Ayah 12:11اب یہ لوگ اپنے باپ کے پاس پہنچ جاتے ہیں اور انہیں آمادہ کر رہے ہیں کہ یوسف کو ان کے ساتھ جانے دیں۔ اب وہ باپ کو دھوکہ دے رہے ہیں ، یوسف کے خلاف سازش کر رہے ہیں ، ذرا براہ راست ان کی بات سنیں۔
اس قرار داد پر انہوں نے اپنے باپ سے کہا : ابا جان کیا بات ہے کہ آپ یوسف کے معاملے میں ہم پر بھروسہ نہیں کرتے حالانکہ ہم اس کے سچے خیر خواہ ہیں۔ کل اسے ہمارے ساتھ بھیج دیجئے ، کچھ چر چگ لے گا ، اور کھیل کود سے بھی دل بہلائے گا۔ ہم اس کی حفاظت کو موجود ہیں۔ کل اسے ہمارے ساتھ بھیج دیجئے ، کچھ چر چگ لے گا ، اور کھیل کود سے بھی دل بہلائے گا۔ ہم اس کی حفاظت کو موجود ہیں۔ باپ نے کہا تمہارا اسے لے جانا مجھے شاق گزرتا ہے اور مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں اسے بھیڑیا نہ پھاڑ کھائے جبکہ تم اس سے غافل ہو۔ انہوں نے جواب دیا اگر ہمارے ہوتے اسے بھیڑئیے نے کھالی تو ہم بڑے نکمے ہوں گے۔
قَالُوْا يٰٓاَبَانَا مَالَكَ لَا تَاْمَنَّا عَلٰي يُوْسُفَ : " کیا بات ہے کہ آپ یوسف کے معاملے میں ہم پر بھروسہ نہیں کرتے " یہ ایک سوال ہے لیکن اس میں ایک خفیہ خباثت ، غصہ اور ناگواری بھی ہے۔ لیکن وہ باپ کو آمادہ بھی کر رہے ہیں کہ وہ ان پر اعتبار کرتے ہوئے یوسف کو ان کے حوالے کردیں ، حضرت یعقوب کی عادت یہ تھی کہ وہ یوسف کو ساتھ ہی رکھتے تھے اور جب ان کے دوسرے بیٹے کسی دور دراز کی مہم پر جاتے تھے تو درازی سفر ، مشکلات سفر اور مشقت مہم کی وجہ سے یوسف کو ساتھ جانے نہ دیتے تھے کیونکہ وہ چھوٹا اور یہ بڑے تھے۔ انہوں نے نہایت ہی مکارانہ انداز میں گفتگو کرتے ہوئے باپ کو یہ تاثر دیا کہ شاید وہ ہم پر یوسف کے معاملے میں اعتماد نہیں کرتے۔ حالانکہ ہمارے سب کے باپ ہیں اور یوسف بھائی ہیں۔ نہایت ہی مکارانہ انداز میں وہ بدگمانی کی نفی کر رہے ہیں۔ ذرا ان کی اس خبیث چال پر ایک بار پھر نظر ڈالیں۔
مَالَكَ لَا تَاْمَنَّا عَلٰي يُوْسُفَ وَاِنَّا لَهٗ لَنٰصِحُوْنَ : " کیا بات ہے کہ آپ یوسف کے معاملے میں ہم پر بھروسہ نہیں کرتے حالانکہ ہم اس کے سچے خیر خواہ ہیں "۔ ہمارے دل تو صاف ہیں۔ ان میں کوئی کھوٹ نہیں ہے۔ ہماری نیت صفا ہے اور ہم مخلص ہیں ، یہاں ان کی جانب سے اخلاص اور صفائی کا دعوی اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ نہایت ہی گہری چال چل رہے ہیں اور حد درجہ دھوکے باز ہیں۔
Ayah 12:12یہ لوگ نہایت ہی تاکیدی الفاظ استعمال کر رہے ہیں۔ اور یوسف کو اس سفر میں جو خوشیاں ملنے والی ہیں ان کی خوب تصویر کشی کر رہے ہیں کہ وہ خوش ہوں گے ، ورزش کریں گے ، یوں وہ دھوکہ دے کر والد کو آمادہ کر رہے ہیں کہ وہ یوسف کو ان کے ساتھ بھیج دیں۔
ان کی اس چرب زبانی کا حضرت یعقوب بھی یہ جواب دیتے ہیں کہ یہ بات نہیں ، کہ میں تم پر اعتماد نہیں کرتا بلکہ اصل خطرہ یہ ہے کہ علاقے میں بھیڑیے زیادہ ہیں اور میں یہ خطرہ محسوس کرتا ہوں کہ کہیں اسے کوئی بھیڑیا نہ کھالے۔
Ayah 12:13یعنی تمہارا لے جانا مجھے شاق گزرتا ہے اور میں اس کی جدائی برداشت نہیں کرسکتا۔ یہی وہ بات جو ان کے دلوں میں کینہ کی آگ دہکا رہی ہتھی کہ اباجان یوسف کو ہر وقت ساتھ رکھتے ہیں اور کسی وقت بھی اپنے سے جدا نہیں کرتے اگرچہ ایک دن کے لیے کیوں نہ ہو۔ حالانکہ وہ اسے سیر و تفریح کے لیے لے جا رہے ہیں۔
حضرت یعقوب نے کہا کہ مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں اسے بھیڑیا نہ کھالے جبکہ تم غافل ہو۔ در اصل وہ کینہ اور حسد کی وجہ سے اس قدر اندھے ہوگئے تھے کہ وہ سوچتے بھی نہ تھے کہ آخر یوسف کے قتل کے بعد وہ جواب کیا دیں گے ، لیکن حضرت یعقوب کے اس اندیشے نے ان کو عذر بتا دیا۔
Ayah 12:14اب انہوں نے اس اندیشے کا رد کرنے کے لیے پھر نہایت ہی موثر اسلوب اختیار کیا ، کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ اس قدر جتھے کے ہوتے ہوئے بھی کوئی بھیڑیا یوسف کو پھاڑ کھائے۔ یہ کیسے ممکن ہے ورنہ ہم تو بہت ہی نکمے اور خسارے میں ہوں گے۔
اس مکالمے کے نتیجے میں حضرت یعقوب اپنے تمام اندیشوں کے باوجود مجبور ہوگئے کہ وہ یوسف کو ان کے ساتھ چھوڑ دیں اور یوں تقدیر الٰہی کے مطابق قصے کی مزید کڑیاں ظہور پذیر ہوں۔
Ayah 12:15اب یہ لوگ انہیں لے کر جا رہے ہیں اس مکروہ سازش پر یہ لوگ عمل پیرا ہورہے ہیں اور اللہ تعالیٰ اس بچے کے دل میں یہ بات ڈال رہا ہے کہ یہ ایک آزمائش ہے اور یہ ختم ہونے والی ہے اور یہ کہ انشاء اللہ وہ زندہ رہے گا اور اپنے غافل بھائیوں کو اس کے بارے میں خود بتائے گا۔
ان کے درمیان یہ بات طے پاگئی کہ اب یوسف کو کنوئیں میں ڈالنا ہے ، جہاں وہ ان کی نظروں سے دور رہے گا۔ اب ہر شخص یہ سوچ سکتا ہے کہ اس وقت یوسف پر کیا گزری ہوگی کہ یہ سب بھائی مل کر اس کمزور بچے کو کنوئیں میں ڈال رہے ہوں گ۔ جس کو اپنی موت قریب نظر آرہی ہوگی اور بھائیوں کی نظریں بدل گئی ہوں گی ، اس عالم بےبسی و بےکسی میں اب صرف اللہ کی مدد آتی ہے اور اللہ ان کے دل میں اطمینان اور سکینت ڈال دیتے ہیں کہ تم زندہ رہوگے ، ان کو بتاؤ گے کہ تم نے کیا کیا تھا ، اور ایسے حالات میں جبکہ کنوئیں میں ڈالا جانے والا یہ بچہ اب مملکت کا فرمانروا ہوگا۔
Ayahs 12:16–17اب ہم یوسف کو اس اندھے کنوئیں میں چھوڑ کر ذرا کنعان چلتے ہیں۔ یہ اب اللہ کی حمایت اور کفالت میں ہیں جب تک کہ اللہ ان کو وہاں سے نکال نہیں دیتا۔ اب پردہ گرتا ہے اور یہ لوگ اس قدر برا کام کرنے کے بعد اب والد کے سامنے کھڑے ہیں ذرا ملاحظہ کریں ان کی بہانہ سازی :
شام کو وہ روتے پیٹتے اپنے باپ کے پاس آئے۔ اور کہا " ابا جان ہم دوڑ کا مقابلہ کرنے لگ گئے تھے اور یوسف کو ہم نے اپنے سامان کے پاس چھوڑ دیا تھا کہ اتنے میں بھیڑیا آکر اسے کھا گیا۔ آ ہماری بات کا یقین نہ کریں گے چاہے ہم سچے ہی ہوں۔ اور وہ یوسف کی قمیص پر جھوٹ موٹ کا خون لگا کرلے غائے تھے۔ یہ سن کر ان کے باپ نے کہا " بلکہ تمہارے نفس نے تمہارے لیے ایک بڑے کام کو آسان بنا دیا۔ اچھا صبروں کروں گا اور بخوبی صبر کروں گا ، جو بات تم بنا رہے ہو ، اس پر اللہ ہی سے مدد مانگی جاسکتی ہے۔
ان کے دل میں کینے کی آگ جل رہی تھی اور یہ لوگ جھوٹ پر جھوٹ گھڑ رہے تھے۔ اگر ان کو اپنے اعصاب پر ذرا بھی کنٹرول ہوتا تو وہ ایسا ہرگز نہ کرتے ، وہ اس مکروہ سازش کا آغاز ہی نہ کرتے اور جب حضرت یعقوب نے ان پر اعتماد کرکے یوسف کو ان کے ساتھ رخصت کردیا تھا تو ان کو باز آجانا چاہیے تھا۔ لیکن یوسف اب ان کی برداشت سے باہر ہوگئے تھے۔ اور وہ یہی سمجھ رہے تھے کہ ان کے لیے اس سیاہ کارنامے کے سرانجام دینے کے لیے یہ بہترین موقعہ ہے۔ پھر ان کو خود حضرت یعقوب کی زبانی بھیڑئیے کا بہانہ بھی مل گیا تھا اور ان کی جلد بازی اور کچے پن کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہوسکتا ہے کہ انہوں نے باپ کے اندیشے کے سوا کوئی اور بہانہ بھی نہ بنایا ، کہ کل ہی تو حضرت یعقوب اس بہانے سے انہیں ڈراتے تھے اور یہ لوگ کہتے تھے کہ ہم تو بڑا جتھا ہیں۔ اب وہی بہانہ بنا رہے ہیں۔ بظاہر یہ بہانہ تو معقول نہیں ہے کہ رات کو جس بات سے انہیں متنبہ کیا گیا تھا وہی بہانہ صبح کو وہ پیش کردیں۔ پھر ان کے سطحی پن کا اس سے زیادہ اور ثبوت کیا ہوسکتا ہے کہ یوسف کی قمیص پر وہ خون لگا کرلے آئے۔ اور ظاہر یہ ہے کہ یہ بالکل بادی النظر میں ایک چھوٹا سا بہانہ تھا ، لیکن انہوں نے یہ جھوٹ پیش کیا : وَجَاۗءُوْٓا اَبَاهُمْ عِشَاۗءً يَّبْكُوْنَ ۔ قَالُوْا يٰٓاَبَانَآ اِنَّا ذَهَبْنَا نَسْتَبِقُ وَتَرَكْنَا يُوْسُفَ عِنْدَ مَتَاعِنَا فَاَكَلَهُ الذِّئْبُ : شام کو وہ روتے پیٹتے اپنے باپ کے پاس آئے۔ اور کہا " ابا جان ہم دوڑ کا مقابلہ کرنے لگ گئے تھے اور یوسف کو ہم نے اپنے سامان کے پاس چھوڑ دیا تھا کہ اتنے میں بھیڑیا آکر اسے کھا گیا۔
اور وہ خود بھی سمجھتے ہیں کہ بادی النظر میں نظر آتا ہے کہ یہ بہانہ جھوٹا ہے اور مشکوک آدمی تو نظر ہی یوں اتا ہے کہ چور کی داڑھی میں تنکا : چناچہ کہتے ہیں : وَمَآ اَنْتَ بِمُؤْمِنٍ لَّنَا وَلَوْ كُنَّا صٰدِقِيْنَ : آ ہماری بات کا یقین نہ کریں گے چاہے ہم سچے ہی ہوں۔
Ayah 12:18حضرت یعقوب نے حالات کو بھانپ لیا ، خود نبوت نے انہیں بتا دیا کہ یوسف کو کم از کم بھیڑئیے نے نہیں کھایا۔ انہوں نے کوئی اور ہی سازش کی ہے۔ یہ جو بتا رہے ہیں وہ واقعہ نہیں ہے جو بتا رہے ہیں ، یہ تو نہیں ہے۔ اس لیے انہوں نے صرف یہ تبصرہ کیا کہ تمہارے نفسوں نے تمہارے لیے کوئی بڑا برا کام آسان بنا دیا ہے اور اس کا ارتکاب تم نے کرلیا ہے اور یہ کہ ان کے لیے صبر کے سوا کوئی اور راستہ نہیں ہے۔ جزع و فزع ان کے شایان شان نہیں ہے اور یہ جھوٹ بادی النظر میں جھوٹ ہے جو یہ لوگ گھڑ رہے ہیں۔ اس کے بارے میں میں اللہ ہی سے شکایت کرسکتے ہیں۔
Ayahs 12:19–20اب ہم جلدی سے واپس ہوتے ہیں کہ اندھے کنوئیں میں یوسف (علیہ السلام) کس حال میں ہیں۔ اس طرح اس قصے کی پہلی کڑی ختم ہوتی ہے :
یہ اندھا کنواں شارع عام پر تھا ، شارع عام کے ارد گرد لوگ ہمیشہ پانی کی تلاش میں بوقت ضرورت نکلتے ہی رہتے ہیں۔ خصوصاً بارش کا پانی بھی ایسے کنوؤں میں جمع ہوجاتا ہے۔ بعض اوقات یہ کنواں خشک بھی ہوتا ہے۔
وجاءت سیارۃ " ادھر ایک قافلہ آیا " عربی میں قافلے کو سیارہ اس لیے کہتے ہیں کہ سیر کے معنی چلنے کے ہیں اور قافلہ بھی ایک طویل سفر پر ہوتا ہے ، اسے نشانہ حوالہ اور فنامہ بھی کہتے ہیں۔
فارسلوا واردھم " اور اس نے اپنے سقے کو پانی لانے کے لیے بھیاج " وارد بمعنی سقہ اسے وارد اس لیے کہتے ہیں کہ وہ پانی ان کی طرف لاتا ہے۔
فادلی دلو " سقے نے کنوئیں میں ڈول ڈالا " تاکہ وہ دیکھے کہ کنوئیں میں پانی ہے۔ اب یہاں سیاق کلام میں اس بات کو چھوڑ دیا جاتا ہے کہ حضرت یوسف ڈول کے ساتھ لٹک گئے کیونکہ یہ بات بالکل عیاں ہے اور یہاں قارئین کو ایک حیران کن صورت حال سے دوچار کرنا مطلوب ہے۔ یہ کسی بھی قصے کا فنی کمال ہوتا ہے۔
قال یبشری ھذا غلام۔ (یوسف کو دیکھ) مبارک ہو یہاں تو ایک لڑکا ہے۔ یہاں قصے کی مزید تفصیلات کو حذف کردیا جاتا ہے کہ یوسف کس قدر خوش ہوئے ، یا ان کے تاثرات و حالات کیا تھے ، صرف یوسف کے انجام کی طرف اشارہ آجاتا ہے۔
واسروہ بضاعۃ " ان لوگوں نے اس کو مال تجارت سمجھ کر چھپا لیا " انہوں نے اسے نہایت ہی خفیہ سامان تجارت سمجھا۔ ارادہ کرلیا کہ یہ غلام کی حیثیت میں بہت ہی اچھا فروخت ہوگا ، چونکہ در حقیقت وہ غلام تو تھا نہیں اس لیے انہوں نے اسے لوگوں کی نظروں سے چھپا لیا۔ اور چونکہ چوری کا مال تھا ، اس لیے کم قیمت پر فروخت کردیا اور اونے پونے سکوں کے عوض۔ وَشَرَوْهُ بِثَمَنٍۢ بَخْسٍ دَرَاهِمَ مَعْدُوْدَةٍ ۚ وَكَانُوْا فِيْهِ مِنَ الزَّاهِدِيْنَ ۔ آخر کار انہوں نے تھوڑی سی قیمت پر چند درہموں کے عوض اسے بیچ ڈالا اور وہ اس کی قیمت کے معاملہ میں کچھ زیادہ کے امیدوار نہ تھے۔ غرض اللہ کے اس برگزیدہ نبی کے لیے یہ حالات نہایت ہی حوصلہ شکن تھے۔
Ayah 12:21درس نمبر 107 ایک نظر میں
یہ سبق اس قصے کے دوسرے حلقے پر مشتمل ہے۔ اب یوسف (علیہ السلام) مصر پہنچ گئے ہیں۔ غلام کی طرح بک گئے ہیں ، لیکن جس شخص نے اسے خریدا ، اس نے دیکھ لیا کہ یہ بچہ نہایت ہی ہونہار ہے۔ ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات۔ چناچہ اس نے اپنی بیوی کو ان کے بارے میں ہدایات دیں کہ یہ بچہ غیر معمولی ہے۔ یہاں سے حضرت یوسف کے خواب کی تعبیر شروع ہوتی ہے۔
لیکن بلوغ تک پہنچتے پہنچے حضرت یوسف کے لیے ایک دوسرے قسم کا امتحان ابھی باقی تھا۔ حضرت یوسف کو اللہ نے منصب رسالت کے شایان شان علم و حکمت عطا کیا ہوا تھا اور یہ آزمائش ایسی تھی کہ محض اللہ کا فضل و کرم ہی اس امتحان میں کسی کو بچا سکتا تھا۔ حضرت یوسف اعلی طبقات کے آزادانہ ماحول میں پل رہے تھے۔ ایسے طبقات بالعموم عیاشی اور فسق و فجور میں مبتلا ہوتے ہیں۔ ان طبقات کے اکثر نوجوان بےراہ روی میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ حضرت یوسف محض فضل الہی سے اس گندے ماحول سے پاک دامن بن کر نکلے ۔ ان کے لیے یہ مشقت سابقہ آزمائشوں سے کچھ کم نہ تھی۔
درس نمبر 107 تشریح آیات
21 ۔۔۔ تا ۔۔۔ 34
تفسیر آیت 21: ابھی تک ہمیں یہ نہیں بتایا گیا کہ حضرت کو کس نے خریدا۔ لیکن قدرے بعد میں یہ بتایا جائے گا کہ خریدار عزیز مصر ہے۔ کہا گیا ہے کہ وہ مصر کے اکابر میں سے تھا۔ لیکن ہمیں یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ حضرت یوسف کو قدم جمانے کا موقع مل گیا۔ اب مصیبت اور مشقت کے دن بیت گئے اور اب ان کے لیے اچھے سے اچھے دن آنے والے ہیں
اکرمی مثواہ " اس کو اچھی طرح رکھنا " مثوی ثوی سے اسم ظرف ہے یعنی رات گزارنے کی جگہ اور ٹھہرنے کی جگہ۔ اکرام مثوی سے مراد خود ان کا اکرام ہے۔ لیکن اس کے مقام اکرام کرو ، زیادہ مبالغہ ہے اس سے کہ کوئی کہے اس کا اکرام کرو۔ یعنی صرف اس کی ذات کا اکرام ہی نہیں بلکہ اس کی بجائے قیام کا بھی اکرام ہو۔ اب ایک تو اس کا جائے قیام اندھے کنویں میں تھا جو ہر طرف سے خطرات میں گھرا ہوا تھا اور ہر طرف مصائب ہی مصائب تھے اور اب یہاں ان کا تمکن ہے۔
عزیز مصر اپنی بیوی کو یہ بھی بتا دیتا ہے کہ اس بچے سے اس کی کیا امیدیں وابستہ ہیں ؟
عَسٰٓى اَنْ يَّنْفَعَنَآ اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًا : بعید نہیں کہ یہ ہمارے مفید ثابت ہو یا ہم اسے بیٹا بنا لیں۔ جس طرح بعض روایات میں آتا ہے شاید اس کے ہاں کوئی بیٹآ نہ ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ اس شخص نے یہ عندیہ دیا کہ اگر یہ بچہ صاحب فراست نکلا تو اسے بیٹآ بنا لیں گے ، جس طرح حضرت یوسف کے مزاج اور طور طریقوں سے معلوم ہوتا تھا ، بعد میں وہ نہایت ہی رجل رشید ثابت ہوئے۔
اب یہاں قصے کے واقعات کو روک لیا جاتا ہے اور درمیان میں ایک مختصر سا تبصرہ آتا ہے اور بتایا جاتا ہے۔ یہ تدابیر اللہ نے اس لیے اختیار کیں تاکہ حضرت یوسف کے قدم مصر میں جم جائیں۔ اب حضرت یوسف نے اس خریدار کے دل اور اس کے خاندان میں قدم جما لیے ہیں اور ان کی ترقی کا دور شروع ہوچکا ہے اور آگے جا کر ان کو اس بلند سوسائٹی میں رکھ کر معاملہ فہمی کے مواقع فراہم ہوں گے اور ساتھ ساتھ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اپنے تمام امور پر مکمل کنٹرول حاصل ہے اور اللہ تعالیٰ کے منصوبے اسی طرح نافذ ہوتے ہیں جس طرح اللہ چاہتا ہے۔
وَكَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوْسُفَ فِي الْاَرْضِ ۡ وَلِنُعَلِّمَهٗ مِنْ تَاْوِيْلِ الْاَحَادِيْثِ ۭ وَاللّٰهُ غَالِبٌ عَلٰٓي اَمْرِهٖ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ : اس طرح ہم نے یوسف کے لیے اس سرزمین میں قدم جمانے کی صورت نکالی اور اسے معاملہ فہمی کی تعلیم دینے کا انتظام کیا۔ اللہ اپنا کام کر کے رہتا ہے۔ مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔
یہ کس طرح ؟ دیکھو یوسف کے بھائیوں نے ان کے خلاف کیا سازش کی اور اللہ نے ان کے لیے کیا سوچا اور اہا۔ اور اللہ نے جو چاہا وہ کامیاب رہا۔ کیونکہ اللہ کو تمام امور پر کنٹرول حاصل ہے لہذا ان کی تدابیر دھری کی دھری رہ گئیں اور حضرت یوسف کے بارے میں اللہ کا منصوبہ کامیاب رہا۔
مگر اکثر لوگ اس حقیقت کو نہیں جانتے کہ جو اللہ چاہتا ہے ، وہ ہوتا ہے اور لوگوں کے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا۔
Ayah 12:22حضرت یوسف کو اللہ نے یہ صلاحیت دی کہ وہ ہر معاملے میں صحیح فیصلہ کرنے ، واقعات کے نتائج وہ پہلے سے معلوم کرلیتے ، خوابوں کی تعبیر وہ بہت ہی اچھی طرح جانتے۔ تاویل احادیث اور تاویل رویا کا مفہوم عام بھی ہوسکتا ہے یعنی زندگی کے تمام معاملات کو وہ اچھی طرح سلجھاتے تھے اور یہ صلاح ان کو ان کی نیکی اور حسن سلوک کی وجہ سے دی گئی تھی اور اللہ تعالیٰ محسنین کو اسی طرح جزا دیتا ہے۔
Ayah 12:23اب حضرت یوسف (علیہ السلام) پر ان کی زندگی کا سخت ترین امتحان آتا ہے اور یہ ان کے لیے سخت ترین آزمائش ہے۔ یہ ابتلا اس وقت آتا ہے جب اللہ نے ان کو علم دے دیا ہے اور صحیح فیصلے کی توفیق دے دی ہے تاکہ وہ ان کے ذریعے ان کی مشکلات پر قابو پا لیں اور سرخرو ہو کر نکلیں۔ کیونکہ یہ صالح اور پاکیزہ نوجوان ہیں اور محسنین کے ساتھ اللہ کا یہی سلوک ہوتا ہے۔
اب ذرا ملاحظہ کیجیے اس خطرناک منظر کو :
" آخر کار یوسف اور وہ آگے پیچھے دروازے کی طرف بھاگے اور اس نے پیچھے سے یوسف کی قمیص (کھینچ کر) پھاڑ دی۔ دروازے پر دونوں نے اس کے شوہر کو موجود پایا۔ اسے دیکھتے ہی عورت کہنے لگی : "" کیا سزا ہے اس شخص کی جو تیری گھر والی پر نیت خراب کرے ؟ اس کے سوا اور کیا سزا ہوسکتی ہے کہ وہ قید کیا جائے یا اسے سخت عذاب دیا جائے " یوسف نے کہا "" یہی مجھے پھانسنے کی کوشش کر رہی تھی . اس عورت کے اپنے کنبہ والوں میں سے ایک شخص نے (قرینے کی) شہادت پیش کی کہ " اگر یوسف کی قمیص آگے سے پھٹی ہو تو عورت سچی ہے اور یہ جھوٹا " اور اگر اس کی قمیص پیچھے سے پھٹی ہو تو عورت جھوٹی ہے اور یہ سچا " جب شوہر نے دیکھا کہ یوسف کی قمیص پیچھے سے پھٹی ہے تو اس نے کہا یہ تم عورتوں کی چالاکیاں ہیں ، واقعی بڑے غضب کی ہوتی ہیں تمہاری چالیں " یوسف اس معاملے سے درگزر کر۔ اور اے عورت تو اپنے قصور کی معافی مانگ ، تو ہی اصل میں خطا کار تھی۔
۔۔۔
یہاں قرآن مجید نے یہ نہیں بتایا کہ اس کی عمر کیا تھی اور نہ یہ بتایا ہے کہ حضرت یوسف کی عمر کیا تھی ؟ یہاں ہم محض اندازے سے دونوں کی عمر کا تعین کرسکتے ہیں۔
جب حضرت یوسف کو قافلے نے اٹھایا تو وہ لڑکے تھے۔ انہیں مصر میں فروخت کردیا گیا۔ گویا ان کی عمر چودہ سال کے لگ بھگ تھی۔ کیونکہ عربی میں غلام اسی عمر کے لڑکوں کے لیے بولا جاتا ہے۔ اس کے بعد کے لوگوں کے لیے فتی شاب کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں اور اس کے بعد رجل کا لفظ بولا جاتا ہے۔ ایسی عمر ہی میں حضرت یعقوب یہ کہہ سکتے ہیں کہ انہیں کہیں بھیڑیا کھا نہ لے جبکہ اس وقت عزیز مصر کی بیوی ایک بیوی ہے اور پھر یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس کی اولاد بھی نہیں ہے۔
او نتخذہ ولدا سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ غالباً ان کی اولاد نہ تھی۔ متبنی بنانے کا خیال ہی تب آتا ہے کہ اولاد نہ ہو ، یا یہ کہ انسان جب ماویس ہوجاتا ہے کہ اب بچے پیدا ہونے کا کوی موقعہ نہیں ہے تب وہ مبنی کے لیے سوچتا ہے۔ لہذا معلوم یوں ہوتا ہے کہ اس جوڑے کی شادی کے بعد کافی وقت گزر گیا ہے اور اب غالباً یہ جوڑا اولاد سے مایوس ہوگیا ہے ، بہرحال یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ مصر کا وزیر اعظم چالیس سال سے بھی کم عمر کا ہو ، نیز اس وقت اس کی بیوی بھی کسی صورت میں تیس سال سے کم نہیں ہوسکتی۔
بہرحال قرین قیاس یہ ہے کہ یوسف کی عمر 15 سال اور عزیز مصر کی بیوی کی عمر 40 سال تھی تقریباً حالات یہ بتاتے ہیں کہ اس واقعہ کے قریقین کی عمریں یہی تھیں۔ اس عورت کے معمر ہونے کا ایک قرینہ یہ بھی ہے کہ اس واقعہ کے بارے میں اس نے جو موقف اختیار کیا وہ ایک پختہ عورت اور جرات والی عورت کا موقف ہے ، جو اپنی سازش کے تانے بانے پر مکمل کنٹرول رکھتی ہے۔ اس عورت کے بارے میں مصری خواتین کے تبصرے سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ معمر عورت ہے۔
امراۃ العزیز تراود فتٰھا : " کہ عزیز کی بیوی اپنے نوجوان غلام کے پیچھے پڑی ہوئی ہے " اگرچہ فتی غلام کے لیے استعمال ہوتا ہے لیکن عبد کے لیے بھی وہ اس لیے استعمال ہوتا ہے کہ اس میں فتوت کا مفہوم ہوتا ہے اور یوسف ایسے ہی تھے۔ بہرحال شہادت احوال و کوائف ان حقائق کی تائید میں ہے۔
یہ بحث ہم اس لیے کر رہے ہٰں کہ اس سے ایک متعین نتیجہ اخذ ہو۔ یہ کہ اس عورت نے صرف ایک حادثے میں یوسف کو ورغلانے کی کوشش نہ کی تھی جس کا ذکر قرآن نے کیا ہے بلکہ حضرت یوسف (علیہ السلام) اپنے زمانہ مراہقت سے مسلسل اس ابتلا میں رہے کیونکہ وہ وزیر اعظم کے محل میں تھے اور اور اس وقت عورت کی عمر 30 40 سال کے درمیان تھی۔ اور اس معاشرے کے اندر جو حالات تھے وہ و اس عورت کے خاوند کے اس قول سے اچھی طرح معلوم ہوتے ہیں : يُوْسُفُ اَعْرِضْ عَنْ ھٰذَا ۫وَاسْتَغْفِرِيْ لِذَنْۢبِكِ ښ اِنَّكِ كُنْتِ مِنَ الْخٰطِــِٕيْنَ : یوسف اس معاملے سے درگزر کر۔ اور اے عورت تو اپنے قصور کی معافی مانگ ، تو ہی اصل میں خطا کار تھی۔
نیز عورتوں کی چہ میگوئیاں کہ عزیز مصر کی بیوی کیا کر رہی ہے اور اس کی جوابی تدبیر اور دعوت کا انتظام اور ان کے سامنے یوسف کا حاضر ہونا اور سب کا حیران رہ جانا اور اس کا یہ تبصرہ : وَلَقَدْ رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ فَاسْتَعْصَمَ ۭ وَلَىِٕنْ لَّمْ يَفْعَلْ مَآ اٰمُرُهٗ لَيُسْجَنَنَّ وَلَيَكُوْنًا مِّنَ الصّٰغِرِيْن : بیشک میں نے اسے رجھانے کی کوشش کی تھی مگر یہ بچ نکلا ، اگر یہ میرا کہا نہ مانے گا تو قید کیا جائے گا اور بہت ذلیل و خوار ہوگا۔
یہ سوسائٹی جس میں اس قسم کی باتیں آزادانہ ہوتی ہوں ، یہ اونچے طبقے کی سوسائٹی ہوتی ہے۔ یوسف اس میں بطور غلام پھنسے ہوئے تھے اور اسی میں پل رہے تھے۔ اور عمر کا زمانہ ایسا تھا جسے فتنے اور آزمائش کا زمانہ کہا جاتا ہے۔ یہ تھا یوسف کا ایک طویل اور کٹھن امتحان اور اس میں وہ ثابت قدم رہے۔ وہ اس سے سرخرو ہوکر نکلے اور اس سوسائٹی اور اس عمر کے فتنوں کے مقابلے میں کامیاب رہے۔ ان کی عمر اور عورت کی عمر کو مد نظر رکھ کر سوچا جائے کہ اس عورت کے ساتھ وہ ایک ہی گھر میں رہ رہے ہیں ، ان سب امور سے یہ اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ حضرت یوسف نے کس قدر طویل عرصے تک حالات کا مقابلہ کیا۔ اگر یہ واقعہ صرف یہی ایک ہوتا تو وہ بسہولت اس کا مقابلہ کرلیتے اور ان کے لیے مشکل پیش نہ آتی خصوصاً جبکہ مرد مطلوب ہو ، خود طالب نہ ہو ، خصوصاً جبکہ عورت کی خواہش ہو تو مرد اس سے انکار نہیں کرسکتا اور اس واقعہ میں عورت خواہشمند تھی۔
اس تمہید کے بعد اب تشریح آیات۔
وَرَاوَدَتْهُ الَّتِيْ هُوَ فِيْ بَيْتِهَا عَنْ نَّفْسِهٖ وَغَلَّقَتِ الْاَبْوَابَ وَقَالَتْ هَيْتَ لَكَ : جس عورت کے گھر میں وہ تھا وہ اس پر ڈورے ڈالنے لگی اور ایک روز دروازے بند کرکے بولی " آ جا "۔
اس بار یہ عورت کھلے بندوں حضرت یوسف کو ورغلانے کی کوشش کرتی ہے اور اس میں وہ واضح طور پر آخری مرحلے کے لیے دعوت دیتی ہے۔ دروازے بند کرن آخری مرحلے پر ہوتا ہے اور یہ عورت اب اس انتہا تک ہپنچ چکی ہے ، جسمانی خواہش کا یہ آخری مرحلہ ہے۔
وقالت ھیت لک۔ اور یہ آخری واضح اور علانیہ دعوت کسی عورت کی طرف سے پہلی مرتبہ نہیں ہوتی۔ یہ بڑی تمہیدات کے بعد ہوتی ہے۔ اگر عورت جسمانی خواہش کے اعتبار سے مجبور نہ ہوجائے تو ایسی دعوت وہ ہرگز نہیں دیتی۔ نوجوان چونکہ ان کے گھر میں بھی رہا تھا ، اس کی جسمانی قوت آہستہ آہستہ مکمل ہوئی تھی اور عورت کی خواہشات (ھیت لک) کہنے سے قبل کئی مراحل سے گزری ہوں گی اور اس آخری مرحلے سے پہلے اس کی کوئی اداؤں کا مقابلہ حضرت یوسف نے کیا ہوگا۔
قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ اِنَّهٗ رَبِّيْٓ اَحْسَنَ مَثْوَايَ ۭ اِنَّهٗ لَا يُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ : " یوسف نے کہا : " خدا کی پناہ ، میرے رب نے تو مجھے اچھی منزلت بخشی (اور میں یہ کام کروں گا) ایسے ظالم کبھی فلاح نہیں پایا کرتے۔ معاذ اللہ ، میں خدا کی پناہ مانگتا ہوں ، میں یہ کیسے کرسکتا ہوں۔
انہ ربی احسن مثوای۔ میرے رب نے تو مجھے اچھی منزلت بخشی ہے۔ اس نے مجھے اندھے کنویں سے نجات دے کر باعزت جگہ دی اور ایسے اونچے گھرانے میں رکھا۔
انہ لایفلح الظلمون۔ بیشک ظالم کبھی فلاح نہیں پاتے۔ جو حدود اللہ سے تجاوز کرتے ہیں اور تم جس بات کی دعوت دے رہی ہو یہ تو سراسر حدود اللہ سے تجاوز ہے۔
Ayah 12:24یہاں قرآن اس بات کی تصریح کرتا ہے اور قطعیت کے ساتھ تصریح کرتا ہے کہ عورت کے اس ورغلانے کے عمل اور دروازے بند کرکے حضرت یوسف کو علانیہ دعوت گناہ دینے کو حضرت یوسف نے بغیر تامل کے رد کردیا انہوں نے حدود اللہ کو یاد کیا ، اللہ کے انعامات کو یاد کیا جبکہ قرآن نے اس کی دعوت گناہ کو بھی غلیظ الفاظ کے بجائے مہذب الفاظ میں بیان کیا یعنی وَلَقَدْ هَمَّتْ بِهٖ ۚ وَهَمَّ بِهَا لَوْلَآ اَنْ رَّاٰ بُرْهَانَ رَبِّهٖ : " وہ اس کی طرف بڑھی اور یوسف بھی اس کی طرف بڑھتا اگر اپنے رب کی برہان نہ دیکھ لیتا "
یہ آخری مرحلہ تھا اور تمام مفسرین نے اس پر طویل کلام کیا ہے۔ قدیم مفسرین میں سے بعض لوگوں نے اسرائیلیات کا اتباع کیا ہے اور اس بارے میں متعدد روایات نقل کی ہیں۔ ان روایات میں یہ ذکر ہوا ہے کہ یوسف (علیہ السلام) بھی ایک عام نوجوان کی طرح اس آخری فعل کے ارتکاب پر مائل تھے ، آگے بڑھ رہے تھے اور اللہ تعالیٰ ان کو برہان پر برہان دکھا رہا تھا مگر وہ رک نہ رہے تھے۔ اس تنہا خانے میں حضرت یعقوب کی تصویر ظاہر ہوئی اور انہوں نے اپنی اگنلی دانتوں میں دبا رکھی تھی۔ اور ان کے سامنے ایک ایسی تختی اچانک آگئی جس کے اوپر آیات قرآنی مکتوب تھیں۔ قرآنی آیات ! جن میں یہ لکھا تھا کہ ایسے کام سے باز آجاؤ، لیکن وہ پھر بھی نہ رکے تو اللہ نے حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کو بھیجا اور کہا کہ پہنچو میرا بندہ گرنے لگا ہے۔ وہ آئے اور انہوں نے حضرت یوسف کو سینے میں ایک ضرب لگائی۔ یہ اور ایسی دوسری روایات جو واضح طور پر بتا رہی ہیں کہ یہ جعلی اور بناوٹی ہیں۔
رہے جمہور مفسرین ، تو انہوں نے یہ کہا ہے کہ عورت نے تو ارادہ گناہ کرلیا تھا اور حضرت یوسف نے بھی اس کے بارے میں سوچ لیا ہوتا ، اگر اس پر اللہ کا برہان روشن نہ ہوگیا ہوتا اور پھر انہوں نے اپنا ارادہ ترک کرلیا تھا۔
سید رشید رضا نے اپنی تفسیر المنار میں جمہور علماء کی اس تفسیر پر رد فرمایا ہے۔ اصل مفہوم یہ ہے کہ یہ جابر مالکہ تھی اور اس نے اسے دعوت گناہ دی اور اسے مارا پیٹآ کیونکہ اس نے انکار کرکے اس کی توہین کی تھی اور حضرت یوسف نے اس کی زیادتی کا جواب دیا۔ اور اس کے بعد انہوں نے بھاگنے میں عافیت سمجھی اور اس طرح اس نے اسے پکڑ کر قمیص پھاڑ دی۔ (ھم) کا مفہوم مارنا اور مارنے کا جواب دینا ایک ایسی تفسیر ہے جس پر کوئی دلیل نہیں ہے۔ یہ ایک کوشش سے پاک صاف ثابت کیا ہے۔ لیکن یہ تفسیر تکلف سے خالی نہیں ہے۔ اور نہ عربی الفاظ اس کے متحمل ہیں۔
ان نصوص پر غور کرنے کے بعد جو بات میری سمجھ میں آئی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت یوسف اس پختہ کار عورت کے ساتھ ایک مکان میں رہ رہے تھے اور یہ ایک طویل عرصے تک رہ رہے تھے۔ علم و حکمت عطا ہونے سے پہلے بھی اور بعد میں بھی موجود تھے۔
اس آیت سے میں جو سمجھا ہوں وہ یہ ہے کہ اس میں آخری مرحلے کو بیان کیا گیا ہے۔ اس عورت نے ایک طویل عرصہ ان کو ورغلانے کی سعی کی اور آپ نے انکار کیا ، اس عرصے میں حضرت یوسف ان مشکل حالات کا مقابلہ کرتے رہے اور قرآن اس آیت میں آخری مراحل کا ذکر کردیا کہ انہوں نے پاکیزگی اختیار کی اور اللہ کے برہان کو دیکھ لیا۔ اس کشاکش کو یہاں قرآن مجید نے نہایت ہی مختصراً بیان کیا ہے اور اسے مختصر جگہ دی ہے۔ اس کے لیے مناسب اور ضروری الفاظ استعمال کیے۔ کشاکش کے آغاز اور انجام کو ان الفاظ میں قلم بند کر ردیا کہ آغاز میں انہوں نے انکار کیا اور انتہا میں انہوں نے براہین الہیہ کو دیکھا لیکن ابتدائی اور آخری مرحلے کے درمیان ممکن ہے کہ کمزوری کے لمحات بھی آئے ہوں اور اس طرح حقیقت پسندانہ سچائی اور پاک فضا دونوں مکمل ہوئی ہوں۔
ان حالات و نصوص کا مطالعہ کرتے وقت میرے ذہن میں یہ بات آئی ہے۔ یہ بات انسانی مزاج اور طبیعت کے بھی قریب ہے اور منصب نبوت کے بھی ہم آہنگ ہے۔ حضرت یوسف بہرحال انسان تھے اور ایک برگزیدہ انسان تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا نفسیاتی میلان بھی ختم ہوگیا اور وہ حالت اعتصام اور مکمل انکار کی طرف لوٹ آئے۔
علامہ زمخشری کشاف میں کہتے ہیں " سوال یہ ہے کہ ایک نبی کس طرح برائی کا " ھم " کرسکتا ہے اور کس طرح وہ ارادہ کرسکتا ہے کہ وہ یہ کام کرے۔ جواب یہ ہے کہ یہ ایک نفسیاتی میلان تھا ، جوانی کی خواہشات کا دباؤ ہر انسان پر ہوتا ہے۔ یہاں اسے ھم اور قصد سے تعبیر کیا ہے کیونکہ ایسے حالات می انسان پر سخت دباؤ ہوتا ہے اور عزم اور مدافعت کے ٹوٹنے کا خطرہ ہوتا ہے ، لیکن حضرت یوسف اللہ کے براہین کے ملاحظے کے بعد اس دباؤ کا مقابلہ کرتے ہیں۔ اگر یہ میلان ہی نہ ہوتا اور جسمانی دباؤ نہ ہوتا تو حضرت یوسف اس کام سے رک کر قابل ستائش کس طرح ہوگئے۔ کیونکہ صبر ، برداشت اور ابتلا پر اجر تب ہی ہے کہ انسان کے اندر قوت اور میلان موجود ہو۔
كَذَلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوءَ وَالْفَحْشَاءَ إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِينَ : ایسا ہوا ، تاکہ اہم اس سے بدی اور بےحیائی کو دور کردیں ، در حقیقت وہ ہمارے چنے ہوئے بندوں میں سے تھا۔
Ayah 12:25وَاسْتَبَقَا الْبَابَ : " آخر کار یوسف اور وہ آگے پیچھے دروازے کی طرف بھاگے " حضرت یوسف نے اپنے آپ کو اس کے چنگل سے آزاد کرنے کے لیے بھاگنے میں عافیت سمجھی اور یہ عورت بھی ان کے پیچھے بھاگی تاکہ ان کو پکڑے کیونکہ یہ ابھی تک جنسی ہیجان میں تھی۔
وَقَدَّتْ قَمِيْصَهٗ مِنْ دُبُرٍ : " اور اس نے پیچھے سے یوسف کی قمیص پھاڑ دی " اس کے کھینچنے کی وجہ سے قمیص پھٹ گئی کیونکہ اس کی کوشش یہ تھی کہ دروازے سے اسے واپس لے جائے۔
وَّاَلْفَيَا سَيِّدَهَا لَدَا الْبَابِ : " دروازے پر دونوں نے اس کے شوہر کو موجود پایا "
یہاں یہ عورت اب مکمل طور پر بالغ نظری کی شکل میں سامنے آتی ہے۔ صورت حالات ایسی ہے کہ اس میں کسی بھی فریق پر شک کیا جاسکتا ہے ، اس عورت کا جواب حاضر ہے ، یہ کہ وہ فوراً نوجوان پر الزام لگا دیتی ہے۔ قَالَتْ مَا جَزَاۗءُ مَنْ اَرَادَ بِاَهْلِكَ سُوْۗءًا : عورت کہنے لگی : " کیا سزا ہے اس شخص کی جو تیری گھر والی پر نیت خراب کرے ؟۔ لیکن اس کو چونکہ حضرت یوسف سے محبت بھی تھی اور اسے ڈر تھا کہ کہیں اسے قتل ہی نہ کردیا جائے اس لیے خود ہی ہلکی سی سزا تجویز کردیتی ہے۔ اِلَّآ اَنْ يُّسْجَنَ اَوْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ اس کے سوا اور کیا سزا ہوسکتی ہے کہ وہ قید کیا جائے یا اسے سخت عذاب دیا جائے۔۔ اور حضرت یوسف (علیہ السلام) فورا اس الزم کی تردید کرتے ہیں کہ خود اس عورت نے انہیں ورغلانے کی کوشش کی۔
Ayahs 12:26–27یہاں قرآن کریم واضح طور پر بیان کرتا ہے کہ اس موقعہ پر اس عورت کے رشتہ داروں میں سے کوئی موجود تھا جس نے شہادت احوال یعنی موجود قرائن پر فیصلہ دے دیا اور نزاع ختم ہوگیا۔ وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ اَهْلِهَا ۚ اِنْ كَانَ قَمِيْصُهٗ قُدَّ مِنْ قُبُلٍ فَصَدَقَتْ وَهُوَ مِنَ الْكٰذِبِيْنَ ۔ وَاِنْ كَانَ قَمِيْصُهٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ فَكَذَبَتْ وَهُوَ مِنَ الصّٰدِقِيْنَ ۔ اس عورت کے اپنے کنبہ والوں میں سے ایک شخص نے (قرینے کی) شہادت پیش کی کہ " اگر یوسف کی قمیص آگے سے پھٹی ہو تو عورت سچی ہے اور یہ جھوٹا۔ اور اگر اس کی قمیص پیچھے سے پھٹی ہو تو عورت جھوٹی ہے اور یہ سچا۔
سوال یہ ہے کہ اس شاہد نے کہاں شہادت دی ؟ کیا یہ خاوند کے ساتھ اس وقت موجود تھا یا اس واقعہ کو دیکھ کر بیوی کے خاندان میں سے ایک معمر شخص کو بلایا گیا اور اس واقعہ کو دیکھ کر بیوی کے خاندان میں سے ایک معمر شخص کو بلایا گیا اور اس کے سامنے عزیز مصر نے یہ ماجرا رکھا جیسا کہ ایسے حالات میں اکثر ہوا کرتا ہے۔ خصوصاً ایسے اونچے طبقات میں ایسا ہی ہوتا ہے جن کا خون ٹھنڈا ہوتا ہے اور جن کے ہاں اخلاق قدریں ڈھیلی ہوتی ہیں۔
یہ دونوں باتیں ہوسکتی ہیں اور مفہوم میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس شخص کے فیصلے کو یہاں شہادت کہا گیا ہے کیونکہ فریقین کی طرف سے اپنا پنا موقف اس کے سامنے پیش ہوا ، اس نے فتوی دیا یا رائے دی اور اسے شہادت کہا گیا اس لیے کہ شہادت سے بھی انسان سچائی تک پہنچتا ہے۔ قرائن کی شہادت یہ ہے کہ اگر آگے سے قمیص پھٹی ہوئی ہے اور تو اس کا مطلب یہ ہے کہ مرد حملہ آور ہے اور عورت مدافع ہے۔ لہذا وہ سچی اور یہ جھوٹا ہے۔ اگر قمیص پیچھے سے پھٹی ہے تو وہ بھاگ رہا تھا اور یہ اسے پکڑ کر کھینچ رہی تھی لہذا یہ جھوٹی ہے اور وہ سچا ہے۔ اس شخص نے پہلے عورت کی سچائی کی صورت پیش کی کیونکہ وہ مالکہ ہے اور یہ غلام ہے۔ لہذا مناسب یہی تھا کہ مالک اور اپر ہینڈ کے حق میں جانے والی بات پہلے کی جائے۔ دونوں صورتوں میں شہادت احوال موجود ہے۔
Ayah 12:28فَلَمَّا رَاٰ قَمِيْصَهٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ : جب شوہر نے دیکھا کہ یوسف کی قمیص پیچھے سے پھٹی ہے ۔ تو اس کو معلوم ہوا ہوگا کہ واقعاتی شہادت کے مطابق عورت جھوٹی ہے۔ اسی نے اس کو ورغلانے کی کوشش کی ہے۔ وہی ہے جس نے اسے متہم کرنے کیسازش کی ہے۔ یہاں ترقی یافتہ سوسائٹی کی ایک جھلک نظر آتی ہے۔ اور وہ بھی صدیوں اور ہزاروں سال پرانی ترقی یافتہ سوسائٹی۔ یوں نظر آتا ہے کہ گویا وہ آج ہی کی ترقی یافتہ سوسائٹی ہے۔ اس قسم کی سوسائٹی کی پہلی خصوصیت ہی یہ ہوتی ہے کہ اس میں جنسی سکینڈل نظر انداز کردیے جاتے ہیں۔ ان کو چھپایا جاتا ہے۔ ایسے معاشروں کی یہ اہم باتیں ہیں۔
قَالَ اِنَّهٗ مِنْ كَيْدِكُنَّ ۭ اِنَّ كَيْدَكُنَّ عَظِيْمٌ : تو اس نے کہا " یہ تم عورتوں کی چالاکیاں ہیں ، واقعی بڑے غضب کی ہوتی ہیں تمہاری چالیں۔ یوسف اس معاملے سے در گزر کر۔ اور اے عورت ، تو اپنے قصور کی معافی مانگ ، تو ہی اصل میں خطا کار تھی۔
بالکل درست ، واقعی عورتوں کی چالیں غضب کی ہوتی ہیں۔ یوسف اس سے درگزر کرو ، یہ تو چاپلوسی ہے۔ ایسا واقعہ جو خون گرما دیتا ہے ، اسے دیکھ کر صرف یہ کہنا کہ تمہار مکر بڑا عظیم ہوتا ہے اور وہ بھی ان الفاظ میں کہ تمام عورتوں کا مکر غضبانک ہوتا ہے۔ یہ تو اس عورت کی تعریف ہے کہ یہ بڑی مکار اور پختہ کار ہے اور وہ کامیاب چال چلنے والی ہے۔
Ayah 12:29یوسف کی طرف متوجہ ہو کر بھی یہی کہا گیا۔
اَعْرِضْ عَنْ ھٰذَا : " درگزر کر۔ یعنی اس بات کو یہیں چھوڑ دے ، اس کا تذکرہ نہ کر ، حالات کو جوں کا توں رکھو۔ اس قسم کے معاشرے میں یہ اہم بات ہے۔
اور عورت جو رنگے ہاتھوں پکڑی گئی تھی اس کے لیے یہی تبصرہ کہ تم خطا کار ہو لہذا اپنے گناہوں پر معافی مانگو۔ یہ ہیں اس وقت کے سرکردہ بیوروکریٹ اور بڑوں کے حاشیہ نشین۔ ہر جاہلیت میں یہ لوگ ایسے ہی ہوتے ہیں۔
اب پردہ گرتا ہے اور یہ منظر ختم ہوتا ہے۔ سیاق کلام میں اس مرحلے کو اپنے تام حالات ، تاثرات اور اشارات کے ساتھ پیش کردیا گیا ، لیکن اس نازک مرحلے کو حیوانی لذتیت سے پاک رکھا گیا اور نہایت ہی انسانی اور شریفانہ انداز اختیار کیا گیا۔
Ayah 12:30حالات یہ ہیں کہ اس عورت اور اس کے اس غلام کے درمیان ابھی تک جدائی نہیں ہے۔ حالات روٹین کے مطابق آگے بڑھ رہے ہیں اور بڑے بڑے محلات میں حالات اسی طرح آگے بڑھتے رہتے ہیں۔ لیکن محلات کی دیواریں ہوتی ہیں اور دیواروں کے کان ہوتے ہیں۔ قدم اور چشم ان کے اندر ہوتے ہیں ، اندر جو کچھ ہوتا ہے ، وہ لازماً باہر آتا ہے ، خصوصا اونچے اور مراعات یافتہ طبقات کے محلات ہیں۔ ان محلات کے اندر جو کچھ ہوتا ہے وہ لوگوں کی مجالس ، محافل میں اور زبانوں پر ہوتا ہے۔ لوگوں کی راتوں کے لیے یہ چٹ پٹا مسالہ ہوتا ہے۔
شہر کی عورتیں آپس میں چرچا کرنے لگیں کہ عزیز کی بیوی اپنے نوجوان غلام کے پیچھے پڑی ہوئی ہے ، محبت نے اس کو بےقابو کر رکھا ہے ، ہمارے نزدیک تو وہ صریح غلطی کر رہی ہے۔
یہ کلام اور یہ چہ میگوئیاں بعینہ ایسی ہیں جیسا کہ ہر جاہلی دور میں موضوع سخن ہوتی ہیں۔ یہاں آ کر ہمیں پہلی مرتبہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ عورت عزیز مصر کی بیوی ہے اور یہ کہ حضرت یوسف کو مصر کے جس شخص نے خریدا تھا وہ عزیز مصر تھا ، یعنی مصر کا وزیر اعظم۔ اس شخص کے نام اور اس کی بیوی کے نام کو ابھی تک مجمل رکھا گیا تھا ، اب نام اس لیے لیا گیا کہ پورا مصر اس واقعہ سے خبردار ہوگیا ہے۔ وَقَالَ نِسْوَةٌ فِي الْمَدِيْنَةِ امْرَاَتُ الْعَزِيْزِ تُرَاوِدُ فَتٰىهَا عَنْ نَّفْسِهٖ ۚ قَدْ شَغَفَهَا حُبًّا ۭ اِنَّا لَنَرٰىهَا فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ : شہر کی عورتیں آپس میں چرچا کرنے لگیں کہ عزیز کی بیوی اپنے نوجوان غلام کے پیچھے پڑی ہوئی ہے ، محبت نے اس کو بےقابو کر رکھا ہے ، ہمارے نزدیک تو وہ صریح غلطی کر رہی ہے۔
یعنی عورت کا حال یہ ہے کہ وہ اس کے پیچھے پڑی ہوئی ہے۔ عاشق زار بن گئی ہے۔ غلام کی محبت اس کے دل کے پردے میں اتر گئی ہے۔ شفاف اس پردے کو کہتے ہیں جس کے اندر دل لپٹا ہوا ہوتا ہے۔ لیکن یہ حرکت اس عورت کے لیے مناسب نہیں ہے کہ خاتون اول اور وزیر اعظم کی بیوی ہوتے ہوئے وہ عبرانی غلام پر عاشق ہوجائے جو زرخرید ہے (فتٰھا) کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ شاید اس جاہلی سوسائٹی میں فری سیکس اس قدر معیوب نہ تھا مگر عبرانی زرخرید غلام کے ساتھ زیادہ معیوب تھا۔
اب وہ بات وقوع پذیر ہوتی ہے ، جو ایسے ہی نام نہاد اونچے طبقات ہی میں وقوع پذیر ہوسکتی ہے۔ یہ خود سر عورت ایک دوسرا منظر پیش کرتی ہے۔ یہ جانتی ہے کہ مصری عورتوں کی مکاریوں اور پروپیگنڈے کا جواب وہ کس طرح دے گی۔ ذرا ملاحظہ ہوں اگلی آیات۔
Ayah 12:31اس نے ان عورتوں کو اپنے محل میں ایک دعوت میں بلایا ، اس دعوت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دعوت نہایت ہی ترقی یافتہ لوگوں کی دعوت تھی۔ ایسی ہی عورتوں کو محلات میں دعوتیں دی جاتی ہیں۔ اور نہایت ہی پر تکلف کھانے پیش کیے جاتے ہیں۔ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت مشرقی روایات کے مطابق تکیہ لگا کر کھانا کھایا جاتا تھا۔ چناچہ اس نے کھانے کے لیے ایسی جگہ تیار کی جہاں یہ عورتیں تکیوں سے ٹیک لگا کر بیٹھی تھیں۔ پھر ہر ایک کو چھری دی گئی تاکہ وہ اس کے ساتھ کھانا کھائے۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس دور میں مصر تہذیب و تمدن کے اعتبار سے بہت ہی آگے نکل گیا تھا اور محلات میں لوگ پر تعیش زندگی بسر کرتے تھے۔ کیونکہ ہزاروں سال قبل چھری کے استعمال کی اطلاع سے معلوم ہوتا ہے کہ مادی اور تمدنی لحاظ سے مصری معاشرہ بہت آگے نکل چکا تھا۔ یہ عورتیں گوشت اور میوے کاٹنے میں مشغول تھیں کہ عزیزہ نے یوسف کو حک دیا کہ ذرا سامنے آؤ۔
قالت اخرج علیھن " اس نے یوسف کو اشارہ کیا کہ ان کے سامنے نکل آ "۔
فلما راینہ اکبرنہ " جب ان عورتوں کی نگاہ اس پر پڑی تو وہ دنگ رہ گئیں " اس کو دیکھ کر مبہوت رہ گئیں اور ان پر دہشت طاری ہوگئی۔
و قطعن ایدیھن " اور اپنے ہاتھ کاٹ بیٹھیں " اچانک دہشت زدگی کی وجہ سے انہوں نے اپنے ہاتھ زخمی کردئیے۔
و قلن حاش للہ " اور بےساختہ پکار اٹھیں حاشا للہ " تخلیق قدرت پر حیراں ہوکر حاشا للہ کہا جاتا ہے۔ در اصل حاشا للہ کلمہ تنزیہ اس موقعہ پر بولا جاتا ہے جہاں کسی ذات سے کسی الزام کی شدت سے نفی کی جائے۔
ما ھذا بشرا ان ھذا الا ملک کریم " یہ شخص انسان نہیں ہے ، یہ تو کوئی بزرگ فرشتہ ہے " جیسا کہ ہم نے اس سورت کے دیباچے میں کہا ، ان تعبیرات سے معلوم ہوتا ہے کہ دین اسلام کے بعض تصورات مصری معاشرے میں پھیل چکے تھے۔
اب عزیز کی بیوی کو یقین ہوگیا کہ اس نے میدان مار لیا ہے ، اور اس کے خلاف باتیں بنانے والی عورتوں سے انتقام لے لیا ہے ، اور خود یہ عورتیں دہشت زدہ ، حیران بلکہ مبہوت ہو کر رہ گئی ہیں۔ اب یہ عورتوں کے سامنے کھل جاتی ہے اور اپنے جنسی سکینڈل کو عورتوں کے سامنے کھول کر بیان کرتی ہے اور کوئی شرم محسوس نہیں کرتی۔ اب وہ دھمکی آمیز لہجے میں اقرار کرتی ہے کہ اس شخص کو میری مرضی کے مطابق چلنا ہوگا ورنہ ۔۔ اب اس کی باتوں کا انداز اور ہے۔
Ayah 12:32قَالَتْ فَذٰلِكُنَّ الَّذِيْ لُمْتُنَّنِيْ فِيْهِ " عزیز کی بیوی نے کہا " دیکھ لیا ، یہ ہے وہ شخص جس کے معاملہ میں تم مجھ پر باتیں بناتی تھیں " دیکھ لیا تم نے۔ ذرا اپنی حالت کو تو دیکھ ، بتاؤ تم کیوں حیران و پریشان اور حواس باختہ ہوگئی ہو۔
وَلَقَدْ رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ فَاسْتَعْصَمَ : " بیشک میں نے اسے رجھانے کی کوشش کی تھی مگر یہ بچ نکلا " اس نے مجھے اسی طرح حواس باختہ کردیا ہے ، میں نے اسے ورغلانے کی بہت کوشش کی مگر یہ بچ نکلتا ہے۔ یہ میری تمام کوششوں اور فتنہ سامانیوں کے مقابلے میں اپنے اصول پر جما ہوا ہے لیکن ۔۔۔ تعجب یہ ہے کہ اس کی مصری معاشرے میں اونچے طبقے کی یہ عورت علانیہ تمام عورتوں کے سامنے اپنے جنسی عزائم کا اظہار کر رہی ہے اور دھمکی بھی دیتی ہے۔ وَلَىِٕنْ لَّمْ يَفْعَلْ مَآ اٰمُرُهٗ لَيُسْجَنَنَّ وَلَيَكُوْنًا مِّنَ الصّٰغِرِيْنَ : " اگر یہ میرا کہنا نہ مانے گا تو قید کیا جائے گا اور بہت ذلیل و خوار ہوگا "
اب یہ عورت صنف نازک کے ورغلانے والے حربوں کے علاوہ بڑے فخر سے تشدد اور دھمکی کے ذرائع بھی استعمال کر رہی ہے۔ یہ دھمکی عورتوں کے مجمعے میں یوسف کو کھلے بندوں دی جا رہی ہے۔ اور انہی عورتوں کے سامنے جن میں سے ہر ایک اپنی فتنہ سامانیوں کے ساتھ موجود ہے۔ اور یہ دھمکی اسے خود اپنی مالکہ دے رہی ہے ، چناچہ ایسے نازک اور خطرناک حالات میں صرف رب تعالیٰ ہی سے مدد لی جاسکتی ہے۔
Ayah 12:33حضرت یوسف اب صرف عزیز کی بیوی کے خلاف دست بدعا نہیں بلکہ مصر کے اس اعلی طبقے کی عورتیں اب ان کے پیچھے پڑگئی ہیں ، اپنی حرکات اور اپنی باتوں کی وجہ سے تمام عورتیں ان پر بچھی جا رہی ہیں اب وہ اللہ کے سامنے دست بدعا ہوتے ہیں اور ان فتنوں کے مقابلے میں وہ اللہ کی نصرت طلب کرتے ہیں اور اس بات سے ڈرتے ہیں کہ انہیں ہر طرف سے ورغلایا جا رہا ہے اور کسی بھی وقت ان سے کمزوری ظاہر نہ ہونے اس لیے وہ ان حالات میں اور ایسی سخت آزمائش میں خوف کھا رہے ہیں۔
وَاِلَّا تَصْرِفْ عَنِّيْ كَيْدَهُنَّ اَصْبُ اِلَيْهِنَّ وَاَكُنْ مِّنَ الْجٰهِلِيْنَ : " یہ اس انسان کی پکار ہے جسے اپنی شریعت کا احساس ہے ، وہ جانتا ہے کہ انسان انسان ہے۔ وہ اگرچہ جمے ہوئے ہیں لیکن اپنی کمزوریاں بھی ان کی نظر میں ہیں۔ لہذا وہ اللہ کی حفاظت مزید چاہتے ہیں تاکہ وہ ان فتنوں کا مقابلہ اطمینان سے کرسکیں "
Ayah 12:34اللہ نے ان کی سازشوں کو کس طرح پھیرا ، یہ کہ وہ ان سے مایوس ہوگئیں ، انہوں نے بہت سی چالیں چلیں اور تجربات کیے مگر وہ ان کے دام میں نہ آئے کہ عنقا را بلند است آشیانہ۔ یہ بھی صورت تھی کہ ان فتنہ سامانیوں کا حضرت پر اثر ہی نہ ہوتا ، اللہ سمیع وعلیم ہے وہ تو سب کچھ دیکھ رہا ہے ، سن رہا ہے ، یہاں آ کر حضرت یوسف زندگی کے اس دوسرے امتحان اور آزمائش میں کامیاب رہے۔ (بفضل اللہ و رحمتہ)
Ayah 12:35یہ سبق اس قصے کی تیسر کڑی ہے اور حضرت یوسف کی مشکلات زندگی بھی تیسری اور آخری کڑی ہے۔ اس کڑی کے بعد حضرت یوسف کی زندگی کے مشکل دن ختم ہونے والے ہیں۔ اب آرام اور سکون ہی ہوگا۔ اب حضرت یوسف کی زندگی کا امتحان دوسرے انداز میں ہوگا۔ پہلے مصائب میں ان کی آزمائش تھی ، اب عیش و آرام اور اقتدار کی زندگی میں ان کی آزمائش ہوگ۔ اس کڑی میں ان کی آزمائش جیل جانے میں ہو رہی ہے یہ عجیب آزمائش ہے کہ وہ الزام سے بری ہوگئے ہیں پھر بھی جیل میں ہیں ، ایک گناہ گار تو صبر کرلیتا ہے کیونکہ اس کو علم ہوتا ہے کہ اس نے قصور کیا ہے لیکن ایک بےگناہ جب قید ہوتا ہے تو اس کے لیے سزا ناقابل برداشت ہوتی ہے۔ اگرچہ دل میں اسے یہ سکون ہوتا ہے کہ وہ بےگناہ ہے۔
اس عرصے میں حضرت یوسف پر اللہ کے انعامات ظاہر ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ اب ان کو تعبیر رویا کا علم لدنی عطا کردیا گیا ہے ، اسی طرح وہ تاویل احادیث میں ماہر ہوچکے ہیں ، واقعات کے آغاز ہی میں وہ معلوم کرلیتے ہیں کہ ان کے نتائج کیا ہوں گے اور اس کے بعد اب بادشاہ کے سامنے حضرت یوسف کی براءت کا بھی انتظام ہورہا ہے ، خود بادشاہ عورتوں کو بلا کر انکوائری کرتا ہے۔ اب حضرت یوسف کی خفیہ صلاحیتیں سامنے آرہی ہیں۔ وہ بادشاہ کے مقرب خاص ہوکر تمام اختیارات کے مالک اور مقتدر اعلی بن جاتے ہیں۔ اور جس مقام پر اللہ نے ان کو پہنچانا تھا وہ پہنچ جاتے ہیں۔
درس نمبر 108 تشریح آیات 35 ۔۔۔ تا۔۔۔ 52
۔۔۔
محلات کی فضاؤں میں ، آمریت کی چھاؤں میں نوابوں کے درباروں میں جاہلیت کے نظاموں میں ایسے ہی فیصلے ہوتے ہیں۔ انہوں نے یوسف (علیہ السلام) کی پاک دامنی کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا تھا ، انہوں نے دیکھ لیا تھا کہ یہ عورت اس فرشتہ سیرت شخص کو عورتوں کی مجالس میں پیش کرتی ہے اور برملا دھمکیاں دیتی ہے ، تمام مصری عورتوں کو یقین تھا کہ یہ عورت اپنے غلام کی محبت میں اندھی ہو رہی ہے اور اپنی فریفتگی کا اعلان کرتی پھر رہی ہے۔ یوسف علیہ السالم پر ان عورتوں کا دباؤ اس قدر بڑھ جاتا ہے کہ وہ اللہ سے استعانت طلب فرماتے ہیں۔ دوسری جانب یہ عورت بھی اس بات پر تلی ہوئی ہے اور اعلان کر رہی ہے کہ یوسف کو اس کی مراد پوری کرنا ہوگی یا اسے قید خانوں میں ذلیل و خوار ہونا ہوگا ، اب یا تو وہ حکم کی تعمیل کرے گا یا جیل جائے گا۔
ان حالات کے بعد یہ لوگ اس نتیجے تک پہنچتے ہیں کہ ایک عرصے کے لیے یوسف کو قید کردیا جائے۔ واضح طور پر نظر آتا ہے کہ یہ عورت اب مایوس ہوگئی ہوگی ، دوسری جانب چہ میگوئیاں عام ہوگئی ہوں گی اور اب ان نام نہاد اونچے گھرانوں کی عزت کا تحفظ اسی طرح ہوسکتا تھا کہ بےگناہ کو قید کردیا جائے۔ یہ کام تو ان کے لیے بہت ہی آسان ہے۔ اس نے چونکہ اس ترقی یافتہ عورت کی خواہشات کو پورا نہ کیا تھا لہذا اسے لازماً جیل جانا تھا کیونکہ وہ بیچار بدنام ہوگئی اور ہر طرف سے چہ میگوئیاں تھیں اور ہر محفل میں وہ موضوع سخن تھی۔
Ayah 12:36عنقریب سیاق کلام میں یہ بات ظاہر ہوگی کہ یہ لوگ بادشاہ کے خواص اور خدام میں سے تھے۔ یہاں قرآن مجید میں حضرت یوسف کے زمانہ قید کے حالات تفصیل سے بیان نہیں کیے گئے ، لیکن یہ بات ظاہر ہے کہ قید خانے میں آپ کی طہارت اخلاق اور نیکی اور سنجیدگی اور وقار اس قدر عام ہوگیا کہ تمام قیدیوں میں آپ ایک مثال بن گئے۔ تمام قیدیوں کے لیے معتمد اعلی بن گئے ، ان قیدیوں میں وہ لوگ بھی تھے جو شاہی عتاب کی وجہ سے قید خانے میں پڑے تھے۔ کیونکہ شاہی محل اور شاہی دربار میں دربار میں ان سے کچھ قصور سرزد ہوگئے ہوں گے۔ چناچہ ان پر عارضی طور پر عتاب وارد ہوگیا تھا۔ بہرحال قرآن واقعات قصے کو جلدی آگے بڑھانے کے لیے باقی تفصیلات ترک کردیتا ہے اور صرف دو نوجوانوں کا تذکرہ کرتا ہے۔ یہ دو نوجوان حضرت یوسف کے پاس آئے اور انہوں نے ان کے سامنے اپنے خوابوں کو پیش کیا اور یہ مطالبہ کیا کہ آپ ان کی تعبیر بتائیں۔ ان لوگوں نے تعبیر خواب کے لیے حضرت یوسف کا انتخاب کیوں کیا ؟ اس لیے کہ وہ دیکھ رہے تھے کہ وہ سچے ، نیک عبادت گزار اور ذکر و فکر کے مالک تھے۔
قید خانے میں دو غلام اور بھی اس کے ساتھ داخل ہوئے ، ایک روز ان میں سے ایک نے کہا میں نے خواب دیکھا ہے کہ میں شراب کشید کر رہا ہوں دوسرے نے کہا " میں نے دیکھا کہ میرے سر پر روٹیاں رکھی ہیں اور پرندے ان کو کھا رہے ہیں " دونوں نے کہا ہمیں اس کی تعبیر بتائیے ، ہم دیکھتے ہیں کہ آپ ایک نیک آدمی ہیں۔ اب حضرت یوسف (علیہ السلام) کو یہ موقعہ ہاتھ آگیا کہ وہ قیدیوں کے سامنے اپنا نظریہ حیات پیش کریں۔ ان کو صحیح عقیدہ دیں ، کیونکہ قیدی کے لیے یہ ممنوع نہیں ہے کہ ان کا عقیدہ اچھا ہو۔ قیدیوں کی نظریاتی اور عملی تربیت بھی ضروری ہے۔ لہذا حضرت یوسف ان کو تلقین کرتے ہیں کہ تمام خرابیوں کی جڑ فاسد نظام زندگی ہے جس میں حکم اور اقتدار اعلی اللہ کے سوا کسی اور کے لیے ہو۔ چناچہ وہ ان کو تلقین کرتے ہیں کہ اللہ کو چھوڑ کر دوسرے لوگوں کو اس کرہ ارض کا رب تسلیم کرنا اصل گمراہی ہے ، اس طرح حکمران فرعون بن جاتے ہیں۔
حضرت یوسف اپنی بات کا آغاز اس موضوع سے کرتے ہیں جس میں اس کے جیل کے دونوں ساتھیوں کو دلچسپی ہے۔ لیکن ان سے وعدہ کرتے ہیں کہ تمہارے دلچسپی کے موضوع پر بات ذرا بعد میں آئے گی۔ اور وہ خوابوں کی صحیح تعبیر بتا دیں گے کیونکہ اس شعبے میں اللہ نے ان کو علم لدنی دیا ہے اور یہ اس لیے دیا ہے کہ میں اللہ کی بندگی کرتا ہوں اور اللہ کے ساتھ میں اور میرے آباء و اجداد کسی کو شریک نہیں کرتے ، یوں حضرت یوسف ان لوگوں کو یقین دہانی کراتے ہیں کہ وہ تعبیر خواب بھی بتائیں گے اور یہ کہ حضرت یوسف کا دین بھی نہایت ہی متین دین ہے۔