بشر کیوں ہیں۔
فقالو عبدون (23 : 37) ” کیا ہم اپنے ہی جیسے دو آدمیوں پر ایمان لے آئیں اور ان کی قوم ہماری غلام ہے۔ یعنی ایک تو وہ لوگوں کے نزدیک حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کے لیے یہ بات توہین آمیز تھی کہ وہ اس قوم سے متعلق رکھتے ہیں۔
تعجب کی بات یہ ہے کہ ان لوگوں پر حضرت موسیٰ اور ہارون کی پیش کردہ آیات اور عظیم معجزات کا کوئی اثر نہ ہوا۔ یہ اس لے کہ ان کے دلوں پر مہر لگ چکی تھیں یہ لوگ اس کرئہ ارض کے حالات اور کروفر میں غرق تھے حالانکہ یہ پوری دنیا اور اس کا کروفر ایک بےحقیقت چیز ہے اور ایمان کے مقابلے میں پرکاہ کی قیمت نہیں رکھتا۔
اب ایک مجمل اشارہ حضرت عیسیٰ ابن مریم کی طرف بھی آتا ہے ۔ وہ تو بذات خود ایک معجزہ تھے ۔ ان کی بھی اسی طرح تکذیب کی گئی تھی۔
Ayahs 23:49–50ولقد معین (آیت نمبر 49 تا 50)
اس آیات میں جس ربوہ کا ذکر ہے اس کے بارے میں روایات مختلف ہیں کہ یہ کہاں ہے ۔ آیا یہ مصر میں یا دمشق میں تھا بیت المقدس میں تھا۔ یہ وہ معاملات ہیں جہاں حضرت مریم اپنے بچے کو لے کرگئی تھیں ، حضرت عیسیٰ کے بچپن میں۔ عیسائیوں کی کتابوں میں مفصل تذکرے موجود ہیں۔ یہاں اس بات کی کوئی اہمیت نہیں کہ یہ ربوہ کہا تھا۔ مقصود یہ تھا کہ مریم اور ابن مریم کو اللہ نے اسے پورے عرصہ میں نہایت ہی پاکیزہ مقام پر رکھا۔ یہ مقام سر سبز تھا ۔ پانی عام تھا اور وہ یہاں بہت ہی خوشی اور آرام سے رہتے تھے۔
بات یہاں تک آپہنچی ہے تو تمام رسولوں کی اس امت اور جماعت سے اللہ یوں مخاطب ہوتے ہیں کہ گویا وہ پوری جماعت ایک ہی میدان اور ایک مشن اور دعوت کے اعتبار سے وہ ایک ہی سلسلے کی کڑی ہیں۔
Ayahs 23:51–52یا ایھا الرسل فا تقون (آیت نمبر 51 تا 52)
یہاں رسولوں کے خطاب میں رسولوں کے بشریت کو نمایاں کیا جاتا ہے کیونکہ رسولوں کی قوموں کو اعتراض اس پر تھا کہ رسول بشر کیوں ہیں ؟
کلو من الطیبت (23 : 51) ” پاک چیزیں کھائو “۔ کیونکہ کھانا خاصہ بشریت ہے لیکن یہاں طیبات کی قید لگا کر بتایا کہ رسولوں کی بشریت ارقع ہوتی ہے اور وہ تمام انسانیت کو ارفع بناتے ہیں اور تمام انسانوں کو پاک کرے ہیں اور ان کو عالم بالا سے جوڑتے ہیں۔
پھر اس نداء میں کہا جاتا ہے کہ اچھے اعمال کرو یعنی اس زمین کی اصلاح کرو ، لہذا کام بھی بشریت ہی کا تقاضا ہے لیکن لوگ اچھے کام بھی کرتے ہیں اور برے کام بھی کرتے ہیں جبکہ رسول لوگوں کو اچھے کاموں پر آمادہ کرتے ہیں۔ رسول لوگوں کے اعمال کے لیے ضابطہ متعین کرتے ہیں ، اعمال کے مقاصدمتعین کرتے ہیں اور اپنے اعمال کے ذریعہ وہ عالم بالا سے مربوط ہوجاتے ہیں۔
رسولوں کا یہ کام نہیں کہ وہ بشریت سے پاک ہوجائیں بلکہ ان کا مقاصد یہ ہوتا ہے کہ وہ بشریت کو سر بلند کردیں۔ اس کے لیے بلند افق اور بلند مقاصد مقرر کردیں۔ اللہ کی یہی خواہش ہے کہ دنیا میں انسان صالح ، پاک اور برگزیدہ ہوں اور رسول ان کے قائد ہوں اور انسانوں کو بلندیوں تک پہنچائیں اور آخرت میں اللہ ہی ہے جو اپنے نہایت ہی باریک پیمانے سے ان کی قدرو قیمت مقرر کرے گا۔
انی بما تعلمون علیم (23 : 51) ” تم جو کچھ بھی کرتے ہو ، میں اسے خوب جانتا ہوں “ ۔ یہاں زمانے کی دوریوں کو مٹادیا جاتا ہے اور مسافت کی دوریاں ختم ہوجاتی ہیں کیونکہ پیغام ایک ہے جسے یہ رسول لے کر آئے۔
ان کا مزاج ایک ہے اور وہ دوسرے لوگوں سے ممتاز ہیں اور تمام رسولوں کا رخ ایک ہی طرف ہے۔
وان فاتقون (23 : 52) ” اور یہ تمہاری امت ایک ہی امت ہے اور میں تمہارا رب ہوں بس مجھ سے ہی ڈرو “۔
Ayahs 23:53–54درس نمبر 50 ایک نظر میں
یہ اس کا سورة کا تیسرا سبق ہے ۔ رسولوں کے حالات بیان کرنے کے بعد اب اس میں لوگوں کے حالات کی تصویر کشی کی گئی ہے کہ جب رسول آخر تشریف لائے تو لوگوں کے یہ حالات تھے۔ لوگوں کے درمیان شدید مذہبی اختلافات تھے۔ عقیدہ توحید جسے تمام بالا تفاق بیان کرتے آئے تھے اس میں بھی اختلافات تھے۔
رسول خاتم النبین جس حق کو لے آئے ہیں اس کے ساتھ بھی لوگوں نے ایسا غفلت کا سلوک کیا حالانکہ انہیں چاہیے تھا کہ وہ اس نئی دعوت اور اس کے ماننے والوں پر غور کرتے ۔ اہل ایمان کا کردار ان کے سامنے تھا۔ وہ اللہ کی بندگی کرتے تھے ، نیک کام کرتے تھے ، خوف آخرت رکھتے تھے۔ اس تصور آخرت سے ان کے دل کانپتے تھے کہ ایک دن انہوں نے اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونا ہے۔ یہ دو کرایہ دار ہیں دو قسم کے ، ان لوگوں کے درمیان مکمل تقابل ہے ۔ اہل ایمان جاگتے ہیں اور ڈرتے ہیں اور اہل کفر غافل اہور مد ہوش ہیں۔ اس سورة کے اس سبق میں ان کے موقف پر تنقید کی گئی ہے۔ ان کے شبہات کا جواب دیا گیا ہے ۔ ان کے وجدان کو جگایا گیا ہے کہ وہ نفس و آفاق میں موجود دلائل ایمان پر غور کریں ۔ پھر ان کے ہاں مسلمہ عقائد کو لیا گیا ہے اور انہی سے ان کے خلاف حجت قائم کی گئی ہے ۔ آخری میں کہہ دیا گیا ہے کہ چھوڑو انہیں ان کے حال پر کہ یہ اپنے مقررہ انجام تک پہنچ جائیں۔ رسول اللہ ﷺ کو کہا گیا ہے کہ آپ اپنی راہ پر گامزن رہیں اور ان کے اس عناد اور ہٹ دھری سے دل گرفتہ پریشان نہ ہوں بلکہ ان کے برے رویے کے مقابلے میں اچھا رویہ اختیار کریں اور شیطان رجیم سے اللہ کی پناہ طلب کریں جو ان لوگوں کو گمراہ کر رہا ہے۔
Ayahs 23:55–56فتقطعوا امرھم (رح) ٓ لا یشعرون (آیت نمبر 53 تا 56) ”
رسولوں کے بیان میں یہ کہا گیا کہ وہ ایک ہی امت تھے۔ اور ان کا کلمہ بھی ایک تھا اور ان کی دعوت بھی ایک تھی ۔
ان کی بندگی اور عبادت بی ایک اللہ کے لیے تھی ۔ ان کی نظریاتی سمت بھی ایک تھی۔ لیکن رسولوں کے بعد لوگ گروہوں اور فرقوں میں بٹ گئے تھے ، گروہ بن گئے تھے اور وہ کسی ایک منہاج پر متفق نہ رہے۔
لوگوں کے اس افتراق کی تصویر کشی قرآن مجید نہایت عجیب حسی انداز میں کرتا ہے ۔ انہوں نے آپس میں اپنے دین کو پھاڑ پھاڑ کر ٹکرے ٹکرے کردیا تھا۔ ہر ایک ایک ٹکرالے لیا۔ ہر فرقہ اور ہر جماعت کے ہاتھ جو ٹکڑا آیا وہ اس کو لے کر بھاگ گئی ۔ بس وہ خوش تھی کہ اصل ٹکڑا اسی کے ہاتھ میں ہے اور یوں اس پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا ۔ ہر گروہ اپنی جگہ اس ٹکڑے کو لے بیٹھ اور دوسرے امور کے بارے میں سوچنا بھی بند کردیا مباد اس طرح ان کے دماغ تک کوئی بات یا کوئی دلیل روشنی پہنچ جائے۔ بس اپنے ہاں جو کچھ تھا اس میں سست ہوگئے اور ہر قسم کی روشنی اور ہدایت سے اپنے آپ کو محروم کرلیا۔ تخہیب اور فرقہ بندی کی یہ کیا خوب تصویر کشی ہے۔
یہ تصویر کھینچ کر رسول اللہ ﷺ کو یوں خطاب کیا جاتا ہے ۔
فذرھم فی غمرتھم حتی حین (23 : 53) ” تو چھوڑو انہیں “ ڈوبے رہیں اپنی غفلت میں ایک وقت تک “۔ یعنی ان کو چھوڑ دین کہ جن حالات مین وہ مگن ہیں ان میں ڈوبے رہیں اور ان کا جو انجام ہونے والا ہے وہ اچانک ان کو آلے۔ کیونکہ مہلت کے بعد یہ انجام حتمی ہے۔
یہاں قرآن کی غفلت اور جمود بطور مذاق یہ کہتا ہے کہ ان لوگوں کو جو مہلت دی جارہی ہے اور مال و دولت اور آل و اولاد سے جو نوازا جا رہا ہے تو اس کے بارے میں یہ کیا سمجھ رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان سے بہت خوش ہے اور انہیں نواز رہا ہے اور مقبول بندے ہیں کہ ان پر عطا کی بارش ہورہی ہے۔
ایحسبون انما نمدھم بہ من مال و بنین (23 : 55) نسارع لھم فی الخیراژت (23 : 56) ” کیا یہ سمجھتے ہیں کہ ہم جو انہیں مال و اولاد سے مدد دیئے جارہے ہیں تو گویا انہیں بھلائیاں دینے میں سر گرم ہیں “۔ بلکہ یہ تو نا کے لیے آزمائش ہیں۔
بل لا یشعرون (23 : 56) ” اصل معاملے کا انہیں شعور نہیں ہے “۔ یعنی وہ یہ تصور بھی نہیں کرسکتے کہ اس مال اور اولاد کے بعد ان پر کیا مصیبت آنے والی ہے اور یہ مصیبت کس قدر عام اور ہمہ گیر ہوگی وہ “۔
ایک طرف یہ لوگ ہیں جو غفلت میں ڈوبے ہوئے ہیں اور گمراہ ہیں ، ان کے مقابلے میں ایسے لوگ بھی ہیں جو ہر وقت بیدار اور رب کے معاملے میں بہت محتاط ہیں۔
Ayahs 23:57–61ان الذین سبقون (آیت نمبر 57 تا 61)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانی دل پر ایمان کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ اس کا احساس تیز ہوجاتا ہے ۔ انتہائی خوف اور حد درجہ احتیاط اس کے دل میں پیدا ہوجاتی ہے اور اس دنیا میں انسان کمال اور بلندیوں کے بارے میں سوچتا ہے۔ آخرت کی فکر کرتا ہے اگر چہ وہ اس دنیا میں خدا تعالیٰ کی طرف سے عائد کردہ فرائض و واجبات پر عمل پیرا ہوتا ہے یعنی یہاں رجانیت اختیار نہیں کرتا۔
ذرا ملاحظہ کیجئے۔۔ یہ مومن اللہ کے خوف کے مارے میں کانپ رہے ہیں ۔ نہایت احتیاط سے زندگی بسر کررہے ہیں۔
اللہ کی آیات پر ایمان لائے ہوئے ہیں ۔ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کررہے۔ اللہ کی طرف سے عائد شدہ فرائض اور واجبات ادا کرتے چلے جاتے ہیں۔ دیگر تمام عبادات میں حدد استطاعت تک مشغول ہیں ۔ لیکن ان سب کاموں کے باوجود والذین یو تون رجعون (23 : 60) “۔ جو کچھ بھی دیتے ہیں اور دل ان کے اس خیال سے کانپتے رہتے ہیں کہ ہمیں اپنے رب کی طرف پلٹنا ہیــــ“۔ ان کو احساس ہے کہ اللہ کے معاملے میں ان سے ضرور کوئی نہ کوئی کوتاہی ہوگئی ہوگی ۔ حالانکہ وہ مقدر بھر بندگی کرتے رہے ہیں مگر ان کی نظروں میں ان کا عمل قلیل ہوتا ہے ۔
حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا : اے رسول اللہ ﷺ ولذین وجفۃ (23 : 60) ” وہ لوگ جو دیتے ہیں جو کچھ بھی دیتے ہیں اور دل ان کے کانپ رہے ہوتے ہیں “ سے کیا وہ شخص مراد ہے جو چوری کرتا ، زنا کرتا ، اور شراب پیتا ہے لیکن پھر وہ اللہ سے ڈرتا ہے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا نہیں صدیق کی بیٹی بلکہ مراد وہ شخص ہے جو نماز پڑھتا ہے ، جو روزے رکھتا ہے ، جو اپنا مال خرچ کرتا ہے اور پھر بھی اللہ سے ڈرتا ہے۔ (ترمذی)
ایک مومن کا دل کا شعور رکھتا ہے کہ اللہ کا ہاتھ اس کے اوپر ہے۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ ہر سانس میں اللہ کی رحمتیں اس پر بارش کی طرح برستی رہی ہیں ۔ صرف دل کی حرکت پر ہی غور کرلو کہ کس قدر عظیم رحمت ہے اس لے مومن اپنی بندگی اور اطاعت کو کم سمجھتا ہے کہ اللہ کے رحم و کرم کے مقابلے میں اس کی جانب سے بندگی کچھ بھی نہیں ہے۔ وہ اپنے وجود کے ذرے ذرے میں اللہ کے جلال اور عظمت کو پاتا ہے ۔ اس کے شعور میں یہ بات اچھی طرح بیٹھی ہوئی ہوتی ہے کہ ہر چیز اللہ کے ہاتھ میں ہی اور اسی لیے وہ ہر وقت خائف رہتا ہے ، کانپتا رہتا ہے۔ اسے یہ ڈر لگا رہتا ہے کہ اچانک وہ اللہ کے سامنے پیس ہوا اور اس کی تفصیرات کی گٹھڑی پیش ہو۔ اور اس کے سامنے کھلے اور نتیجہ یہ سامنے آئے کہ اس نے عبادت کا حق ادا نہ کیا ہو اور اللہ کے انعامات و کرامات کا شکر اس نے ادا نہ کیا ہو تو اس کا پھر کیا حال ہوگا اور کیا جواب ہوگا ؟
ایسے لوگ ہی دراصل بھلائی کے کاموں میں آگے بڑھتے ہیں اور ایسے ہی لوگ بھلائی میں سب سے آگے ہوتے ہیں اور ایسے ہی لوگ اسلام کے ہر دل دستے کا کام کرتے ہیں ۔ بیدار مغز ، فعال اور آگے بڑھنے والے مطیع فرمان۔ ان کے مقابلے میں وہ لوگ کسی کام کے نہیں ہوتے جو عیش و طرب میں ڈوبے ہوئے ہوتے ہیں ۔ جو سخت غفلت میں ہوتے ہیں ، جو اس میں ہوتے ہیں کہ اللہ کی طرف سے بالا رادہ مراعات یافتہ ہیں ۔ ان کے لیے بھلائی ہی بھلائی ہے ۔ اس طرح غافل ہیں کہ جس طرح شکار اپنی غفلت میں چر رہا ہوتا ہے لیکن دراصل وہ اپنے پھندے کی طرف بڑھ رہا ہوتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ اس کو غذا مل گئی اچانک پھندے میں گرفتار ہوجاتا ہے ۔ لوگوں کے اندر بیشمار لوگ ہیں جو ایسے پھندے میں گرفتار ہیں ، خوشحالی ان کو غافل کردیتی ہے۔ اللہ کی نعمتیں ان کو برے کاموں میں مشغول کردیتی ہیں۔ مالداری ان کو سرکشی پر آمادہ کرتی ہے ، غرور ان کو آپے سے باہر کردیتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنے برے انجام کا شکار ہوجاتے ہیں ۔
یہ ہے وہ بیداری جو اسلام ہر زندہ دل انسان میں بیدا کرتا ہے اور جب ایمان دلوں میں بیٹھ جاتا ہے تو وہ دلوں میں بیداری اور تقویٰ کا ابھارتا رہتا ہے ۔ یہ کوئی ایسا مقام نہیں ہے جسے حاصل نہ کیا جاسکتا ہو۔ یہ کوئی ایسی حالت نہیں ہے جس میں عام آدمی داخل نہ ہو سکتا ہو ۔ بس صرف یہ احساس و شعور پید اکرنا ہے کہ اللہ دیکھ رہا ہے ہم اس کے ساتھ مربوط ہیں ۔ ہمارے ظاہر و باطن سے وہ اچھی طرح خبردار ہے۔ یہ احساس اور شعور پیدا کرنا ، انسان کے حد استطاعت میں ہے بشرطیکہ ایمان کا چراغ قلب میں روشن ہوجائے۔
Ayah 23:62ولا نکلف لا یظلمون (آیت نمبر 26)
اللہ نے انسان کچھ فرائض عائد کیے ہیں ، لیکن اللہ نے یہ فرائض اور تکالیف انسانی استعداد کے مطابق عائد کی ہیں۔ اور یہ بات اللہ خوب جانتا ہے کہ انسان اس کی مخلوق ہے اور حساب بھی اللہ اس عمل کالے گا جو ان کے حد استطاعت میں ہو۔ اللہ انسانوں پر یہ ظلم نہیں کرتا تا کہ ان پر اس قدر بوجھ لاد دے جس کو وہ اٹھا نہیں سکتے۔ نہ اللہ ان کے اعمال میں سے کسی بھی چیز کو چھوڑدے گا یا ساقط کردے گا۔ جو بھی وہ کریں گے اس کا حساب درج ہوگا۔
ینطق بالحق (23 : 62) ” ٹھیک ٹھیک بتا دے گی “۔ ہر چیز کو وہ کھول کر رکھ دے گی ۔ اللہ بہترین حساب کرنے والا ہے۔ پھر لوگ غفلت کیوں کرتے ہیں ؟ ٹھیک ٹھیک بتا دے گی “۔ ہر چیز کو وہ کھول کر رکھ دے گی۔ اللہ بہترین حساب کرنے والا ہے۔ پھر لوگ غفلت کیوں کرتے ہیں ؟ اس لیے کہ ان کے دل حقیقت سے بیخبر ہیں۔ ان میں وہ روشنی داخل ہی نہیں ہوئی جو دلوں کو زندہ کردیتی ہے۔ کیونکہ یہ لوگ اس روشنی کو چھوڑ کر دوسرے کاموں مین مشغول ہوگئے ہیں اور اپنی ان مشغولیات میں بہت ہی آگے جاچکے ہیں جس وقت انہیں ہوش آئے گا تو ان کے سامنے عذاب الیم ہوگا اور اس عذاب کے ساتھ توبیخ اور سرزنش بھی ہوگی اور ان کو ایک حقارت انگیز سلوک کا سا منا کرنا ہوگا۔