Ayah 12:64قال ھل ۔۔۔۔۔۔ من قبل (12 : 64) “ باپ نے جواب دیا “ کیا میں اس کے معاملے میں تم پر ویسا ہی بھروسہ کروں جیسا اس سے پہلے اس کے بھائی کے معاملہ کرچکا ہوں ؟ ” چھوڑو ، یہ جھوٹے وعدے اور اپنے پاس رکھو اپنی حفاظت ، میں اللہ کی حفاظت اور اللہ کی رحمت کا طالب ہوں۔ صرف وہی حفاظت کرنے والا ہے۔
فاللہ خیر حفظا وھو ارحم الرحمن (12 : 64) “ اللہ ہی بہتر محافظ ہے اور وہ سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے ”۔ جانوروں کو سنبھالنے اور سفر سے سستانے کے بعد جب انہوں نے اپنے سامانوں کو کھولا تا کہ لائے ہوئے غلے کو ٹھکانے لگائیں ، تو کیا دیکھتے ہیں کہ ان کا وہ پورا سامان انہیں واپس کردیا گیا ہے جو وہ غلہ خریدنے کے لئے لے گئے تھے اور ان کے غلے کے ساتھ خود ان کا اپنا سامان دے دیا گیا۔
حضرت یوسف (علیہ السلام) نے انہیں گندم دینے کے ساتھ خود ان کا سامان بھی ان کے باروں میں رکھ دیا ، تو جب سامان کھولا تو انہوں نے اپنا سامان پایا۔ اس لئے انہوں نے کہا اے باپ ہم سے گندم روک لی گئی اور یہ اس لیے کیا گیا تا کہ وہ مجبور ہوجائیں اور بھائی کو لے کر جائیں۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو جو سبق دینا چاہتے تھے یہ اس کا ایک حصہ تھے۔ انہوں نے اپنے سامان کی واپسی کو اس بات کے لئے بطور دلیل پیش کیا کہ وہ بھائی کو ساتھ لے جانے کے مطالبے میں زیادتی نہیں کر رہے اور نہ ظلم کر رہے ہیں۔
Ayah 12:65ولما فتحوا متاعھم۔۔۔۔۔۔۔۔ کیل یسیر ۔ (12 : 65) “ پھر جب انہوں نے اپنا سامان کھولا تو دیکھا کہ ان کا مال بھی انہیں واپس کردیا گیا ہے۔ یہ دیکھ کر وہ پکار اٹھے “ ابان جان ، اور ہمیں کیا چاہئے ، دیکھئے یہ ہمارا مال بھی ہمیں واپس دے دیا گیا ہے۔ اب ہم جائیں گے اور اپنے اہل عیال کے لئے رسد لے کر آئیں گے ، اپنے بھائی کی حفاظت بھی کریں گے اور ایک بار شتر اور زیادہ بھی لے آئیں گے ، اتنے غلہ کا اضافہ آسانی کے ساتھ ہوجائے گا ”۔
ان کے استدلال کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ صرف خاندان کا بھلا چاہتے ہیں ، جب خاندان کے لئے ہم زاد راہ کی تلاش میں جا رہے ہیں تو ظاہر ہے کہ بھائی کی حفاظت کریں گے۔ بھائی کی وجہ سے ایک بار شتر غلہ اور زیادہ مل جائے گا۔ جب بھائی ساتھ ہوگا تو اس کا حصہ رسدی لازماً ملے گا۔
ان کی اس بات سے کہ ہم ایک بار شتر غلہ زیادہ لائیں گے ، یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) ہر شخص کو ایک بار شتر غلہ دیتے تھے۔ کسی شخص کو اس بات کی اجازت نہ تھی کہ وہ جس قدر غلہ چاہے لے جائے۔ کیونکہ خشک سالی کے دور میں کنڑول کرنے میں حکمت تھا تا کہ سب کو تھوڑا تھوڑا غلہ ملتا رہے۔
Ayah 12:66حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے مجبور ہو کر ان کے اس مطالبے کو تسلیم کیا لیکن ایک شرط لگا دی اور بہت ہی کڑی شرط۔
قال لن ارسلہ۔۔۔۔۔۔ یحاط بکم (12 : 66) ان کے باپ نے کہا “ میں اس کو ہرگز تمہارے ساتھ نہ بھیجوں گا۔ جب تک کہ تم اللہ کے نام سے مجھ کو ۔۔۔ نہ دے دو کہ اسے میرے پاس ضرور واپس لے کر آؤ گے الا یہ کہ تم گھیر ہی لیے جاؤ ”۔
یعنی تم اللہ کی قسم اٹھا کر یہ یقین دلاؤ گے کہ تم اسے لے کر آؤ گے الا یہ کہ تم سب کے سب گھیر لیے جاؤ اور تمہارے نکل آنے کی کوئی تدبیر نہ رہے اور ایسے حالات ہوں کہ تم بےبس ہوجاؤ۔
فلما اتوہ موثقھم ۔۔۔۔۔۔ وکیل (12 : 66) “ جب انہوں نے اس کو اپنے اپنے ۔۔۔۔ دے دئیے تو اس نے کہا ، “ دیکھو ، ہمارے اس قول پر اللہ نگہبان ہے ”۔ یعنی نہایت تاکید کے طور پر اور بات کو پختہ کرنے کے لئے اور زیادہ نصیحت اور خدا خوفی کے لئے خدا کو شاہد کردیا۔ اس تاکید مزید کے بعد اب حضرت یعقوب (علیہ السلام) ان کو زیادہ نصیحت کرتے ہیں کہ مصر کی مملکت میں داخلے کے وقت احتیاطی تدابیر اختیار کرو۔
Ayah 12:67آیت نمبر 67
حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا (ان الحکم الا للہ ) اس پر گہرے غوروفکر کی ضرورت ہے۔ اس بات کے سیاق سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے تقدیری اور جبری احکام اس کائنات میں اس طرح رواں اور دواں ہیں کہ ان کے اندر کوئی انغکاک ممکن نہیں ہے۔ کوئی تخلف نہیں ہے۔ ان احکام سے کوئی مغر نہیں ہے۔ اور امنت باللہ میں والقدر خیرہ وشرہ من اللہ تعالیٰ کا یہی مطلب ہے۔
اللہ کے تکوینی اور تقدیری احکام اس دنیا میں لوگوں پر نافذ ہوتے ہیں اور ان کا اجراء خود لوگوں کی مرضی اور ارادے پر موقوف نہیں ہے۔ ان جبری اور تقدیری احکام الہیہ کے ساتھ ساتھ ایسے الٰہی احکام بھی ہوتے ہیں جو انسانوں کے دائرہ اختیار میں ہوتے ہیں۔ اور یہ شرعی احکام ہیں جو قرآن اور سنت میں امرو نہی صادر نہیں کرسکتا۔ ان احکام کا حکم بھی تقدیری اور تکوینی احکام کی طرح ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ شرعی احکام میں لوگ مختار ہیں ، ان کو نافذ کریں یا نہ کریں ، اور اسی پر دنیا اور آخرت میں ان کی زندگی کے اعمال پر نتائج اور احکام مرتب ہوتے ہیں اور ہوں گے۔ اور سزا اور جزاء کا فیصلہ ہوگا۔ لیکن لوگ اس وقت تک مسلمان نہیں ہو سکتے جب تک وہ اللہ کے شرعی احکام کو بھی اپنی پوری زندگیوں میں نافذ نہ کریں۔
Ayah 12:68غرض اب یہ قافلہ چلتا ہے اور وہ اپنے والد کی وصیت پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔
آیت نمبر 68
ترجمہ : سوال یہ ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے ان کو یہ وصیت کیوں فرمائی۔ اس موقعہ پر ان کے باپ یہ کیوں کہتے ہیں کہ ایک دروازے سے داخل نہ ہونا بلکہ متفرق ابواب سے داخل ہونا۔
روایات اور تفاسیر نے اس سلسلے میں دور دراز کی باتیں کی ہیں جبکہ ان کی سرے سے ضرورت ہی نہ تھی۔ بعض مفسرین نے تو ایسی باتیں بھی لکھی ہیں جو سیاق قرآن کے خلاف ہیں۔ قرآن کریم اگر اس کا کوئی سبب بنانا چاہتا تو ضرور بتا دیتا لیکن قرآن مجید نے تو صرف اس قدر کہا۔
الا حاجۃ فی نفس یعقوب قضھا (12 : 68) “ یعقوب (علیہ السلام) کے دل میں ایک کھٹک تھی اسے دور کرنے کی انہوں نے اپنی سی کوشش کی ”۔ لہٰذ مفسرین کو چاہئے تھا کہ بس وہ اسی بات پر توقف کرتے جو قرآن کریم نے کہہ دی۔ اور اپنی رائے کو اس ماحول اور فضا تک محدود کرتے جس میں یہ وصیت کی گئی اور جس ماحول میں یہ بات ہو رہی تھی اس میں حضرت یعقوب (علیہ السلام) اپنے بیٹوں کی سلامتی کے بارے میں خدشات رکھتے تھے اور وہ سمجھتے تھے کہ اگر یہ متفرق دروازوں سے غیر محسوس طور پر داخل ہوگئے تو جس خطرے کے بارے میں وہ سوچتے تھے وہ شاید ٹل جاتا لیکن اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہہ دیا کہ میں اللہ کی مشیت سے تم کو نہیں بچا سکتا۔ حکم اس کے سوا کسی کا نہیں چلتا۔ صرف اسی پر بھروسہ ہونا چاہئے۔ البتہ ان کے دل میں ایک کھٹک تھی اور ان کا وجدان کسی خطرے کو محسوس کر رہا تھا اور اس کا فیصلہ انہوں نے اس وصیت کے ذریعے کیا ۔ لیکن وہ جانتے تھے کہ اللہ کا ارادہ نافذ ہونے والا ہے اور یہ بات ان کو اللہ نے سمجھائی تھی اور یہ ان کے پیغمبرانہ علم میں تھی۔
ولکن اکثر الناس لا یعلمون (12 : 68) “ مگر اکثر لوگ معاملہ کی حقیقت کو جانتے نہیں ”۔ اب اس کا حقیقی سبب کیا تھا ؟ یہ بھی ممکن ہے کہ آپ ان کو حاسدوں کی آنکھوں سے بچانا چاہتے تھے یا یہ بات بھی ہو سکتی تھی کہ اگر وہ جتھے کی شکل میں جاتے تو مصر کی مملکت اپنے لئے اس کو سیکورٹی کا مسئلہ بنا لیتی۔ یا ان کو اس کی شان و شوکت سے داخل ہونے سے غیرت آجاتی۔ یا یہ کہ ان کو کوئی ڈاکو نہ سمجھے یا جو بھی ہو ، یہاں اس کی وضاحت وصراحت سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ ہاں ایک قاری اور مفسر کو یہ نقصان ضرور ہوتا کہ وہ اصل قرآنی موضوع اور غرض وغایت سے ذرا ہٹ کر ان اسباب پر کلام کرتا اور قال و قیل کا سلسلہ چل نکلتا۔ اس قسم کے قال و قیل پر مشتمل مباحث بسا اوقات بحث کو خالص قرآنی فضا اور موضوع سے دور لے جاتے ہیں۔
Ayah 12:69مناسب یہ ہے کہ ہم اس وصیت اور اس سفر کو اسی طرح لکھیں جس طرح قرآن کریم نے اسے لیا ہے۔ اب برادران یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ اگلے منظر میں ہم یوں ملتے ہیں :
آیت نمبر 69
اس منظر میں ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) اور ان کے حقیقی بھائی کی ملاقات جلدی سے کرا دی جاتی ہے۔ پھر حضرت یوسف (علیہ السلام) کسی تمہید کے بغیر بھائی کو اطلاع دے دیتے ہیں کہ میں تمہارا بھائی یوسف (علیہ السلام) ہوں اور یہ مشورہ بھی ان کو دیتے ہیں کہ دوسرے بھائیوں نے ان کے ساتھ اس سے قبل جو سلوک کیا اس کو بھول جائیں۔ ماضی کی پریشان کن یادیں بہرحال کسی شخص کی زندگی کا حصہ ہوتی ہیں اور وہ چونکہ کنعان میں اسی خاندان میں رہتے تھے جن میں یہ واقعات رونما ہوئے تھے تو لازماً یہ ان کے لئے ہر وقت پریشان کن تھے اور تکلیف دہ تھے۔
سیاق کلام نے کیوں اس بات کو پہلے بیان کردیا ؟ حالانکہ قدرتی امر یہ ہے کہ برادران کے درمیان یہ مکالمہ عین اس وقت نہ ہوا ہوگا جب یہ وفد حضرت یوسف (علیہ السلام) حاکم مصر سے ملا ہوگا ، بلکہ یہ اس وقت ہوا ہوگا جب یوسف (علیہ السلام) اور ان کے جھوٹے بھائی تنہا ہوئے ہوں گے۔ ہاں جب یہ لوگ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو ملے ہوں گے اور انہوں نے اس طویل جدائی کے بعد اپنے بھائی کو دیکھا ہوگا تو ان کے دل میں یہ خیال سب سے پہلے آگیا ہوگا کہ میں بھائی کو یہ اطلاع کردوں۔
یہ چونکہ پہلا خیال تھا اس لئے اس منظر میں اسے خیال یوسف (علیہ السلام) کی شکل میں دے دیا گیا اور یہ قرآن کریم کا ایک نہایت ہی لطیف اور خوبصورت اسلوب بیان ہے اور اس سے لطف اندوز وہی لوگ ہو سکتے ہیں جو کلام کی فنی باریکیوں کو جانتے ہیں۔
اس منظر میں بھی بعض واقعات کے بیان کو غیر ضروری سمجھتے ہوئے کاٹ دیا جاتا ہے۔ مثلاً برادران یوسف (علیہ السلام) کی مہمانداری اور اس دوران ان کے درمیان ہونے والی گفتگو ، اور برادران یوسف (علیہ السلام) کی روانگی کا منظر لے لیا جاتا ہے۔ اس منظر میں ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) اپنے بھائی کو اپنے ہاں روکنے کے لئے ایک خاص تدبیر کرتے ہیں تا کہ ان کے بھائیوں کو سبق دیا جائے بلکہ بہت سے سبق دئیے جائیں جو ان کے لئے ضروری تھے اور قیامت تک آنے والے لوگ بھی اس سے عبرت لیتے ہیں۔ چناچہ اس تدبیر کو ابدی کتاب کا حصہ بنا دیا جاتا ہے۔
Ayah 12:70آیت نمبر 70 تا 78
یہ ایک نہایت ہی دلچسپ منظر ہے۔ اس میں متنوع حرکات ، تاثرات ، سر پر ائز شامل ہیں۔ جیسا کہ کوئی نہایت ہی موثر ، جذباتی اور زندگی سے بھر پور کوئی ڈرامائی منظر ہو سکتا ہے۔ لیکن کمال یہ ہے کہ قرآن کریم زندہ اور حقیقی واقعات کو نہایت ہی موثر انداز میں بیان کرتا ہے۔
پس پردہ حرکت یہ ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) بادشاہ کے پیمانے یا پیالے کو ان کے سامان میں رکھوا رہے ہیں۔ کہا جاتا ہے یہ پیالہ بیک وقت پینے کے کام بھی آتا تھا اور غلہ ماپنے کا پیمانہ بھی تھا ۔ اس دور میں گندم کو سونے کے پیمانے میں ناپنا تعجب انگیز امر نہیں ہے کیونکہ اس قحط کے دور میں سونے کے مقابلے میں گندم کی اہمیت زیادہ تھی۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) پس منظر میں اس پیالے کو اپنے بھائی کے بار میں رکھوا رہے ہیں تا کہ اللہ کی ہدایات کے مطابق اس تدبیر اے بھائی کو پکڑا جاسکے۔ تفصیلات ابھی آرہی ہیں۔
اب جبکہ یہ قافلہ بار لدوا کر واپس عازم کنعان ہوچکا تو ایک منادی نمودار ہوتا ہے اور وہ اعلان عام کی شکل میں آواز دیتا ہے اور یہ اعلان پورے قافلے کے لئے ہے۔
ایتھا العیر انکم لسرقون (12 : 70) “ اے قافلے والو ! تم لوگ چور ہو ”۔ برادران یوسف ڈر سے کانپ اٹھتے ہیں کیونکہ چوری کا الزام پورے قافلے پر لگ چکا ہے۔ ان کے لئے اس کی اہمیت اس لئے بھی زیادہ ہے کہ وہ حضرت یعقوب علی السلام ، ابن اسحاق ابن ابراہیم (علیہم السلام) کے بیٹے ہیں۔ یہ لوگ اپنے جانور اور بار واپس کرلیتے ہیں تا کہ اس الزام کی تحقیقات کی جاسکے۔
Ayah 12:71قالوا واقبلوا علیہم ما ذا تفقدون (12 : 71) “ انہوں نے پلٹ کر پوچھا تمہاری کیا چیز کھوئی گئی ؟ ” چناچہ ان ملازمین نے ، جن کی ڈیوٹی تھی کہ وہ ان کے بار تیار کریں ، کہا چوکیداروں نے کہا جن میں سے یہ اعلان کنندہ بھی تھا۔
Ayahs 12:72–73قالوا نفقد صواع الملک (12 : 72) “ سرکاری ملازمین نے کہا بادشاہ کا نہ ہم کو نہیں مل رہا ”۔ اس دوران ایک دوسرا شخص منظر پر آتا ہے اور وہ انعام ، انعام کی ایک بڑی رقم کا اعلان کرتا ہے کہ اگر کوئی رضا کارانہ طور پر واپس کر دے تو یہ قیمتی انعام دیا جائے گا۔ ولمن جاء بہ حمل بعیر وانا بہ زعیم (12 : 72) “ جو شخص لا کر دے گا اس کے لئے ایک بار شتر انعام ہے اور اس کا میں ذمہ دارہوں ”۔ زعیم بمعنی ضامن کہ اسے ایک بار شتر گندم دوں گا۔
لیکن ان حضرات کو تو پورا یقین تھا کہ وہ بےگناہ ہیں ، کیونکہ انہوں نے کوئی زیادتی نہیں کی تھی۔ اور نہ ہی وہ اس لئے آئے تھے کہ ایسی حرکتیں کریں ، جس سے باہم اعتماد تباہ ہوجائے اور مختلف ممالک کے بین الاقوامی تعلقات خراب ہوں۔ چناچہ وہ قسمیہ بیان دیتے ہیں :
قالوا تاللہ۔۔۔۔۔۔ فی الارض (12 : 73) “ ان بھائیوں نے کہا خدا کی قسم ، تم لوگ خوب جانتے ہو کہ ہم اس ملک میں فساد کرنے نہیں آئے ہیں ”۔ تمہیں ہماری تاریخ کا بھی علم ہے ، ہمارے نسب و حسب کا بھی علم ہے اور ہماری ظاہری پوزیشن بھی نظر آتی ہیں۔
وما کنا سرقین (12 : 73) “ اور ہم چوریاں کرنے والے لوگ نہیں ہیں ”۔ ہم سے یہ برا فعل ہرگز صادر نہیں ہو سکتا ، ہرگز نہیں۔ بادشاہ کے کارندوں اور چوکیداروں نے کہا۔
Ayah 12:74قالوا فما جزؤہ ان کنتم کذبین (12 : 74) “ اچھا ، اگر تمہاری بات جھوٹی نکلی تو پھر چور کی سزا کیا ہے ؟ ” اس سے وہ حکمت معلوم ہوتی ہے جو اس تدبیر کی شکل میں اللہ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو سمجھائی۔ دین یعقوب (علیہ السلام) میں قانون یہ تھا کہ چور کو چوری کے مال اور جرم کے بدلے رہن قیدی یا غلام بنا لیا جائے۔ برادران یوسف (علیہ السلام) کو چونکہ اپنی گناہی کا پورا پورا یقین تھا ، تو وہ کو خوشی خوشی اس پر راضی ہوگئے کہ دین یعقوبی کے مطابق فیصلہ ہوجائے جو بھی مجرم ہو۔ یوں اللہ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائی کے لئے جو اسکیم تیار کی وہ پایہ تکمیل کو پہنچی۔
Ayah 12:75قالوا جزؤہ ۔۔۔۔۔۔ الظلمین “ انہوں نے کہا اس کی سزا ؟ جس کے سامان میں سے چیز نکلے وہ آپ ہی اپنی سزا میں رکھ لیا جائے۔ ہمارے ہاں تو ایسے ظالموں کو سزا دینے کا یہی طریقہ ہے ”۔
یہ سب گفتگو حضرت یوسف (علیہ السلام) کی موجودگی میں ہو رہی تھی اور وہ یہ سب کچھ دیکھ اور سن رہے تھے ۔ اس لیے کہ انہوں نے تلاشی کا حکم دیا اور ان کی دانش مندی نے انہیں یہ سمجھایا کہ دوسرے بھائیوں کے باروں کی تلاشی پہلے لی جائے تا کہ تفتیش اور تدبیر کے بارے میں کوئی شبہ نہ ہو۔
Ayah 12:76فبدا باوعیتھم۔۔۔۔۔۔۔۔ وعاء اخیہ (12 : 76) “ تب یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائی سے پہلے ان کی خرجیوں کی تلاشی لینی شروع کی پھر اپنے بھائی کی خرجی سے گم شدہ چیز برآمد کرلی ”۔
اس مرحلے پر قرآن اس دہشت اور پریشانی کو بیان نہیں کرتا جس سے برادران یوسف اچانک دو چار ہوگئے۔ ان کو تو سو فیصدی یقین تھا کہ وہ بےگناہ ہیں۔ انہوں نے بیان حلفی بھی دے دیا تھا اور بیک آواز دے دیا تھا۔ قرآن کریم نے منظر کا یہ حصہ انسانی تخیل پر چھوڑ دیا کیونکہ ایسے مواقع پر ایسے تاثرات خود بخود ظاہر ہوتے ہیں۔ اس تاثر کو انسانی خیال پر چھوڑ دیا گیا اور واقعہ پر ایک تبصرہ کردیا گیا تا کہ ابنائے یعقوب جس دہشت اور شرمندگی سے دو چار تھے ، ایک قاری اس سے ذرا نکل آئے۔
کذلک کدنا لیوسف (12 : 76) “ اس طرح ہم نے یوسف (علیہ السلام) کی تائید اپنی تدبیرت کی جو نہایت ہی گہری تدبیر تھی۔
ما کان لیاخذ اخاہ فی دین الملک (12 : 76) “ اس کو دین شاہی میں اپنے بھائی کو پکڑنے کا حق نہ تھا ”۔ یعنی اگر اس کیس کا فیصلہ شاہی قانون کے مطابق کیا جاتا تو حضرت یوسف (علیہ السلام) بھائی کو شخصی طور پر نہیں روک سکتے تھے۔ صرف اسے چور کی سزا دے سکتے تھے۔ لیکن بھائیوں نے یہ تجویز دی کہ ان کے اپنے دین کے مطابق چور کا فیصلہ ہونا چاہئے ۔ یہ ہے وہ تدبیر جس کے اسباب اللہ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو سمجھائے ۔ یہ ہے اللہ کی جانب سے یوسف (علیہ السلام) کے حق میں تدبیر۔ لفظ “ کید ” عربی میں خفیہ تدبیر کو کہتے ہیں اور اس کا استعمال لغت میں خیر اور شر دونوں معنوں میں ہوتا ہے۔ لیکن عموماً اس کا استعمال شر میں ذرا زیادہ ہوگیا۔ بظاہر تو یہاں اس کے بھائی کے لئے بھی واقعہ شر ہی کا ہو رہا ہے ، بھائیوں کے لئے بھی یہ بظاہر شر ہے کیونکہ ان کو والد کا سامنا کرنا مشکل ہوگیا۔ پھر حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے لئے بھی یہ وقتی طور پر تکلیف دہ امر ہے۔ چناچہ قرآن کریم نے واقعہ کے ظاہری پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کے لئے “ کید ” کا لفظ استعمال کیا جو قرآن کریم کا ایک نہایت ہی لطیف اسلوب بیان ہے۔
ما کان ۔۔۔۔۔۔ یشاء اللہ (12 : 76) “ وہ بادشاہ کے قانون میں اپنے بھائی کو نہ پکڑ سکتے تھے الا یہ کہ اللہ ایسا چاہتا ”۔ جیسا کہ اللہ نے ان کے لئے زیر نظر تدبیر کی۔
اس آخری تبصرے میں یہ بھی بتا دیا گیا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو اللہ نے بہت ہی رفعتیں بہت ہی علم ، عطا فرما دیا تھا۔
نرفع درجت من نشاء (12 : 76) “ ہم جس کے درجے چاہتے ہیں بلند کردیتے ہیں لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ تنبیہ بھی کردی جاتی ہے کہ اللہ کا علم سب سے اونچا اور اعلیٰ ہے۔
وفوق کل ذی علم علیم (12 : 76) “ اور ایک علم رکھنے والا ایسا ہے جو ہر صاحب علم سے بالاتر ہے ”۔ یہ ایک لطیف احتیاط ہے۔
یہاں قرآن مجید نے اس آیت :
کذلک کدنا۔۔۔۔۔۔۔ دین الملک (12 : 76) “ ہم نے یوسف (علیہ السلام) کے لئے یوں تدبیر کی۔۔۔۔ وہ اپنے بھائی کو بادشاہ کے قانون نظام میں گرفتار نہ کرسکتے تھے ” میں لفظ “ دین ” کو ایک مخصوص مفہوم میں استعمال کیا گیا ہے اور یہ نہایت ہی ٹیکنیکل اصطلاحی استعمال ہے۔ یعنی نظام اور شریعت کے مفہوم میں کیونکہ مصر کے قانونی نظام میں چور کے لئے یہ سزا نہ تھی کہ اسے جرم کے عوض رکھ ہی لیا جائے۔ یہ سزا صرف حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے شرعی اور قانونی نظام میں تھی۔ برادران یوسف اس بات پر راضی ہوگئے تھے کہ کیس کا فیصلہ ان کے قانون کے مطابق کیا جائے۔ جب ۔۔۔۔ اس کے بھائی کی خرجی سے نکلا تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان پر انہی کا قانون نافذ کردیا۔ یہاں قرآن کریم نے نظام اور قانون پر “ الدین ” کا اطلاق فرمایا ہے۔
دین کا یہ نہایت ہی واضح اور صریح مفہوم ہے ، اور بیسویں صدی کی جاہلیت میں سب کے ذہن سے یہ مفہوم غائب ہے۔ ان لوگوں کے ذہن سے بھی جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں اور ان کے ذہن سے بھی جو اس جاہلیت کے داعی اور پیروکار ہیں۔
ان لوگوں نے دین کا مفہوم عبادت اور مراسم مذہبی تک محدود کردیا ہے۔ یہ سمجھتے ہیں کہ جو شخص اللہ کی وحدانیت پر اعتقاد رکھتا ہو ، رسول کو سچا سمجھتا ہو ، ملائکہ اور کتب پر ایمان رکھتا ہو ، تمام رسولوں کو مانتا ہو ، آخرت پر یقین رکھتا ہو ، اور اچھی اور بری تقدیر کے من جانب اللہ ہونے کا قائل ہو اور پھر وہ فرائض و عبادات پر عمل پیرا ہو ، بس وہ پکا دین دار ہے۔ اگرچہ زندگی کے دوسرے معاملات میں وہ دوسرے ارباب اور دوسرے حاکموں کی اطاعت کرتا ہے اور دوسروں کے قانون اور شریعت کے مطابق فیصلے کرتا ہو حالانکہ اس آیت میں صریح طور پر کہا گیا ہے کہ نظام قانون اور شریعت دین کا مسئلہ ہے اور اللہ کے دین کا مفہوم اللہ کا پورا نظام زندگی ہے۔
“ الدین ” کے مفہوم کو اس قدر محدود کردیا گیا ہے اور اس قدر سکیڑ دیا گیا ہے کہ وہ عبادات اور اعتقادات تک محدود ہو کر رہ گیا ہے لیکن حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت محمد ﷺ تک تمام انبیاء نے جو دین پیش کیا اس کا مفہوم اس طرح محدود نہ تھا۔
دین کا مفہوم ہمیشہ یہ رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مکمل بندگی کی جائے۔ ان تمام امور پر عمل کیا جائے جو شریعت کا حصہ ہیں۔ اور ان تمام امور کو ترک کیا جائے جو شریعت کے خلاف ہیں۔ جس طرح اللہ وحدہ آسمانوں میں حاکم ہیں اسی طرح زمین پر بھی اللہ وحدہ کی حکومت قائم کی جائے اور اللہ وحدہ کو تمام انسانوں کا رب سمجھا جائے یعنی وہی حاکم ہو ، وہی قانون ساز ہو ، اور اسی کے احکام و نواہی چلیں۔ اہم بات یہ ہے کہ کون لوگ اللہ کے دین میں ہیں اور کون لوگ بادشاہ کے دین میں ہیں ؟ اس مفہوم کے اعتبار سے جو لوگ اللہ کے نظام ، اللہ کے قانون کی اطاعت کرتے ہیں وہ دین الٰہی میں ہیں اور جو لوگ بادشاہ کے نظام اور قانو کو مانتے ہیں وہ بادشاہ کے دین میں ہیں۔ یہ لوگ اگر شرک بھی کرتے ہیں تو پھر یہ اعتقادات و نظریات میں بھی شرک کے مرتکب ہوتے ہیں اور نظام اور قانون اور دستور میں بھی شرک کے مرتکب ہوتے ہیں۔
دین کے مفہوم کے یہ منطقی اور بدیہی نتائج ہیں اور اسلامی نظریہء حیات کے بدیہیات میں سے ہیں۔
آج کل عوام الناس کے بعض ہمدرد عوام کی طرف سے یہ عذر پیش کرتے ہیں کہ یہ لوگ “ دین اللہ ” کا مفہوم ہی نہیں سمجھتے اس لیے ایسے لوگ نہ اس بات کا مطالبہ کرتے ہیں کہ اسلامی قانون اور دستور کو نافذ کیا جائے اور نہ اس کے لئے جدو جہد کرتے ہیں۔ پھر کیا ان لوگوں کی یہ جہالت اور دین کے حقیقی مفہوم سے لا علمی ان کے لئے معافی کا عذر بن جائے گی ؟
میں تو یہ نہیں سمجھتا کہ دین کے مفہوم کو نہ جاننا اور اس کی حقیقت سے بیخبر ہونا کسی کو دین دار بناتا ہے ۔ کسی حقیقت پر یقین اس وقت حاصل ہوتا ہے جب کسی کو وہ حقیقت معلوم ہو۔ اگر لوگ کسی عقیدے کا علم ہی نہیں رکھتے تو وہ اس کے معتقد کیسے ہو سکتے ہیں اور کس طرح انہیں اس عقیدے والا کہا جاسکتا ہے جبکہ وہ اس عقیدے کا مفہوم ہی نہیں سمجھتے۔
ہو سکتا ہے کہ دین کی حقیقت سے بیخبر ی آخرت میں ان کے حساب و کتاب میں کسی نرمی کا باعث ہو ، یا عذاب میں کمی ہوجائے ، اور یہ حساب ان سے لیا جائے جنہوں نے ان کو دین سکھایا نہیں جبکہ وہ دین کے حقیقی مفہوم سے واقف تھے۔ لیکن یہ ایک مسئلہ ہے جس کا تعلق اخروی حساب سے ہے ، اور تمام اہل جاہلیت کی سزا کا مسئلہ جن تک دعوت نہ پہنچی ہو۔ اس میں بحث و مباحثہ کرنا ہمارے لیے کچھ زیادہ مفید نہیں ہے نہ یہ ہمارا مسئلہ ہے۔ ہمارا فریضہ تو یہ ہے کہ ہم تمام لوگوں کو اسلام کی دعوت دیں اور ایک ایک تک پہنچائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمارا یہ بھی فریضہ ہے کہ ہم لوگوں کو ان کے موجودہ دین کی حقیقت سمجھائیں۔ یہ کہ یہ دین اللہ کا دین قطعاً نہیں ہے۔ اللہ کا دین تو وہ ہے جو اس کے نصوص کی صورت میں بطور نظام زندگی اور نظام قانون کے موجود ہے۔ اس طرح اسلامی عقائد کے ساتھ جو شخص اللہ کے نظام اور قانون کو بھی رائج اور نافذ کرے گا وہی دین اسلام میں ہوگا۔ جو شخص کسی بادشاہ یا دوسرے شخص کا نظام رائج کرے گا وہ اس کے نظام اور دین میں ہوگا۔ یہ مسئلہ مختلف فیہ نہیں ہے۔
وہ لوگ جو اس دین کے مفہوم ہی سے ناواقف ہیں ، ان کے بارے میں اس بات کا امکان ہی نہیں ہے کہ وہ اس دین کا اعتقاد رکھتے ہوں ۔ کیونکہ ان کی جہالت کا تعلق دین کی بنیاد سے وابستہ ہے اور جو شخص کسی چیز کی حقیقت کا علم نہ رکھتا ہو وہ عقلاً اور واقعتاً اس چیز پر اعتقاد رکھنے کے قابل ہی نہیں رہتا۔ کیونکہ عقیدہ علم کے بعد آتا ہے۔ یہ بات ہدایتہً ثابت ہے کہ علم کے بغیر عقیدہ ممکن نہیں ہے۔
پس ہمارے لیے یہ بہتر ہے کہ ہم لوگوں کے سامنے دین کے اصل مفہوم اور دین کی حقیقت ظاہر کریں ۔ بجائے اس کے کہ ہم ان کی جانب سے بےجامد افعت کریں ، ان کے لیے عذرات تلاش کریں ، ان کے لئے ہم اللہ کریم سے بھی زیادہ رحمدل ہوجائیں۔ جبکہ وہ درحقیقت اللہ کے دین میں داخل نہیں ہیں۔ ایسے لوگوں کے بارے میں پالیسی یہ ہونا چاہئے کہ انہیں صاف صاف بتا دیا جائے کہ ان کی یہ پوزیشن ہے چاہے وہ دین کو اپنائیں یا چھوڑ دیں۔
یہ پالیسی ہمارے لیے بھی مفید ہے اور ان عوام الناس کے لیے بھی مفید ہے۔ اس طرح ہم ان جاہلوں کی گمراہی کے نتائج بھگتنے سے بھی بچ جائیں گے کیونکہ یہ لوگ دین کے مفہوم کو نہ پانے کی وجہ سے دین کے معتقد ہی نہیں رہے۔ اگر ہم ان لوگوں کے سامنے دین کی اصل حقیقت پیش کردیں جو دراصل دین اسلام میں داخل نہیں ہیں بلکہ دین شاہ وغیرہ میں ہیں تو ممکن ہے کہ ان کا ضمیر بیدار ہوجائے اور وہ در حقیقت دین اسلام میں داخل ہوجائیں۔
یہی پالیسی نبی کریم ﷺ کی رہی ہے اور یہی پالیسی تمام داعیان حق کی ہونی چاہیے ، ہر زمان و مکان میں ہونی چاہیے ، تمام جاہلوں اور جاہلیت پرستوں کے مقابلے میں۔
Ayahs 12:77–78اس مختصر سبق آموز تبصرے کے بعد اب ہم برادران یوسف (علیہ السلام) کی طرف لوٹتے ہیں۔ حالات ایسے ہیں کہ اس مشکل مرحلے سے دو چار ہو کر یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائی کے خلاف ان کے دل میں چھپی ہوئی عداوت اور بغض و حسد اب اہل پڑا ہے۔ چناچہ وہ اپنے آپ کو اس جرم سے بری قرار دے کر ، اس کا ذمہ دار حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی دوسری بیوی کی اولاد کو ٹھہراتے ہیں۔
قالوا ان یسرق فقد سرق اخ لہ من قبل (12 : 77) ان بھائیوں نے کہا “ یہ چوری کرے تو کچھ تعجب کی بات بھی نہیں ، اس سے پہلے اس کا بھائی (یوسف (علیہ السلام) بھی چوری کرچکا ہے ”۔ ہمارے تفاسیر کے ذخیرے میں اس الزام پر طویل تبصرے ، حکایات اور روایات بیان کی گئی ہیں ، جو سب کی سب اسرائلیات پر مشتمل ہیں۔ یہ کہ اس کی طرف سے سرقہ قابل تعجب نہیں ہے۔ اس سے قبل اس کے بھائی (یوسف (علیہ السلام) اس جرم کا ارتکاب کرچکے ہیں۔ گویا انہوں نے تو یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں باپ کے سامنے جھوٹ نہیں کہا تھا۔ کیا وہ اب عزیز مصر کے سامنے جھوٹ نہیں بول رہے کہ اپنے آپ کو اس شرمندگی سے نکالیں اور اس طرح وہ اپنے آپ کو یوسف (علیہ السلام) اور اس کے بھائی سے قدرے علیحدہ کردیں۔ اس طرح یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائی کے حق میں اپنے قدیمی بغض اور حسد کو ظاہر کردیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) پر یہ بالکل ناحق اور جھوٹا الزام لگایا۔
فاسرھا یوسف فی نفسہ ولم یبدھالھم (12 : 77) “ یوسف (علیہ السلام) ان کی یہ بات سن کر پی گیا اور یہ بات ان پر نہ کھولی ”۔ یوسف (علیہ السلام) نے ان کو اس الزام کے جواب میں ، اپنی حقیقت ان پر نہ کھولی ، بات کو پی گئے اور اپنے تاثرات کا اظہار نہ کیا۔ حالانکہ وہ جانتے تھے کہ وہ اور ان کے بھائی دونوں بری الذمہ ہیں۔ البتہ انہوں نے صرف اتنا کہا :
قال انتم شرمکانا (12 : 77) “ تم بہت ہی برے لوگ ہو ”۔ یعنی تم یہ جھوٹا الزام لگا رہے ہو اور جس پر تم الزام لگا رہے ہو ، اس کے مقابلے میں تم تو بہت ہی برے ہو ”۔
قال انتم شر مکاناً (12 : 77) “ یوسف (علیہ السلام) نے کہا ، تم بہت ہی برے ہو ”۔ یعنی تم جس پر الزام سرقہ لگا رہے ہو اس کے مقابلے میں اللہ کے نزدیک تم خود بہت ہی برے ہو ، اور حضرت یوسف (علیہ السلام) نے جو کچھ کہا۔ یہ محض گالی نہ تھی بلکہ حقیقت تھی۔
واللہ اعلم بما تصفون (12 : 77) “ جو الزام تم لگا رہے ہو ، اس کی حقیقت خدا خوب جانتا ہے ”۔ اور اس واقعہ کی حقیقت بھی اور تمہارے الزام کی حقیقت بھی۔ یوں اللہ پر چھوڑ کر حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بات کو یہاں ہی ختم کردیا کیونکہ یہاں مطلب و موضوع کے ساتھ اس واقعہ کا تعلق نہیں ہے۔
اب یہ لوگ اس پریشان کن صورت حال پر غور کرنے لگے جس میں وہ گرفتار ہوگئے تھے۔ سوچنے لگے کہ والد نے تو پہلے ہی یہ کہا تھا کہ :
لتاتننی بہ الا این یحاط بکم (12 : 66) “ تم ضرور اسے لے کر آؤ گے الا یہ کہ تم سب گھر جاؤ ”۔ اب وہ حضرت یوسف (علیہ السلام) سے رحم کی اپیل کرنے لگے۔ اس نوجوان بھائی کے بہت ہی بوڑھے باپ کا واسطہ دینے لگے ، یہ پیش کرنے لگے کہ اس کی جگہ ہم میں سے کسی ایک کو گرفتار کرلے ۔ یہ ان کو یاد دلا رہے ہیں کہ یوسف (علیہ السلام) تم بہت محسن ، نیک نفس انسان ہو اور اس کے باپ ہی کی خاطر اسے رہا کردو۔
قالوا یایھا العزیز ۔۔۔۔۔ المحسنین (12 : 78) “ انہوں نے کہا “ اے سردار ذی اقتدار (عزیر) اس کا باپ بہت بوڑھا آدمی ہے ، اس کی جگہ آپ ہم میں سے کسی کو رکھ لیجئے ، ہم آپ کو بڑا ہی نیک نفس انسان پاتے ہیں ”۔ لیکن حضرت یوسف (علیہ السلام) تو انہیں مزید سبق پڑھانا چاہتے تھے۔ وہ ان کو اس اچانک خوشی کے لئے تیار کررہے تھے ، جو ان کے لیے ، ان کے والد کے لئے اور سب رشتہ داروں کے لئے آرہی تھی تا کہ وہ بےحد خوش ہوں اور ان پر اس کا گہرا اثر ہو۔
Ayah 12:79حضرت یوسف (علیہ السلام) نے یہ نہیں کہا کہ پناہ خدا کی ، کہ ہم کسی چور کے بدلے ایک بےگناہ کو پکڑ لیں۔ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ بھائی چور نہیں ہے ، اس لیے انہوں نے نہایت ہی ٹیکنیکل انداز تعبیر اختیار کیا۔ اگرچہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی زبان مصری ہوگی لیکن قرآن نے ان کی جو حالت بتائی ہے ظاہر ہے وہ اصل کے مطابق ہے۔ “ جس کے پاس ہم نے اپنا مال پایا ”۔ ان الفاظ میں بالکل سادہ حقیقت کا اظہار ہے ، نہ الزام ہے اور اس کی طرف اشارہ کہ مال رکھا کس نے۔
انا اذا لظلمون “ اگر ہم دوسرے کو گرفتار کریں تو ہم ظالم ہوں گے ”۔ بس یہ آخری بات تھی ۔ وہ سمجھ گئے کہ اب کچھ نہیں ہو سکتا۔ اب وہ سوچنے لگے کہ والد کو کس طرح منہ دکھائیں گے۔
Ayahs 12:80–82درس نمبر 110 تشریح آیات
80 ۔۔۔۔ تا۔۔۔۔ 101
برادران یوسف اب برادر خورد کے چھڑانے سے مایوس ہوچکے ہیں۔ یوسف (علیہ السلام) کے دربار سے ذرا ہٹ کر وہ ایک مجلس مشاورت منعقد کرتے ہیں۔ یہ بھی ایک عجیب منظر ہے ۔ سیاق کلام میں سب کے اقوال و تجاویز کا تذکرہ نہیں کیا گیا۔ البتہ اس مشاورت کا آخری قول اور فیصلہ کن تجویز یہاں دے دی گئی۔
آیت نمبر 80 تا 82
برادران یوسف (علیہ السلام) میں سے بڑے بھائی سب سے پہلے ان کو یاد دلاتے ہیں کہ والد نے تم سے پختہ عہد لیا ہے اور یہ کہ اس سے پہلے تم یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ بھی زیادتی کرچکے ہو ، اور وہ اس کا اقرار کرلیتے ہیں۔ پھر ہو فیصلہ کن تجویز دیتے ہیں کہ وہ مصر کو اس وقت تک نہ چھوڑیں گے جب تک ان کے والد اجازت نہیں دیتے یا اللہ تعالیٰ کوئی فیصلہ نہیں فرماتے ، اللہ کے فیصلے کے وہ بہرحال پابند ہیں۔ وہ کیا کریں ؟ تو ان سے انہوں نے کہا کہ تم جاؤ اور باپ سے صاف صاف کہو کہ آپ کے بیٹے نے چوری کا ارتکاب کیا ہے۔ پکڑا گیا ، یہ ہے ان کا علم اور مشاہدہ۔ اگر وہ بری الذمہ اور بےگناہ ہے اور اصل حقیقت کچھ اور ہے تو اس سے وہ بیخبر ہیں۔ ان کو بالکل یہ توقع نہ تھی کہ ان کو ایسا حادثہ پیش آئے گا۔ یہ تو ہے اس معاملے کا ظاہری پہلو ، اگر اصل بات کوئی اور ہو تو وہ امر غیبی ہوگی اور ہم اس کو نہیں جانتے۔ نہ جاننے کے مکلف ہیں اور یہ بات ان کی نسبت غیب ہی تھی اور کوئی شخص غیبی واقعات کا دفاع نہیں کرسکتا۔ اور یہ کہ اگر آپ کو ہماری بات پر یقین نہیں آتا تو آپ ، شہر کے دوسرے لوگوں سے پوچھ سکتے ہیں اور پھر مصر سے ہم جس قافلے کے ساتھ آئے ہیں ، اس سے بھی پوچھ سکتے ہیں کیونکہ وہ اکیلے تو نہ تھے ، آج کل مصر کو قافلے پر قافلہ جارہا ہے اور وہاں سے لوگ غلہ لے کر آتے ہیں۔ مصر کے گرد تمام علاقے قحط کی لپیٹ میں ہیں ، سخت خشک سالی ہے۔
٭٭٭
اب وہ کس حال میں واپس آئے ، سفر کس طرح بےہوا ، یہاں ان تفصیلات کو حذف کردیا گیا ہے۔ یہ لوگ اب غم زدہ باپ کے سامنے کھڑے ہیں۔ انہوں نے ماجرا سنا دیا۔ غم زدہ باپ کا صرف ایک مختصر جواب سیاق کلام میں نقل کردیا جاتا ہے۔ نہایت ہی اندوہناک الفاظ میں ۔ لیکن ان کے کلام میں اب بھی امید کی ایک کرن باقی ہے۔ وہ توقع کرتے ہیں کہ خدا دونوں بچے ان کو واپس کر دے گا۔ بلکہ تینوں کو واپس کر دے گا۔ کیونکہ تیسرا بھی مصر میں دھرنا مار کر بیٹھ گیا ہے۔ اس بوڑھے باپ کے شکستہ دل میں اب بھی ایک عجیب امید ہے۔ یہ ہے پیغمبرانہ بصیرت !
Ayah 12:83آیت نمبر 83
تمہارے نفوس نے بہت ہی بڑے گناہ کو سہل بنا دیا ہے۔ تم بھائیوں کے خلاف سازش کرتے ہو۔ میں اس پر صبر ہی کرسکتا ہوں۔ یہ الفاظ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے یوسف (علیہ السلام) کی گمشدگی کے وقت بھی کہے تھے۔ لیکن اس بار یہاں وہ ایک امید بھی ظاہر کرتے ہیں کہ شاید اللہ ان سب کو واپس دلادے۔ بیشک اللہ ہی علیم و حکیم ہے۔ وہ میرے حالات سے بھی واقف ہے اور پسران کے بیانات کی حقیقت بھی جانتا ہے۔ واقعات و امتحانات کی حقیقت بھی وہ جانتا ہے اور جب بھی اللہ کی حکمت کا تقاضا ہوگا تمام واقعات و حقائق سامنے آجائیں گے۔
امید کی یہ کرن اس بوڑھے کے دل میں کہاں سے آئی۔ یہ خدا تعالیٰ سے امید کی کرن تھی ، ذات باری سے ان کا گہرا تعلق تھا۔ اللہ اور اس کی رحمت کے وجود کا پختہ یقین تھا۔ اور یہ یقین اللہ کے برگزیدہ بندوں کے قلوب میں صاف نظر آیا کرتا ہے۔ اور ان کے نزدیک یہ یقین اس قدر حساس ہوتا ہے کہ اس کے مقابلے میں حواسہ خمسہ کا احساس کم نظر آتا ہے۔
Ayah 12:84یہ ایک غم زدہ والد کی نہایت ہی موثر تصویر کشی ہے۔ وہ محسوس کرتے ہیں کہ اس غم کو جھیلنے کے لئے وہ تنہا ہیں ، اس میں ان کے اہل و عیال کے دل شریک نہیں ہیں۔ نہ وہ اس کے ساتھ ہم آہنگ ہیں اور نہ یک جہتی کرتے ہیں۔ لہٰذا وہ علیحدگی میں تنہا ہو کر بیٹھ گئے ہیں۔ اس سے قبل انہیں ایک صدمہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی گمشدگی کی صورت میں پہنچ چکا تھا ، وہ اسے بھول نہ سکے۔ اور طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود اس صدمے میں بھی کوئی کمی نہ آئی تھی۔ اب تازہ صدمہ یوسف (علیہ السلام) کے چھوٹے بھائی کی گرفتاری کی صورت میں پیش آیا ہے ، اور اس کی وجہ سے سابقہ زخم بھی تازہ ہوگئے ہیں۔ اب ان کے صبر جمیل کا پیمانہ لبریز ہوا چاہتا ہے۔
یاسفی علی یوسف (12 : 84) “ ہائے یوسف ! ” انسان اپنے غموں کو چھپاتا ہے ، برداشت کرتا ہے ، اس کے اعضاء ٹوٹ جاتے ہیں اس کی آنکھیں غم سے سفید ہوجاتی ہیں اور یہ غم انہیں اندر ہی اندر میں گھلا رہا ہے۔
وابیضت ۔۔۔۔۔ کظیم (12 : 84) “ اور اس کی آنکھیں سفید پڑگئی تھیں اور وہ دل ہی دل میں غم کھائے جا رہا تھا ”۔
لیکن اس کے دوسرے بیٹوں کے دل حضرت یوسف (علیہ السلام) کے حسد سے اس قدر بھرے ہوئے تھے کہ انہیں اپنے بوڑھے باپ کے حال پر بھی رحم نہ آرہا تھا ، ان کی سنگدلی کا یہ عالم تھا کہ ان کے والد کی یہ بےپناہ محبت بھی ان پر اثر انداز نہ ہو رہی تھی۔ بجائے اس کے کہ وہ تعزیت کرتے ، ان کے دل میں شمع امید روشن کرتے وہ ان کو اور مایوس کرتے اور امید کی آخری کرن کو بھی بجھانے کی سعی کرتے ہیں۔
Ayah 12:85آیت نمبر 85
یہ نہایت ہی مکروہ اور بغض و حسد سے زہر آلود بات ہے ، خدا کی قسم آپ اپنے آپ کو یوسف (علیہ السلام) کی یاد میں ہلاک کر رہے ہیں۔ آپ دیکھتے نہیں کہ آپ پگھل کر رہ گئے ہیں۔ آخر اس غم واندوہ اور ماتم کا اب کیا فائدہ ؟ ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے ۔ یوسف (علیہ السلام) تو اب گیا وہ لوٹ کر آنے والا نہیں ہے۔
لیکن والدان کی اس بات رد فرماتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ بس چھوڑ دو مجھے۔ میرا غم اور میرا شکوہ اللہ ہی سے ہے۔ میرا میرے رب کے ساتھ تعلق ہے اور میں اللہ کی جانب سے وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔
Ayah 12:86آیت نمبر 86
ان الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک پیغمبر کے دل میں اللہ کی حاکمیت اور اختیار مطلق کا کس قدر گہرا شعور ہوتا ہے۔ خدا رسیدہ لوگوں کو اللہ کے انعامات کا بھی احساس ہوتا ہے اور اللہ کی جلالت شان کا گہرا شعور بھی۔
حضرت یوسف (علیہ السلام) کے متعلق جو ظاہری صورت حالات تھی وہ نہایت ہی مایوس کن تھی اور ایک طویل عرصہ بھی گزر چکا تھا۔ ان کی تو زندگی کی امید ہی قطع ہوچکی تھی چہ جائیکہ یہ امید ہو کہ وہ اپنے والد کو اپنے پاس آنے کی دعوت دیں گے اور اس مایوس کن صورت حال ہی کے نتیجے میں ان کے بیٹوں نے ان کے اس تازہ تجسس پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ لیکن یہ تمام حالات اس اللہ کے بندے کی اس پختہ امید کو متاثر نہ کرسکے جو وہ اللہ سے رکھتے تھے ۔ کیونکہ ان کا اپنے رب سے گہرا رابطہ تھا اور وہ اپنے رب کے بارے میں وہ کچھ جانتے تھے جو وہ دوسرے لوگ نہ جانتے تھے کیونکہ وہ حقائق ان کی نظروں سے اوجھل تھے۔ خصوصاً اس واقعہ کے بارے میں۔
یہ ہے حقیقی ایمان کی قدرو قیمت اور اللہ کی حقیقی معرفت کی شان۔ جب اللہ کے بندوں کو معرفت حاصل ہوتی ہے تو ان پر تجلیات ہوتی ہیں۔ اور وہ عالم شہود میں ہوتے ہیں۔ وہ اللہ کی قدرت اور اللہ کی تقدیر سے وابستہ ہوتے ہیں۔ اور اللہ کی نگرانی اور اس کی رحمت ان کے شامل حال ہوتی ہے ۔ وہ جانتے ہیں کہ اللہ اپنے صالح بندوں کے ساتھ کیا سلوک کرتا ہے۔
یہ الفاظ واعلم من اللہ ما لا تعلمون (12 : 86) “ اور میں اللہ کی طرف سے جو کچھ جانتا ہوں تم نہیں جانتے ” ایسے ہیں جن سے یہ حقیقت اس قدر عیاں ہے کہ ہم اس کو کسی طرح اپنے جملے میں ادا نہیں کرسکتے۔ اس بات کو وہی شخص جان سکتا ہے جس کو حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی طرح صبر کا ذوق خاص دیا گیا ہو ، ایسے ہی لوگ جان سکتے ہیں کہ ان کلمات کا مفہوم کیا ہے ؟
اور جن قلوب کے اندر اس قسم کا ذوق پیدا ہوگیا ہو ، یعنی معرفت الٰہی کا ذوق ، ان پر اگر مشکلات اور شدائد کی بارش ہوجائے تو بھی ان پر کوئی اثر نہیں ہوتا ، سوائے اس کے کہ ان شدائد سے ایسے قلوب کا تعلق باللہ ، ذوق معرفت اور مشاہدہ حق مزید قوی ہوجاتا ہے۔
میں اس کے سوا اور کچھ کہنے کی طاقت نہیں رکھتا ، لیکن میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس کا مجھ پر بہت ہی بڑا کرم ہے۔ اس کا میرے ساتھ جو تعلق ہے اسے وہ جانتا ہے یا میں۔ وہ تو علیم وخبیر ہے۔
اب حضرت یعقوب (علیہ السلام) یوسف (علیہ السلام) اور اس کے بھائیوں کی تلاش کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور لڑکوں کو کہتے ہیں کہ وہ مایوس نہ ہوں اللہ کی رحمت بہت ہی وسیع ہے ، اس بات کا امکان ہے کہ وہ سب مل جائیں۔ رحمت الٰہی کا دروازہ ہر وقت کھلا رہتا ہے۔
Ayah 12:87آیت نمبر 87
یہ ہے اس دل کی آواز جو اللہ تک پہنچا ہوا ہے ! !۔ “ میرے بچو جا کر یوسف (علیہ السلام) اور اس کے بھائی کی کچھ ٹوہ لگاؤ، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو ”۔ اپنے پورے حواس کو استعمال کرو ، نہایت رقت سے ، گہری نظروں سے اور مستقل مزاجی سے تلاش کرو۔ اللہ کے فضل وکرم سے کسی بھی وقت مایوسی کا اظہار نہ کرو۔ یہاں اللہ کے کرم کے لئے (روح) کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ یہ اللہ کی رحمت پر گہرائی سے دلالت کرتا ہے اور اس میں یہ اشارہ بھی پایا جاتا ہے کہ مشکلات کے بعد اب آسانیوں کا دور آنے والا ہے۔ کیونکہ جان کن مشکلات کی بعد اب اللہ کی رحمت کی شبنم سے روح کو تراوت ملنے والی ہے۔ '
ولا تایئسو۔۔۔۔۔۔۔ الکفرون (12 : 87) “ اللہ کی رحمت سے تو صرف کافر ہی مایوس ہوا کرتے ہیں ” ۔ رہے وہ مومن جن کے دل اللہ تک پہنچے ہوئے ہوتے ہیں جن کی روح پر معرفت الٰہی کی شنبم گرتی ہے ، جن کے اوپر رحمت الٰہی کی روح پرور خوشگوار ہوا کے جھونکے چلتے ہیں ، وہ کبھی بھی اللہ کے فضل و کرم سے مایوس نہیں ہوتے اگرچہ مشکلات ناقابل برداشت ہوجائیں اور ان کا کلیجہ منہ کو آجائے۔ مومن ہمیشہ ایمان کی چھاؤں میں ہوتا ہے ، وہ تعلق باللہ کی وجہ سے اللہ سے مربوط ہوتا ہے۔ اپنے مولا پر اسے بھروسہ ہوتا ہے۔ اور یہ بھروسہ انتہائی کرب و الم میں بھی زندہ رہتا ہے۔
Ayah 12:88اب تیسری مرتبہ برادران یوسف (علیہ السلام) مصر کے شہر میں داخل ہوتے ہیں۔ قحط نے ان کا برا حال کر رکھا ہے۔ نقدی ختم ہے ، اب وہ ردی قسم کی مال اور روپیہ لے کر آئے ہیں اور اس کے سوا ان کے پاس کچھ بچا بھی نہیں ہے۔ یہ لوگ اس حال میں داخل ہوتے ہیں کہ ان کی شخصیت ٹوٹی ہوئی ہوتی ہے ، اب وہ پرانی باتیں کرنے کے قابل ہی نہیں ہیں۔ اس کے حال میں داخل ہوتے ہیں کہ ان کی شخصیت ٹوٹی ہوئی ہوتی ہے ، اب وہ پرانی باتیں کرنے کے قابل ہی نہیں ہیں۔ اس موقعے پر انہوں نے اپنی بدحالی کا جو شکوہ کیا اس سے ان کا حال اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے۔
آیت نمبر 88
یوسف (علیہ السلام) نے جب دیکھا کہ اس کے بھائی اس قدر خستہ حال ہوگئے ہیں اور ان کے اندر اس قدر انکسار آگیا ہے اور وہ رحم کی اپیلیں کر رہے ہیں تو وہ اپنے مرتبے اور مقام کا مزید مظاہرہ جاری نہ رکھ سکے۔ اب ان کے لئے ممکن ہی نہ رہا کہ اپنی شخصیت کو ان سے چھپا سکیں۔ جو سبق ان کو دینا مقصود تھا وہ دے چکے ۔ اب وقت آگیا ہے کہ ان کو وہ عظیم سر پر ائز دیا جائے جس کے لئے وہ بالکل تیار نہ تھے۔ ان کو تصور ہی نہ تھا کہ وہ یوسف (علیہ السلام) کے دربار میں کھڑے ہیں۔ چناچہ وہ براہ کرم ان پر اپنی حقیقت ظاہر فرماتے ہیں۔ وہ اشارہ کرتے ہیں کہ دیکھو تم نے ماضی میں وہ کیا کرتوت کیا تھا ؟ یہ تو ان کی زندگی کا راز تھے۔ اس کے بارے میں انہوں نے کسی کو بتایا ہی نہ تھا۔ صرف اللہ جانتا تھا۔
Ayah 12:89آیت نمبر 89
اب ان کے کانوں میں ایک ایسی آواز پڑی جو انہیں مانوس نظر آئی۔ انہیں حضرت یوسف (علیہ السلام) کے چہرے کے خدو خال اب ایسے نظر آئے کہ وہ دیکھا ہوا چہرہ ہے۔ اس سے قبل وہ اپنے آپ کو بظاہر عزیز مصر کے سامنے پاتے تھے اور یہ تصور بھی نہ کرسکتے تھے کہ یہ شخص یوسف (علیہ السلام) بھی ہو سکتا ہے کیونکہ وہ شاہی دربار کے رعب کے نیچے تھے لیکن اب دور ہی سے انہیں نظر آگیا کہ یہ تو بھائی کا چہرہ ہے۔
Ayah 12:90آیت نمبر 90
اب ان کو یقین ہوگیا اور کہا کہ تم ہی یوسف (علیہ السلام) ہو۔ اگرچہ یوسف (علیہ السلام) اب ایک معمر آدمی ہیں۔ اس کے بچپن کے خدو خال صاف صاف نظر آنے لگے۔
حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اچانک اپنے آپ کو ظاہر کیا اور اجمالاً وہ ان کو بتاتے ہیں کہ انہوں نے جہالت میں اپنے بھائی یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ بس وہ صرف یہی بات کہتے ہیں اور اللہ کے ان احسانات کا تذکرہ کرتے ہیں جو ان پر اور ان کے بھائی پر ہوئے۔ اور یہ احسانات اس لیے ہوئے کہ ہم نے تقویٰ اور صبر کا دامن ہاتھ سے جانے نہیں دیا اور یہ سب کچھ اللہ کے نظام عدل کا نتیجہ ہے۔ وہ متقین و صابرین کو جزائے خیر دیتا ہے۔
لیکن اس اچانک انکشاف کا اثر ان بھائیوں پر کیا ہوا ؟ ان کی آنکھوں کے سامنے وہ پوری گھناؤنی صورت حال مجسم ہوگئی جو وہ یوسف (علیہ السلام) اور اس کے بھائی کے ساتھ کرتے رہے تھے۔ یہ بےحد شرمندہ ہیں۔ جس کے ساتھ انہوں نے برا کیا وہ بطور محسن کھڑا ہے ، جس کے ساتھ انہوں نے سنگدلی کی وہ نہایت ہی حلیم ہے اور جس کے ساتھ انہوں نے ظلم کیا وہ کریم اور محسن ہے۔ اب اس کے سوا وہ کہہ کیا سکتے تھے۔
Ayah 12:91آیت نمبر 91
انہوں نے اپنی غلطی کا صاف صاف اقرار کرلیا۔ گناہ کا اعتراف کرلیا۔ انہوں نے جان لیا کہ اللہ نے ان پر اسے ترجیح دے دی ہے کیونکہ وہ حلیم الطبع ، متقی اور محسن تھے۔ اور ان کے اس صاف صاف اعتراف کے جواب میں حضرت یوسف (علیہ السلام) ان کو تہ دل سے معاف فرماتے ہیں۔ اس طرح ان کی شرمندگی میں کمی آتی ہے اور اہل کرم کا شیوہ ہی عفو و درگزر ہوتا ہے۔ یوسف (علیہ السلام) جس طرح مشکلات میں کامیاب ہوئے تھے ، اسی طرح اقتدار کی آزمائش میں بھی کامیاب ہوتے ہیں۔ یقیناً وہ محسنین میں سے ایک تھے۔
Ayah 12:92آیت نمبر 92
آج تم سے کوئی مواخذہ نہیں ، کوئی انتقام نہیں اور تمہیں شرمندہ ہونے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ میں نے تمام کدورتوں کو دل سے نکال دیا ہے۔ اللہ بھی تمہیں معاف کر دے۔ بیشک وہ ارحم الراحمین ہے۔ اب روئے سخن ایک دوسرے اہم معاملے کی طرف پھرجاتا ہے۔ اب اس باپ کی فکر دامن گیر ہوجاتی ہے جن کی آنکھیں یوسف (علیہ السلام) کے انتظار میں سفید ہوگئی ہیں۔ سب سے پہلے انہیں خوشخبری دینا ضروری ہے۔ سب سے پہلے ان سے ملنا فرض ہے۔ ان کے دل کی کدورتوں کو دور کرنا ضروری ہے اور وہ جس جسمانی اور روحانی اذیت میں ہیں ، اس سے ان کو جلد از جلد نکالنا ضروری ہے اور سب سے پہلے ان کی بینائی !
Ayah 12:93آیت نمبر 93
سوال یہ ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو یہ کیسے معلوم ہوا کہ ان کی قمیض کی بو سے ان کے والد کی گئی ہوئی بینائی لوٹ آئے گی ؟ یہ ہے وہ علم جو انہیں اللہ نے دیا تھا۔ اور اچانک خوشی اور اچانک غم میں بعض اوقات ایسے معجزات صادر ہوجاتے ہیں جبکہ حضرت یوسف (علیہ السلام) ، نبی ، رسول ہیں اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) بھی نبی اور رسول ہیں۔
Ayahs 12:94–95اب دوسری جانب کنعان کے منظر میں بھی غیر متوقع انکشافات ہو رہے ہیں اور کنعان کے مناظر اب یوسف (علیہ السلام) کے اس خواب کی آخری تعبیر پر ختم ہوتے ہیں جو انہوں نے بچپن میں دیکھا تھا۔
آیت نمبر 94 تا 95
یوسف (علیہ السلام) کی خوشبو ! یہ کیا کہہ رہے ہیں ، کیا کوئی سوچ سکتا ہے کہ اس قدر طویل عرصہ کے بعد بھی یوسف (علیہ السلام) زندہ ہوگا اور یہ بوڑھا اس کی بو سونگھ رہا ہوگا !۔۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کہتا ہے میں یوسف (علیہ السلام) کی خوشبو پارہا ہوں اگر تم میرا مذاق نہ اڑاؤ، درحقیقت میں یہ خوشبو پا رہا ہوں۔
سوال یہ ہے کہ ادھر مصر سے قافلہ چلا ، ادھر کنعان میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کی بو پا رہے ہیں۔ یہ کیونکر ہوگیا ، کیا یہ قافلہ مصر سے چلا تو ان کو بو آنے لگی۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ قافلہ مصر سے چلا اور انہوں نے بو کو سونگھ لیا۔ اس قدر دور سے۔ لیکن آیت میں مصر کی تصریح نہیں ہے ، ہو سکتا ہے کہ قافلہ کنعان کے قریب کسی دورا ہے سے جب جدا ہوا تو حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے مقام رہائش کے قریب انہیں یہ خوشبو آگئی ہو۔
اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم مصر کی دوری سے بطور معجزہ اس بو کو محسوس کرنے کو معبد سمجھتے ہیں۔ یہ ممکن ہے کہ یہ معجزہ ہوا ہو ۔ کیونکہ حضرت یوسف (علیہ السلام) اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) دونوں نبی ہیں۔ ہمارا مقصد اور طریقہ یہ ہے کہ آیت قرآن جس قدر مفہوم دیتی ہیں ہم اسی پر توقف کریں۔ خصوصاً جبکہ آیت پر اضافی مفہوم کے لئے سند صحیح کے ساتھ کوئی روایت بھی مروی نہ ہو۔ یہاں بھی اس بات پر صحیح سند سے مروی کوئی روایت نہیں ہے کہ یہ خوشبو مصر سے آئی ۔ محض قیاس اور دلالتہ النص سے ایسے مفہوم کو اخذ نہیں کرنا چاہیے۔
لیکن حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے اردگرد جو لوگ بیٹھے تھے ان کے اندر وہ احساس نہ تھا جو رب نے ان کو عطا کیا تھا۔ چناچہ انہوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی خوشبو کو نہ پایا۔
قالوا تاللہ انک لفی ضللک القدیم (12 : 95) ” انہوں نے کہا خدا کی قسم بیشک آپ اپنی پرانی غلط فہمی میں پڑے ہیں “۔ آپ اپنی پرانی غلط فہمی میں مبتلا ہیں ، اب بھی یوسف (علیہ السلام) کا انتظار کر رہے ہیں حالانکہ وہ ان راستوں پر چل نکلا ہے جن سے واپسی ممکن نہیں ہے۔ لیکن اس پوری کہانی میں جگہ جگہ معجزات اور مناجات ہیں۔
Ayahs 12:96–97اچانک ان کے چہرے پر قمیض ڈال دی جاتی ہے ، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ ملاقات اب بہت ہی قریب ہے ۔ اچانک معجزانہ طور پر بینائی لوٹ آتی ہے۔ یہاں حضرت یعقوب (علیہ السلام) اپنے حاشیہ نشینوں کو بتاتے ہیں کہ یہ ہے وہ چیز جس کا علم ان کو تھا ۔ اور رب کی طرف سے تھا اور اسی علم کا میں نے تم نے تذکرہ کیا تھا۔
آیت نمبر 96 تا 97
یہاں یہ اشارہ دیا جاتا ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) اپنے بیٹوں سے ناراض تھے لیکن انہوں نے اس کا تذکرہ نہیں کیا۔ بلکہ وہ ان کے ساتھ یہ وعدہ فرماتے ہیں کہ میں تمہارے لیے اللہ سے عفو و درگزر کی درخواست کروں گا۔ ذرا سستا لینے دو ، ذرا دل کی کدورتوں کو صاف ہونے دو اور ذرا سکون کا سانس لے لینے دو ۔
Ayah 12:98آیت نمبر 98
لفظ سوف کے ساتھ وعدہ دعا سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ انسان کے زخمی دل سے کدورت نکلتے نکلتے وقت لگتا ہے۔ دلوں کی کدورت جلدی صاف نہیں ہوتی۔