12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsفی ظلال القرآن

Ayah 12:37

قَالَ لَا یَاْتِیْكُمَا طَعَامٌ تُرْزَقٰنِهٖۤ اِلَّا نَبَّاْتُكُمَا بِتَاْوِیْلِهٖ قَبْلَ اَنْ یَّاْتِیَكُمَا١ؕ ذٰلِكُمَا مِمَّا عَلَّمَنِیْ رَبِّیْ١ؕ اِنِّیْ تَرَكْتُ مِلَّةَ قَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 12:37 in the Quran reader

یوسف نے کہا یہاں جو کھانا تمہیں ملا کرتا ہے اس کے آنے سے پہلے میں تمہیں ان خوابوں کی تعبیر بتا دوں گا۔ یہ ان علوم میں سے ہے جو میرے رب نے مجھ عطا کیے ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ میں نے ان لوگوں کا طریقہ چھوڑ کر ، جو اللہ پر ایمان نہیں لاتے اور آخرت کا انکار کرتے ہیں

اسے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یوسف کی بات کس قدر دل نشین ہے اور وہ بات سے کس طرح بات نکالتے چلے جاتے ہیں اور کس قدر نرمی اور لطافت کے ساتھ بات کرتے ہیں۔ اس پورے قصے میں حضرت یوسف کی بات چیت کی یہ امتیازی خصوصیت ہے۔ قَالَ لَا يَاْتِيْكُمَا طَعَامٌ تُرْزَقٰنِهٖٓ اِلَّا نَبَّاْتُكُمَا بِتَاْوِيْـلِهٖ قَبْلَ اَنْ يَّاْتِيَكُمَا ۭ ذٰلِكُمَا مِمَّا عَلَّمَنِيْ رَبِّيْ : یوسف نے کہا یہاں جو کھانا تمہیں ملا کرتا ہے اس کے آنے سے پہلے میں تمہیں ان خوابوں کی تعبیر بتا دوں گا۔ یہ ان علوم میں سے ہے جو میرے رب نے مجھ عطا کیے ہیں۔ یہ تاکید اس بات کا اظہار کر رہی ہے کہ حضرت یوسف کو اس معاملے میں ایک خاص علم دیا گیا ہے کہ کھانے آنے سے قبل ہی وہ اپنے اس مخصوص علم کے ذریعے ان کو ان کے خوابوں کی تعبیر بتا دیں گے۔ اور یہ علم ان کو اس لیے دیا گیا تھا کہ اس دور میں خوابوں کی تعبیر کے فن نے کافی ترقی کی ہوئی تھی۔ یہ ان علوم میں سے ہے جو میرے رب نے مجھے عطا کیے ہیں۔ یہ الفاظ حضرت نے اس لیے استعمال کیے کہ ان لوگوں پر نفسیاتی اثر ہوجئے اور حضرت یوسف کی بات ان کے دل میں اتر جائے۔ اور وہ ان خوابوں کی تعبیر کی وجہ سے یوسف کی دعوت کو قبول کرلیں جبکہ یہ تعبیر نہایت ہی مخصوص انداز کی تھی۔ اِنِّىْ تَرَكْتُ مِلَّةَ قَوْمٍ لَّا يُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَهُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ : " واقعہ یہ ہے کہ میں نے ان لوگوں کا طریقہ چھوڑ کر ، جو اللہ پر ایمان نہیں لاتے اور آخرت کا انکار کرتے ہیں " یہ اشارہ اس قوم کی طرف بھی ہے جس میں ان کی تربیت ہوئی ، یعنی عزیز مصر کا گھرانا اور شاہ مصر کے حاشیہ نشین ، اور اس پوری قوم کی طرف بھی جو شاہ مصر کی مطیع فرمان تھی ، جبکہ یہ دونوں نوجوان ظاہر ہے کہ بادشاہ اور اپنی قوم ہی کے دین پر تھے لیکن حضرت یوسف ان کے ساتھ بات کرنے میں یہ نہیں فرماتے کہ میں نے تمہارا دین چھوڑ دیا ہے بلکہ ایک عام بات فرماتے ہیں تاکہ ان نوجوانوں کے دلوں میں دین اسلام سے نفرت پیدا نہ ہوجائے۔ یہ نہایت ہی دانشمندی اور اعلی درجے کی حکمت تبلیغ ہے اور نہایت ہی لطافت اور فراست کے ساتھ بات پہنچانے کا انداز ہے۔
Ayah 12:38

وَ اتَّبَعْتُ مِلَّةَ اٰبَآءِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ١ؕ مَا كَانَ لَنَاۤ اَنْ نُّشْرِكَ بِاللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ ذٰلِكَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ عَلَیْنَا وَ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 12:38 in the Quran reader

میں نے اپنے بزرگوں ابراہیم ، اسحاق ، اور یعقوب کا طریقہ اختیار کیا ہے۔ ہمارا یہ کام نہیں ہے کہ اللہ کے سوا کسی کو شریک ٹھہرائیں ، در حقیقت یہ اللہ کا فضل ہے ہم پر اور تمام انسانوں پر (کہ اس نے اپنے سوا کسی کا بندہ ہمیں نہیں بنایا) مگر اکثر لوگ شکر نہیں کرتے

نشانات کفر بتانے کے بعد یوسف (علیہ السلام) ان نوجوانوں کے سامنے نشانات ایمان بھی رکھتے ہیں ، جن پر وہ اور ان کے آباء چل رہے ہیں۔ میں نے اپنے بزرگوں ابراہیم ، اسحاق ، اور یعقوب کا طریقہ اختیار کیا ہے۔ ہمارا یہ کام نہیں ہے کہ اللہ کے سوا کسی کو شریک ٹھہرائیں۔ ملت اسلامیہ مکمل توحید کی ملت ہے ، اور اس میں اللہ کے ساتھ شرک کا شائبہ تک موجود نہیں ہے۔ توحید کی طرف ہدایت کرنا اللہ کی طرف سے فضل و کرم ہے۔ اور یہ فضل و کرم اس قدر عام ہے کہ ہر شخص اس کو قبول کرسکتا ہے اور حاصل کرسکتا ہے۔ کیونکہ اس کا رجحان اور اس کے اصول انسان کی فطرت کے اندر موجود ہیں۔ اور اس کے اشارات اور براہین انسانی ماحول کے اندر بھی موجود ہیں۔ رسولوں کی ہدایات اور کتب سماوی میں اس کی تعلیمات بھی موجود ہیں لیکن لوگوں کی حالت یہ ہے کہ وہ اس عمومی فضل و کرم سے اپنے آپ کو محروم رکھ رہے ہیں۔ ذٰلِكَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ عَلَيْنَا وَعَلَي النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَشْكُرُوْنَ : در حقیقت یہ اللہ کا فضل ہے ہم پر اور تمام انسانوں پر (کہ اس نے اپنے سوا کسی کا بندہ ہمیں نہیں بنایا) مگر اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔ حضرت یوسف آہستہ آہستہ ان کے دلوں میں اپنی بات اتار رہے ہیں ، نہایت ہی احتیاط کے ساتھ ، نہایت نرمی کے ساتھ۔ ان کے دلوں میں بات کو بٹھاتے چلے جاتے ہیں اور اپنے عقائد و نظریات کا اظہار آہستہ آہستہ کرتے چلے جاتے ہیں۔ اور ساتھ یہ بھی واضح کرتے چلے جاتے ہیں کہ تمہارے اور تمہاری قوم کے عقائد و نظریات غلط ، فاسد اور باطل ہیں۔ اور اس کے نتیجے میں وہ سوسائٹی ایک فاسد سوسائٹی ہے جس میں وہ رہ رہے ہیں۔ اس طویل تمہید کے بعد حضرت یوسف اصل بات کہتے ہیں۔
Ayah 12:39

یٰصَاحِبَیِ السِّجْنِ ءَاَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَیْرٌ اَمِ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُؕ Open ayah 12:39 in the Quran reader

اے زندان کے ساتھیو ، تم خود ہی سوچو کہ بہت سے متفرق رب بہتر ہیں یا وہ ایک اللہ جو سب پر غالب ہے ؟

حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے ان نہایت ہی مختصر ، واضح اور فیصلہ کن کلمات کے اندر دین اسلام کے پورے نشانات راہ نقش کرکے رکھ دیے ہیں۔ اس دین کے پورے عناصر ترکیبی بیان کردیے گئے ہیں۔ حضرت یوسف ان نشانات اور ان عناصر کی براہ راست دعوت نہیں دیتے بلکہ ان کو ایک موضوع غور و فکر کے طور پر ان کے سامنے رکھتے ہیں۔ يٰصَاحِبَيِ السِّجْنِ ءَاَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَيْرٌ اَمِ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ : " اے زندان کے ساتھیو ، تم خود ہی سوچو کہ بہت سے متفرق رب بہتر ہیں یا وہ ایک اللہ جو سب پر غالب ہے ؟ " یہ ایک ایسا سوال ہے کہ براہ راست انسانی فطرت کی گہرائیوں میں لگتا ہے اور فطرت انسانی کو خوب جھنجھوڑتا ہے۔ انسانی فطرت کا یہ تقاضا ہے کہ الہ ایک ہونا چاہیے۔ اگر تم محسوس کرتے ہو کہ یہ فطرت کا تقاضا ہے تو پھر کیوں تم ارباب متفرقون کے قائل ہو ، یعنی جو ذات اس بات کی مستحق ہے کہ اسے رب اور حاکم تسلیم کیا جائے ، جس کی عبادت اور بندگی کی جائے اور جس کی اطاعت کی جاتی رہے۔ وہ صرف اللہ واحد اور قہار ہی ہے۔ اگر ہم اس بات کو تسلیم کرلیں کہ انسانی فطرت اور عالم کی فطرت کا الہ اور رب اللہ وحدہ ہے تو اس کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ انسان کی اخیتار زندگی میں رب ، حکم اور شارع وہی اللہ وحدہ ہو۔ اور یہ ممکن نہیں ہے کہ لوگوں کو یہ معلوم ہوجائے کہ اللہ وحدہ ہی خالق اور قہر ہے اور پھر بھی وہ غیر اللہ کی بندگی اور اطاعت کریں۔ اور اس کے سوا پھر کوئی ان کا حاکم ہو۔ رب ہی الہ اور حاکم ہوتا ہے۔ وہ اس پوری کائنات کے امور کو بھی چلاتا ہے اور یہ ممکن نہیں ہے کہ ایک ذات کائنات کو نہ چلا سکتی ہو اور وہ ھو رب الناس ہو یہ عقلاً ممکن نہیں ہے۔ لہذا اللہ واحد اور قہار ہی اس بات کا مستحق ہے اور بہتر ہے کہ لوگ اس کی بندگی کریں۔ بجائے اس کے کہ وہ ارباب متفرقہ کی بندگی کریں جن کو اندھی جاہلیت نے گھڑ رکھا ، جس کی نظر کوتاہ ہوتی ہے اور وہ فریب کے سوا کچھ بھی دیکھ نہیں سکتے انسانیت کے لیے سب سے بڑی بدبختی ہی یہ ہے کہ وہ ایک الہ کے بجائے متعدد الہوں کو مانے اور یہ متعدد الٰہ اس کی زندگی کو ٹکڑے ٹکڑے کردیں۔ ان کے رجحانات اور میلانات کے اندر بھی کشمکش ہو اللہ کے سوا جس قدر ارباب ہم نے بنا رکھے ہیں یہ در اصل اللہ تعالیٰ کے حق حاکمیت پر دست درازی کرتے ہیں اور ہم نے اپنی جاہلیت کی وجہ سے ، وہم پرستی کی وجہ سے خرافات اور قصے کہانیوں کی وجہ سے ان ارباب من دون اللہ کو رب تسلیم کر رکھا ہے۔ یا بعض جبار وقہار انسانی الٰہوں نے اپنی ربوبیت کا نظام لوگوں پر جبراً مسلط کر رکھا ہے۔ اور یہ انسانی ارباب ایک منٹ کے لیے بھی اپنے ذاتی مفادات ، اپنے وجود اور اپھنی عزت کی بقا کے جذبات اور خواہشات سے علیحدہ نہیں ہوسکتے۔ اور ان کے دلوں میں یہ خواہش کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہے کہ عوام الناس پر ان کا تسلط جاری اور باقی رہے۔ ایسے الٰہوں کی پالیسی اور دائمی پالیسی یہ ہوتی ہے کہ یہ لوگ ان قوتوں کو کچل کر رکھ دیتے جن سے انہیں براہ راست یا بالواسطہ کوئی بھی خوف ہو۔ نیز الٰہ ان قوتوں کو ہمیشہ زندہ رکھتے ہیں ان کی پرورش کرتے ہیں اور ان کے حق میں پروپیگنڈہ کرتے جو ان کی خدائی کے قیام اور بقا میں ممد و معاون ہوتی ہیں۔ یہ الٰہ ایسے تمام اداروں کی ترقی اور عزت افزائی کے لیے ہر وقت کوشاں رہتے ہیں۔ جبکہ اللہ واحد اور قہار ہے اور وہ دونوں جہاد سے غنی ہے۔ اللہ کا مطالبہ لوگوں سے صرف یہ ہے کہ وہ اللہ سے ڈریں ، نیکی کی راہ لیں اور اپنی اصلاح اور اپنے ماحول کی اصلاح و تعمیر کریں اور یہ اصلاح اور تعمیری کام اللہ کی قائم کردہ شریعت کے مطابق ہو۔ اگر وہ ایسا کریں گے تو ان کا کام بھی پورے کا پورا عبادت ہوگا۔ اللہ نے جو عبادات انسانوں کے لیے فرض کی ہیں وہ بھی ایسی ہیں جن سے خود انسانوں کے دل و دماغ اور سیرت و کردار کی اصلاح مطلوب ہے۔ ورنہ اللہ کو تو انسانوں کی طرف سے کسی عبادت اور بندگی کی ضرورت نہیں ہے۔ یا ایہا الناس انتم الفقراء الی اللہ واللہ ھو الغنی الحمدی " اے لوگو تم اللہ کی طرف محتاج ہو اور صرف اللہ ہی غنی اور حمید ہے۔ اس لیے اللہ کی بندگی اور غلامی اور اللہ کے دوسرے الٰہوں کی بندگی اور غلامی میں بہت فرق ہے۔
Ayah 12:40

مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلَّاۤ اَسْمَآءً سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ١ؕ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ١ؕ اَمَرَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ١ؕ ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:40 in the Quran reader

اس کو چھوڑ کر تم جن کی بندگی کر رہے ہو ، وہ اس کے سوا کچھ نہیں ہیں کہ بس چند نام ہیں جو تم نے اور تمہارے آباء و اجداد نے رکھ لیے ہیں ، اللہ نے ان کے لیے کوئی سند نازل نہیں کی۔ فرمانروائی کا اقتدار اللہ کے سوا کسی کے لیے نہیں ہے۔ اس کا حکم ہے کہ خود اس کے سوا تم کسی کی بندگی نہ کرو ، یہی ٹھیٹھ سیدھا طریق زندگی ہے ، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں

اس کے بعد حضرت یوسف ایک قدم اور آگے بڑھتے ہیں۔ اور اب وہ ذرا کھل کر جاہلیت کے افکار اور اوہام پر تنقید فرماتے ہیں : مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖٓ اِلَّآ اَسْمَاۗءً سَمَّيْتُمُوْهَآ اَنْتُمْ وَاٰبَاۗؤُكُمْ مَّآ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ : اس کو چھوڑ کر تم جن کی بندگی کر رہے ہو ، وہ اس کے سوا کچھ نہیں ہیں کہ بس چند نام ہیں جو تم نے اور تمہارے آباء و اجداد نے رکھ لیے ہیں ، اللہ نے ان کے لیے کوئی سند نازل نہیں کی۔ یہ ارباب ، خواہ وہ انسانوں میں سے ہوں یا غیر انسان ہوں ، مثلا فرشتے ، ارواح اور شیاطین یا دوسری کائناتی قوتیں جو اللہ کے تابع ہیں ، یہ کسی معنی میں بھی رب نہیں ہیں۔ اور انہ ان کو حقیقت ربوبیت میں سے کوئی حقیقت حاصل ہے۔ کیونکہ حق ربوبیت اور مقام ربوبیت صرف اللہ وحدہ کو حاصل ہے اور وہی اس کا سزاوار ہے۔ کیونکہ وہی خالق ہے اور اسی کے کنٹرول میں تمام مخلوقات زندہ رہ رہی ہیں۔ لیکن مختلف جاہلیتوں میں لوگوں نے خود اپنی طرف سے بعض قوتوں کو رب کے نام سے موسوم کردیا ہے ، یہ رب حقیقی کی صفات کو ان نام نہاد ارباب کی طرف منسوب کرتے ہیں جبکہ درحقیقت ان کے اندر نہ صفات موجود ہیں اور نہ ان کو رب حقیقی کی طرح کسی پر قہر اور غلبہ حاصل ہے۔ اب حضرت یوسف (علیہ السلام) ان کے غلط عقائد پر آخری ضرب لگاتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ اصل سلطنت کا حقدار و سزاوار کون ہے ؟ کون اس بات کا مستحق ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے ؟ کون اس بات کا حقدار ہے کہ اس کی بندگی کی جائے فقط اس کی ؟ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ ۭ اَمَرَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاهُ ۭ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْقَيِّمُ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ : فرمانروائی کا اقتدار اللہ کے سوا کسی کے لیے نہیں ہے۔ اس کا حکم ہے کہ خود اس کے سوا تم کسی کی بندگی نہ کرو ، یہی ٹھیٹھ سیدھا طریق زندگی ہے ، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔ حکم اور حاکمیت صرف اللہ کے لیے ہے ، حاکمیت خاصہ خدائی ہے۔ اس لیے اللہ کے سوا کوئی اور حاکم ہو ہی نہٰں سکتا۔ اللہ کے سوا کوئی اور شخص اگر اللہ کے اس حق میں کوئی دعویداری کرے گا وت اس کا مقدمہ خدا تعالیٰ کے ساتھ ہوگا ، چاہے اللہ کے سوا حاکمتی کا دعوی کرنے والا کوئی فرد واحد ہو ، یا کوئی طبقہ ہو یا کوئی جماعت ، یا کوئی امت یا سب کے سب لوگ ہوں یا کوئی عالمی ادارہ ہو۔ اور جو شخص اللہ کے بالمقابل اپنی حاکمتی (Soverenity) کا مدعی ہوگا وہ گویا کفر کا ارتکاب کرے گا اور یہ اس کی جانب سے واضح کفر ہوگا۔ اور یہ آیت اس پر نص صریح ہے۔ اب کوئی شخص کس طرح اللہ کے بالمقابل دعوائے الوہیت کرسکتا ہے ؟ کسی بھی صورت میں اگر کوئی دعوی کرے گا تو مدعی کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہوگا چاہے وہ فرعون کی طرح دعوی کرے اور کہے (انا ربکم الاعلی) یا وہ کہے (ما علمت لکم من الہ غیری) یا وہ اسلامی شریعت کو نظام حکمرانی سے خارج کردے یا وہ یہ فیصلہ کردے کہ حکمرانی اور قانون سازی کا مرجع اللہ کے سوا کوئی اور ہوگا۔ اگرچہ وہ فرد ہو یا انسانوں کا کوئی مجموعہ ہو۔ اسلامی نظام میں امت مسلم ہی حاکم کا انتخاب کرتی ہے اور کسی شخص کو حاکمیت کا اختیار دیتی ہے اور وہ یہ اختیارات استعمال کرتا ہے لیکن وہ اپنے اختیارات شرعی حدود کے اندر استعمال کرسکتا ہے۔ اسلامی نظام میں کوئی شخص یا کوئی ادارہ مصدر قانون سازی اور مصدر حاکمیت نہیں ہوتا ، حاکمیت اور قانون سازی کا اختیار صرف اللہ کو حاصل ہوگا۔ بیشمار مسلم مفکرین حق حاکمیت کے استعمال اور مصدر حاکمیت کے درمیان فرق نہیں کرتے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ تمام انسان حق حاکمیت کے مالک نہیں ہیں۔ حق حاکمیت صرف اللہ کو حاصل ہے۔ جہاں تک انسانوں کا تعلق ہے تو ان کی ڈیوٹی صرف یہ ہے کہ اللہ نے جو نظام قانون اور دستور متعین فرما دیا ہے ، انسان صرف اس کے نافذ کرنے والے ہیں۔ لیکن جو دستور اور قانون اللہ نے نہیں بنایا اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ اور اس کی قانونی حیثیت کچھ بھی نہیں ہے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) اس بات کی دلیل بھی بیان کر رہے ہیں : اس دلیل کو ہم تب ہی سمجھ سکتے ہیں جب ہم لفظ عبادت کے مفہوم کو اچھی طرح سمجھ لیں۔ اسی طرح جس طرح عرب اسے سمجھتے تھے۔ عبد کا مفہوم عربی میں ہے (دان و خضع و ذل) یعنی تابع ہوا ، تابع فرمان ہوا اور کسی کے سامنے جھکا اور ذلیل ہوا۔ آغاز اسلام میں عبادت کا مفہوم بھی مراسم عبودیت اور پرستش نہ تھا۔ اس لیے کہ جب سب سے پہلے یہ آیات نازل ہوئیں تو اس وقت مراسم عبودیت فرض ہی نہ تھے۔ یہ (نماز ، روزہ ، حج اور زکوۃ اور جہاد) بعد میں فرض ہوئے۔ ابتداء میں عبادت کا لفظ اپنے لغوی مفہوم میں استعمال ہوا تھا جو بعد میں اصطلاحی مفہوم میں استعمال ہوا۔ ابتدا میں اس لفظ کا مفہوم یہ تھا کہ صرف اللہ کی اطاعت کی جائے ، صرف اللہ کے سامنے جھکا جائے ، صرف اللہ کے احکام مانے جائیں ، ان احکام کا تعلق عبادات کے مراسم سے ہو ، یا اخلاقی امور سے ، ان تمام شعبوں پر لفظ عبادت کا اطلاق ہوتا تھا۔ اس کے مفہوم میں اطاعت اور بندگی شامل تھی جس کے بارے میں اللہ کا حکم تھا کہ اس کے سوا کسی کی اطاعت اور بندگی نہ کی جائے۔ جب ہم عبادت کے اس مفہوم کو معلوم کرلیں تو پھر ہماری سمجھ میں یہ بات آجاتی ہے کہ یوسف (علیہ السلام) نے کہا حکم اللہ کا ہے ، اس لیے عبادت اور بندگی اور اطاعت بھی صرف اسی کی ہے۔ اگر حکم کسی اور کا ہو تو پھر صرف اللہ کی بندگی کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا۔ اور حکم اللہ کا ہے ، ایک عام اصول ہے اس سے مراد تکوینی حکم بھی ہے کہ اس کائنات کے بارے میں وہی متصرف فی الامور ہے اور اس سے مراد شرعی اور قانونی حاکمیت بھی ہے کہ شرعی اور تکوینی امور بھی اللہ ہی کے ہوں گے۔ میں اس بات کو دوبارہ دہراتا ہوں کہ جو شخص حاکمیت کے حق میں اللہ کے برخلاف دعویداری کرتا ہے وہ دین اسلام سے خارج ہے۔ اور اس کے بارے میں اسلام کا حکم واضح اور لازمی ہے اور یہ در اصل بدترین شرک اور کفر بواح (صریح کفر) ہے۔ اسی طرح جو شخص اللہ کے بالمقابل حاکمیت کا دعوی کرتا ہے اور دوسرے لوگ اس کا اقرار کرتے ہیں اور دل سے اس کی اطاعت کرتے ہیں اور اپنے دل میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے وہ لوگ بھی کفر بواح کے مرتکب ہیں اور وہ دین اسلام سے خارج ہیں۔ حضرت یوسف فرماتے ہیں کہ چونکہ اللہ ہی حاکم مطلق ہے اس لیے ہی اللہ ہی اس بات کا مستحق ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے اور یہ درست اور صحیح دین ہے۔ ذلک الدین القیم " یہی دین قیم ہے " یعنی اس کے سوا دین قیم کی اور کوئی صورت نہیں ہے۔ درست دین وہی ہے جس میں حاکمتی صرف اللہ کی ہو۔ اور اللہ کی حاکمیت کا اظہار اس طرح ہو کہ لوگ صرف اللہ کی بندگی اور اطاعت کریں چونکہ لوگ حقیقت کو نہیں جانتے ، اس لیے لازم نہیں آتا کہ اپنی جہالت کی وجہ سے وہ دین قیم پر متصور ہوں۔ اس لیے کہ جو دین اسلام کو جانتا ہی نہیں اس کی زندگی میں دین کا وجود متحقق کس طرح ہوسکتا ہے ؟ اگر لوگوں کی حالت یہ ہو کہ وہ حقیقت دین ہی سے بیخبر ہیں تو عقلا حقیقتاً اور بطور واقعہ یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ دین پر ہیں۔ جہالت کوئی عذر نہیں ہے جو ان کو صفت اسلام سے متصف کردے کیونکہ جہالت تو سرے سے صفت دین ہی کی نفی کردیتی ہے کیو کہ کوئی شخص اس وقت تک اسلام کا اعتقاد نہیں رکھ سکتا جب تک وہ اسلام کو جانے نہیں۔ یہ بات نہایت ہی منطقی اور بدیہی ہے۔ حضرت یوسف نے ان واضح اور فیصلہ کن اور مختصر کلمات کے ذریعے شرک کی جڑ کاٹ کر رکھ دی ہے اور دین اسلام کے حقیقی نشانات مقرر کردئیے ہیں۔ اور اسلامی نظریہ حیات کے تمام بنیادی عناصر یہاں بیان کردئیے ہیں اور ایک دو فقروں میں جاہلیت کی جڑ کاٹ کر رکھ دی ہے۔ دنیا میں طاغوتی نظام قائم ہی تب ہوتا ہے جب وہ اللہ سے حق حاکمیت چھین لے اور لوگوں سے اللہ کے بجائے اپنی اطاعت کرائے۔ یعنی لوگ اللہ کی شریعت اور قانون کے بجائے اس کی شریعت کے مطیع فرمان ہوں اور وہ طاغوتی سوچ ، طاغوتی قانون اور طاغوتی احکام اور اطاعت رائج کردیں۔ اس کے سوا طاغوت قائم ہی نہیں ہوتا۔ طاغوتی نظام قائم ہی تب ہوتا ہے جب دین اسلام دنیا سے غائب ہوجائے۔ جب لوگوں کے دل و دماغ میں یہ عقیدہ راسخ ہو کہ اللہ کے سوائی اور حاکم اور مطاع نہیں ہے اور تمام معاملات زندگی میں انسانوں نے صرف اللہ کی اطاعت کرنا ہے تو اس سوقت طاغوتی نظام قائم ہی نہیں ہوتا۔ یہاں حضرت یوسف اپنا حقیقی درس اور تعلیم ختم فرما دیتے ہیں اور اس تقریر کو الٰہوں کے ابتداء میں قیدیوں کی مراد اور مطلب سے مربوط کردیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اب ہم اپنے اصل موضوع کی طرف آتے ہی تاکہ قیدیوں کے سوال کا جواب بھی دے دیں۔
Ayah 12:41

یٰصَاحِبَیِ السِّجْنِ اَمَّاۤ اَحَدُكُمَا فَیَسْقِیْ رَبَّهٗ خَمْرًا١ۚ وَ اَمَّا الْاٰخَرُ فَیُصْلَبُ فَتَاْكُلُ الطَّیْرُ مِنْ رَّاْسِهٖ١ؕ قُضِیَ الْاَمْرُ الَّذِیْ فِیْهِ تَسْتَفْتِیٰنِؕ Open ayah 12:41 in the Quran reader

اے زنداں کے ساتھیو ، تمہارے خواب کی تعبیر یہ ہے کہ تم میں سے ایک تو اپنے رب (شاہ مصر) کو شراب پلائے گا ، رہا دوسرا تو اسے سولی پر چڑھا جائے گا اور پرندے اس کا سر نوچ نوچ کر کھائیں گے۔ فیصلہ ہوگیا اس بات کا جو تم پوچھ رہے تھے

حضرت یوسف نے اچھے انجام پانے والے اور برے انجام تک پہنچنے والے کا یہاں تعین نہیں فرمایا کیونکہ انہوں نے مناسب نہیں سمجھا کہ برا انجام پانے والے کو ذاتی طور پر مخاطب کریں البتہ انہوں نے تاکید سے کہہ دیا کہ انجام یہی ہوگا۔ یہ امر فیصلہ شدہ ہے جس طرح فیصلہ ویسا ہی ہونے والا ہے۔ حضرت یوسف ایک ناکردہ گناہ قیدی تھے ۔ بادشاہ نے ان کی قید کا حکم بغیر سوچ اور تحقیق کے صادر فرما دیا تھا۔ شاید اس کے حاشیہ نشینوں نے عزیز مصری کی بیوی کے واقعہ کو اس طرح اس کے سامنے پیش کیا کہ اس میں حضرت یوسف کو گناہ گار کر کے پیش کیا ہوک ، جس طرح با اثر طبقات عموماً ایسا کرلیتے ہیں۔ چناچہ حضرت یوسف نے اس موقعہ پر یہ مناسب سمجھا کہ وہ بادشاہ تک یہ بات پہنچا دیں کہ وہ ان کے معاملے میں تحقیق کرے۔
Ayah 12:42

وَ قَالَ لِلَّذِیْ ظَنَّ اَنَّهٗ نَاجٍ مِّنْهُمَا اذْكُرْنِیْ عِنْدَ رَبِّكَ١٘ فَاَنْسٰىهُ الشَّیْطٰنُ ذِكْرَ رَبِّهٖ فَلَبِثَ فِی السِّجْنِ بِضْعَ سِنِیْنَؕ۠ Open ayah 12:42 in the Quran reader

پھر ان میں سے جس کے متعلق خیال تھا کہ وہ رہا ہوجائے گا اس سے یوسف نے کہا کہ " اپنے رب (شاہ مصر) سے میرا ذکر کرنا مگ شیطان نے اسے ایسا غفلت میں ڈالا کہ وہ اپنے رب (شاہ مصر) سے اس کا ذکر کرنا بھول گیا اور یوسف کئی سال قید خانے میں پڑے رہے

یعنی میرے حالت ، میرا واقعہ اور میری حقیقت کا ذکر اپنے رب اور حاکم کے سامنے کرنا جس کے قانونی اور دستوری نظام کے تم تابع ہو۔ اور جس کے احکام کے تم مطیع ہو۔ ان معنوں میں ہی وہ تمہارا رب ہے۔ کیونکہ رب کے معنی ہی یہ ہیں کہ جو حاکم ، سردار اور قانون دہندہ ہو۔ اسلامی اصطلاح میں ربوبیت کا جو مفہوم ہے۔ یہاں اسے واضح کردیا گیا ہے۔ یہاں یہ بات پیش نظر رہنا چاہیے کہ حضرت یوسف گڈریوں کے دور میں تھے اور گدرئیے بادشاہوں کا یہ عقیدہ نہ تھا کہ وہ خود رب ہیں جس طرح فراعنہ کا عقیدہ تھا۔ نہ وہ فرعونوں کی طرح اپنے آپ کو الٰہ سمجھتے تھے۔ ان کے نزدیک ربوبیت کا مفہوم حاکمیت تھا ، یہاں لفظ رب صریح طور پر حاکم کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ اب یہاں سیاق کلام یہ تفصیلات نہیں دیتا کہ قیدی ساتھیوں کا انجام اسی طرح ہوا جس طرح حضرت یوسف نے خواب کی تعبیر کی تھی۔ یہاں قصے میں خلا چھوڑ دیا جاتا ہے۔ قارئین خود معلوم کرلیتے ہیں کہ ایسا ہی ہوا۔ لیکن جس شخص کے بارے میں حضرت یوسف کی تاویل یہ تھی کہ وہ نجات پائے گا ، اس نے حضرت یوسف کے بارے میں حضرت یوسف کی وصیت کو پورا نہ کیا۔ جب وہ شاہی محلات کی زندگی کی ہماہمی میں دوبارہ پہنچا تو وہ ان سرگرمیوں میں مدہوش ہوگیا ، اس نے درس توحید بھی بھلا دیا ، حضرت یوسف کے مسئلے کو بھی پیش نہ کیا۔ فلبث ۔ یہ آخری ضمییر (لبث) حضرت یوسف کی طرف عائد ہے۔ اللہ کی حکمت کی مشیت یہ تھی کہ حضرت یوسف تمام دنیاوی اسباب سے کٹ کر صرف اللہ پر بھروسہ کریں۔ مشیت ایزدی کے نزدیک یہ بات حضرت یوسف کے شایان شان نہ تھی کہ ان کی رہائی کسی دنیاوی اور انسانی ذریعے سے ہو۔ اللہ کے مخلص بندوں کا یہ فرض ہے کہ وہ اللہ کے لیے خالص ہوجائیں۔ وہ صرف اس کو اپنی حاجات میں پکاریں اور دعا کریں کہ اللہ ان کو ثابت قدم رکھے۔ اور اگر کبھی ان بندوں سے کوتاہی ہوجائے تو پھر ان پر اللہ کا فضل ہوتا ہے۔ اور وہ اپنی حقیقی راہ پر گامزن ہوجاتے ہیں۔ وہ از سر نو شوق ، محبت اور رضامندی سے اللہ کی راہ پر گامزن ہوجاتے ہیں۔ اور ان پر اس کا فضل و کرم پورا ہوجاتا ہے۔
Ayahs 12:43–44

وَ قَالَ الْمَلِكُ اِنِّیْۤ اَرٰى سَبْعَ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَّ سَبْعَ سُنْۢبُلٰتٍ خُضْرٍ وَّ اُخَرَ یٰبِسٰتٍ١ؕ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَاُ اَفْتُوْنِیْ فِیْ رُءْیَایَ اِنْ كُنْتُمْ لِلرُّءْیَا تَعْبُرُوْنَ Open ayah 12:43 in the Quran reader

ایک روز بادشاہ نے کہا " میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ سات موٹی گائیں ہیں جن کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں اور اناج کی سات بالیں ہری ہیں اور دوسری سات سوکھی۔ اے اہل دربار مجھے اس خوب کی تعبیر بتاؤ اگر تم خوابوں کا مطلب سمجھتے ہو

قَالُوْۤا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍ١ۚ وَ مَا نَحْنُ بِتَاْوِیْلِ الْاَحْلَامِ بِعٰلِمِیْنَ Open ayah 12:44 in the Quran reader

لوگوں نے کہا۔ یہ تو پریشان خوابوں کی باتیں ہیں اور ہم اس طرح کے خوابوں کا مطلب نہیں جانتے

منظر پھر منتقل ہوجاتا ہے۔ اب ہم بادشاہ کے دربار میں پہنچ جاتے ہیں۔ بادشاہ نے ایک اہم خواب دیکھا ہے۔ وہ اپنے حاشیہ نشینوں اور کاہنوں اور مذہبی لیڈروں سے اس کی حقیقی تاویل دریافت کرتا ہے۔ بادشاہ نے اس خواب کی تعبیر چاہی اور اس کے ارد گرد بیٹھنے والے حاشیہ نشین اور درباری مذہبی لیڈر ان خوابوں کی تعبیر نہ بتا سکے۔ یا انہوں نے محسوس تو کرلیا تھا کہ ملک کو کچھ مشکلات در پیش آنے والی ہیں لیکن وہ بادشاہ کے سامنے کسی بدشگونی کے اظہار کی جرات نہ کرسکے۔ شاہی درباریوں کا یہ طریقہ کار ہوتا ہے کہ وہ بات کو ٹال دیتے ہیں اور یا جو بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی اسے نظر انداز کردیتے ہیں۔ چناچہ انہوں نے ان اہم خوابوں پر ایسا ہی تبصرہ کیا کہ یہ خواب ہائے پریشان ہیں اور ان کو ان تاویل کی کوئی سمجھ نہیں آرہی ہے۔ کیونکہ ان خوابوں میں کوئی واضح اشارہ نہیں ہے۔ یہاں تک تین خوابوں کے ساتھ ہمارا واسطہ پڑچکا ہے۔ حضرت یوسف کا خواب ، یوسف کے دو قیدی ساتھیوں کے خواب ، اور با بادشاہ وقت کا خواب۔ ان خوابوں کی تعبیر اور اور ان خوابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دور میں مصر اور مصر سے باہر اردگرد کی دنیا میں تعبیر خواب کا فن بہت ہی زوروں پر تھا اور اللہ نے حضرت یوسف کو اپنی جانب سے جو صلاحیت دی ، کہ وہ خوابوں کی تعبیر تک پہنچ جاتے تھے ، وہ ایک ایسا کامل تھا جو روح عصر تھا۔ اور تمام انبیاء کو جو بھی معجزات دیے جاتے ہیں وہ ان کے عصری ماحول کی مناسبت سے ہوتے ہیں۔ تو کیا خوابوں کی تعبیر حضرت یوسف (علیہ السلام) کے لیے ایک معجزہ تھا۔ یہاں فی ظلال القرآن می ہم یایس بحثیں نہیں چھیڑتے۔ بہرحال بادشاہ نے خواب دیکھا ہے اور اس کی تعبیر کی تلاش ہے۔
Ayah 12:45

وَ قَالَ الَّذِیْ نَجَا مِنْهُمَا وَ ادَّكَرَ بَعْدَ اُمَّةٍ اَنَا اُنَبِّئُكُمْ بِتَاْوِیْلِهٖ فَاَرْسِلُوْنِ Open ayah 12:45 in the Quran reader

ان دو قیدیوں میں سے جو شخص بچ گیا تھا اور اسے ایک مدت دراز کے بعد اب بات یاد آئی اس نے کہا " میں آپ حضرات کو اس کی تاویل بتاتا ہو ، مجھے ذرا (قید خانے میں یوسف کے پاس) بھیج دیجئے

یہاں بچ جانے والے قیدی ساتھی کو حضرت یوسف یاد آجاتے ہیں۔ اس سے قبل شیطان نے اس سے حضرت یوسف کو بھلا دیا تھا اور یہ شخص محل کی ہماہمی ، مہمانوں شرابوں اور عیش و طرب میں مصروف ہوگیا تھا۔ اب اسے حضرت یوسف یاد آتے ہیں جنہوں نے اس سے پہلے تعبیر بتائی تھی اور وہ حقیقت کی طرح نمودار ہوئی تھی۔ یہ شخص کہتا ہے کہ میں تمہیں بتاتا ہوں کہ اس کی تاویل کیا ہے۔ اب یہاں پردہ گرتے ہی یہ منظر ختم ہوجاتا ہے۔ جب پردہ اٹھتا ہے تو ہم جیل میں حضرت یوسف کا مکالمہ سنتے ہیں (اگلی آیات)
Ayah 12:46

یُوْسُفُ اَیُّهَا الصِّدِّیْقُ اَفْتِنَا فِیْ سَبْعِ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَّ سَبْعِ سُنْۢبُلٰتٍ خُضْرٍ وَّ اُخَرَ یٰبِسٰتٍ١ۙ لَّعَلِّیْۤ اَرْجِعُ اِلَى النَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:46 in the Quran reader

اس نے جا کر کہا : " یوسف ! اے سراپا راستی ، مجھے اس خواب کا مطلب بتا کہ سات موٹی گائیں ہیں جن کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات بالیں ہری ہیں اور سات سوکھی ، شاید کہ میں ان لوگوں کے پاس واپس جاؤں اور شاید کہ وہ جان لیں "

یہاں یہ شخص یوسف کے لیے صدیق کا لفظ استعمال کرتا ہے۔ یعنی بکثرت سچائی بولنے والے یہ لفظ اس لیے استعمال کرتا ہے کہ اس دیکھ لیا کہ حضرت اعلی درجے کے صدیق ہیں۔ اور پھر بادشاہ کا خواب نقل کردیتا ہے۔ افتنا۔ ۔۔۔ یہ شخص خواب کے الفاظ پورے کے پورے نقل کرتا ہے کیونکہ خواب کی تعبیر چاہتا ہے۔ لہذا پورا خواب بتانا ضروری ہے۔ چناچہ وہ خواب لفظ بلفظ نقل کرتا ہے۔
Ayah 12:47

قَالَ تَزْرَعُوْنَ سَبْعَ سِنِیْنَ دَاَبًا١ۚ فَمَا حَصَدْتُّمْ فَذَرُوْهُ فِیْ سُنْۢبُلِهٖۤ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّا تَاْكُلُوْنَ Open ayah 12:47 in the Quran reader

یوسف نے کہا سات برس تک لگاتار تم کھیتی باڑی کرتے رہوگے ، اس دوران میں جو فصلیں تم کاٹو ان میں سے بس تھوڑا سا حصہ ، جو تمہاری خوراک کے کام آئے ، نکالو اور باقی کو اس کی بالیوں ہی میں رہنے دو

یہاں حضرت یوسف خواب کی تعبیر بھی بتاتے ہیں اور ساتھ ہی تجاویز اور مشورے بھی دیتے ہیں۔ یوسف نے کہا سات برس تک لگاتار تم کھیتی باڑی کرتے رہوگے ، یعنی مسلسل اور پے در پے۔ یہ سرسبز اور شاداب سال ہوں گے اور ان کی طرف " بقرات سمان " سے اشارہ کیا گیا تھا۔ اس دوران میں جو فصلیں تم کاٹو ان میں سے بس تھوڑا سا حصہ ، جو تمہاری خوراک کے کام آئے ، نکالو اور باقی کو اس کی بالیوں ہی میں رہنے دو ۔ یعنی ان سالوں میں جو فصل تم کاٹو اسے خوشوں کے اندر چھوڑ دو تاکہ وہ حشرات ارض اور دوسرے موسمی اثرات سے محفوظ رہیں۔ ہاں جسے تم نے استعمال کرنا ہے اسے صاف کرو لیکن استعمال شدہ حصہ تھوڑا ہونا چاہیے تاکہ زیادہ سے زیادہ غلہ مشکل وقت کے لیے بچ جائے۔
Ayah 12:48

ثُمَّ یَاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ سَبْعٌ شِدَادٌ یَّاْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّا تُحْصِنُوْنَ Open ayah 12:48 in the Quran reader

پھر سات برس بہت سخت آئیں گے۔ اس مانے میں وہ سب غلہ کھالیا جائے گا جو تم اس برے وقت کے لیے جمع کرو گے۔ اگر کچھ بچے گا تو بس وہی جو تم نے محفوظ کر رکھا ہو

یہ سات سال اس طرح سخت ہوں گے کہ ان میں زرعی پیداوار نہ ہوگی۔ یہ سال سب کچھ کھا جائیں۔ اس سے مقصود یہ ہے کہ یہ سال قحط سالی کے ہوں گے اور ان سے وہی کچھ بچے گا جو تم نے سابقہ سالوں میں محفوظ کرلیا ہوگا۔
Ayah 12:49

ثُمَّ یَاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَامٌ فِیْهِ یُغَاثُ النَّاسُ وَ فِیْهِ یَعْصِرُوْنَ۠ Open ayah 12:49 in the Quran reader

اس کے بعد پھر ایک سال ایسا آئے گا جس میں باران رحمت سے لوگوں کی فریاد رسی کی جائے گی اور وہ رس نچوڑیں گے

اب یہ سات خشک سال ختم ہوں گے ، تمہارا سابقہ محفوظ غلہ بھی ختم ہوگا اور اب سرسبزی اور شادابی کا دور لوٹ آئے گا۔ بارشیں ہوں گی ، پانی اور فصل زیادہ ہوں گے ، انگوروں کی فصل بکثرت ہوگی اور لوگ ان کا جوس نکالیں گے شراب بنائیں گے۔ اسی طرح تل اور زیتون اور دوسرے مغزیات ہوں گے۔ یہاں یہ بات پیش نظر رہے کہ سات سالہ خشک سالی کے بعد خوشحالی کے اس دور کی طرف بادشاہ کے خواب میں کوئی اشارہ نہیں ہے۔ یہ حضرت یوسف (علیہ السلام) اپنے لدنی اور نبوتی علم کے بل بوتے پر کہہ رہے ہیں ، اس طرح حضرت یوسف نے اس شاہی فرستادے کو خوشخبری دی کہ سات سالہ مشکل دور کے بعد وسیع پیمانے پر خوشحالی کا دور آئے گا تاکہ وہ بادشاہ کو اس کی اطلاع دے۔
Ayah 12:50

وَ قَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِیْ بِهٖ١ۚ فَلَمَّا جَآءَهُ الرَّسُوْلُ قَالَ ارْجِعْ اِلٰى رَبِّكَ فَسْئَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ الّٰتِیْ قَطَّعْنَ اَیْدِیَهُنَّ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ بِكَیْدِهِنَّ عَلِیْمٌ Open ayah 12:50 in the Quran reader

بادشاہ نے کہا اسے میرے پاس لاؤ مگر جب شاہی فرستادہ یوسف کے پاس پہنچا تو اس نے کہا اپنے رب کے پاس واپس جا اور اس سے پوچھ کہ ان عورتوں کا کیا معاملہ ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے ؟ میرا رب تو ان کی مکاری سے واقف ہی ہے

اب یہاں ہمارے سامنے ایک دوسرا منظر آتا ہے اور ان دونوں مناظر کے درمیان ایک خلا ہے۔ یہ خلا انسانی تخیل خود بھر دیتا ہے۔ اب ہم دوبارہ شاہی دربار میں ہیں۔ یہاں فرستادہ شاہی نے مکمل رپورٹ دے دی ہے۔ خواب کی تعبیر بتا دی گئی ہے۔ اب اس نے بادشاہ کو حضرت یوسف کی ناجائز سزا کے بارے میں بھی بتا دیا ہے۔ لیکن سیاق کلام میں یہ باتیں مذکور نہیں ہیں۔ ہمارے سامنے بادشاہ کی خواہش آتی ہے۔ وَقَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِيْ بِهٖ : بادشاہ نے کہا اسے میرے پاس لاؤ۔ مزید تفصیلات ترک کردی جاتی ہیں۔ بادشاہ کا حکم ہے۔ ہر کا رہ خود حضرت یوسف کے پاس پہنچتا ہے۔ لیکن حضرت یوسف ہر کارے کو لوٹا دیتے ہیں۔ ہمیں معلوم نہیں ہے کہ یہ ہر کا رہ وہی ساقی ہے یا کوئی اور ہے۔ شاہی اوامر کا نفاذ شاید کسی اور کے ذمے ہو۔ لیکن حضرت یوسف طویل قید کے بعد بھی قید خانے سے نکلنے میں جلدی نہیں فرماتے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کے مقدمے کا صحیح فیصلہ ہو ، احقاق حق ہو اور غلط کار لوگوں کی سازشیں بےنقاب ہوں اور وہ باعزت طور پر بری ہوکر نکلیں۔ یہ اطمینان قلب اور یہ طمانیت صرف ربانی تربیت کے نتیجے میں آسکتی ہے۔ اب وہ اس قدر پختہ کار ہوگئے ہیں ان کے مزاج میں عجلت نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ حضرت یوسف کی سنجیدگہ اور پختہ کاری اور طمانیت دونوں مواقف میں واضح ہوتی ہے ، پہلے انہوں نے ساقی کو صرف یہ کہا کہ اپنے رب کے پاس میرا تذکرہ کردے۔ اور دوسرے میں انہوں نے رہائی کے احکام کے باوجود یہ کہہ دیا کہ پہلے میرے مقدمے کی تحقیقات کرو ، لیکن پہلے موقف اور دوسرے موقف میں فرق ہے کیونکہ چند سالوں کی قید اور تربیت نے ان کو مزید پختہ کار بنا دیا ہے۔ حضرت یوسف نے رہائی کے شاہی احکام کو اس لیے مسترد کیا کہ بادشاہ کو صحیح طرح معلوم تو ہوجائے کہ ان کے معاملے کی حقیقت کیا ہے اور ان عورتوں کے الزامات کی حقیقت کیا ہے ؟ حضرت یوسف نے عورتوں کے واقعات کی طرف اشارہ کرکے گویا یہ کہہ دیا کہ تحقیقات ہونے پر وہ عورتیں اصل صورت حال بتا سکتی ہیں جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے۔ یہ تحقیقات یوسف کی عدم موجودگی میں ہو تاکہ یوسف کی شاہی دربار میں موجودگی غیر جانبدارانہ تحقیقات کو متاثر نہ کردے۔ یہ سب اس لیے کہ حضرت یوسف کو اپنی بےگناہی کا یقین تھا اور وہ مطمئن تھے کہ نتیجہ لازما ان کے حق میں ہوگا۔ کیونکہ سچائی چھپ نہیں سکتی ، نہ اسے دیر تک چھپایا جاسکتا ہے۔ قرآن کریم نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی زبان سے لفظ رب استعمال کرایا ہے اور اسے مخاطب کی طرف مضاف کیا ہے (ربک) اس لیے کہ حضرت یوسف کا رب تو اللہ ہے جبکہ اس فرستادے کا رب بادشاہ جس کے نظام حکومت کا وہ کارندہ ہے اس سے رب کا یہ مفہوم سامنے آتا ہے کہ حکمران بھی رب ہوتا ہے۔
Ayah 12:51

قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ اِذْ رَاوَدْتُّنَّ یُوْسُفَ عَنْ نَّفْسِهٖ١ؕ قُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا عَلِمْنَا عَلَیْهِ مِنْ سُوْٓءٍ١ؕ قَالَتِ امْرَاَتُ الْعَزِیْزِ الْئٰنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ١٘ اَنَا رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ وَ اِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 12:51 in the Quran reader

اس پر بادشاہ نے ان عورتوں سے دریافت کیا تمہارا کیا تجربہ ہے اس وقت کا جب تم نے یوسف کو رجھانے کی کوشش کی تھی ؟ سب نے یک زبان ہوکر کہا " حاشا للہ " ہم نے تو اس میں بدی کا شائبہ تک نہ پایا عزیز کی بیوی بول اٹھی اب حق کھل چکا ہے ، وہ میں ہی تھی جس نے اس کو پھسلانے کی وکشش کی تھی ، بیشک وہ بالکل سچا ہے

اب یہ فرستادہ واپس ہوتا ہے ، رپورٹ دیتا ہے ، لیکن قرآن کریم کی درمیانی کڑیاں انسانی تخیل پر چھوڑ کر آگے بڑھ جاتا ہے۔ تحقیقاتی مجلس کا منظر : قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ اِذْ رَاوَدْتُّنَّ يُوْسُفَ عَنْ نَّفْسِهٖ ۭ قُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا عَلِمْنَا عَلَيْهِ مِنْ سُوْۗءٍ ۭ قَالَتِ امْرَاَتُ الْعَزِيْزِ الْــٰٔنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ ۡ اَنَا رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ وَاِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِيْنَ : اس پر بادشاہ نے ان عورتوں سے دریافت کیا تمہارا کیا تجربہ ہے اس وقت کا جب تم نے یوسف کو رجھانے کی کوشش کی تھی ؟ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عزیز مصر کے گھر کیا ہوتا رہا ؟ پھر عورتوں نے اپنی مجلس میں جو گفتگو کی وہ پہلے ریکارڈ ہوچکی ہے۔ نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جب بھی کسی قوم پر خوشحالی آتی ہے تو اس کے اعلی طبقات کی عورتوں میں اس قسم کی اخلاقی گراوٹ پیدا ہوجاتی ہے۔ اگرچہ ان کا ماحول پسماندہ ہو زیر بحث جاہلیت تو قدیم تاریخ کی جاہلیت ہے لیکن جاہلیت جس دور میں بھی ہو ، وہ جاہلیت ہوتی ہے اور ہر جگہ اس کے خدوخال وہی ہوتے ہیں اور اس کے خوشحال طبقات فسق و فجور میں ڈوب جاتے ہیں۔ اب شاہی دربار میں منعقد ہونے والی تحقیقاتی مجلس میں ان عورتوں کے لیے مقام نہ تھا کہ وہ کوئی اور جھوٹ تصنیف کریں۔ قُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا عَلِمْنَا عَلَيْهِ مِنْ سُوء : سب نے یک زبان ہوکر کہا " حاشا للہ " ہم نے تو اس میں بدی کا شائبہ تک نہ پایا۔ یہ حقیقت تھی ، اب ان کے لیے مشکل تھا۔ یہ عورتیں نہایت ہی بدکار اور بےباک تھیں مگر معاملہ اس قدر واضح تھا کہ انکار کی کوئی صورت نہ رہی تھی۔ اب وہ عورت سامنے آتی ہے جو یوسف کی محبت میں گرفتار تھی۔ جو ان سے مایوس ہوگئی تھی لیکن وہ ان کے ساتھ وابستگی کو کاٹ نہ سکی تھی۔ یہ عورت سامنے آتی ہے اور صراحت کے ساتھ اقرار جرم کرتی ہے اور یوسف کی پاکی کی بشارت دیتی ہے۔ قَالَتِ امْرَاَتُ الْعَزِيْزِ الْــٰٔنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ ۡ اَنَا رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ وَاِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِيْنَ : عزیز کی بیوی بول اٹھی اب حق کھل چکا ہے ، وہ میں ہی تھی جس نے اس کو پھسلانے کی وکشش کی تھی ، بیشک وہ بالکل سچا ہے۔ اب بلی تھیلے سے باہر آگئی ہے۔ سچائی سامنے آگئی ہے۔ میں ہی تھی جس نے اسے ورغلانے کی کوشش کی۔ انا راودتہ عن نفسہ وانہ لمن الصدقین : وہ میں ہی تھی جس نے اس کو پھسلانے کی کوشش کی تھی ، بےشدک وہ بالکل سچا ہے۔ اس نے جس انداز میں شہادت دی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسے اب بھی حضرت یوسف کی ہمدردی حاصل کرنے کی امدی ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ حضرت یوسف کے عقائد اور نظریات اس کے دل میں گھر کر گئے ہیں اور وہ ایمان لے آئی ہو۔ اسی لیے وہ کہتی ہے ذٰلِكَ لِيَعْلَمَ اَنِّىْ لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَيْبِ وَاَنَّ اللّٰهَ لَايَهْدِيْ كَيْدَ الْخَاۗىِٕنِيْنَ : یہ اس لیے کہ عزیز مصر جان لے کہ میں نے درپردہ اس کی خیانت نہیں کی اور یہ کہ جو خیانت کرتے ہیں ، اللہ ان کی چالوں کو کامیابی کی راہ پر نہیں ڈالتا۔
Ayah 12:52

ذٰلِكَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآئِنِیْنَ Open ayah 12:52 in the Quran reader

یہ اس لیے کہ عزیز مصر جان لے کہ میں نے درپردہ اس کی خیانت نہیں کی اور یہ کہ جو خیانت کرتے ہیں ، اللہ ان کی چالوں کو کامیابی کی راہ پر نہیں ڈالتا

اس اعتراف کو سیاق کلام میں اس طرح قلم بند کیا گیا ہے کہ اس کے پس منظر میں جذبات کا ایک طوفان نظر آتا ہے ، جس طرح اس سے قبل اس نے واضح اعتراف کیا اور نہایت ہی خوبصورت انداز میں۔ انا راودتہ عن نفسہ وانہ لمن الصدقین " وہ میں ہی تھی جس نے اس کو پھسلانے کی کوشش کی تھی ، بیشک وہ بالکل سچا ہے "۔ یہ حضرت یوسف کی پاکدامنی اور مکمل جرات کی واضح شہادت تھی۔ یہ شہادت اس نے بڑی جرات سے دی اور اس کی کوئی پروا نہیں کی کہ اس کی ذات پر اس کے کیا اثرت پڑتے ہیں۔ کیا یہ عورت بادشاہ اور اس کے درباریوں کے ساتھ صرف سچائی کی خاطر شہادت دی ؟ ہاں ایک دوسرا مقصد اور خواہش بھی اس کے دل میں ضرور ہے۔ وہ یہ کہ یہ مومن شخص جسے اس نے جسمانی مقاصد کے لیے پھسلانے کی سعی کی تھی ، اب اس شہادت اور اقرار پر اس کا احترام کرے۔ کیونکہ جب وہ جیل میں غائب تھا تو اس کے بعد وہ ایمان لے آئی ہے۔ یہ ہے مفہوم۔ ذلک لیعلم انی لم اخنہ بالغیب " یہ کہ میں نے اس کی عدم موجودگی میں اس کے ساتھ خیانت نہیں کی " اس کے بعد اس عورت کی طرف سے حالات کو درست کرنے کی مزید کوشش کی جاتی ہے کہ یہ کہتی ہے۔ و ان اللہ لایھدی کید الخائنین " اللہ خیانت کرنے والوں کی سازشوں کو کامیاب نہیں کرتا " یعنی یہ اس حقیقت کا اعتراف کرتی ہے جسے حضرت یوسف پسند کرتے ہیں۔ یہ ایک قدم اور آگے بڑھتی ہے : وَمَآ اُبَرِّئُ نَفْسِيْ ۚ اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَةٌۢ بِالسُّوْۗءِ اِلَّا مَارَحِمَ رَبِّيْ ۭ اِنَّ رَبِّيْ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ: میں کچھ اپنے نفس کی برات نہیں کرتی ، نفس تو بدی پر اکساتا ہی ہے الا یہ کہ کسی پر میرے رب کی رحمت ہو ، بیشک میرا رب بڑا غفور و رحیم ہے۔ یہ عورت محبت کرنے والی تھی۔ یہ اس ذات کے ساتھ جاہلیت میں بھی جاہلیت میں بھی جاہلانہ محبت کرتی تھی اور اب اسلام میں بھی اس کے ساتھ محبت کرتی ہے۔ چناچہ اس کی سر توڑ کوشش ہے کہ وہ کسی طرح حضرت یوسف سے کوئی کلمہ خیر یا توجہ ، یا خوشی حاصل کرلے۔ یہ اس قصے میں انسانی جذبات کا عنصر ہے۔ یہ محض فنکاری کی وجہ سے یہاں نہیں لایا گیا۔ محض عبرت اور نصیحت کے لیے اسے یہاں لایا گیا ہے۔ اس لیے تاکہ اس کے ذریعے نظریات و عقائد کو پھیلایا جائے اور دعوت اسلامی کو وسعت دی جائے۔ اس قصے میں جہاں جہاں انسانی جذبات ، میلانات اور انسانی تخیل و وجدان کو لایا گیا وہ نہایت ہی نرم اور محبت بھرے اور خوبصورت انداز میں لایا گیا ہے۔ ایسے انداز میں کہ تمام موثرات ، تمام واقعات ، تمام کرداروں اور ماحول کے ساتھ ہم آہنگ ہو ، اور جس ماحول کی طرف اشارہ ہو وہ قدرتی نظر آئے۔ یہاں آ کر حضرت یوسف کے زمانہ اسیری کی مشکلات ختم ہوجاتی ہیں۔ اب حضرت یوسف کو عزت و اقتدار دے کر آزمایا جائے گا۔ انسان کے لیے ہر حال آزمائش۔ یہاں یہ پاراہ اختتام کو پہنچتا ہے اور مزید واقعات اگلے پارے میں دیکھیں۔ بٹ گرام 2 نومبر 1992 ء
Ayah 12:53

وَ مَاۤ اُبَرِّئُ نَفْسِیْ١ۚ اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَةٌۢ بِالسُّوْٓءِ اِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّیْ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 12:53 in the Quran reader

“ میں کچھ اپنے نفس کی براءت نہیں کرتی۔ نفس بدی پر اکساتا ہی ہے الا یہ کہ کسی پر میرے رب کی رحمت ہو ، بیشک میرا رب بڑا غفور و رحیم ہے۔

پارہ 13 ایک نظر میں یہ پارہ سورة یوسف کے بقیہ حصے اور سورة رعد اور سورة ابراہیم پر مشتمل ہے۔ یہ دونوں سورتیں بھی مکی ہیں۔ گویا یہ پورا پارہ مکی قرآن پر مشتمل ہے اور اس میں مکی سورتوں کی تمام خصوصیات موجود ہیں۔ سورة رعد اور سورة ابراہیم پر تبصرے ہم آئندہ پر اٹھائے رکھتے ہیں۔ رہی سورة یوسف تو اس کے بقیہ حصے کے مطالعہ سے قبل امید ہے کہ قارئین گذشتہ پارے میں سورة یوسف پر کئے گئے تبصرہ کو ذہن میں رکھیں گے۔ اس پارے میں سورة یوسف کا باقی حصہ ہے اور اس کے اندر جا بجا تبصرے ہیں۔ اور آخر میں اس پوری سورة پر ایک تبصرہ ہے۔ اس حصے میں ہم قصے کے مرکزی کردار حضرت یوسف (علیہ السلام) کی ذاتی زندگی اور ان کی شخصیت کے بعض نئے پہلوؤں سے متعارف ہوتے ہیں یعنی حضرت یوسف (علیہ السلام) کی شخصیت اب ذرا مختلف روپ میں سامنے آتی ہے ۔ اس شخصیت کے ان بنیادی عناصر ترکیبی کے ساتھ ساتھ جن کا ذکر ہم نے اس قصے کے کرداروں کے بیان کے ضمن میں کیا ہے ، یہاں اس جدید مرحلے میں ان کی شخصیت کے کچھ نئے پہلو سامنے آتے ہیں۔ یہ شخصیت آغاز سے لے کر آخر تک ایک ہی سے خدو خال رکھتی ہے لیکن اس نئے مرحلے میں اس کی کچھ نئی خوبیاں سامنے آتی ہیں اور بظاہر یہ نئی خصوصیات کئی نظر آتی ہیں۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی شخصیت اپنے نشوونما اور بات اور واقعات اور ان مشکلات کی وجہ سے جو ان کو پیش آتی رہیں اب ایک مکمل شخصیت ہے۔ شخصیت کی یہ تکمیل خالص ربانی تربیت کے تحت ہوتی ہے جس کے نتیجے میں وہ ایک بندہ صالح بن کر سامنے آتے ہیں۔ اس بندہ کی صالح کو تیار ہی اس لئے کیا جارہا ہے کہ زمین میں اس کو تمکن حاصل ہو اور مشرق وسطیٰ کے ایک ایسے ملک میں اسے اقتدار ملے جہاں سے ہر چیز ہر طرف سپلائی جاتی ہے۔ اس شخصیت کے نئے خدو خال کیا ہیں ؟ سب سے پہلے یہ کہ ان کا تعلق باللہ بہت گہرا ہے اور وہ راضی برضا ہیں۔ وہ اللہ کے ہوگئے ہیں اور ان کو اللہ پر پورا پورا بھروسہ ہے۔ انہوں نے تمام دنیاوی اقدار کا لیا وہ اتار دیا ہے ، زمین کے تمام بندھنوں سے آزاد ہوگئے ہیں۔ وہ اس دنیا کے حکمرانوں سے بےنیاز ہیں۔ یہ دنیاوی قدریں اور یہ قوتیں اس شخصیت کے ہاں کوئی اہمیت نہیں رکھتیں کیونکہ اس شخصیت نے اب صرف اللہ سے لو لگا لی ہے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی شخصیت میں یہ اوصاف اس وقت سامنے آتے ہیں جب بادشاہ مصر کے فرستادے قید خانے میں ان کے پاس آتے ہیں اور اس خواہش کا اظہار کرتے ہیں کہ بادشاہ آپ سے ملنا چاہتا ہے۔ تو حضرت یوسف (علیہ السلام) اس موقع پر آپے سے باہر نہیں ہوجاتے۔ نہ وہ اس قید خانے کی تاریکیوں سے نکلنے اور بادشاہ وقت سے ملاقات کرنے کے لئے کسی بےتابی کا اظہار کرتے ہیں حالانکہ ایسے مواقع پر بےتابی اور جلد بازی کا اظہار ہو ہی جاتا ہے خصوصاً جبکہ ایک شخص قید خانے کی کوٹھڑی میں بند ہو۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے کردار میں اس تبدیلی کو تب ہی سمجھا جاسکتا ہے جب ہم ذرا چند سال پیچھے ہٹ کر حالات کا معالعہ کریں۔ چند سال پیشتر خود انہوں نے اس شخص سے جو رہا ہونے والا تھا ، درخواست کی تھی کہ بادشاہ کے سامنے ان کے کیس کو پیش کریں۔ واضح طور پر نظر آتا ہے کہ اس طرح اس شخصیت کی قدریں بدل گئی ہیں ، ایمان تو اپنی جگہ پہلے کی طرح موجود ہے ، لیکن اب ان کی شخصیت میں ایک طمانیت ہے ۔ وہ اب بھی اللہ کی تقدیر پر راضی ہیں اور تقدیر کے ساتھ چل رہے ہیں۔ وہ دیکھتے ہیں کہ تقدیر اپنا کام کیسے کرتی ہے ۔ ان کو وہ اطمینان حاصل ہے جس کے طلبگار ان کے جد اعلیٰ تھے جنہوں نے خدا سے مطالبہ کیا تھا “ اے رب ، مجھے دکھا کہ تو مردوں کو کس طرح زندہ کرتا ہے ؟ “ تو رب تعالیٰ نے فرمایا : “ کیا تجھے یقین نہیں ہے ؟ “ لیکن انہوں نے کہا “ یقین تو ہے لیکن میں قلبی اطمینان چاہتا ہوں ”۔ یہ ہے وہ اطمینان جو ربانی تربیت نے اس بندۂ مختار کی دل میں انڈیل دیا ہے۔ ابتلاؤں سے گزار کر ، مشکلات میں مبتلا کر کے ، مختلف حالات اور مشاہدوں سے گزار کر اور علم و معرفت اور یقین و اطمینان عطا کر کے وہ اس مقام تک پہنچے ہیں۔ اس مرحلے کے بعد حضرت یوسف (علیہ السلام) کے کردار میں یہ صفت بہت واضح ہے ۔ یہاں تک اس سورة کے آخری تبصرے ہیں۔ وہ جب اپنے رب کے ساتھ مناجات میں ہیں تو وہ تمام دنیاوی قدروں سے بےنیاز نہیں ۔ فرماتے ہیں : رب قد اتیتنی من الملک و علمتنی من تاویل الاحادیث فاطر السموت والارض انت ولی فی الدنیا والاخرۃ توفنی مسلما والحقنی بالصلحین (101) “ اے رب تو نے مجھے مملکت عطا کردی ہے ، بات کی تہہ تک پہنچنا سکھا دیا ہے۔ دنیا و آخرت میں تو ہی میرا والی ہے۔ مجھے ایک مسلمان کی طرح موت دے اور صالحین کے ساتھ ملا دے ”۔ اب رہیں وہ تعصبات اور تبصرے جو اس سورة میں آئے ہیں ان کے بارے میں ہم بہت کچھ کہہ آئے ہیں اور مزید تشریحات تفسیر آیات میں آئیں گی۔ یہاں تو فقط اس تبدیلی کا تذکرہ مطلوب تھا جو اس بندۂ مختار کی شخصیت میں پیدا ہوئی جو اس قصے میں بڑا کردار ہیں۔ اس تبدیلی کے ساتھ دراصل ان کی شخصیت اب ایک مکمل شخصیت ہے۔ نیز یہ خصوصیت وہ ہے جسے اس پورے حصے میں اجاگر کرنا مطلوب ہے کیونکہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے احیائے اسلام کا کام کرنا ہے اور یہی قرآن کا منہاج انقلاب ہے کہ وہ قارئین کے ذہن میں اصل مقصد بٹھا دیتا ہے۔ اب ہم آیات کی تشریح و تفسیر کی طرف آتے ہیں۔ درس نمبر 109 ایک نظر میں اس سبق میں قصہ یوسف (علیہ السلام) ذرا آگے بڑھ رہا ہے۔ اس قصے کے چار بڑے مناظر میں سے یہ چوتھا منظر ہے۔ پچھلے پارے میں اس قصے کی تین کڑیاں ختم ہوگئی تھیں۔ اب حضرت یوسف (علیہ السلام) قید خانے سے باہر آگئے ہیں۔ بادشاہ نے خود درخواست کی ہے کہ وہ انہیں ایک اہم منصب سپرد کرنے والے ہیں۔ ان کے اس نئے منصب کی ذمہ داریوں کے بارے میں یہاں اب بات ہوگی۔ یہ سبق سابقہ منظر کے آخری فقرے سے شروع ہوتا ہے۔ گذشتہ منظر کی آخری کڑی یہ تھی کہ اس میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کی خواہش کے مطابق بادشاہ نے ان عورتوں سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں انکوائری کی تھی جنہوں نے ہاتھ کاٹ لیے تھے۔ مقصد یہ تھا کہ وہ اسباب نکھر کر سامنے آجائیں جن کی وجہ سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو ناحق جیل جانا پڑا تھا تا کہ ان کی بےگناہی کا اعلان ہوجائے اور یہ بات ان کے نئے منصب کے لئے ضروری تھی تا کہ وہ اپنی نئی ذمہ داریاں نہایت اطمینان ، نہایت وثوق اور اعتماد سے پوری کریں۔ ان کا نفس مطمئن ہو اور وہ اعتماد کے ساتھ امور مملکت سر انجام دیں۔ اب ان کی دعوتی زندگی دو قسم کی سر گرمیوں پر مشتمل تھی۔ ایک مملکت کی ذمہ داریاں اور ایک دعوت اسلامی کی ذمہ داریاں ۔ لہٰذا مناسب یہ تھا کہ ان دہری ذمہ داریوں کے اس دور میں وہ ماضی کے گردوغبار کو جھاڑ کر اور ہلکے پھلکے ہو کر سامنے آئیں۔ ان کی شرافت یہ تھی کہ انہوں نے اس مرحلے پر عزیز مصر کی عورت کے بارے میں کچھ نہیں کہا ، بلکہ اس کی طرف کوئی اشارہ تک نہیں کیا۔ صرف یہ کہا کہ بادشاہ کو ان عورتوں کے معاملے میں تحقیق کرنا چاہئے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لئے تھے۔ لیکن عزیز مصر کی بیوی خود سامنے آتی ہے اور اعلان کرتی ہے کہ حقیقت کیا تھی اور ہوا کیا تھا ؟ قال ما خطبکن ۔۔۔۔۔۔۔ ان ربی غفور رحیم ( یوسف 51 تا 53 ) “ اب حق کھل چکا ہے ، وہ میں ہی تھی جس نے اسے پھیلانے کی کوشش کی تھی ، بیشک وہ بالکل سچا ہے ، اس سے میری غرض یہ تھی کہ یہ جان لے کہ میں نے درپردہ اسی سے خیانت نہیں کی اور یہ کہ جو خیانت کرتے ہیں اللہ ان کی چالوں کو کامیابی کی راہ پر نہیں ڈالتا۔ میں کچھ اپنے نفس کی براءت نہیں کرتی۔ نفس بدی پر اکساتا ہی ہے الایہ کہ کسی پر میرے رب کی رحمت ہو ، بیشک میرا بڑا غفور و رحیم ہے ”۔ یہاں آکر حضرت یوسف (علیہ السلام) کا المناک ماضی ختم ہوجاتا ہے اور اب خوشحالی ، عزت اور اقتدار کا مرحلہ شروع ہوتا ہے۔ آیت نمبر 53 تا 57 اس طرح ہم نے اس سرزمین میں یوسف (علیہ السلام) کے لئے اقتدار کی راہ ہموار کی۔ وہ مختار تھا کہ اس میں جہاں چاہے اپنی جگہ بنائے۔ اسی طرح ہم اپنی رحمت سے جس کو چاہتے ہیں ، نوازتے ہیں ، نیک لوگوں کا اجر ہمارے ہاں مارا نہیں جاتا ، اور آخرت کا اجر ان لوگوں کے لئے زیادہ بہتر ہے جو ایمان لے آئے اور خدا ترسی کے ساتھ کام کرتے رہے ”۔ بادشاہ کے ہاں یوسف (علیہ السلام) کی پاکدامنی بھی ہوگئی ، اس کے ساتھ ساتھ اسے اپنے خواب کی سچی تعبیر بھی معلوم ہوگئی ، بادشاہ نے یہ بھی دیکھ لیا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے عورتوں کے معاملے کی چھان بین کس طرح کرالی۔ نیز ان کی شرافت اور عزت نفس بھی اس کے سامنے کھل کر ثابت ہوگئی کہ یہ شخص براءت کے بغیر جیل خانے سے بھی باہر آنا گوارا نہیں کرتا ، نہ ہی وہ بادشاہ سے ملاقات کے لئے بےتاب ہے۔ بادشاہ بھی کوئی معمولی بادشاہ نہ تھا بلکہ مصر جیسے بڑے ملک کا بادشاہ تھا۔ انہوں نے اس موقعے پر نہایت ہی شریف اور کریم شخص کا موقف اختیار کیا جو الزام کے ہوتے ہوئے جیل سے باہر آنا گوارا نہیں کرتا۔ وہ حصول مناصب ، بادشاہ سے ملاقات اور جیل کی مشکلات سے ربانی سے قبل اپنی عزت اور شہرت پر سے داغ ہٹانا چاہتا ہے۔ اور یہ کچھ وہ بادشاہ کے دربار میں قدم رکھنے سے قبل چاہتا ہے۔ ان تمام امور نے بادشاہ کے دل میں ان کی وقعت اور اہمیت کو اور بڑھا دیا اس لئے اس نے کہا : وقال الملک ئتونی بہ استخلصہ لنفسی (12 : 54) بادشاہ نے کہا “ انہیں میرے پاس لاؤ تا کہ میں ان کو اپنے لئے مخصوص کرلوں ”۔ بادشاہ وقت حضرت یوسف (علیہ السلام) کو محض رہائی کے لئے طلب نہیں فرماتے یا محض اس لئے نہیں بلا رہے کہ وہ نفسیات اور تعبیر خواب کے ماہر ہیں ، نہ اس لئے بلا رہے ہیں کہ ان کو بادشاہ سلامت کی رضا مندی کی اطلاع دے دیں اور حضرت یوسف (علیہ السلام) پھولے نہ سمائیں ۔ ان مقاصد کے لئے نہیں بلکہ اس لئے کہ وہ بادشاہ کے مخصوص مشیر اور ذاتی دوست اور معتمد علیہ ہوں۔ ہمیں ان لوگوں کی حالت پر رونا آتا ہے جو اپنی عزت اور شرافت کو بادشاہوں کے قوموں میں نچھاور کرتے ہیں۔ یہ لوگ آزاد اور بری الذمہ ہیں لیکن یہ خود غلامی کا جوا اپنے ہاتھ سے لے کر اپنی گردنوں میں ڈالتے ہیں اور بڑوں کی خوشنودی حاصل کرتے ہیں یا ان کی طرف سے تعریف کا ایک لفظ سن کر خوش ہوتے ہیں اور پھر نہایت ہی مطیع فرمان بن کر رہتے ہیں بلکہ وہ اپنے آپ کو بڑوں کے سامنے دلیل کرتے ہیں اور بچھے جاتے ہیں۔ کاش اس قسم کے لوگ سورة یوسف پڑھتے اور معلوم کرتے کہ خودداری ، عزت نفس اور شرافت اور سنجیدگی میں کیا مزہ ہے۔ حالانکہ خود داری ، عزت نفس اور کرامت کے فائدے چاپلوسی ، غلامی اور ذلت کی زندگی سے زیادہ ہیں۔ بہرحال بادشاہ نے یہ حکم دیا۔ وقال الملک ئتونی بہ استخلصہ لنفسی (12 : 54) بادشاہ نے کہا “ انہیں میرے پاس لاؤ تا کہ میں ان کو اپنے لئے مخصوص کرلوں ”۔ اب یہاں سیاق کلام میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کی رہائی وغیرہ کی کڑیاں حذف کردی گئی ہیں اور انسانی تخیل پر چھوڑ دی گئی ہیں۔ فلما کلمہ قال انک الیوم لدینا مکین امین (12 : 54) “ اب آپ ہمارے ہاں قدرو منزلت رکھتے ہیں اور ہمیں آپ کی امانت پر بھروسہ ہے ” ۔ جب یوسف (علیہ السلام) نے بادشاہ سے گفتگو کی تو اسے معلوم ہوگیا کہ یوسف (علیہ السلام) کی علامات جو کچھ بتا رہی تھیں وہ ان کے مطابق سچے ہیں تو بادشاہ نے اعلان کردیا کہ یوسف (علیہ السلام) ہماری مملکت میں اب صاحب قدرو منزلت ہیں۔ اب یوسف (علیہ السلام) عبرانی غلام نہیں ہیں ، نہ ہی وہ اس تہمت میں گرفتار ملزم ہیں جو عزیز مصر کی بیوی نے ان پر لگائی تھی۔ اب وہ ایک باعزت شخصیت ہیں اور بادشاہ کے ہاں انہیں اونچا مقام حاصل ہے اور وہ بہت ہی امانت دار شخص ہیں۔ بادشاہ کی طرف سے اس اعلان کے بعد حضرت یوسف (علیہ السلام) کا رویہ کیا رہا۔ انہوں نے بادشاہ کے سامنے سجدۂ شکر ادا نہیں کیا۔ جیسا کہ عموماً بادشاہوں کے مصاحب سجدے کرتے ہیں۔ نہ انہوں نے تملق اور چاپلوسی سے کہا اے میرے آقا ! تم زندہ رہو اور یہ غلام تمہارا خادم رہے گا۔ یا یہ کہ میں تمہارا امین ، خادم اور غلام ہوں۔ بلکہ تملق اور چاپلوسی کے بجائے انہوں نے صاف صاف کہہ دیا کہ مملکت کو پیش آنے والی مشکلات میں وہ جو خدمات کرسکتے ہیں اس کے لئے وہ حاضر ہیں ان آنے والے حالات کے مطابق جو تعبیر خواب کے نتیجے میں لازماً آنے والے ہیں کیونکہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو پختہ یقین تھا کہ آنے والی مشکلات کو صرف وہی دیکھ رہے ہیں اور صرف وہی ان کے لئے تیاری اور پیش بندی کرسکتے ہیں ورنہ لوگ قحط کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جائیں گے۔ صرف یوسف (علیہ السلام) ہی تھے جو اپنی دیانت وامانت کی وجہ سے ملک کو بچا سکتے تھے۔