Ayahs 12:99–100اب یہاں اس قصے ، کا خاتمہ بھی اس قصے کے دوسرے اچانک مناظر اور معجزانہ واقعات کی طرح اچانک ہوجاتا ہے۔ زمان و مکان کے فاصلوں کو لپیٹ لیا جاتا ہے اور آخری تبصرہ یوں آتا ہے اور اس میں بیشمار موڑ اور جذباتی مناظر ہیں۔
آیت نمبر 99 تا 100
یہ کیا ہی خوب صورت منظر ہے ! ایک عرصہ گزر گیا ہے اور یوسف (علیہ السلام) لا پتہ ہیں۔ ان کے بارے میں مکمل مایوسی پائی جاتی ہے اور لوگ انہیں پوری طرح بھول چکے ہیں۔ رشتہ دار اس کے رنج سہ چکے ہیں ، یوسف (علیہ السلام) پر بھی اور پسماندگان پر بھی عرصہ بیت چکا ہے۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا رنج و الم ، ناقابل کنٹرول پدری محبت کا جوش اور جان کن رنج اور حزن کا طویل عرصہ اور پھر اچانک حالات کا یہ پلٹا۔۔۔۔ یہ ایک ایسا اچانک منظر ہے کہ جس میں دلوں کی دھڑکنیں تیز ہوجاتی ہیں ، خوشی کے آنسو بہہ نکلتے ہیں اور ہر طرف گہرے تاثرات ہیں ، خوشی کے بھی اور شرمندگی کے بھی۔
یہ ایک ایسا منظر ہے جو اس قصے کے آغاز کے ساتھ ہم آہنگ ہے ، آغاز میں عالم غیب کی طرف غائبانہ اشارات تھے لیکن وہ سب اشارات اب عالم واقعہ ہیں اور ایسے حالات میں بھی حضرت یوسف (علیہ السلام) کی زبان پر ثنائے ربانی ہے۔
فلما دخلوا۔۔۔۔۔۔۔ امنین (12 : 99) ” پھر جب یہ لوگ یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو اس نے اپنے والدین کو اپنے ساتھ بٹھا لیا اور اپنے سب کنبے والوں سے کہا ” چلو ، اب شہر میں چلو ، اللہ نے چاہا تو زمین چین سے رہو گے “۔
حضرت یوسف (علیہ السلام) اب اپنا خواب یاد کرتے ہیں اور اس کی تاویل ان کے سامنے ہے کہ ان کے بھائی ان کے سامنے سجدہ ریز ہیں۔ درآنحالیکہ اس نے اپنے والدین کو اپنے ساتھ تخت پر بٹھایا ہوا ہے۔ اب گیارہ ستارے اور الشمس و قمر ان کے سامنے ہیں اور سجدہ ریز ہیں۔
ورفع ابویہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ربی حقا (12 : 100) ” اس نے اپنے والدین کو اٹھا کر اپنے پاس تخت پر بٹھایا اور سب اس کے آگے بےاختیار سجدے میں جھک گئے۔ یوسف (علیہ السلام) نے کہا ” ابا جان ، یہ تعبیر ہے میرے اس خواب کی جو میں نے پہلے دیکھا تھا۔ میرے رب نے اسے حقیقت بنا دیا “۔
اور رب کے احسانات کی تو حد نہیں ہے۔
وقد احسن بی ۔۔۔۔۔۔۔ اخوتی (12 : 100) ” اس کا احسان ہے کہ اس نے مجھے قید خانے سے نکالا ، اور آپ لوگوں کو صحرا سے لا کر مجھ سے ملایا ، حالانکہ شیطان میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان فساد ڈال چکا تھا “۔
اور پھر حضرت یوسف (علیہ السلام) اللہ کی خفیہ تدابیر کا بھی ذکر کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی حد ہی نہیں ہے۔
ان ربی لطیف لما یشاء (12 : 100) ” حقیقت یہ ہے کہ میرا رب غیر محسوس تدبیروں سے اپنی مشیت پوری کرتا ہے “۔ وہ نہایت ہی خفیہ طریقوں سے اپنی مشیت کے مقاصد پورے کرتا ہے۔ اس قدر خفیہ طریقے سے کہ لوگ اس کو سمجھ ہی نہیں سکتے۔
انہ ھو العلیم الحکیم (12 : 100) ” بیشک وہ علیم و حکیم ہے “۔ اور یہ وہی انداز ہے جو خود حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اختیار کیا۔ جب حضرت یوسف (علیہ السلام) ان کے ساتھ اپنا خواب بیان کر رہے تھے۔ ان ربک علیم حکیم ” بیشک تمہارا رب علیم و حکیم ہے “۔ اس طرح آغاز قصہ اور اختتام قصہ ایک ہی تبصرے کے ساتھ شروع ہوتا ہے اور اختتام پذیر ہوتا ہے۔
آخری منظر کے اختتام سے قبل ، ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) اس ملاقات ، خوشی اور مسرت کے منتظر اور پھر تخت و تاج اور جاہ و منزلت اور امن و سکون اور عیش و آرام کی تقریب سے اچانک نکل آتے ہیں۔ آخر وہ پیغمبر خدا ہیں اور رب ذوالجلال کی تسبیح و تہلیل میں مشغول ہوجاتے ہیں اور ایک شکر گزار بندے کی شکل میں سامنے آتے ہیں۔ اور دست بدعا ہوتے ہیں کہ جاہ و منزلت کے اس اونچے مقام پر اللہ ان کو ایک صحیح مسلمان ہونے کی توفیق بخشیں اور صالحین میں ان کو اٹھا لیں۔
Ayah 12:101آیت نمبر 101
اے رب تو نے مجھے بادشاہت بخشی ، اونچا مقام و مرتبہ دیا۔ مال و دولت سے نوازا اور تمام دنیاوی نعمتیں عطا کردیں۔
رب قد اتیتنی من الملک (12 : 101) ” اے رب تو نے مجھے حکومت بخشی “۔ اور پھر تو نے مجھے معاملہ فہمی عطا فرمائی۔
وعلمتنی من تاویل الاحادیث (12 : 101) ” زمین و آسمان بنانے والے “۔ تو نے اس کائنات کو کن فیکون سے تخلیق کیا اور اس کا پورا کنٹرول تیرے ہاتھ میں ہے اور تو ہی اس کائنات پر اور اس کے اندر بسنے والوں پر قدرت رکھتا ہے “۔
انت ولی۔۔۔۔۔ الاخرۃ (12 : 101) ” تو ہی دنیا و آخرت میں میرا سر پرست ہے “۔ تو ہی مددگار اور نصرت کرنے والا ہے۔ اے اللہ یہ ہیں تیرے انعامات اور یہ ہیں تیری قدرتیں۔
اب میرے رب میں تجھ سے حکومت طلب نہیں کرتا ، میں تجھ سے صحت طلب نہیں کرتا ، اور میں تجھ سے مال طلب نہیں کرتا۔ رب ذوالجلال ، میں وہ چیز طلب کرتا ہوں جو دیر تک باقی رہنے والی ہے۔
توفنی مسلما والحقنی بالصلحین (12 : 101) ” میرا خاتمہ اسلام پر کر اور انجام کار مجھے صالحین کے ساتھ ملا “۔ یوں حکومت اور جاہ و مرتبت غائب ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح ملاقات کی خوشیاں اور اہل و عیال اور بھائیوں کا اجتماع نظروں سے اوجھل ہوجاتا ہے اور اب منظر پر ایک بندہ خدا سامنے آتا ہے ۔ یہ نہایت ہی عاجزی سے دست بدعا ہیں کہ اے رب ، میرے اسلام کو محفوظ کیجیو۔ یہاں تک کہ میں تیرے سامنے مسلم ہو کر آؤں اور یہ کہ مجھے اہل صلاح وتقویٰ کی سوسائٹی میں جگہ دیجئے۔۔۔۔۔ یہ آخری امتحان ہے اور یہ ہے مکمل کامیابی !
٭٭٭
Ayah 12:102درس نمبر 111 تشریح آیات
102۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔ 111
یہاں آکر حضرت یوسف (علیہ السلام) کا اصل قصہ ختم ہوجاتا ہے اور اب اس پر سبق آموز تبصرے کیے جاتے ہیں۔ اس سورة پر تبصرہ کرتے ہوئے ہم نے ان اغراض ومقاصد کی طرف اشارہ کیا تھا جس کے لئے یہ قصہ تفصیل سے بیان کیا گیا۔ یہاں اب عبرت کے لئے کئی باتوں کی طرف قارئین کو متوجہ کیا جاتا ہے اور ان کے احساسات کو جگایا جاتا ہے۔ اس کائنات کی وسعتوں اور نفس انسانی کی گہرائیوں میں فکر انسانی کو دوڑایا جاتا ہے۔ گزشتہ لوگوں کے حالات ، موجودہ حالات اور پردۂغیب کے پیچھے مستور حقائق بتائے جاتے ہیں۔ چناچہ اس آخری تبصرے کے اندر بیان کردہ حقائق کو ہم اسی ترتیب سے لیتے ہیں کیونکہ یہ قرآنی ترتیب بھی حکمت پر مبنی ہے۔
٭٭٭
یہ قصہ عربوں میں مشہور نہ تھا ، وہ عرب معاشرہ جس میں حضور ﷺ نے پرورش پائی ان واقعات سے بیخبر تھا۔ انہی لوگوں میں حضور ﷺ کی بعثت ہوئی۔ چونکہ اس قصے کے کرداروں کے حالات میں بہتر اسرار و رموز تھے ، اگرچہ وہ صدیوں پرانے کردار تھے ، اس لئے اللہ تعالیٰ نے سورة کے آغاز ہی میں اسے احسن القصص کہا ہے۔
نحن نقص ۔۔۔۔۔۔ لمن الغفلین (12 : 3) “ ہم آپ کے سامنے احسن القصص بیان کرتے ہیں ، یوں کہ ہم نے تمہاری طرف یہ قرآن وحی کیا اگرچہ اس سے قبل آپ غافلوں میں سے تھے ”۔ اور اب اس قصے کے اختتام پر تعقیب یوں آرہی ہے ، اور یوں اس کے اختتام میں بھی اس کے آغاز کی طرف اشارہ ہے۔
آیت نمبر 102
یہ قصہ جو گزشتہ صفحات میں بیان کیا گیا ، ان غیبی خبروں میں سے ہے جسے اللہ کے سوا کوئی نہ جانتا تھا۔ تم بھی نہ جانتے تھے اور ہم نے یہ تمہاری طرف وحی کیے اور یہ ایک زندہ معجزہ ہے ، اے پیغمبر جب وہ یہ سازش تیار کر رہے تھے تو آپ ان کے پاس موجود نہ تھے ، خصوصاً جب انہوں نے اپنا ایکشن پلان تیار کرلیا اور جس کی تفصیلات اس پورے قصے میں دی گئیں۔ انہوں نے یوسف (علیہ السلام) کے خلاف بھی سازش کی ، اپنے باپ کے خلاف بھی سازش کی۔ پھر جب یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائی کو پکڑ لیا تو یہ لوگ علیحدہ ہو کر مشورہ کرنے لگے جو ان کی جانب سے ایک مکر یعنی تدبیر تھا۔ نیز اس میں عورتوں کی جانب سے یوسف (علیہ السلام) کے خلاف بھی مکاریاں تھیں۔ پھر اس میں عزیز مصر کی پارلیمنٹ کی مکاری بھی تھی کہ انہوں نے ناحق حضرت یو سف (علیہ السلام) کو جیل بھجوا دیا۔ یہ سب کچھ مکر تھا اور اے پیغمبر آپ کو ان میں سے کسی مکاری کا علم نہ تھا۔ نہ آپ اس وقت موجود تھے کہ آپ نے اس قدر وقت کے ساتھ قلمبند کردیا بلکہ یہ وحی ہے اور اس سے اس نئے نظریہ حیات اور نئے دین کے بنیادی عقائد کو ثابت کرنا مقصود ہے۔ اور اس قصے کے مختلف مشاہد اور مناظر ہیں۔ اس جدید نظریہ حیات کے مسائل اور افکار اس میں جگہ جگہ بکھرے ہوئے ہیں۔
٭٭٭
یہ قصہ اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ یہ کلام وحی الٰہی ہے ، اس کے اشارات ، تاثرات اور ہدایات دلوں کو متحرک کرتی ہیں ، اور ان سب کا تقاضا یہ ہے کہ لوگ پھر اس کلام پر ایمان لائیں۔ خصوصاً جبکہ یہ لوگ حضور اکرم ﷺ کے ذاتی احوال سے بھی باخبر ہیں۔ وہ آپ کو اچھی طرح جانتے ہیں اور آپ ان کے سامنے ایسی ایسی نصیحت آموز غیبی دلچسپ خبریں دیتے ہیں ، لیکن اس کے باوجود لوگوں کی اکثریت مان کر نہیں دیتی۔ لوگوں کی اکثریت اس کائنات میں بکھری ہوئی آیات و معجزات کو رات دن دیکھتے ہیں لیکن انہیں ہوش نہیں آتا۔ یہ لوگ ان آیات و دلائل کے مفہوم کو نہیں سمجھتے ۔ مثلاً ایک اندھے کی طرح کہ وہ ایک جانب سے دوسری منہ موڑتا ہے اور اسے کچھ خبر نہیں لگتی۔ سوال یہ ہے کہ اس معجزانہ قصہ کے بعد اب یہ لوگ کس بات کا انتظار کرتے ہیں۔ کیا وہ اللہ کے ایسے عذاب کا انتطار کر رہے ہیں کہ جو ان کو اچانک پکڑ لے اور ان کو کوئی شعور نہ ہو ؟
Ayahs 12:103–107آیت نمبر 103 تا 107
رسول اللہ ﷺ بڑی شدت کے ساتھ یہ چاہتے تھے کہ آپ کی قوم ایمان لے آئے۔ آپ چاہتے تھے کہ آپ جو بھلائی لے کر آئے ہیں وہ ان تک پہنچ جائے اور وہ محروم بھی نہ رہیں ، نیز آپ کو اپنی برادری پر ترس آ رہا تھا کہ اگر وہ شرک کی حالت پر ہی رہے تو دنیا میں بھی ان کو روز بد دیکھنا ہوگا اور آخرت میں وہ دائمی عذاب میں مبتلا رہیں گے لیکن اللہ تعالیٰ تو انسانی دلوں کے بہت ہی قریب ہے ، وہ علیم وخبیر ہے۔ وہ انسانوں کے مزاج اور ان کے حالات سے اچھی طرح باخبر ہے۔ اس لیے حضور اکرم ﷺ کو بتلایا جاتا ہے کہ آپ کی یہ حرص اور یہ شدید خواہش ان کو اسلام کی طرف راغب نہ کرسکے گی ، اور ان میں سے اکثر مشرک ہی رہیں گے اس لیے کہ یہ لوگ آیات الٰہی کو دیکھ کر یونہی گزر جاتے ہیں ، منہ پھیر لیتے ہیں اور ان کا یہ اعراض ہی ان کے راستے کا روڑا ہے۔ ان کو ایمان سے روک رہا ہے۔ اس کائنات میں جگہ جگہ جو دلائل بکھرے ہوئے ہیں ، یہ ان سے استفادہ نہیں کرتے۔
آپ تو فقط تبلیغ پر مامور ہیں ، اگر یہ لوگ ایمان نہیں لاتے تو آپ کا کچھ نقصان نہیں ہے۔ آپ اس کام کے لئے کسی کوئی اجر طلب نہیں کرتے۔ لیکن اس کے باوجود یہ لوگ اعراض کرتے ہیں اور ہدایات سے منہ پھیرتے ہیں حالانکہ یہ ہدایت انہیں مفت فراہم کی جا رہی ہے۔
وما تسئلھم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ للعلمین (12 : 104) “ یہ تو ایک نصیحت ہے جو دنیا والوں کے لیے عام ہے ”۔ آپ ان کو آیات الٰہیہ کی یاد دہانی کرا رہے ہیں ، ان کی بصارت اور بصیرت دونوں کو راہ ہدایت کی طرف موڑنا چاہتے ہیں اور یہ رہنمائی تمام جہان والوں کے لیے عام ہے ، یہ کسی ایک قوم ، کسی مخصوص نسل اور کسی خاص قبیلے کے لئے محدود نہیں ہے۔ اس کی کوئی بھی قیمت مقرر نہیں ہے کہ کوئی ادا کرنے سے قاصر ہو ، صرف اغنیاء ہی اسے خرید سکتے ہیں۔ فقراء کے بس کی بات نہ ہو۔ نیز اس کے حصول کے لئے کوئی جسمانی توانائی کی شرط بھی نہیں ہے کہ طاقتور لوگ اسے حاصل کرسکتے ہیں اور ناتواں اس کے حصول سے عاجز ہوں۔ یہ تو تمام جہاں والوں کے لیے کھلی نصیحت ہے۔ یہ ایک ایسا کھلا دستر خوان ہے جس پر تمام لوگ مدعو ہیں جو چاہے اسے قبول کرلے۔
وکاین من ۔۔۔۔۔۔۔ معرضون (12 : 105) “ زمین و آسمان میں کتنی ہی نشانیاں ہیں جن پر سے یہ لوگ گزرتے رہتے ہیں اور ذرا توجہ نہیں کرتے ”۔ وہ نشانیاں جو ذات باری پر گواہی دے رہی ہیں ، جو اللہ کی وحدانیت اور قدرت پر دلالت کرتی ہیں وہ اس کائنات میں جگہ جگہ بکھری پڑی ہیں اور لوگوں کی بصارت اور بصیرت کو دعوت نظارہ دے رہی ہیں۔ یہ آسمانوں میں بھی ہیں اور زمین میں بھی ہیں اور یہ لوگ صبح و شام ان کا مشاہدہ بھی کر رہے ہیں۔ رات کے وقت بھی یہ ان کے سامنے ہوتی ہیں اور صبح کے وقت بھی ۔ یہ لوگوں کو پکار پکار کر دعوت دے رہی ہیں اور یہ اس قدر کھلی ہیں کہ لوگوں کی نظروں اور ان کے درمیان کوئی چیز حائل نہیں ہے۔ یہ انسان کے قلب و نظر کو دعوت فکر دے رہی ہیں ، لیکن لوگ نہ ان کو دیکھتے ہیں ، نہ ان کی پکار کی طرف کان دھرتے ہیں اور نہ ان کے جھنجھوڑنے سے ان کا احساس جاگتا ہے۔
ذرا ایک لمحے کے لئے سورج کے طلوع اور غروب پر ہی غور کرلو ، ذرا درختوں کے سائے پر ہی غور کرلو کہ کس طرح غیر محسوس انداز میں گھٹتا بڑھتا ہے۔ ذرا ناپید کنار سمندر کو دیکھو ، ذرا زمین میں سے ابلتے ہوئے چشموں کی دیکھو ، ذرا بہتی ہوئی ندیوں کا نظارہ کرو ، ذرا فضائے آسمانی میں اڑنے والے پرندوں کو دیکھو ، اور پھر ذرا پانی کے اندر تیرتی ہوئی رنگ برنگ مچھلیوں کو دیکھو ، ذرا سطح زمین پر رینگنے والے کیڑوں کو دیکھو ، چیونٹیوں اور دوسرے حشرات و حیوانات کے اس لشکر عظیم کو دیکھو اور وہ حیوانات و جراثیم جو نظر ہی نہیں آتے ، اور گردش لیل ونہار کو دیکھو ، رات کے سکون اور دن کی خوشیوں کو دیکھو۔ ایک لمحے کا غوروفکر انسان پر اس کائنات کے عجائبات کا دروازہ کھول سکتا ہے۔ یہ مختصر اور متفکرانہ لحظہ ہی انسانی ادراک کی دنیا میں ایک وسیع ارتعاش پیدا کرسکتا ہے اور انسان فطرت کائنات کی پکار پر لبیک کہہ سکتا ہے لیکن یمرون علیھا وھم عنھا معرضون (12 : 105) “ یہ لوگ ان پر گزرتے ہیں لیکن توجہ نہیں کرتے ”۔ اور یہی وجہ ہے کہ ان میں سے اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔ پھر وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں ان کی فکرو نظر میں بھی کسی نہ کسی راہ سے شرک داخل ہوگیا ہے۔ لہٰذا ایمان خالص کو اس بات کی ضرورت ہے کہ وہ ہر وقت اور ہر لمحہ بیدار اور چوکنا رہے اور دل سے ہر قسم کے شیطانی وسوسوں کو نکال باہر کر دے۔ دل کو ہر قسم کی دنیاوی آلائشوں سے پاک کردے۔ اپنی ہر سوچ ، ہر عمل اور ہر قسم کے تصرفات و اقدامات میں رضائے الٰہی کو پیش نظر رکھے۔ ہر عمل اور ہر اقدام اللہ کرے ، ایمان خالص وہ ہوتا ہے کہ وہ انسان کے دل و دماغ پر چھایا ہوا ہو ، وہ انسان کے قول و فعل اور طرز عمل پر پوری طرح حکمران ہو ، اور وہ انسان پر اس طرح اثر انداز ہو کہ انسان کی زندگی پر اللہ کے سوا کسی اور کی حکمرانی باقی نہ رہے۔ انسان اپنے کسی معاملے میں اللہ کے سوا کسی اور کی بندگی نہ کرے۔ اور وہ اس حاکم کا بندہ ہو جس کے حکم کو کوئی بھی رد کرنے والا نہیں ہے۔
وما یومن ۔۔۔۔۔۔ مشرکون (12 : 106) “ ان میں سے اکثر اللہ کو مانتے ہیں مگر اس طرح کہ وہ اس کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہیں ”۔ یہ لوگ کیسے مشرک ہیں ؟ یہ اس کرۂ ارض پر واقعات ، اشیاء اور اشخاص کی قدرو قیمت کے تعین میں شرک کرتے ہیں۔ انسان کے نفع پہنچنے میں اور انسان کو مضرت سے بچانے کے سلسلے میں محض اللہ کی قدرت اور فیصلے کے سوا اور اسباب بھی تلاش کرتے ہیں۔ یہ اللہ اور اللہ کے قانون کے سوا کچھ اور شخصیات اور اداروں کو منبع ہدایت اور ذریعہ قانون اور شریعت قرار دیتے ہیں۔ یہ اللہ کے سوا اوروں سے امیدیں باندھتے ہیں ، یہ ایسی قربانیاں اور خیراتیں کرتے ہیں جن کی تہہ میں رضائے الٰہی کے علاوہ کچھ اور شخصیات کی رضا بھی موجود و ملحوظ ہوتی ہے۔ یہ اللہ کے سوا اوروں سے نفع حاصل کرنے یا نقصان کے رکوانے کے عمل بےسود میں جدو جہد کرتے ہیں یا اللہ کی بندگی میں محض اللہ کی رضا کے سوا اوروں کی رضا کو بھی ملحوظ رکھتے ہیں۔ یہی شرک خفی ہے اور اسی وجہ سے حضور اکرم ﷺ نے فرمایا تمہارے اندر شرک اس قدر غیر محسوس طور پر داخل ہوجاتا ہے جس طرح چیونٹی کے چلنے کی آواز خفیہ ہوتی ہے۔
حضرت نبی ﷺ نے اس سلسلے میں چند نمونے بیان فرمائے ہیں جن سے شرک خفی کو سمجھا جاسکتا ہے ۔ امام ترمذی نے ابن عمر سے روایت کی ہے “ جس نے اللہ کے سوا کسی اور کی قسم کھائی اس نے شرک کا ارتکاب کیا ”۔ امام ابو داؤد اور امام احمد وغیرہ نے حضرت ابن مسعود ؓ سے نقل کیا ہے “ حضور ﷺ نے فرمایا کہ دم اور تعویذ شرک ہے ” ۔ مسند امام احمد میں عقبہ ابن عامر کی حدیث نقل ہوئی ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا “ جس نے تعویذ لٹکایا اس نے شرک کا ارتکاب کیا ”۔
حضرت ابوہریرہ ؓ نے انہی کی سند کے ساتھ روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا “ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میں شریکوں کی شرکت کا محتاج نہیں ہوں جس نے بھی کوئی عمل کیا اور اس میں میرے ساتھ کسی غیر کو شریک کیا تو میں اسے اس غیر کے حوالے کردیتا ہوں ”۔
امام احمد نے ابو سعید ابن فضالہ سے روایت کی ہے ۔ انہوں نے کہا میں نے حضور اکرم ﷺ کو کہتے سنا “ جب اللہ اولین اور آخرین کو اس دن جمع کرے گا جس میں کوئی شک نہیں ہے تو ایک پکارنے والا پکارے گا “ جس شخص نے ایسے کام میں اللہ کا کوئی شریک ٹھہرایا جو اللہ کا مخصوص تھا ، تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے عمل کا اجر اس شریک سے طلب کرے ، کیونکہ اللہ شریکوں کی شراکت کا محتاج نہیں ہے ”۔
امام احمد نے اپنی سند سے محمود ابن بسید سے یہ روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا “ میں تمہیں اس چھوٹے شرک سے ڈراتا ہوں جس کے بارے مجھے تشویش ہے ”۔ صحابہ نے کہا “ رسول خدا ، وہ چھوٹی شرک کیا ہے ؟ ” تو آپ نے فرمایا “ وہ خواہیں ہیں ”۔ جب قیامت میں لوگ اپنے اپنے اعمال لے کر آئیں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے ، جاؤ ان لوگوں کے پاس جن کو تم دنیا میں کچھ سمجھتے تھے اور دیکھو ان کے پاس ہے کچھ تمہیں جزاء کے طور پر دینے کے لئے ۔ ”
غرض ایمان کے باوجود یہ شرک خفی کی اقسام ہیں۔ ایک مومن کو چاہئے کہ وہ ان کے بارے میں چوکنا رہے اور ان سے بچنے کی سعی کرے تا کہ اس کا ایمان خالص ہوجائے۔
شرک خفی کے علاوہ بعض واضح اعمال شرکیہ ہیں اور ان میں سے ایک یہ طرز عمل ہے کہ انسان اللہ کے سوا کسی اور کے دین اور نظام کی پیروی کرے ، زندگی کے معاملات میں سے کسی بھی معاملے میں۔ مثلاً وہ ایسے قانون کے مطابق فیصلے کرائے یا کرے جو شریعت کے خلاف ہو ، یہ فعل ایک صریح اور منصوص اور واضح شرک ہے جس میں کوئی اختلاف رائے نہیں ہے مثلاً ایسے عرس اور میلے مقرر کرنا جو اللہ نے مقرر کیے ہوئے نہ ہوں یا دوسرے ایسے رسم و رواج جن کا کوئی ثبوت شریعت سے نہ ہو۔ یا ایسے لباس جن میں ستر عورت اور دوسرے احکامات کے سلسلے میں شریعت کی خلاف ورزی ہوتی ہو۔ یہ سب کے سب صریح شرکیہ افعال ہیں۔
ایسے معاملات جن کا تعلق ایسے رسوم اور ایسی تقریبات سے ہو جو خلاف اسلام ہوں اور جن کو اللہ کے سوا کسی اور نے رواج دیا ہو اور جن پر عمل پیرا ہونا لوگ ضروری سمجھتے ہوں ، اس طرح جس طرح فرمودۂ خدا و رسول ہو تو ایسے افعال و رسوم محض گناہ ہی نہیں رہتے بلکہ یہ شرک کا درجہ اختیار کرلیتے ہیں کیونکہ ان کی پیروی سے انسان غیر اللہ کے دین اور نظام کا اتباع کرتا ہے جو خلاف نظام کا اتباع کرتا ہے جو خلاف نظام اسلامی ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے یہ امر نہایت ہی اہم ، خطرناک اور شرک ہوتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
وما یومن ۔۔۔۔۔ مشرکون (12 : 106) “ ان میں سے اکثر اللہ کو مانتے ہیں مگر اس طرح کہ وہ اس کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہیں ”۔ لہٰذا اس آیت کا اطلاق ان لوگوں پر بھی ہوتا ہے جو جزیرۃ العرب میں ایمان لانے کے بعد بھی شرک کرتے تھے اور آپ کے بعد آنے والے لوگوں پر بھی ہوتا ہے جو ایمان تو لاتے ہیں مگر پھر بھی کسی نہ کسی طرح شرک کرتے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ وہ کیا چیز ہے کہ ہدایت سے اعراض کرنے والے یہ لوگ اس سے امیدیں وابستہ کیے ہوئے ہیں اور آیات قرآنیہ کے بعد آیات کونیہ سے بھی وہ منہ موڑ رہے ہیں۔ آخر وہ کیا سہارا ہے ؟ کیا یہ خدا کا خوف نہیں کرتے۔
افا منوا ان۔۔۔۔۔۔ لا یشعرون (12 : 107) “ کیا یہ مطمئن ہیں کہ خدا کے عذاب کی کوئی بلا انہیں دبوچ نہ لے گی یا بیخبر ی میں قیامت کی گھڑی اچانک ان پر نہ آجائے گی ”۔ یہ ان کے شعور کے تاروں پر ایک قوی ضرب ہے ، تا کہ وہ خواب غفلت سے جاگیں اور اس غفلت کے انجام بد سے ڈریں ، کیونکہ عذاب الٰہی کا وقت کسی کو معلوم نہیں ہے ، وہ تو کسی بھی وقت نازل ہو سکتا ہے ۔ وہ کسی بھی وقت ان کو دبوچ سکتا ہے اور یہ عذاب عمومی بھی ہو سکتا ہے اور یہ عذاب اس خوفناک دن کی شکل میں بھی ہو سکتا ہے جو اچانک نمودار ہوجائے گا اور کسی کو اس کا شعور تک نہ ہوگا۔ عالم غیب کے دروازے تو بند ہیں ، پردۂ غیب کے پیچھے کیا ہے ، کسی کان کو خبر نہیں ، کوئی آنکھ دیکھ نہیں سکتی۔ کسی کو معلوم نہیں کہ اگلے لمحے کیا ہونے والا ہے ، لہٰذا ایک ذی ہوش شخص کس طرح غافل رہ سکتا ہے ؟
جب رسول خدا ﷺ کی رسالت کے دلائل سے قرآن کریم بھرا پڑا ہے۔ جب اس کائنات کا ذرہ ذرہ شاہد ہے کہ اس کا ایک واحد خالق ومالک ہے اور یہ لوگ اس کائنات کو بھی دیکھ رہے ہیں اور قرآن کو بھی سمجھتے ہیں کہ وہ عرب ہیں ، اور پھر بھی یہ اللہ کے ساتھ پوشیدہ یا ظاہری شرک کرتے ہیں اور لوگوں کی اکثریت اس مرض اور غفلت کا شکار ہے تو پھر رسول اللہ ﷺ کے لئے اس کے سوا اور کیا راستہ رہ جاتا ہے کہ وہ اپنی راہ پر گامزن رہیں اور آپ کے پیروکار بھی اپنے نصب العین کی طرف بڑھتے رہیں ، وہ کسی کے عمل اور کسی کی بات سے متاثر نہ ہوں اور انحراف کرنے والوں کی طرف نہ دیکھیں۔
Ayah 12:108آیت نمبر 108
ھذہ سبیلی ، “ یہ ہے میرا راستہ ”۔ یہ ایک راستہ ہے ، یہ سیدھا راستہ ہے ، اس میں کوئی ٹیڑھ نہیں ہے ، اور اس کے احکام و قوانین میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔
ادعوا الی ۔۔۔۔۔۔ ومن اتبعنی “ میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں ، میں خود بھی پوری روشنی میں اپنا راستہ دیکھ رہا ہوں اور میرے ساتھ بھی ”۔ یعنی ہمیں اللہ کی راہنمائی حاصل ہے اور ہمیں اس کی طرف سے روشنی دی گئی ہے۔ ہمیں اپنا راستہ اچھی طرح معلوم ہے اور ہم بصیرت و بصارت کے ساتھ اس پر چل رہے ہیں۔ ہمیں بھٹکنے کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔ اور نہ کسی سے پوچھنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہی راستہ ہے اسے ہم روشنی میں دیکھ بھی رہے ہیں۔ ہم اللہ کو ان چیزوں سے پاک سمجھتے ہیں جو اس کے شایان شان نہیں ہیں اور ہم ان سے جدا اور ممتاز اور قطع تعلق کرنے والے ہیں جو اللہ کے ساتھ شرک کرتے ہیں۔ وما انا من المشرکین “ اور میں شریک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں ”۔ نہ ظاہری شرک کرنے والوں میں سے اور نہ باطنی شرک کرنے والوں میں سے۔ یہ ہے براہ راست پس جو چاہے اسے قبول کرلے اور جو چاہے اس سے انکار کر دے ۔ میں تو بہرحال اسی راہ پر چلوں گا کیونکہ یہی سیدھی راہ ہے۔
یہاں داعیان حق کو ایک بات نوٹ کرلینا چاہئے یہ کہ وہ اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیں کہ انہوں نے دو ٹوک بات کرنی ہے ، ان کو اعلان کرنا ہے کہ وہ ایک علیحدہ امت ہیں۔ وہ ان لوگوں سے بالکل جدا ہیں جو ان کے نظریات کو من و عن تسلیم نہیں کرتے ۔ جو ان کے مسلک اور طریق کار کے مطابق چلتے نہیں ، یا جو ان کی قیادت کو تسلیم نہیں کرتے ، انہیں جاہلی معاشرے سے چھٹ کر علیحدہ ہوجانا چاہئے ، پوری طرح علیحدہ۔ داعیان حق کا صرف یہی فریضہ نہیں ہے کہ بس وہ دعوت دین کا حق ادا کردیں اور پھر اپنے اردگرد پھیلے ہوئے جاہلی معاشرے میں گھل مل جائیں۔ اس قسم کی دعوت کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ ان کو صاف صاف اعلان کرنا ہوگا۔ کہ وہ جاہلیت سے ممتاز کچھ علیحدہ لوگ ہیں۔ ان کو ایک نظریہ کی بنیاد پر علیحدہ اجتماعیت اور تنظیم کی بنیاد رکھنی ہوگی اور ایک اسلامی قیادت کے نام اور عنوان سے منظم ہونا ہوگا۔ اور اس جاہلی معاشرے سے پوری طرح علیحدہ ہونا ہوگا۔ ان کی قیادت کو بھی ایک جاہلی قیادت سے ممتاز ہونا ہوگا۔
کسی جاہلی معاشرے میں گھل مل جانا اور جاہلی قیادت کے تحت زندگی بسر کرنا ، اسلامی نظریہ حیات کی قوت اور جوش کو ٹھنڈا کردیتا ہے۔ اور ان کی دعوت کے تمام اثرات زائل ہوجاتے ہیں۔ اور دعوت اسلامی کے اندر وہ جاذبیت نہیں رہتی جو اس صورت میں ہوتی ہے جب اسلامی نظام قائم ہو۔
یہ حقیقت صرف اسی وقت حقیقت نہ تھی جب حضور اکرم ﷺ مشرکین مکہ کے جاہلی معاشرے میں کام کر رہے تھے بلکہ جب بھی جاہلیت غالب ہوگی اور کوئی اسلامی تحریک اس کے خلاف جدو جہد شروع کرے گی تو اس کے خلاف ایسا ہی کرنا ہوگا۔ اس وقت بیسویں صدی کی جو جاہلیت چھائی ہوئی ہے ، وہ ان تمام جاہلیتوں کی طرح ہے جن کے خلاف انسانی تاریخ میں انبیاء کی اسلامی تحریکات نے کام کیا ، سب کے خدو خال ایک جیسے ہیں۔
وہ لوگ جن کے ذہنوں میں یہ خیال خام جاگزیں ہے کہ وہ موجودہ جاہلی معاشرے کے اندر رہ کر ، اور موجودہ جاہلی معاشرے کے طور طریقے اپنا کر اور ان جاہلی سو سائٹیوں کے اندر رہ کر نہایت ہی نرم انداز تبلیغ سے اسلام کی دعوت دیں گے اور کسی نتیجے تک پہنچ جائیں گے وہ کھلی خام خیالی میں مبتلا ہیں۔ وہ اسلامی نظریہ حیات اور اسلامی عقائد کو سرے سے سمجھے ہی نہیں اور ان کو معلوم ہی نہیں کہ اسلامی نظریہ حیات دلوں میں کس طرح اترتا ہے۔ تمام جاہلی نظریات کے حامل لوگ اپنے نصب العین ، اپنے طریقہ کار اور اپنا نام اور عنوان نہایت ہی واضح طور پر بتاتے ہیں اور اعلانیہ اپنے مقاصد کے لیے کام کرتے ہیں۔ کیا داعیان اسلام ہی رہ گئے ہیں جو چھپ چھپا کر کام کریں گے ۔ حالانکہ ان کے کام کے لئے ایک طریقہ کار وضع شدہ ہے اور وہ جاہلیت کے طریقہ کار سے ممتاز ہے۔
٭٭٭
اب ایک نکتہ توجہ طلب ہے کہ رسولوں اور رسالتوں کے بارے میں اللہ کی سنت کیا ہے ؟ اور یہ کہ بعض سابقہ اقوام کا جو انجام ہوا اس میں بعد میں آنے والوں کے لیے کیا عبرت ہے ؟ حضرت محمد ﷺ کوئی پہلے نبی نہیں ہیں۔ آپ سے قبل بھی رسول آئے اور انہوں نے اپنی رسالت پیش کی۔ اس سے قبل جن لوگوں نے ناحق تکذیب کی ، ان کا انجام تمہارے لیے سبق آموز ہے۔
Ayah 12:109آیت نمبر 109
سابقہ اقوام کی تاریخ میں بعد میں آنے والوں کے لیے عبرت ہوتی ہے۔ اس لئے بعد میں آنے والوں کو چاہئے کہ وہ سابقین کی تاریخ کا مطالعہ کریں۔ اس سے دل نرم ہوجاتے ہیں یہاں تک کہ بڑے بڑے ڈکٹیٹروں کے دلوں میں خوف پیدا ہوجاتا ہے۔ جب اقوام سابقہ کی سرگرمیوں اور ان کی چلت پھرت کو اپنے تخیل میں زندہ کیا جاتا ہے۔ یہ دیکھا جاتا ہے کہ یہ لوگ اپنی اپنی شان و شوکت ہے اور پھر پردۂ خیال پر یہ دور آتا ہے کہ وہ دیکھو یہ لوگ تو نیست و نابود ہوگئے اور مرمٹ گئے ، بغیر حس و حرکت پڑے ہیں اور مٹی میں مل گئے ہیں۔ ان کے وہ شہر اور بستیاں کھنڈرات کی شکل اختیار کر گئیں اور ان کے ساتھ ان کا علم و ثقافت اور ان کی چلت اور پھرت اور ان کا عروج اور ان کے افکار بھی مر مٹ گئے تو ایسے تخیلات اور غوروفکر سے انسانوں کے دل دہل جاتے ہیں اور غافل سے غافل انسان کے بھی مارے خوف کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم لوگوں کو امم سابقہ کے عروج وزوال کی کہانیاں سناتا ہے اور ان کو لے جا کر ان کھنڈرات میں گھماتا ہے جو ان اقوام کی داستانیں سناتے ہیں۔
وما ارسلنا۔۔۔۔۔ القری (12 : 109) ” تم سے پہلے جو ہم نے پیغمبر بھیجے تھے وہ سب بھی انسان تھے اور انہی بستیوں کے رہنے والے تھے اور انہی کی طرف ہم وحی بھیجتے رہے “۔ یعنی وہ نہ ملائکہ اور فرشتے تھے اور نہ وہ کوئی اور انوکھی مخلوق تھے ، بلکہ اے پیغمبر وہ تو آپ ہی جیسے انسان تھے۔ شہری تھے ، دیہاتی نہ تھے تا کہ وہ سلجھے ہوئے ہوں اور نرمی سے بات سنیں۔ لہٰذا آپ دعوت اسلامی کی راہ میں پیش آنے والی مشکلات کو برداشت کرنے کی سعی کریں اور لوگوں کو راہ راست دکھاتے رہیں۔ آپ کی تحریک اور دعوت بھی اسی سنت الٰہی پر قائم ہے جس کے مطابق اللہ نے تمام انبیاء کو بھیجا۔ یہ لوگ بشر تھے اور ان کی طرف خدا کا پیغام وحی کیا گیا تھا ؟
افلم یسیروا ۔۔۔۔۔ من قبلھم (12 : 109) ” پھر کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں کہ ان قوموں کا انجام نظر نہ آیا ، جو ان سے پہلے گزر چکی ہیں “۔ تا کہ وہ جان سکیں کہ ان کا انجام بھی وہی ہونے والا ہے جیسا کہ ان کا ہوا۔ الا یہ کہ سنت الٰہیہ انہیں اپنی گرفت میں لینے ہی والی ہے اور تا کہ وہ یہ سمجھتے کہ اس دنیا سے تو جانا ہی ہے۔
ولدارالاخرۃ خیر للذین اتقوا (12 : 109) ” یقیناً آخرت کا گھر ان لوگوں کے لئے زیادہ بہتر ہے جنہوں نے تقوی کی روش اختیار کی “۔ اس لئے کہ اس جہان میں تو قرار نہیں ہے ، یہاں سے تو جانا ہی ہے۔
افلا تعقلون (12 : 109) ” کیا اب بھی تم لوگ نہیں سمجھتے “۔ کیا تم لوگ انسانی تاریخ میں سنت الٰہیہ کے عمل کو سمجھتے نہیں۔ اور کیا تمہاری عقل ایسے معاملے میں بھی معقول فیصلہ نہیں کرسکتی کہ ایک چیز فانی ہے اور ایک باقی ہے اور فانی پر باقی کو ترجیح دینا چاہئے۔
اب رسولوں کی زندگی کی بعض مشکل گھڑیوں کا ذکر کیا جاتا ۔ اور یہ مشکل مقامات آخری فتح سے قبل آیا کرتے ہیں۔ یہ مشکلات اللہ کی سنت کا حصہ ہیں اور یہ داعی کو درپیش آتی ہیں کیونکہ سنت الٰہیہ ٹلنے والی نہیں ہوتی ۔
Ayah 12:110آیت نمبر 110
یہ نہایت ہی خوفناک صورت حال ہے۔ یہاں رسولوں کی زندگیوں کے نہایت ہی کربناک ، تنگی اور شدید مشکل حالات کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ ایسے حالات کہ ان میں رسول کفر ، انکار ، ہٹ دھرمی اور کھلے اندھے پن کا مقابلہ کرتے رہے ہیں۔ دن یوں ہی گزرتے گئے مگر رسولوں نے کبھی بھی دعوت کو نہیں چھوڑا اور لوگ بھی انکار کرتے رہے۔ روز و شب کا سلسلہ یوں ہی چلتا رہا اور باطل دندندتا رہا۔ اہل باطل بہت ہی کثرت سے رہے اور اہل ایمان قلیل اور ضعیف رہے۔
کس قدر سخت حالات ہیں ، باطل ہانپ رہا ہے ، سرکشی اور طغیانی کا ارتکاب کر رہا ہے ، اور ظلم وعدوان اس کا شعار ہے۔ رسول ان حالات میں اللہ کے وعدے کا انتظار کرتے ہیں۔ لیکن اللہ کا وعدہ سامنے نہیں آرہا ہے۔ ان حالات میں ان کے دلوں میں طرح طرح کے وسوسے آرہے ہیں۔ تم دیکھتے ہو کہ انہیں مسترد کردیا گیا ، تم دیکھتے ہو کہ بظاہر ان کا یہ نظریہ مسترد کردیا گیا کہ اس دنیا میں ان کو کامیابی نصیب ہوگی۔ لیکن یہ کامیابی حاصل نہ ہوئی۔
کوئی بھی رسول جب ایسے حالات سے دو چار ہوتا ہے تو اس وقت تنگی ، شدت اور کرب اور اذیت اس کے لئے ناقابل برداشت ہوتی ہے ۔ یہ آیت اور اس کے ساتھ ساتھ جب سورة بقرہ کی درج ذیل آیت میں پڑھتا ہوں۔
ام حسبتم ان ۔۔۔۔۔۔ نصر اللہ۔ (2 : 214) “ کیا تم یہ گمان کرتے ہو کہ تم جنت میں داخل ہوجاؤ گے اور تمہیں وہ حالات پیش نہ آئیں گے جو ان لوگوں کو پیش آئے جو تم سے پہلے گزرے ہیں۔ ان کو سخت مصیبت اور تکلیف نے چھوا اور وہ یہاں تک جھنجھوڑے گئے کہ رسول اور وہ لوگ جو اس پر ایمان لائے تھے پکار اٹھے کہ کب آئے گی اللہ کی نصرت ؟ ”
جب بھی ان دو آیات میں سے کوئی آیت پڑھتا ہوں تو میں مارے خوف کے کانپ اٹھتا ہوں کہ رسولوں کو کس قدر جان کن مشکلات کا مقابلہ کرنا پڑا ، ایسے مشکل حالات میں انسان طرح طرح کے وسوسوں کا شکار ہوتا ہے ، ایک تسلسل کے ساتھ تکلیف دہ اور ہلا مارنے والے حالات سے دو چار ہوتا ہے جن میں رسول تک متزلزل ہوجاتے ہیں ، ایک کربناک نفسیاتی کشمکش سے انسان دو چار ہوتا ہے اور ایک ناقابل برداشت اذیت ہر وقت پیچھا کرتی رہتی ہے۔
ایسے حالات میں جن میں یہ رنج و غم مسلسل نظر آتا ہے اور کلیجہ منہ کو آجا تا ہے اور رسول اور اس کی جماعت اپنی پوری قوت صرف کردیتی ہے ، تو ایسے حالات میں اللہ کی نصرت آجاتی ہے۔ اور ایسے حالات میں جو نصرت آتی ہے وہ فیصلہ کن ہوتی ہے۔ جاءھم نصرنا فنجی من نشاء ولا یرد باسنا عن القوم المجرمین (12 : 110) “ یکایک ہماری مدد پیغمبروں کو پہنچ گئی۔ پھر جب ایسا موقع آجاتا ہے تو ہمارا قاعدہ یہ ہے کہ جسے ہم چاہتے ہیں ، بچا لیتے ہیں اور مجرموں پر سے تو ہمارا عذاب ٹالا ہی نہیں جا سکتا ”۔ یہ ہے دعوت اسلامی کے بارے میں اللہ کی سنت۔ اس راہ میں مشکلات کا آنا ضروری ہے۔ کربناک حالات سے دوچار ہونا ضروری ہے۔ یہاں تک کہ تحریک اسلامی اپنی پوری قوت اس راہ میں خرچ کردے۔ اس کی قوت اور طاقت کا پورا حصہ صرف ہوجائے اور نہایت ہی مایوس کن حالات ظاہر ہوجائیں اور ظاہری اسباب جن پر لوگ تکیہ کرتے ہیں ، ایک کے بعد ایک غائب ہوجائیں ، ایسے حالات میں پھر صرف من جانب اللہ نصر آتی ہے اور وہی لوگ نجات پاتے ہیں جن کے بارے میں اللہ کا کوئی حکم ہوتا ہے اور تحریک اسلامی کے مخالفین پر پھر ہلاکت آتی ہے ، اس سے وہ لوگ بچ جاتے ہیں جو نجات کے مستحق ہوتے ہیں ، اور ان پر وہ ہلاکت نہیں آتی جو مکذبین پر آتی ہے۔ یوں ایسے لوگ اس جبر اور تشدد کے ماحول سے نجات پاتے ہیں جو ظالموں اور جابروں نے ان پر مسلط کردیا ہوتا ہے۔ اب مایوسی اور بےبسی مجرموں کے حصے میں آتی ہے۔ ان کو تباہ و برباد کردیا جاتا ہے اور ان کی قوت پاش پاش ہوجاتی ہے۔ اب نہ ان کا کوئی ولی ہوتا ہے نہ مددگار ”۔
یہ سنت کیوں وضع کی گئی ہے ؟ اس لیے کہ فتح و نصرت بےقدر نہ ہو۔ وہ محض مذاق نہ ہو ، اگر قربانیوں کے بغیر فتح و نصرت ہاتھ آجایا کرتی تو ہر کوئی اٹھ کر داعی بن جاتا اور کوئی قربانی دئیے بغیر وہ کامیابی سے ہمکنار ہوجاتا یا معمولی جدو جہد سے وہ انقلاب برپا کردیتا۔ اس لیے اللہ نے دعوت اسلامی کو محض کھیل تماشے کی طرح آسان نہیں رکھا۔ دعوت اسلامی کا مقصد پوری زندگی کے طور پر طریقوں میں انقلاب برپا کرنا ہے۔ اور یہ انقلاب وہ لوگ نہیں برپا کرسکتے جو محض دعویٰ ہی کریں ، اس کی پشت پر کوئی قربانی نہ ہو۔ ایسے لوگ دعوت اسلامی کی راہ میں دی جانے والی قربانیاں نہیں برداشت کرسکتے۔ ایسے لوگ پہلے تو دعوت اسلامی جیسے مشکل کام میں ہاتھ نہیں ڈالتے لیکن اگر یہ غلطی کر بھی بیٹھیں تو وہ اس کا حق ادا نہیں کرسکتے اور جلد ہی عاجز آ کر اسے چھوڑ دیتے ہیں۔ جب راہ حق میں مشکلات آتی ہیں تو صرف صادق اور اولوالعزم لوگ ہی ان کا مقابلہ کرتے ہیں جو کسی حال میں بھی دعوت اسلامی کی راہ نہیں چھوڑتے اگرچہ ان کو یقین ہوجائے کہ اس جہان میں ان کو کامیابی نہ ہوگی۔
دعوت اسلامی کوئی ایسا سودا نہیں ہے جو ایک محدود وقت کے لئے ہو ، نیز اس سودے کا منافع بھی اس دنیا کی محدود زندگی تک موقوف نہیں ہے اور یہ بھی ممکن نہیں ہے کہ یہ سودا کرنے والے لوگ اس کا اقالہ کر کے کسی اور نفع بخش سودے کے لئے تیار ہوجائیں ، جس سے ان کو اس دنیا میں جلدی نفع مل جائے۔ جو ۔۔۔ لوگ دعوت اسلامی کا علم کسی بھی جاہلی معاشرے میں بلند کرتے ہیں (اور یاد رہے کہ جاہلی معاشرہ ہر وہ معاشرہ ہوتا ہے جس میں اللہ کے احکام کی اطاعت نہ ہو ، اور اللہ کے سوا اور طاغوتوں کی اطاعت کی جاتی ہو ) ایسے لوگوں کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ تحریک کا کارکن ہونا کوئی تفریح کا کام نہیں ہے ، نہ یہ کام دنیا کے مفاد کا کوئی تجارتی عمل ہے۔ یہ تو ان طاغوتی قوتوں کے ساتھ کشمکش پیہم کا معاملہ ہے جو افراد اور مالی قوت رکھتی ہیں اور ان طاغوتی قوتوں نے جمہور کو اس طرح دبا رکھا ہے کہ وہ سفید کو سیاہ اور سیاہ کو سفید کہتی ہیں۔ اور عوام بےبس ہیں۔ پھر یہ قوتیں اس قدر بااثر ہیں کہ یہ عوام کا لانعام کو اسلامی تحریکوں پر کتوں کی طرح چھوڑ دیتی ہیں اور عوام کے اندر ان کا طریقہ واردات یہ ہوتا ہے کہ لوگو ! یہ لوگ تم کو ہر قسم کی تفریح اور عیاشی سے محروم کردیں گے اور زندگی کی رنگا رنگی ختم کر کے چھوڑ دیں گے۔۔۔۔ غرض دعوت اسلامی کے حاملین کا فرض ہے کہ وہ سمجھ لیں کہ اس راہ میں کانٹے ہی کانٹے ہیں ، اور پھر اس مشکلات کو انگیز کرنے کا عمل مزید مشکل ہے۔ لہٰذا قاعدہ یہ ہے کہ ابتداء میں تحریک اسلامی کے کارکن اولو العزم لوگ ہی ہوا کرتے ہیں۔ عامۃ الناس اس تحریک سے دور بھاگتے ہیں۔ معاشرے کے چیدہ ، پسندیدہ اور اولوالعزم لوگ ہی اس طرف آتے ہیں۔ یہ لوگ اقامت دین پر اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لئے تیار ہوتے ہیں ان دنیا کا سب آرام اور سامان قربان کرنے کے لئے تیار ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ابتداء میں ایسے لوگ قلیل ہوتے ہیں ، لیکن اللہ ایسے لوگوں اور ان کی قوم کے درمیان حق پر فیصلہ فرماتے ہیں اور یہ حق تب ظاہر ہوتا ہے جب اس کے لئے طویل جدو جہد کی جائے اور جب حق آتا ہے ، فیصلہ ہوجاتا ہے ، فتح حاصل ہوجاتی ہے تو جمہور لوگ اس میں داخل ہوتے ہیں۔
قصہ یوسف (علیہ السلام) میں رنگا رنگ مشکلات ہیں جن سے یہ داعی دو چار ہوتا ہے۔ اندھے کنویں میں ان کو ڈالا جاتا ہے۔ عزیز مصر کے گھر وہ ملازم اور غلام کی طرح رہتے ہیں۔ پھر ناحق جیل جاتے ہیں اور لوگوں کی امداد سے مایوس ہوتے ہیں لیکن آخری انجام انہیں لوگوں کے حق میں ہوتا ہے۔ جو ایمان لاتے ہیں اور تقویٰ کی راہ اختیار کرتے ہیں جیسا کہ اللہ نے فرمایا اور اللہ کا وعدہ ہر حال میں سچا ہوتا ہے ۔ قصہ یوسف قصص انبیاء میں سے ایک اہم نمونہ ہے اور ہر عقل رکھنے والے کے لئے اس میں سبق ہے۔ اس میں یہ سبق بھی ہے کہ حضرت محمد ﷺ انبیائے سابقہ کے حالات سے خبردار نہ تھے لیکن اس قصے میں یہ تفصیلات دی گئیں ، اس لیے یہ دلیل ہے صداقت قرآن پر ، ورنہ کسی کے لئے ممکن نہیں کہ وہ ایسے حالات اپنی طرف سے گھڑ کر بنائے اور وہ حرف بحرف درست ہوں اور مصنوعی کہانیوں پر دل مومن کبھی مطمئن نہیں ہوتا۔
Ayah 12:111آیت نمبر 111
ذرا غور کیجئے ، سورة کا آغاز اور اختتام کس قدر ہم آہنگ ہیں۔ اس طرح قصے کا آغاز و اختتام بھی باہم ۔۔۔۔ ہیں۔ قصے کے آغاز میں بھی نتائج اخذ کیے گئے ہیں۔ اس کے درمیان بھی عبرت آموزی کی گئی ہے اور اس کے آخر میں بھی نتائج اخذ کیے گئے ہیں اور مضمون اور موضوع باہم پیوست و ہم آہنگ ہے۔ طرز ادا اور فقرے موزوں ، فنی اعتبار سے قصہ نہایت ہی پرکشش ہے۔ لیکن ان سب خصوصیات کے ساتھ واقعات حقیقت پر مبنی ہیں اور کوئی مبالغہ نہیں ہے۔
یہ قصہ ایک ہی سورة میں پوری طرح بیان ہوجاتا ہے ۔ یک جا پورے کا پورا۔ اس لیے کہ اس قصے کی نوعیت ہی ایسی ہے کہ یہ یکجا ہو۔ کیونکہ واقعات آہستہ آہستہ رونما ہوتے ہیں۔ ایک دن کے بعد دوسرا دن آتا ہے۔ ایک مرحلے کے بعد دوسرا مرحلہ آتا ہے ، اس لیے اس سے نتائج صرف اسی صورت میں اخذ کیے جاسکتے تھے کہ قصے کو پوری شکل میں ایک سورة میں دے دیا جائے۔ اگر دوسرے قصص کی طرح اس کے صرف بعض حلقے ہی لائے جاتے تو اس طرح وہ نتائج اخذ نہ ہو سکتے تھے جو مکمل قصہ کی شکل میں سامنے آتے ہیں دوسرے قصص کا انداز قرآن میں مختلف رہا ہے۔ مثلاً بلقیس یا قصہ تخلیق مریم۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کا واقعہ ، حضرت نوح (علیہ السلام) کے طوفان کا واقعہ ، کیونکہ یہ ان قصوں کے بعض حلقے اپنی جگہ مکمل حصے اور کڑیاں ہیں اور ان سے ایک مستقل سبق ملتا ہے۔ لیکن قصہ یوسف ایسا ہے کہ اس کو مکمل طور پر ایک ہی نشست میں پڑھنا ضروری ہے اور ابتداء سے انجام تک ایک ہی جگہ اس کا بیان بھی ضروری ہے۔
نحن نقص علیک ۔۔۔۔۔ الغفلین (12 : 3) “ ہم اس قرآن کو تمہاری طرف وحی کر کے بہترین پیرائے میں واقعات و حقائق (قصص) تم سے بیان کرتے ہیں ورنہ اس سے پہلے تم بالکل بیخبر تھے ”۔